Al-A'raaf 7:186

Al-A'raaf · from ayah 186

7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ ؕ— وَیَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ۟مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِىَ لَهٗ ‌ؕ وَ يَذَرُهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whoever Allah sends astray - there is no guide for him. And He leaves them in their transgression, wandering blindly.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 23 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:186

جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس کو اللہ تعالیٰ گمراه کر دے اس کو کوئی راه پر نہیں ﻻ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس کو اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت نہیں سے سکتا، اور ایسے لوگوں کو اللہ (بےیارومددگار) چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے (کوئی) راہ دکھانے والا نہیں، اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں چھوڑے رکھتا ہے تاکہ (مزید) بھٹکتے رہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انھیں ان کی سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے، بھٹکتے پھرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں چھوڑ رہا ہے کہ سر ٹکراتے پھریں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن کو خدا گمراہ کردے ان کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ ان کو وہ ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(پس اصل بات یہی ہے کہ) جس کو اللہ ڈال دے گمراہی (کے گڑھے) میں اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا، اور اللہ چھوٹ دے رہا ہے ان کو، یہ اپنی سرکشی میں پڑے بھٹک رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس کو اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور وہ چھوڑ دے گا ان کو ان کی سر کشی میں اندھے ہو کر آگے بڑھتے ہوئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس شخص کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان گمراہوں کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

For those whom Allah lets go astray, there is no guide; and He will leave them in their transgression to stumble blindly.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For those whom Allah lets go astray, there is no one to guide, and He leaves them wandering blindly in their rebellion.

— Muhammad Taqi Usmani

For those whom Allah lets go astray, there is no one to guide, and He leaves them wandering blindly in their rebellion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whomsoever Allah sends astray, none can guide him; and He lets them wander blindly in their transgressions.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those whom Allah sendeth astray, there is no guide for them. He leaveth them to wander blindly on in their contumacy.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whoever Allah sends astray - there is no guide for him. And He leaves them in their transgression, wandering blindly.

— Saheeh International

No one can guide those whom God has caused to go astray and has left to continue blindly in their rebellion.

— Muhammad Sarwar

Whomsoever Allah causes to err, there is no guide for him; and He leaves them alone in their inordinacy, blindly wandering on.

— Muhammad Habib Shakir

Whomsoever Allah sendeth astray, no guide is then for him, and He letteth them wander perplexed in their exorbitance.

— Abdul Majid Daryabadi

To such as Allah rejects from His guidance, there can be no guide: He will leave them in their trespasses, wandering in distraction.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:186

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

میری نشانیاں اور تعلیم گمراہوں کے لئے بےسود ہیں جس پر گمراہی لکھ دی گئی ہے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ جا ہے ساری نشانیاں دیکھ لے لیکن سب بےسود۔ اللہ کا ارادہ جس کے لئے فتنے کا ہو تو اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میرا حکم تو یہی ہے کہ آسمان و زمین کی میری بیشمار نشانیوں پر غور کرو لیکن یہ ظاہر ہے کہ آیتیں اور ڈراوے بےایمانوں کے لئے سود مند نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 186–188

سورة الْاَعْرَاف 145 مطلب یہ ہے کہ قیامت کی ٹھیک تاریخ وہی بتاسکتا ہے جسے غیب کا علم ہو، اور میرا حال یہ ہے کہ میں کل کے متعلق بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ یا میرے بال بچوں کے ساتھ کیا کچھ پیش آنے والا ہے۔ تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اگر یہ علم مجھے حاصل ہوتا تو میں کتنے نقصانات سے قبل از وقت آگاہ ہو کر بچ جاتا اور کتنے فائدے محض پیشگی علم کی بدولت اپنی ذات کے لیے سمیٹ لیتا پھر یہ تمہاری کتنی بڑی نادانی ہے کہ تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ قیامت کب آئے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا (پھر غم لاحاصل) اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے (تاکہ ایک دفعہ ہی پوری سزا دے دے) لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا، آپ فرما دیجئے کہ اس کا (یہ) علم (کہ کب واقع ہوگی) صرف میرے رب ہی کے پاس ہے (دوسرے کسی کو اس کی اطلاع نہیں) اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا (اور وہ ظاہر کرنا یہ ہوگا کہ اس کو واقع کردے گا اس وقت سب کو پوری خبر ہوجائے گی اس کے قبل ویسے کسی کو بتلانے کے طور پر بھی اس کو ظاہر نہ کیا جائے گا کیونکہ) وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۔ اوپر والا ٹکڑا جیسا کہ واضح ہے، حسرت کے انداز میں ہے۔ اسی مضمون کی مزید تاکید ہے کہ جن لوگوں کی سمجھ میں اتنی واضح بات نہیں آرہی ہے درحقیقت وہ سنت الیہی کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور جو لوگ سنت الٰہی کی زد میں آ چکے ہوں ان کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسے لوگ اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہی رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 185–186

مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر بھی اگر یہ غور کریں تو یقینا یہ اللہ پر ایمان لے آئیں اس کے رسول کی تصدیق اور اس کی اطاعت اختیار کرلیں اور انہوں نے جو اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں اور اس بات سے ڈریں کہ انہیں موت اس حال میں آجائے کہ وہ کفر پر قائم ہوں۔ 185۔ 2 حَدِ یْث، سے مراد یہاں قرآن کریم ہے۔ یعنی نبی کریم ﷺ کے انداز و تہدید اور قرآن کریم کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان سے بڑھ کر انہیں ڈرانے والی چیز کیا ہوگی جو اللہ کی طرف سے نازل ہو اور پھر یہ اس پر ایمان نہ لائیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 184–187

95: مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کو پیغمبر ماننے کے بجائے کبھی معاذاللہ آپ کو مجنون قرار دیتے، کبھی شاعر یا جادوگر کہتے تھے، یہ آیت بتارہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایسے بےسروپا تبصرے وہی کرسکتا ہے جو بےسوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو، اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کرلیں تو ان پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب بات قدرے ایک مختصر وقفے کے لیے رک جاتی ہے اور اس وقفے میں اللہ کی اس سنت کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے۔ جو اللہ نے ہدایت و ضلالت کے لیے اسی دنیا میں جاری کی ہوئی ہے۔ یعنی اس قانون کے مطابق کہ جو شخص ہدایت کے لیے جدوجہد کرے گا ، وہ ہدایت پائے گا ، طلب صادق کے ساتھ اور جو شخص منہ موڑے گا اور دلائل ایمان اور اشارات ہدایت کو پکڑنے کی سعی نہ کرے گا ، گمراہ ہوجائے گا۔ یہاں یہ اشاہ ان لوگوں کے حالات کی مناسبت سے کیا جا رہا ہے ، جن کو قرآن خطاب کر رہا تھا اور قرآن کا یہ انداز اور خاص طریق کار ہے کہ قرآن کریم ایک انفرادی واقعہ کے بیان کے بعد اس سے اصول عامہ اخذ کرتا ہے اور اسے بطور اٹل سنت الہیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 ہدایت و ضلالت، ہر چیز خدا کے قبضہ میں ہے۔ وہ نہ چاہے تو سارے سامان ہدایت کے رکھے رہ جائیں۔ آدمی کہیں سے بھی منتفع نہ ہو ہاں عادۃً وہ جب ہی ہدایت کی توفیق دیتا ہے جب بندہ خود اپنے کسب و اختیار سے اس راستہ پر چلنا چاہے۔ باقی جو دیدہ و دانستہ بدی اور شرارت ہی کی ٹھان لے تو خدا بھی راستہ دکھلانے کے بعد اسی حال میں اسے چھوڑ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 186 مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلاَ ہَادِیَ لَہٗ ط جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہوجائے ‘ پھر اس کے بعد اسے کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 185–186

