Al-A'raaf 7:173

Al-A'raaf · from ayah 173

7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْ بَعْدِهِمْ ۚ— اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ۟اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۡۢ بَعۡدِهِمۡ‌ۚ اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے)۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or [lest] you say, "It was only that our fathers associated [others in worship] with Allah before, and we were but descendants after them. Then would You destroy us for what the falsifiers have done?"

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 22 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:173

یا یہ نہ کہنے لگو کہ "شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے)۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راه والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا یہ نہ کہہ دو کہ : شرک (کا آغاز) تو بہت پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا، اور ہم ان کے بعد انہی کی اولاد بنے۔ تو کیا آپ ہمیں ان کاموں کی وجہ سے ہلاک کردیں گے جو غلط کار لوگوں نے کیے تھے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا (ایسا نہ ہو کہ) تم کہنے لگو کہ شرک تو محض ہمارے آباء و اجداد نے پہلے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد (ان کی) اولاد تھے (گویا ہم مجرم نہیں اصل مجرم وہ ہیں)، تو کیا تو ہمیں اس (گناہ) کی پاداش میں ہلاک فرمائے گا جو اہلِ باطل نے انجام دیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا ہی نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ایک نسل تھے، تو کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو باطل والوں نے کیا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا یہ کہہ دو کہ : شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباء و اجداد نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد کی اولاد تھے تو کیا ہمیں تو اس قصور میں ہلاک کرتا ہے جو غلط کاروں نے کیا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا عذر کرو کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے سر شرک کیا اور ہم ان کے بعد ان کے خلف ہوئے تو کیا باطل پرستوں کے عمل کی پاداش میں تو ہم کو ہلاک کرے گا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا تم یوں کہنے لگو کہ شرک (کے آغاز) کا ارتکاب تو ہمارے باپ داد نے ہم سے پہلے کیا تھا، اور ہم بعد میں ان کی نسل سے پیدا ہوئے، تو کیا آپ ہمیں اس قصور پر ہلاکت میں ڈال دیں گے جو (ہم سے پہلے کے) ان باطل پرستوں نے کیا تھا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یا یوں کہنے لگو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا پہلے ہی سے کرتے آئے اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے تو کیا تو ہلاک کردے گا ہمیں (اصلی) اہل باطل کے کرتوت کی بناء پر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یا تم یہ کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے آباء و اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں سے تھے تو (پروردگار !) کیا تو ہمیں ہلاک کرے گا ان باطل پسند لوگوں کے فعل کے بدلے میں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا یہ نہ کہو کہ شرک تو پہلے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کی اولاد تھے تو کیا جو کام مشرک کرتے رہے اسکے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Or say: 'Our forefathers before us who associated others with Allah in His divinity; we were merely their offspring who followed them. And would You destroy us for that which the unrighteous did?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

or you should say, :It was our forefathers who associated partners with Allah, and we were their progeny after them; would you then destroy us on account of what the erroneous did?

— Muhammad Taqi Usmani

or you should say, :It was our forefathers who associated partners with Allah, and we were their progeny after them; would you then destroy us on account of what the erroneous did?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah, and we were (merely their) descendants after them; will You then destroy us because of the deeds of men who practiced falsehood"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or lest ye should say: (It is) only (that) our fathers ascribed partners to Allah of old and we were (their) seed after them. Wilt Thou destroy us on account of that which those who follow falsehood did?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or [lest] you say, "It was only that our fathers associated [others in worship] with Allah before, and we were but descendants after them. Then would You destroy us for what the falsifiers have done?"

— Saheeh International

or say, "Our fathers worshipped idols before us and we as their descendants followed them. Would you then destroy us because of what the followers of falsehood have done?"

— Muhammad Sarwar

Or you should say: Only our fathers associated others (with Allah) before, and we were an offspring after them: Wilt Thou then destroy us for what the vain doers did?

