صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی
کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ میں جنوں کی کوئی بات بھی ہے ؟ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَفُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا ۣ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) آؤ میری ایک بات تو مان لو ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے و کیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کونسا دیوانہ پن ہے ؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو۔ جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
سورة الْاَعْرَاف 143
رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ آپ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے، انہی کے درمیان رہے بسے، بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوئے۔ نبوت سے پہلے ساری قوم آپ کو ایک نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ آدمی کی حیثیت سے جانتی تھی۔ نبوت کے بعد جب آپ نے خدا کا پیغام پہنچانا شروع کیا تو یکایک آپ کو مجنون کہنے لگی۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم جُنون ان باتوں پر نہ تھا جو آپ نبی ہونے سے پہلے کرتے تھے بلکہ صرف انہی باتوں پر لگایا جارہا تھا جن کی آپ نے نبی ہونے کے بعد تبلیغ شروع کی۔ اسی وجہ سے فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی سوچا بھی ہے، آخر ان باتوں میں کونسی بات جنون کی ہے ؟ کونسی بات بےتکی، بےاصل اور غیر…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں کفار کے اس لغو خیال کی تردید ہے کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ جنون میں مبتلا ہیں، فرمایا(آیت) اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ، یعنی کیا ان لوگوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کا جن سے سابقہ ہے ان کو ذرا بھی جنون نہیں، ان کی عقل و حکمت کے سامنے تو ساری دنیا کے عقلا و حکماء حیران ہیں، ان کے بارے میں جنون کا گمان کرنا خود جنون ہے، آنحضرت ﷺ تو صاف صاف حقائق کو بیان کرکے آخرت اور عذاب خداوندی سے ڈرانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۔
صاحبہم سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ اس لفظ کے استعمال سے قریش کو اس امر واقعہ کی طرف توجہ دلانا ہے کہ یہ پیغمبر ان کے لیے کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں بلکہ ان کے دن رات کے ساتھی ہیں۔ ان کا بچپن ان کی جوانی سب انہی کے اندر اور انہی کے ساتھ گزری ہے۔ ہر دور اور ہر مرحلہ میں انہوں نے ان کو دیکھا اور آزمایا اور ہر طرح کے حالات میں ان کو جانچا اور پرکھا ہے۔ پھر آخر یہ اس امر پر کیوں نہیں غور کرتے کہ جو شخص ہمیشہ اپنی سلامت روی، اپنی صداقت شعاری، اپنی بےغرضی، اپنی پاکبازی، اپنی فکر و رائے کی اصابت اور اپنی دانش و بینش کی…
Read the full tafseer →184۔ 1 صَاحِب سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے جن کی بابت مشرکین کبھی ساحر اور کبھی مجنون (نعوذ باللہ) کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہارے عدم تفکر کا نتیجہ ہے وہ تو تمہارا پیغمبر ہے جو ہمارے احکام پہنچانے والا اور ان سے غفلت اور اعراض کرنے والوں کو ڈرانے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–187
95: مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کو پیغمبر ماننے کے بجائے کبھی معاذاللہ آپ کو مجنون قرار دیتے، کبھی شاعر یا جادوگر کہتے تھے، یہ آیت بتارہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایسے بےسروپا تبصرے وہی کرسکتا ہے جو بےسوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو، اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کرلیں تو ان پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہوجائے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم ان آیات میں ان لوگوں کو تنبیہ کر رہا ہے جو اس وقت مکہ میں اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ لیکن یہ آیت مکہ کے لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، ازمنہ مابعد میں بھی امت مسلمہ کے ساتھ اس کے دشمنوں کا یہی سلوک ہے اور ہوگا ، اللہ ان مخالفوں کو مہلت دیتا ہے لیکن اس کی تدبیر مستحکم ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں آنکھیں کھول کر کریں۔ اپنے دل و دماغ سے کام لیں اور اپنے آپ کو جہنمی مخلوق میں شامل نہ کریں۔ اسلام اہل مکہ کو یہ مشورہ دے رہا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں اپنے رویے پر اچھی طرح غور کریں ، کیا وہ دیکھتے نہیں کہ آپ حق کے حامل اور حق کے داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–185
1 یعنی آخر آیات اللہ کو جھٹلانے اور اس کے بدانجام سے غافل ہوجانے کا سبب ہے۔ ان آیات کا لانے والا معاذ اللہ کوئی بےعقل و مجنون نہیں۔ وہ ساری عمر تمہارے پاس رہا، اس کے ہر چھوٹے بڑے حال سے تم واقف ہو۔ اس کی عقل و دانش اور امانت و دیانت پہلے سے مسلم و معروف ہے، جس کے پاس سے لایا وہ تمام جہان کا مالک، شہنشاہ مطلق اور ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے نہایت ہی محکم و مضبوط نظام سلطنت بلکہ ہر چھوٹی بڑی چیز میں جو اس نے پیدا کی ہے غور کرو تو یہ " آیات تکوینیہ "، " آیات تنزیلیہ " کی تصدیق کریں گی پھر آیات اللہ کی تسلیم میں کیا عذر باقی ہے۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ شاید ان کی موت و ہلاکت کا وقت قریب آ…
Read the full tafseer →آیت 184 اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْاسکتہ مَا بِصَاحِبِہِمْ مِّنْ جِنَّۃٍ ط
یعنی رسول اللہ ﷺ پر کسی طرح کے جنوں کے اثرات یا کسی جن کا سایہ وغیرہ کچھ نہیں ہے۔ یہ بھی متجسسانہ سوال searching question کا انداز ہے کہ ذرا غور کرو ‘ کبھی تم نے سوچا ہے کہ ہمارے رسول ﷺ تمہاری نگاہوں کے سامنے پلے بڑھے ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت ‘ شخصیت ‘ طہارت ‘ نظافت اور آپ ﷺ کا کردار ‘ کیا یہ سب کچھ آپ لوگوں کے سامنے نہیں ہے ؟ اس کے باوجود تمہارا اس قدر بھونڈا دعویٰ کہ آپ ﷺ پر جنون کے اثرات ہیں ! کبھی تم نے اپنے اس دعوے کے بودے پن پر بھی غور کیا ہے ؟
Read the full tafseer →184 مجنون اور نبی میں فرق :۔ اب ایسے لوگوں کے بعض شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے مثلاً : رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی ان قریش مکہ کے سامنے ہے نبوت سے پیشتر آپ ﷺ کو ساری قوم نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ نیز صادق اور امین کی حیثیت سے جانتی تھی۔ پھر جب نبوت کے بعد آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں کو پہنچایا اور انہیں اخروی انجام سے ڈرایا تو وہ آپ کو مجنون اور آسیب زدہ کہنے لگے حالانکہ نبی جو کچھ کہتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اپنی بات پر اپنے پاکیزہ سیرت و کردار سے مہر تصدیق ثبت کرتا ہے ذرا سوچو ! کسی مجنون میں یہ صفات پائی جاتی ہیں ؟ پھر تم کس لحاظ سے اسے مجنون کہتے ہو ؟ کیا…
Read the full tafseer →265 ۔ (منکروں کو کہ جو قانون الہی کی نافرمانی کریں گے۔ وہ عذاب الہی کے مستحق قرار پائیں گے) (آیت) ” اولم یتفکروا “۔ اشارہ ارسول اللہ ﷺ کے معاصر منکرین کی طرف ہے، صاحبھم “۔ یعنی تمہارے ہر وقت کے ساتھی رسول اللہ ﷺ جن کے مزاج و سیرت واوضاع واطوار اخلاق ومعاملات کی تم ہر طرح جانچ وپڑتال کرسکتے ہو۔ (آیت) ” مابصاحبھم من جنۃ “۔ یعنی شائبہ جنون ہونا تو کجا وہ تو ایسے ایسے کارناموں اور کمالات کے مالک ہیں کہ ایک دنیا ان پر دنگ رہ گئی ہے۔ اور کمال ہے تمہیں کہ تم انہیں مجنون قرار دیئے چلے جارہے ہو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–186
واملی۔۔۔ متین مجرموں اور فاسقوں اور جھٹلانے والوں اور مجرموں کو بساً اوقات فوراً سزا نہیں ملتی، بلکہ دینوی عیش و فراخی کے دروازے کھولدیئے جاتے ہیں، حتی کہ حدائی سزا سے بےخوف و بےفکر ہو کر ارتکاب معاصی پر اور زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں حتی کہ وہ انتہائی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں، یہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے وہ حماقت و سفاہت سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے اوپر مہربانی ہورہی ہے۔