185 یہاں حدیث سے مراد قرآن کریم ہے یعنی ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان کے اخروی انجام سے متنبہ کردیا ہے جس سے انہیں یقیناً دو چار ہونا پڑے گا اور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں لہذا ان کو جلد از جلد اس رسول پر اور اس کتاب پر ایمان لانا چاہیے ایسا نہ ہو کہ تم اپنی سوچ بچار میں یا اس کی مخالفت میں لگے رہو اور یکدم تمہیں موت آجائے تو پھر افسوس اور حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

269 ۔ (اور گرفت ہمیشہ فورا ہی نہیں کرتا) (آیت) ” من یضلل اللہ “۔ اللہ کی طرف سے یہ اضلال، جیسا کہ بارہا پہلے آچکا ہے، بندہ کے عدم طلب ہدایت کے نتیجہ کے طور پر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 183–186

واملی۔۔۔ متین مجرموں اور فاسقوں اور جھٹلانے والوں اور مجرموں کو بساً اوقات فوراً سزا نہیں ملتی، بلکہ دینوی عیش و فراخی کے دروازے کھولدیئے جاتے ہیں، حتی کہ حدائی سزا سے بےخوف و بےفکر ہو کر ارتکاب معاصی پر اور زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں حتی کہ وہ انتہائی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں، یہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے وہ حماقت و سفاہت سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے اوپر مہربانی ہورہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من یضلل اللہ فلا ہادی لہ ویذرہم فی طغیانہم یعمہون : جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ پر لانے والا نہیں اور اللہ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ حقیقت میں ان کی روگردانی کی علت یہ ہے کہ من یضلل اللّٰہ فلا ہادی لہ جس کو اللہ گمراہ چھوڑ دے اس کو راہ پر لانے والا کوئی نہیں وَیَذَرَہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یََعَمَہُوْنَ یمعہون یذرہم کی ضمیر مفعول سے حال ہے۔ ابن جریر نے قتادہ وغیرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں عرض کیا آپ ہمارے قرابت دار ہیں ہم کو بطور اشارہ بتا دیجئے کہ قیامت کب آئے گی ابن جریر وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ حمل بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(186) اور جسے وہ اپنے دین سے گمراہ کر دے تو اسے پھر اس کے دین کو راستہ کوئی بتانے والا نہیں اور وہ ان کے کفر و انکار اور ان کی گمراہیوں میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ۔۔ : ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کا قانون ہے کہ وہ گمراہ اس کو کرتا ہے جو نیکی کا واضح راستہ چھوڑ کر بدی کا راستہ اختیار کرلیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے اس کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (25، 26) اور سورة اعراف (178، 179)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

بیان فرمایا کہ ان کے اعراض کی وجہ یہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں گمراہ کردیا ہے۔ یہ قدریہ کا رد ہے۔ آیت : ویذرھم فی طغیانھم یہ جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ فاء اور اس کے مابعد کے محل پر محمول کرے ہوئے اسے جزم کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ یعمھون یعنی وہ حیرت زدہ رہیں۔ اور بعض نے کہا ہے : وہ متردد ہیں۔ سورة البقرہ کی ابتداء میں پوری بحث گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے جابیہ (ایک مقام) میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ان کے آگے ایک نوجوان نے فارسی زبان میں ان سے کچھ کہا تو عمر ؓ نے ترجمہ کرنے والے سے فرمایا اس کی (بات کو) ترجمہ کرو۔ یہ کیا کہتا ہے ؟ تو ترجمہ کرنے والے نے کہا کہ یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرے گا عمر ؓ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو نے جھوٹ کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو پیدا کیا اگر وہ چاہے تجھ کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ مَنْ : جس کو ] [ يُّضْلِلِ : گمراہ کرے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فَلَا هَادِيَ : تو کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں ہے ] [ لَهٗ ۭ : اس کے لیے ] [ وَيَذَرُهُمْ : اور وہ چھوڑ دیتا ہے ان کو ] [ فِيْ طُغْيَانِهِمْ : ان کی سرکشی میں ] [ يَعْمَهُوْنَ : بھٹکتے ہوئے ] نوٹ ۔ 2: آیت نمبر ۔ 2:7 کے نوٹ ۔ 3 میں ہم سماعت اور بصارت کی وضاحت کرچکے ہیں ۔ لیکن مناسب ہے کہ اس مقام پر ہم اس بات کو ذرا وضاحت سے سمجھ لیں کیونکہ آیت ۔ 179 میں اس Process کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے گزر کر انسان فیصلہ کرتا ہے اور اپنے اختیار کو استعمال کرتا ہے ۔ مذکورہ نوٹ ۔ 3 میں ہم سمجھ چکے ہیں کہ جب آنکھ اپنی حاصل کردہ معلومات کو ذہن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 185–187

