Explained with ayahs 175–177
بلعم بن باعورا
مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام بلعم بن باعورا ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ضفی بن راہب تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات ہی بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کردیا تھا، یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہوجایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کردیا کرتے تھے۔ اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے حضرت موسیٰ ؑ نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کیلئے بھیجا تھا اس عقلمند بادشاہ نے…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 139
ان دو مختصر سے فقروں میں بڑا اہم مضمون ارشاد ہوا ہے جسے ذرا تفصیل کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے۔
وہ شخص جس کی مثال یہاں پیش کی گئی ہے، آیات الہٰی کا علم رکھتا تھا، یعنی حقیقت سے واقف تھا۔ اس علم کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اس رویہ سے بچتا جس کو وہ غلط جانتا تھا اور وہ طرز عمل اختیار کرتا جو اسے معلوم تھا کہ صحیح ہے۔ اسی عمل مطابق علم کی بدولت اللہ تعالیٰ اس کو انسانیت کے بلند مراتب پر ترقی عطا کرتا۔ لیکن وہ دنیا کے فائدوں اور لذتوں اور آرائشوں کی طرف جھک پڑا، خواہشات نفس کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس نے ان کے آگے سپر ڈال دی، معالی امور کی طلب میں دنیا کی حرص و طمع…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ، یعنی اگر ہم چاہتے تو انہی آیات کے ذریعہ اس کو بلند مرتبہ کردیتے، لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے لگا، لفظ اَخْلَدَ ، اخلاد سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کی طرف میلان کے یا کسی جگہ کو لازم پکڑنے کے اور ارض کے اصلی معنی زمین کے ہیں، دنیا کی جتنی چیزیں ہیں وہ سب یا خود زمین ہے یا زمین سے متعلق گھر، جائیداد، کھیتی، باغ وغیرہ ہیں، یا زمین سے ہی پیدا ہونے والی کروڑوں چیزیں ہیں جو انسان کی زندگی اور عیش کا مدار ہیں، اس لئے لفظ ارض بول…
Read the full tafseer →وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۔
اخلد الی الشء کے معنی کسی شے کی طرف اس طرح جھک جانے اور مائل ہوجانے کے ہوتے ہیں کہ آدمی بس اسی کا ہو کر رہ جائے۔ یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں پسند فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن کو اپنی آیات سے نوازتقو ہے اگر وہ ان کی قدر کرتے ہیں تو وہ ان کے ذریعہ سے ان کو دین و…
Read the full tafseer →176۔ 1 لَھَت، ُ کہتے ہیں تھکاوٹ یا پیاس وغیرہ کی وجہ سے زبان باہر نکالنے کو، کتے کی یہ عادت ہے کہ تم اسے ڈانٹو ڈپٹو یا اسکے حال پر چھوڑ دو ، دونوں حالتوں میں وہ بھونکنے سے باز نہیں آتا، اسی طرح اس کی یہ عادت بھی ہے کہ وہ شکم سیر ہو یا بھوکا، تندرست ہو یا بیمار، تھکا ماندہ ہو یا توانا، ہر حال میں زبان باہر نکالے ہانپتا رہتا ہے۔ یہی حال ایسے شخص کا ہے اسے وعظ کرو یا نہ کرو، اس کا حال ایک ہی رہے گا اور دنیا کے مال و متاع کے لئے اس کی رال ٹپکتی رہے گی۔
176۔ 2 اور اس قسم کے لوگوں سے عبرت حاصل کرکے، گمراہی سے بچیں اور حق کو اپنائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
90: عام جانور اسی وقت ہانپتے ہیں جب کوئی بوجھ اٹھائیں یا کوئی ان پر حملہ کرے۔ لیکن کتا ایسا جانور جسے سانس لینے ہر حال میں ہانپنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جن حضرات نے اس واقعے کو بلعام بن باعور کا واقعہ قرار دیا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی بد عملی کی سزا میں اس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل پڑی تھی، اس لیے اسے اس آیت میں کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ در اصل یہ تشبیہ اس شخص کی نفسانی حرص کی ہے۔ اگر کتے پر کوئی چیز پھینکی جائے تو خواہ وہ اسے مارنے کے لیے پھینکی گئی ہو، کتا اپنی زبان نکال کر اس پر اس حرص میں لپکتا ہے کہ شاید یہ کوئی کھانے کی چیز ہو۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی حرص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
