Explained with ayahs 175–177
بلعم بن باعورا
مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام بلعم بن باعورا ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ضفی بن راہب تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات ہی بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کردیا تھا، یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہوجایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کردیا کرتے تھے۔ اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے حضرت موسیٰ ؑ نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کیلئے بھیجا تھا اس عقلمند بادشاہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
سورة الْاَعْرَاف 140
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے ان کو پیدا ہی اس غرض کے لیے کیا تھا کہ وہ جہنم میں جائیں اور ان کو وجود میں لاتے وقت ہی یہ ارادہ کرلیا تھا کہ انہیں دوزخ کا ایندھن بنانا ہے، بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ہم نے تو ان کو پیدا کیا تھا دل، دماغ، آنکھیں اور کان دے کر، مگر ظالموں نے ان سے کوئی کام نہ لیا اور اپنی غلط کاریوں کی بدولت آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہے۔ اس مضمون کو ادا کرنے کے لیے وہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے جو انسانی زبان میں انتہائی افسوس اور حسرت کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ماں کے متعدد جوان جوان بیٹے لڑائی میں جاکر لقمہ اجل ہوگئے…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں فرمایا کہ آیات الہیہ کو جھٹلانے والوں کا برا حال ہے اور یہ لوگ اپنی ہی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں اور کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے۔
آیات مذکورہ اور ان میں بیان کئے ہوئے واقعہ اہل فکر کے لئے بہت سے فوائد اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں
اول یہ کہ کسی شخص کو اپنے علم و فضل اور زہد و عبادت پر باز نہیں کرنا چاہئے، حالات بدلتے اور بگڑتے ہوئے دیر نہیں لگتی، جیسے بلعم بن باعوراء کا حشر ہوا، اطاعت و عبادت کے ساتھ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور استقامت کی دعا اور اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔
دوسرے یہ کہ ایسے مواقع اور ان کے مقدمات سے بھی آدمی کو پرہیز کرنا چاہئے جہاں اس کو اپنے دین کی خرابی کا…
Read the full tafseer →سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرنے والی قوم اپنی خواہشات کی غلامی کے سبب سے بالکل ہیز بن کے رہ جاتی ہے۔ اس کی مثال، جیسی کہ اوپر بیان ہوئی، نہایت ہی مکروہ اور گھنونی ہے۔ سو یہ راہ تم نہ اختیار کرو۔ جو لوگ یہ راہ اختیار کرتے ہیں وہ اللہ کی آیات کا کچھ نہیں بگاڑتے۔ بلکہ خود اپنا ہی بگاڑتے ہیں۔ وہ ان آیات کی ناقدری کر کے خود اپنے ہاتھوں عزت کے تاج کے بجائے اپنے لیے ذلت کا طوق اختیار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
177۔ 1 مثلاً تمییز ہے۔ اصل عبارت یوں ہوگی :
' سَاَءَ مَثَلاً ! (مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا) 7۔ الاعراف :176) '
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
90: عام جانور اسی وقت ہانپتے ہیں جب کوئی بوجھ اٹھائیں یا کوئی ان پر حملہ کرے۔ لیکن کتا ایسا جانور جسے سانس لینے ہر حال میں ہانپنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جن حضرات نے اس واقعے کو بلعام بن باعور کا واقعہ قرار دیا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی بد عملی کی سزا میں اس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل پڑی تھی، اس لیے اسے اس آیت میں کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ در اصل یہ تشبیہ اس شخص کی نفسانی حرص کی ہے۔ اگر کتے پر کوئی چیز پھینکی جائے تو خواہ وہ اسے مارنے کے لیے پھینکی گئی ہو، کتا اپنی زبان نکال کر اس پر اس حرص میں لپکتا ہے کہ شاید یہ کوئی کھانے کی چیز ہو۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی حرص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔…
