قیامت کب اور کس وقت ؟
یہ دریافت کرنے والے قریشی بھی تھے اور یہودی بھی لیکن چونکہ یہ آیت مکی ہے اس لئے ٹھیک یہی ہے کہ قریشیوں کا سوال تھا چونکہ وہ قیامت کے قائل ہی نہ تھے اس لئے اس قسم کے سوال کیا کرتے تھے کہ اگر سچے ہو تو اس کا ٹھیک وقت بتادو۔ ادھر بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں۔ ادھر ایماندار اسے حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنہیں اس میں بھی شک ہے دو روز کی گمراہی میں تو وہی ہیں۔ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت واقع کب ہوگی ؟ جواب سکھایا گیا کہ اس کے صحیح وقت کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں وہی اس کے صحیح وقت سے واقف ہے بجز اس کے کسی کو اس کے واقع ہونے کا وقت معلوم نہیں۔ اس کا علم زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–188
سورة الْاَعْرَاف 145
مطلب یہ ہے کہ قیامت کی ٹھیک تاریخ وہی بتاسکتا ہے جسے غیب کا علم ہو، اور میرا حال یہ ہے کہ میں کل کے متعلق بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ یا میرے بال بچوں کے ساتھ کیا کچھ پیش آنے والا ہے۔ تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اگر یہ علم مجھے حاصل ہوتا تو میں کتنے نقصانات سے قبل از وقت آگاہ ہو کر بچ جاتا اور کتنے فائدے محض پیشگی علم کی بدولت اپنی ذات کے لیے سمیٹ لیتا پھر یہ تمہاری کتنی بڑی نادانی ہے کہ تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ قیامت کب آئے گی۔
Read the full tafseer →(آیت) يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ۔
اس میں لفظ ساعة عربی لغت میں تھوڑے سے زمانہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کی کوئی خاص تحدید لغت کے اعتبار سے نہیں ہے، اور اہل نجوم کی اصطلاح میں رات اور دن کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ کا نام ساعة ہے جس کو اردو میں گھنٹہ کہا جاتا ہے، اور قرآن کی اصطلاح میں یہ لفظ اس دن کے لئے بولا جاتا ہے جو ساری مخلوقات کی موت کا دن ہوگا اور اس دن کے لئے بھی جس میں ساری مخلوقات دوبارہ زندہ ہو کر رب العالمین کے دربار میں حاضر ہوں گی۔ اَيَّانَ کے معنی کب اور مُرْسٰى کے معنی ٹھہرنے اور قائم ہونے کے ہیں۔
لَا يُجَلِّيْهَا، تجلة سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کھولنے اور ظاہر کرنے کے،…
Read the full tafseer →يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۭ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔
سوال بطور استہزاء : يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا، سوال، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، مذاق اور استہزاء کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ سی نوعیت کا سوال مراد ہے۔ ساعۃ کے معنی وقت اور گھڑی کے ہیں۔…
Read the full tafseer →187۔ 1 سَاعَۃ، ُ کے معنی ہیں گھڑی (لمحہ یا پل) کے ہیں قیامت کو ساعۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اچانک اس طرح آجائے گی کہ پل بھر میں ساری کائنات درہم برہم ہوجائے گی یا سرعت حساب کے اعتبار سے قیامت کی گھڑی کو ساعۃ سے تعبیر کیا گیا۔
187۔ 2 اَرْسَیٰ یُرْسِیْ کے معنی اثبات و وقوع کے ہیں، یعنی کب یہ قیامت ثابت یا واقع ہوگی۔
187۔ 3 یعنی اس کا یقینی علم نہ کسی فرشتے کو ہے نہ کسی نبی کو، اللہ کے سوا اس کا علم کسی کے پاس نہیں، وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔
187۔ 4 اس کے ایک دوسرے معنی ہیں۔ اس کا علم آسمان اور زمین والوں پر بھاری ہے، کیونکہ وہ پوشیدہ ہے اور پوشیدہ چیز لوگوں پر بھاری ہوتی ہے۔
187۔ 5…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–187
95: مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کو پیغمبر ماننے کے بجائے کبھی معاذاللہ آپ کو مجنون قرار دیتے، کبھی شاعر یا جادوگر کہتے تھے، یہ آیت بتارہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایسے بےسروپا تبصرے وہی کرسکتا ہے جو بےسوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو، اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کرلیں تو ان پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