Read the full tafseer →اولم یتفکروا ما بصاحبہم من جنۃ ط ان ہو الا نذیر مبین : کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں ہے وہ تو بس صاف صاف (نافرمانی کے عذاب سے) ڈرانے والا ہے۔
صاحبکم سے مراد ہیں رسول اللہ جنّۃ بمعنی جنون مبین صاف صاف کھول کر واضح طور پر ڈرانے والا کہ کسی سے کوئی بات چھپی نہ رہے (سب کی سمجھ میں آجائے) اولم ینظروا کیا دلیل آفریں اور استدلال کی نظر سے انہوں نے نہیں دیکھا ماخلق اللہ من شی یعنی جس پر لفظ شئی کا اطلاق ہوتا ہے کوئی چیز ہو شئی کے افراد و اجناس ان گنت ہیں اور سب اپنے بنانے والے کی ہمہ گیر قدرت اور توحید پر دلالت کر رہی ہیں ان کو استدلال کی نظر سے کائنات عالم…
Read the full tafseer →(184) کیا ان لوگوں نے آپس میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ نہ جادوگر ہیں اور نہ کاہن اور نہ مجنون، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ ان کے نبی کو تو جنون کا شائبہ تک بھی نہیں وہ تو رسول ہیں جو عذاب الہی سے اس زبان میں ڈراتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”اولم یتفکروا“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ اور ابو الشیخ ؒ نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو بلوایا، آپ ایک ایک شاخ کو بلاتے تھے کہ ایے بنی فلاں میں تمہیں عذاب الہی سے ڈراتا ہوں، تو کسی کہنے والے نے کہا کہ تمہارے ساتھی مجنون ہیں، رات کو صبح تک مبہوت ہوگئے اس پر…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ : اوپر کی آیات میں ان کی غفلت اور بےرخی پر تنبیہ تھی، اب یہاں سے نبوت پر ان کے شبہات کی تردید ہو رہی ہے۔ کفار قریش آپ کو مجنون (پاگل) قرار دیتے تھے، دیکھیے سورة حجر (6) اور دخان (13، 14) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کے دو جواب دیے، ایک یہ کہ کبھی تم نے سوچا ہے کہ نبی ﷺ کسی اور جگہ سے نہیں آئے، تمہارے ساتھی ہیں، تمھی میں رہتے ہیں، تم ان سے خوب واقف ہو، انھوں نے چالیس برس تم میں گزارے ہیں، کچھ غور تو کرو، کیا پاگل ایسے ہوتے ہیں ؟ ”صاحبکم“ (تمھارے ساتھی) کے لفظ میں یہی جواب دیا گیا ہے۔ دیکھیے سورة یونس (16) دوسرا یہ کہ ان لوگوں نے کبھی یہ…
Read the full tafseer →آیت : 184 :
قولہ تعالیٰ : اولم یتفکروا کیا اب تک انہوں نے اس میں غور وفکر نہیں کیا جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ لے کر ان کے پاس آئے۔ یتفکرو پر وقف کرنا اچھا ہ۔ پھر فرمایا : مابصاحبھم من جنۃ یہ ان کے اس قول کا رد ہے : یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون (الحجر)
یہ بھی کہا گیا کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات قریش کو دعوت دینے کے لیے صفا پر کھڑے ہوئے، آپ علیحدہ علیحدہ قبیلہ کو بلاتے اور فرماتے : ” اے بنی فلاں “ آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس کی سزا سے ڈراتے رہے۔ تو ان میں سے بعض کہنے والوں نے کہا : بیشک ان کا یہ صاحب تو مجنون ہے، رات بھر آواز بلند ہوتی رہی یہاں تک کہ صبح ہوگئی…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ صفا پر کھڑے ہوئے۔ اور قریش کو ان کے خاندانوں کے نام لے کر بلایا۔ اے بنو فلاں ! اے بنو فلاں ! آپ ﷺ نے صبح تک ڈرایا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے رہے حتی کہ ان کے ایک کہنے والے نے کہا کہ تمہارا یہ ساتھی مجنون ہے چلاتے شور مچاتے رات گزار دی یہاں تک کہ صبح ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری ” اولم یتفکروا، ما بصاحبھم من جنۃ، ان ھو الا نذیر مبین “۔
Read the full tafseer →اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا : انہوں نے غور نہیں کیا ] [ مَا : (کہ ) نہیں ہے ] [ بِصَاحِبِهِمْ : ان کے ساتھی کو ] [ مِّنْ جِنَّةٍ ۭ: کسی قسم کا کوئی جنون ] [ اِنْ : نہیں ہے ] [ هُوَ : وہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: ایک واضح خبردار کرنے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