Read the full tafseer →2 مشرکین وغیرہم کے رد میں جابجا قرآن نے عنکبوت، ذباب، مکڑی، مکھی وغیرہ کی مثالیں بیان فرمائی ہیں مگر ان لوگوں کی مثال ایسی بری ہے کہ کوئی غیرت مند آدمی حتی المقدور اس کو اپنے پر چسپاں نہیں ہونے دے گا۔ اور جو بےحیا غدار اپنے احوال پر چسپاں ہونے دیتا ہے وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
آیت 176 وَلَوْ شِءْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ
یعنی اللہ کی آیات اور جو بھی علم اس کو عطا ہو اتھا اس کے ذریعے سے اس کو بڑا بلند مقام مل سکتا تھا مگر وہ تو زمین ہی کی طرف دھنستا چلا گیا۔ یہاں پر زمین کی طرف دھنسنے کے استعارے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان دراصل حیوانی جسم اور ملکوتی روح سے مرکب ہے۔ جسم کے اجزائے ترکیبی کا تعلق زمین سے ہے ‘ جیسا کہ سورة طٰہٰ کی آیت 55 میں فرمایا گیا : مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ یعنی ہم نے تمہیں اس زمین سے پیدا کیا۔ اس کے برعکس انسانی روح کا تعلق عالم بالا سے ہے اور وہ اللہ سے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط والا عہد کر کے آئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
177۔ الف ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے کتے کی دو حالتیں بیان فرمائیں ایک اضطراری دوسری اختیاری۔ یعنی ہر حال میں وہ زبان منہ سے باہر نکالے رکھتا اور ہانپتا رہتا ہے۔ دنیا کے کتے کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے ایک دفعہ جو شیطان کے پھندے میں آگیا تو پھر اس کی حالت ہی یہ ہوجاتی ہے کہ اسے کوئی مجبوری ہو یا نہ ہو بہرحال وہ دنیا کے طمع کی طرف لپکتا ہے اور حرام و حلال یا جائز و ناجائز کی تمیز اس سے ختم ہوجاتی ہے۔
بعض مفسرین نے تورات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس آیت کا روئے سخن بلعم بن باعوراء کی طرف ہے۔ یہ شخص بڑا عابد، زاہد اور مستجاب الدعوات تھا جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل موآب کے میدانوں میں…
Read the full tafseer →257 ۔ آیات الہی کی تکذیب سے شامت زدہ انسان نقصان کسی اور کا نہیں، خود اپنا ہی کرتا ہے۔ اسی حقیقت کا یہاں ایک بار پھر اعادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–181
واتل۔۔۔۔ منھا (الآیۃ) اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا عبرت ناک واقعہ مذکور ہے، بنی اسرائیل کا ایک بڑا عالم اور مشہور مقتداء علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے باوجود دفعۃً گمراہ ہوگیا۔
بلعم بن باعوراء کے واقعہ کی تفصیل : مذکورہ آیت میں نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ تم یہود کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں مگر وہ ان نشانیوں سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے ائمہ تفسیر سے اس بارے میں مختلف روایتیں مذکور ہیں جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد وہ روایت ہے جو ابن مردویہ نے حضرت عباس ؓ سے نقل کی ہے اس روایت میں اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء…
Read the full tafseer →سآء مثلا ان القوم الذین کذبوا بایتنا وانفسہم کانوا یظلمون : ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور (اس سے) وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(177) جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کے منکر ہیں ان کی مثال بہت بری ہے کیونکہ وہ کتے کی مثل ہیں، اور سزا کی وجہ سے اپنا نقصان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا۔۔ : اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیات پر عمل کی توفیق دے کر صالحین و ابرار کے آسمان پر بلند کردیتے، مگر وہ زمین اور پستی (دنیا کے حقیر سازوسامان) کی طرف چمٹ ہی گیا اور اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر ہر وقت دنیا کی طلب میں لگ گیا، تو اس کی مثال ہر وقت زبان نکال کر ہانپتے ہوئے کتے کے ساتھ دی گئی۔ مفسرین میں سے بعض نے گزشتہ امتوں میں سے اس کا نام بلعم بن باعورا بتایا ہے اور بعض نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے بعض اشخاص، مثلاً امیہ بن صلت وغیرہ کا نام ذکر کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب لوگ اس آیت کے مصداق ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا اور ان میں یہ اشخاص بھی شامل ہیں۔
فَمَثَلُهٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
آیت نمبر : 176۔ 177
قولہ تعالیٰ : آیت : ولو شئنا لرفعنہ اس سے مراد بلعام ہے۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو اسے اس کے نافرمان اور گنہگار ہونے سے پہلے موت دے دیتے پھر اسے جنت کی طرف بلند کردیتے۔ بھا یعنی ان آیتوں کے ساتھ عمل کرنے کے سبب۔ ولکنہ اخلد الی الارج یعنی لیکن وہ تو پستی کی طرف جھلک گیا۔ یہ معنی حضرت ابن جبیر اور سدی رحمۃ اللہ علیہما سے مروی ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : سکن الیھا یعنی وہ تو پستی کی لذتوں میں کھو گیا۔ الاخلاء کا اصل معنی لزوم ہے۔ کہا جاتا ہے : اخلد فلان بالمکان جب کوئی کسی جگہ مقیم ہو اور اسے لازم پکڑے ہوئے ہو۔ زہیر نے کہا ہے :
لمن الدیار عشی تھا بالغاقد کالوحی فی حضر المسیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
(1) امام فریابی، عبد الرزاق، عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واتل علیہم نبا الذی اتینہ ایتنا فانسلخ منھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی تھا جس کو بلعم بن ابر کہا جاتا تھا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ بلعم بن باعوراء تھا اور دوسرے الفاظ میں بلعام بن عامر تھا یہ آدمی ہے جسے اسم اعظم عطا کیا گیا تھا اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا تھا۔
(3) امام ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →[ سَاۗءَ : کتنی بری ہے ] [ مَثَلَۨا : مثال ] [ الْقَوْمُ الَّذِيْنَ : اس قوم کی جس نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ وَاَنْفُسَهُمْ : اور اپنے آپ پر (ہی) ] [ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ ظلم کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
جسے اللہ ہدایت دے، سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور وہ جسے گمراہ کرے تو یہ لوگ ہیں نقصان میں پڑنے والے، اور تحقیق ہم نے پیدا کیا جہنم کے لیے بہت سے جنات کو اور بہت سے انسانوں کو، ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ یہ ان سے بڑھ کر بےراہ ہیں، ایسے لوگ غفلت والے ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–183
دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔
شان نزول
اس آیت کے شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
174: یعنی وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا۔ “ اي رکن الی الدنیا و مال الیھا ” (روح ج 9 ص 114) ۔ ذلت و دناءت طبع میں اس کی مثال بالکل کتے کی سی ہے کہ اگر اس پر حملہ کرو اور بھگاؤ تو بھی وہ ہانپتا ہے اور اگر اسے آزاد چھور دو تو بھی وہ ہانپتا ہے۔ یعنی زبان باہر لٹکا کر ہانپنا اس کی طبعی عادت ہے۔ اسی طرح بلعم بن باعوراء کی زبان لٹک گئی تھی۔
175:“ اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا ” سے مشرکین مکہ مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے وہ پہلے تمنا کیا کرتے تھے کہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ہادی اور رہنما آئے۔ جب اللہ کا پیغمبر ہادی بن کر آگیا تو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرنے لگے اور ہدایت کی راہ سے ہٹ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
ربط آیات