تفسیر آیات 187 تا 188:۔ یہ لوگ جو اپنے ماحول سے غافل ہیں ، اپنے ماحول سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ پردہ غیب میں مستور قیامت کب برپا ہوگی۔ ان لوگوں کا سوال اسی طرح ہے کہ ایک شخص کی بینائی اس قدر کمزور ہو کہ وہ اپنے قدموں میں کچھ نہ دیکھ سکتا ہو مگر خواہش یہ رکھتا ہو کہ وہ دور افق اعلی میں بھی کچھ دیکھے۔
۔۔۔
عقیدہ آخرت اور اس میں میزان کا قیام اور سزا و جزا کا واقع ہونا یہ مشرکین مکہ کے لیے ایک انوکھا نظریہ تھا حالانکہ یہ عقیدہ دین ابراہیمی کا اساسی عقیدہ تھا اور مشرکین مکہ کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم سے ملتا تھا۔ یہی عقیدہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے دین میں…
Read the full tafseer →4 پہلے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ) 7 ۔ الاعراف :185) میں خاص اس قوم کی اجل (موت) کا ذکر تھا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ کب آجائے۔ یہاں تمام دنیا کی اجل (قیامت) کے متعلق متنبہ فرما دیا کہ جب کسی کو خاص اپنی موت کا علم نہیں کب آئے، پھر کل دنیا کی موت کو کون بتلا سکتا ہے کہ فلاں تاریخ اور فلاں سنہ میں آئے گی۔ اس کی تعیین کا علم بجز خدائے علام الغیوب کسی کے پاس نہیں۔ وہ ہی وقت معین و مقدر پر اسے واقع کر کے ظاہر کر دے گا کہ خدا کے علم میں اس کا یہ وقت تھا۔ آسمان و زمین میں وہ بڑا بھاری واقعہ ہوگا اور اس کا علم بھی بہت بھاری ہے جو خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ گو اس واقعہ کی…
Read the full tafseer →آیت 187 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰٹہَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ ج۔
یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کب لنگر انداز ہوگی ؟ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اس کے بارے میں سوائے میرے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ کسی کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ مُرْسٰی جہاز کے لنگر انداز ہونے کو کہا جاتا ہے۔ جیسے بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖٹھَٰا وَمُرْسٰھَا۔
لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَآ اِلاَّ ہُوَ ط ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط
آسمان و زمین اس سے بوجھل ہیں۔ جیسے ایک مادہ اپنا حمل لیے پھرتی ہے ‘ اسی طرح یہ کائنات بھی قیامت کو یعنی اپنی فنا کو لیے لیے پھرتی ہے۔ ہر…
Read the full tafseer →186 قیامت اچانک آئے گی :۔ قیامت کے اس بڑے حادثہ کی بہت سی علامات قرآن میں مذکور ہیں مثلاً زمین میں شدید زلزلے اور متواتر جھٹکے آئیں گے اور انسان حیرت سے یہ پوچھے گا کہ آج اس زمین کو کیا ہوگیا ہے ستارے بےنور ہوجائیں گے، سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ادھر ادھر اڑنے لگیں گے اور ایسی ہی بہت سی باتیں یکدم ظاہر ہونے لگیں گی۔
اور سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا قیامت (یوں اچانک) واقع ہوگی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہوگا اور وہ اس کی خریدو فروخت نہ کرسکیں گے نہ اسے لپیٹ سکیں گے اور ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دھو کر لوٹ رہا ہوگا مگر وہ اسے پی نہ…
Read the full tafseer →270 ۔ (علم وواقفیت کے لیے نہیں، بلکہ تمسخر و استہزاء کی راہ سے) منکرین کے اس سوال میں سنجیدگی ذرا بھی نہ ہوتی۔ محض تمسخر مقصود ہوتا۔ کانوا یسئلون عن وقت الساعۃ استبعادا لوقوعھا وتکذیبا لوجودھا (ابن کثیر)
271 ۔ اور وہ ظاہر کرنا یہی ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی) التجلیۃ اظھار الشیء (قرطبی) (آیت) ” علمھا “۔ یعنی اس کے وقت وقوع کا تفصیلی علم، (آیت) ” انما “۔ اس کلمہ حصر نے صاف کردیا کہ اس علم میں کوئی بھی مخلوق، نبی ہو یا فرشتہ باری تعالیٰ کا شریک نہیں۔ انجیل تک میں یہ قول موجود ہے :۔ اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا، نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ (متی 24:36) (آیت) ” ایان “۔ حتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