1 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیات بلعم بن باعوراء کے حق میں نازل ہوئیں جو ایک عالم اور صاحب تصرف درویش تھا۔ بعدہ ' اللہ کی آیات اور ہدایات کو چھوڑ کر عورت کے اغواء اور دولت کے لالچ سے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنے تصرفات چلانے اور ناپاک تدبیریں بتلانے کے لیے تیار ہوگیا۔ آخر موسیٰ (علیہ السلام) کا تو کچھ نہ بگاڑ سکا خود مردود ابدی بنا۔ آیات اللہ کا جو علم بلعم کو دیا گیا تھا، اگر خدا چاہتا تو اس کے ذریعہ سے بہت بلند مراتب پر اس کو فائز کردیتا۔ اور یہ جب ہی ہوسکتا تھا کہ اسے اپنے علم پر چلنے اور آیات اللہ کا اتباع کرنے کی توفیق ہوتی۔ لیکن ایسا نہ ہوا کیونکہ وہ خود آسمانی برکات و آیات سے منہ موڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
آیت 176 وَلَوْ شِءْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ
یعنی اللہ کی آیات اور جو بھی علم اس کو عطا ہو اتھا اس کے ذریعے سے اس کو بڑا بلند مقام مل سکتا تھا مگر وہ تو زمین ہی کی طرف دھنستا چلا گیا۔ یہاں پر زمین کی طرف دھنسنے کے استعارے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان دراصل حیوانی جسم اور ملکوتی روح سے مرکب ہے۔ جسم کے اجزائے ترکیبی کا تعلق زمین سے ہے ‘ جیسا کہ سورة طٰہٰ کی آیت 55 میں فرمایا گیا : مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ یعنی ہم نے تمہیں اس زمین سے پیدا کیا۔ اس کے برعکس انسانی روح کا تعلق عالم بالا سے ہے اور وہ اللہ سے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط والا عہد کر کے آئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
177۔ الف ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے کتے کی دو حالتیں بیان فرمائیں ایک اضطراری دوسری اختیاری۔ یعنی ہر حال میں وہ زبان منہ سے باہر نکالے رکھتا اور ہانپتا رہتا ہے۔ دنیا کے کتے کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے ایک دفعہ جو شیطان کے پھندے میں آگیا تو پھر اس کی حالت ہی یہ ہوجاتی ہے کہ اسے کوئی مجبوری ہو یا نہ ہو بہرحال وہ دنیا کے طمع کی طرف لپکتا ہے اور حرام و حلال یا جائز و ناجائز کی تمیز اس سے ختم ہوجاتی ہے۔
بعض مفسرین نے تورات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس آیت کا روئے سخن بلعم بن باعوراء کی طرف ہے۔ یہ شخص بڑا عابد، زاہد اور مستجاب الدعوات تھا جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل موآب کے میدانوں میں…
Read the full tafseer →253 ۔ یعنی بہرحال وبہر صورت اسے ان آیات پر عمل کی توفیق دیتے ہی رہتے۔ (آیت) ” لوشئنا “۔ یعنی اگر ہماری مشیت تکوینی یہی ہوتی کہ ہم بندہ کے ارادہ میں دخل دے کر اسے بہ جبر سیدھی راہ پر ڈال دیا کرتے۔ (آیت) ” لرفعنہ بھا “۔ بھا کے معنی بالعمل بھا کے کئے گئے ہیں۔ اے بالعمل بھا (قرطبی)
254 ۔ یعنی عقیدہ وعمل کا معیار بجائے وحی الہی کے اپنی ہوائے نفس کو بنالیا۔ (آیت) ” ولکنہ “۔ یعنی یہ قانون تکوینی تو ہم نے رکھا ہی نہیں۔ چناچہ (آیت) ” اخلد الی الارض “۔ وہ اپنے قصد واختیار سے دنیا کی پستیوں کی طرف جھک گیا، اے مال الی زینۃ الحیوۃ الدنیا وزھر تھا (ابن کثیر) رای الی شھوات الدنیا ورغب فیھا (بحر)
255 ۔ تشبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–181
واتل۔۔۔۔ منھا (الآیۃ) اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا عبرت ناک واقعہ مذکور ہے، بنی اسرائیل کا ایک بڑا عالم اور مشہور مقتداء علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے باوجود دفعۃً گمراہ ہوگیا۔
