اسماء الحسنیٰ
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں انہیں جو محفوظ کرلے وہ جنتی ہے وہ وتر ہے طاق کو ہی پسند فرماتا ہے (بخاری وغیرہ) ترمذی میں ہے ننانوے نام اس طرح ہیں دعا (اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الاخالق الباری المصور الغفار القھار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الہسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشھید الحق الوکیل القوی المتین الولی…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 141
اب تقریر اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے اس لیے خاتمہ کلام پر نصیحت اور ملامت کے ملے جلے انداز میں لوگوں کو ان کی چند نمایاں ترین گمراہیوں پر متنبہ کیا جارہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں انکار و استہزا کا جو رویّہ انہوں نے اختیار کر رکھا تھا اس کی غلطی سمجھاتے ہوئے اس کے برے انجام سے انہیں خبردار کیا جارہا ہے۔
سورة الْاَعْرَاف 142
انسان اپنی زبان میں اشیاء کے جو نام رکھتا ہے وہ دراصل اس تصور پر مبنی ہوتے ہیں جو اس کے ذہن میں ان اشیاء کے متعلق ہوا کرتا ہے۔ تصور کا نقص نام کے نقص کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور نام کا نقص تصوّر کے نقص پر دلالت کرتا ہے۔ پھر اشیاء کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اچھے اچھے (مخصوص) نام اللہ ہی کے لئے (خاص) ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور (دوسروں پر ان ناموں کا اطلاق مت کیا کرو بلکہ) ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے (مذکورہ) ناموں میں کج روی کرتے ہیں (اس طرح سے کہ غیر اللہ پر ان کا اطلاق کرتے ہیں جیسا وہ لوگ ان کو معبود اور الہ اعتقاد کے ساتھ کہتے تھے) ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔
معارف و مسائل
پچھلی آیات میں اہل جہنم کا ذکر تھا جنہوں نے اپنی عقل و حواس کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے سوچنے میں صرف نہیں کیا اور آخرت کی دائمی اور لازوال زندگی کے لئے کوئی سامان فراہم نہیں کیا جس کا…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
یہ آیت، اوپر آیت 172 میں توحید کا عہد فطرت ہونا جو بیان ہوا ہے، اس سے متعلق ہے، بیچ میں ان لوگوں کا ذکر آگیا تھا جنہوں نے اللہ کی آیات کی قدر نہیں کی اور خدا کی طرف سے نہایت اعلی صلاحیتیں پا کر اندھے بہرے بن گئے۔ اب یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے صرف اچھی ہی صفتیں اور اچھے ہی نام ہیں تو اس کو انہیں صفتوں سے پکارو اور ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو، جو صفات الٰہی کے باب میں گمراہی کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں، اس کے شریک ٹھہراتے ہیں یا اس کے بیٹے بیٹیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
180۔ 1 حسنی احسن کی تانیث ہے۔ اللہ کے اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت و جلالت اور اس کی قدرت و طاقت کا اظہار ہوتا ہے، صحیحین کی حدیث میں انکی تعداد 99 ایک کم 10 بتائی گئی ہے فرمایا ' جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ نیز علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر)
180۔ 2 الحاد کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا، اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–182
92: اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لیے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اپنی ہر حاجت اسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اس کا ذکر کرنا، اور اس سے دعائیں مانگنا۔ غفلت کے دور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔…
Read the full tafseer →توحید کے فطری اور کائناتی میثاق کے منظر کو پیش کرنے کے بعد اور اس میثاق سے انحراف کرنے والو کی تمثیل کے بعد جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں آیات الہیہ دی جاتی ہیں اور وہ ان سے نکل بھاگتے ہیں۔ اب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو لوگ محرف اور گمراہ ہیں اور جو دعوت اسلامی کا مقابلہ کرتے ہوئے شرک اور کفر کے نمائندے ہیں ، جو اللہ کے ناموں کو بگاڑ کر غلط استعمال کرتے ہیں اور ان سے اپنے بتوں کو موسوم کرتے ہیں۔
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔
اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں…
Read the full tafseer →6 غافلین کا حال ذکر کر کے مومنین کو متنبہ فرمایا ہے کہ تم غفلت اختیار نہ کرنا۔ غفلت دور کرنے والی چیز خدا کی یاد ہے، سو تم ہمیشہ اس کو اچھے ناموں سے پکارو اور اچھی صفات سے یاد کرو، جو لوگ اس کے اسماء وصفات کے بارے میں کج روش اختیار کرتے ہیں انہیں چھوڑ دو وہ جیسا کریں گے ویسا بھگتیں گے۔ خدا کے ناموں اور صفتوں کے متعلق کجروی یہ ہے کہ خدا پر ایسے نام یا صفت کا اطلاق کرے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی۔ اور جو حق تعالیٰ کی تعظیم و جلال کے لائق نہیں یا اس کے مخصوص نام اور صفت کا اطلاق غیر اللہ پر کرے، یا ان کے معانی بیان کرنے میں بےاصول تاویل اور کھینچ تان کرے یا ان کو معصیت (مثلاً سحر وغیرہ) کے…
Read the full tafseer →آیت 180 وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَاص۔
اللہ تعالیٰ کی صفات کے اعتبار سے اس کے بیشمار نام ہیں۔ ان میں سے کچھ قرآن میں آئے ہیں اور کچھ احادیث میں۔ ایک حدیث جو حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے ‘ اس میں حضور اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام گنوائے ہیں۔ ان ناموں میں اللہ سب سے بڑا اور اہم ترین نام ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب نام اچھے ہیں ‘ ان ناموں کے حوالے سے اس کو پکارا کرو ‘ ان ناموں کے ذریعے سے دعا کیا کرو۔ جیسے یاسَتَّارُ ‘ یَا غَفَّارُ ‘ یَا کَرِیْمُ ‘ یَا عَلِیْمُ۔ ضمنی طور پر یہاں ایک نکتہ نوٹ کرلیں کہ قرآن مجید میں اللہ کے لیے لفظ صفت کہیں استعمال…
Read the full tafseer →181 الحاد اور اس کی قسمیں :۔ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام صرف اللہ تعالیٰ ہے باقی اس کے جتنے بھی نام ہیں سب صفاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں یاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا (بخاری کتاب التوحید باب ان للہ مائۃ اسم الا واحدۃ) اور اللہ تعالیٰ کے ان ناموں یا صفات میں کجروی کا ہی دوسرا نام الحاد ہے اور الحاد کی کئی قسمیں ہیں مثلاً ایک یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں وہ کسی دوسرے میں بھی تسلیم کرنا جیسے کسی اور کو بھی عالم الغیب یا رزاق اور داتا اور حاجت روا، مشکل کشا اور کار ساز سمجھنا اور دوسرے یہ کہ انہیں ناموں سے استدلال کر کے باطل چیزوں کے امکان پر…
Read the full tafseer →261 ۔ (آیت) ” وذروالذین یلحدون فی اسمآۂ “۔ یعنی جو لوگ اللہ کے اسماء وصفات میں الحاد سے کام لیتے رہتے ہیں انہیں چھوڑ رہو۔ ایسوں سے بالکل بےتعلق رہو لیکن خود الحاد فی الاسماء کیا چیز ہے ؟ الحد کے لفظی معنی کجروی کے یا انحراف کے ہیں۔ اور یلحدون فی اسماۂ کے دو پہل وہیں ایک یہ کہ جو صفات موصوف میں نہ موجود ہوں، یا جو اس کے مرتبہ کے خلاف ہوں، انہیں اس کی جانب منسوب کردیا جائے، دوسرے یہ کہ جو صفات اس موصوف میں ہوں، ان میں خواہ مخواہ دوسروں کو شریک کرلیاجائے، والالحاد فی اسماۂ علی وجھین احدھما ان یوصف بما لا یصح وصفہ بہ والثانی ان یتأول اوصافہ علی ما لا یلیق بہ (راغب) یہاں ممانعت دونوں چیزوں کی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–181
واتل۔۔۔۔ منھا (الآیۃ) اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا عبرت ناک واقعہ مذکور ہے، بنی اسرائیل کا ایک بڑا عالم اور مشہور مقتداء علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے باوجود دفعۃً گمراہ ہوگیا۔
بلعم بن باعوراء کے واقعہ کی تفصیل : مذکورہ آیت میں نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ تم یہود کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں مگر وہ ان نشانیوں سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے ائمہ تفسیر سے اس بارے میں مختلف روایتیں مذکور ہیں جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد وہ روایت ہے جو ابن مردویہ نے حضرت عباس ؓ سے نقل کی ہے اس روایت میں اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء…
Read the full tafseer →وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بہا وذروا الذین یلحدون فی اسماۂ سیجزون ما اکنوا یعملون۔ اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں۔ بس انہی ناموں سے اللہ کو پکارا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں ان لوگوں کو ان کے کئے کی سزا ملے گی۔
