Al-A'raaf 7:183

Al-A'raaf · from ayah 183

7:183

وَاُمْلِیْ لَهُمْ ۫ؕ— اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ ۟وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡ ‌ؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ

اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And I will give them time. Indeed, my plan is firm.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 23 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:183

میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کو مہلت دیتا ہوں بےشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں، یقین جانو کہ میری خفیہ تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں انہیں ڈھیل دوں گا بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میں انہیں مہلت دے رہا ہوں، بیشک میری گرفت بڑی مضبوط ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں انھیں مہلت دوں گا، بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں انہیں ڈھیل دے رہا ہوں۔ یقینا میری تدبیر کا کوئی توڑ نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں انہیں ڈھیل دیے جا رہا ہوں کیونکہ میری تدبیر بہت ہی محکم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں انہیں ڈھیل دیئے جا رہا ہوں، بیشک میری تدبیر بڑی ہی مضبوط ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں انہیں مہلت دیتا رہتا ہوں بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں ان کو ڈھیل دوں گا یقینامیری چال بہت مضبوط ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And (for this purpose) I will grant them respite. My design is incontrovertible.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I give them respite. Surely My plan is firm.

— Muhammad Taqi Usmani

I give them respite. Surely My plan is firm.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And I respite them; certainly My plan is strong.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I give them rein (for) lo! My scheme is strong.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And I will give them time. Indeed, my plan is firm.

— Saheeh International

Though I have given them a respite, My plan against them is well established.

— Muhammad Sarwar

And I grant them respite; surely My scheme is effective.

— Muhammad Habib Shakir

And I give them rein: verily My contrivance is firm.

— Abdul Majid Daryabadi

Respite will I grant unto them: for My scheme is strong (and unfailing).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:183

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 182–183

سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑجائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہوجائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گذری کردیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہوجائیں تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دونگا اور یہ میرے اس داؤ سے بیخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 181–185

سورة الْاَعْرَاف 143 رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ آپ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے، انہی کے درمیان رہے بسے، بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوئے۔ نبوت سے پہلے ساری قوم آپ کو ایک نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ آدمی کی حیثیت سے جانتی تھی۔ نبوت کے بعد جب آپ نے خدا کا پیغام پہنچانا شروع کیا تو یکایک آپ کو مجنون کہنے لگی۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم جُنون ان باتوں پر نہ تھا جو آپ نبی ہونے سے پہلے کرتے تھے بلکہ صرف انہی باتوں پر لگایا جارہا تھا جن کی آپ نے نبی ہونے کے بعد تبلیغ شروع کی۔ اسی وجہ سے فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی سوچا بھی ہے، آخر ان باتوں میں کونسی بات جنون کی ہے ؟ کونسی بات بےتکی، بےاصل اور غیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں اسی استدراج کا بیان ہے ښوَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ، یعنی میں ان گناہگاروں کو مہلت دتیا رہتا ہوں، میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 182–183

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ خدا کی ڈھیل ہلاکت کا پھندا ہے۔ اوپر آیت 180 میں آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کو جو دھمکی دی گئی ہے یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلانے کے باوجود دندنا رہے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ خدا کی پکڑ سے باہر ہیں۔ ہم ان کو وہاں سے اپنے ہدف پر لا رہے ہیں جہاں سے ان کو کسی خطرے کا سان گمان بھی نہیں ہے۔ ہم نے ان کو جو ڈھیل دی ہے اس کو یہ اپنی جیت سمجھے ہیں حالانکہ یہ ڈھیل ان کی ہلاکت کا پھندا ہے۔ ہم نے یہ ڈھیل اس لیے دی ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

183۔ 1 یہ وہی استدراج و امہال ہے جو بطور امتحان اللہ تعالیٰ افراد اور قوموں کو دیتا ہے۔ پھر جب اس کی مشیت مواخذہ کرنے کی ہوتی ہے تو کوئی اسے بچانے پر قادر نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کی تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

94: یہ ان لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو مسلسل نافرمانی کئے جارہے ہوں اور پھر بھی دنیا کے عیش و عشرت سے لطف اندوز ہورہے ہوں، اور جنہیں کبھی یہ خیال بھی نہ آتا ہو کہ انہیں کسی دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، کیونکہ ایسی نافرمانیوں اور ایسی غفلت کے ساتھ جو دنیوی عیش و عشرت میسر آتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے جس کو قرآن کریم نے استدراج کا نام دیا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ ایسا شخص اچانک پکڑلیا جاتا ہے کبھی تو یہ پکڑ دنیا میں ہوجاتی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو آخرت میں تو ہونی ہی ہونی ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 181–183

تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 182–183

8 جھٹلانے والے مجرموں کو بسا اوقات فوراً سزا نہیں ملتی بلکہ دنیاوی عیش اور فراخی کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ حتٰی کہ خدائی سزا سے بےفکر ہو کر ارتکاب جرائم پر اور زیادہ دلیر بن جاتے ہیں۔ اس طرح جو انتہائی سزا ان پر جاری کرنی ہے رفتہ رفتہ اپنے کو اعلانیہ اور کامل طور پر اس کا مستحق ثابت کردیتے ہیں۔ یہ ہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے۔ وہ حماقت اور بےحیائی سے سمجھتے ہیں کہ ہم پر مہربانی ہو رہی ہے اور حقیقت میں انتہائی عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ خدا کا " کید " (داؤ یا خفیہ تدبیر) اسی کو کہا کہ ایسی کارروائی کی جائے جس کا ظاہر رحمت اور باطن قہر و عذاب ہو۔ بیشک خدا کی تدبیر بڑی مضبوط اور پختہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 183 وَاُمْلِیْ لَہُمْط اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ ایسے مجرموں کو ڈھیل دینے کی مثال مچھلی کے شکار کی سی ہے۔ جب کانٹا مچھلی کے حلق میں پھنس جائے تو اب وہ کہیں جا نہیں سکتی ‘ جتنی ڈور چاہیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔ جب آپ چاہیں گے اسے کھینچ کر قابو کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

183 قانون امہال و تدریج :۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ مجرم لوگوں پر سرزنش اور تنبیہ کے طور پر پہلے چھوٹے چھوٹے دکھ اور تکلیفیں نازل فرماتا ہے اگر لوگ ان سے عبرت حاصل کرلیں تو خیر ورنہ انہیں ایک دوسرے طریقہ سے آزماتا ہے۔ یعنی ان پر خوش حالی اور آسودگی کا دور آتا ہے جس میں وہ ایسے مگن اور مستغرق ہوجاتے ہیں کہ انہیں سابقہ تکلیفیں یاد ہی نہیں رہتیں اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربان ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ انہیں محض اس لیے مہلت دے رہا ہوتا ہے کہ جس انتہا کو پہنچنا چاہتے ہیں پہنچ جائیں تو پھر یکدم انہیں ان کے انجام سے دو چار کردیتا ہے اس وقت لوگوں کو کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

264 ۔ اور خدائی تدبیر کی مضبوطی یہی ہے کہ کافروں کو ڈھیل ملتی چلی جاتی ہے۔ اعمال موجب عذاب پر عذاب دنیوی معا نہیں نازل ہوجاتا۔ اور گرفت فورا نہیں ہوتی۔ مجرم کو یہ غرہ ہوجاتا ہے کہ کوئی گرفت کرنے والا نہیں اور اس لیے جرأت عصیاں اور بڑھتی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 183–186

واملی۔۔۔ متین مجرموں اور فاسقوں اور جھٹلانے والوں اور مجرموں کو بساً اوقات فوراً سزا نہیں ملتی، بلکہ دینوی عیش و فراخی کے دروازے کھولدیئے جاتے ہیں، حتی کہ حدائی سزا سے بےخوف و بےفکر ہو کر ارتکاب معاصی پر اور زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں حتی کہ وہ انتہائی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں، یہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے وہ حماقت و سفاہت سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے اوپر مہربانی ہورہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واملی لہم ان کیدی متین : اور ان کو میں ڈھیل دیتا ہوں بیشک میری پوشیدہ تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ واملی لہم اس کا عطف سنستدرجہم پر ہے یعنی میں ان کی عمریں لمبی کر دوں گا اور ان کے برے اعمال کو ان کی نظر میں مرغوب بنا دوں گا اور ان کو بداعمالی کی سہولت عطا کروں گا تاکہ وہ گناہوں میں بڑھتے چلے جائیں اور آخر ہلاک ہوجائیں۔ ان کیدی متین یعنی میری گرفت سخت ہے گرفت کو کید سے اس لئے تعبیر کیا کہ اللہ کی گرفت بظاہر انعام نظر آتی ہے اور حقیقت میں تباہی آفریں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا میری پوشیدہ تدبیر سخت ہے بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جو اللہ کا اللہ کے رسول کا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(183) چناچہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ایک ہی دن میں ہلاک کردیا، کسی کو کسی کی ہلاکت کی خبر بھی نہ ہوئی، میں ان کو مہلت دیتا رہتا ہوں، میرا عذاب اور میری گرفت بہت سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ښوَاُمْلِيْ لَهُمْ : ”اَمْلَی یُمْلِیْ اِمْلَاءً“ لمبی مہلت دینے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ: جس کی کسی حیلہ اور تدبیر سے مدافعت نہیں کی جاسکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے بھاگ کر جانے نہیں دیتا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي) [ ھود : 102 ] [ بخاری، التفسیر، باب : (وکذٰلک أخذ ربک۔۔) : 4686، عن أبی موسٰی۔ ]