بلعم بن باعوراء کے واقعہ کی تفصیل : مذکورہ آیت میں نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ تم یہود کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں مگر وہ ان نشانیوں سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے ائمہ تفسیر سے اس بارے میں مختلف روایتیں مذکور ہیں جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد وہ روایت ہے جو ابن مردویہ نے حضرت عباس ؓ سے نقل کی ہے اس روایت میں اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء…
Read the full tafseer →ولو شئنا لرفعنہ بہا ولکنہ اخلد الی الارض واتبع ہوہ : اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے ہو لیا۔
علیہم یعنی یہودیوں کو۔ فَانسَلخ منہاپس وہ آیتوں سے نکل گیا یعنی آیات سے روگرداں ہوگیا اور انکار کردیا۔ یہ قصہ بقول حضرت ابن عباس ؓ : بلعم بن باعور کا اور بقول مجاہد بلعام بن باعور کا ہے عطیہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ بلعم اسرائیلی تھا۔ ابو طلحہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کنعانی تھا اور حبارون (یعنی عمالقہ) کے شہر کا رہنے والا تھا۔ مقاتل نے کہا وہ شہر بلقاء کا باشندہ تھا۔ حضرت…
Read the full tafseer →(176) اور ہم اسے اسم اعظم کی وجہ سے آسمان تک بلندی عطا کرتے اور دنیا والوں پر اسے بادشاہت عطا کرتے مگر یہ دنیا کی دولت اور بادشاہت کی خواہش اور دیگر نفسانیت کی طرف مائل ہوگیا تو بلعم باعوراء یا امیۃ بن ابی الصلت کی مثال کتے کی طرح ہوگئی تو اس پر حملہ کرے پھر بھی ہانپتا ہے اور حملہ نہ کرے پھر بھی زبان نکال کرہانپتا رہتا ہے۔
یہ مثال بلعم باعوراء اور امیہ ابن ابی الصلت کی ہے کہ انکو نصیحت کی جائے تو نصیحت حاصل نہیں کرتے اور خاموشی اختیار کی جائے تو خود سے عقل نہیں آتی، یہی یہود کی حالت ہے ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنائیے تاکہ امثال قرآنی سے عبرت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا۔۔ : اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیات پر عمل کی توفیق دے کر صالحین و ابرار کے آسمان پر بلند کردیتے، مگر وہ زمین اور پستی (دنیا کے حقیر سازوسامان) کی طرف چمٹ ہی گیا اور اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر ہر وقت دنیا کی طلب میں لگ گیا، تو اس کی مثال ہر وقت زبان نکال کر ہانپتے ہوئے کتے کے ساتھ دی گئی۔ مفسرین میں سے بعض نے گزشتہ امتوں میں سے اس کا نام بلعم بن باعورا بتایا ہے اور بعض نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے بعض اشخاص، مثلاً امیہ بن صلت وغیرہ کا نام ذکر کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب لوگ اس آیت کے مصداق ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا اور ان میں یہ اشخاص بھی شامل ہیں۔
فَمَثَلُهٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
آیت نمبر : 176۔ 177
قولہ تعالیٰ : آیت : ولو شئنا لرفعنہ اس سے مراد بلعام ہے۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو اسے اس کے نافرمان اور گنہگار ہونے سے پہلے موت دے دیتے پھر اسے جنت کی طرف بلند کردیتے۔ بھا یعنی ان آیتوں کے ساتھ عمل کرنے کے سبب۔ ولکنہ اخلد الی الارج یعنی لیکن وہ تو پستی کی طرف جھلک گیا۔ یہ معنی حضرت ابن جبیر اور سدی رحمۃ اللہ علیہما سے مروی ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : سکن الیھا یعنی وہ تو پستی کی لذتوں میں کھو گیا۔ الاخلاء کا اصل معنی لزوم ہے۔ کہا جاتا ہے : اخلد فلان بالمکان جب کوئی کسی جگہ مقیم ہو اور اسے لازم پکڑے ہوئے ہو۔ زہیر نے کہا ہے :
لمن الدیار عشی تھا بالغاقد کالوحی فی حضر المسیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
(1) امام فریابی، عبد الرزاق، عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واتل علیہم نبا الذی اتینہ ایتنا فانسلخ منھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی تھا جس کو بلعم بن ابر کہا جاتا تھا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ بلعم بن باعوراء تھا اور دوسرے الفاظ میں بلعام بن عامر تھا یہ آدمی ہے جسے اسم اعظم عطا کیا گیا تھا اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا تھا۔