— Muhammad Habib Shakir

Or lest ye should say: it Was only our fathers who associated afore, and we have been a posterity after them; wilt Thou then destroy us for that which the followers of falsehood did?

— Abdul Majid Daryabadi

Or lest ye should say: "Our fathers before us may have taken false gods, but we are (their) descendants after them: wilt Thou then destroy us because of the deeds of men who were futile?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:173

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 172–174

ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 135 اس آیات میں وہ غرض بیان کی گئی ہے جس کے لیے ازل میں پوری نسل آدم سے اقرار لیا گیا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے خدا سے بغاوت اختیار کریں وہ اپنے اس جرم کے پوری طرح ذمہ دار قرار پائیں۔ انہیں اپنی صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے اور نہ وہ سابق نسلوں پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہوسکیں گویا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ اس ازلی عہد و میثاق کو اس بات پر دلیل قرار دیتا ہے کہ نوع انسانی میں سے ہر شخص انفرادی طور پر اللہ کے الٰہِ واحد اور ربِّ واحد ہونے کی شہادت اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور اس بنا پر یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی شخص کامل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد دوسری آیت میں ارشاد فرمایا، (آیت) اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤ ُ نَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی یہ اقرار ہم نے اس لئے بھی لیا ہے کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ عذر نہ کرنے لگو کہ شرک وبت برستی تو دراصل ہمارے بڑوں نے اختیار کرلی تھی اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد تھے، کھرے کھوٹے اور صحیح غلط کو نہیں پہچانتے تھے اس لئے بڑوں نے جو کچھ کیا ہم نے بھی اسی کو اختیار کرلیا تو بڑوں کے جرم کی سزا ہمیں کیوں دی جائے۔ حق تعالیٰ نے بتلا دیا کہ دوسروں کے فعل کی سزا تم کو نہیں دی گئی بلکہ خود تمہاری غفلت کی سزا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ۔ اسی طرح لوگوں کا یہ عذر بھی کچھ کام نہ آئے گا کہ ہمارے باپ دادا مشرک تھے، ہم انہی کے ہاں پیدا ہوئے اور پھر قدرتی طور پر ہم نے انہی کے طریقے کی پیروی کی اس وجہ سے یہ جرم ہمارا نہیں بلکہ ان کا ہے، اس کی سزا ان کو ملنی چاہیے نہ کہ ہم کو۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ اقرار توحید انسان کے فطرت کے اندر ودیعت ہے اس وجہ سے اس باطنی شہادت سے انحراف کے لیے خارجی اثرات کا عذر بھی کسی کا خدا کے ہاں مسموع نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 173–174

173۔ 1 یعنی ہم نے یہ اخذ عہد اپنی ربوبیت کی گواہی اس لئے لی تاکہ تم یہ عذر پیش نہ کرسکو کہ ہم تو غافل تھے یا ہمارے باپ دادا شرک کرتے تھے، یہ عذر قیامت والے دن بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 172–174

88: اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے، پھر ان سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں ؟ سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم و بیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لیکن یہ اللہ کی نہایت ہی مہربانی ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد ہے۔ اور یہ کہ انسان اپنے اس فطری عہد کے باوجود انحراف اختیار کرسکتا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے صحیح راہ سے شیاطین جن و انس منحرف کرتے ہیں اور یہ جن و انس کے شیاطین بڑی ہوشیاری سے انسان کی کمزوریوں کو کام میں لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رحم یہ فرمایا کہ اس نے انسان کو محض اپنی فطری صلاحیت پر ہی ذمہ دار ہدایت نہیں ٹھہرایا۔ اور نہ اپنی عقلی اور فطری قوت ادراک اور تمیز پر اس سے جواب طلبی فرمائی۔ بلکہ سا کے باوجود اللہ نے رسول بھیجے ، جنہوں نے تفصیلات کے ساتھ آیات و دلائل پیش کیے تاکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 172–173