گزشتہ آیات میں عہدو پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس خاص عہد کا ذکر کیا جو بنی اسرائیل سے اس بات پر لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے اور اس پر عمل کریں گے اس کے بعد عہد عمومی کا ذکر تھا جو عالم ارواح میں تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا اور جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ کا اقرار کیا اس عہد کا بیج ہر انسان کے قلب میں موجود ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی ربوبیت اور اس کی خالقیت کو ماننا انسان کی فطرت میں داخل ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کو توڑنے والے لوگوں کے حال اور برے انجام کا ذکر کیا ہے اور اسے ایک مثال کے…
Read the full tafseer →سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَہُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ 177
ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7]
ساء
اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
3 ؎ یعنی کتے کو بیٹھا رہنے دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپتا ہے اور جو دوڑایا جائے تو بھی ہانپتا ہے۔ برخلاف اور حیوانوں کے کہ وہ دوڑنے میں ہانپتے ہیں۔ یہی مثال ذلت دہشت میں خدا کے منکروں کی ہے۔ وہ راحت و مصیبت دونوں حالوں میں ہانپتے رہتے ہیں نہ راحت میں شکر ‘ نہ مصیبت ‘ میں صبر نہ نرم احکام کی برداشت ‘ نہ گرم کی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
اگلی آیت کریمہ میں قریش کو مزید توجہ دلاتے ہوئے فرمایا
سَآئَ مَثَلَانِالْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاوَاَنْفُسِھُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ۔ مَنْ یِّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتِدِیْ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاْولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 178، 177)
” کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور خود اپنی جانوں پر ظلم کرتی رہی جسے اللہ ہدایت بخشے وہی ہدایت پانے والا بندہ ہے اور جنھیں وہ گمراہ کر دے وہی ہیں جو نامراد ہوتے ہیں “۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مشرکین کے لیے تہدیدو وعید
مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جس قوم نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور انفرادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان فرمائیں جس کو ہم نے علم کے زیور سے آراستہ فرمایا تھا مگر اس نے اس زیور کو اتار پھینکا اور شیطان کی اتباع کرتے ہوئے گمراہ لوگوں میں شمار ہوا یہ کس شخص کا واقعہ ہے، کہاں کا رہنے والا تھا اور اس کا نام کیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی مقدس دستاویزات میں اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اکثر مفسرین نے صحابہ کرام ] کے اقوال نقل کیے ہیں جن کی بنیاد اسرائیلی روایات پر ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں :
اس شخص کا نام بلعم بن بعور یا امیہ بن صلت تھا۔ یہ یہودیوں کا بڑا عالم تھا لیکن انتہائی ضمیر فروش ہونے کی…
Read the full tafseer →جھٹلانے والوں کا برا انجام :
آیت 177: سَآ ئَ مَثَلَا نِالْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا (ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں) یعنی قوم کی مثال۔ مضاف کو حذف کردیا۔ ساء کا فاعل ضمیر ہے یعنی ساء المثل مثلاً اور مثلا ً تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ وَانْفُسَھُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ (اور وہ اپنا نقصان کرتے ہیں) اس کا عطف کذبوا پر ہے۔ نمبر 1: پس یہ صلہ کی جگہ میں داخل ہوجائے گی۔ یعنی الذین جمعوا بین التکذیب باٰیات اللّٰہ و ظلم انفسھم وہ لوگ جنہوں نے تکذیب آیات اور ظلم انفس کو جمع کیا نمبر 2۔ صلہ سے منقطع ہو تو وما ظلموا الا انفسھم بالتکذیب انہوں نے تکذیب سے اپنے ہی…
Read the full tafseer →تفسیر 177(سآء مثلاً القوم الذین کذبوا بایتنا) اس کی اصل عبارت ” ساء مثلاً مثل القوم “ ہے مثل کو حذف کردیا گیا ہے اور قوم کو اس کے قائم کردیا گیا ہے۔ اس لئے القوم پر پیش پڑھا گیا ہے۔ وانفسھم کانوا یظلمون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
