Explained with ayahs 182–183
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے
یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑجائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہوجائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گذری کردیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہوجائیں تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دونگا اور یہ میرے اس داؤ سے بیخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
سورة الْاَعْرَاف 143
رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ آپ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے، انہی کے درمیان رہے بسے، بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوئے۔ نبوت سے پہلے ساری قوم آپ کو ایک نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ آدمی کی حیثیت سے جانتی تھی۔ نبوت کے بعد جب آپ نے خدا کا پیغام پہنچانا شروع کیا تو یکایک آپ کو مجنون کہنے لگی۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم جُنون ان باتوں پر نہ تھا جو آپ نبی ہونے سے پہلے کرتے تھے بلکہ صرف انہی باتوں پر لگایا جارہا تھا جن کی آپ نے نبی ہونے کے بعد تبلیغ شروع کی۔ اسی وجہ سے فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی سوچا بھی ہے، آخر ان باتوں میں کونسی بات جنون کی ہے ؟ کونسی بات بےتکی، بےاصل اور غیر…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اس شبہ کا جواب ہے کہ جب قومی ترقی کا مدار حق پرستی اور حق و انصاف کی پیروی پر ہے تو دوسری غیر مسلم قومیں جو حق سے سراسر دور ہیں وہ کیوں دنیا میں پھلتی پھولتی نظر آتی ہیں، جواب یہ ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ، یعنی ہم اپنی آیات کے جھٹلانے والوں کو اپنی حکمت و رحمت کی بناء پر دفعةً نہیں پکڑتے بلکہ آہستہ آہستہ تدریجا پکڑتے ہیں جس کی ان کو خبر بھی نہیں ہوتی، اس لئے دنیا میں کفار و فجار کی مالداری یا عزت و جاہ سے دھوکہ نہ کھایا جائے، کیونکہ وہ درحقیقت ان کے لئے کوئی بھلائی کا سامان نہیں، بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔
خدا کی ڈھیل ہلاکت کا پھندا ہے۔ اوپر آیت 180 میں آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کو جو دھمکی دی گئی ہے یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلانے کے باوجود دندنا رہے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ خدا کی پکڑ سے باہر ہیں۔ ہم ان کو وہاں سے اپنے ہدف پر لا رہے ہیں جہاں سے ان کو کسی خطرے کا سان گمان بھی نہیں ہے۔ ہم نے ان کو جو ڈھیل دی ہے اس کو یہ اپنی جیت سمجھے ہیں حالانکہ یہ ڈھیل ان کی ہلاکت کا پھندا ہے۔ ہم نے یہ ڈھیل اس لیے دی ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
180۔ 1 حسنی احسن کی تانیث ہے۔ اللہ کے اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت و جلالت اور اس کی قدرت و طاقت کا اظہار ہوتا ہے، صحیحین کی حدیث میں انکی تعداد 99 ایک کم 10 بتائی گئی ہے فرمایا ' جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ نیز علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر)
180۔ 2 الحاد کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا، اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
92: اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لیے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اپنی ہر حاجت اسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اس کا ذکر کرنا، اور اس سے دعائیں مانگنا۔ غفلت کے دور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔
ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
