نبی ﷺ کو علم غیب نہیں تھا
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام سپرد الہ کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔ جیسے سورة جن میں ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لئے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔ مجاہد سے مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ حضور کے اعمال دائمی تھے جو نیکی ایک بار کرتے پھر اسے معمول بنالیتے۔ ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–188
سورة الْاَعْرَاف 145
مطلب یہ ہے کہ قیامت کی ٹھیک تاریخ وہی بتاسکتا ہے جسے غیب کا علم ہو، اور میرا حال یہ ہے کہ میں کل کے متعلق بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ یا میرے بال بچوں کے ساتھ کیا کچھ پیش آنے والا ہے۔ تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اگر یہ علم مجھے حاصل ہوتا تو میں کتنے نقصانات سے قبل از وقت آگاہ ہو کر بچ جاتا اور کتنے فائدے محض پیشگی علم کی بدولت اپنی ذات کے لیے سمیٹ لیتا پھر یہ تمہاری کتنی بڑی نادانی ہے کہ تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ قیامت کب آئے گی۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے (بھی چہ جائے کہ دوسرے کے لئے) کسی نفع (تکوینی کے حاصل کرنے) کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر (تکوینی کے دفع کرنے) کا (اختیار رکھتا ہوں) مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا ہو (کہ مجھ کو اختیار دے دیں اور جس امر میں اختیار نہیں دیا اس میں بعض اوقات منافع فوت ہوجاتے ہیں اور مضار واقع ہوجاتے ہیں ایک مقدمہ تو یہ ہوا) اور (دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ) اگر میں غیب کی باتیں (امور اختیار کے متعلق) جانتا ہوتا تو میں (اپنے لئے) بہت سے منافع حاصل کرلیا کرتا اور کوئی مضرت ہی مجھ پر واقع نہ ہوتی (کیونکہ علم غیب کے سبب معلوم ہوجاتا کہ فلاں امر میرے…
Read the full tafseer →قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭوَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْر ِ ٻ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ ڔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔
یعنی ان کو بتا دو کہ میں جو اللہ کا رسول ہوں تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ میں سارے غیب کا عالم ہوگیا ہوں اور مجھے اس بات کا اختیار مل گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو جس نفع سے چاہوں بہرہ ور کرلوں اور جس نقصان سے بچانا چاہوں بچا لوں۔ غیب کا علم اور حقیق نافع و ضار صرف اللہ ہی ہے۔ دوسروں کی طرح میرے معاملات میں بھی اسلی کار فرما خدا کی مشیت ہی ہے۔ میں نے نبوت کا دعوی…
Read the full tafseer →188۔ 1 یہ آیت اس بات میں کتنی واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ عالم غیب نہیں۔ عالم غیب صرف اللہ کی ذات ہے، لیکن ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ ﷺ کو عالم الغیب باور کراتے ہیں۔ حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، آپ کا چہرہ بھی زخمی ہوا، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ قوم کیسے فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کردیا، کتب حدیث میں یہ واقعات بھی اور ذیل کے واقعات بھی درج ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگی تو پورا ایک مہینہ مضطرب اور نہایت پریشان رہے۔ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملادیا، جسے آپ نے تناول فرمایا اور صحابہ نے بھی، حتٰی کہ بعض صحابہ تو…
Read the full tafseer →96: یعنی اگر مجھے غیب کی ساری باتیں معلوم ہوجایا کرتیں تو میں دنیا کے سارے فائدے اکھٹے کرلیتا اور کبھی مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی ؛ کیونکہ ہر کام کا انجام مجھے پہلے سے معلوم ہوجاتا، حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مجھے غیب کی ساری باتوں کا علم نہیں دیا گیا، البتہ جو باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں ان کا مجھے بھی علم ہوجاتا ہے، یہ ان کافروں کی بھی تردید ہے جو پیغمبر کیلئے ضروری سمجھتے تھے کہ اسے خدائی کے اختیارات حاصل ہوں اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو اپنے پیغمبروں کی تعظیم میں حد سے نکل کر انہیں خدائی کا درجہ دے دیتے ہیں، اور جس شرک کو مٹانے کے لئے انبیاء کرام (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
تفسیر آیات 187 تا 188:۔ یہ لوگ جو اپنے ماحول سے غافل ہیں ، اپنے ماحول سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ پردہ غیب میں مستور قیامت کب برپا ہوگی۔ ان لوگوں کا سوال اسی طرح ہے کہ ایک شخص کی بینائی اس قدر کمزور ہو کہ وہ اپنے قدموں میں کچھ نہ دیکھ سکتا ہو مگر خواہش یہ رکھتا ہو کہ وہ دور افق اعلی میں بھی کچھ دیکھے۔