(اِنْ ھُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ) (بس وہ تو واضح طور پر ڈرانے والا ہے) حق کی دعوت دیتا ہے اور آخرت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ باتیں مشرکوں کو نا گوار ہیں حق کو مانتے نہیں اور داعی حق کو دیوانہ کہتے ہیں یہ ان کی اپنی دیوانگی ہے۔ داعی حق دیوانہ نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا : (اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں غور نہیں کیا) (وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ ) (اور آسمان و زمین کے علاوہ دوسری چیزیں جو پیدا فرمائی ہیں ان میں غور نہیں کیا) (وَّ اَنْ عَسآی اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُھُمْ ) (اور کیا انہوں نے اس پر غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
تہدید بر عدم نظر وفکر وتذکریر موت
قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکرو ما بصاحبہم من جنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ویذورھم فی طغیانھم یعمھون
(ربط) گزشتہ آیات میں گمراہوں اور آخرت سے غافلوں کی تہدید وتوبیخ کا ذکر تھا اب ان آیات میں ان کی غفلت اور گمراہی کے سبب کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ غور وفکر سے کام نہیں لیتے اس لیے کبھی نبوت رسالت کے بارے میں ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے اور کبھی خداوند ذوالجلال کی الوہیت اور ربوبیت میں شبہ پیش آتا ہے اگر یہ لوگ حضور پر نور ﷺ کے حال اور معجزات میں غور کرتے تو آپ کی نبوت و رسالت میں ان کو شبہ نہ ہوتا اور اگر آسمان و زمین کی خلقت میں غور کرتے تو خدا کی وحدانیت میں کوئی شبہ نہ رہتا ان کو چاہئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
181: یہ منکرین کے لیے زجر ہے۔ “ اَ وَ لَمْ یَنْظُرُوْا الخ ” یہ زمین و آسمان کی کتاب عبرت کے صفحات ان کے سامنے کھلے ہیں کیا وہ ان میں غور نہیں کرتے۔ یہ تکوینی دلائل اس قدر واضح ہیں کہ ان کو دیکھ کر لامحالہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین ہوجاتا ہے اور کیا نہوں نے کبھی اس میں غور نہیں کیا کہ کہیں ان کی اجل موت یا اجل عذاب قریب آچکی ہو۔ اگر اب وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ جو لوگ قرآن جیسی سچی اور صدق محض کتاب پر ایمان نہیں لاتے جو ان کی نجات و فلاح کی ضامن ہے۔ اصل میں ان کی فطرتیں مسخ اور ان کے سوچنے سمجھنے کی قوتیں باطل ہوچکی ہیں۔ “ اذا الم یؤمنوا بھذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–186
ربط آیات
گزشتہ درس میں عہدو یمان توڑنے والوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کا بیان کیا نیز فرمایا کہ جو لوگ غفلت اختیار کرتے ہیں اس کا نتیجہ بالا نتہا جہنم ہوگا پھر اللہ نے توحید اور ایمان کے سلسلے میں اللہ کے اسمائے پاک اور صفات کے ساتھ اسے پکارنے کا حکم دیا اور اس میں کجی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ کجی کرنے والے مجرم ہوں گے اللہ تعالیٰ کے خاص ناموں کو اللہ کے علاوہ کسی غیر پر بولنے ان کا غلط مطلب لینے اور غلط مقام پر استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا کہ ایسا کرنا جرم ہے پھر اللہ نے آخری امت کے لوگوں کی توصیف فرمائی کہ اس امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو راہ حق کی ہدایت دیتے رہیں گے اور…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا 0 ۫ مَا بِصَاحِبِہِمْ مِّنْ جِنَّۃٍ 0 ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 184
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–186
ترکیب : والذین الخ مبتداء سنستدرجہم خبر من حیث اس سے متعلق املی مبتداء محذوف کی خبر اے انا املی اور ممکن ہے کہ نستدرج پر معطوف ہو کیدی اسم ان متین خبر مابصاحبھم مانا فیہ اور کلام میں حذف تقدیرہ اولم یتفکروا فی قلوبہم مابہ جنۃ اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لئے ہو اور ممکن ہے کہ بمعنی الذی ہو۔ وان عسٰی جائز ہے کہ ان مخففہ ہو مثقلہ سے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں محل جر میں ہے عطفا علی ملکوت ان یکون عسٰی کا فاعل اور یکون کا فاعل ضمیر اور قد اقترب الخ خبر۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں یہ کہہ کہ ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جن و انسان پیدا کئے ہیں۔ اخیر میں یہ بھی فرمایا تھا وممن خلقنا امۃ…