(3) امام ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →[ وَلَوْ : اور اگر ] [ شِئْنَا : ہم چاہتے ] [ لَرَفَعْنٰهُ : تو ہم ضرور بلند کرتے اس کو ] [ بِهَا : ان سے (یعنی آیات کے علم سے )] [ وَلٰكِنَّهٗٓ: اور لیکن ] [ اَخْلَدَ : وہ ہمیشہ کے لیے مائل ہوا ] [ اِلَى الْاَرْضِ : زمین کی طرف ] [ وَاتَّبَعَ : اور اس نے پیروی کی ] [ هَوٰىهُ ۚ : اپنی خواہش کی ] [ فَمَثَلُهٗ : تو اس کی مثال ] [ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ : کتے کی مثال کی مانند ہے ] [ اِنْ : اگر ] [ تَحْمِلْ : تو بوجھ ڈالے ] [ عَلَيْهِ : اس پر ] [ يَلْهَثْ : تو وہ ہانپے گا ] [ اَوْ : یا ] [ تَتْرُكْهُ : اگر تو چھوڑ دے اس کو ] [ يَلْهَثْ ۭ : تو (بھی) وہ ہانپے گا ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ مَثَلُ الْقَوْمِ…
Read the full tafseer →(وَ لَوْ شِءْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِھَا وَ لٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ ) صاحب جلالین لکھتے ہیں کہ جب بلعم بن باعوراء نے رشوت لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے لیے بد دعاء کردی تو اس کی زبان باہر نکل کر سینے پر آگئی اور اس کا حال ایسا ہوگیا جیسے کتے کا حال ہے کتے پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان کو نکال کر ہلاتا ہے اور اس کو چھوڑے رہو یعنی حملہ نہ کرو جب بھی وہ اپنی زبان کو ہلاتا رہتا ہے۔ بلعم کا بھی ایسا ہی حال ہوگیا۔ زبان نکلنے کی وجہ سے کتے کی طرح زبان ہلاتا رہتا تھا اور بعض مفسرین نے بلعم کی زبان باہر نکلنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ یوں فرمایا ہے کہ آیت شریفہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–183
دیدہ و دانستہ حق سے انحراف اور ہوا پرستی کا حال اور مآل اور اس کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واتل علیھم نبا الذی آتینہ ایتنا۔۔۔ الی۔۔۔ واملی لھم ان کیدی متین
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ کے عہود اور مواثیق کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ایسے ہوا پرستوں اور گرفتاران حرص وطمع کا ھال اور انجام اور مثال بیان کرتے ہیں جو حق کو قبول کرلینے اور پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیوی طمع کی بناء پر احکام خداوندی سے منحرف ہوجائیں اور شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں اور خدا کے عہد اور میثاق کی پرواہ نہ کریں ایسوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس لیے بطور تذکیر اس سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر فرمایا۔
شان نزول
اس آیت کے شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
174: یعنی وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا۔ “ اي رکن الی الدنیا و مال الیھا ” (روح ج 9 ص 114) ۔ ذلت و دناءت طبع میں اس کی مثال بالکل کتے کی سی ہے کہ اگر اس پر حملہ کرو اور بھگاؤ تو بھی وہ ہانپتا ہے اور اگر اسے آزاد چھور دو تو بھی وہ ہانپتا ہے۔ یعنی زبان باہر لٹکا کر ہانپنا اس کی طبعی عادت ہے۔ اسی طرح بلعم بن باعوراء کی زبان لٹک گئی تھی۔
175:“ اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا ” سے مشرکین مکہ مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے وہ پہلے تمنا کیا کرتے تھے کہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ہادی اور رہنما آئے۔ جب اللہ کا پیغمبر ہادی بن کر آگیا تو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرنے لگے اور ہدایت کی راہ سے ہٹ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
ربط آیات