8 جھٹلانے والے مجرموں کو بسا اوقات فوراً سزا نہیں ملتی بلکہ دنیاوی عیش اور فراخی کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ حتٰی کہ خدائی سزا سے بےفکر ہو کر ارتکاب جرائم پر اور زیادہ دلیر بن جاتے ہیں۔ اس طرح جو انتہائی سزا ان پر جاری کرنی ہے رفتہ رفتہ اپنے کو اعلانیہ اور کامل طور پر اس کا مستحق ثابت کردیتے ہیں۔ یہ ہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے۔ وہ حماقت اور بےحیائی سے سمجھتے ہیں کہ ہم پر مہربانی ہو رہی ہے اور حقیقت میں انتہائی عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ خدا کا " کید " (داؤ یا خفیہ تدبیر) اسی کو کہا کہ ایسی کارروائی کی جائے جس کا ظاہر رحمت اور باطن قہر و عذاب ہو۔ بیشک خدا کی تدبیر بڑی مضبوط اور پختہ…
Read the full tafseer →آیت 182 وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُوْنَ
بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کفر کے راستے پر بڑھتا جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی دنیاوی کامیابیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں ‘ جس کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے ‘ ٹھیک کر رہا ہے اور یہ دنیاوی کامیابیاں اس کی اسی روش کا ہی نتیجہ ہیں۔ لہٰذا وہ کفر اور معصیت کے راستے میں مزید آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہ کیفیت کسی انسان کے لیے بہت بڑا فتنہ ہے اور اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔ یعنی کوئی انسان جو پوری دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض اور اس کے احکام سے نافرمانی کرتا ہے تو اللہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
182 ایک فرقہ ہمیشہ حق پر رہتا ہے :۔ بلکہ ہر امت میں ایک گروہ ایسا رہا ہے جو حق پر قائم رہتا ہے خواہ اس کی تعداد کتنی ہی کم ہو اور یہ اس لیے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر اتمام حجت ہوتی رہے چناچہ امت محمدیہ کے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت (73) تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تاہم ان میں ایک فرقہ ایسا ہوگا جو ہمیشہ حق پر قائم رہے گا تاآنکہ قیامت قائم ہو۔ (بخاری۔ کتاب الاعتصام۔ باب لاتزال طائفۃ من امتی۔۔ )
اور سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم بھی پہلے لوگوں کی راہوں پر جا پڑو گے اگر وہ بالشت بھر بڑھے تو تم ہاتھ بھر بڑھو گے۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی…
Read the full tafseer →263 ۔ پھر جب ان لوگوں کو آخری منزل جہنم معلوم ہوگئی تو ان کی ظاہری فلاح سے یا مادی چمک ودمک سے دھوکا کھانا ہی کیا معنی ؟ (آیت) ” سنستدرجھم “۔ یعنی چپکے چپکے انہیں جن ہم کی طرف لیے جارہے ہیں۔ (آیت) ” من حیث لایعلمون “۔ یعنی انہیں اصل منزل مقصود کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اور اپنی شامت سے ہمیشہ دوسرے اسباب کے الجھاوے میں پڑے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 182 تا 188
ترجمہ : اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے ہماری آیتوں یعنی قرآن کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج گرفت میں لے رہے ہیں، اس طریقہ پر کہ ان کو خبر بھی نہیں اور ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے، جس کا کوئی توڑ نہیں، کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ جان لیتے کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو کسی قوم کا جنون نہیں، وہ صرف صاف صاف ٖڈرانے والا ہے کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور (دیگر) ان چیزوں میں جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے (من شیٔ) ما کا بیان ہے، کہ اس کے بنانے والے کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر استدلال کرتے، اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کو موت کا وقت قریب ہی آلگا ہو کہ…
Read the full tafseer →والذین کذبوا بایتنا سسنتدرجہم من حیث لا یعلمون : اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو (جہنم کی طرف) آہستہ آہستہ لئے جا رہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں۔
