امت محمد ﷺ کے اوصاف
یعنی بعض لوگ حق وعدل پر قائم ہیں۔ حق بات ہی زبان سے نکالتے ہیں، حق کام ہی کرتے ہیں، حق کی طرف ہی اوروں کو بلاتے ہیں، حق کے ساتھ ہی انصاف کرتے ہیں اور بعض آثار میں مروی ہے کہ اس سے مراد امت محمد یہ ہے چنانجہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی ﷺ جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے کہ یہ تمہارے لئے ہے تم سے پہلے یہ وصف قوم موسیٰ کا تھا۔ ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ حضور کا ارشاد ہے میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں وہ خواہ کبھی بھی اتریں۔ بخاری و مسلم میں ہے آپ فرماتے ہیں میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ظاہر رہے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
سورة الْاَعْرَاف 143
رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ آپ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے، انہی کے درمیان رہے بسے، بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوئے۔ نبوت سے پہلے ساری قوم آپ کو ایک نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ آدمی کی حیثیت سے جانتی تھی۔ نبوت کے بعد جب آپ نے خدا کا پیغام پہنچانا شروع کیا تو یکایک آپ کو مجنون کہنے لگی۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم جُنون ان باتوں پر نہ تھا جو آپ نبی ہونے سے پہلے کرتے تھے بلکہ صرف انہی باتوں پر لگایا جارہا تھا جن کی آپ نے نبی ہونے کے بعد تبلیغ شروع کی۔ اسی وجہ سے فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی سوچا بھی ہے، آخر ان باتوں میں کونسی بات جنون کی ہے ؟ کونسی بات بےتکی، بےاصل اور غیر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہماری مخلوق جن و انس میں (سب گمراہ ہی نہیں بلکہ) ایک جماعت (ان میں) ایسی بھی ہے جو (دین) حق (یعنی السلام) کے موافق (لوگوں کو) ہدایت (بھی) کرتے ہیں اور اسی کے موافق (اپنے اور غیروں کے معاملات میں) انصاف بھی کرتے ہیں اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو بتدریج (جہنم کی طرف) لئے جارہے ہیں اس طور کہ ان کو خبر بھی نہیں اور (دنیا میں عذاب نازل کر ڈالنے سے) ان کو مہلت دیتا ہوں، بیشک میری تدبیر بہت مضبوط ہے کیا ان لوگوں نے اس بات میں غور نہ کیا کہ ان کا جن سے سابقہ ہے ان کو ذرا بھی جنون نہیں وہ تو صرف ایک صاف صاف (عذاب سے) ڈرانے والے ہیں (جو کہ اصالةً پیغمبر کا کام ہوتا ہے)…
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ۔ یعنی خدا کی مخلوق میں سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں۔ اگر ایک طرف وہ اندھے بہرے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا تو کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں، حق کو پہچانتے ہیں، اسی کے مطابق لوگوں کی رہنمائی اور معاملات کے فیصلے کرتے ہیں۔ اوپر آیت 159 میں جس طرح بنی اسرائیل کے اندر کے اچھے لوگوں کا ذکر کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے اسی طرح یہاں لقد ذرانا لجہنم کے مرگ انبوہ ذکر کے بعد ان زندہ روحوں کی طرف اشارہ کردیا جن کی فطرت اس وبائے عام اور اس مرگ انبوہ کے اندر بھی زندہ رہی اور جو بالآخر اسلام کے نور سے منور ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
180۔ 1 حسنی احسن کی تانیث ہے۔ اللہ کے اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت و جلالت اور اس کی قدرت و طاقت کا اظہار ہوتا ہے، صحیحین کی حدیث میں انکی تعداد 99 ایک کم 10 بتائی گئی ہے فرمایا ' جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ نیز علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر)
180۔ 2 الحاد کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا، اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
92: اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لیے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اپنی ہر حاجت اسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اس کا ذکر کرنا، اور اس سے دعائیں مانگنا۔ غفلت کے دور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔
ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ…
Read the full tafseer →7 یہ جماعت امت محمدیہ مرحومہ ہے علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم جس نے ہر قسم کی افراط اور تفریط اور کجروی سے علیحدہ ہو کر سچائی اور انصاف و اعتدال کا طریقہ اختیار کیا۔ اور اسی کی طرف دوسروں کو دعوت دیتی ہے۔ آگے اس امت کے مخالفین اور حق کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 181 وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّۃٌ یَّہْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ ۔