گزشتہ آیات میں عہدو پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس خاص عہد کا ذکر کیا جو بنی اسرائیل سے اس بات پر لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے اور اس پر عمل کریں گے اس کے بعد عہد عمومی کا ذکر تھا جو عالم ارواح میں تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا اور جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ کا اقرار کیا اس عہد کا بیج ہر انسان کے قلب میں موجود ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی ربوبیت اور اس کی خالقیت کو ماننا انسان کی فطرت میں داخل ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کو توڑنے والے لوگوں کے حال اور برے انجام کا ذکر کیا ہے اور اسے ایک مثال کے…
Read the full tafseer →وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰكِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ 0 ۚ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ 0 ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْہِ يَلْہَثْ اَوْ تَتْرُكْہُ يَلْہَثْ 0 ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا 0 ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ 176
رفع
الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2]
( رع ) الرفع
کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس…
Read the full tafseer →2 ؎ بنی اسرائیل کو یہ قصہ معلوم تھا کہ باوجود آیات یعنی کرامات عطا ہونے کے نفس کی خواہش پر چل کر بلعم بن باعور نے یہ خلعت بزرگی اپنے تن سے اتار ڈالا اور دین و دنیا میں خراب ہوا۔ یہود کو عبرت پکڑنی چاہیے کہ وہ رشوت اور دیگر خواہشات میں آکریہ کچھ کر رہے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–178
اگلی آیت کریمہ میں قریش کو مزید توجہ دلاتے ہوئے فرمایا
سَآئَ مَثَلَانِالْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاوَاَنْفُسِھُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ۔ مَنْ یِّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتِدِیْ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاْولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 178، 177)
” کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور خود اپنی جانوں پر ظلم کرتی رہی جسے اللہ ہدایت بخشے وہی ہدایت پانے والا بندہ ہے اور جنھیں وہ گمراہ کر دے وہی ہیں جو نامراد ہوتے ہیں “۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مشرکین کے لیے تہدیدو وعید
مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جس قوم نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور انفرادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–178
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان فرمائیں جس کو ہم نے علم کے زیور سے آراستہ فرمایا تھا مگر اس نے اس زیور کو اتار پھینکا اور شیطان کی اتباع کرتے ہوئے گمراہ لوگوں میں شمار ہوا یہ کس شخص کا واقعہ ہے، کہاں کا رہنے والا تھا اور اس کا نام کیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی مقدس دستاویزات میں اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اکثر مفسرین نے صحابہ کرام ] کے اقوال نقل کیے ہیں جن کی بنیاد اسرائیلی روایات پر ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں :
اس شخص کا نام بلعم بن بعور یا امیہ بن صلت تھا۔ یہ یہودیوں کا بڑا عالم تھا لیکن انتہائی ضمیر فروش ہونے کی…
Read the full tafseer →آیت 176: وَلَوْشِئْنَا لَرَفَعْنٰـہُ (اور اگر ہم چاہتے تو اس کو بلند کردیتے) علمائے ابرار کے مقامات کی طرف بِھَا (ان آیات کی وجہ سے) ان آیات کے ساتھ وَلٰکِنَّہٓٗ اَخْلَدَاِلَی الْاَرْضِ (لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا) وہ دنیا کی طرف مائل ہوا اور اس میں خوب رغبت ظاہر کی۔ وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ (اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا) دنیا اور اس کی لذات کو آخرت اور اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں ترجیح دینے میں۔
