شیطانی چکر
اللہ تعالیٰ جل شانہ کی اتنی بڑی وسیع بادشاہت میں سے اور زمین و آسمان کی ہر طرح کی مخلوق میں سے کسی ایک چیز نے بھی بعد از غور وفکر انہیں یہ توفیق نہ دی کہ یہ باایمان ہوجاتے ؟ اور رب کو بےنظیر و بےشبہ واحد و فردا مان لیتے ؟ اور جان لیتے کہ اتنی بڑی خلق کا خالق اتنے بڑے ملک کا واحد مالک ہی عبادتوں کے لائق ہے ؟ پھر یہ ایمان قبول کرلیتے اسی کی عبادتوں میں لگ جاتے اور شرک و کفر سے یکسو ہوجاتے ؟ انہیں ڈر لگنے لگتا کہ کیا خبر ہماری موت کا وقت قریب ہی آگیا ہو ؟ ہم کفر پر ہی مرجائیں تو ابدی سزاؤں میں پڑجائیں ؟ جب انہیں اتنی نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد، اس قدر باتیں سمجھا دینے کے بعد بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
سورة الْاَعْرَاف 143
رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ آپ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے، انہی کے درمیان رہے بسے، بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوئے۔ نبوت سے پہلے ساری قوم آپ کو ایک نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ آدمی کی حیثیت سے جانتی تھی۔ نبوت کے بعد جب آپ نے خدا کا پیغام پہنچانا شروع کیا تو یکایک آپ کو مجنون کہنے لگی۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم جُنون ان باتوں پر نہ تھا جو آپ نبی ہونے سے پہلے کرتے تھے بلکہ صرف انہی باتوں پر لگایا جارہا تھا جن کی آپ نے نبی ہونے کے بعد تبلیغ شروع کی۔ اسی وجہ سے فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی سوچا بھی ہے، آخر ان باتوں میں کونسی بات جنون کی ہے ؟ کونسی بات بےتکی، بےاصل اور غیر…
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں ان کو دو چیزوں کی طرف دعوت فکر دی گئی ہے، اول اللہ تعالیٰ کی مخلوقات آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بیشمار مصنوعات عجیبہ میں غور و فکر۔ دوسرے اپنی مدت عمر اور فرصت پر نظر۔
مصنوعات قدرت میں ذرا بھی عقل و فہم کے ساتھ غور کیا جائے تو ایک موٹی سمجھ والے انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کی شان قدرت کی معرفت اور نظارہ ہونے لگتا ہے، اور ذرا گہری نظر کرنے والے کے لئے تو عالم کا ذرہ ذرہ قادر مطلق اور حکیم کی حمد و ثنا کا تسبیح خوان نظر آنے لگتا ہے، جس کے بعد اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ایک فطری تقاضہ بن جاتا ہے۔
اور اپنی مدت عمر میں غور و فکر کا یہ نتیجہ ہے کہ جب انسان یہ سمجھ لے کہ موت کا وقت…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ۔
اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آسمان و زمین کے نظام اور اللہ تعالیی کی مخلوقات پر غور کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ انہیں جو عذاب اور قیامت سے ڈرا رہا ہے وہ دیوانہ اور خبطی نہیں ہے بلکہ یہ خود اندھے اور بہرے ہیں۔ محمد ﷺ تو جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی صدا اس کائنات کے گوشے گوشے سے اٹھ رہی ہے۔ جو شخص بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر بھی اگر یہ غور کریں تو یقینا یہ اللہ پر ایمان لے آئیں اس کے رسول کی تصدیق اور اس کی اطاعت اختیار کرلیں اور انہوں نے جو اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں اور اس بات سے ڈریں کہ انہیں موت اس حال میں آجائے کہ وہ کفر پر قائم ہوں۔
185۔ 2 حَدِ یْث، سے مراد یہاں قرآن کریم ہے۔ یعنی نبی کریم ﷺ کے انداز و تہدید اور قرآن کریم کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان سے بڑھ کر انہیں ڈرانے والی چیز کیا ہوگی جو اللہ کی طرف سے نازل ہو اور پھر یہ اس پر ایمان نہ لائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–187