وللّٰہ الاسماء الحسنی یعنی جن ناموں کے معنی تمام معانی سے اچھے ہیں وہ اللہ ہی کے نام ہیں ان سے مراد وہ الفاظ ہیں جو صرف صفات پر نہیں دلالت کرتے بلکہ اس سے ذات کو بتاتے ہیں جو صفات کی حامل ہے دونوں میں بڑا فرق ہے (دوسری زبانوں کے اندر جو اللہ کے نام ہیں وہ محض صفات پر دلالت کرتے ہیں جیسے پر ماتما یعنی روح کائنات۔ واجب الوجود۔ علت تامہ۔…
Read the full tafseer →(180) اعلی صفات یعنی علم وقدرت سمع وبصر سب اسی کے لیے ہیں اور جو اسمائے الہی اور اس کی صفات کے منکر یا ان کے اقرار سے اعراض کرتے ہیں یا کہ اس کے اسماء وصفات میں شرک کرتے ہیں یعنی اس کے اسماء کے ساتھ لات وعزی اور منات کو تشبیہ دیتے ہیں تو دنیا میں یہ جو شرآمیز باتیں کرتے تھے، آخرت میں ان کو ان کا بدلہ مل جائے گا۔
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: ”الْحُسْنٰى“ یہ ”اَلْأَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے، سب سے اچھے نام۔ ”لِلّٰهِ“ خبر کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا کہ سب سے اچھے نام اور صفات صرف اور صرف اللہ کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ پچھلی آیت میں مذکور ضلالت اور جہنم سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انھی ناموں کے ساتھ اسے پکارو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اسْمًا، مِاءَۃً إِلَّا وَاحِدَۃً ، مَنْ أَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)”بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو ان کا احصاء کرلے جنت میں داخل ہوگا۔“ [ بخاری، الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط۔۔ : 2736، عن أبی ہریرہ ؓ ] احصاء کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 180
قولہ تعالیٰ : آیت : وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر :
قولہ تعالیٰ : آیت : وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا یہ امر اس بارے ہے کہ عبادت خالصۃ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو اور مشرکین وملحدین سے کلی اجتناب ہو۔ مفسرین میں سے مقاتل وغیرہ نے کہا ہے : یہ آیت مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اپنی نماز میں کہ رہ اس تھا : یا رحمن یا رحیم۔ تو مشرکین مکہ میں سے ایک آدمی نے کہا : کیا محمد ﷺ اور ان کے اصحاب یہ گمان نہیں کرتے کہ وہ ایک رب کی عبادت کرتے ہیں، تو اسے کیا ہوا ہے کہ یہ دو ربوں کو پکار رہا ہے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی
(1) امام بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابو عوانہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، طبرانی، ابو عبد اللہ بن منذر نے التوحید میں ابن مردویہ، ابو نعیم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو جو شخص ان کو شمار کرے گا جنت میں داخل ہوگا بیشک وہ ذات طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتی ہے۔
(2) امام ابو نعیم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول الہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے سو نام ہیں سوائے ایک نام کے جو شخص ان کے ذریعہ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے ہی ہیں ] [ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: تمام خوبصورت نام ] [ فَادْعُوْهُ : تو تم پکارو اس کو ] [ بِهَا ۠ : ان سے ] [ وَذَرُوا : اور چھوڑ دو ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جو ] [ يُلْحِدُوْنَ : کجروی اختیار کرتے ہیں ] [ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ : اس کے ناموں میں ] [ سَيُجْزَوْنَ : ان کو بدلہ دیا جائے گا ] [ مَا : اس کا جو ] [ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کرتے تھے ]
ل ح د : (ف) لحدا (1) بغلی قبر کھودنا ۔ کسی طرف مائل ہونا۔ (2) عقیدے یا مذہب سے پھرجانا ۔ (افعال ) الحادا ۔ عقیدے یا مذہب میں شک پیدا کرنا ۔ کجروی کرنا ۔ جھگڑنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 180 (افتعال ) التحادا ۔ اہتمام سے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے لیے اسماء حسنیٰ ہیں ان کے ذریعہ اس کو پکارو
علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں (ص 325 ج 7) آیت بالا کا سبب نزول بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نماز میں یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ کہہ رہا تھا۔ مکہ مکرمہ کے ایک مشرک نے سن لیا تو کہنے لگا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی یوں کہتے ہیں کہ ہم ایک ہی رب کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ یہ شخص ایسے الفاظ کہہ رہا ہے جن سے دو رب کا پکارنا سمجھ میں آ رہا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اچھے اچھے نام ہیں ان کے ذریعہ اسے پکارو، پکارو لفظ فادْعُوْہُ کا ترجمہ ہے اور بعض حضرات نے اس کا ترجمہ یوں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–183
دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔
شان نزول
اس آیت کے شان…
Read the full tafseer →178: یہ تیسرے دعوی سے متعلق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بیشمار صفاتی نام ہیں تم اس کی صفتوں کے ساتھ صرف اسی کو پکارو اور اسی سے حاجتیں مانگو اس کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز نہیں۔ “ وَ ذَرُوْا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ الخ ” اور جو لوگ اللہ کی صفات میں الحاد اور کجروی اختیار کرتے ہیں آپ ان سے اجتناب کریں ان کو اپنے کیے کی جزا و سزا نہ ملے گی۔ اللہ کی صفات میں الحاد سے مراد یہ ہے کہ اس کی صفات میں غیر اللہ کو شریک کیا جائے یا کسی کو اللہ کا ولد اور نائب قرار دے کر اللہ کی ابوت کو اس کی طرف منسوب کیا جائے جیسا کہ عیسائی اور مشرکین مکہ کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں۔ “ یعنی ابو المسیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
ربط آیات
عہدوپیمان کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو اس کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے دل ، آنکھیں اور کان اللہ کی عطا کردہ خاص نعمتیں ہیں ان کو ٹھیک طور سے استعمال نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ غافل بن جائیں گے اور بالآخر جہنم میں پہنچیں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کا ذکر آرہا ہے اور یہ سلسلہ سورة کے ابتدائی حصہ کے ساتھ ہی مربوط ہے۔
سورۃ الاعراف مکی سورة ہے اور اس میں ان اہم ترین مسائل کا ذکر ہے جن میں مشرک لوگ اختلاف کرتے تے ان مسائل میں توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کریم کی حقانیت کے مسائل شامل ہیں اللہ تعالیٰ نے سورة کی…
Read the full tafseer →وَلِلہِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْہُ بِہَا 0 ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕہٖ 0 ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 180
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–181
ترکیب : کثیرا الخ مفعول ہے ذرانا کا ‘ لجہنم اس سے متعلق من الجن والانس کثیرا کا بیان ‘ لہم قلوب جملہ لغت ہے کثیرا کی اولئک مبتداء کالانعام خبر و کذا اما بعدہ الاسماء موصوف الحسنی صفت مجموعہ مبتداء مؤخر للّٰہ خبر مقدم الذین الخ جملہ مفعول ذروا کا وممن الخ نکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی جار متعلق ہے خلقنا سے جملہ خبر ہے امۃ موصوف یہدون الخ صفت مجموعہ مبتداء۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا من یہد اللّٰہ فہو المہتدی ومن یضلل فاولئک ھم الخسرون کہ جس کو خدا گمراہ کرتا ہے وہی زیاں کار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے گمراہ کرنے کے کیا معنی ہیں ؟ یہ نہیں کہ وہ بری باتوں کا حکم دیتا ہے شرک و کفر کی…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے۔
وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَاص وَذرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآ ئِہٖط سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 180)
” اور اللہ کے لیے خوبصورت نام ہیں تو انھیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے بارے میں کج روی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کا بدلہ پائیں گے “۔
اسمائے حسنہ سے ضروری باتیں
گزشتہ آیت کریمہ کی وضاحت سے یہ بات تو معلوم ہوگئی ہے کہ انسانی زندگی کے سارے بگاڑ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ انسان اللہ کی عطا کردہ ان صلاحیتوں سے پوری طرح کام نہیں لیتا جن سے کام لے کر وہ گمراہی سے بچ سکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–183