2 " میثاق خاص " کے بعد یہاں سے " میثاق عام " کا ذکر کرتے ہیں۔ تمام عقائد حقہ اور ادیان سماویہ کا بنیادی پتھر یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی اور ربوبیت عامہ پر اعتقاد رکھے۔ مذہب کی ساری عمارت اسی سنگ بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ جب تک یہ اعتقاد نہ ہو، مذہبی میدان میں عقل و فکر کی راہنمائی اور انبیاء ومرسلین کی ہدایات کچھ نفع نہیں پہنچا سکتیں۔ اگر پورے غورو تامل سے دیکھا جائے تو آسمانی مذہب کے تمام اصول و فروع بالآخر خدا کی " ربوبیت عامہ " کے اسی عقیدہ پر منتہی ہوتے بلکہ اسی کی تہ میں لپٹے ہوئے ہیں۔ عقل سلیم اور وحی والہام اسی اجمال کی شرح کرتے ہیں پس ضروری تھا کہ یہ تخم ہدایت جسے کل آسمانی تعلیمات کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 173 اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْم بَعْدِہِمْ ج اَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ہمارے بڑے جو راستہ ‘ جو طور طریقے چھوڑ گئے تھے ‘ ہم تو ان پر چلتے رہے ‘ لہٰذا ہمارا کوئی قصور نہیں ‘ اصل مجرم تو وہ ہیں جو ہمیں اس دلدل میں پھنسا کر چلے گئے۔ یہ با طل طور طریقے انہوں نے ہی ایجاد کیے تھے ‘ ہم تو صرف ان کے مقلد تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 173–174

176 عہدِالست اور اتمام حجت :۔ اس ازلی عہد کی اللہ تعالیٰ نے دو اغراض بیان فرمائیں ایک یہ کہ انسان پر اتمام حجت ہوجائے اور کوئی مشرک، ملحد، کافر یا نافرمان انسان قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو اس حقیقت کا پتہ ہی نہ چل سکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو سمجھنے کی استعداد بھی انسان کے اندر رکھ دی ہے اور خارج میں انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں بھی بھیج دیں اور دوسری یہ کہ انسان اپنی سابقہ نسلوں پر یا بگڑے ہوئے ماحول پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر شخص سے یہ عہد انفرادی طور پر لیا گیا تھا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اصل میں مشرک یا قصوروار تو ہمارے بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

250 ۔ یہاں قرآن نے گویا تصریح کردی کہ نسل انسانی کا اصل اور ابتدائی دین توحید ہے اور شرک بہت بعد کی پیداوار ہے۔” دانایان فرنگ “۔ ابھی چند سال ادھر کی بات ہے کہ زور دے دے کر اس کے برعکس کہہ رہے تھے کہ نسل انسانی کا ابتدائی دین شرک ہے، اور توحید تک تو انسان بہت بعد کو رفتہ ہی رفتہ پہنچا ہے، لیکن اب ان کے ماہرین فن (Ethnologists.) کی آنکھیں کھلی ہیں اور اب علانیہ اقرار ہونے لگا ہے کہ انسان کا ابتدائی دین توحید ہی تھا۔ ملاحظہ ہوں حاشیے انگریزی تفسیر القرآن کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 173–174

عہد الست کی غرض : اوتقو۔۔۔ آباؤنا (الآیۃ) اس آیت میں وہ غرض بیان کی گئی جس کے لئے ازل میں پوری نسل آدم سے اقرار لیا گیا تھا اور وہ یہ کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے خدا سے بغاوت کریں گے وہ اپنے جرم کے پوری طرح ذمہ دار ہوں گے، انھیں صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے گا اور نہ وہ سابق نسلوں پر اپنی گمراہی کہ ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