95: مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کو پیغمبر ماننے کے بجائے کبھی معاذاللہ آپ کو مجنون قرار دیتے، کبھی شاعر یا جادوگر کہتے تھے، یہ آیت بتارہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایسے بےسروپا تبصرے وہی کرسکتا ہے جو بےسوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو، اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کرلیں تو ان پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہوجائے۔
Read the full tafseer →اس عجیب کائنات کے بارے میں یہ ایک دوسری کھڑکی ہے اور اس عظیم اور وسیع و عریض کائنات کو کھلی آنکھوں اور بیدار دل کے ساتھ دیکھنے کی دعوت ہے۔ اگر غور سے اس عظیم کائنات ہی پر نظر ڈال لی جائے تو انسانی فطرت جہالت کے جن دبیز پردوں کے نیچے گم ہے وہ باہر نکل آئے اور انسانی شخصیت کے سامنے حق کی راہیں کھل سکتی ہیں اس کائنات میں تخلیق کی عجیب و غریب کارفرمائیاں اور ایسے کارنامے جو معجز ہیں اور جو قادر مطلق اور وحدہ لاشریک کی ذات پر دال ہیں۔ کیا وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر غور نہیں کرتے ، جبکہ اس کائنات میں بیشمار قابل غور چیزیں ہیں جن پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ، انسانی فکر عاجز رہ جاتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–185
1 یعنی آخر آیات اللہ کو جھٹلانے اور اس کے بدانجام سے غافل ہوجانے کا سبب ہے۔ ان آیات کا لانے والا معاذ اللہ کوئی بےعقل و مجنون نہیں۔ وہ ساری عمر تمہارے پاس رہا، اس کے ہر چھوٹے بڑے حال سے تم واقف ہو۔ اس کی عقل و دانش اور امانت و دیانت پہلے سے مسلم و معروف ہے، جس کے پاس سے لایا وہ تمام جہان کا مالک، شہنشاہ مطلق اور ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے نہایت ہی محکم و مضبوط نظام سلطنت بلکہ ہر چھوٹی بڑی چیز میں جو اس نے پیدا کی ہے غور کرو تو یہ " آیات تکوینیہ "، " آیات تنزیلیہ " کی تصدیق کریں گی پھر آیات اللہ کی تسلیم میں کیا عذر باقی ہے۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ شاید ان کی موت و ہلاکت کا وقت قریب آ…
Read the full tafseer →آیت 185 اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍلا وَّاَنْ عَسآی اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُہُمْ ج۔
اس سے پہلے اسی سورت میں ہم پڑھ آئے ہیں : وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ج آیت 34 اور ہر قوم کے لیے ایک وقت معین ہے۔ جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ لہٰذا یہ لوگ کیونکر بےفکر ہوسکتے ہیں !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
185 یہاں حدیث سے مراد قرآن کریم ہے یعنی ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان کے اخروی انجام سے متنبہ کردیا ہے جس سے انہیں یقیناً دو چار ہونا پڑے گا اور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں لہذا ان کو جلد از جلد اس رسول پر اور اس کتاب پر ایمان لانا چاہیے ایسا نہ ہو کہ تم اپنی سوچ بچار میں یا اس کی مخالفت میں لگے رہو اور یکدم تمہیں موت آجائے تو پھر افسوس اور حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →266 ۔ (کہ اس غوروفکر سے انہیں توحید کا علم استدلالی حاصل ہوجاتا)
267 ۔ کہ اس مراقبہ استحضار موت سے احتمال عذاب سے ڈرتے اور اس سے بچنے کی فکر کرتے) ۔
268 ۔ (کہ سب سے زیادہ مؤثر وبلیغ کلام تو یہ ہے) بعدہ میں ضمیرہ قرآن مجید ہی کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–186
واملی۔۔۔ متین مجرموں اور فاسقوں اور جھٹلانے والوں اور مجرموں کو بساً اوقات فوراً سزا نہیں ملتی، بلکہ دینوی عیش و فراخی کے دروازے کھولدیئے جاتے ہیں، حتی کہ حدائی سزا سے بےخوف و بےفکر ہو کر ارتکاب معاصی پر اور زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں حتی کہ وہ انتہائی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں، یہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے وہ حماقت و سفاہت سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے اوپر مہربانی ہورہی ہے۔