یقیناً ہر دور میں کچھ لوگ حق کے علمبردار رہے ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ جیسے حضور ﷺ نے ضمانت دی ہے :
لَا تَزَالُ طَاءِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ ظَاھِرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ 1
میری امت میں ایک گروہ ضرور حق پر قائم رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
182 ایک فرقہ ہمیشہ حق پر رہتا ہے :۔ بلکہ ہر امت میں ایک گروہ ایسا رہا ہے جو حق پر قائم رہتا ہے خواہ اس کی تعداد کتنی ہی کم ہو اور یہ اس لیے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر اتمام حجت ہوتی رہے چناچہ امت محمدیہ کے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت (73) تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تاہم ان میں ایک فرقہ ایسا ہوگا جو ہمیشہ حق پر قائم رہے گا تاآنکہ قیامت قائم ہو۔ (بخاری۔ کتاب الاعتصام۔ باب لاتزال طائفۃ من امتی۔۔ )
اور سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم بھی پہلے لوگوں کی راہوں پر جا پڑو گے اگر وہ بالشت بھر بڑھے تو تم ہاتھ بھر بڑھو گے۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی…
Read the full tafseer →262 ۔ یعنی ہماری مخلوق میں سب کے سب ہی گمراہ نہیں۔ ایک جماعت اہل حق کی بھی ہے۔ جو دوسروں کی دین حق کے مطابق ہدایت کرتی رہتی ہے اور خود بھی بندوں کے ساتھ معاملات میں اسی قانون حق کے ماتحت برتاؤ کرتی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–181
واتل۔۔۔۔ منھا (الآیۃ) اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا عبرت ناک واقعہ مذکور ہے، بنی اسرائیل کا ایک بڑا عالم اور مشہور مقتداء علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے باوجود دفعۃً گمراہ ہوگیا۔
بلعم بن باعوراء کے واقعہ کی تفصیل : مذکورہ آیت میں نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ تم یہود کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں مگر وہ ان نشانیوں سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے ائمہ تفسیر سے اس بارے میں مختلف روایتیں مذکور ہیں جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد وہ روایت ہے جو ابن مردویہ نے حضرت عباس ؓ سے نقل کی ہے اس روایت میں اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء…
Read the full tafseer →وممن خلقنا امۃ یہدون بالحق وبہ یعدلون : اور ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق (یعنی اسلام) کے مطابق ہدایت کرتا ہے اور حق ہی کے موافق عدل کرتا ہے۔
وَمِمَّنْ خلقنا امۃ بغوی نے لکھا ہے کہ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ آیت میں امت سے مہاجرین انصار اور وہ لوگ جو ان کے پیرو ہوں مراد ہیں۔ قتادہ نے کہا ہم کو اطلاع ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے یہ تمہارے لئے ہے اور اسی کی طرح اس امت کو بھی دیا گیا تھا جو تمہارے سامنے موجود ہے (یعنی یہودی ‘ یہودیوں کے متعلق آیا تھا) ومن قوم موسیٰ امۃ یہدون بالحق وبہ یعدلون کلبی نے کہا (کوئی خاص امت مراد نہیں ہے بلکہ آیت عام ہے)…
Read the full tafseer →(181) اور امت محمدیہ ﷺ سچائی اور حق کا حکم دیتی ہے اور خود بھی حق پر عمل پیرا ہے۔
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ : یہی وصف اس سے پہلے آیت (159) میں موسیٰ ؑ کی امت کے بعض اشخاص کا بیان ہوا ہے۔ یہاں مراد امت محمد ﷺ ہے، کیونکہ اب حق صرف اس امت کے پاس ہے۔ اس میں صحابہ کرام ؓ ، تابعین، سلف صالحین اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر نئے راستے اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف کتاب و سنت پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی بھی اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، کیونکہ حق یہی ہے اور اسی کے مطابق تمام معاملات میں لوگوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی آخری کوشش تک لگا دیتے ہیں، یعنی جہاد کرتے ہیں۔ معاویہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 181
حدیث میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” وہ یہیں امت ہے “ اور یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” یہ تمہارے لیے ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی بھی اسی کی مثل عطا فرمائی “۔ اور آپ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : ” بیشک میرے امت میں سے ایک قوم حق پر رہے گی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوجائیں گے “۔ پس یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کسی وقت بھی دنیا کو ایسے داعی سے خالی نہیں کرے گا جو حق کی طرف دعوت دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالھق “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ میری امت حق کے ساتھ حکم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔ اور (حق کے ساتھ کسی سے) لیتے ہیں اور حق کے ساتھ کسی کو دیتے ہیں۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جب اس کو پڑھتے تھے کہ یہ آیت تمہارے لئے ہے اور ایک قوم کو تم سے پہلے اس کی مثل دیا…