فہم القرآن
ربط کلام : جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی آیات سے غافل ہیں جہنم سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ عقل و فکر سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔
ہر دور کے کافر اور مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تغافل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے نہ صرف اس کی صفات کو اپنے معبودوں میں تصور کرتے ہیں بلکہ ان کے نام اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھتے ہیں جو بدترین گناہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسے لوگ سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے یعنی ان سے قلبی…
Read the full tafseer →آیت 180: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسْنٰی (اور اچھے اچھے نام اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں) اللہ تعالیٰ کے نام سب سے اچھے ہیں کیونکہ وہ اچھے معانی پر دلالت کرتے ہیں ان میں سے بعض نام وہ ہیں۔ نمبر 1۔ جن کا وہ حقدار ان کے حقائق کی وجہ سے ہے مثلاً القدیم ہر چیز سے پہلے الباقی ہر چیز کے بعد القادر ؔ ہر چیز پر قابو پانے والا۔ العالم ہر چیز کو جاننے والا۔ الواحد وہ اکیلا جس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ نمبر 2۔ دوسری قسم وہ نام جنکے نفوس آثار کی و جہ سے مستحسن قرار دیتے ہیں۔ مثلاً الغفور الرحیم، الشکور، الحلیم، نمبر 3۔ ایسے اسماء جن کو اپنا ناواجب ہے مثلا الفضل العفو۔ نمبر 4۔ ایسے نام جو احوال کی نگہبانی کو…
Read the full tafseer →180(وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے دعا میں رحمٰن کو پکارا تو مکہ کے بعض مشرکین کہنے لگے کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ وہ ایک رب کو بلاتے ہیں تو یہ دو کو کیوں بلا رہا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” وللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوہ بھا “ حسنیٰ احسن کی مئونث ہے جیسے کبریٰ اور صغریٰ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں سو سے ایک کم جوان کو یاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے (وذروا الذین یلحدون فی اسمآئہ ) حمزہ (رح) نے ” یحلدون “ یاء اور رحاء کے زبر…
Read the full tafseer →180۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کریگا وہ جنت میں داخل ہوگا اور ترمذی نے اپنی روایت میں ان ناموں کو ذکر بھی کیا ہے یہی مشہور نام ہیں جو چھپے ہوئے ملت ہیں لیکن اللہ کے ناموں کا حصر ان ناموں نہیں ہے چناچہ ابن العربی نے شرح ترمذی میں ذکر کیا ہے کہ بعضے علماء نے قرآن و حدیث سے ہزار نام تک اللہ کے چنے ہیں۔ اس کی تائید سند امام احمد بن حنبل کی ان معتبر روایتوں سے ہوتی ہے جس میں آپ نے رفع غم کی دعا لوگوں کو سکھائی ہے اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ تو نے جو اپنے نام لوگوں کو بتلائے ہیں اور جو تیرے نام تیرے علم غیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–181
255 اللہ ہی کیلئے ہیں سب سے اچھے نام : کہ ہر اچھائی کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور ہر تعریف و توصیف کا اصل حق دار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لئے ایسے بہترین ناموں " اسمائے حسنیٰ " کا حقدار و مستحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور کسی کمال کا ایسا درجہ جس سے اوپر کوئی درجہ نہ ہوسکے وہ صرف اور صرف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کیلئے ہوسکتا ہے کہ وہ ہی ہے جو ہر خوبی و کمال کا خالق ومالک ہے ۔ جل و علا شانہ ۔ اس آیت کریمہ کا تعلق در اصل توحید کے اس عہد فضیلت سے ہے جس کا ذکر اوپر آیت نمبر 172 میں آیا ہے۔ بیچ میں ان لوگوں کا ذکر آگیا جنہوں نے اللہ کی آیات کی قدر نہیں کی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نہایت اعلیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–186
اللہ تعالیٰ کا طریق کار
