اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے
بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا ؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔ پس اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا چناچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا مبارک ہو اس کو یہ تو جنت کی چڑیا ہے نہ برائی کی نہ برائی کا وقت پایا آپ نے فرمایا کچھ اور بھی ؟ سن اللہ تعالیٰ نے جنت کو اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
سورة الْاَعْرَاف 140
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے ان کو پیدا ہی اس غرض کے لیے کیا تھا کہ وہ جہنم میں جائیں اور ان کو وجود میں لاتے وقت ہی یہ ارادہ کرلیا تھا کہ انہیں دوزخ کا ایندھن بنانا ہے، بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ہم نے تو ان کو پیدا کیا تھا دل، دماغ، آنکھیں اور کان دے کر، مگر ظالموں نے ان سے کوئی کام نہ لیا اور اپنی غلط کاریوں کی بدولت آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہے۔ اس مضمون کو ادا کرنے کے لیے وہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے جو انسانی زبان میں انتہائی افسوس اور حسرت کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ماں کے متعدد جوان جوان بیٹے لڑائی میں جاکر لقمہ اجل ہوگئے…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں بھی اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ ہدایت اور گمراہی دونوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کو ہدایت مل گئی اس سے سارے کام ہدایت ہی کے مناسب سرزد ہوتے ہیں
خرد چون دفتر تلقین کشاید زمن آن در وجود آید کہ باید
اور جو گمراہی میں پڑگیا اس کے سارے کام اسی انداز کے ہوتے ہیں۔
اس لئے فرمایا (آیت) وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَ آ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا، یعنی ہم نے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے بہت سے جنات اور انسانوں کو جن کی علامات یہ ہیں کہ ان کے پاس…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔
ہدایت سے محروم رہنے والے : اب یہ بتایا کہ کون لوگ ہیں جو ہدایت سے محروم رہتے ہیں اور بالآخر وہ جہنم کے ایندھن بنتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے دل تو دیے ہیں لیکن ان سے سجھنے کا کام نہیں لتے، ان کو آنکھیں تو بخشیں لیکن وہ ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے، ان کو کان تو عنایت فرمائے لیکن وہ…
Read the full tafseer →179۔ 1 اس کا تعلق تقدیر سے ہے۔ یعنی ہر انسان اور جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ دنیا میں جا کر اچھے یا برے کیا عمل کرے گا، اس کے مطابق اس نے لکھ رکھا ہے۔ یہ انہیں دوزخیوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والے ہی کام کرنے تھے۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کرکے بتادیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے اندر یہ چیزیں اس انداز میں ہوں جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کا انجام برا ہے۔ (2) یعنی دل آنکھ کان یہ چیزیں اللہ نے اس لیے دی ہیں کہ انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروردگار کو سمجھے اس کی آیات کا مشاہدہ کرے اور حق کی بات کو غور سے سنے۔ لیکن جو شحص ان مشاعر سے یہ کام نہیں لیتا وہ گویا…
Read the full tafseer →91: یعنی ان کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ایسے کام کریں گے جو انہیں جہنم تک لے جائیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تقدیر میں لکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جہنم کے کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، بلکہ بلا تشبیہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک استاد اپنے کسی شاگرد کے حالات کے پیش نظر یہ لکھ کر رکھ دے کہ یہ فیل ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ استاد نے اسے فیل ہونے پر مجبور کردیا۔ بلکہ اس نے جو کچھ لکھا تھا، اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ شاگرد محنت کرنے کے بجائے وقت ضائع کرے گا اور اس کے نتیجے میں فیل ہوگا۔