Read the full tafseer →اولم ینظروا فی ملکوت السموات والارض وما خلق اللہ من شی وان عسی ان یکون قد اقترب اجلہم فبای حدیث بعدہ یومنون : اور کیا انہوں نے آسمانوں کی اور زمین کی اور ان دوسری چیزوں کی حکومت پر جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے غور نہیں کیا اور اس بات پر بھی غور نہیں کیا کہ ممکن ہے ان کی اجل قریب ہی آپہنچی ہو۔ پھر قرآن کے بعدکس بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔
وَاَنْ عَسٰی کا عطف ملکوت پر ہے انمصدری ہے یا خفیفہ ہے اور ضمیر شان اس کا اسم ہے اسی طرح ان یکون میں انمصدری ہے یا خفیفہ۔ دونوں جگہ استفہام انکاری ہے اور تعجب پر دلالت کر رہا ہے کلام کا مطلب اس طرح ہے تعجب ہے یہ لوگ قرآن اور پیغمبر ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور…
Read the full tafseer →(185) جسے یہ لوگ سمجھتے ہیں، اہل مکہ نے سورج، چاند، تارے، بادل، اور زمین میں جو کچھ درخت، پہاڑ، سمندر اور جانور ہیں اور دوسری تمام چیزوں میں جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، غور نہیں کیا اور اس بات میں کہ اللہ کی طرف سے ان کی ہلاکت و بربادی قریب آپہنچی ہے۔
یہ لوگ اگر کتاب اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو اس کے بعد پھر کس کتاب پر ایمان لائیں گے۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ : ”مَلَكُوْتِ“ یہ ”مُلْکٌ“ کے لفظ میں واؤ اور تاء کا اضافہ معنی میں وسعت کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”عظیم الشان سلطنت“ کیا گیا ہے۔ دلائل کونیہ یعنی اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان سلطنت سے بھی رسول اللہ ﷺ کے سچے نبی ہونے کا ثبوت مل رہا ہے، کیونکہ آپ ﷺ جس توحید کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آسمان و زمین کی عظیم الشان سلطنت اور پوری کائنات کی ایک ایک چیز بلکہ ایک ایک ذرے سے ثابت ہو رہی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ) کے الفاظ کے ساتھ اس سلطنت میں جو بھی بڑی سے بڑی یا چھوٹی سے چھوٹی چیز پیدا فرمائی ہے اس کی طرف نگاہ کرنے کی بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 185
قولہ تعالیٰ : آیت : اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔
قولہ تعالیٰ : اولم ینطروا یہ قرآن کریم کی آیات میں نظر وفکر کرنے سے ان کے اعراض کرنے پر اظہار تعجب ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کو پہچان سکتے، جیسا کہ ہم نے انہیں سورة البقرہ میں بیان کیا ہے۔ اور ملکوت مبالغہ میں سے ہے۔ اور اس کا معنی ہے وسیع مملکت، عظیم سلطنت۔
مسئلہ نمبر : 2
جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں نظر و فکر کرنا اور اس کی مخلوقات سے عبرت حاصل کرنا واجب ہے انہوں نے اس آیت اور اس کی مثل دیگر آیات سے استدلال کیا ہے مثلا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل…
Read the full tafseer →(1) امام احمد، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میں جب ہم ساتویں آسمان کے آخر تک پہنچے میں نے اپنے اوپر دیکھا اچانک میں نے گرج، چمک، بجلی اور کڑک کو دیکھا پھر فرمایا میں ایک ایسی قوم پر آیا کہ ان کے پیٹ گھروں کی طرح تھے اور ان میں سانپ تھے جو ان کے پیٹوں کے باہر نظر آرہے تھے میں نے کہا اے جبرئیل یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ لوگ سود کھانے والے ہیں۔ پھر (فرمایا) جب میں آسمان سے دنیا کی طرف اترا تو میں نے نیچے کی طرف دیکھا تو وہاں شور و شغب دھواں اور مختلف آوازیں تھیں میں نے کہا اے جبرئیل یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ شیاطین ہے جو بنی آدم کی آنکھوں کو…