خواہش پرستی میں کتے کی مثال :
فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ (اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی اگر تو اس پر حملہ کرے) ڈانٹے اور دھتکارے یَلْھَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ (تب بھی ہانپے…
Read the full tafseer →تفسیر :- اس کا واقعہ یہ ہے کہ اس شخص نے پہلی کتابیں پڑھی ہوئی تھیں اور جانتا تھیں اور جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک رسول بھیجنے والے ہیں اس کو امید تھی کہ وہ رسول میں ہی ہوں گا۔ جب محمد ﷺ کو رسول بنایا گیا تو اس کو حسد ہوا جس کی وجہ سے آپ (علیہ السلام) کا انکار کیا۔ یہ حکمت اور اچھی نصیحت کرنے والا شخص تھا۔ یہ کسی بادشاہ کے پاس گیا ہوا تھا واپس آیا تو بدر کے مقتولین پر گزر ہوا تو کہنے لگا کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو اپنے قریبی رشتہ داروں کو قتل نہ کرتے۔ جب امیہ مرگیا تو اس کی بہن گھبرائی ہوئی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بھائی کی وفات کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا وہ سویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
176۔ 177۔ پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ ان نشانیوں اور کرامت کی وجہ سے جو ہم نے بلعم کو دی تھیں کہ اس کو اسم اعظم کا علم دیا تھا دعا میں اس کی نامقبول نہیں ہوتی تھیں اگر ہم چاہتے تو اس کو بہت بڑا مرتبہ دیتے مگر وہ گمراہ ہو کر دنیا حاصل کرنے کی طرح مائل ہوگا اور اپنی خواہش کا تابع ہو کر اس نے اپنی قوم کی خوشی چاہی پھر اللہ پاک نے مثال بیان فرمائی کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ ہر وقت ہانپتا رہتا ہے اگر اس پر کچھ بوجھ لادو تو بھی ہاپنتا ہے اور اگر نہ بوجھ لادو جب بھی ہانپتا ہے کتے کی یہ حالت ہمیشہ رہتی ہے آرام و راحت کے وقت بھی اور تھکان ومشقت کے وقت بھی کوئی گھڑی اس کی ہانپنے سے خالی نہیں جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے۔
آیت 175
(1) آیت (واذا اخذ ربک۔۔۔ ) کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دورائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر (رح) نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقاعت میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رئاے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔ بلکہ ایک واقعہ ہے، اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
246 نورِحق و ہدایت سے محرومی کا ہولناک انجام ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو اس شخص کے حال بد کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی جو کہ ہر وقت ہانپتا رہتا ہے اور اس کی رال ٹپکتی رہتی ہے۔ جو نشانی ہے اس کے انتہائی حرص و لالچ اور خست و دناءت کی۔ یہاں تک کہ وہ گویا کہ ہمہ تن شکم اور ہمہ تن فرج بن جاتا ہے۔ اور اس کا کام شہوات و خواہشات کی پیروی کے سوا اور کچھ نہیں رہ جاتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہی حال ہوتا ہے ہر ایسے شخص کا جو دین کی روشنی سے منہ موڑ کر اور اس سے محروم ہو کر محض خواہشات کیلئے جیتا ہے کہ اس کا جینا اور مرنا سب کچھ خواہشات بطن و فرج ہی کے گرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–179
شیطان کی پیروی کا انجام