176۔ 177۔ پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ ان نشانیوں اور کرامت کی وجہ سے جو ہم نے بلعم کو دی تھیں کہ اس کو اسم اعظم کا علم دیا تھا دعا میں اس کی نامقبول نہیں ہوتی تھیں اگر ہم چاہتے تو اس کو بہت بڑا مرتبہ دیتے مگر وہ گمراہ ہو کر دنیا حاصل کرنے کی طرح مائل ہوگا اور اپنی خواہش کا تابع ہو کر اس نے اپنی قوم کی خوشی چاہی پھر اللہ پاک نے مثال بیان فرمائی کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ ہر وقت ہانپتا رہتا ہے اگر اس پر کچھ بوجھ لادو تو بھی ہاپنتا ہے اور اگر نہ بوجھ لادو جب بھی ہانپتا ہے کتے کی یہ حالت ہمیشہ رہتی ہے آرام و راحت کے وقت بھی اور تھکان ومشقت کے وقت بھی کوئی گھڑی اس کی ہانپنے سے خالی نہیں جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے۔
آیت 175
(1) آیت (واذا اخذ ربک۔۔۔ ) کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دورائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر (رح) نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقاعت میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رئاے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔ بلکہ ایک واقعہ ہے، اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
246 نورِحق و ہدایت سے محرومی کا ہولناک انجام ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو اس شخص کے حال بد کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی جو کہ ہر وقت ہانپتا رہتا ہے اور اس کی رال ٹپکتی رہتی ہے۔ جو نشانی ہے اس کے انتہائی حرص و لالچ اور خست و دناءت کی۔ یہاں تک کہ وہ گویا کہ ہمہ تن شکم اور ہمہ تن فرج بن جاتا ہے۔ اور اس کا کام شہوات و خواہشات کی پیروی کے سوا اور کچھ نہیں رہ جاتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہی حال ہوتا ہے ہر ایسے شخص کا جو دین کی روشنی سے منہ موڑ کر اور اس سے محروم ہو کر محض خواہشات کیلئے جیتا ہے کہ اس کا جینا اور مرنا سب کچھ خواہشات بطن و فرج ہی کے گرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–179
شیطان کی پیروی کا انجام
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ ہم سے اللہ عہد لے چکا ہے تو اس لحاظ سے ہمیں اپنے اعمال کا اور اپنی سزا و جزا کا خود ذمہ دار بنا دیا گیا ہے۔ پھر رب العالمین رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اور ان کو اس شخص کی مثال بھی دیکر سمجھائو کہ وہ شخص (اس کی نشاندہی اللہ نے نہیں کی، لہٰذا اس سے مراد صرف انسان ہے) بڑا ہی دیندار، متقی اور مقبول الٰہی اتنا کہ جو دعا کرتا ضرور قبول ہوجاتی کہ یکایک اس پر دنیا کا لالچ سوار ہوگیا اور وہ روپے پیسے کے لالچ میں آکر دین کی باتوں کو توڑمڑور کر لوگوں کی مرضی کے مطابق بتانے لگا۔ لوگ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
ف 9 ان کو کوئی بھی سیدھی راہ پر نہیں لگاسکتا آنحضرت ﷺ اپنے خطبہ میں بھی حمدو ثنا کے بعد فرمایا کرتے، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللم فلا ھادی لہ یعنی جسے اللہ تعالیٰ سیدھی راہ پر لگائے اسے جوئی کوئی نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔ ( سلم نسائی وغیرہ۔
Read the full tafseer →(7:177) ساء مثلان القوم میں مثلا تمیز ہے۔ یعنی مثال کے لحاظ سے بری ہے وہ قوم ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
تشریح آیات نمبر 175 تا 177
یہ کوئی مخصوص شخص تھا یا بات عام کی جارہ ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ بہر حال مفسرین کا خیال اس طرف گیا ہے کہ اس سے مراد ایک مخصوص شخص ہے جس کا نام بلعم ابن باعورا تھا جو اپنے وقت کا بہت بڑاعالم ، عارف اور مشہور پیشوا تھا لیکن اپنے تمام تر علم وتقویٰ کے باوجود جب وہ دنیا کے لالچ میں اندھا ہوگیا تو اس کی ساری علمی عظمتوں کو اس سے چھین لیا گیا اگر وہ اپنے علم کا حق ادا کرتا اس کے احکامات کی پابندی کرتا تو یقینا اس کا مقام ہی کچھ اور ہوتا لیکن جب اس پر دنیا پر ستی کا غلبہ ہوگیا تو وہ اپنی بنیادی عظمتوں سے محروم ہوگیا۔
اگر اس آیت کا مفہوم کو عام رکھا جائے تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ ہدایت و گمراہی دونوں خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