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 183 قولہ تعالیٰ : آیت : یعنی میں ان کے لیے مدت طویل کردیتا ہوں اور انہیں مہلت دیتا ہوں اور ان کی سزا موخر کردیتا ہوں۔ آیت : ان کیدی یعنی بیشک میری خفیہ تدبیر متین انتہائی قوی اور مضبوط ہے۔ اس کی اصل المتن سے ہے، اور اس سے مراد وہ موٹا گوشت ہے جو صلب کی جانب سے ہو۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت استہزاء کرنے والے قریش کے بارے میں نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلت دینے کے بعد پھر ایک ہی رات میں ہلاک کردیا۔ اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتۃ (انعام : 44) اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 182–183

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” سنستدرجھم “ یعنی ہم عنقریب ان کو پکڑیں گے لفظ آیت ” من حیث لایعلمون “ سے مراد بدکار عذاب ہے۔ استدراج سے ڈرتے رہنا چاہئے (2) امام ابو الشیخ نے یحییٰ بن مثنی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” سنستدرجھم من حیث لایعلمون “ کے بارے میں فرمایا جب بھی وہ کوئی نیا گناہ کرتے تھے تو ہم ان کو ایک نئی نعمت عطا فرماتے ہیں جو انہیں استغفار بھلا دیتی ہے۔ (3) امام ابن ابی الدنیا، ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سفیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” سنستدرجھم من حیث لایعلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان پر نعمتوں کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاُمْلِيْ : اور میں ڈھیل دیتا ہوں ] [ لَهُمْ ڵ : ان کو ] [ اِنَّ : بیشک ] [ كَيْدِيْ : میری تدبیر ] [ مَتِيْنٌ: پختہ ہے ] م ت ن : (ک) متانۃ ۔ مضبوط وقوی ہونا ۔ متین ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ پختہ ۔ مضبوط ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 183 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 183–184

(اِنْ ھُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ) (بس وہ تو واضح طور پر ڈرانے والا ہے) حق کی دعوت دیتا ہے اور آخرت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ باتیں مشرکوں کو نا گوار ہیں حق کو مانتے نہیں اور داعی حق کو دیوانہ کہتے ہیں یہ ان کی اپنی دیوانگی ہے۔ داعی حق دیوانہ نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا : (اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں غور نہیں کیا) (وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ ) (اور آسمان و زمین کے علاوہ دوسری چیزیں جو پیدا فرمائی ہیں ان میں غور نہیں کیا) (وَّ اَنْ عَسآی اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُھُمْ ) (اور کیا انہوں نے اس پر غور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 175–183

دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین (ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔ شان نزول اس آیت کے شان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 182–183

180: یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے آپ تبلیغ توحید کا فریضہ انجام دیتے ہیں جو لوگ عناد سے تکذیب کرتے ہیں ان کو ہم اسطرح آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف لے جارہے ہیں۔ ہم نے ان کو مہلت اس لیے دے رکھی ہے تاکہ وہ دل کھول کر گناہوں کا ارتکاب کرلیں اور شدید ترین عذاب آخرت کے مستحق ہوجائیں مگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اللہ ان پر خوش ہے۔ “ لیس المطلوب الا تدرجهم فی مدارج المعاصی الی ان یحق علیهم، کلمة العذاب الاخروی او الدنیویلی ما قیل علی افظع حال واشنعھا و ؟ ؟ النعم وسیلة الی ذٰلک ”(روح ج 9 ص 127) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 182–186

