بہترین دعا
رب جنہیں راہ دکھائے انہیں کوئی بےراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ ہی غلط راہ پر ڈال دے اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے ؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہوسکتا۔ ابن مسعود کی حدیث میں ہے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
سورة الْاَعْرَاف 140
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے ان کو پیدا ہی اس غرض کے لیے کیا تھا کہ وہ جہنم میں جائیں اور ان کو وجود میں لاتے وقت ہی یہ ارادہ کرلیا تھا کہ انہیں دوزخ کا ایندھن بنانا ہے، بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ہم نے تو ان کو پیدا کیا تھا دل، دماغ، آنکھیں اور کان دے کر، مگر ظالموں نے ان سے کوئی کام نہ لیا اور اپنی غلط کاریوں کی بدولت آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہے۔ اس مضمون کو ادا کرنے کے لیے وہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے جو انسانی زبان میں انتہائی افسوس اور حسرت کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ماں کے متعدد جوان جوان بیٹے لڑائی میں جاکر لقمہ اجل ہوگئے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے اور جس کو گمراہ کردے سو ایسے ہی لوگ (ابدی) خسارہ میں پڑجاتے ہیں (پھر ان سے توقع ہدایت کی کرنا اور ہدایت نہ ہونے سے مغموم ہونا بیکار) اور (جب وہ لوگ اپنے قوٰی مُدرکہ سے کام ہی نہیں لیتے تو ہدایت کہاں سے ہو، سو ان کے نصیب میں تو دوزخ ہی ہے چنانچہ) ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ (ہی میں رہنے) کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے (نام کو تو) دل (ہیں مگر) ایسے ہیں جن سے (حق بات کو) نہیں سمجھتے (چونکہ اس کا ارادہ ہی نہیں کرتے) اور جن کے (نام کو تو) آنکھیں (ہیں مگر) ایسی ہیں جن سے (نظر استدلال کے طور پر کسی چیز کو) نہیں دیکھتے اور…
Read the full tafseer →مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔
یہ نبی ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور قریش کے لیے تہدید و وعید بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ہدایت وہی پائیں گے جن کو خدا ہدایت کی توفیق بخشے اور خدا کی توفیق انہی کو حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کے طالب ہوں اور خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال کریں۔ جو لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے دل و دماغ پر خواہشات کی پٹی باندھ کر زندگی گزارتے ہیں خدا انہیں گمراہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اصلی نامراد اور بدقسمت لوگ وہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
177۔ 1 مثلاً تمییز ہے۔ اصل عبارت یوں ہوگی :
' سَاَءَ مَثَلاً ! (مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا) 7۔ الاعراف :176) '
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
90: عام جانور اسی وقت ہانپتے ہیں جب کوئی بوجھ اٹھائیں یا کوئی ان پر حملہ کرے۔ لیکن کتا ایسا جانور جسے سانس لینے ہر حال میں ہانپنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جن حضرات نے اس واقعے کو بلعام بن باعور کا واقعہ قرار دیا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی بد عملی کی سزا میں اس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل پڑی تھی، اس لیے اسے اس آیت میں کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ در اصل یہ تشبیہ اس شخص کی نفسانی حرص کی ہے۔ اگر کتے پر کوئی چیز پھینکی جائے تو خواہ وہ اسے مارنے کے لیے پھینکی گئی ہو، کتا اپنی زبان نکال کر اس پر اس حرص میں لپکتا ہے کہ شاید یہ کوئی کھانے کی چیز ہو۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی حرص…
Read the full tafseer →اس شخص کی مثال جسے اللہ نے اپنی ہدایات دیں مگر وہ ان سے نکل گیا ، تبصرہ یہ ہے کہ ہدایت در اصل وہی ہوتی ہے جو من جانب اللہ ہو ، جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے وہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑجاتا ہے۔ اب وہ کسی معاملے میں بھی نفع نہیں کما سکتا۔
اور اللہ تعالیٰ صرف اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ دوسری سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ جو لوگ ہمارے بارے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف راہنمائی کریں گے۔ اور دوسری جگہ ہے۔ ان اللہ لایغیر ما…