قل۔۔۔ اللہ، یہ آیت اس بات پر کہ نبی ﷺ عالم الغیب نہیں، عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے صریح دلیل ہے علم و جہالت کی انتہاء ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ ﷺ کو معروف معنی میں عالم الغیب کی سعی بےسود کرتے ہیں یہ ہے کہ اس طبقے کے پڑھے لکھے اور سمجھدار کہلانے والے لوگ اس کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں صرف اپنی قوم و برادری میں ساکھ قائم رکھنے یا اپنے دینوی مفاد کے لئے قوم کے سامنے اور اسٹیجوں پر دعوائے بلا دلیل کرتے ہیں جب ہزارہا تاریخی واقعات آپ ﷺ کے عالم الغیب ہونے کی نفی کرتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ وصال کے وقت آپ کو علم غیب عطا کیا گیا تھا اول تو وصال کے وقت علم غیب کا فائدہ کیا ؟ اور جب ان کو بتایا…
Read the full tafseer →یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسہا قل انما علمہا عند ربی لا مجلیہا لوقتہا الا ہو ثقلت فی السموات والارض لا تاتیکم الا بغتۃ یسئلونک کانک حفی عنہا قل انما علمہا عنداللہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون : یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا آپ کہہ دیجئے کہ اس کا (تعیینی) علم تو میرے رب کے پاس (محفوظ) ہے اس کے وقت پر بس وہی اس کو ظاہر کر دے گا وہ آسمان و زمین کا سب سے بھاری حادثہ ہوگا بس وہ تم پر اچانک ہی آپڑے گی وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اس کا (تعیینی علم) تو بس اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
الساعۃ قیامت کے اسماء غالبہ میں سے…
Read the full tafseer →(187) اے محمد ﷺ اہل مکہ روز قیامت کے قائم ہونے اور اس کے وقت کے متعلق آپ سے پوچھتے ہیں کہ کب آئے گی، آپ فرما دیجیے کہ اس کا وقت مقرر صرف میرے رب کو معلوم ہے اس چیز کو بیان نہیں کیا گیا اس کا آنا اور اس کے واقع ہونے کا علم زمین و آسمان والوں پر بہت ہی بھاری حادثہ ہوگا اور وہ ایک دم آئے گی۔
اے محمد ﷺ ! وہ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں اس طرح سوال کرتے ہیں جیسے آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں یا اس سے غافل ہیں، آپ فرما دیجیے کہ اس کے آنے کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے مگر اہل مکہ اس چیز کی تصدیق نہیں کرتے۔
شان نزول : یسئلونک عن الساعۃ۔“ (الخ)
ابن جریر ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا : ”السَّاعَةِ“ ایک گھڑی، لمحہ، پل یا سیکنڈ، کیونکہ قیامت اچانک ایک ہی لمحے میں برپا ہوجائے گی۔ ”اَيَّانَ“ زیادہ صحیح یہی ہے کہ ”اَیٌّ“ سے ”فَعْلَانَ“ کا وزن ہے، ظرف زمان بمعنی ”مَتٰی“ یعنی کب۔ ”مُرْسٰىهَا“ یہ ”اَرْسٰی یُرْسِیْ“ باب افعال سے مصدر میمی ہے، لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، زیادہ تر بہت بھاری چیز کے ٹھہرنے، گڑ جانے، گاڑ دینے اور ٹھہرا دینے کو کہتے ہیں، جیسے فرمایا : (وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا) [ النازعات : 32 ] ”اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔“ ”اَرْسَتِ السَّفِیْنَۃُ“ ”بحری جہاز لنگر انداز ہوا۔“ ”اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ۭ“ کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 187
قولہ تعالیٰ : آیت : یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسٰھا، ایان یہ متی کے مثل زمانے اور وقت کے بارے سوال کے لیے آتا ہے راجز نے کہا ہے :
ایان تقضی حاجتی ایان اما تری لنجحھا اوانا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 484)
اس میں ایان وقت کے بارے سوال کے لیے ہی ہ۔