Read the full tafseer →[ وَمِمَّنْ : اور ان میں سے جن کو ] [ خَلَقْنَآ : ہم نے پیدا کیا ] [ اُمَّةٌ: کچھ ایسے لوگ ہیں ] [ يَّهْدُوْنَ : جو ہدایت دیتے ہیں ] [ بِالْحَقِّ : حق کی ] [ وَبِهٖ : اور اس ہی سے ] [ يَعْدِلُوْنَ : وہ عدل کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–182
مکذبین کو ڈھیل دی جاتی ہے، اللہ جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں
ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ ہم نے جن لوگوں کو پیدا کیا ہے ان میں ایک جماعت ایسی ہے جو حق کی ہدایت دینے والی ہے۔ یہ لوگ حق کی راہ بتاتے ہیں اور حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ الفاظ کا عموم جنوں اور انسانوں سب کو شامل ہے۔ ان میں بہت سے لوگ وہ ہیں جنہیں دوزخ کے لیے پیدا فرمایا ان کا ذکر قریب ہی گزر چکا ہے اور یہاں بالتصریح یہ بیان فرمایا کہ ان میں حق کی راہ بتانے والے اور حق کے موافق انصاف کرنے والے بھی ہیں۔
پھر آیات کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی جو فوری پکڑ نہیں ہوتی اس سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–183
دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔
شان نزول
اس آیت کے شان…
Read the full tafseer →179: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذکورہ بالا اوصاف رکھنے والوں کے علاوہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
ربط آیات
عہدوپیمان کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو اس کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے دل ، آنکھیں اور کان اللہ کی عطا کردہ خاص نعمتیں ہیں ان کو ٹھیک طور سے استعمال نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ غافل بن جائیں گے اور بالآخر جہنم میں پہنچیں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کا ذکر آرہا ہے اور یہ سلسلہ سورة کے ابتدائی حصہ کے ساتھ ہی مربوط ہے۔
سورۃ الاعراف مکی سورة ہے اور اس میں ان اہم ترین مسائل کا ذکر ہے جن میں مشرک لوگ اختلاف کرتے تے ان مسائل میں توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کریم کی حقانیت کے مسائل شامل ہیں اللہ تعالیٰ نے سورة کی…
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّۃٌ يَّہْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ يَعْدِلُوْنَ 181 ۧ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–181
ترکیب : کثیرا الخ مفعول ہے ذرانا کا ‘ لجہنم اس سے متعلق من الجن والانس کثیرا کا بیان ‘ لہم قلوب جملہ لغت ہے کثیرا کی اولئک مبتداء کالانعام خبر و کذا اما بعدہ الاسماء موصوف الحسنی صفت مجموعہ مبتداء مؤخر للّٰہ خبر مقدم الذین الخ جملہ مفعول ذروا کا وممن الخ نکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی جار متعلق ہے خلقنا سے جملہ خبر ہے امۃ موصوف یہدون الخ صفت مجموعہ مبتداء۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا من یہد اللّٰہ فہو المہتدی ومن یضلل فاولئک ھم الخسرون کہ جس کو خدا گمراہ کرتا ہے وہی زیاں کار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے گمراہ کرنے کے کیا معنی ہیں ؟ یہ نہیں کہ وہ بری باتوں کا حکم دیتا ہے شرک و کفر کی…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَمِمَّنْ خَلَقُنَآ اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بَالْحَقِ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ ۔ (الاعراف : 181)
” اور جن کو ہم نے پیدا کیا ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی راہنمائی اور اس کے مطابق فیصلے کرتے ہیں “۔
امتِ مسلمہ کا حقیقی تعارف :
امامِ تفسیریر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو تلاوت کر کے ارشاد فرمایا کہ یہ امت جس کا ذکر اس آیت میں ہے، میری امت ہے، جو اپنے سب جھگڑوں کے فیصلے حق و انصاف یعنی قانونِ الٰہی کے مطابق کریں گے اور لینے دینے کے تمام معاملات میں حق و انصاف کو سامنے رکھیں گے۔
عبد بن حمید کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–183
فہم القرآن
ربط کلام : جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات سے غافل ہیں جہنم سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ عقل و فکر سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔
ہر دور کے کافر اور مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تغافل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے نہ صرف اس کی صفات کو اپنے معبودوں میں تصور کرتے ہیں بلکہ ان کے نام اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھتے ہیں جو بدترین گناہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسے لوگ سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے یعنی ان سے قلبی…
Read the full tafseer →داعیانِ حق :
آیت 181: وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ (اور ہماری مخلوق میں) جنت کے لئے کیونکہ یہ ولقد ذراْ نالجھنم کے مقا بلہ کے لئے ہے۔ اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ (ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتا ہے اور حق کے موافق عدل کرتا ہے) اپنے احکام میں۔ کہا گیا ہے کہ اس سے علماء اور داعیان دین مراد ہیں۔
حجیت اجماع :
اس میں دلالت ہے کہ ہر زمانہ کے اہل حق کا اجماع حجت ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 181 (ومن خلقنآ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون ) عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ کی امت مراد ہے۔ یعنی مہاجرین و انصار اور احسان کے ساتھ ان کے پیچھے چلنے والے۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے ہیں تمہارے لئے ہے اور ایک قوم کو تم سے پہلے اس کی مثال دیا گیا تھا۔” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “ عمیر بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو سنا کہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت اللہ کے حکم کے ساتھ قائم رہے گی ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گا جو ان کو رسوا کرنا چاہے گا اور نہ…
Read the full tafseer →181۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے فرمایا تھا کہ گمراہوں کو دوزخ کے واسطے پیدا کیا گیا ہے اس کے بعد اب اہل جنت کا ذکر اس آیت میں بیان فرمایا کہ دنیا میں ایک گروہ وہ بھی ہے جو ہمیشہ دین حق پر قائم اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہے گا اور اپنے ہر کام کا اسی پر دار و مدار رکھ کر فیصلہ کیا کریگا بعضے مفسروں کا قول ہے کہ یہ فرقہ ہر ایک نبی کی امت میں تھا جب سے دنیا قائم ہے اور اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیت خاص آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ ہے جو ہمیشہ حق پر رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں 1 ؎ گے۔ صحیحین میں معاویہ بن ابی سفیان کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
255 اللہ ہی کیلئے ہیں سب سے اچھے نام : کہ ہر اچھائی کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور ہر تعریف و توصیف کا اصل حق دار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لئے ایسے بہترین ناموں " اسمائے حسنیٰ " کا حقدار و مستحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور کسی کمال کا ایسا درجہ جس سے اوپر کوئی درجہ نہ ہوسکے وہ صرف اور صرف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کیلئے ہوسکتا ہے کہ وہ ہی ہے جو ہر خوبی و کمال کا خالق ومالک ہے ۔ جل و علا شانہ ۔ اس آیت کریمہ کا تعلق در اصل توحید کے اس عہد فضیلت سے ہے جس کا ذکر اوپر آیت نمبر 172 میں آیا ہے۔ بیچ میں ان لوگوں کا ذکر آگیا جنہوں نے اللہ کی آیات کی قدر نہیں کی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نہایت اعلیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–186
اللہ تعالیٰ کا طریق کار
تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →ف 5 مراد صحا بہ کرام ؓ تابیعن (رح) یعنی سلف صالح اور وہ لوگ جو ان کے راستے کو چھوڑ کر نئے نئے طر یقے اختیار نہیں کرتے، حدیث میں ہے کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ ( بخاری مسلم فراخی کے دروازہ کھول دینگے اور خوب مالا مال کر دینگے حتی کہ کہ وہ دنیا کی نعمتوں سے بد مست ہو کر آخرت کی جو ابدہی کو فراموش کر بیٹھینگے نیز دیکھئے سورة الانعام آیت 54 ۔ 55، ( کبیر، ابن کثیر )
Read the full tafseer →(7:181) یعدلون۔ عدل و انصاف کرتے ہیں۔ بہ میں ضمیر الحق کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–183
تشریح ؛ آیت نمبر 180 تا 183
ان آیات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ یہ نام تقریباً قرآن کریم میں آتے ہیں۔ اللہ اس کا ذاتی نام ہے باقی تمام اسمائے صفات ہیں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ کو ہمیشہ اس کے اچھے ناموں سے پکارو۔ لوگوں نے جو اللہ کے مشرکانہ نام رکھے ہوئے ہیں ان کو چھوڑ دو کیونکہ وہ نام گندے اور برے نام ہیں۔ اگر کوئی برے گندے اور مشرکانہ ناموں سے اسکو پکارے گا تو اس کی اس کی سزادی جائیگی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 ہیں اس کو ان ہی ناموں سے یاد کرو۔ جو شخص ان ناموں کا ورد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اس حدیث سے دو…