Read the full tafseer →3 علم و فضل بھی انسان کو جب ہی کام دیتا ہے کہ خدا کی ہدایت و دستگیری سے علم صحیح کے موافق چلنے کی توفیق ہو، جسے وہ سیدھے راستہ پر چلنے کے لیے موافق نہ کرے تو کتنی ہی بڑی علمی فضیلت و قابلیت رکھتا ہو سمجھ لو کہ ٹوٹے اور خسارے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ اس لیے انسان اپنے علم و فضل پر مغرور نہ ہو بلکہ دائما خدا سے ہدایت و توفیق کا طلبگار رہے۔
Read the full tafseer →آیت 178 مَنْ یَّہْدِ اللّٰہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِیْج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ
عہد الست کے حوالے سے ہم پر یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا ایک وجود روحانی ہے اور دوسرا مادی یعنی حیوانی۔ اگر انسان کی توجہ اور ساری دلچسپیاں حیوانی وجود کی ضروریات پوری کرنے تک محدود رہیں گی تو پھر وہ بلعم بن باعوراء کی مثال بن جائے گا۔ یہ انفرادی سطح پر بھی ہوسکتا ہے اور قومی و اجتماعی سطح پر بھی۔ اس ضمن میں حکمت قرآنی کا تیسرا نکتہ اگلی آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ انسانوں میں سے اکثر وہ ہیں جو صرف اپنے حیوانی جسم کی پرورش میں مصروف ہیں۔ وہ اگرچہ بظاہر تو انسان ہی نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں…
Read the full tafseer →178 علم گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے :۔ یعنی انسان کو اس کا علم و فضل صرف اس صورت میں فائدہ دے سکتا ہے جبکہ اللہ کی طرف سے اس علم پر عمل کرنے کی توفیق بھی نصیب ہو لہذا کسی شخص کو اپنی علمی قابلیت اور فضیلت پر نازاں نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ عقل کی کجروی سے بچنے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان علم کی راہ سے بھی انسانوں کو گمراہ کرسکتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ سب گمراہ فرقوں کے قائدین عموماً ذہین و فطین اور عالم لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →258 ۔ اور اللہ کا کسی کو بےراہ کرنا خود بہ خود نہیں ہوگا۔ بلکہ بندہ کے قصد ضلالت پر محض نتیجہ کے طور پر مرتب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–181
واتل۔۔۔۔ منھا (الآیۃ) اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا عبرت ناک واقعہ مذکور ہے، بنی اسرائیل کا ایک بڑا عالم اور مشہور مقتداء علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے باوجود دفعۃً گمراہ ہوگیا۔
بلعم بن باعوراء کے واقعہ کی تفصیل : مذکورہ آیت میں نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ تم یہود کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں مگر وہ ان نشانیوں سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے ائمہ تفسیر سے اس بارے میں مختلف روایتیں مذکور ہیں جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد وہ روایت ہے جو ابن مردویہ نے حضرت عباس ؓ سے نقل کی ہے اس روایت میں اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء…
Read the full tafseer →من یہد اللہ فہو المہتدی ومن یضلل فاولئک ہم الخسرون . جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو ایسے ہی لوگ خسارہ میں رہتے ہیں۔
فمثلہ یعنی اس کی ذلت کی حالت ایسی ہے۔ کمثل الکلبجی سے کتے کی ذلیل ترین حالت یلہث کہ وہ ہر حال میں زبان باہر نکال دیتا ہے ہانپتا ہے پیاس ہو تھکان ہو اس کو ڈانٹ ڈپٹ کی جائے اور دھتکار کر باہر نکالا جائے یا ایسا نہ کیا جائے بہرحال وہ ذلت کے ساتھ زبان باہر نکالے رہتا ہے دوسرے جانوروں کی حالت ایسی نہیں ہے وہ اسی وقت ہانپتے اور زبان باہر نکالتے ہیں جب کوئی خاص سبب ہو تھک جائیں پیاس لگی ہو یا کوئی اور محرک ہو تب وہ زبان باہر نکال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
(178۔ 179) جسے وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) اپنے دین کی ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ اپنے دین سے بےراہ کردے وہ عذاب کے وجوب سے خسارے میں ہے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچائی کے سمجھنے میں چوپایوں سے بھی زیادہ بےراہ ہیں کیوں کہ یہ انکار کرنے والے ہیں۔
اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ ۚ۔۔ : ہدایت کا نور اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ اس کا مالک ہے، جسے چاہے عطا کر دے اور جسے چاہے عطا نہ کرے اور وہ ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے۔ یہ مسئلۂ تقدیر ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ وہ کسی کو ہدایت نہ دے تو ظالم نہیں، کیونکہ مالک جسے چاہے اپنی چیز دے جسے چاہے نہ دے اور وہ تو ایسا مالک ہے جس سے کوئی پوچھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا، فرمایا : (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْن) [ الأنبیاء : 23 ] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ اس نے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 178