۔۔۔
عقیدہ آخرت اور اس میں میزان کا قیام اور سزا و جزا کا واقع ہونا یہ مشرکین مکہ کے لیے ایک انوکھا نظریہ تھا حالانکہ یہ عقیدہ دین ابراہیمی کا اساسی عقیدہ تھا اور مشرکین مکہ کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم سے ملتا تھا۔ یہی عقیدہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے دین میں…
Read the full tafseer →6 اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ کوئی بندہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو، نہ اپنے اندر " اختیار مستقل " رکھتا ہے نہ " علم محیط۔ " سید الانبیاء ﷺ جو علوم اولین و آخرین کے حامل اور خزائن ارضی کی کنجیوں کے امین بنائے گئے تھے، ان کو یہ اعلان کرنے کا حکم ہے کہ میں دوسروں کو کیا خود اپنی جان کو بھی کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا، نہ کسی نقصان سے بچا سکتا ہوں۔ مگر جس قدر اللہ چاہے اتنے ہی پر میرا قابو ہے اور اگر میں غیب کی ہر بات جان لیا کرتا تو بہت سی وہ بھلائیاں اور کامیابیاں بھی حاصل کرلیتا جو علم غیب نہ ہونے کی وجہ سے کسی وقت فوت ہوجاتی ہیں۔ نیز کبھی کوئی ناخوشگوار حالت مجھ کو پیش نہ آیا کرتی۔ مثلاً " افک " کے…
Read the full tafseer →آیت 188 قُلْ لآَّ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلاَ ضَرًّا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ ط۔
آپ ﷺ انہیں بتائیں کہ میرے پاس علم غیب نہیں ہے۔ جیسا کہ سورة الانعام کی آیت 50 میں فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ کہہ دیجیے کہ میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ کے خزانے میرے قبضۂ قدرت میں ہیں ‘ نہ میں علم غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔
وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِج وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ ج اور اگر مجھے علم غیب حاصل ہوتا تو میں بہت سا خیر جمع کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ آتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
188 علم غیب جاننے کے فائدے غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم غیب جاننے کے دو فائدے بتلائے ہیں۔ ایک یہ کہ علم غیب جاننے والا اپنے لیے بہت سی بھلائیاں جمع کرسکتا ہے مثلاً ایک عام مثال لیجئے اگر کسی کو یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو کہ فلاں وقت فلاں چیز کا بھاؤ اس حد تک چڑھ جائے گا تو وہ آسانی سے بہت نفع حاصل کرسکتا اور بہت سا مال و دولت کما سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ ایسے شخص کو کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے کہ وہ بروقت یا وقت سے پہلے اس کا علاج سوچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا کچھ اختیار…
Read the full tafseer →273 ۔ (اور جس امر میں اس کی مشیت مجھے اختیار دینے کی متقضی نہیں ہوئی، اس میں ہر بشر کی طرح میں بھی بالکل عاجز وبے بس ہوں)
274 ۔ لیکن چونکہ میرا علم کامل و محیط نہیں اس لئے نفع تکوینی کے بہت سے مواقع ہاتھ سے جاتے ہی رہتے ہیں) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ نص ہے اس باب میں کہ قدرت مستقل اور علم محیط مقبولین سے بھی منفی ہیں اور جہلاء اپنے مشائخ سے کس کس طرح اس کا گمان رکھتے ہیں۔
275 ۔ (حالانکہ تکوینی حیثیت سے مجھے بھی مضرتیں حسب مشیت الہی واقع ہوتی رہتی ہیں) پیغمبر بھی کبھی بیمار پڑتے ہیں، کبھی مالی نقصان اٹھاتے ہیں۔ وقس علی ہذا۔ اور یہ امور ان کے کمال نبوت میں ذرا بھی قادح نہیں ہوتے۔
276 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
قل۔۔۔ اللہ، یہ آیت اس بات پر کہ نبی ﷺ عالم الغیب نہیں، عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے صریح دلیل ہے علم و جہالت کی انتہاء ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ ﷺ کو معروف معنی میں عالم الغیب کی سعی بےسود کرتے ہیں یہ ہے کہ اس طبقے کے پڑھے لکھے اور سمجھدار کہلانے والے لوگ اس کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں صرف اپنی قوم و برادری میں ساکھ قائم رکھنے یا اپنے دینوی مفاد کے لئے قوم کے سامنے اور اسٹیجوں پر دعوائے بلا دلیل کرتے ہیں جب ہزارہا تاریخی واقعات آپ ﷺ کے عالم الغیب ہونے کی نفی کرتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ وصال کے وقت آپ کو علم غیب عطا کیا گیا تھا اول تو وصال کے وقت علم غیب کا فائدہ کیا ؟ اور جب ان کو بتایا…
Read the full tafseer →قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا الا ما شاء اللہ ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوء ان انا الا نذیر وبشیر لقوم یومنون .