Read the full tafseer →جن و انس میں سے اکثریت جہنم کے لیے پیدا کی گئی ہے ، اس کے لیے وہ تیار ہو رہے ہیں ، تو ان لوگوں کا یہ انجام کیوں ہے ؟ اس اعلان کے دو پہلو ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کو پیشگی علم تھا کہ وہ یہ مخلوق جہنم کی راہ لے گی اور جہنم تک پہنچے گی۔ ان لوگوں کا عملاً جہنم کی راہ لینا اللہ کے علم سے متاثر نہیں ہوتا۔ اللہ کا علم تو ہر شے پر محیط اور ازلی ہے۔ اللہ کو پیدائش انسان اور عمل انسان سے بھی بہت پہلے معلوم تھا کہ فلاں فلاں یہ راہ لے گا۔ اللہ کا علم وقوع واقعات پر موقوف نہیں ہے بلکہ پہلے سے ذات باری کا حصہ ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ اپنے علم ازلی سے جو ذات باری کے ساتھ ہے لوگوں کو عالم واقعہ میں اس امر پر…
Read the full tafseer →4 یہ آیت بظاہر آیہ (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ) 51 ۔ الذاریات :56) کے معارض معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے بعض مفسرین نے وہاں لیعبدون میں لام غایت اور یہاں لجہنم میں لا عاقبت مراد لیا ہے یعنی سب کے پیدا کرنے سے مطلوب اصلی تو عبادت ہے لیکن بہت سے جن وانس چونکہ اس مطلب کو پورا نہ کریں گے اور انجام کار دوزخ میں بھیجے جائیں گے۔ اس انجام کے لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ گویا وہ دوزخ ہی کے لیے پیدا ہوئے۔ کما فی قولہ تعالیٰ (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا) 28 ۔ القصص :8) ۔ باقی محققین کے نزدیک اس تکلف کی حاجت نہیں۔ وہ دونوں جگہ " لام غایت " ہی…
Read the full tafseer →اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ
یعنی جب انسان ہدایت سے منہ موڑتا ہے اور ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے تو نتیجتاً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ اس کے بعد ان کے دل تفقہ سے یکسر خالی ہوجاتے ہیں ‘ ان کی آنکھیں انسانی آنکھیں نہیں رہتیں اور نہ ان کے کان انسانی کان رہتے ہیں۔ اب ان کا دیکھنا حیوانوں جیسا دیکھنا رہ جاتا ہے اور ان کا سننا حیوانوں جیسا سننا۔ جیسے کتا بھی دیکھ لیتا ہے کہ گاڑی آرہی ہے مجھے اس سے بچنا ہے۔ جبکہ انسانی دیکھنا تو یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو دیکھے ‘ اس کی حقیقت کو سمجھے اور پھر درست نتائج اخذ کرے۔ اسی فلسفے کو علامہ اقبال ؔ…
Read the full tafseer →179 جنوں اور انسانوں کی اکثریت جہنم میں کیوں ؟:۔ یعنی جنوں اور انسانوں کو ہم نے دل و دماغ اس لیے دیئے تھے کہ وہ غور و فکر سے کام لیں، آنکھیں اس لیے دی تھیں کہ ان سے اللہ کی نشانیوں کو دیکھیں اور کان اس لیے دیئے تھے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کا کلام اور حق کی باتیں سنیں لیکن ان میں اکثریت ایسی تھی جس نے اللہ کی ان عطا کردہ نعمتوں کو صحیح طور پر استعمال نہ کیا اور ان سے اتنا ہی کام لیا جتنا حیوان لیتے ہیں اور گمراہ ہوگئے جس کے نتیجہ میں انہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا اور یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور اسی اختیار کے عوض انہیں جزا یا سزا ملے گی۔ رہے…