یہودی حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا کرتے تھے : اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں قیامت کے بارے بتائیے وہ کب قائم ہوگئی ؟ اور یہ روایت بھی ہے کہ مشرکین نے فرط انکار کی وجہ سے یہ کہا : مرسھا سیبویہ کے نزدیک مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور خبر ایان ہے۔ اور یہ ظرف مبنی علی الفتح ہے۔ یہ مبنی ہے کیونکہ اس میں استفہام کا معنی ہے۔ اور مرسھا میم کے ضمہ کے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحق، ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حمل بن ابی قیش اور سمول بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہم کو بتائیے قیامت کب ہوگی اگر آپ نبی ہیں جیسے کہ آپ دعوی کرتے ہیں کیونکہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے ؟ تو الہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا قل انما علمھا عند ربی “ (سے لے کر) ” ولکن اکثر الناس لایعلمون “ تک۔
(2) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا “ کے بارے میں فرمایا یعنی وہ کب قائم ہوگی ” قل انما علمھا عند ربی، لا یجلیہا لوقتھا الا ھو “ فرمایا…
Read the full tafseer →[ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ سے ] [ عَنِ السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں ] [ اَيَّانَ : ایان [ کب ہے [ مُرْسٰىهَا ۭ: اس کے قیام ہونے کا وقت ] [ قُلْ : آپ کہہ دیجئے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ عِلْمُهَا : اس کا علم ] [ عِنْدَ رَبِّيْ ۚ : میرے رب کے پاس ہے ] [ لَا يُجَلِّيْهَا : ظاہر نہیں کرے گا (کوئی ) اس کو ] [ لِوَقْتِهَآ : اس کے وقت پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ هُوَ ۂ : وہی ] [ ثَقُلَتْ : وہ بھاری ہوئی (یعنی ہوگی ) ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ : زمین اور آسمانوں میں ] [ لَا تَاْتِيْكُمْ : وہ نہیں پہنچے گی تم لوگوں کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ بَغْتَةً ۭ : اچانک ] […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–187
قیامت کے آنے کا وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے وہ اچانک آجائے گی
چونکہ نبی اکرم ﷺ توحید کی دعوت کے ساتھ قیامت کے بارے میں بھی خبر دیتے تھے اور اس کے احوال و اھوال بتاتے تھے اس لیے مشرکین قیامت کے بارے میں بھی طرح طرح کی باتیں نکالتے تھے وہ کہتے تھے کہ جب گل سڑ کر ہماری ہڈیوں کا چورا چورا ہوجائے گا تو کیا ہم دو بارہ زندہ ہوں گے ؟ اور اس کی تکذیب کے لیے یوں بھی کہتے تھے : (مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ) (کہ قیامت آنے کا جو وعدہ ہے کب پورا ہوگا) اس کا مطلب وقت کا پوچھنا نہ تھا بلکہ وقوع کا انکار کرنا تھا۔ امتداد اجل سے عدم وقوع اور عدم امکان پر استدلال کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
تذکیر آخرت و ذکر قیامت
قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔۔۔ الی۔۔۔ ان انا الا نذیر وبشیر القوم یومنون۔
(ربط) گزشتہ آیت عسی ان یکون قداقترب اجلھم میں انفرادی قیامت کا ذکر تھا اس لیے کہ حدیث میں ہے۔ من مات فقد قامت قیاتہ جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو قائم ہوگئی اب ان آیات میں مجموعہ عالم کی قیامت کا ذکر ہے پس جس طرح کسی شخص کو اپنی شخصی قیامت یعنی اجل اور موت کا علم نہیں اسی طرح سمجھ لو کہ پوری دنیا کی اجل یعنی موت کا علم بھی کسی کو نہیں کون بتلا سکتا ہے کہ قیامت کس تاریخ اور کس دن میں اور کس وقت میں آئے گی۔ اس کا علم سوائے خداوند علام الغیوب کے کسی کو نہیں قریش کے ایک گروہ نے آپ سے…
Read the full tafseer →182: زجر ہے جب آپ قیامت سے ڈراتے ہیں تو یہ ماننے کے بجائے الٹے ضد وعناد کی وجہ سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ وہ قیامت آئے گی کب۔ آنحضرت ﷺ علم قیامت کی نفی سات طریقوں کی گئی۔ پہلا طریقہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ اس کے جواب میں صا اف کہہ دیں۔ “ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّيْ ” کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ دوسرا طریقہ “ لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَا اِلَّا ھُو ” جب اس کا وقت آپہنچے گا تو وہ خود ہی اس کو ظاہر فرمائے گا۔ تیسرا طریقہ “ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰت الخ ” زمین و آسمان میں قیامت کے علم کا معاملہ بہت اہم ہے۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق سے قیامت کا علم پوشیدہ ہے اور ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ربط آیات