او تقولوا انما اشرک اباؤنا من قبل وکنا ذریۃ من بعدہم افتہلکنا بما فعل المبطلون : یا یوں کہنے لگو کہ (اصل) شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے تو کیا ان غلط راہ (نکالنے) والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈالے دیتا ہے۔ من بنی ادم کلام میں اختصا رہے اصل کلام یوں تھا۔ من اٰدم وبنی اٰدمآدم اور اولاد آدم ہے بمن ظہورہمیہ بنی آدم سے بدل ہے یعنی ہم نے آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا۔ واشہدہم یعنی بعض کو بعض کا شاہد بنایا ایک پر دوسرے کو گواہ بنا دیا اور ان سے کہا الست بربکم قالوا بلی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم کو پیدا کرنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(173) اور یہ نہ کہو کہ عہد شکنی تو ہم سے پہلے ہمارے بڑوں نے کی تھی اور ہم تو چھوٹے تھے ہم نے تو ان کی پیروی کرلی، تو کیا آپ ہمیں ہم سے پہلے ان مشرکوں کی بدعہدہ پر عذاب دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ۔۔ : یا یہ عذر پیش کرو کہ ہم تو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی شرک کی راہ پر چلتے رہے، ہمارا کیا قصور ہے، مطلب یہ ہے کہ شرک کے بارے میں مقلد کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ ”الْمُبْطِلُوْنَ“ سے مراد آباء و اجداد ہیں، یعنی یہ کہنا ہے کہ اصل مجرم وہی ہیں ہم نہیں، اس قسم کے عذر کا وہاں کوئی موقع نہیں ہوگا، کیونکہ ابتداءً ہر شخص کی فطرت میں اپنے رب کی پہچان اور اس کی توحید رکھ دی گئی ہے، پھر اس کی یاد دہانی اور تفسیر و تشریح کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائی گئی ہیں اور کائنات میں اس کے دلائل رکھ دیے گئے ہیں اور ان کے فہم کے لیے عقل بھی عنایت کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 172–174

آیت نمبر : 172۔ 174 اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : واذاخذ ربک یعنی تم انہیں یاد دلاو اس کے باوجود کہ معاہدوں کا ذکر ان کی کتابوں میں پہلے گزر چکا ہے وہ میثاق جو میں نے بندوں سے اس دن لیا جس دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے اولاد کو نکالا۔ یہ ایک مشکل آیت ہے اور علماء نے اس کی تاویل اور اس کے احکام کے بارے کافی گفتگو کی ہے، جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے ہم حسب توفیق اسے ذکر کریں گے۔ پس ایک گروہ نے کہا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بنی آدم کی پشتوں سے بعض کو نکالا۔ انہوں نے کہا : آیت : اشھدھم علی انفسھم الست بربکم کا معنی ہے کہ اللہ تعالٰٰ نے اپنی تخلیق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 172–174

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا اخذ ربک من بنی ادم “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا فرمایا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ اس کے رب ہیں اور اس کی مدت زندگی اس کا رزق اور اس کی مصیبت لکھ دی پھر اس کی اولاد کو اس کی پیٹھ سے چیونٹی کی مانند نکالا اور ان سے بھی وعدہ لیا کہ وہ ان کے بھی رب ہیں اور ان کی مدت ان کے رزق اور ان کے مصائب کو لکھ دیا۔ عہد الست کا تذکرہ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ اخذ ربک من بنی ادم “ کے بارے میں فرمایا جب اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَوْ : یا ] [ تَقُوْلُوْٓا : کہیں تم لوگ کہو ] [ اِنَّمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ اَشْرَكَ : شرک کیا ] [ اٰبَاۗؤُنَا : ہمارے آباواجداد نے ] [ مِنْ قَبْلُ : پہلے سے ] [ وَكُنَّا : اور ہم تھے ] [ ذُرِّيَّةً : اولاد ] [ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ : ان کے بعد ] [ اَفَتُهْلِكُنَا : تو کیا تو ہلاک کرے گا ہم کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ فَعَلَ : کیا ] [ الْمُبْطِلُوْنَ : ناحق کرنے والوں نے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 173–175