والذین کذبوا بایتنا اس سے مراد مکہ کے کافر ہیں۔ سنستدرجہم ہم آہستہ آہستہ ان کو ہلاکت کے قریب لئے جا رہے ہیں استدراج کا لغوی معنی ہے آہستہ آہستہ چڑھانا یا درجہ بدرجہ اتارنا۔ من حیث لا یعلمونعطاء نے کہا مراد یہ ہے کہ ہم ان کے متعلق ایسی پوشیدہ تدبیر کریں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ کلبی نے کہا ہم ان کے اعمال ان کی نظر میں مرغوب بنا دیں گے پھر ان کو ہلاک کردیں گے ضحاک نے کہا جس قدر وہ نوبنو گناہ کریں گے ہم نو بنو ان کو نعمتیں…
Read the full tafseer →(182) ابوجہل اور اس کے ساتھی جو رسول اکرم ﷺ کا انکار کرتے ہیں اور نزول عذاب کے بارے میں مذاق اڑاتے ہیں، تو ہم ان کو اس طرح عذاب سے پکڑیں گے کہ انھیں نزول عذاب کا علم بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ۔۔ : یعنی ان پر فوری گرفت نہیں کروں گا، تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جائیں، اسی کا نام ڈھیل اور استدراج (آہستہ آہستہ کھینچ کرلے جانا) ہے، جو کفار کو ان کے گناہوں کی سزا میں دی جاتی ہے، مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے، حالانکہ انھیں آخری عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (44، 45)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 182
اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے خبر دی ہے جنہوں نے اس کی آیات کی تکذیب کی ہے کہ وہ انہیں آہستہ آہستہ پستی میں گرا دے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ اہل مکہ ہیں اور استدراج کا معنی ہے بالتدریج منز بمنزل کسی جیز کو پکڑنا اور درج کا معنی ہے کسی شے کو لپیٹنا۔ کہا جاتا ہے : ادرجتہ ودرجتہ ( میں نے اسے لپیٹ دیا) اور اسی سے ادرج المیت فی اکفانہ بھی ہے ( یعنی میت کو اپنے کفن میں لپیٹ دیا گیا) بعض نے کہا ہے : یہ الدرجہ سے ہے۔ پھر استدراج یہ ہوگا کہ کسی کو درجہ بدرجہ مقصود کی طرف گرایا جائے۔ ضحاک نے کہا کہ : جب بھی وہ ہمارے لیے نئی معصیت کا ارتکاب کرتے ہیں ہم انہیں نئی نعمت عطا فرما دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” سنستدرجھم “ یعنی ہم عنقریب ان کو پکڑیں گے لفظ آیت ” من حیث لایعلمون “ سے مراد بدکار عذاب ہے۔
استدراج سے ڈرتے رہنا چاہئے
(2) امام ابو الشیخ نے یحییٰ بن مثنی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” سنستدرجھم من حیث لایعلمون “ کے بارے میں فرمایا جب بھی وہ کوئی نیا گناہ کرتے تھے تو ہم ان کو ایک نئی نعمت عطا فرماتے ہیں جو انہیں استغفار بھلا دیتی ہے۔
(3) امام ابن ابی الدنیا، ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سفیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” سنستدرجھم من حیث لایعلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان پر نعمتوں کو…
Read the full tafseer →[ وَالَّذِيْنَ : اور جنہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ : ہم بتدریج لے جائیں گے ان کو ] [ مِّنْ حَيْثُ : وہاں سے ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ نہیں جانتے (جس کو )]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
مکذبین کو ڈھیل دی جاتی ہے، اللہ جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں
ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ ہم نے جن لوگوں کو پیدا کیا ہے ان میں ایک جماعت ایسی ہے جو حق کی ہدایت دینے والی ہے۔ یہ لوگ حق کی راہ بتاتے ہیں اور حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ الفاظ کا عموم جنوں اور انسانوں سب کو شامل ہے۔ ان میں بہت سے لوگ وہ ہیں جنہیں دوزخ کے لیے پیدا فرمایا ان کا ذکر قریب ہی گزر چکا ہے اور یہاں بالتصریح یہ بیان فرمایا کہ ان میں حق کی راہ بتانے والے اور حق کے موافق انصاف کرنے والے بھی ہیں۔
پھر آیات کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی جو فوری پکڑ نہیں ہوتی اس سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–183
دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔
شان نزول
اس آیت کے شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
180: یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے آپ تبلیغ توحید کا فریضہ انجام دیتے ہیں جو لوگ عناد سے تکذیب کرتے ہیں ان کو ہم اسطرح آہستہ آہستہ ہلاکت کی طرف لے جارہے ہیں۔ ہم نے ان کو مہلت اس لیے دے رکھی ہے تاکہ وہ دل کھول کر گناہوں کا ارتکاب کرلیں اور شدید ترین عذاب آخرت کے مستحق ہوجائیں مگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اللہ ان پر خوش ہے۔ “ لیس المطلوب الا تدرجهم فی مدارج المعاصی الی ان یحق علیهم، کلمة العذاب الاخروی او الدنیویلی ما قیل علی افظع حال واشنعھا و ؟ ؟ النعم وسیلة الی ذٰلک ”(روح ج 9 ص 127) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–186
ربط آیات
گزشتہ درس میں عہدو یمان توڑنے والوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کا بیان کیا نیز فرمایا کہ جو لوگ غفلت اختیار کرتے ہیں اس کا نتیجہ بالا نتہا جہنم ہوگا پھر اللہ نے توحید اور ایمان کے سلسلے میں اللہ کے اسمائے پاک اور صفات کے ساتھ اسے پکارنے کا حکم دیا اور اس میں کجی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ کجی کرنے والے مجرم ہوں گے اللہ تعالیٰ کے خاص ناموں کو اللہ کے علاوہ کسی غیر پر بولنے ان کا غلط مطلب لینے اور غلط مقام پر استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا کہ ایسا کرنا جرم ہے پھر اللہ نے آخری امت کے لوگوں کی توصیف فرمائی کہ اس امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو راہ حق کی ہدایت دیتے رہیں گے اور…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ 182 ۚ ۖ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–186
ترکیب : والذین الخ مبتداء سنستدرجہم خبر من حیث اس سے متعلق املی مبتداء محذوف کی خبر اے انا املی اور ممکن ہے کہ نستدرج پر معطوف ہو کیدی اسم ان متین خبر مابصاحبھم مانا فیہ اور کلام میں حذف تقدیرہ اولم یتفکروا فی قلوبہم مابہ جنۃ اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لئے ہو اور ممکن ہے کہ بمعنی الذی ہو۔ وان عسٰی جائز ہے کہ ان مخففہ ہو مثقلہ سے اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں محل جر میں ہے عطفا علی ملکوت ان یکون عسٰی کا فاعل اور یکون کا فاعل ضمیر اور قد اقترب الخ خبر۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں یہ کہہ کہ ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جن و انسان پیدا کئے ہیں۔ اخیر میں یہ بھی فرمایا تھا وممن خلقنا امۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
اسلوبِ قرآن کے فہم کے لیے ضروری ہدایات
اگلی آیات کریمہ کی تشریح سے پہلے ضروری ہے کہ چند ایسی باتیں ذکر کردی جائیں جن سے قرآن کریم کے اسلوب کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم اپنے متنوع مضامین اور موضوعات کے اعتبار سے اپنے محضوص انداز میں گفتگو کرتا ہے وہ کسی بھی موضوع پر جب اظہارِ خیال کرتا ہے تو کبھی تو ایک رواں دواں ندی کی طرح آگے بڑھتا ہے اور کبھی اس کے انداز میں دریا کی روانی سمٹ آتی ہے جو صرف ایک موضوع میں سمٹ کر نہیں رہ جاتی بلکہ انسانی طبیعت اور فطرت کے تنوع کو دیکھتے ہوئے ذیلی مضامین اور متعلقات کو بھی ساتھ ساتھ سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–183
فہم القرآن
ربط کلام : جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات سے غافل ہیں جہنم سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ عقل و فکر سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔
ہر دور کے کافر اور مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تغافل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے نہ صرف اس کی صفات کو اپنے معبودوں میں تصور کرتے ہیں بلکہ ان کے نام اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھتے ہیں جو بدترین گناہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسے لوگ سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے یعنی ان سے قلبی…