عہدو پیمان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے توڑنے والوں کی مذمت بیان فرمائی پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو دل ، آنکھیں اور کان جیسی نعمتیں عطا فرمائیں مگر لوگ ان کا صحیح استعمال نہ کرکے غفلت میں پڑتے ہیں اور بالآخر جہنم کا شکار بنتے ہیں پھر اللہ نے ایمان اور توحید کے سلسلے میں اسمائے پاک اور صفات الٰہی کا مسئلہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو انہی اسماء اور صفات کے ساتھ پکارنا چاہیے اور اللہ کی صفات کو غلط معانی پہنا کر یا غلط مقام میں استعمال کرکے یا غلط تاویل کرکے الحاد کے مرتکب نہیں ہونا چاہیے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اسمائے مختصہ کا غیر اللہ پر اطلاق کرنا بھی الحاد میں داخل ہے…
Read the full tafseer →يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَۃِ اَيَّانَ مُرْسٰىہَا 0 ۭ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّيْ 0 ۚ لَا يُجَلِّيْہَا لِوَقْتِہَآ اِلَّا ہُوَ 0 ۭۘؔثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَۃً 0 ۭ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْہَا 0 ۭ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللہِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 187
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد،…
Read the full tafseer →ترکیب : مرساھا مبتداء ایان خبر (اور یہ مبنی ہے اس لئے کہ یہ معنی استفہام اس میں پائے جاتے ہیں بمعنی متی) اور موضع جر میں ہے بدل ہو کر الساعتہ سے تقدیرہ یسئلونک عن زمان علول الساعۃ علمہا مصدر مضاف ہے مفعول کی طرف مبتداء عند ربی خبر۔
تفسیر : جبکہ کلام توحید و نبوت و قضاء و قدر میں آیا تو اس کے بعد معاد کا ذکر بھی مناسب ہوا کیونکہ مقصود بالذات قرآن میں یہی چار مطالب ہیں یا یوں کہو کہ پہلے آیات میں اجل کا قریب ہونا بیان کیا تھا جو بڑے کھٹکے کی بات تھی۔ اس لئے تمام عالم کی اجل کا جس کو قیامت کہتے ہیں ‘ بیان کرنا بھی مناسب مقام معلوم ہوا تاکہ بندوں کے دلوں پر کھٹکا لگا رہے۔ ہر وقت توبہ کرتے رہیں۔…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰھَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِِّیْج لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَآ اِلَّا ھُوَط م ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃًط یَسْئَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْھَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَا النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ (الاعراف : 187)
” وہ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں کہ کب ہے اس کے قائم ہونے کا وقت کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو بس میرے رب ہی کے پاس ہے وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا بوجھل ہیں اس سے آسمان اور زمین وہ تم پر بس اچانک ہی آدھمکے گی وہ تم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار نہ صرف عقیدہ توحید کے منکر تھے بلکہ قیامت کے برپا ہونے پر بھی یقین نہیں رکھتے تھے جس وجہ سے وہ آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتے کہ قیامت کب آئے گی۔ یہاں اس کا جواب دیا گیا ہے۔
کفار قیامت کے قائم ہونے کا استہزاء اڑانے اور نبی اکرم ﷺ کو پریشان کرنے کے لیے آپ سے مطالبہ کرتے کہ جس قیامت کے برپا ہونے سے آپ ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں یہ کب آئے گی اگر تیرے پاس کوئی اختیار ہے تو اسے ہم پر برپا کر دے۔ اس کا جواب آپ کی زبان اطہر سے یوں دلوایا جا رہا ہے کہ آپ انھیں فرمائیں کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
میرارب ہی اسے اس کے وقت پر برپا کرے گا لیکن یاد…
Read the full tafseer →وقوعِ قیامت کا سوال :