قیامت کے آنے کا وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے وہ اچانک آجائے گی چونکہ نبی اکرم ﷺ توحید کی دعوت کے ساتھ قیامت کے بارے میں بھی خبر دیتے تھے اور اس کے احوال و اھوال بتاتے تھے اس لیے مشرکین قیامت کے بارے میں بھی طرح طرح کی باتیں نکالتے تھے وہ کہتے تھے کہ جب گل سڑ کر ہماری ہڈیوں کا چورا چورا ہوجائے گا تو کیا ہم دو بارہ زندہ ہوں گے ؟ اور اس کی تکذیب کے لیے یوں بھی کہتے تھے : (مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ) (کہ قیامت آنے کا جو وعدہ ہے کب پورا ہوگا) اس کا مطلب وقت کا پوچھنا نہ تھا بلکہ وقوع کا انکار کرنا تھا۔ امتداد اجل سے عدم وقوع اور عدم امکان پر استدلال کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 184–186

تہدید بر عدم نظر وفکر وتذکریر موت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکرو ما بصاحبہم من جنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ویذورھم فی طغیانھم یعمھون (ربط) گزشتہ آیات میں گمراہوں اور آخرت سے غافلوں کی تہدید وتوبیخ کا ذکر تھا اب ان آیات میں ان کی غفلت اور گمراہی کے سبب کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ غور وفکر سے کام نہیں لیتے اس لیے کبھی نبوت رسالت کے بارے میں ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے اور کبھی خداوند ذوالجلال کی الوہیت اور ربوبیت میں شبہ پیش آتا ہے اگر یہ لوگ حضور پر نور ﷺ کے حال اور معجزات میں غور کرتے تو آپ کی نبوت و رسالت میں ان کو شبہ نہ ہوتا اور اگر آسمان و زمین کی خلقت میں غور کرتے تو خدا کی وحدانیت میں کوئی شبہ نہ رہتا ان کو چاہئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 184–186

181: یہ منکرین کے لیے زجر ہے۔ “ اَ وَ لَمْ یَنْظُرُوْا الخ ” یہ زمین و آسمان کی کتاب عبرت کے صفحات ان کے سامنے کھلے ہیں کیا وہ ان میں غور نہیں کرتے۔ یہ تکوینی دلائل اس قدر واضح ہیں کہ ان کو دیکھ کر لامحالہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین ہوجاتا ہے اور کیا نہوں نے کبھی اس میں غور نہیں کیا کہ کہیں ان کی اجل موت یا اجل عذاب قریب آچکی ہو۔ اگر اب وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ جو لوگ قرآن جیسی سچی اور صدق محض کتاب پر ایمان نہیں لاتے جو ان کی نجات و فلاح کی ضامن ہے۔ اصل میں ان کی فطرتیں مسخ اور ان کے سوچنے سمجھنے کی قوتیں باطل ہوچکی ہیں۔ “ اذا الم یؤمنوا بھذا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 182–186

ربط آیات گزشتہ درس میں عہدو یمان توڑنے والوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کا بیان کیا نیز فرمایا کہ جو لوگ غفلت اختیار کرتے ہیں اس کا نتیجہ بالا نتہا جہنم ہوگا پھر اللہ نے توحید اور ایمان کے سلسلے میں اللہ کے اسمائے پاک اور صفات کے ساتھ اسے پکارنے کا حکم دیا اور اس میں کجی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ کجی کرنے والے مجرم ہوں گے اللہ تعالیٰ کے خاص ناموں کو اللہ کے علاوہ کسی غیر پر بولنے ان کا غلط مطلب لینے اور غلط مقام پر استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا کہ ایسا کرنا جرم ہے پھر اللہ نے آخری امت کے لوگوں کی توصیف فرمائی کہ اس امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو راہ حق کی ہدایت دیتے رہیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَلَا ہَادِيَ لَہٗ۝ 0 ۭ وَيَذَرُہُمْ فِيْ طُغْيَانِہِمْ يَعْمَہُوْنَ۝ 186 ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 182–186