Read the full tafseer →مسلمان اور کافر کا ذکر
یہ آیت خاص آنحضرت ﷺ کی امت کی شان میں نازل ہوئی ہے کہ ایک گروہ وہ بھی ہے جو ہمیشہ دین حق پر قائم اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہے گا اور اپنے ہر کام کا اسی پر ہر کام کا اسی پر دارومدار رکھ کر فیصلہ کیا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–184
[74] رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں کہ آپ کا بچپن، جوانی اور بڑھاپے کا بیشتر حصہ اہل مکہ کے درمیان گزرا، جو آپ کی نبوت سے پہلے آپ کو سلیم الطبع اور صحیح الدماغ انسان سمجھتے تھے۔ لیکن نبوت کے بعد جب آپ نے رسالت کے فرائض انجام دینا شروع کئے تو یکایک یہ لوگ آپ کو مجنون کہنے لگے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں نے عاقبت اندیشی اور دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور آپ کی طرف جنون کی نسبت کردی ؟ کیا مجنون ایسے ہوتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–185
خدا کے نام :
(ف 2) اللہ کے تمام نام جو کتاب وسنت میں وارد ہیں ، اسماء حسنی ہیں ، اور وہ نام جو کتاب وسنت میں نہیں آئے اور ان سے ذم ویاشرک کا پہلو نکلتا ہے ، مذموم ہیں ان ناموں سے اللہ کو پکارنا ناجائز ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ اللہ نام ہے صفات کمال کے اجتماع کا ، حسن کامل کا ، اور جمال جامع کا ، خالص خوبصورتی اور رعنائی کا ، اس لئے وہ تعبیرات جن سے ذم اور قبح کا پہلو نمایاں ہوں ، غیر صحیح اور غلط ہیں علماء کرام کے دو گروہ ہیں ، ایک وہ ہیں جو اسماء الہی کو توفیقی کہتے ہیں ، صحیح عقیدہ ان دونوں کے بین بین ہے ان معنوں میں توقیفی ہیں ، کہ ملحدانہ مذموم اور غیر ثابت المنی ناموں کا استعمال درست نہیں ،…
Read the full tafseer →181 اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو دین حق کے موافق لوگوں کو ہدایت بھی کرتی ہے اور اسی دین حق کے مطابق معاملات کے متعلق لوگوں میں انصاف بھی کرتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شرع پر مطلب یہ ہے کہ تمام مخلروق یکساں نہیں ہے جہاں بہت سے برے ہیں وہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے کردار اور ان کا انصاف شریعت اسلامی کے موافق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
ف 1۔ اوپر اہل ضلالت کی حالت بیان فرمائی کہ باوجود ضوح طرق ہدایت کے پھر عناد و خلاف کو نہیں چھوڑتے چونکہ ان کے اس عنداد و خلاف سے رسول اللہ کو سخت غم ہوتا تھا اس لیے آگے آپ کی تسلی کا مضمون ہے۔
Read the full tafseer →انسانوں میں ایسے انسان بھی یقیناً موجود د ہیں جو سچائی کی راہ دکھاتے ہیں :
205: مطلب یہ ہے کہ سارے انسان ایک ہی طرح کے نہیں بلکہ جہاں عقل و فکر سے کام نہ لینے والے موجود ہیں وہاں عقل و فکر سے کام لینے والے بھی موجود ہیں ۔ سارے ہی اندھے اور بہرے نہیں ۔ جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں وہ یقیناً حق کو پہچانتے ہیں ۔ اگر مشرک اس دنیا میں موجود ہیں تو یقیناً موحد بھی موجود ہیں اور اگر بےراہ روئوں کی کمی نہیں تو بہر حال سیدھی راہ چلنے والے بھی موجود ہیں اگرچہ وہ کم ہی ہوں ۔ اگر ایسے لوگ موجود ہیں جو حق و ناحق میں فرق نہیں کرتے تو یقیناً فرق کرنے والے بھی موجود ہیں جن کو حق اور ناحق صاف صاف نظر آتا ہے…
Read the full tafseer →The previous verses offered a remedy of calling Allah by His good names to those who were neglectfully not making proper use of their faculties. Now the verse 181 speaks of those who followed the right path. The verse said, “ And among those we have created, there are people who guide with truth and do justice thereby”. That is, they are a people who guide others to the straight path and decide all their matters according to the dictates of truth (the divine law).
Ibn Jarir has reported from his own sources that the Holy Prophet ﷺ recited this verse and said, The people referred to in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–185
143. The word 'companion' here refers to the Prophet (peace be on him) who was born, brought up, grew into youth, in short, spent his whole life including his old age in their midst. Before the advent of his prophethood, Muhammad (peace be on him) was known to all the Quraysh as good natured and of sound mind. However, as he started calling people to accept the Message of God, they immediately dubbed him insane. Now it is obvious that they were not attributing insanity to him as regards his pre-prophetic life, for they had nothing evil to say about that period of his life. The charge of…
Read the full tafseer →