ربط آیات گزشتہ درس میں عہدو یمان توڑنے والوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کا بیان کیا نیز فرمایا کہ جو لوگ غفلت اختیار کرتے ہیں اس کا نتیجہ بالا نتہا جہنم ہوگا پھر اللہ نے توحید اور ایمان کے سلسلے میں اللہ کے اسمائے پاک اور صفات کے ساتھ اسے پکارنے کا حکم دیا اور اس میں کجی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ کجی کرنے والے مجرم ہوں گے اللہ تعالیٰ کے خاص ناموں کو اللہ کے علاوہ کسی غیر پر بولنے ان کا غلط مطلب لینے اور غلط مقام پر استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا کہ ایسا کرنا جرم ہے پھر اللہ نے آخری امت کے لوگوں کی توصیف فرمائی کہ اس امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو راہ حق کی ہدایت دیتے رہیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاُمْلِيْ لَہُمْ۝ 0 ۭۣ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۝ 183 ملي ( مهلت) الْإِمْلَاءُ : الإمداد، ومنه قيل للمدّة الطویلة مَلَاوَةٌ من الدّهر، ومَلِيٌّ من الدّهر، قال تعالی: وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] وتملّيت دهراً : أبقیت، وتملّيت الثَّوبَ : تمتّعت به طویلا، وتملَّى بکذا : تمتّع به بملاوة من الدّهر، ومَلَاكَ اللهُ غير مهموز : عمّرك، ويقال : عشت مليّا . أي : طویلا، والملا مقصور : المفازة الممتدّة «1» ، والمَلَوَانِ قيل : اللیل والنهار، وحقیقة ذلک تكرّرهما وامتدادهما، بدلالة أنهما أضيفا إليهما في قول الشاعر : 428- نهار ولیل دائم ملواهما ... علی كلّ حال المرء يختلفان «2» فلو کانا اللیل والنهار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 182–186

ترکیب : والذین الخ مبتداء سنستدرجہم خبر من حیث اس سے متعلق املی مبتداء محذوف کی خبر اے انا املی اور ممکن ہے کہ نستدرج پر معطوف ہو کیدی اسم ان متین خبر مابصاحبھم مانا فیہ اور کلام میں حذف تقدیرہ اولم یتفکروا فی قلوبہم مابہ جنۃ اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لئے ہو اور ممکن ہے کہ بمعنی الذی ہو۔ وان عسٰی جائز ہے کہ ان مخففہ ہو مثقلہ سے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں محل جر میں ہے عطفا علی ملکوت ان یکون عسٰی کا فاعل اور یکون کا فاعل ضمیر اور قد اقترب الخ خبر۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں یہ کہہ کہ ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جن و انسان پیدا کئے ہیں۔ اخیر میں یہ بھی فرمایا تھا وممن خلقنا امۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 182–183

اسلوبِ قرآن کے فہم کے لیے ضروری ہدایات اگلی آیات کریمہ کی تشریح سے پہلے ضروری ہے کہ چند ایسی باتیں ذکر کردی جائیں جن سے قرآن کریم کے اسلوب کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم اپنے متنوع مضامین اور موضوعات کے اعتبار سے اپنے محضوص انداز میں گفتگو کرتا ہے وہ کسی بھی موضوع پر جب اظہارِ خیال کرتا ہے تو کبھی تو ایک رواں دواں ندی کی طرح آگے بڑھتا ہے اور کبھی اس کے انداز میں دریا کی روانی سمٹ آتی ہے جو صرف ایک موضوع میں سمٹ کر نہیں رہ جاتی بلکہ انسانی طبیعت اور فطرت کے تنوع کو دیکھتے ہوئے ذیلی مضامین اور متعلقات کو بھی ساتھ ساتھ سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ جب تک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 180–183

فہم القرآن ربط کلام : جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات سے غافل ہیں جہنم سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ عقل و فکر سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ ہر دور کے کافر اور مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تغافل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے نہ صرف اس کی صفات کو اپنے معبودوں میں تصور کرتے ہیں بلکہ ان کے نام اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھتے ہیں جو بدترین گناہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسے لوگ سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے یعنی ان سے قلبی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

امہال مجرمین : آیت 183: وَاُمْلِیْ لَھُمْ (اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں) اس کا سنستدرجہم پر عطف ہے مگر یہ سین کے حکم میں داخل نہیں۔ اس لیے اس کا معنی امھلھم میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ (بےشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے) میری پکڑ سخت ہے۔ اس کو کید سے تعبیر کیا کیونکہ یہ کید کے مشابہ ہے کہ ظاہر میں یہ احسان اور حقیقت میں خسران اور ندمان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

183 (واملی لھم ط ان کیدی متین) یعنی میں ان کی زندگی لمبی کروں گا تاکہ وہ نافرمانیوں میں بڑھیں۔ میرا پکڑنا سخت مضبوط ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ مذاق اڑانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک رات میں قتل کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 182–183