[69] جہاں کہیں بھی قرآن میں اس طرح کا مضمون آیا ہے (اور ایسے مقامات بہت ہیں) ۔ ان میں اللہ نے ہدایت و ضلالت کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کیونکہ طبعی قوانین کی طرح اخلاقی قوانین بھی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ ان سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں اسے اللہ براہ راست اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ 55۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
(ف 1) معلوم ہوتا ہے یہودیوں میں کوئی شخص مشہور تھا ، جسے اللہ تعالیٰ نے علم وفضل سے نوازا مگر جب اس نے رجوع عام دیکھا تو پاؤں پھسل گئے ہواوہوس کی پیروی شروع کردی ، نتیجہ یہ ہوا ، کہ اللہ کی نظروں سے گر گیا ، قرآن حکیم نے نام نہیں لیا ، مقصود حاصل ہے ، یعنی کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ۔ جو علم و سلوک کی چند منزلیں طے کرلینے کے بعد گمراہ ہوجاتے ہیں نفس کی خواہشیں ان پر غالب آجاتی ہیں ، وہ روحانی رفعت کی بجائے نفسانی پستی کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔
یہود کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہوگئی تھی اسی لئے فرمایا (آیت) ” ذالک مثل القوم الذین کذبوا بایتنا “۔ یعنی بالکل یہی حالت ان مکذبین کی ہے ، یا تو شریعت…
Read the full tafseer →177 ان لوگوں کی مثال اور ان کی حالت واقعی بہت بری حالت ہے جنہوں نے ہماری آیات اور ہمارے دلائل توحید و رسالت کی تکذیب کی اور اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
ف 1۔ اوپر اہل ضلالت کی حالت بیان فرمائی کہ باوجود ضوح طرق ہدایت کے پھر عناد و خلاف کو نہیں چھوڑتے چونکہ ان کے اس عنداد و خلاف سے رسول اللہ کو سخت غم ہوتا تھا اس لیے آگے آپ کی تسلی کا مضمون ہے۔
Read the full tafseer →آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں :
201: آیات الٰہی کو جھٹلانے والوں کا ہمیشہ برا حال ہوا اور ہمیشہ برا حال ہوگا ان کے لئے نہ دنیا میں امن و آرام ہے اور نہ آنے والی زندگی میں ہوگا ۔ اس لئے اگر تم نے بھی یہ راہ اختیار کی تو تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو پچھلی قوموں کا ہوا۔ یاد رکھو کہ جو لوگ یہ راہ اختیار کرتے ہیں وہ اللہ کی آیات کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ خود اپنا ہی بگاڑتے ہیں اور وہ ان آیات کی ناقدری کر کے خود اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرتے ہیں ۔
Read the full tafseer →The last verse in this series 176 said, "So evil is example of those who belied our signs and they have been doing harm to themselves."
The General Message of the Verses
The above verses contain a number of useful points for the benefit of those who are heedful and make use of their understanding. Firstly, no one should be boastful of his knowledge and be proud for his piety. Things can change without notice just as happened with Bal'am Ba'ura. One has to be grateful to his Lord for all the knowledge and wisdom he has, and should keep praying Allah for being firm in his faith.
Secondly, one…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
140. This does not mean that God has created some people for the specific purpose of fuelling Hell. What it does mean is that even though God has bestowed upon men faculties of observation, hearing and reasoning, some people do not use them properly. Thus, because of their own failings, they end up in Hell.
The words employed to give expression to the idea are ones which reflect deep grief and sorrow. This can perhaps be grasped by the occasional outbursts of sorrow by human beings. If a mother is struck by the sudden death of her sons in a war, she is prone to exclaim: 'I had brought up my…
Read the full tafseer →