Read the full tafseer →259 ۔ یعنی ایسے لوگ پیدا کئے ہیں جو نہ قصد اور طلب ہدایت کی کریں گے۔ اور نہ ہدایت انہیں نصیب ہوگی اس لیے لامحالہ انکا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔ حق تعالیٰ کی طرف اس فعل کا انتساب محض تکوینی حیثیت سے یعنی بہ طور العلل کے ہے نہ یہ کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہی یہ ہے۔ (آیت) ” لجھنم “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی ان کی غرض آفرینش یہ نہیں بلکہ وہ اعمال ایسے اختیار کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہو کر رہے گا۔ واللام للعاقبۃ عند الکثیر (روح) توریت وانجیل، دونوں میں یہ مضمون وارد ہوا ہے :۔ ” شریر ہلاکت کے دن کے لیے رکھ چھوڑا گیا ہے۔ “ (ایوب 2 1:30) ” خداوند نے ہر ایک چیز اپنے لئے بنائی ہاں شریروں کو بھی اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–181
واتل۔۔۔۔ منھا (الآیۃ) اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا عبرت ناک واقعہ مذکور ہے، بنی اسرائیل کا ایک بڑا عالم اور مشہور مقتداء علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے باوجود دفعۃً گمراہ ہوگیا۔
بلعم بن باعوراء کے واقعہ کی تفصیل : مذکورہ آیت میں نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ تم یہود کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں مگر وہ ان نشانیوں سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے ائمہ تفسیر سے اس بارے میں مختلف روایتیں مذکور ہیں جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد وہ روایت ہے جو ابن مردویہ نے حضرت عباس ؓ سے نقل کی ہے اس روایت میں اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء…
Read the full tafseer →ولقد ذرانا لجہنم کثیرا من الجن والانس لہم قلوب لا یفقہون بہا ولہم اعین لا یبصرون بہا ولہم اذان لا یسمعون بہا اولئک کالانعام بل ہم اضل اولئک ہم الغفلون
ہم نے بلاشبہ جہنم کے لئے ایسے بہت سے جنات اور انسان پیدا کئے ہیں جن کے پاس دل ہیں (مگر) وہ ان سے سمجھتے نہیں ان کی آنکھیں ہیں (مگر) وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے کان ہیں (مگر) وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں۔ بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ بےراہ ہیں ایسے سب لوگ غافل ہیں (حقیقت اور انجام سے بیخبر )
ذراناہم نے پیدا کئے۔ کثیرابکثرت جنات و انسان۔ یعنی وہ لوگ جن کی پیدائش کے بعد کفر پر جما رہنا اللہ کو پہلے سے ہی معلوم ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
(178۔ 179) جسے وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) اپنے دین کی ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ اپنے دین سے بےراہ کردے وہ عذاب کے وجوب سے خسارے میں ہے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچائی کے سمجھنے میں چوپایوں سے بھی زیادہ بےراہ ہیں کیوں کہ یہ انکار کرنے والے ہیں۔
اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ ”لِجَهَنَّمَ“ میں لام عاقبت (برائے انجام) بھی ہوسکتا ہے، یعنی اپنے حواس سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے وہ انجام کار جہنم میں جائیں گے، گویا انھیں جہنم ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور لام غایت کا بھی ہوسکتا ہے، یعنی کائنات کو بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو آئندہ کی ہر بات کا علم تھا کہ فلاں جن یا انسان نے دنیا میں جا کر دوزخیوں والے کام کرنے تھے، اسی علم کے مطابق اس نے سب کچھ لکھ دیا تھا، اس کا نام قضا و قدر ہے، آگے اہل جہنم کی صفات بیان ہوئی ہیں کہ جن میں یہ صفات ہوں وہ ہدایت قبول نہیں کیا کرتے، گو اللہ کا شریعت اور انبیاء کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 179
اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے اپنے عدل کے ساتھ جہنم کے لیے کئی اہل پیدا کیے ہیں، پھر ان کے اوصاف بیان کیے اور فرمایا : آیت : لھم قلوب لا یفقھون بھا یعنی یہ اس کی طرح ہوتے ہیں جو سمجھتا نہیں، کیونکہ وہ دلوں سے کوئی نفع نہیں اٹھاتے، نہ وہ ثواب کی عقل و سمجھ رکھتے ہیں اور نہ سزا اور عذاب سے ڈرتے ہیں۔ آیت : اعین لا یبصرون بھا اور ان کی آنکھیں تو ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ ہدایت کو نہیں دیکھتے اور اذان لا یسمعون بھا ان کے کان تو ہیں لیکن ان کے ساتھ نصائح کو نہیں سنتے۔ یہاں کلی طور پر ان کے حواس سے ادراک کی نفی مقصود نہیں ہے جیسا کہ ہم نے سورة البقرہ میں اسے بیان کیا ہے۔