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ ہم سے اللہ عہد لے چکا ہے تو اس لحاظ سے ہمیں اپنے اعمال کا اور اپنی سزا و جزا کا خود ذمہ دار بنا دیا گیا ہے۔ پھر رب العالمین رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اور ان کو اس شخص کی مثال بھی دیکر سمجھائو کہ وہ شخص (اس کی نشاندہی اللہ نے نہیں کی، لہٰذا اس سے مراد صرف انسان ہے) بڑا ہی دیندار، متقی اور مقبول الٰہی اتنا کہ جو دعا کرتا ضرور قبول ہوجاتی کہ یکایک اس پر دنیا کا لالچ سوار ہوگیا اور وہ روپے پیسے کے لالچ میں آکر دین کی باتوں کو توڑمڑور کر لوگوں کی مرضی کے مطابق بتانے لگا۔ لوگ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی اپنی کج روی پر اصرار کیا اور دعوت ایمان سے مستفید نہ ہوا اس کی مثال اس کتے کی سی ہے ( ابن کثیر) کتے کے متعلق مشہور ہے کہ وہ طبعی طور پر کمر درد واقع ہوا ہے ہو گرم ہوا کہ بسہولت باہر نہیں نکال سکتا اور نہ تازہ ہوائی اہی اندر کھنیچ سکتا ہے اس لیے زبان لٹکائے ہا نہتا رہتا ہے یہی حال دنیا کے حریص بندے کا ہے اسے نصیحت کرو نہ کرو وہ ہر حالت میں اپنی گمراہی پر پکار رہتا ہے اور دنیا کے لالچ میں اس کی زبان لٹکتی رہتی ہے جس طرح ایسے لوگوں کو متعلق دوسرے مقامات پر مذکور ہے، ( دیکھئے بقہ آیت 6 اعراف آیت 192) یہاں آیت میں ہوسکتا ہے تمثیل ہو اور عین ممکن ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
(7:175) اتل۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ تلاوۃ سے جس کے معنی پڑھنے ۔ تلاوت کرنے اور معنی میں تدیر کرنے کے ہیں۔ امر واحد مذکر حاضر۔ (خطاب حضرت رسول کریم سے ہے) ۔
نبأ خبر ۔ حال ۔ نبا الذی حال اس شخص کا۔ اتینہ ایتنا۔ ہم نے اس کو اپنی نشانیاں دیں۔ ہم نے اس کو اپنی نشانیوں کا علم دیا۔
فانسلخ منھا۔ وہ چھوڑ نکلا۔ وہ گزر گیا۔ السلخ کے اصل معنی ہیں کھال کھینچنا۔ (باب انفعال) سے۔ جیسے محاورہ ہے سلختہ فانسلخ میں نے اس کی کھال کھینچی تو وہ کھنچ گئی۔ اسی سے ہے سلخت درعہ۔ میں نے اس کی زرہ کھینچی یعنی اتارلی۔ گزرجانے کے معنی میں قرآن میں آیا ہے فاذا انسلخ الاشھر الحرم (9:5) جب حرمت کے مہینے گزر جائیں۔ سانپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
تشریح آیات نمبر 175 تا 177
یہ کوئی مخصوص شخص تھا یا بات عام کی جارہ ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ بہر حال مفسرین کا خیال اس طرف گیا ہے کہ اس سے مراد ایک مخصوص شخص ہے جس کا نام بلعم ابن باعورا تھا جو اپنے وقت کا بہت بڑاعالم ، عارف اور مشہور پیشوا تھا لیکن اپنے تمام تر علم وتقویٰ کے باوجود جب وہ دنیا کے لالچ میں اندھا ہوگیا تو اس کی ساری علمی عظمتوں کو اس سے چھین لیا گیا اگر وہ اپنے علم کا حق ادا کرتا اس کے احکامات کی پابندی کرتا تو یقینا اس کا مقام ہی کچھ اور ہوتا لیکن جب اس پر دنیا پر ستی کا غلبہ ہوگیا تو وہ اپنی بنیادی عظمتوں سے محروم ہوگیا۔
اگر اس آیت کا مفہوم کو عام رکھا جائے تو اس…
Read the full tafseer →ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : " بلعم کو اسم اعظم کا علم دیا تھا، دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ اگر ہم چاہتے تو اس کو بہت بڑا مرتبہ دیتے مگر وہ دنیا حاصل کرنے کی طرف مائل ہوگیا۔ اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ ہر وقت ہانپتا رہتا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کی بھی حالت ہے جو عقبی کے منکر اور دنیا کی حرص میں لگے رہتے ہیں اور ان کو نصیحت کام نہیں دتی۔ کتنی ہی نصیحت کی جاوے یہ لوگ راہ راست پر نہیں آسکتے۔ اسی کو فرمایا کہ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو عقبی کو جھٹلاتے ہیں کہ کبھی یہ ہدایت نہیں پا سکتے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ اب لوگوں سے ان قصوں اور مثالوں کو بیان فرمادیں تاکہ شاید یہ…
Read the full tafseer →[68] مفسرین نے اختلاف کیا ہے کہ اس آیت کا مصداق کون شخص ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت ہر اس شخص پر صادق آتی ہے جو دین حق کی نعمت پا چکنے کے بعد اس کا تارک ہوگیا ہو اور دنیوی لذتوں میں کھپ کر رہ گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–177