Read the full tafseer →اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَنْظُرُوْا : انہوں نے نظر نہیں ڈالی ] [ فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی بادشاہت میں ] [ وَمَا : اور اس میں جو ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مِنْ شَيْءٍ ۙ : کسی چیز سے ] [ وَّاَنْ : اور یہ کہ ] [ عَسٰٓي : ہوسکتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ : قریب آچکا ہو ] [ اَجَلُهُمْ ۚ : ان کے خاتمے کا وقت ] [ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ : تو کون سی بات پر ] [ بَعْدَهٗ : اس کے بعد ] [ يُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان لائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–187
قیامت کے آنے کا وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے وہ اچانک آجائے گی
چونکہ نبی اکرم ﷺ توحید کی دعوت کے ساتھ قیامت کے بارے میں بھی خبر دیتے تھے اور اس کے احوال و اھوال بتاتے تھے اس لیے مشرکین قیامت کے بارے میں بھی طرح طرح کی باتیں نکالتے تھے وہ کہتے تھے کہ جب گل سڑ کر ہماری ہڈیوں کا چورا چورا ہوجائے گا تو کیا ہم دو بارہ زندہ ہوں گے ؟ اور اس کی تکذیب کے لیے یوں بھی کہتے تھے : (مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ) (کہ قیامت آنے کا جو وعدہ ہے کب پورا ہوگا) اس کا مطلب وقت کا پوچھنا نہ تھا بلکہ وقوع کا انکار کرنا تھا۔ امتداد اجل سے عدم وقوع اور عدم امکان پر استدلال کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
تہدید بر عدم نظر وفکر وتذکریر موت
قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکرو ما بصاحبہم من جنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ویذورھم فی طغیانھم یعمھون
(ربط) گزشتہ آیات میں گمراہوں اور آخرت سے غافلوں کی تہدید وتوبیخ کا ذکر تھا اب ان آیات میں ان کی غفلت اور گمراہی کے سبب کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ غور وفکر سے کام نہیں لیتے اس لیے کبھی نبوت رسالت کے بارے میں ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے اور کبھی خداوند ذوالجلال کی الوہیت اور ربوبیت میں شبہ پیش آتا ہے اگر یہ لوگ حضور پر نور ﷺ کے حال اور معجزات میں غور کرتے تو آپ کی نبوت و رسالت میں ان کو شبہ نہ ہوتا اور اگر آسمان و زمین کی خلقت میں غور کرتے تو خدا کی وحدانیت میں کوئی شبہ نہ رہتا ان کو چاہئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
181: یہ منکرین کے لیے زجر ہے۔ “ اَ وَ لَمْ یَنْظُرُوْا الخ ” یہ زمین و آسمان کی کتاب عبرت کے صفحات ان کے سامنے کھلے ہیں کیا وہ ان میں غور نہیں کرتے۔ یہ تکوینی دلائل اس قدر واضح ہیں کہ ان کو دیکھ کر لامحالہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین ہوجاتا ہے اور کیا نہوں نے کبھی اس میں غور نہیں کیا کہ کہیں ان کی اجل موت یا اجل عذاب قریب آچکی ہو۔ اگر اب وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ جو لوگ قرآن جیسی سچی اور صدق محض کتاب پر ایمان نہیں لاتے جو ان کی نجات و فلاح کی ضامن ہے۔ اصل میں ان کی فطرتیں مسخ اور ان کے سوچنے سمجھنے کی قوتیں باطل ہوچکی ہیں۔ “ اذا الم یؤمنوا بھذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–186
ربط آیات