182۔ 183۔ اللہ پاک نے حق پر قائم رہنے والے لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جو حق باتوں کے مخالف ہیں مراد اس سے روئے زمین کے کل کافر ہیں جو قرآن کی آیتوں کو نہیں مانتے اور اس کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں فرمایا ایسے لوگوں کو ہم آہستہ آہستہ پکڑیں گے ان کو معلوم بھی نہیں ہونے کا پہلے تو ان کو اس طرح پر ڈھیل دی جاوے گی کہ ان کے روزی میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کردیں گے مال دولت ہے انتہا دیں گے ہر طرح ان کو خوش وخرم رکھیں گے اور وہ لوگ ان نعمتوں کو دیکھ کر یہ گمان کرنے لگیں گے کہ وہ راہ راست پر ہیں اس لئے ان پر اللہ کا یہ فضل ہے مگر حقیقت میں یہ فضل و انعام نہیں ڈھیل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 179–193

آیت 179 اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 172–184

عہد الست قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

258 اللہ کی تدبیر بڑی ہی سخت ہوتی ہے : اتنی سخت اور اس قدر مضبوط کہ اس کا مقابلہ تو درکنار۔ ایسے لوگ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اور ان کو اس کا شعور و احساس تک نہیں کہ ہمیں پکڑا اور جکڑا جا رہا ہے۔ بلکہ یہ بتانے پر بھی اس کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ وہ ان کو انکے کفر و باطل پر فوراً پکڑتا نہیں بلکہ ڈھیل پر ڈھیل دیئے جاتا ہے جس سے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے یہ الٹا اپنے کفر و باطل پر اڑ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دھر لیے جاتے ہیں اور اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی بغاوت و سرکشی اور معاصی وذنوب کے باوجود ایسے عناصر کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 180–186

اللہ تعالیٰ کا طریق کار تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 182–188

رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188 اسرار و معارف : جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔ استدرج : استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 182–183

ف 7 یعنی ان پر فورا گرفت نہ کروں گا تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گنا کرتے جائیں۔ اس کا نام ڈھیل اور استدراج ہے جو کفار کو انکے گناہ کی سزا میں دی جاتی ہے مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے حالانکہ انہیں آخری عذاب کے لیے تیار کہا جارہا ہے۔ ( کبیر)8 جس کی کسی حیلہ اور تد بیر سے مدافعت نہیں کی جاسکتی حضرت ابو موسیٰ الا شعری ؓ سے روایت ہے کہ بن صلعم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑتا ہے تو وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا ( بخاری ومسلم

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 182–183

(7:182) سنستدرجھم۔ استدراج (استفعال) سے۔ اس کے معانی علماء نے مختلف پہلوؤں سے کئے ہیں۔ لیکن اصل میں کوئی اختلاف نہیں۔ (1) ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑتے ہیں (مولانا تھانوی (رح)) (2) استدراج کے معنی ہیں مخفی طریقہ سے آہستہ آہستہ کسی چیز کی طرف چلنا (معالم) (3) ہم ان کے ساتھ ایسی تدبیریں کرنے والے ہیں جن کا ان کو پتہ بھی نہ ہو۔ (عطار) (4) ہم ان کے اعمال کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنادیں گے پھر ان کو ہلاک کردیں گے ۔ (کلبی) (5) جب وہ کوئی نیا گناہ کرتے ہیں تو ہم ان کو جدید نعمت بخشتے ہیں۔ (ضحاک) (6) ہم ان پر اپنی نعمتوں کو بہاتے ہیں لیکن یہ شکر ادا کرنا فراموش کرا دیتے ہیں ۔ (سفیان) (7) ہم ان کو آہستہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 180–183

تشریح ؛ آیت نمبر 180 تا 183 ان آیات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ یہ نام تقریباً قرآن کریم میں آتے ہیں۔ اللہ اس کا ذاتی نام ہے باقی تمام اسمائے صفات ہیں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ کو ہمیشہ اس کے اچھے ناموں سے پکارو۔ لوگوں نے جو اللہ کے مشرکانہ نام رکھے ہوئے ہیں ان کو چھوڑ دو کیونکہ وہ نام گندے اور برے نام ہیں۔ اگر کوئی برے گندے اور مشرکانہ ناموں سے اسکو پکارے گا تو اس کی اس کی سزادی جائیگی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 ہیں اس کو ان ہی ناموں سے یاد کرو۔ جو شخص ان ناموں کا ورد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اس حدیث سے دو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 183–184