آپ کہہ دیجئے کہ میرے بس میں تو اپنے لئے بھی نہ کوئی نفع ہے نہ نقصان مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ نے چاہا اگر میں غیب کی (سب) باتیں جانتا تو میں بہت سے منافع کی باتیں حاصل کرلیا کرتا اور مجھے دکھ ہی نہ پہنچتا میں (عالم الغیب نہیں کار ساز اور قادر مطلق نہیں) صرف (اللہ کے عذاب و نافرمانی سے) ڈرانے والا ہوں اور ایمان والوں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔
قل لا املک یعنی کسی دینی دنیوی منفعت کو حاصل کرنے اور مضرت کو دفع کرنے کی مجھے خود اپنے لئے بھی قدرت نہیں ہے۔ یہ قول…
Read the full tafseer →(188) اے محمد ﷺ ! آپ اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ میں نفع حاصل کرنے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر جس قدر اللہ تعالیٰ مجھے نفع ونقصان پہنچانا چاہے۔
اور اگر مجھے اس بات کا پتہ ہوتا کہ تمہارے اوپر عذاب کب نازل ہوگا تو اس کے شکریہ میں بہت سافائدہ حاصل کرلیتا اور تمہاری وجہ سے مجھے کسی قسم کا غم و پریشانی نہ ہوتی۔
اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اگر مجھے غیب کی باتیں معلوم ہوتیں کہ میں کب انتقال کروں گا تو بہت ہی زیادہ نیکیاں کرلیتا اور مجھے کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہوتی، یا یہ کہ مجھے اگر یہ معلوم ہوتا کہ قحط کب ہوگا اور اشیا کی گرانی کس وقت ہوگی تو میں بہت سی نعمتوں کو جمع کرلیتا…
Read the full tafseer →قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جو کچھ ہونا ہے ہو رہا ہے، مجھ میں ذاتی طور پر یہ بھی قدرت و اختیار نہیں کہ میں اپنی جان سے کسی نقصان یا تکلیف کو روک سکوں، یا کچھ نفع حاصل کرسکوں۔ تو جب رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ اختیار نہیں تو پھر وہ کون ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار عطا فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (3) اور یونس (106، 107) بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے لیے واقعی اختیار نہیں رکھتے، مگر دوسرے سب لوگوں کے لیے نفع و ضرر کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیے سورة جن (20 تا 22)۔
وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : یعنی نہ میں غیب دان ہی ہوں، اگر ایسا ہوتا تو کتنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 188
قولہ تعالیٰ : قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا یعنی میں مالک نہیں ہوں کہ میں اپنی ذات کی طرف خیر اور نفع لا سکوں اور نہ اس کا مالک ہوں کہ اپنے آپ سے شر اور ضرر دور کرسکوں، تو پھر میں قیامت کے علم کا مالک کیسے ہو سکتا ہوں۔ اور بعض نے کہا ہے : میں اپنے آپ کے لیے ہدایت اور ضلال کا مالک نہیں ہوں۔ آیت : الا ماشآء اللہ یہ استثنا کے سبب محل نصب میں ہے۔ اور معنی یہ ہے : مگر جو چاہے اللہ تعالیٰ کہ وہ مجھے اس کا مالک بنا دے اور مجھے قدرت عطا فرما دے۔ سیبویہ نے کہا ہے :
مھما شاء بالناس یفعل
وہ لوگوں کے بارے جو چاہے وہ کردیتا ہے۔
آیت : ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر اس کا معنی ہے اگر…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر “ کے بارے میں فرمایا میں یقیناً جان لیتا جب میں کوئی چیز خرید لیتا کہ اس میں مجھے اتنا نفع ہوگا اور میں کسی چیز کو نہ بیچتا مگر یہ کہ اس میں نفع ہوتا لفظ آیت ” وما مسنی السوء “ یعنی مجھ کو غربت نہ پہنچتی۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ہدایت اور گمراہی کہ میں اپنے لئے ہدایت اور گمراہی کا مالک نہیں ہوں) اور فرمایا لفظ آیت ” ولو کنت اعلم الغیب “ یعنی اگر میں جان لیتا مجھے…