گزشتہ درس میں عہدو یمان توڑنے والوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کا بیان کیا نیز فرمایا کہ جو لوگ غفلت اختیار کرتے ہیں اس کا نتیجہ بالا نتہا جہنم ہوگا پھر اللہ نے توحید اور ایمان کے سلسلے میں اللہ کے اسمائے پاک اور صفات کے ساتھ اسے پکارنے کا حکم دیا اور اس میں کجی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ کجی کرنے والے مجرم ہوں گے اللہ تعالیٰ کے خاص ناموں کو اللہ کے علاوہ کسی غیر پر بولنے ان کا غلط مطلب لینے اور غلط مقام پر استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا کہ ایسا کرنا جرم ہے پھر اللہ نے آخری امت کے لوگوں کی توصیف فرمائی کہ اس امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو راہ حق کی ہدایت دیتے رہیں گے اور…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللہُ مِنْ شَيْءٍ 0 ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُہُمْ 0 ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍؚبَعْدَہٗ يُؤْمِنُوْنَ 185
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–186
ترکیب : والذین الخ مبتداء سنستدرجہم خبر من حیث اس سے متعلق املی مبتداء محذوف کی خبر اے انا املی اور ممکن ہے کہ نستدرج پر معطوف ہو کیدی اسم ان متین خبر مابصاحبھم مانا فیہ اور کلام میں حذف تقدیرہ اولم یتفکروا فی قلوبہم مابہ جنۃ اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لئے ہو اور ممکن ہے کہ بمعنی الذی ہو۔ وان عسٰی جائز ہے کہ ان مخففہ ہو مثقلہ سے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں محل جر میں ہے عطفا علی ملکوت ان یکون عسٰی کا فاعل اور یکون کا فاعل ضمیر اور قد اقترب الخ خبر۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں یہ کہہ کہ ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جن و انسان پیدا کئے ہیں۔ اخیر میں یہ بھی فرمایا تھا وممن خلقنا امۃ…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے۔
اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍلا وَّاَنْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُہُمْج فَبِاٰیِّ حَدِیْثٍٍ ٍمبَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ ۔
” کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام اور ان چیزوں پر غور نہیں کیا جو خدا نے پیدا کی ہیں۔ اور اس بات پر کہ کیا عجب کہ ان کی اجل قریب آگئی ہو تو اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے “۔
ایک دوسرے پہلو سے جنون کی تردید
گزشتہ آیت سے یہ بات ہمیں معلوم ہوگئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نبوت سے پہلے اہل مکہ کی ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے آپ کی دانش و بینش ‘ آپ کی اصابت رائے اور معاملہ فہمی پر سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھاتے اور بتلاتے تو وہ دیگر الزامات کے ساتھ آپ کو مجنوں اور پاگل کہتے تھے جس کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار نبی محترم ﷺ کو درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر مجنون کہتے تھے۔
1۔ ایک الٰہ تمام لوگوں کی مشکلات کس طرح حل کرسکتا ہے۔
2۔ کفار کا کہنا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کا کب انکار کرتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ہمارے معبودوں کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔
3۔ نبی اس لیے مجنون ہے کہ توحید کے سوا کوئی اور بات نہیں کرتا۔ ہر وقت توحید، توحید کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔
4۔ معاشرہ اور برادری میں اس کا بڑا مقام اور احترام تھا مگر…
Read the full tafseer →غور کر کے انہیں حق کی تلاش اور اچانک عذاب سے بچائو تلاش کرنا چاہیے :
آیت 185 : اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا (کیا انہوں نے غور نہیں کیا) دلیل حاصل کرنے کی نظر سے فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمان و زمین کی حکومت میں) ملکوت عظیم بادشاہی وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ (اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں) اور جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں۔ اور جس پر شئی کا لفظ بولا جاسکتا ہے۔ اپنی ان گنت اجناس و اعداد کے ساتھ وَّاَنْ عَسٰٓی (کہ ممکن ہے) یہ اَنْ محفّفہ من المثقلہ ہے اور اصل اس طرح ہے اِنَّہٗ عسٰی، ہٗ ضمیر شان ہے اور ملکوت پر عطف کی وجہ سے