Read the full tafseer →مکذبین کو موقعہ بموقعہ پکڑیں گے :
آیت 182: وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُھُمْ (جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو آہستہ آہستہ لئے جا رہے ہیں) ان کو عنقریب آہستہ آہستہ اتاریں گے۔ ایسی چیز کی طرف جو ان کو ہلاک کر دے گی۔ مِّنْ حَیْثُ لَایَعْلَمُوْنَ (اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں) کیا مقصود اس سے ہے اور وہ اس طرح کہ گمراہی میں انہماک کے باوجود ان پر متواتر انعامات کرے۔ جب نئی نعمت آئے توانکا تکبر بڑھ جائے۔ اور ان کی معصیتیں جدید ہوجائیں۔ پھر وہ معاصی میں درجہ بدرجہ اترتے جائیں۔ پے درپے انعام کی وجہ سے یہ گمان کر کے کہ متواتر انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ترجیح اور…
Read the full tafseer →181 (والذین کذبوا بایتنا سنستدرجھم من حیث لایعلمون) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ ہم ایسی جگہ سے مکر کریں گے کہ ان کو علم ہی نہ ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ ہم ان کے اطمینان کی جگہ سے آئیں گے۔ جیسا کہ فرمایا ” فاتاھم اللہ من حیث لم یحتسبوا “ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کر کے ان کو ہلاک کردیں گے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جب وہ نئی نافرمانی کریں گے ہم ان کے لئے نئی نعمت لائیں گے۔ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ ان پر نعمتیں نچھاور کردیں گے اور ان کو شکر بھلا دیں گے۔
اہل معانی فرماتے ہیں کہ استدراج یہ ہے کہ کسی چیز ک طرف خفیہ تھوڑا تھوڑا چلا جائے، اس کو اعلانیہ ظاہر نہ کیا جائے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
182۔ 183۔ اللہ پاک نے حق پر قائم رہنے والے لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جو حق باتوں کے مخالف ہیں مراد اس سے روئے زمین کے کل کافر ہیں جو قرآن کی آیتوں کو نہیں مانتے اور اس کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں فرمایا ایسے لوگوں کو ہم آہستہ آہستہ پکڑیں گے ان کو معلوم بھی نہیں ہونے کا پہلے تو ان کو اس طرح پر ڈھیل دی جاوے گی کہ ان کے روزی میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کردیں گے مال دولت ہے انتہا دیں گے ہر طرح ان کو خوش وخرم رکھیں گے اور وہ لوگ ان نعمتوں کو دیکھ کر یہ گمان کرنے لگیں گے کہ وہ راہ راست پر ہیں اس لئے ان پر اللہ کا یہ فضل ہے مگر حقیقت میں یہ فضل و انعام نہیں ڈھیل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →257 اہل کفر و باطل شکنجہ استدراج میں ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ہم ان کو فوراً نہیں پکڑتے جس سے یہ اور مست ہوتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ٹھیک جا رہے ہیں۔ اور اس طرح ایسے لوگ ابدی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں جو کہ سب سے بڑا اور نہایت ہولناک خسارہ ہے۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اہل باطل کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جاتا ہے اور ان کو فراخی رزق و روزی وغیرہ کی نعمتوں سے نوازے جاتا ہے، جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ ٹھیک ہیں اور جس راستے پر ہم چل رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ ورنہ ہم کو یہ سب کچھ کیوں ملتا۔ اس طرح وہ قادر مطلق کی طرف سے شکنجہ استدراج میں مزید از مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–186
اللہ تعالیٰ کا طریق کار
تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–188
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 182 ۔ تا۔ 188
اسرار و معارف :
جو لوگ کفر یا انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں برائی کا راستہ اپنا لیتے ہیں وہ آہستہ دست قدرت کی سخت گرفت میں آ رہے ہوتے ہیں مگر خود انہیں پتہ تک نہیں چلتا۔