تشریح : اب یہ طریقہ دہرایا جا رہا ہے کہ ہدایت کیسے حاصل کی جائے ؟ سب سے پہلے تو وحدانیت پر یقین کرنا اور اللہ رب العزت کے 99 صفاتی نام ہیں۔ انہیں ناموں سے اس کو سچے دل سے پکار کر اپنی مشکلات اور نیکی کی توفیق کے لیے دعا کرنا۔ دوسرا کبھی بھی شرک نہ کرنا، یعنی اللہ کو کسی بھی ایسے نام سے پکارنا کہ جو کفار نے اپنے خود بنائے ہوئے معبودوں کے لیے رکھے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ مشرک لوگوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ ان سے اللہ خود اچھی طرح نمٹ لے گا۔ پھر امت محمدی ﷺ کی تعریف فرمائی اور بتایا کہ گناہوں سے مہلت ملتے جانا بھی اللہ رب العالمین کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →ف 3 اچھے ناموں سے مراد وہ نام ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی عظمت جلالت شان تقدس اور صفات کمال کا اظہار ہوتا ہے۔ علمانے اس ما حسنی کی تشریح اور ان کے ساتھ دعوت پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ رازی کی اطوامع حلیمی کی المنہاج اور قرطبی کی الکتاب الا منی ٰ قابل دیدے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا، (یعنی ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو پکارا) وہ جنت میں داخل ہوگیا، اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ ( بخاری مسلم) یہاں تک تو یہ حدیث متواتر ہے، ترمذی کی ایک روایت میں ان موموں کی تصریح بھی کی گئی ہے مگر وہ نام علمانے بطور تشریح قرآن سے تر تیب…
Read the full tafseer →(7:180) ذروا۔ تم چھوڑ دو ۔ وذر سے امر۔ جمع مذکر حاضر۔
یلحدون فی اسمائہ۔ جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں یعنی اس کے اسماء الحسنیٰ کا اطلاق اس کے سوا کسی غیر پر کرتے ہیں جیسے مسلیمہ کذاب کے پیروکار اس کو رحمن یمامہ کہا کرتے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ کو ایسے ناموں سے پکارنا جو اس نے اپنے لئے نہیں رکھے۔ یا جو اس کی شان کے شایان نہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کو یارفیق کہہ کر پکارنا وغیرہ۔ لحد۔ بغلی قبر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–183
تشریح ؛ آیت نمبر 180 تا 183
ان آیات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ یہ نام تقریباً قرآن کریم میں آتے ہیں۔ اللہ اس کا ذاتی نام ہے باقی تمام اسمائے صفات ہیں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ کو ہمیشہ اس کے اچھے ناموں سے پکارو۔ لوگوں نے جو اللہ کے مشرکانہ نام رکھے ہوئے ہیں ان کو چھوڑ دو کیونکہ وہ نام گندے اور برے نام ہیں۔ اگر کوئی برے گندے اور مشرکانہ ناموں سے اسکو پکارے گا تو اس کی اس کی سزادی جائیگی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 ہیں اس کو ان ہی ناموں سے یاد کرو۔ جو شخص ان ناموں کا ورد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اس حدیث سے دو…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فضیلت
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ایک کم سو نام ہیں۔ جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں جاوے گا۔ یہی نام مشہور ہیں جو چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن اللہ کے ناموں کا حصر ان ناموں میں نہیں ہے بعض حدیث سے ثابت ہے کہ ہزار نام تک اللہ تعالیٰ کے چنے ہیں اور رفع غم کی دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ تو نے اپنے جو نام لوگوں کو بتلائے ہیں، اور جو تیرے نام تیرے علم غیب میں مخفی ہیں ان سب ناموں کے طفیل سے یہ غم دور ہوجائے۔ دعا مقبول ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں کو بگاڑ کر غیروں یعنی بتوں کے نام رکھنا ناجائز ہے۔ جیسے مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →[72] اچھے ناموں سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت و تقدس، خوبی و جمال کی صفات ہیں جنہیں قرآن نے جا بجا بیان کیا ہے اور شمار کی گئیں تو ننانوے نکلیں۔ اس کائنات میں جو کچھ ہے انہی صفات کا ظہور ہے۔
[73] اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی کے دو پہلو ہیں، ایک یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ میں موجود نہ ہوں یا اس کے مرتبے سے فرو تر ہوں انہیں اس کی جانب منسوب کیا جائے، جیسے مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں
اور نصاریٰ کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہنا۔ دوسرا پہلو یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں ان میں دوسرے کو شریک کیا جائے۔ جیسے مشکل کشا، فریاد رس، دست گیر، ان داتا، شہنشاہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–185
خدا کے نام :
(ف 2) اللہ کے تمام نام جو کتاب وسنت میں وارد ہیں ، اسماء حسنی ہیں ، اور وہ نام جو کتاب وسنت میں نہیں آئے اور ان سے ذم ویاشرک کا پہلو نکلتا ہے ، مذموم ہیں ان ناموں سے اللہ کو پکارنا ناجائز ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ اللہ نام ہے صفات کمال کے اجتماع کا ، حسن کامل کا ، اور جمال جامع کا ، خالص خوبصورتی اور رعنائی کا ، اس لئے وہ تعبیرات جن سے ذم اور قبح کا پہلو نمایاں ہوں ، غیر صحیح اور غلط ہیں علماء کرام کے دو گروہ ہیں ، ایک وہ ہیں جو اسماء الہی کو توفیقی کہتے ہیں ، صحیح عقیدہ ان دونوں کے بین بین ہے ان معنوں میں توقیفی ہیں ، کہ ملحدانہ مذموم اور غیر ثابت المنی ناموں کا استعمال درست نہیں ،…
Read the full tafseer →180 اور سب اچھے اچھے مخصوص نام اللہ ہی کے لئے خاص ہیں لہٰذا ان ہی مخصوص ناموں کے ساتھ اس کو پکارا کرو اور ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو ایسے لوگ جو کچھ کررہے ہیں ان کو ضرور ان کے کئے کی پاداش بھگتنی ہوگی اور بہت جلد ان کو ان کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ نے اپنے وصف بتائے ہیں کہ مناجات میں وہ کہہ کر پکارو کہ تم پر متوجہ ہو اور کج راہ نہ چلو کج راہ یہ کہ جو وصف نہیں بتائے وہ کہے جیسے اللہ کو بڑا کہا نفسا نہیں کہا یا قدیم کہا پرانا نہیں کہا اور ایک کج راہ یہ ہے کہ ان کو سحر میں چلا دے وہ اپنے کئے کا بدلا پار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
ف 1۔ اوپر اہل ضلالت کی حالت بیان فرمائی کہ باوجود ضوح طرق ہدایت کے پھر عناد و خلاف کو نہیں چھوڑتے چونکہ ان کے اس عنداد و خلاف سے رسول اللہ کو سخت غم ہوتا تھا اس لیے آگے آپ کی تسلی کا مضمون ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سب نام ہی اچھے ہیں جو کتاب و سنت میں بیان ہوئے ہیں :
204: گزشتہ آیات میں اہل جہنم کا ذکر تھا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ جس کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عقل و ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے دیکھنے ، سننے اور سمجھنے سوچنے میں صرف نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوگیا کہ وہ خداداد عقل وبصیرت کو ضائع کر کے ذکر اللہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح و فلاح سے غافل ہوگئے اور جانوروں سے زیادہ گمراہی اور بےوقوفی میں مبتلا ہوگئے ۔ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کی اس گمراہی کا علاج بتایا گیا ہے کہ اس بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ سے دعا اور اللہ کے ذکر کی کثرت سے ہی ممکن ہے ۔ اس لئے کہ وہ…
Read the full tafseer →This verse has a relationship with the preceding verses in the sense that the people of Hell discussed above did not use their abilities in seeking the everlasting comforts of the Hereafter, and made themselves liable to eternal punishment. The present verse has provided with remedy of their disease. That is, seeking help from Allah by calling Him with His good names and often remembering Him through them.
The good names of Allah
The good names are the ones that denote the attributes having the highest degree of perfection. It goes without saying that the perfection of the highest degree is…
Read the full tafseer →141. Here the present discourse is nearing its end. Before concluding, people are warned in a style which combines admonition with censure against some basic wrongs. People are here being warrned particularly against denial combined with mockery which they, had adopted towards the teachings of the Prophet (peace be on him).
142. The name of a thing reflects how it is conceptualized. Hence, inappropriate concepts are reflected in inappropriate names, and vice versa. Moreover, the attitude a man adopts towards different things is also based on the concepts he entertains of those things. If a…
Read the full tafseer →