اس کا معنی اور مفہوم کئی مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ آیت قدریہ کا رد کرتی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ ان کا رد بھی کرتی ہے جنہوں نے یہ کہا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام مکلفین کو ہدایت دی ہے اور یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو گمراہ کرلے۔
Read the full tafseer →(1) امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ میں یوں فرمایا کرتے تھے۔
الحمدللہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونعوذ باللہ من شرور الفسنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ واشھدان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔
ترجمہ : سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں ہم اس سے مدد مانگتے ہیں اور ہم اس سے معافی طلب کرتے ہیں اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارت سے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں…
Read the full tafseer →[ مَنْ : جس کو ] [ يَّهْدِ : ہدایت دے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ ۚ : تو وہ ہی ہدایت پانے والا ہے ] [ وَمَنْ : اور جس کو ] [ يُّضْلِلْ : وہ گمراہ کرے ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خسارہ پانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
جسے اللہ ہدایت دے، سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور وہ جسے گمراہ کرے تو یہ لوگ ہیں نقصان میں پڑنے والے، اور تحقیق ہم نے پیدا کیا جہنم کے لیے بہت سے جنات کو اور بہت سے انسانوں کو، ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ یہ ان سے بڑھ کر بےراہ ہیں، ایسے لوگ غفلت والے ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–183
دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔
شان نزول
اس آیت کے شان…
Read the full tafseer →176: یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے یعنی آپ کی جرات و استقلال سے توحید کی تبلیغ کرتے رہیں۔ ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
ربط آیات
گزشتہ آیات میں عہدو پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس خاص عہد کا ذکر کیا جو بنی اسرائیل سے اس بات پر لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے اور اس پر عمل کریں گے اس کے بعد عہد عمومی کا ذکر تھا جو عالم ارواح میں تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا اور جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ کا اقرار کیا اس عہد کا بیج ہر انسان کے قلب میں موجود ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی ربوبیت اور اس کی خالقیت کو ماننا انسان کی فطرت میں داخل ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کو توڑنے والے لوگوں کے حال اور برے انجام کا ذکر کیا ہے اور اسے ایک مثال کے…
Read the full tafseer →مَنْ يَّہْدِ اللہُ فَہُوَالْمُہْتَدِيْ 0 ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِـرُوْنَ 178
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
3 ؎ یعنی کتے کو بیٹھا رہنے دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپتا ہے اور جو دوڑایا جائے تو بھی ہانپتا ہے۔ برخلاف اور حیوانوں کے کہ وہ دوڑنے میں ہانپتے ہیں۔ یہی مثال ذلت دہشت میں خدا کے منکروں کی ہے۔ وہ راحت و مصیبت دونوں حالوں میں ہانپتے رہتے ہیں نہ راحت میں شکر ‘ نہ مصیبت ‘ میں صبر نہ نرم احکام کی برداشت ‘ نہ گرم کی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
اگلی آیت کریمہ میں قریش کو مزید توجہ دلاتے ہوئے فرمایا
سَآئَ مَثَلَانِالْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاوَاَنْفُسِھُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ۔ مَنْ یِّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتِدِیْ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاْولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 178، 177)
” کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور خود اپنی جانوں پر ظلم کرتی رہی جسے اللہ ہدایت بخشے وہی ہدایت پانے والا بندہ ہے اور جنھیں وہ گمراہ کر دے وہی ہیں جو نامراد ہوتے ہیں “۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مشرکین کے لیے تہدیدو وعید
مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جس قوم نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور انفرادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان فرمائیں جس کو ہم نے علم کے زیور سے آراستہ فرمایا تھا مگر اس نے اس زیور کو اتار پھینکا اور شیطان کی اتباع کرتے ہوئے گمراہ لوگوں میں شمار ہوا یہ کس شخص کا واقعہ ہے، کہاں کا رہنے والا تھا اور اس کا نام کیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی مقدس دستاویزات میں اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اکثر مفسرین نے صحابہ کرام ] کے اقوال نقل کیے ہیں جن کی بنیاد اسرائیلی روایات پر ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں :
اس شخص کا نام بلعم بن بعور یا امیہ بن صلت تھا۔ یہ یہودیوں کا بڑا عالم تھا لیکن انتہائی ضمیر فروش ہونے کی…
Read the full tafseer →طالبین ہدایت کو ہدایت ملتی ہے :
آیت 178: مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِیْ (جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے پس ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے) لفظ پر محمول کیا وَمَنْ یُّضْلِلْ (اور جس کو وہ گمراہ کر دے) جس کو وہ گمراہ کرے فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (پس ایسے ہی لوگ خسارہ میں رہتے ہیں) اس کو معنی پر محمول کیا جائے اگر بقول معتزلہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف بیان کا نام ہوتا تو کافر و مومن برابرہوتے۔ کیونکہ بیان دونوں کے حق میں ثابت ہونے والا ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو فیق اور معونت اور عصمت ہوتی ہے اگر یہ کافر کو حاصل ہوجائے تو وہ راہ ہدایت پائے جیسا مومن…
Read the full tafseer →178 (من یھد اللہ فھو المھتدی ومن یضلل فاؤلئک ھم الخسرون)
Read the full tafseer →178۔ یہ اللہ پاک نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ ہدایت اور گمراہی دونوں خدا کے ہاتھ میں ہیں جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو ہدایت کرتا ہے وہ ہدایت پا جاتا ہے ایسا نہیں ہوتا کہ جس کو خدا ہدایت کرے وہ گمراہ کا گمراہ ہی رہے اور جس کو وہ گمراہ کردیتا ہے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے اور ایسے لوگ بڑا نقصان اٹھاتے ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ماں پیٹ میں جب بچے کا پتلا چار مہینے کے عرصہ میں بن کر تیار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق یہ لکھ لیا جاتا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد یہ بچہ نیک اٹھے گا یا…
Read the full tafseer →آیت 178
(واتل علیھم نبا الذی اتینہ ایتنا) ” اور سنا دوان کو حلال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دین “ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا (فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطن) ” پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کردیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کردیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
249 ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اللہ ہدایت بخشے وہی راہ پاسکتا ہے۔ اور جس کو وہ گمراہی میں ڈال دے وہی لوگ خسارے والے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے ہی لوگ خسارے میں ہیں کہ ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور سب خرابیوں کی جڑ اور ہر نقصان سے بڑا نقصان ہے کہ اس کے بعد انسان طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ہدایت کی دولت سے سرفرازی انہی کو نصیب ہوتی ہے جن کو اللہ توفیق دیتا ہے۔ اور اللہ کی توفیق انہی کو ملتی ہے جو اپنے اندر اس کے لئے طلب صادق رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–179
شیطان کی پیروی کا انجام
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ ہم سے اللہ عہد لے چکا ہے تو اس لحاظ سے ہمیں اپنے اعمال کا اور اپنی سزا و جزا کا خود ذمہ دار بنا دیا گیا ہے۔ پھر رب العالمین رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اور ان کو اس شخص کی مثال بھی دیکر سمجھائو کہ وہ شخص (اس کی نشاندہی اللہ نے نہیں کی، لہٰذا اس سے مراد صرف انسان ہے) بڑا ہی دیندار، متقی اور مقبول الٰہی اتنا کہ جو دعا کرتا ضرور قبول ہوجاتی کہ یکایک اس پر دنیا کا لالچ سوار ہوگیا اور وہ روپے پیسے کے لالچ میں آکر دین کی باتوں کو توڑمڑور کر لوگوں کی مرضی کے مطابق بتانے لگا۔ لوگ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
ف 9 ان کو کوئی بھی سیدھی راہ پر نہیں لگاسکتا آنحضرت ﷺ اپنے خطبہ میں بھی حمدو ثنا کے بعد فرمایا کرتے، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللم فلا ھادی لہ یعنی جسے اللہ تعالیٰ سیدھی راہ پر لگائے اسے جوئی کوئی نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔ ( سلم نسائی وغیرہ۔