Read the full tafseer →[ قُلْ : آپ کہہ دیجیے ] [ لَّآ اَمْلِكُ : میں مالک نہیں ہوں ] [ لِنَفْسِيْ : اپنی جان کیلئے ] [ نَفْعًا : کسی نفع کا ] [ وَّلَا ضَرًّا : اور نہ ہی کسی تکلیف کا ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَا : وہ جو ] [ شَاۗءَ : چاہا ] [ اللّٰهُ ۭ : اللہ نے ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ كُنْتُ اَعْلَمُ : میں جانتا ہوتا ] [ الْغَيْبَ : غیب کو ] [ لَاسْتَكْثَرْتُ : تو میں ضرور جمع کرتا ] [ مِنَ الْخَيْر ِ : بھلائی میں سے ] [ وَمَا مَسَّنِيَ : اور نہ چھوتی مجھ کو ] [ السُّوْۗءُ ڔ : برائی ] [ اِنْ : نہیں ] [ اَنَا : ہوں میں ] [ اِلَّا : مگر ] [ نَذِيْرٌ: ایک وارننگ دینے والا ] [ وَّبَشِيْرٌ: اور بشارت دینے والا ] […
Read the full tafseer →آپ فرما دیجیے کہ میں اپنے لیے کسی نفع و ضرر کا مالک نہیں ہوں اور نہ غیب جانتا ہوں
اس آیت میں اول تو نبی اکرم ﷺ کو خطاب فرما کر یہ ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ میں اپنے لیے ذرا بھی کسی نفع یا کسی ضرر کا مالک نہیں ہوں اللہ کی مشیت اور اس کی قضاء و قدر کے موافق ہی مجھے نفع و ضرر پہنچتا ہے۔ مجھے اپنے نفع اور ضرر کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ اعلان کرا دیا تاکہ لوگ آپ کو اللہ کا بندہ سمجھیں اور یہ بھی یقین کریں کہ آپ کو جو نفع و نقصان پہنچتا ہے وہ صرف اللہ کی مشیت سے پہنچتا ہے نفع اور نقصان کے بارے میں آپ کو کوئی اختیار نہیں۔
بندوں کو اللہ تعالیٰ نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
تذکیر آخرت و ذکر قیامت
قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔۔۔ الی۔۔۔ ان انا الا نذیر وبشیر القوم یومنون۔
(ربط) گزشتہ آیت عسی ان یکون قداقترب اجلھم میں انفرادی قیامت کا ذکر تھا اس لیے کہ حدیث میں ہے۔ من مات فقد قامت قیاتہ جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو قائم ہوگئی اب ان آیات میں مجموعہ عالم کی قیامت کا ذکر ہے پس جس طرح کسی شخص کو اپنی شخصی قیامت یعنی اجل اور موت کا علم نہیں اسی طرح سمجھ لو کہ پوری دنیا کی اجل یعنی موت کا علم بھی کسی کو نہیں کون بتلا سکتا ہے کہ قیامت کس تاریخ اور کس دن میں اور کس وقت میں آئے گی۔ اس کا علم سوائے خداوند علام الغیوب کے کسی کو نہیں قریش کے ایک گروہ نے آپ سے…
Read the full tafseer →183: چھٹا طریقہ : قیامت کا علم تو درکنار وہ تو بہت بڑی بات ہے میں تو اپنے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہوں۔ “ اِلَّا مَاشَاءَ الّٰهُ ” یہ استثناء منقطع ہے یعنی جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ اس میں انتہائی عجز کا اظہار ہے اس سےحضور ﷺ کا علم قیامت سے عجز کامل طور پر ثابت ہوتا ہے۔ “ ولکن ماشاء اللہ من ذلک کائن فا لاستثناء منقطع وھذا ابلغ فی اظھار العجز ” (ابو السعود ج 4 ص 485) ۔ “ والکلام مسوق لاثبات عجزہ عن العلم بالساعة علی اتم وجه ” (روح ج 9 ص 136) ۔
184: ساتواں طریقہ : یہ آنحضرت ﷺ سے علم غیب کی نفی پر ایک واضح دلیل ہے یعنی اگر میں غیب جانتا ہوتا تو دنیا کے تمام منافع حاصل کرلیتا اور تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ربط آیات
عہدو پیمان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے توڑنے والوں کی مذمت بیان فرمائی پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو دل ، آنکھیں اور کان جیسی نعمتیں عطا فرمائیں مگر لوگ ان کا صحیح استعمال نہ کرکے غفلت میں پڑتے ہیں اور بالآخر جہنم کا شکار بنتے ہیں پھر اللہ نے ایمان اور توحید کے سلسلے میں اسمائے پاک اور صفات الٰہی کا مسئلہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو انہی اسماء اور صفات کے ساتھ پکارنا چاہیے اور اللہ کی صفات کو غلط معانی پہنا کر یا غلط مقام میں استعمال کرکے یا غلط تاویل کرکے الحاد کے مرتکب نہیں ہونا چاہیے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اسمائے مختصہ کا غیر اللہ پر اطلاق کرنا بھی الحاد میں داخل ہے…