ترکیب : والذین الخ مبتداء سنستدرجہم خبر من حیث اس سے متعلق املی مبتداء محذوف کی خبر اے انا املی اور ممکن ہے کہ نستدرج پر معطوف ہو کیدی اسم ان متین خبر مابصاحبھم مانا فیہ اور کلام میں حذف تقدیرہ اولم یتفکروا فی قلوبہم مابہ جنۃ اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لئے ہو اور ممکن ہے کہ بمعنی الذی ہو۔ وان عسٰی جائز ہے کہ ان مخففہ ہو مثقلہ سے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں محل جر میں ہے عطفا علی ملکوت ان یکون عسٰی کا فاعل اور یکون کا فاعل ضمیر اور قد اقترب الخ خبر۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں یہ کہہ کہ ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جن و انسان پیدا کئے ہیں۔ اخیر میں یہ بھی فرمایا تھا وممن خلقنا امۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اگلی آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے لیے تسلی بھی ہے اور مشرکین مکہ کے لیے آخری وارننگ بھی۔ ارشاد فرمایا : مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلاَ ھَادِیِ لَہٗط وَیَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (الاعراف : 186) ” جن کو اللہ گمراہ کر دے ان کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ وہ ان کو ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے “۔ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور مشرکین کو وارننگ آنحضرت ﷺ کی مسلسل اور بےپناہ تبلیغی کاوشوں کے باوجود بھی جب مشرکین مکہ ایمان نہیں لاتے تھے تو آپ پر سخت انقباض کی کیفیت طاری ہوتی آپ نہایت مضمحل اور پریشان ہوجاتے اور کبھی کبھی آپ کو یہ فکر مندی ہوتی کہ شائد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 184–186

فہم القرآن ربط کلام : نبی معظم ﷺ جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھاتے اور بتلاتے تو وہ دیگر الزامات کے ساتھ آپ کو مجنوں اور پاگل کہتے تھے جس کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار نبی محترم ﷺ کو درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر مجنون کہتے تھے۔ 1۔ ایک الٰہ تمام لوگوں کی مشکلات کس طرح حل کرسکتا ہے۔ 2۔ کفار کا کہنا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کا کب انکار کرتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ہمارے معبودوں کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ 3۔ نبی اس لیے مجنون ہے کہ توحید کے سوا کوئی اور بات نہیں کرتا۔ ہر وقت توحید، توحید کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ 4۔ معاشرہ اور برادری میں اس کا بڑا مقام اور احترام تھا مگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

گمراہ راہ پر نہیں آسکتا : آیت 186: مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَـلَا ھَادِیَ لَہٗ (جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا) یعنی اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دے۔ وَیَذَرُھُمْ (اور وہ ان کو چھوڑ دیتا ہے) قراءت : عراقی نے یا سے پڑھا ہے اور حمزہ وعلی نے محل فلا ھادی لہ پر عطف کر کے یذرھم جزم سے پڑھا ہے۔ گویا عبارت اس طرح ہے من یضلل اللّٰہ لایھدہ احد ویذرھم رفع کی صورت میں جملہ مستانفہ ہے اور وہ یذرھم ہے باقی قراء نے نذرھم پڑھا ہے۔ فِیْ طُغْیَانِھِمْ (ان کی گمراہی میں) اپنے کفر میں یَعْمَھُوْنَ (وہ بھٹکتے پھریں) حیران ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