Read the full tafseer →(7:178) المھتدی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ معرفہ۔ ہدایت یاب۔ ومن یضلل۔ ای ومن یضلل اللہ۔ اور جن کو اللہ گمراہ کر دے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
تشریح : آیت نمبر 178 تا 179
انسان دو طرح کے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنی فطری صلاحیتوں کا صرف اپنے اہل و عیال اور خوشی و مسرت اور عیش و آرام کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دود صرف دنیاوی مفادات حاصل کنے کیلئے ہوتی ہے۔
دوسرے وہ ہیں جو آخرت کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ آخر کمانے کے لئے صرف اتنی ہی دنیا کماتے ہیں جو ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کردے۔
ان دونوں میں سے ایک کا مقصد زندگی برائے زندگی ہے اور دوسرے کا مقصد زندگی برائے بندگی ہے۔
یہاں ان لوگوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو صرف کھانے پینے اور عیش و آرام ہی کو زندگی کا مقصد بنا کر اس کے پیچھے دوڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ ہدایت و گمراہی دونوں خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
[69] جہاں کہیں بھی قرآن میں اس طرح کا مضمون آیا ہے (اور ایسے مقامات بہت ہیں) ۔ ان میں اللہ نے ہدایت و ضلالت کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کیونکہ طبعی قوانین کی طرح اخلاقی قوانین بھی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ ان سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں اسے اللہ براہ راست اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ 55۔
Read the full tafseer →(ف 2) غرض یہ ہے کہ جب تک توفیق الہی شامل حال نہ ہو ، ہدایت کا حصول ناممکن ہے اور توفیق الہی کے حصول کے لئے طلب صادق اور اخلاص شرط ہے جو ان لوگوں میں موجود نہیں ۔
حل لغات :
اخلد الی الارض : زمین میں دھنستا چلا گیا ، یعنی رضیت پسندی اختیار کرلی ۔
Read the full tafseer →178 جس شخص کی اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمائے تو وہی صحیح راہ پانے والا ہے اور جس کی رہنمائی سے وہ دست کش ہوجائے اور گمراہی میں چھوڑ دے تو ایسے ہی لوگ زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
ف 1۔ اوپر اہل ضلالت کی حالت بیان فرمائی کہ باوجود ضوح طرق ہدایت کے پھر عناد و خلاف کو نہیں چھوڑتے چونکہ ان کے اس عنداد و خلاف سے رسول اللہ کو سخت غم ہوتا تھا اس لیے آگے آپ کی تسلی کا مضمون ہے۔
Read the full tafseer →ہدایت وہی حاصل کرسکتا ہے جس کو اللہ ہدایت دے گمراہ خائب و خاسر ہوتے ہیں :
202: ہدایت کون پاتے ہیں ؟ ہدایت وہی پاتے ہیں جن کو اللہ ہدایت کی توفیق بخشتا ہے اور اللہ کی توفیق انہی کو حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کے طالب ہوں اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال کریں جو لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے دل و دماغ پر خواہشات کی پٹی باندھ کر زندگی گزارتے ہیں اللہ انہیں گمراہی کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور حقیقت میں نامراد اور بد قسمت لوگ وہی ہیں۔
Read the full tafseer →The main theme of the verse 178 is that guidance and misguidance both are from Allah. He is the creator of good and evil, guidance and misguidance. The guided are those whom Allah has given guidance and losers are those whom Allah lets go astray. This theme has been mentioned repeatedly by the Qur'an in many other verses to make the mankind know that Allah has created good and evil and has provided with clear instructions to distinguish one from the other, and with a kind of free will to choose one of the two paths. Those who willfully choose the right path and do good deeds get their reward…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
140. This does not mean that God has created some people for the specific purpose of fuelling Hell. What it does mean is that even though God has bestowed upon men faculties of observation, hearing and reasoning, some people do not use them properly. Thus, because of their own failings, they end up in Hell.
The words employed to give expression to the idea are ones which reflect deep grief and sorrow. This can perhaps be grasped by the occasional outbursts of sorrow by human beings. If a mother is struck by the sudden death of her sons in a war, she is prone to exclaim: 'I had brought up my…
Read the full tafseer →