استدرج :
استدراج کا معنی تو آہستہ آہستہ کسی کام کرنے مگر اصطلاح شریعت میں ہر وہ کمال جو غفلت میں مبتلا کردے اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہو جیسے بعض شعبدے کسی کو راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
ف 7 یعنی ان پر فورا گرفت نہ کروں گا تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گنا کرتے جائیں۔ اس کا نام ڈھیل اور استدراج ہے جو کفار کو انکے گناہ کی سزا میں دی جاتی ہے مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے حالانکہ انہیں آخری عذاب کے لیے تیار کہا جارہا ہے۔ ( کبیر)8 جس کی کسی حیلہ اور تد بیر سے مدافعت نہیں کی جاسکتی حضرت ابو موسیٰ الا شعری ؓ سے روایت ہے کہ بن صلعم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑتا ہے تو وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا ( بخاری ومسلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
(7:182) سنستدرجھم۔ استدراج (استفعال) سے۔ اس کے معانی علماء نے مختلف پہلوؤں سے کئے ہیں۔ لیکن اصل میں کوئی اختلاف نہیں۔
(1) ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑتے ہیں (مولانا تھانوی (رح))
(2) استدراج کے معنی ہیں مخفی طریقہ سے آہستہ آہستہ کسی چیز کی طرف چلنا (معالم)
(3) ہم ان کے ساتھ ایسی تدبیریں کرنے والے ہیں جن کا ان کو پتہ بھی نہ ہو۔ (عطار)
(4) ہم ان کے اعمال کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنادیں گے پھر ان کو ہلاک کردیں گے ۔ (کلبی)
(5) جب وہ کوئی نیا گناہ کرتے ہیں تو ہم ان کو جدید نعمت بخشتے ہیں۔ (ضحاک)
(6) ہم ان پر اپنی نعمتوں کو بہاتے ہیں لیکن یہ شکر ادا کرنا فراموش کرا دیتے ہیں ۔ (سفیان)
(7) ہم ان کو آہستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–183
تشریح ؛ آیت نمبر 180 تا 183
ان آیات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ یہ نام تقریباً قرآن کریم میں آتے ہیں۔ اللہ اس کا ذاتی نام ہے باقی تمام اسمائے صفات ہیں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ کو ہمیشہ اس کے اچھے ناموں سے پکارو۔ لوگوں نے جو اللہ کے مشرکانہ نام رکھے ہوئے ہیں ان کو چھوڑ دو کیونکہ وہ نام گندے اور برے نام ہیں۔ اگر کوئی برے گندے اور مشرکانہ ناموں سے اسکو پکارے گا تو اس کی اس کی سزادی جائیگی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 ہیں اس کو ان ہی ناموں سے یاد کرو۔ جو شخص ان ناموں کا ورد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اس حدیث سے دو…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ جو قرآن کی آیتوں کو نہیں مانتے اور اس کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ جس سے مراد کافر ہیں۔ فرمایا ایسے لوگوں کو ہم آہستہ آہستہ پکڑیں گے ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔ پہلے اس طرح ڈھیل دی جاوے گی کہ ان کی روزی رزق میں ترقی کردیں گے مال و دولت بےانتہا دیں گے۔ ہر طرح ان کو خوش و خرم رکھیں گے اور وہ لوگ ان نعمتوں کو دیکھ کر یہ گمان کرنے لگیں گے کہ وہ راہ راست پر ہیں۔ اس لیے ان پر اللہ کا یہ فضل ہے مگر حقیقت میں یہ فضل انعام نہیں بلکہ ڈھیل ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی پکڑ اس طرح پر ہوگی کہ جب وہ لوگ خوب مال سے مست ہوجاویں گے تو ہم ان کو ایک دفعہ ہی اس طرح مضبوطی کے ساتھ پکڑیں گے کہ ان کی رہائی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
[74] رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں کہ آپ کا بچپن، جوانی اور بڑھاپے کا بیشتر حصہ اہل مکہ کے درمیان گزرا، جو آپ کی نبوت سے پہلے آپ کو سلیم الطبع اور صحیح الدماغ انسان سمجھتے تھے۔ لیکن نبوت کے بعد جب آپ نے رسالت کے فرائض انجام دینا شروع کئے تو یکایک یہ لوگ آپ کو مجنون کہنے لگے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں نے عاقبت اندیشی اور دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور آپ کی طرف جنون کی نسبت کردی ؟ کیا مجنون ایسے ہوتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–185