ایک ایسے شخص کا تذکرہ جو اتباع ھویٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھوڑ بیٹھا جس شخص کا ان آیات میں ذکر ہے یہ کون شخص تھا اس کے بارے میں تفسیر درمنثور (ص 145 ج 3) میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے اقوال بھی ہیں اور ان کے علاوہ تابعین میں سے سعید بن مسیب اور مجاہد اور قتادہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ حضرت قتادہ نے تو یہ فرمایا کہ جس شخص پر ہدایت پیش کی جائے اور وہ اس کے قبول کرنے سے انکار کر دے اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرمائی ہے۔ لیکن قرآن مجید کا سیاق بتاتا ہے کہ یہ ایک واقعہ بھی ہے۔ واقعہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 172–174

عہد الست قال اللہ تعالیٰ واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورھم ذریتھم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم یرجعون (ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اس عہد کا ذکر فرمایا تھا جو خاص بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا اور جس کی خلاف ورزی سے وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے کما قال تعالیٰ الم یوخذ علیھم میثاق الکتب ان لا یقولو علی اللہ الا الحق۔ واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ۔ واذ اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور۔ اب ان آیات میں اس عہد کا ذکر فرماتے ہیں جو عالم ارواح میں تمام بنی آدم سے لیا گیا تھا کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو جو تاقیام قیامت پیدا ہونے والی ہے نکالا اور انہیں عقل اور تکلم کی قوت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 172–174

171: یہ ان کے قول باطل کے رد کی تیسری وججہ ہے یعنی اگر بخشے ہوئے ہوتے تمام بنی آدم کے ساتھ ان سے ہم اپنی ربوبیت کا عہد کیوں لیتے۔ “ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ”، “ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ ” سے بدل ہے اور “ ذُرِّیَّتَھُمْ ”، “ اَخذَ ” کا مفعول ہے۔ یعنی اولاد آدم سے ان کی اولاد کو پیدا کیا اور سب سے عہد لیا۔ “ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ” کیا میں تمہارا پروردگار اور مالک نہیں ہوں۔ “ قَالُوْا بَلیٰ ” تو سب نے کہا کیوں نہیں ؟ بیشک تو ہمارا رب ہے۔ ہم سب اس کا اقرار کرتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ “ والمعنی شھدنا انک ربنا والٰھنا ” (قرطبی ج 7 ص 318) ۔ یہ عہد کب لیا گیا ؟ عام طور پر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ عہد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 172–174

ربط آیات گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد و پیمان کا ذکر تھا وہ خاص عہد اللہ نے اس بات کا لیا تھا کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا اور اس پر عمل کرنا ، مگر بنی اسرائیل اس عہد پر قائم نہ رہے بلکہ وہ ہمیشہ عہد و پیما کی خلاف ورزی ہی کرتے رہے یہ عہد خاص تھا اب آج کے درس میں عہد عام کا ذکر ہے جو تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا تھا یہ عہد عہد الست اور عالم ارواح کا عہد بھی کہلاتا ہے جو کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد مگر باقی اولاد کی تخلیق سے پہلے لیا گیا دراصل یہ عہد تمام بنی نوع انسان کے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی توقیر ، اس کی پہچان اور اس کی ربوبیت کا بیج ہے جو ان کی پیدائش سے پہلے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّۃً مِّنْۢ بَعْدِہِمْ۝ 0 ۚ اَفَتُہْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ۝ 173 شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 172–174

گزشتہ رکوع کی آخری آیت پر بنی اسرائیل سے خطاب ختم ہوجاتا ہے اب گفتگو کا رخ عام انسانوں کی طرف پھیرا جا رہا ہے روئے سخن اگرچہ اہل مکہ کی طرف ہے لیکن خطاب پوری نوع انسانی سے ہے اس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ آیات میں ہم نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت اور اللہ کی کتاب سے وابستگی کا جو عہد لیا تھا وہ کوئی ان کی خصوصیت نہیں تھی بلکہ تم بھی اسی طرح اللہ کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں بھی ایک دن اس میثاق کے حوالے سے جواب دہی کرنی ہے وہ میثاق کیا ہے ؟ اس کا ذکر اگلی آیات کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وَاِذْاَخَذَرَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 172–174