Read the full tafseer →قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ 0 ۭ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْـتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ 0 ۚ ۖ ۛ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ 0 ۚۛ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 188 ۧ
ملك ( مالک)
فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–193
ترکیب : الاماشاء اللّٰہ استثناء ہے جنس سے ولوکنت شرط لا ستکثرت جواب وما نا فیہ مسنی الخ معطوف ہے لا ستکثرت پر تتّمہ جواب ہے جعل بمعنی خلق زوجہا اس کا مفعول فلما تغشاھا شرط حملت الخ جواب فمرت بہ تشدید راء سے پڑھا جاوے گا تو مرور سے مشتق ہوگا اور بالتخفیف والالف مارت من المور وھوالذہاب والبحئی فلما آتاھما الخ شرط جعلالہ جواب شرکاء جمع شریک مفعول جعلا فیما آتاھما جار متعلق فعل سے۔
تفسیر : دوسرا شبہ : دوسرا شبہ منکرین کا آنحضرت (علیہ السلام) کی نبوت پر یہ تھا کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں ہمارے دنیاوی مضرات دور نہیں کردیتے ٗ قحط کھودو ٗ ہم محتاج ہیں غنی کر دو ۔ ہمارے فلاں…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے۔
قُلْ لَّآ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَاشَآئَ اللّٰہُ ط وَلَوْ کُنْتُ اَعَلَمُ الْغَیٰبِ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِج صلے وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُ ج اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ لِّقَوْمِ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (الاعراف : 188)
”(اے پیغمبر ! انھیں) بتلائیے کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے اور برے کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جان لیا کرتا غیب کی بات تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھ کو برائی کبھی نہ پہنچتی میں تو بس ڈرانے والا ہوں (انکار کرنے والوں کو) اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایمان لانے والوں کو “۔
پیغمبر کی شناخت کے ضمن بعض گمراہیوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی آپ ﷺ سے کہلوایا گیا کہ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے اب اس کا مزید جواب دیا جار ہا ہے۔
باطل فرقوں کی ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ وہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذمہ وہ بات لگاتے اور ان سے مافوق الفطرت کاموں کی توقع اور ایسے مطالبات کرتے رہے کہ جس کا انھوں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ کبھی آپ سے یہ مطالبہ کرتے کہ ہم آپ پر تب ایمان لائیں گے جب تک آپ ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کردیں یا پھر آپ کے پاس کھجوروں کا ایسا باغ ہونا چاہیے جس میں نہریں جاری ہوں، یہ نہیں تو آپ اپنے دعویٰ کے مطابق آسمان ٹکڑے ٹکڑے کرکے…
Read the full tafseer →علم و اختیار کی نفی کا اعلان :
آیت 188: قُلْ لَّآ اَمْْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّ ا اِلاَّ مَاشَآ ئَ اللّٰہُ (آپ کہہ دیں کہ میں خود اپنی ذات خاص کیلئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ نقصان کا مگر اتنا جتنا اللہ نے چاہا) اس میں اظہار عبودیت ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے جو علم خاص ہے اس سے براءت کا اظہار ہے۔ یعنی میں تو ایک کمزور بندہ ہوں اپنے نفس کے لیے جلب منفعت اور دفع مضرت کا ذرہ بھر اختیار غلاموں کی طرح نہیں رکھتا۔ مگر جو میرے لئے نفع دینا اور نقصان دور کرنا چاہے۔ وَلَوْ کُنْتُ اَعَلْمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُ (اور اگر میں غیب…