Read the full tafseer →اگلی آیت کریمہ میں قریش نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے ایک اشغلاء چھوڑا تھا اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔
اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْاسکتۃ مَا بِصَاحِبِہِمْ مِّنْ جِنَّۃٍط اِنْ ھُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔
(الاعراف : 184)
” کیا انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس ایک کھلا ہوا ہوشیار کرنے والا ہے “۔
نبی کریم ﷺ نے جب اہل مکہ کے سامنے اللہ کے دین کی دعوت پیش کی تو شروع شروع میں تو قریش مکہ نے اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن رفتہ رفتہ جب اس دعوت نے نفوذ اختیار کرنا شروع کیا اور لوگ آہستہ آہستہ اس سے متاثر ہونے لگے اور ہر گھرانے اور خاندان میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھاتے اور بتلاتے تو وہ دیگر الزامات کے ساتھ آپ کو مجنوں اور پاگل کہتے تھے جس کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار نبی محترم ﷺ کو درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر مجنون کہتے تھے۔
1۔ ایک الٰہ تمام لوگوں کی مشکلات کس طرح حل کرسکتا ہے۔
2۔ کفار کا کہنا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کا کب انکار کرتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ہمارے معبودوں کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔
3۔ نبی اس لیے مجنون ہے کہ توحید کے سوا کوئی اور بات نہیں کرتا۔ ہر وقت توحید، توحید کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔
4۔ معاشرہ اور برادری میں اس کا بڑا مقام اور احترام تھا مگر…
Read the full tafseer →آیت 184: جب کفار نے نبی اکرم ﷺ کی نسبت جنون کی طرف کی تو یہ آیت اتری۔
کفار کے اعتراض جنون کا جواب :
اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا مَابِصَاحِبِھِمْ (کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو نہیں ہے) محمد ﷺ ۔ ما نافیہ ہے وقف کے بعد یعنی کیا وہ اپنی بات کو نہیں سوچتے۔ پھر جنون کی آپ ﷺ سے نفی فرمائی۔ مِّنْ جِنَّۃٍ (ذرا بھر جنون) جِنَّۃ کا معنی جنون ہے۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (وہ تو صرف ایک صاف ڈرانے والے ہیں) آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منذر اور اس کے انذار کو واضح کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر 154(اولم یتفکروا ما بصاحبھم من جنۃ) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ رات کو صفا پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور قریش کے ہر قبیلہ کوا سکے نام سے پکارا، ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو ایک کہنے والے نے کہا کہ تمہارایہ ساتھی مجنون ہے صبح تک یہی آوازیں لگاتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت میں صاحب سے مراد محمد ﷺ (ان ھو الا نذیر مبین) پھر انکو ایسے غور و فکر پر ابھارا جو ان کو علم تک پہنچا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
184۔ 186۔ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابوالشیخ میں قتادہ سے روایت ہے کہ ایک روز صفا پہاڑ پر چڑھ کر آنحضرت نے اہل مکہ کو بلایا اور اسلام لانے کی نصیحت ان کو کی ایک نے ان میں سے آنحضرت کو دیوانہ کہا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ اہل مکہ خود دیوانے اور ناسمجھ ہیں جو نبی کو دیوانہ بتلاتے ہیں جن بتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں نہ انہوں نے کوئی زمین پیدا کی نہ کوئی آسمان پیدا کیا خدا کی پیدا کی ہوئی زمین اور آسمان کے عجائبات پر غور کرنے سے خود بخود معلوم ہوتا ہے کہ وہی وحدہ لاشریک عبادت کے قابل ہے سوا اس کے اور کسی کی عبادت دیوانہ پن ہے اور نبی وقت جن باتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →259 پیغمبر کا کام صرف انذار ہے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و مخالفین کے قلوب و ضمائر کو جھنجوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کبھی دیکھا اور غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں آخر جنوں کی کوئی بات ہے ؟ وہ تو محض ایک خبردار کرنے والا ہے کھول کر۔ یعنی کھول کر حق اور حقیقت کو۔ اور وہ خبردار کرنے والا ہے سب لوگوں کو ان کے مآل و انجام سے تاکہ وہ درست کرسکیں اپنا معاملہ اور بچ سکیں دائمی ہلاکت اور تباہی سے ۔ والعیاذ باللّہ مِنْ کُلّ سُوْئٍ وّزَیْغ وَشَرٍّ وَّفسَاد ۔ سو ان کا کام سراسر صدق و اخلاص اور نصح و خیرخواہی پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کو مجنون کہنا اپنے جنون کا ثبوت دینا ہے۔ سو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–186
اللہ تعالیٰ کا طریق کار
تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–188
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188
اسرار و معارف :
جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔
استدرج :
استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے…
Read the full tafseer →ف 9 اوپر کی آیات میں ان کی غفلت اور اعراض پر تہدید بھی اب یہاں سے نبوت پر ان کے شبہات کی تردید ہو رہی ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ جن باتوں، توحیدوغیرہ کی طرف آنحضرت ﷺ دعوت دے رہے ہیں ان میں کون ایسی بات ہے جسے جنون سے تعبیر کیا جاسکتا ہے یا یہ یوں ہی آنحضرت ﷺ کی تر دید کے لیے اس قسم کی الزام طرازیاں کر رہے ہیں۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ یہ روایت ملی ہے کہ نبی ﷺ ایک رات صفا پر چڑھے اور صبح تک قریش کے مختلف گھرانوں کا نام لے کر انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے رہے آخر ایک کافر ہنے لگا کہ تمہا را یہ ساتھی مجنون ہوگیا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( ابن جریر، ابن کثیر)…
Read the full tafseer →(7:184) جنۃ۔ جنون ۔ سودا۔ دیوانگی۔ جن سے مشتق ہے چونکہ دیوانگی عقل کو چھپا دیتی ہے اس لئے اسے جنۃ کہتے ہیں۔
ان ھو میں ان نافیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
تشریح آیت نمبر 184 تا 186
وقت کے دھارے کے خلاف جب بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے جو قائم شدہ نظام وقت سے ٹکراتی ہے اور ان لوگوں کے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے جنہوں نے مذہب کے نام پر دوسروں کو بیوقوف بنایا ہوا ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس شخص کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں جو اس دعوت کو لے اٹھتا ہے تاکہ لوگ اس کی باتوں کو دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظرا نداز کردیں ۔ یہی صورت حال اس وقت پیش آئی جب خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے بتوں کو پوجنے والے اور رسموں کو مذہب کا نام دینے والوں کو للکارا۔
حضرت قتاوہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے کوہ صفاہ پر چڑھ کر قریش کے تمام قبیلوں کو ایسے الفاظ سے پکارا جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
مطلب یہ ہے کہ نبی وقت جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں وہ بڑی سمجھ کی باتیں کرتے ہیں، دیوانوں کی باتیں نہیں ہیں۔ ہر ایک زمانہ کے دنیا دار لوگ کثرت سے ذکر الہی میں مصروف رہنے والوں کو دیوانہ کہیں گے۔ آنحضرت ﷺ قریش کو عذاب دوزخ سے ڈرایا کرتے تھے۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ سب دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ انسان کو اپنے مرنے کا وقت معلوم نہیں کہ ناگہانی طور پر کسی وقت موت سر پر آن کھڑی ہو، اس لئے انسان کو چاہئے وہ ہر وقت اپنے آہ کو قبر کا مردہ سمجھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