(ف 1) معلوم ہوتا ہے یہودیوں میں کوئی شخص مشہور تھا ، جسے اللہ تعالیٰ نے علم وفضل سے نوازا مگر جب اس نے رجوع عام دیکھا تو پاؤں پھسل گئے ہواوہوس کی پیروی شروع کردی ، نتیجہ یہ ہوا ، کہ اللہ کی نظروں سے گر گیا ، قرآن حکیم نے نام نہیں لیا ، مقصود حاصل ہے ، یعنی کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ۔ جو علم و سلوک کی چند منزلیں طے کرلینے کے بعد گمراہ ہوجاتے ہیں نفس کی خواہشیں ان پر غالب آجاتی ہیں ، وہ روحانی رفعت کی بجائے نفسانی پستی کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔
یہود کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہوگئی تھی اسی لئے فرمایا (آیت) ” ذالک مثل القوم الذین کذبوا بایتنا “۔ یعنی بالکل یہی حالت ان مکذبین کی ہے ، یا تو شریعت…
Read the full tafseer →176 اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان احکام پر عمل کرنے کے باعث اور ان آیات کے مطالب و مفاہیم کی تعمیل کرنے کے سبب بلند مرتبہ کردیتے لیکن وہ بدنصیب خود ہی پستی کی جانب اور دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھ ہولیا اور اپنے نفس کی خواہشات کا پیرو بن گیا اور ہماری آیات و احکام کو نظر انداز کردیا لہٰذا آیات و احکام کو چھوڑ کر جو ذلت و پریشانی اس کو نصیب ہوئی اس کی حالت کتے جیسی ہوگئی کہ اگر تو اس کو ڈانٹے اور اس پر حملہ کرے تو بھی ہانپے اور اگر تو اس کو چھوڑ دے تو تب بھی ہانپے یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیات اور ہمارے دلائل کی تکذیب کی۔
لہٰذا اے پیغمبر ! یہ حال و واقعات…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی اگر وہ ان آیتوں پر عمل کرتا جس کا وابستہ قضا وقدر ہونا امر معلوم ہے تو اس کا رتبہ قبول بڑھتا۔
Read the full tafseer →جب وہ قانون الٰہی کی زد میں آگیا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی :
اخلد الی الارض وہ زمین کی طرف مائل ہوگیا ایسا کہ بس اس کا ہو کر رہ گیا ۔ دراصل یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں پسند کی ۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اپنی آیات اور انعامات سے نوازتا ہی اگر وہ ان کی قدر کرتے ہیں تو وہ ان کے ذریعہ سے ان کو دین اور دنیا دونوں کی سرفرازی عطا فرماتا ہے اور اس سے ان کی عقل کو رفعت اور ان کی روح کو معراج حاصل ہوتی ہے لیکن جو لوگ ان آیات اور انعامات پانے کے بعد بھی اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور کتے کی طرح زمین سونگھتے ہی چلے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان…
Read the full tafseer →The next verse (176) has said:
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَـٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ
"And if We so willed, we would have elevated him thereby, but he clung to the earth, and followed his desire."
The word' أَخْلَدَ (Akhlada) is a derivative of اِخلَاد which means to incline or to cling to something. The word أَرْض (ard) meaning the earth includes the globe itself and all the things present. Furniture, machines; clothes and food are in fact, the gift of this earth. By implication all the worldly possessions have been taken to include in a single word…
Read the full tafseer →139. Since the statement here embodies a very significant point, it needs to be carefully examined. The person mentioned in the verse as the representative of the evil type possessed knowledge of God's signs, and hence of the truth. This should have helped him to give up an attitude which he knew to be wrong, and to act in a manner which he knew to be right. Had he followed the truth and acted righteously God would have enabled him to rise to higher levels of humanity. He, however, overly occupied himself with the advantages, pleasures, and embellishments of the worldly life. Instead of…
Read the full tafseer →