مطلب یہ ہے کہ نبی وقت جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں وہ بڑی سمجھ کی باتیں کرتے ہیں، دیوانوں کی باتیں نہیں ہیں۔ ہر ایک زمانہ کے دنیا دار لوگ کثرت سے ذکر الہی میں مصروف رہنے والوں کو دیوانہ کہیں گے۔ آنحضرت ﷺ قریش کو عذاب دوزخ سے ڈرایا کرتے تھے۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ سب دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ انسان کو اپنے مرنے کا وقت معلوم نہیں کہ ناگہانی طور پر کسی وقت موت سر پر آن کھڑی ہو، اس لئے انسان کو چاہئے وہ ہر وقت اپنے آہ کو قبر کا مردہ سمجھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 181–184

[74] رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں کہ آپ کا بچپن، جوانی اور بڑھاپے کا بیشتر حصہ اہل مکہ کے درمیان گزرا، جو آپ کی نبوت سے پہلے آپ کو سلیم الطبع اور صحیح الدماغ انسان سمجھتے تھے۔ لیکن نبوت کے بعد جب آپ نے رسالت کے فرائض انجام دینا شروع کئے تو یکایک یہ لوگ آپ کو مجنون کہنے لگے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں نے عاقبت اندیشی اور دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور آپ کی طرف جنون کی نسبت کردی ؟ کیا مجنون ایسے ہوتے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 180–185

خدا کے نام : (ف 2) اللہ کے تمام نام جو کتاب وسنت میں وارد ہیں ، اسماء حسنی ہیں ، اور وہ نام جو کتاب وسنت میں نہیں آئے اور ان سے ذم ویاشرک کا پہلو نکلتا ہے ، مذموم ہیں ان ناموں سے اللہ کو پکارنا ناجائز ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ اللہ نام ہے صفات کمال کے اجتماع کا ، حسن کامل کا ، اور جمال جامع کا ، خالص خوبصورتی اور رعنائی کا ، اس لئے وہ تعبیرات جن سے ذم اور قبح کا پہلو نمایاں ہوں ، غیر صحیح اور غلط ہیں علماء کرام کے دو گروہ ہیں ، ایک وہ ہیں جو اسماء الہی کو توفیقی کہتے ہیں ، صحیح عقیدہ ان دونوں کے بین بین ہے ان معنوں میں توقیفی ہیں ، کہ ملحدانہ مذموم اور غیر ثابت المنی ناموں کا استعمال درست نہیں ،…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ حاصل یہ کہ ان کی شرارتوں پر سزائے شدید دینا منظور ہے اس لیے اس کی یہ تدبیر کی گئی کہ یہاں مواخذہ کامل نہیں فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قانون امہال ہی اصل میں تدبیر الٰہی ہے جس کو لوگ نہیں سمجھتے : 207: قرآن کریم میں بار بار یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انتظار کرو عنقریب حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا ۔ یہ کیوں فرمایا گیا ؟ اسلئے قانون الٰہی اس طرح ہے کہ ہر باطل عمل فوراََ نابود نہیں ہوتا اور ہر عمل حق فورا فتح مند نہیں ہوتا ۔ ایسا کیوں ہے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا مقتضا یہی ہے کہ ایسا نہ ہو جس رحمت کا مقتضا یہ ہوا کہ مادیات میں تدریج و امہال کا قانون نافذہو اس کی رحمت کا مقتضا یہ ہوا کہ معنویات میں بھی تدریج و امہال کا قانون کام کرے اور عالم مادیات ہو یا معنویات کائنات ہستی کے ہر گوشہ میں قانون فطرت ایک ہی ہے اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The next verse (183) is also related with 'Istidraj'. It said: وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ﴿183﴾ "And I give them respite. Surely, My plan is firm." That is, the disbelievers are left to enjoy their worldly life just for a while. Then, they shall be caught by punishment.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 181–185

143. The word 'companion' here refers to the Prophet (peace be on him) who was born, brought up, grew into youth, in short, spent his whole life including his old age in their midst. Before the advent of his prophethood, Muhammad (peace be on him) was known to all the Quraysh as good natured and of sound mind. However, as he started calling people to accept the Message of God, they immediately dubbed him insane. Now it is obvious that they were not attributing insanity to him as regards his pre-prophetic life, for they had nothing evil to say about that period of his life. The charge of…

Read the full tafseer →