خدا کے نام :
(ف 2) اللہ کے تمام نام جو کتاب وسنت میں وارد ہیں ، اسماء حسنی ہیں ، اور وہ نام جو کتاب وسنت میں نہیں آئے اور ان سے ذم ویاشرک کا پہلو نکلتا ہے ، مذموم ہیں ان ناموں سے اللہ کو پکارنا ناجائز ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ اللہ نام ہے صفات کمال کے اجتماع کا ، حسن کامل کا ، اور جمال جامع کا ، خالص خوبصورتی اور رعنائی کا ، اس لئے وہ تعبیرات جن سے ذم اور قبح کا پہلو نمایاں ہوں ، غیر صحیح اور غلط ہیں علماء کرام کے دو گروہ ہیں ، ایک وہ ہیں جو اسماء الہی کو توفیقی کہتے ہیں ، صحیح عقیدہ ان دونوں کے بین بین ہے ان معنوں میں توقیفی ہیں ، کہ ملحدانہ مذموم اور غیر ثابت المنی ناموں کا استعمال درست نہیں ،…
Read the full tafseer →182 اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب اور ان کو جھٹلانے کا شیوہ اختیار کررکھا ہے ہم ان کو بتدریج آہستہ آہستہ جہنم اور ہلاکت و تباہی کی طرف اس طور پر لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ یعنی ہم ان کو غیر محسوس طریقہ پر تباہی کے گڑھے کی طرف لے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی جہنم کی طرف۔
4۔ اور لایعلمون کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس مہلت کو محمول کرتے ہیں اپنے طریقہ کے حق ہونے اور اپنے محبوب و مقبول عنداللہ ہونے پر حالانکہ وہ جہنم تک کی مسافت کو قطع کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →آیات الٰہی کے جھٹلانے والوں کو درجہ بدرجہ بلند کرنے کا مفہوم :
206: یہ سنت اللہ کا بیان ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں ان کو بیخبر ی میں تباہی کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔ فرمایا ان کو بیخبر ی میں تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو دنیا میں نعمتوں سے نوازا جائے ، صحت ، مال ، اولاد اور دنیوی کامیابیاں عطا کی جائیں جن سے دھوکہ کھا کر وہ سمجھیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ بالکل صحیح اور درست ہے اور ہمارے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہے اس طرح وہ حق کی دشمنی اور ظلم و طغیان میں زیادہ سے زیادہ غرق ہوتے چلے جاتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جو نعمتیں بھی ہمیں مل رہی ہیں…
Read the full tafseer →The next verse (182) has provided answer to a common question which bothers the minds of many Muslims. If prosperity and progress can only be achieved by following the way of truth and justice why the non-Muslim nations of the world are seen more prosperous, more advanced and more powerful while they are very far from the truth? The verse answered this question in these words:
"As for those who belie our signs, we shall let them be drawn gradually towards (their punishment) from where they do not know."
That is to say, Allah does not punish those who reject the signs or verses of Allah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
143. The word 'companion' here refers to the Prophet (peace be on him) who was born, brought up, grew into youth, in short, spent his whole life including his old age in their midst. Before the advent of his prophethood, Muhammad (peace be on him) was known to all the Quraysh as good natured and of sound mind. However, as he started calling people to accept the Message of God, they immediately dubbed him insane. Now it is obvious that they were not attributing insanity to him as regards his pre-prophetic life, for they had nothing evil to say about that period of his life. The charge of…
Read the full tafseer →