Read the full tafseer →تفسیر 188 (قل لا املک لنفسی نفعاً ولا ضراً الا ماشآء اللہ) ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اہل مکہ کہنے لگے اے محمد ! آپ کا رب آپ کو سستے ریٹ کا ریٹ بڑھنے سے پہلے نہیں بتاتے کہ آپ (علیہ السلام) غلہ خرید کر ریٹ بڑھنے کے بعد نفع کمائیں اور اس زمین اک بھی نہیں بتاتا جو خشک ہونے لگی ہے تاکہ آپ (علیہ السلام) اس سے کوچ کر کے خوشحال زمین کی طرف چلے جائیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آپ کہہ دیں کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا) یعنی اپنی ذات کے لئے نفع حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوں کہ تجارت میں نفع حاصل کرلوں اور نہ نقصان کا مالک ہوں کہ زمین کے بنجر ہونے سے پہلے وہاں سے چلا جائوں مگر جو اللہ چاہے…
Read the full tafseer →د 188۔ اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے اللہ پاک نے یہ فرمایا تھا کہ لوگ تم سے قیامت کا حال پوچھتے ہیں کہ کب ہے تو تم ان سے یہی کہہ دو کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے خدا ہی جانے کب ہے مگر ایک نہ ایک دن ضرور آنے والی ہے اسی کی تاکید اس آیت فرمائی کہ تم یہ بھی کہہ دو میں تو یہاں تک بےاختیار ہوں کہ مجھے خود اپنی جان کے نفع ونقصان کا کچھ اختیار نہیں ہے پھر میں غیب کی بات کیونکر بتلا سکتا ہوں غیب کی بات فقط اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اگر میں غیب کی باتیں جانتا تو ہر طرح کی بہتری حاصل کرلیتا کبھی برائی پاس بھی نہیں پھٹکتی مال و دولت دنیا ہی لازوال پیدا کرلیتا کوئی چیز خریدتا تو ویسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
قیامت کب آئے گی ؟
قول باری ہے یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ ) تاآخر آیت ۔ قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ مرسھا کے معنی قیام قیامت ہے۔ ایان، متی کے معنوں میں ہے۔ اس سوال میں اس وقت کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا جو قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ظرف بننے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قیامت کے وقت کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی تاکہ اس کے بندے قیامت کے وقت سے ہمیشہ ڈرتے رہیں اور یہ بات طاعت کی طرف زیادہ راغب کر دے اور معصیت سے انہیں زیادہ بازرکھے ۔ موسیٰ کسی بھاری چیز کی جائے استقرار کو کہتے ہیں۔ اسی سے الجبال الرسیات، ہے یعنی گڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
263 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ جو آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ آخر کب آئے گی وہ گھڑی ؟ تو ان سے کہیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ اس کے سوا اس کو کوئی بھی نہیں جانتا۔ یہاں پر { اِنَّمَا } کے کلمہ حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ " قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں " اور یہی بات قرآن و سنت کی دیگر بیشمار نصوص میں بھی پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے، جیسا کہ حدیث جبریل میں ارشاد فرمایا گیا ہے " مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " آنحضرت ﷺ نے بذریعہ وحی اس کی بہت سی علامات اور نشانیاں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
قیامت کا ظہور کب ہوگا ؟
تشریح : ان آیات میں کفار کی بدفطرت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی پاک ﷺ کو ایک نجومی سمجھتے ہوئے اپنے دنیاوی فائدوں کے لیے آئندہ کی باتیں پوچھنے آجاتے کہ بتائیں آئندہ کیا ہونے والا ہے ؟ تاکہ اپنے تجارتی معاملات کو اور دوسرے مختلف معاملات کو اس کے مطابق طے کرلیں اور دنیوی نقصانات سے بچ جائیں تو اس پر اللہ کے حکم کے مطابق آپ ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ بھائی میں تو صرف دوزخ سے ڈرانے والا اور جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں۔ نیکی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں بھلائیاں ہی بھلائیاں پائوگے برائی کرو گے تو دنیا وآخرت میں سوائے ذلت و خواری کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–188