آیت 187: جب یہود یا قریش نے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی تو یہ آیت اتری۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ (یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں) یہ قیامت کے اسمائے غالبہ میں سے ہے جیسے ثریا کو نجم کہتے ہیں۔ نمبر 1۔ قیامت کو ساعۃ کہنے کی وجہ اس کا اچانک آنا ہے۔ نمبر 2۔ اس میں بہت جلد حساب ہوگا۔ نمبر 3۔ قیامت اپنی طوالت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ہاں مخلوق کی ایک ساعت کی طرح ہے۔ اَیَّانَ (کہ کب ہوگا) کب یہ ای سے اشتقاق کیا گیا ہے اس کا وزن فعلان ہے کیونکہ اس کا معنی اس وقت ؟ ہے مُرْسٰھَا (اس کا وقوع) اس کا لنگر انداز ہونا۔ آنا یہ المدخل کی طرح مصدر میمی ہے۔ ادخال کے معنی میں…
Read the full tafseer →187 (یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھآ) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو کہا کہ بیشک ہمارے اور تمہارے درمیان رشتہ داری ہے ہمیں یہ بتادیں کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (یسئلونک عن الساعۃ) قیامت کے بارے میں (قل انما علمھا عند ربی لا یجلیھا لوفتھآ الا ھو ثقلت فی السموت ولارض ) اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اس کو اس کے وقت پر وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمینوں میں ۔ اس کا علم بھاری ہے اور اس کا معاملہ آسمان اور زمین والوں پر مخفی ہے اور ہر مخفی چیز ثقیل ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جب قیامت آئے گی تو آسمانوں اور زمین والوں پر بھاری ہوگی۔
(لاتاتیکم الا…
Read the full tafseer →187۔ ابو جعفر ابن جریر اور اکثر مفسروں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ ہم کو یہ تو بتلائیے کہ جس قیامت سے آپ ہم کو ڈراتے ہیں آخر وہ کب آویگی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ قیامت ایسی سخت چیز ہے کہ انسان کی تو کیا اصل بنیاد ہے اس کا آنا زمین و آسمان سب پر بھاری ہے جب وہ آویگی عالم علوی عالم سفلی سوا ذات پاک اس وحدہ لاشریک کے سب کچھ فنا ہوجاویگا اس لئے ایسی بڑی چیز کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اگر اس کا وقت معلوم ہوتا تو اس وقت کو قریب آتا دیکھ کر زمین و آسمان فرشتے کوئی اپنے حاکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
قیامت کب آئے گی ؟
قول باری ہے یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ ) تاآخر آیت ۔ قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ مرسھا کے معنی قیام قیامت ہے۔ ایان، متی کے معنوں میں ہے۔ اس سوال میں اس وقت کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا جو قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ظرف بننے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قیامت کے وقت کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی تاکہ اس کے بندے قیامت کے وقت سے ہمیشہ ڈرتے رہیں اور یہ بات طاعت کی طرف زیادہ راغب کر دے اور معصیت سے انہیں زیادہ بازرکھے ۔ موسیٰ کسی بھاری چیز کی جائے استقرار کو کہتے ہیں۔ اسی سے الجبال الرسیات، ہے یعنی گڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
263 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ جو آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ آخر کب آئے گی وہ گھڑی ؟ تو ان سے کہیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ اس کے سوا اس کو کوئی بھی نہیں جانتا۔ یہاں پر { اِنَّمَا } کے کلمہ حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ " قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں " اور یہی بات قرآن و سنت کی دیگر بیشمار نصوص میں بھی پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے، جیسا کہ حدیث جبریل میں ارشاد فرمایا گیا ہے " مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " آنحضرت ﷺ نے بذریعہ وحی اس کی بہت سی علامات اور نشانیاں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
قیامت کا ظہور کب ہوگا ؟