186 (من یضلل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم) اہل بصرہ اور عاصم نے یاء کے ساتھ اور راء کے رفعہ کے ساتھ پڑھا ہے اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یاء کے ساتھ اور راء کے جزم کے ساتھ اور راء کا جزم ” یضلل “ پر عطف کی وجہ سے ہوگا اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ اور راء کے رفعہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ نئی کلام ہے۔ (فی طغیانھم یعمھون) اپنی سرکشی میں متردد اور متحیر ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 184–186

184۔ 186۔ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابوالشیخ میں قتادہ سے روایت ہے کہ ایک روز صفا پہاڑ پر چڑھ کر آنحضرت نے اہل مکہ کو بلایا اور اسلام لانے کی نصیحت ان کو کی ایک نے ان میں سے آنحضرت کو دیوانہ کہا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ اہل مکہ خود دیوانے اور ناسمجھ ہیں جو نبی کو دیوانہ بتلاتے ہیں جن بتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں نہ انہوں نے کوئی زمین پیدا کی نہ کوئی آسمان پیدا کیا خدا کی پیدا کی ہوئی زمین اور آسمان کے عجائبات پر غور کرنے سے خود بخود معلوم ہوتا ہے کہ وہی وحدہ لاشریک عبادت کے قابل ہے سوا اس کے اور کسی کی عبادت دیوانہ پن ہے اور نبی وقت جن باتوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 179–193

آیت 179 اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 185–186

کائنات پر دعوت فکر قول باری ہے اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض وما خلق اللہ من شئی ۔ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا) آیت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کائنات اس کی کاریگری اور حسن انتظام پر غور کرنے، اس کی ذات پر استدلال کرنے اور اس معاملے پر تدبر و تفکر سے کام لینے پر ابھارا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام باتیں اللہ کی ذات، اس کی حکمت، اس کی مہارت اور اس کے عدل پر دلالت کرتی ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کی پیدا کی ہوئی تمام چیزوں میں اس کی ذات کی نشاندہی موجود ہے اور یہ تمام چیزیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 185–186

260 کائنات کی کھلی کتاب میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی آسمانوں اور زمین کے اس حکمتوں بھرے نظام میں غور و فکر نہیں کیا تاکہ ان کی آنکھیں کھلتیں اور ان کو نظر آتا۔ کہ یہ حکمتوں بھری کائنات نہ تو بغیر کسی خالق و موجد کے وجود میں آسکتی ہے اور نہ اس کے بغیر یہ ایسی بےمثال باقاعدگی اور اتنے کمال نظم و نسق کے ساتھ چل سکتی ہے۔ اور نہ ہی یہ سب کچھ عبث اور بےمقصد ہوسکتا ہے۔ سو کائنات کی یہ کھلی کتاب اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ پیغمبر کی دعوت سراسر حق و صدق ہے۔ سو اگر یہ لوگ اس کائنات میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیں تو ان کو نظر آئیگا کہ جو کچھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 180–186

اللہ تعالیٰ کا طریق کار تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 182–188

رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188 اسرار و معارف : جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔ استدرج : استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے مگر اس کا قانون یہ بھی ہے کہ وہ گمراہ اسی کو کرتا ہے ج ونی کی کا واضح راستہ چھوڑکر بدکاری کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:186) یذرہم۔ وہ چھوڑ دیتا ہے ان کو ۔ وذر سے مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ طغیانھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گمراہی۔ سرکشی۔ نافرمانی۔ یعمھون۔ وہ سرگردان و گمراہ پھرتے ہیں۔ عمہ۔ مصدر۔ (باب فتح ۔ سمع) عمہ سرگردانی عمہ۔ عامہ۔ سرگردان و حیران۔ متردد۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 184–186

تشریح آیت نمبر 184 تا 186 وقت کے دھارے کے خلاف جب بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے جو قائم شدہ نظام وقت سے ٹکراتی ہے اور ان لوگوں کے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے جنہوں نے مذہب کے نام پر دوسروں کو بیوقوف بنایا ہوا ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس شخص کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں جو اس دعوت کو لے اٹھتا ہے تاکہ لوگ اس کی باتوں کو دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظرا نداز کردیں ۔ یہی صورت حال اس وقت پیش آئی جب خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے بتوں کو پوجنے والے اور رسموں کو مذہب کا نام دینے والوں کو للکارا۔ حضرت قتاوہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے کوہ صفاہ پر چڑھ کر قریش کے تمام قبیلوں کو ایسے الفاظ سے پکارا جیسے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 185–187