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے عہد کی مناسبت سے وہ عہد بھی بنی نوع انسان کو یاد کروایا جا رہا ہے جو روز آفرینش ان سے لیا گیا تھا۔ خالق کائنات نے زمین و آسمان بنانے کے بعد جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس وقت آدم (علیہ السلام) کی پشت پر اپنا دست مبارک رکھا جس سے قیامت تک نسل در نسل پیدا ہونے والے بنی نوع انسان اس کی بار گاہ میں حاضر ہوگئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سب سے یہ استفسار فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں کہ نہیں ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اس کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ شہادت دی کیوں نہیں ! آپ ہی ہمارے خالق، مالک، اور پیدا کرنے والے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اس پر قائم رہنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انقطاع اعذار : آیت 173: اَوْتَقُوْلُوْٓ ا (یا یوں نہ کہنے لگو) اوکراہۃ یا اس خطرے سے کہ تم کہنے لگو اِنَّمَآ اَشْرَکَ ٰابَآ ؤُنَامِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْم بَعْدِھِمْ (کہ ہمارے بڑوں نے شرک کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے) ہم نے ان کی اقتداء کی کیونکہ توحید پر دلائل کا قائم کرنا اور جس سے وہ متنبہ ہوں وہ ان کے ساتھ قائم کیے پس ان کے پاس ان سے اعراض کرنے کے لیے کوئی عذر نہیں۔ اور رہی آباء کی اقتداء جس طرح آباء کا کوئی عذر شرک کے سلسلے میں قابل سماعت نہیں اس کے دلائل توحید ان کے لئے بھی قائم تھے۔ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (کیا ان غلط راہ والوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 173 (اوتقولوا انمآ اشرک ابآئونا من قبل وکنا ذریۃ من م بعدھم) یعنی تم سے میثاق اس لئے لیا گیا تاکہ تم یہ نہ کہو کہ شرک تو ہمارے آباء و اجداد نے کیا اور انہوں نے عہد توڑا اور ہم ان کی اولاد ان کے بعد آئے ہیں ہم نے ان کی اقتداء کی اور اس کو اپنے لئے عذر اور کہنے لگو (افتھلکنا بما فعل المبطلون) یعنی کیا آپ ہمیں ہمارے آباء کے جرم کی سزا دیں گے تو ایسی دلیلیں لانے سے ان کو فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ توحید کے میثاق کو کئی دفعہ یاد دلوا چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 172–174

172۔ 174۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو جتنی اولاد ان کی ہونے والی تھی ان سب کو آدم اور ان کی اولاد کی پشت سے نکال کر ان سے اس بات کا عہد لے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں میں تمہارا مالک نہیں ہوں جس کا جواب انہوں نے ایک زبان ہو کر یہی دیا تھا کہ بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کے یہ عہد اس واسطے لیا تھا کہ شاید یہ لوگ قیامت کے دن عذر کریں کہ ہمیں اس بات کی خبر نہ تھی ہم اس سے بالکل غافل تھے یا یہ کہیں کہ دنیا میں جا کر ہم اس کو بھول گئے اس واسطے ان لوگوں کے پاس رسول بھیج کر اس کو جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 157–173