آیت :…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ولقد ذرانا “ یعنی بیشک ہم نے پیدا کیا۔
(2) امام ابو الشیخ اور ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد ذرانا لجھنم “ یعنی ہم نے جہنم کے لئے پیدا کیا۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں جن کو پیدا کیا تو زنا سے پیدا ہونے والے ان میں سے ہیں جن کو جہنم کے لیے پیدا کیا گیا۔
(4) امام حکیم ترمذی، ابن ابی الدنیا مکاید الشیطان میں، ابو یعلی، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن ابی…
Read the full tafseer →[ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا : اور بیشک ہم نے پیدا کیا ہے ] [ لِجَهَنَّمَ : جہنم کے لیے ] [ كَثِيْرًا : بہتوں کو ] [ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ : انسانوں اور جنوں میں سے ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ قُلُوْبٌ: دل ہیں ] [ لَّا يَفْقَهُوْنَ : (لیکن ) وہ لوگ علم کا احاطہ نہیں کرتے ہیں ] [ بِهَا ۡ : ان سے ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ اَعْيُنٌ: آنکھیں ] [ لَّا يُبْصِرُوْنَ : (لیکن ) وہ لوگ دیکھ کر سمجھتے نہیں ہیں ] [ بِهَا ۡ : ان سے ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ اٰذَانٌ: کان ہیں ] [ لَّا يَسْمَعُوْنَ : (لیکن ) وہ لوگ سن کر سمجھتے نہیں ہیں ] [ بِهَا ۭ: ان سے ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] […
Read the full tafseer →انسانوں اور جنوں میں ایسے لوگ ہیں جو چوپایوں سے زیادہ گمراہ ہیں
اس سے پہلی آیات میں ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جسے اللہ نے اپنی آیات دی تھیں اس نے عالم ہوتے ہوئے دنیا کی محبت میں ان آیات کو چھوڑ دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گیا، اس آیت میں عمومی طور پر ہدایت اور گمراہی کے بارے میں حقیقت واضح فرما دی (دیگر آیات میں بھی یہ مضمون بیان فرمایا ہے) اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے ہدایت اور گمراہی اور ہر خیر و شر کا خالق وہی ہے۔ اس نے بندوں کو اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہدایت اور ضلالت دونوں کے راستے واضح فرما دیئے ہیں اور اپنے بندوں کو اختیار بھی دیا وہ اپنے اس اختیار کو خیر میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–183
دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔
شان نزول
اس آیت کے شان…
Read the full tafseer →177: یہ دوسرے دعوی سے متعلق ہے جو لوگ کفر و شرک پر مصر ہیں اور ضد وعناد کی وجہ سے حق بات کا انکار کتے ہیں ان کو ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کو ہم نے دل دئیے۔ آنکھیں اور کان دئیے مگر وہ ہیں کہ ان چیزوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ وہ بالکل چوپایوں کی مانند ہیں جن کو بالکل حق و باطل کا کوئی امتیاز نہیں بالکل یہی حال ان لوگوں کا ہے یہانتک کہ وہ جانوروں کی طرح ننگے ہونے سے بھی نہیں شرماتے جیسا کہ مشرکین طواف کعبہ کے وقت کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →جن و انس کی تخلیق