موضع جر میں واقع ہے مطلب یہ ہے کیا وہ…
Read the full tafseer →(185) پس کہا (اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض وما خلق اللہ من شیئ) یعنی آسمان و زمین میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس میں غور و فکر کر کے اس کی وحدانیت پر استدلال کرو (وان عسی ان یکون قد اقترب اجلھم) یعنی شاید کہ ان کا وعدہ قریب آگیا ہو تو وہ ایمان لانے سے پہلے مرجائیں اور عذاب میں جا پڑیں۔ (فبای حدیث م بعدہ یومنون) یعنی قرآن کے بعد۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ جو کتاب لائے اس کے علاوہ کس کتاب کی تصدیق کریں گے حالانکہ محمد ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی کتاب۔ پھ ران کے ایمان سے اعراض کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
184۔ 186۔ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابوالشیخ میں قتادہ سے روایت ہے کہ ایک روز صفا پہاڑ پر چڑھ کر آنحضرت نے اہل مکہ کو بلایا اور اسلام لانے کی نصیحت ان کو کی ایک نے ان میں سے آنحضرت کو دیوانہ کہا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ اہل مکہ خود دیوانے اور ناسمجھ ہیں جو نبی کو دیوانہ بتلاتے ہیں جن بتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں نہ انہوں نے کوئی زمین پیدا کی نہ کوئی آسمان پیدا کیا خدا کی پیدا کی ہوئی زمین اور آسمان کے عجائبات پر غور کرنے سے خود بخود معلوم ہوتا ہے کہ وہی وحدہ لاشریک عبادت کے قابل ہے سوا اس کے اور کسی کی عبادت دیوانہ پن ہے اور نبی وقت جن باتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
کائنات پر دعوت فکر
قول باری ہے اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض وما خلق اللہ من شئی ۔ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا) آیت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کائنات اس کی کاریگری اور حسن انتظام پر غور کرنے، اس کی ذات پر استدلال کرنے اور اس معاملے پر تدبر و تفکر سے کام لینے پر ابھارا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام باتیں اللہ کی ذات، اس کی حکمت، اس کی مہارت اور اس کے عدل پر دلالت کرتی ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کی پیدا کی ہوئی تمام چیزوں میں اس کی ذات کی نشاندہی موجود ہے اور یہ تمام چیزیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
260 کائنات کی کھلی کتاب میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی آسمانوں اور زمین کے اس حکمتوں بھرے نظام میں غور و فکر نہیں کیا تاکہ ان کی آنکھیں کھلتیں اور ان کو نظر آتا۔ کہ یہ حکمتوں بھری کائنات نہ تو بغیر کسی خالق و موجد کے وجود میں آسکتی ہے اور نہ اس کے بغیر یہ ایسی بےمثال باقاعدگی اور اتنے کمال نظم و نسق کے ساتھ چل سکتی ہے۔ اور نہ ہی یہ سب کچھ عبث اور بےمقصد ہوسکتا ہے۔ سو کائنات کی یہ کھلی کتاب اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ پیغمبر کی دعوت سراسر حق و صدق ہے۔ سو اگر یہ لوگ اس کائنات میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیں تو ان کو نظر آئیگا کہ جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–186
اللہ تعالیٰ کا طریق کار
تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–188
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188
اسرار و معارف :
جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔
استدرج :
استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی دلائل گونیہ میں غور و فکر سے بھی آنحضرت ﷺ کی صدق نبوت کا اثبات ہوسکتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ جس توحید کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہی توحید دے رہے ہیں وہی توحید آیات کو نیہ سے ثابت ہورہی ہے، امام رازی فرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ امر نبوت توحید کی فرع ہے ورنہ ان انا الا نذیر مبین کے دعویٰ کے بعد الم یتفکروا الخ کی تقریر بےربط ہو کر رہ جائے گی۔ ( کبیر )
11 یعنی موت کا مقررہ وقت تو کسی کو معلوم نہیں۔ انسان کم از کم نیکی کی طرف راغب ہوجا نا چاہیے کہ شاید اس کی موت کی گھڑ قر یب ہو مگر یہ بدبخت اتنا بھی نہیں سمجھتے (کذافی الو حیدی)12 یا قرآن حکیم سے کوئی بہتر نصیحت اور کسی کتاب میں ہوگی اور محمد ﷺ…
Read the full tafseer →(7:185) ملکون۔ ملک فعل مبالغہ کے لئے تا بڑھا دی گئی ہے۔ اقتدا رکامل ۔ غلبہ تامہ۔ حکومت حقیقۃ۔ بقول راغب ملکوت اللہ کی بادشاہی و حکومت کے لئے خاص ہے۔
اقترب۔ وہ قریب آلگی۔ اقتراب (افتعال) اے ماضی واحد مذکر غائب۔
اجلہم۔ ان کی مدت مقررہ۔ ان کی موت۔ اولم ینظروا میں تین امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
(1) ملکوت ارض و سمائ۔ (2) مختلف النوع مخلوق جو اس ارض و سماء میں ہے۔ (3) اجل کا کسی وقت بھی آلگنا۔
بعدہ میں ہ ضمیر (واحد مذکر غائب) قرآن کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
تشریح آیت نمبر 184 تا 186
وقت کے دھارے کے خلاف جب بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے جو قائم شدہ نظام وقت سے ٹکراتی ہے اور ان لوگوں کے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے جنہوں نے مذہب کے نام پر دوسروں کو بیوقوف بنایا ہوا ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس شخص کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں جو اس دعوت کو لے اٹھتا ہے تاکہ لوگ اس کی باتوں کو دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظرا نداز کردیں ۔ یہی صورت حال اس وقت پیش آئی جب خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے بتوں کو پوجنے والے اور رسموں کو مذہب کا نام دینے والوں کو للکارا۔
حضرت قتاوہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے کوہ صفاہ پر چڑھ کر قریش کے تمام قبیلوں کو ایسے الفاظ سے پکارا جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–187
قیامت کب ہے اور علم غیب کا بیان
شان نزول : قریش نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ ہم کو یہ تو بتلایئے کہ جس قیامت سے آپ ہم کو ڈراتے ہیں آخر وہ قیامت کب آئے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ قیامت ایسی سخت چیز ہے کہ انسان کی تو اصل کیا ہے، اس کا آنا زمین و آسمان سب پر بھاری ہے۔ جب وہ آوے گی عالم علوی و عالنٓم سفلی سوا ذات پاک اس وحدہ لا شریک کے، سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ اس لئے ایسی بڑی چیز کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اگر اس کا وقت معلو ہوتا تو اس وقت کو قریب آتا دیکھ کر زمین و آسمان اور فرشتے کوئی اپنے حال پر باقی نہ رہتا اور انتظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–189
[75] یعنی آدم سے۔
[76] مرد کا ڈھانپ لینا کنایہ ہے جماع کرنے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–185
خدا کے نام :
(ف 2) اللہ کے تمام نام جو کتاب وسنت میں وارد ہیں ، اسماء حسنی ہیں ، اور وہ نام جو کتاب وسنت میں نہیں آئے اور ان سے ذم ویاشرک کا پہلو نکلتا ہے ، مذموم ہیں ان ناموں سے اللہ کو پکارنا ناجائز ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ اللہ نام ہے صفات کمال کے اجتماع کا ، حسن کامل کا ، اور جمال جامع کا ، خالص خوبصورتی اور رعنائی کا ، اس لئے وہ تعبیرات جن سے ذم اور قبح کا پہلو نمایاں ہوں ، غیر صحیح اور غلط ہیں علماء کرام کے دو گروہ ہیں ، ایک وہ ہیں جو اسماء الہی کو توفیقی کہتے ہیں ، صحیح عقیدہ ان دونوں کے بین بین ہے ان معنوں میں توقیفی ہیں ، کہ ملحدانہ مذموم اور غیر ثابت المنی ناموں کا استعمال درست نہیں ،…