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188
اسرار و معارف :
جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔
استدرج :
استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی مشیئت الہیٰ سے جو کچھ ہونا ہے ہو رہا ہے۔ سمجھ میں ذاتی طو پر اتنا بھی اختیار وقدرت نہیں کہ میں اپنی جان سے کسی مضرت کو روک سکوں یا کچھ حاصل کرسکوں ( کذافی السلفیہ)4 یعنی نہ میں غیب دان ہی ہوں اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جن پیشگی علم کی وجہ سے میں سمیٹ لیتا اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر میں بچ جاتا۔ یہاں لفظ لو۔ سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ باوجود افصل المرسلین ہونے کی علم غیب نہیں رکھتے تھے، خواہ واقعہ افک ہمارے سامنے ہے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کتنے دنوں تک مضطرب اور پریشان رہے آخر کا قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی برات نازل فرمائی تو آپ حقیقت…
Read the full tafseer →(7:188) لا استکثرت۔ میں ضرور بہت جمع کرلیتا ۔ استکثار (استفعال) سے جس کے معنی کسی چیز کو کثیر سمجھنے یا کسی کام کو بہت زیادہ کرنے کے ہیں۔ یہاں اگر غیب سے مراد وقت موت لیا جاوے تو لاستکثرت کا مطلب ہوگا کہ میں بہت نیکیاں جمع کرلیتا ۔ عمل صالح کرکے اور اعمال سوء سے اجتناب کرکے۔ اور اگر عام معنی لئے جاویں تو مطلب ہوگا کہ نقصان سے بچتے ہوئے اور نفع کو اختیار کرتے ہوئے میں بہت کچھ جمع کرلیتا۔ اور ایذا وغیرہ سے بچ جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
لغات القرآن۔
یسلئونک ۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں۔ ایان۔ کب۔ مرسی۔ (ارشاء) ۔ ٹھہرنا۔ قائم رہنا۔ لا یجلی۔ وہ ظاہر نہیں کرتا۔ ثقلت۔ بھاری ہے۔ حفی۔ کھوج لگانا۔ تلاش کرنے والا۔ لا املک ۔ میں مالک نہیں ہوں۔ لنفسی۔ اپنی جان کے لئے۔ لا اعلم الغیب۔ میں غیب کا جاننے والا نہیں ہوں۔ لا ستکثرت۔ البہت میں بہت کچھ سمیٹ لیتا۔ مامسنی۔ مجھے نہ پہنچتی۔ السوء۔ کوئی تکلیف۔ برائی۔
تشریح : قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کچھ چیزیں وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب میں رکھا ہے ان ہی میں سے قیامت بھی ہے۔ قیامت کب آئے گی کس طرح آئے گی اس کی بعض علامات تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ لوگ تم سے قیامت کا حال پوچھتے ہیں کہ کب ہے، تو تم ان سے یہی کہہ دو کہ مجھے علم نہیں ہے، خدا ہی جانے کب آئے گی مگر ایک نہ ایک دن آنے والی ضرور ہے۔ اسی کی تاکید اس آیت میں فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی بھلائی برائی کے حال کو خود بخود جان لینا ایک علم غیب ہے۔ جس کا حال سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں، ہاں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے بذریعہ وحی کے غیب کی باتیں بتلا دیتا ہے۔ مثلاً بدر کی لڑائی میں جو نافرمان لوگ مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہونے والے تھے، ان کا حال پہلے سے آنحضرت صلی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–189
[75] یعنی آدم سے۔
[76] مرد کا ڈھانپ لینا کنایہ ہے جماع کرنے سے۔
Read the full tafseer →(ف 2) نبی کا کام کہانت یا پیش خبری نہیں ، وہ رشد وہدایت کے لئے آتا ہے ، یعنی اس لئے کہ نیک اور ابرار کو جنات ونعیم کو خوشخبری سنائے ، اور وہ جو بدعمل اور بدکردار ہیں انہیں جہنم کی آگ سے ڈرائے ، غیب کا علم صرف ذات بےہمت کو ہے ، عالم غیب کی باتیں بجز علیم وخبیر خدا کے اور کوئی نہیں جانتا ۔
اس آیت میں حضور ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے بتلایا گیا ہے کہ میں نفع ونقصان کا مالک نہیں ، یہ چیزیں اللہ کے اختیار میں ہیں ۔ میں اگر غیب کے لا تعداد خزانوں سے آگاہ ہوتا ، تو مجھے تکلیفیں کیوں سہنا پڑتیں ، بدروحنین کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ، دندان مبارک کیوں شہید ہوتے ، حرم محترم پر کھلے حملے کیوں کئے جاتے ، اور…