قیامت کب ہے اور علم غیب کا بیان شان نزول : قریش نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ ہم کو یہ تو بتلایئے کہ جس قیامت سے آپ ہم کو ڈراتے ہیں آخر وہ قیامت کب آئے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ قیامت ایسی سخت چیز ہے کہ انسان کی تو اصل کیا ہے، اس کا آنا زمین و آسمان سب پر بھاری ہے۔ جب وہ آوے گی عالم علوی و عالنٓم سفلی سوا ذات پاک اس وحدہ لا شریک کے، سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ اس لئے ایسی بڑی چیز کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اگر اس کا وقت معلو ہوتا تو اس وقت کو قریب آتا دیکھ کر زمین و آسمان اور فرشتے کوئی اپنے حال پر باقی نہ رہتا اور انتظام…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اضلال اللہ کی جانب جو منسوب ہے تو اس لئے کہ تمام اشیاء کا خالق حقیقی وہی ہے ورنہ مقصود یہ نہیں کہ وہ تبارک وتعالیٰ گمراہی کو پسند کرتا ہے ، غرض یہ ہے کہ ان لوگوں سے توفیق ہدایت چھن جاتی ہے ، یہ ایک پیرایہ بیان ہے ۔ حل لغات : قلوب : سے مراد قرآن کی طرف عقل وفکر ہے چاہے وہ دماغ ہو چاہے دل ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

186 جس کسی شخص کو اللہ تعالیٰ بےراہ چھوڑ دے اور اپنی رہنمائی سے محروم کردے تو اس کی کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں اور اللہ تعالیٰ ان منکروں کو ان کی سرکشی ہی میں حیران و سرگرداں چھوڑے رکھتا ہے۔ یعنی جب کسی شخص کی سرکشی حد سے تجاوز ہوجاتی ہے تو حضرت حق تعالیٰ کی توفیق دست کش ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان گمراہی میں مارا مارا پھرتا ہے اور کوئی رہنمائی میسر نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 185–186

ف 1۔ حاصل یہ کہ نہ دین حق کے موصل یعنی دلیل کی فکر ہے اور نہ اس فکر فی الموصل کے معین یعنی استحضار موت کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قانون الٰہی کے مطابق گمراہ ہونے والوں کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں : 210: اللہ کا یہ قانون نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبردستی ہدایت دے اور کسی دوسری ہستی میں یہ طاقت نہیں کہ لوگوں کے دل بدل دے ۔ یعنی جس کی ضلالت پسندی اور ہت دھرمی کے سبب سے اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دئیے ہوں اور جسے اللہ ہی نے ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا تو اب کون ہے جو اس کو راہ راست پر لاسکے ؟ جس شخص نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس کے لئے وہ اسباب فراہم کر دئیے جن سے سچائی کے خلاف اس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The preceding verses spoke of the obstinate ignorance of the disbelievers who rejected the true Faith, despite all the clear signs given to them by Allah. This could be a source of grief to the Holy Prophet ﷺ as he was highly considerate and the greatest well-wisher of the mankind. The verse 186 provides him with a consolation saying that whomsoever Allah leaves wandering in his ignorance and lets him go on with his evil deeds can never be guided by any one and Allah leaves him at the mercy of his abject desires. That is to say, the Holy Prophet ﷺ has done his duty by conveying the message of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 186–188

145. The time of the advent of the Last Day is known to God alone Who knows the Unseen which, in fact, is not known even to the Prophet (peace be on him). Being human, he is not aware what the morrow has in store for him and his family. Had his knowledge encompassed everything - even things that lie beyond the ken of sense-perception and events that lie hidden in the future - he would have accumulated immense benefit and would have been able to avoid a great deal of loss owing to such foreknowledge. That being the case, it is sheer naivety to ask the Prophet about the actual time for the…

Read the full tafseer →