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ دروس کی آیات میں عہد خاص و عام کا ذکر کیا اور پھر اس عہد و پیمان کو توڑنے والوں کی مذمت کی اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی گمراہی اور ان کے جہنم میں جانے کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے ولقد ذرانا اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیے ذرا کا لفظی معنی بکھیرنا اور مراد پیدا کرنا ہوتا ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا ” ھوالذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون (الملک) وہی ذات ہے جس نے تمہیں زمین میں بکھیرا اور پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو گویا ذرا کا معنی پیدا کرنا ، بکھیرنا اور پھیلانا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَــہَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْس ۡ ۖ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ بِہَا 0 ۡوَلَہُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِہَا 0 ۡوَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِہَا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ 179
ذرأ
الذَّرْءُ : إظهار اللہ تعالیٰ ما أبداه، يقال : ذَرَأَ اللہ الخلق، أي : أوجد أشخاصهم . قال تعالی: وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ [ الأعراف/ 179] ، وقال : وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعامِ نَصِيباً [ الأنعام/ 136] ، وقال : وَمِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–181
ترکیب : کثیرا الخ مفعول ہے ذرانا کا ‘ لجہنم اس سے متعلق من الجن والانس کثیرا کا بیان ‘ لہم قلوب جملہ لغت ہے کثیرا کی اولئک مبتداء کالانعام خبر و کذا اما بعدہ الاسماء موصوف الحسنی صفت مجموعہ مبتداء مؤخر للّٰہ خبر مقدم الذین الخ جملہ مفعول ذروا کا وممن الخ نکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی جار متعلق ہے خلقنا سے جملہ خبر ہے امۃ موصوف یہدون الخ صفت مجموعہ مبتداء۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا من یہد اللّٰہ فہو المہتدی ومن یضلل فاولئک ھم الخسرون کہ جس کو خدا گمراہ کرتا ہے وہی زیاں کار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے گمراہ کرنے کے کیا معنی ہیں ؟ یہ نہیں کہ وہ بری باتوں کا حکم دیتا ہے شرک و کفر کی…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا
وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ز صلے لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَازوَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا ز وَلَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا ط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَّلُ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغَفِلُوْنَ ۔ (الاعراف : 179)
” ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بہتوں کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ‘ ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں ‘ ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں ‘ یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے یہی لوگ ہیں جو بالکل بیخبر ہیں “۔
ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ
یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دین کے بدلے دنیا کمانے والے نقصان پانے کے ساتھ جہنم میں جائیں گے یہاں ان کے جہنم میں جانے کی بنیادی وجہ بیان کی گئی ہے۔
جہنمیوں کے جہنم میں جانے کی وجہ بیان کرنے سے پہلے فرمایا کہ ہم نے بہت سے جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ مغالطہ پیدا ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے بہت سے انسانوں اور جنات کو جہنم کے لیے ہی پیدا کیا ہے تو اس میں انسانوں اور جنات کا کیا گناہ ہے ؟
دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ سورة الذٰریت آیت 56 میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس طرح ایک مغالطہ پیدا ہونے…
Read the full tafseer →دوزخی لوگوں کا مزاج ‘ دِل ‘ آنکھ ‘ کان کو صحیح استعمال نہیں کرتے :