تشریح : ان آیات میں کفار کی بدفطرت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی پاک ﷺ کو ایک نجومی سمجھتے ہوئے اپنے دنیاوی فائدوں کے لیے آئندہ کی باتیں پوچھنے آجاتے کہ بتائیں آئندہ کیا ہونے والا ہے ؟ تاکہ اپنے تجارتی معاملات کو اور دوسرے مختلف معاملات کو اس کے مطابق طے کرلیں اور دنیوی نقصانات سے بچ جائیں تو اس پر اللہ کے حکم کے مطابق آپ ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ بھائی میں تو صرف دوزخ سے ڈرانے والا اور جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں۔ نیکی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں بھلائیاں ہی بھلائیاں پائوگے برائی کرو گے تو دنیا وآخرت میں سوائے ذلت و خواری کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–188
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188
اسرار و معارف :
جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔
استدرج :
استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے…
Read the full tafseer →ف 14 تو حیدو نبوت اور قضا ق دقدر پر کلام کے بعد بعث ماہ بعد الموت پر گفتگو ہو رہی ہے کیونکہ قرآن میں یہ امور اربعہ اصول وکلیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ( رازی )
1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ زمین آسمان اس کی دہشت سے کا نپتے ہیں یا یہ کہ کسی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل ( علیہ السلام) کو اس کے وقوع کا علم نہیں ہوسکتا۔ ( رازی) حدیث جبر یل ( علیہ السلام) میں آنحضرت ﷺ نے صرف اشراط ساعت بنان فرمائی ہیں اور دوسری روایات میں نزول عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آثار قیامت میں سے قرار دیا ہے مگر ان کے وقو ع کے بعد بھی قیامت اچانک اور دفعتہ واقع نہیں ہوگی، ( کبیر)4 کہ قیامت کے وقوع کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو…
Read the full tafseer →(7:187) ایان۔ کب ۔ متی کے قریب المعنی ہے اور کسی شے کا وقت معلوم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض اس کی اصل ای اوان بمعنی کونسا وقت بتاتے ہیں ۔ الف کو حذف کر کے واؤ کو یاء کیا گیا پھر اس یاء کو ای کی یاء میں مدغم کیا گیا۔ ایان ہوگیا۔
مرسھا۔ مرسا مضاف ھا مضاف الیہ۔ (مصدر میمی ہے) ٹھہرانا۔ جمانا۔ مادہ رسو ہے۔ رسا یرسو (نصر) ٹھہرنا۔ جگہ پر جم جانا۔ اس سے مصدر میمی مرسا آتا ہے لیکن ثلاثی مزید فیہ میں باب افعال سے ارساء مصدر۔ اور مصدر میمی مرسا آتا ہے۔ ٹھہرانا۔ جمانا۔ کشتی کا لنگر انداز ہونا۔
ایان مرسھا۔ اس کا وقع کب ہوگا۔
لایجلیہا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب تجلیۃ (تفعیل)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
لغات القرآن۔
یسلئونک ۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں۔ ایان۔ کب۔ مرسی۔ (ارشاء) ۔ ٹھہرنا۔ قائم رہنا۔ لا یجلی۔ وہ ظاہر نہیں کرتا۔ ثقلت۔ بھاری ہے۔ حفی۔ کھوج لگانا۔ تلاش کرنے والا۔ لا املک ۔ میں مالک نہیں ہوں۔ لنفسی۔ اپنی جان کے لئے۔ لا اعلم الغیب۔ میں غیب کا جاننے والا نہیں ہوں۔ لا ستکثرت۔ البہت میں بہت کچھ سمیٹ لیتا۔ مامسنی۔ مجھے نہ پہنچتی۔ السوء۔ کوئی تکلیف۔ برائی۔
تشریح : قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کچھ چیزیں وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب میں رکھا ہے ان ہی میں سے قیامت بھی ہے۔ قیامت کب آئے گی کس طرح آئے گی اس کی بعض علامات تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–187
قیامت کب ہے اور علم غیب کا بیان
شان نزول : قریش نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ ہم کو یہ تو بتلایئے کہ جس قیامت سے آپ ہم کو ڈراتے ہیں آخر وہ قیامت کب آئے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ قیامت ایسی سخت چیز ہے کہ انسان کی تو اصل کیا ہے، اس کا آنا زمین و آسمان سب پر بھاری ہے۔ جب وہ آوے گی عالم علوی و عالنٓم سفلی سوا ذات پاک اس وحدہ لا شریک کے، سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ اس لئے ایسی بڑی چیز کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اگر اس کا وقت معلو ہوتا تو اس وقت کو قریب آتا دیکھ کر زمین و آسمان اور فرشتے کوئی اپنے حال پر باقی نہ رہتا اور انتظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–189
[75] یعنی آدم سے۔
[76] مرد کا ڈھانپ لینا کنایہ ہے جماع کرنے سے۔