Read the full tafseer →188 آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو خود اپنی ذات کے لئے بھی کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا ہوں نہ کسی ضرر و نقصان کا اختیار رکھتا ہوں مگر ہاں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر اللہ چاہتا ہے اور کسی نقصان سے مجھ کو باخبر کردیتا ہے تو میں اس کے حکم سے بچ جاتا ہوں اسی طرح کسی نفع کی بات سے مجھ کو مطلع کردیتا ہے تو میں اس کے حکم سے وہ نفع حاصل کرلیتا ہوں اور اگر میں غیب داں ہوتا اور مجھ کو جملہ مغیبات کا علم ہوتا تو میں بکثرت منافع اور بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھ کو کوئی ضرر اور برائی نہیں پہنچتی اور میں کبھی کوئی نقصان نہ اٹھاتا میں تو صرف ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں اور میری بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ف 2۔ یعنی دوسرے کسی کو اس کی اطلاع نہیں۔
3۔ اور وہ ظاہر کرنا یہ ہوگا کہ اس کو واقع کردے گا اس وقت سب کو پوری خبر ہوجائے گی۔
4۔ بعض علوم اللہ نے اپنے خزانہ علم میں مکنون رکھے ہیں انبیاء کو بھی تفصیلا اطلاع نہیں دی اس آیت سے اور حدیث ما المسول عنہا باعلم من السائل۔ رواہ الشیخان۔ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یقین و تفصیل کے ساتھ قیامت کی اطلاع آپ سے بھی مخفی تھی۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام سے اس بات کا اعلان کرایا گیا کہ میں اپنے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں :
213: یہ گمراہی بھی عالم گیر ہے کہ جب کوئی انسان روحانی عظمت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو لوگ چاہتے ہیں کہ اسے انسانیت و بندگی کی سطح سے بلند کر کے دیکھیں لیکن قرآن کریم نے پیغمبر اسلام کی حیثیت ایسے صاف اور قطعی لفظوں میں واضح فرما دی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس گمراہی کا ازالہ ہوگیا ۔ صرف یہی ایک بات ان کی صداقت کے اثبات کے لئے کفایت کرتی ہے جو دنیا اپنے پیشوائوں کو خدا اور خدا کا بیٹا بنانے کی خواہش مند تھی ۔ اسلام کے پیغمبر نے اس سے اتنا بھی نہ چاہا کہ وہ اس کو اپنے نفع و نقصان کا مالک تصور کرے بلکہ خود اللہ نے اس…
Read the full tafseer →The Verse 188 clears away a common misbelief of the people regarding the prophets of Allah. They thought that the prophets must possess the knowledge of each and everything in the universe, including the knowledge of the unseen future and unknown past. Similarly, they thought that the prophets must possess the power of bringing benefit or harm to any one out of their own will. The verse made it clear that the all-encompassing knowledge is an exclusive attribute of Allah which cannot be ascribed to any created being. Ascribing these exclusive attributes to anyone other than Allah is the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–188
145. The time of the advent of the Last Day is known to God alone Who knows the Unseen which, in fact, is not known even to the Prophet (peace be on him). Being human, he is not aware what the morrow has in store for him and his family. Had his knowledge encompassed everything - even things that lie beyond the ken of sense-perception and events that lie hidden in the future - he would have accumulated immense benefit and would have been able to avoid a great deal of loss owing to such foreknowledge. That being the case, it is sheer naivety to ask the Prophet about the actual time for the…
Read the full tafseer →