آیت 179: وَلَقَدْ ذَرَاْنَالِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (اور ہم نے بہت سے جن وانس کو دوزخ کیلئے پیدا کیا ہے) وہ دونوں فریق کفار ہیں جو اللہ کی آیات میں تدبر سے اعراض کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا اختیار کفر معلوم ہے۔ پس ان سے کفر کو چاہا اور ان میں اس کو پیدا کیا اور اسی وجہ سے انکاٹھکانہ جہنم بنادیا اس آیت اور دوسری آیت میں کوئی منافات نہیں : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ( الذاریات : 56) کیونکہ ان میں سے عبادت کے لیے ان کو پیدا کیا جن کے متعلق جانا کہ وہ اس کی عبادت کریں…
Read the full tafseer →(ولقد ذرانا لجھنم کثیراً من الجن والانس) اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے بہت سے جن و انس کو جنم کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر بدبختی کے ازلی کلمہ کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کو اللہ نے جہنم کے لئے پیدا کیا، اس کے بچنے کا کوئی حیلہ نہیں ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے بچوں میں سے کسی کا جنازہ پایا تو میں نے کہا اس کے لئے خوشخبری ہے جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے کس نے خبر دی ہے ؟ بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے ۔ (لھم قلوب لایفقھون بھا) یعنی ان سے خیر اور ہدایت کو نہیں جانتے (ولھم اعین لایبصرون بھا)…
Read the full tafseer →179۔ اکثر فلسفی اور دہریہ اور معتزلہ اور قدریہ جنات کے وجود کے جو منکر ہیں ان کا بےراہ ہونا اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس کے پیدا کرنے کی خبر اپنے کلام پاک میں دی ہے وہ ضرور موجود اور دنیا میں اس کا وجود ہے اور اس کے وجود سے انکار کرنا کلام الٰہی سے انکار کرنا ہے رہی یہ بات کہ ہماری قوت بصارت میں اللہ تعالیٰ نے وہ طاقت نہیں دی ہے کہ ہم جنات کو اصلی صورت میں دیکھ سکیں تو یہ کوئی عقل کی بات نہیں ہے کہ جس چیز کو ہم آنکھوں سے نہ دیکھیں اس کا انکار کریں سینکڑوں عجائبات اللہ کی قدرت کے دنیا میں ایسے ہیں کہ انسان کی آنکھ میں اس کے دیکھنے کی قوت نہیں ہے خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–193
آیت 179
اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد ذرانا ) ” اور ہم نے پیدا کیا۔ “ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا (لجھنم کثیراً من الجن والانس) ” جہنم کے لئے بہت سے جن اور آدمی “ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں (لھم قلوب لایفقھون بھا) ” ان کے دل ہیں، جن سے وہ سمجھتے نہیں “ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے (ولھم اعین لایبصرون بھا) ” ان کی آنکھیں ہیں، جن سے وہ دیکھتے نہیں “ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لئے فائدہ مند ہو بلکہ انہوں نے اپنی بینائ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
249 ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اللہ ہدایت بخشے وہی راہ پاسکتا ہے۔ اور جس کو وہ گمراہی میں ڈال دے وہی لوگ خسارے والے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے ہی لوگ خسارے میں ہیں کہ ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور سب خرابیوں کی جڑ اور ہر نقصان سے بڑا نقصان ہے کہ اس کے بعد انسان طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ہدایت کی دولت سے سرفرازی انہی کو نصیب ہوتی ہے جن کو اللہ توفیق دیتا ہے۔ اور اللہ کی توفیق انہی کو ملتی ہے جو اپنے اندر اس کے لئے طلب صادق رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–179
شیطان کی پیروی کا انجام