Read the full tafseer →(ف 1) مکہ والوں میں ایک مرض یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے خواہ مخواہ کچھ نہ کچھ پوچھتے رہتے ، اور الجھاتے رہتے ، غرض یہ ہوتی ، کہ عوام کو بتایا جائے کہ دیکھو تمہارا رسول سوالات کا جواب نہیں دیتا ۔
قیامت کے متعلق اکثر پوچھتے رہتے ، اور الجھاتے رہتے ، غرض یہ ہوتی کہ عوام کو بتایا جائے ، کہ دیکھو تمہارا رسول سوالات کا جواب نہیں دیتا ۔
قیامت کے متعلق اکثر پوچھتے کہ وہ کب ہے اللہ نے متعدد مواقع پر جواب دیا ہے ، کہ قیامت کا صحیح صحیح ، علم اللہ کو ہے ، کوئی فرد بشر نہیں جانتا ، کہ کب دنیا کا یہ نظام درہم برہم ہوجائے ۔
Read the full tafseer →187 اے پیغمبر ! یہ منکر آپ سے قیامت کو دریافت کرتے ہیں اور اس کا سوال کرتے ہیں کہ اس قیامت کا وقوع کب ہوگا اور اس کے قائم ہونے کا وقت کیا ہے آپ کہہ دیجئے کہ اس قیامت کا علم صرف میرے پروردگار ہی کے پاس ہے صرف وہی اس قیامت کو اس کے وقت پر ظاہر کردے گا وہ قیامت کا قائم ہونا آسمانوں اور زمین میں ایک بہت بھاری حادثہ اور واقعہ ہوگا یعنی اس قیامت سے تمام عال درہم برہم ہوجائے گا اس لئے اس کو ثقیل اور بھاری فرمایا وہ قیامت تم پر نہیں آئے گی مگر اچانک بیخبر ی میں آئے گی وہ لوگ آپ سے اس طرح اس قیامت کو دریافت کرتے ہیں گویا آپ اس کی تلاش میں ہیں اور آپ اس سے پورے پورے واقف ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ف 2۔ یعنی دوسرے کسی کو اس کی اطلاع نہیں۔
3۔ اور وہ ظاہر کرنا یہ ہوگا کہ اس کو واقع کردے گا اس وقت سب کو پوری خبر ہوجائے گی۔
4۔ بعض علوم اللہ نے اپنے خزانہ علم میں مکنون رکھے ہیں انبیاء کو بھی تفصیلا اطلاع نہیں دی اس آیت سے اور حدیث ما المسول عنہا باعلم من السائل۔ رواہ الشیخان۔ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یقین و تفصیل کے ساتھ قیامت کی اطلاع آپ سے بھی مخفی تھی۔
Read the full tafseer →لوگ قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ حالانکہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے :
211ـ : مرسی ، رسا کے معنی ہیں ۔ مضبوط ہوجانا ، گڑ جانا اور اس سے رواسی پہاڑوں کو کہا گیا ہے اور قدور رسیت ( السباء 34:13 ) ایک جگہ پر رکھی گئی دیگیں اور ایک جگہ قرآن کریم میں وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ0032 ( النازعات 79:32) ایک جگہ گاڑے گئے پہاڑ اور بجلی جلو سے ہے جس کے معنی ظاہر کردینے کے ہیں ۔ ساعۃ عربی میں تھوڑے سے زمانہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کی کوئی تحدید لغت میں نہیں کی گئی ۔ ہاں اہل نجوم رات دن کے چوبیسیویں حصہ کو ساعۃ کہتے ہیں اس لئے گھنٹہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن اسلامی اصطلاح میں قیامت…
Read the full tafseer →The verse 187 speaks of the third principle, that is, the life in the Hereafter (آخرَت). The revelation of this verse is related with the following incident reported by Ibn Jarir and ` Abd ibn Humaid on the authority of Qatadah.
The Quraish of Makkah once asked the Holy Prophet ﷺ by way of mockery as to when the Hour of doom was to occur of which he used to warn them so often. The verse was revealed in response to this question.
The Arabic word Sa` ah سَاعَۃ signifies a short period without specific number of minutes or hours, while in our calendar it is a single unit out of twenty four…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–188
145. The time of the advent of the Last Day is known to God alone Who knows the Unseen which, in fact, is not known even to the Prophet (peace be on him). Being human, he is not aware what the morrow has in store for him and his family. Had his knowledge encompassed everything - even things that lie beyond the ken of sense-perception and events that lie hidden in the future - he would have accumulated immense benefit and would have been able to avoid a great deal of loss owing to such foreknowledge. That being the case, it is sheer naivety to ask the Prophet about the actual time for the…
Read the full tafseer →