(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 172–184

عہد الست قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 171–173

239 کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامنے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان لوگوں سے کہا کہ تم مضبوطی سے تھام لو اس کتاب کو جو ہم نے تم لوگوں کو دی ہے اور یاد کرو اس کو جو کہ اس کے اندر ہے تاکہ تم لوگ بچ سکو۔ سو کتاب الہی کو مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کو صحیح ایمان اور پختہ عقیدہ کے ساتھ اس کو تھام لو کہ اصل قوت تو ایمان و عقیدہ ہی کی قوت ہے جو کہ دوسری تمام ظاہری اور مادی قوتوں سے کہیں بڑھ کر اور حقیقی قوت ہے اور اس ایمانی قوت کا، جو کہ ایک مخفی و مستور حقیقت ہے، اور جس کا تعلق انسان کے قلب و ضمیر اور اس کے باطن سے ہے، اس کا اظہار اور عملی ثبوت انسان کے عمل و کردار ہی سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 172–174

اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا عہد تشریح : یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم بڑے عظیم رب کی مخلوق ہیں۔ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور زمین پر اللہ کا خلیفہ یا نائب بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ عہد ہر شخص سے لیا گیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ جواب میں ہر رو ح نے کہا کہ کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہے۔ یہ ایک راز ہے جو ہر شخص کے ساتھ وابستہ ہے مگر اس کو صاف طور پر یاد نہیں بلکہ اس کی عقل، سمجھ روح اور لاشعور میں یہ بات پکی طرح موجود ہے۔ اسی لاشعور کی بات اللہ تعالیٰ قرآن کے ذریعہ واضح کرتا ہے۔ عام زندگی میں اس کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ انتہائی جاہل، کافر، مشرک اور بیوقوف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 172–181

رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181 اسرار و معارف : اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ان تقولی ا یہ اصل میں لئلا تقو لو اس یا کر اھتہ ان تقو لوا ہے یعنی ی عہد تم سے اس لیے لیا کہ ایسانہ ہو کہ تم دنیا میں شرک و نافرمانی کی روش اختیار کرو اور قیامت کے روز تم سے باز پرس کی جائے تو یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگے کہ ہم تو اس سے غافل تھے ( کبیر، ابن کثیر)2 یا یہ عذار پیش کرو کہ ہم تو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی شرک کو راہ پر چلتے رہے ہیں ہمارا قصور کیا ہے مطلب یہ ہے کہ شرک کے بارے میں مقلد کا کوئی عذر قبول نہ ہوگا، ( ابن کثیر۔ کبیر ) ،3 یعنی ہمارے یعنی ہمارے آباؤ اجدانے لہذا وہی مجرم ہیں مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے عذار وہاں کوئی موقع نہ و ہوگا کیونکہ ابتدا ہر شخص توحید پر قائم رہنے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 173–174

(7:173) اوتقولوا۔ عطف ہے ان تقولوا (آیہ سابقہ پر) افتھلکنا۔ الف لام استفہام کے لئے ہے۔ تہلک مضارع واحد مذکر حاضر نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ کیا تو ہمیں ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ مبطلون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ غلط گو۔ جھوٹے۔ اہل باطل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 172–174

تشریح آیت نمبر 172 تا 174 پچھلی آیات میں دو وعدوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لئے ہیں۔ (ا) ایک کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کرنے سے پہلے اور دوسرا معلق کرنے کے بعد اسی طرح قرآن کریم میں بہت سے عہد، میثاق اور وعدوں کا ذکر ہے جو مختلف جماعتوں سے لئے گئے ہیں ان آیات میں ایک مقدس ترین عہد کا ذکر فرمایا گیا ہے جسے خود حق تعالیٰ شانہ نے براہ راست اپنے تمام بندوں سے لیا ہے اس عہد کا نام عہد الست ہے۔ اس عہد الست کے لئے بہت سی روایات موجود ہیں جن میں اس عہد کی وضاحت فرمائی گئی ہے کچھ حضرات نے حضرت عمر فاروق ؓ سے اس میثاق اور اور عہد کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب یہ آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 173–175

واقعہ بلعم باعور (جس کی زبان سینہ تک آگئی) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم یہود کو اس شخص کے حال کی اطلاع دے دو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں دی تھیں، اور وہ نشانیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس طرح نکل گئیں جیسے سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جبارین سے جنگ کا قصد کیا اور سرزمین شام میں نزول فرمایا تو بلعم باعور کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت تیز مزاج ہیں اور ان کے ساتھ کثیر لشکر ہے۔ وہ یہاں آئے ہیں ہمیں اس شہر سے نکالیں گے اور قتل کریں گے، اور بجائے ہمارے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 173–175