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ ہم سے اللہ عہد لے چکا ہے تو اس لحاظ سے ہمیں اپنے اعمال کا اور اپنی سزا و جزا کا خود ذمہ دار بنا دیا گیا ہے۔ پھر رب العالمین رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اور ان کو اس شخص کی مثال بھی دیکر سمجھائو کہ وہ شخص (اس کی نشاندہی اللہ نے نہیں کی، لہٰذا اس سے مراد صرف انسان ہے) بڑا ہی دیندار، متقی اور مقبول الٰہی اتنا کہ جو دعا کرتا ضرور قبول ہوجاتی کہ یکایک اس پر دنیا کا لالچ سوار ہوگیا اور وہ روپے پیسے کے لالچ میں آکر دین کی باتوں کو توڑمڑور کر لوگوں کی مرضی کے مطابق بتانے لگا۔ لوگ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →ف 13لجھنم میں لام عاقبت بھی ہوسکتا ہے یعنی اپنے حواس سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے انجام کار جہنم میں جائیں گے گو یا جہنم ہی کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے، اور لام غایت کا بھی ہوسکتا یعنی تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کے علم اور قضا قدر ہمیں وہ جہنم ہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں گو تشریعی طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور شریعت کا مکلف قرار دیا ہے جیسا کہ بہت ہی احادیث تقدیر میں مذکور ہے اور علما نے تقدیر اور جبری فرق کی وضاحت کی ہے۔
1 کیونکہ انعام ( چوپائے) کی نقل و حرکت تمام تر اس کے طبعی تقاضے اور تسخیری غایت کے مطابق ہوتی ہے۔ اس کے بر عکس کفار اپنے ارادہ و اختیار سے…
Read the full tafseer →(7:179) ذرانا۔ ہم نے پیدا کیا۔ ماضی جمع متکلم۔
لجہنم۔ میں لام عاقبت کا ہے۔ غایت کا نہیں۔ یعنی ان کو پیدا کرنے کی غایت ان کو جہنم میں ڈالنے کی نہ تھی۔ بلکہ اپنے کفر و نافرمانی کے انجام کے طور پر وہ جہنمی بن گئے۔
قرآن میں اس کی اور مثالیں بھی ہیں۔ مثلاً فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا۔ پس فرعون کے آدمیوں نے اس کو اٹھالیا تاکہ بڑا ہو کر وہ ان کا دشمن بنے اور طاعث زحمت ہو۔
تو یہاں انہوں نے اس نیت اور اس غرض کے لئے نہیں اٹھایا تھا کہ واقعی ان کا دشمن نکلے۔ بلکہ ان کی نیت اور مقصد تو یہ تھا کہ جب یہ بڑا ہوگا تو ہمارے کام آئیگا لیکن ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انجام کار وہی موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
تشریح : آیت نمبر 178 تا 179
انسان دو طرح کے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنی فطری صلاحیتوں کا صرف اپنے اہل و عیال اور خوشی و مسرت اور عیش و آرام کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دود صرف دنیاوی مفادات حاصل کنے کیلئے ہوتی ہے۔
دوسرے وہ ہیں جو آخرت کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ آخر کمانے کے لئے صرف اتنی ہی دنیا کماتے ہیں جو ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کردے۔
ان دونوں میں سے ایک کا مقصد زندگی برائے زندگی ہے اور دوسرے کا مقصد زندگی برائے بندگی ہے۔
یہاں ان لوگوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو صرف کھانے پینے اور عیش و آرام ہی کو زندگی کا مقصد بنا کر اس کے پیچھے دوڑ…
Read the full tafseer →جنات کے وجود کی تحقیق
اکثر فلسفی اور دہریہ وغیرہ جنات کے وجود کے جو منکر ہیں ان کا بےراہ ہونا اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس کے پیدا کرنے کی خبر اپنے کلام پاک میں دی وہ ضرور موجود اور دنیا میں اس کا وجود ہے۔ اس کے وجود سے انکار کرنا کلام الٰہی سے انکار کرنا ہے۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جن و انس سب کی طبیعت میں عقتبی کی بہبودی کی صلاحیت رکھی ہے۔ لیکن ان میں بہت سے ایسے ہیں جو علم الہی میں دوزخی قرار پا چکے ہیں۔ اس لیے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد عقبی کی بہبودی، باتوں کے کانوں سے سننے، آنکھوں سے دیکھنے میں ان کا دل نہیں…
Read the full tafseer →[70] یہ جو فرمایا کہ ہم نے بہت سے جن و انس جہنم کے لئے پیدا کیے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو ان کی ماؤں کے پیٹ سے جہنم کے لیے پیدا کیا، ماؤں کے پیٹ سے تو اللہ تعالیٰ نے دل، دماغ، سمع و بصر کی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن اس کے لئے ضابطہ یہ بنادیا کہ جو ان صلاحیتوں سے صحیح فائدہ نہ اٹھائیں گے اللہ ان کو جہنم میں جھونک دے گا۔