Read the full tafseer →185 اور کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کی بادشاہت میں اور نیز ان چیزوں میں جو دوسری چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں نظر نہیں کی اور نہ اس بات پر ان منکروں نے غور کیا کہ شاید ان کی اجل اور ان کا وقت معین قریب ہی آپہنچا ہو۔ پھر آخر اس امر حق اور قرآن کریم کے بعد اب یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ یعنی نہ تو پیغمبر کے معاملہ میں یہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے ہیں اور نہ عالم علوی اور نہ عالم سفلی پر نظر استدلال سے غور کرتے ہیں جو خدا کی توحید سمجھ میں آئے اور اس کا مستجمع بجمیع صفت الکمال ہونا ثابت ہو اور نہ اس پر غور کرتے ہیں کہ شاید ان کا وقت پورا ہوچکا ہو تو یہ خدا سے ڈریں اور خدا کے عذاب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
ف 1۔ حاصل یہ کہ نہ دین حق کے موصل یعنی دلیل کی فکر ہے اور نہ اس فکر فی الموصل کے معین یعنی استحضار موت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ نہ فکر سے کام لیتے ہیں نہ مشاہدہ و نظر سے :
209: زیر نظر آیت میں واضح فرما دیا کہ یہ لوگ نہ فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ مشاہدہ نظر سے ۔ اگر فکر سے کام لیتے تو پیغمبر اسلام کی زندگی جو انہی میں پیدا ہوئے ہیں انہی میں سے ہیں سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اگر نظر سے کام لیں تو آسمان و زمین کا ایک ایک ذرہ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے مقررہ قوانین خلقت کی شہادت دے رہا ہے ۔ مصنوعات قدرت میں ذرا بھی عقل و فہم کے ساتھ غور کیا جائے تو ایک موٹی سمجھ والے انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کی شان قدرت کی معرفت اور نظارہ ہونے لگتا ہے اور ذرا گہری نظر کرنے والے کے لئے تو عالم کا ذرہ ذرہ قادر مطلق اور حکیم…
Read the full tafseer →The verse 185 has invited mankind to practice two important things. Firstly, to make thoughtful observation of the creation of Allah, the heavens, the earth and the things existing between them. Secondly, to be mindful of the period of life given to an individual. It does not require to be a genius to perceive the signs of Allah's power and wisdom in everything around us. A little amount of serious thought is enough to make one see that everything, rather every particle of this world, is singing the praise of it's Creator and is, in itself, a strong proof of Allah's power and wisdom. Any one…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
143. The word 'companion' here refers to the Prophet (peace be on him) who was born, brought up, grew into youth, in short, spent his whole life including his old age in their midst. Before the advent of his prophethood, Muhammad (peace be on him) was known to all the Quraysh as good natured and of sound mind. However, as he started calling people to accept the Message of God, they immediately dubbed him insane. Now it is obvious that they were not attributing insanity to him as regards his pre-prophetic life, for they had nothing evil to say about that period of his life. The charge of…
Read the full tafseer →