عہد فطرت : (ف 1) ان آیات میں بتایا کہ عہد ومیثاق کا تعلق فطرت وتکوین سے ہے ، انبیاء محض اس لئے مبعوث ہوتے ہیں ، تاکہ وہ اس عہد کو تاکید و توضیح کے ساتھ ان کے سامنے دوبارہ پیش کردیں ، ورنہ انسانوں کے ضمیر میں اور ان کی گھٹی میں توحید اور اعتراف حق ودیعت ہے ، یعنی اللہ نے جب سے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی رگ رگ اور نس نس سے اعتراف و ایمان کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، ناممکن ہے ، کہ انسان اللہ سے بےنیاز ہو سکے ، اور اس کی احتیاج کو برملا محسوس نہ کرے ۔ عہد الست سے یہی مقصود ہے ، (آیت) ” قالوا بلی “۔ میں قول زبان حال سے تعبیر ہے ، جس طرح کہا جاتا ہے ، اذا متلاء الحوض قال قطنی ۔ یعنی انسانی بناوٹ انسانی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

173 یا یوں نہ کہنے لگو کہ شرک تو ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کی اولاد اور ان کی نسل میں سے تھے جو ان کے بعد ہوئے تھے یعنی ہم تو محض ان کے تابع تھے جو اپنے بڑوں کو کرتے دیکھا وہی کرنے لگے تو اے خدا ! کیا اب تو ہم کو ان غلط کار اور غلط راہ نکالنے والوں کی وجہ سے اور ان کے غلط فعل کے باعث ہم کو ہلاک کرتا ہے اور ہم کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ یعنی قیامت میں عذاب کو دیکھ کر یہ باتیں نہ کہہ سکو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد نکالی سب سے اقرار کروایا اپنی خدائی کا پشت میں داخل کیا اس سے مدعا یہ ہے کہ خدا کے ماننے میں ہر کوئی آپ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی آدم کو یہ عہد اس لئے دیا جا رہا ہے تاکہ وہ قیامت کو کوئی عذر نہ کرسکیں : 197: آیت 172 کے آخری ٹکڑے اور آیت 173 میں وہ غرض بیان فرما دی جس کے لئے وہ عہد فطری نسل آدم سے لیا گیا تھا اور وہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے رب سے بغاوت اختیار کریں وہ اپنے اس جرم کے پوری طرح ذمہ دار قرار پائیں انہیں اپنی صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے اور نہ وہ سابق امتوں پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکیں گویا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ اس فطری عہد و میثاق کو اس بات پر دلیل قرار دیتا ہے کہ نوع انسانی میں سے ہر شخص انفرادی طور پر اللہ کے الہ واحد اور رب ہونے کی شہادت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Another possible excuse from them was to say: أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَ‌كَ آبَاؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّ‌يَّةً مِّن بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ ﴿173﴾ "Or you should say, "It was our forefathers who associated partners with Allah and we were (only) a progeny after them. So, would you destroy us on account of what the false ones did?" The verse precludes them from seeking refuge in saying that they were unaware of the Truth. Being a progeny of their forefathers they only followed their path. Therefore they should not be punished for the error of their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

135. The verse describes the purpose of the primordial covenant. The purpose is to make every person responsible for his deeds so that if he rebels against God he will be held fully accountable for that rebelfion. Because of the covenant, no one will be able either to plead for acquittal on grounds of ignorance, or blame his misdeeds on his ancestors. In other words, this primordial covenant has been mentioned as the reason for the inherent awareness in every single person that God is the only Lord and Deity. Thus, none can totally absolve himself of his responsibility on the plea that he was…

Read the full tafseer →