[71] کیونکہ چوپائے ہدایت کے پابند ہی نہیں اور یہ پابند ہونے پر بھی اس قدر بےپرواہ ہیں حالانکہ عقل و حواس رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں وضاحت کردی کہ جو لوگ گمراہ ہیں اور جہنم کے قابل ہیں ، وہ وہ ہیں ، جن کے دل ہیں ، مگر غوروفکر کے عادی نہیں ، آنکھیں ہیں ، مگر حقائق محسوسہ کو نظر انداز کر جاتے ہیں ، کان ہیں ، مگر سماعت حق کی قوت سے محروم ہیں گویا بالکل چوپائے ہیں جن کا مقصد صرف اولے مقاصد حیات کا حصول ہے یعنی غفلت وجمود کی انتہاء (آیت) ” اولئک ھم الغفلون “۔
Read the full tafseer →179 اور یہ حقیقت امر واقعی ہے کہ ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے جن اور انسانوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے وہ دوزخ میں رہنے والے اور دوزخ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ لوگ وہ ہیں جن کے پاس دل تو ہیں مگر وہ ان دلوں سے حق بات کو سمجھنے کا کام نہیں لیتے یعنی حق بات کو سمجھنے کا ارادہ نہیں کرتے اور ان لوگوں کے پاس آنکھیں تو ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں اور صحیح استدلال کا ان سے کام نہیں لیتے۔ اور ان کے پاس کان تو ہیں مگر وہ ان کانوں سے حق بات کو نہیں سنتے یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ یہ لوگ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں یعنی یہ انسان اور ذوی العقول ہونے کے باوجود آخرت سے جانوروں کی طرح غافل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
ف 1۔ اوپر اہل ضلالت کی حالت بیان فرمائی کہ باوجود ضوح طرق ہدایت کے پھر عناد و خلاف کو نہیں چھوڑتے چونکہ ان کے اس عنداد و خلاف سے رسول اللہ کو سخت غم ہوتا تھا اس لیے آگے آپ کی تسلی کا مضمون ہے۔
Read the full tafseer →کون لوگ ہیں جو درزخ کا ایندھن بننے کے قابل ہیں ؟
203: وہ کون لوگ ہیں جو ہدایت سے محروم رہتے ہیں اور انجام کار دوزخ کا ایندھن بن کر رہ جاتے ہیں ؟ فرمایا یہ لوگ وہ ہیں جن کو اللہ نے دل تو دئیے ہیں لیکن وہ ان سے سمجھنے کے کام نہیں لیتے۔ اللہ نے ان کو کان تو دئیے ہیں لیکن وہ ان سے سننے کا کام نہیں لیتے اس لئے اپنی کارستانیوں کے باعث وہ آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہ جائیں گے۔ اس جگہ ان لوگوں کی سمجھ بوجھ ، بینائی اور سماعت سب چیزوں کی گویا نفی کی گئی ہے ۔ حالانکہ حقیقت جو دیکھنے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ پاگل و دیوانے ہوتے ہیں کہ کچھ نہ سمجھیں اور نہ ہی نابینا ہوتے ہیں کہ کچھ نہ دیکھیں…
Read the full tafseer →The next verse is an extension of the same theme. It said:
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا
"And surely, we have created for Hell a lot of people from among Jinn and mankind. They possess heart wherewith they understand not, have eyes wherewith they see not and they have ears wherewith they hear not."
That is, many Jinns and human beings have been created for Hell, because in spite of having all the means of guidance, the heart, the eyes and the ears, they do not use them to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
140. This does not mean that God has created some people for the specific purpose of fuelling Hell. What it does mean is that even though God has bestowed upon men faculties of observation, hearing and reasoning, some people do not use them properly. Thus, because of their own failings, they end up in Hell.
The words employed to give expression to the idea are ones which reflect deep grief and sorrow. This can perhaps be grasped by the occasional outbursts of sorrow by human beings. If a mother is struck by the sudden death of her sons in a war, she is prone to exclaim: 'I had brought up my…
Read the full tafseer →