[74] رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں کہ آپ کا بچپن، جوانی اور بڑھاپے کا بیشتر حصہ اہل مکہ کے درمیان گزرا، جو آپ کی نبوت سے پہلے آپ کو سلیم الطبع اور صحیح الدماغ انسان سمجھتے تھے۔ لیکن نبوت کے بعد جب آپ نے رسالت کے فرائض انجام دینا شروع کئے تو یکایک یہ لوگ آپ کو مجنون کہنے لگے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں نے عاقبت اندیشی اور دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور آپ کی طرف جنون کی نسبت کردی ؟ کیا مجنون ایسے ہوتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–185
خدا کے نام :
(ف 2) اللہ کے تمام نام جو کتاب وسنت میں وارد ہیں ، اسماء حسنی ہیں ، اور وہ نام جو کتاب وسنت میں نہیں آئے اور ان سے ذم ویاشرک کا پہلو نکلتا ہے ، مذموم ہیں ان ناموں سے اللہ کو پکارنا ناجائز ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ اللہ نام ہے صفات کمال کے اجتماع کا ، حسن کامل کا ، اور جمال جامع کا ، خالص خوبصورتی اور رعنائی کا ، اس لئے وہ تعبیرات جن سے ذم اور قبح کا پہلو نمایاں ہوں ، غیر صحیح اور غلط ہیں علماء کرام کے دو گروہ ہیں ، ایک وہ ہیں جو اسماء الہی کو توفیقی کہتے ہیں ، صحیح عقیدہ ان دونوں کے بین بین ہے ان معنوں میں توقیفی ہیں ، کہ ملحدانہ مذموم اور غیر ثابت المنی ناموں کا استعمال درست نہیں ،…
Read the full tafseer →184 کیا ان منکروں نے اتنی بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو کسی قسم کا ذرا سا جنون اور دیوانگی نہیں ہے وہ تو صرف ایک صاف اور واضح طور پر ڈرانے والا ہے۔ یعنی اتنی بات پر تو ضرور غور کرنا چاہئے کہ یہ پیغمبر کسی قسم کی دیوانگی میں مبتلا نہیں ہے بلکہ محض ایک ڈرانے والا ہے تم جو اس کو جنون بتاتے ہو یہ الزام غلط ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رفیق فرمایا پیغمبر کو ہمیشہ ان کے پاس ہے اور وہ اس کے حال سے واقف ہیں۔ 12
Read the full tafseer →ف 6۔ حاصل یہ کہ اگر آپ کی مجموعی حالت میں غور کریں تو آپ کی پیغمبری سمجھ میں آجائے۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام کوئی دیوانہ نہیں وہ تو لوگوں کو خبردار کرنے والا ہے :
208: (صاحب) سے مراد اس جگہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی قدر ہے ۔ آپ ﷺ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے اور انہی میں رہے ۔ بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوئے ۔ نبوت سے پہلی زندگی کو بھی سب جانتے تھے اور نبوت سے بعد کی زندگی کو بھی ۔ پھر کفار نے اسلام کو قبول کرنے میں توقف کیوں کیا ؟ کیا تمہارے خیال میں اس کو کوئی جنون ہے ؟ کیا جنونی لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تم سے کوئی غرض رکھتا اور اپنی کسی ذاتی منفعت کے لئے یہ ساری دوڑ دھوپ کررہا ہوتا تو اس سے تمہارے بھاگنے کی کم از کم ایک معقول وجہ ہوتی مگر تم خود…
Read the full tafseer →The verse no. 184 has refuted the false notion of the disbelievers that the Holy Prophet , 1n was a man of unsound mind or was possessed by devil. It said:
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
"Have they not reflected that with their friend there is no madness? He is but an open warner."
The verse said that a little reflection on their part shall be enough to prove that the Holy Prophet ﷺ was neither a man of unsound mind, nor was he under the influence of Jinns. His matchless wisdom and knowledge is an obvious feature of his personality.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
143. The word 'companion' here refers to the Prophet (peace be on him) who was born, brought up, grew into youth, in short, spent his whole life including his old age in their midst. Before the advent of his prophethood, Muhammad (peace be on him) was known to all the Quraysh as good natured and of sound mind. However, as he started calling people to accept the Message of God, they immediately dubbed him insane. Now it is obvious that they were not attributing insanity to him as regards his pre-prophetic life, for they had nothing evil to say about that period of his life. The charge of…
Read the full tafseer →