Explained with ayahs 172–174
ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا
اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 133
اوپر کا سلسلہ بیان اس بات پر ختم ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت کا عہد لیا تھا۔ اب عام انسانوں کی طرف خطاب کر کے انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے، درحقیقت تم سب اپنے خالق کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں ایک روز جواب دہی کرنی ہے کہ تم نے اس میثاق کی کہاں تک پابندی کی۔
سورة الْاَعْرَاف 134
جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیق آدم کے موقع پر پیش آیا تھا۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے انسان اول کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اسی طرح پوری نسل آدم…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(ان سے اس وقت کا واقعہ ذکر کیجئے) جب کہ آپ کے رب نے (عالم ارواح میں آدم ؑ کی پشت سے تو خود ان کی اولاد کو اور) اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور (ان کو سمجھ عطا کرکے) ان سے انہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے (اس عقل خداداد سے حقیقت امر کو سمجھ کر) جواب دیا کہ کیوں نہیں (واقعی آپ ہمارے رب ہیں، حق تعالیٰ نے وہاں جتنے ملائکہ اور مخلوقات حاضر تھے سب کو گواہ کرکے سب کی طرف سے فرمایا) ہم سب واقعہ کے) گواہ بنتے ہیں (اور یہ اقرار اور شہادت سب اس لئے ہوا کہ) تاکہ تم لوگ (یعنی جو تم میں ترک توحید اور اختیار شرک پر سزا پائیں) قیامت کے روز یوں نہ کہنے لگو…
Read the full tafseer →آیات 172 تا 206 کا مضمون : آگے کا مضمون خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم تمہید میں عرض کرچکے ہیں کہ اس سورة میں مخاطب اصلاً قریش ہیں۔ ان کو پہلے خود ان کے اپنے ملک کی ان قوموں کے حالات سنائے گئے جو ماضی میں گزر چکی تھیں پھر بنی اسرائیل کی بھی پوری تاریخ تفصیل سے سنا دی گئی جو سامنے موجود تھے۔ مقصود ان قوموں کی تاریخ سنانے سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اپنی اس دنیا کے احوال و معاملات سے بےتعلق اور کنارہ کش نہیں ہے۔ وہ خلق کی اصلاح و ہدایت کے لیے ہیشہ اپنے رسول بھیجتا رہا ہے اور وہ رسول جب بھی آئے ہیں عزل و نصب کی میزان بن کر آئے ہیں۔ جن قوموں نے ان کی تکذیب…
Read the full tafseer →172۔ 1 یہ عہد حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا۔ اس کی تفصیل ایک حدیث میں اس طرح آتی ہے ' عرفہ والے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالیٰ نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا۔ پس آدم کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلا دیا اور ان سے پوچھا، ' کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ ' سب نے کہا ' کیوں نہیں ' ہم سب رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ امام شوکانی اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں واسنادہ لامطعن فیہ (فتح القدیر) اس کی سند میں کوئی طعن نہیں نیز امام شوکانی فرماتے ہیں۔ یہ عالم ذر کہلاتا ہے اس کی یہی تفسیر صحیح اور حق ہے جس سے عدول اور کسی اور مفہوم کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
88: اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے، پھر ان سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں ؟ سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم و بیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے…
Read the full tafseer →درس نمبر 81 ایک نظر میں
اس سبق کا موضوع عقیدہ توحید اور رد شرک ہے۔ اس پوری سورة میں لائے جانے والے قصوں کا موضوع بھی یہی عقیدہ توحید تھا ، اس پہلو سے کہ تمام رسولوں نے اسی عقیدے کی طرف دعوت دی تھی اور تمام رسولوں نے لوگوں کو شرک کے انجام بد سے ڈاریا تھا۔ لیکن یاد دہانی اور ڈراوے کے بعد وہ حالات پیش آئے جن سے ڈرایا گیا تھا۔
لیکن اس سبق میں توحید کے مسئلے کو ایک نئے زاوئیے سے لیا گیا ہے۔ گہرے رخ سے اس پر بات کی گئی ہے۔ انسانی فطرت کے زاویہ سے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان جب عالم ذریت میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور بشرتی سے یہ عہد لیا تھا کہ آیا میں تمہارا رب ہوں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
2 " میثاق خاص " کے بعد یہاں سے " میثاق عام " کا ذکر کرتے ہیں۔ تمام عقائد حقہ اور ادیان سماویہ کا بنیادی پتھر یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی اور ربوبیت عامہ پر اعتقاد رکھے۔ مذہب کی ساری عمارت اسی سنگ بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ جب تک یہ اعتقاد نہ ہو، مذہبی میدان میں عقل و فکر کی راہنمائی اور انبیاء ومرسلین کی ہدایات کچھ نفع نہیں پہنچا سکتیں۔ اگر پورے غورو تامل سے دیکھا جائے تو آسمانی مذہب کے تمام اصول و فروع بالآخر خدا کی " ربوبیت عامہ " کے اسی عقیدہ پر منتہی ہوتے بلکہ اسی کی تہ میں لپٹے ہوئے ہیں۔ عقل سلیم اور وحی والہام اسی اجمال کی شرح کرتے ہیں پس ضروری تھا کہ یہ تخم ہدایت جسے کل آسمانی تعلیمات کا…
Read the full tafseer →آیت 172 وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ
یہ واقعہ عالم ارواح میں وقوع پذیر ہوا تھا جبکہ انسانی جسم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اہل عرب جو اس وقت قرآن کے مخاطب تھے ان کی اس وقت کی ذہنی استعداد کے مطابق یہ ثقیل مضمون تھا۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ انہیں پہلے تفصیل سے بتایا جاتا کہ انسانوں کی پہلی تخلیق عالم ارواح میں ہوئی تھی اور دنیا میں طبعی اجسام کے ساتھ یہ دوسری تخلیق ہے اور پھر بتایا جاتا کہ یہ میثاق عالم ارواح میں لیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بجائے اس مضمون کو آسان پیرائے میں بیان کرنے کے لیے عام فہم الفاظ عام فہم انداز میں استعمال کیے گئے کہ جب ہم نے…
Read the full tafseer →175 سابقہ آیت میں ایک خاص عہد کا ذکر تھا جو یہود سے لیا گیا تھا اور اس آیت میں عام عہد کا ذکر ہے جو فرداً فرداً تمام انسانوں سے لیا گیا تھا اور یہ اس دور کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ آدم کو پیدا کرچکے تھے اور خلافت ارضی کے لیے انہیں منتخب کیا جا چکا تھا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی نسل سے تاقیامت پیدا ہونے والی اولاد کی روحوں کو اپنے سامنے حاضر کرلیا اور ان ارواح کو وہی شکل عطا کی گئی جو ان کی پیدائش کے بعد انہیں میسر ہونے والی تھی اور بعض احادیث کے مطابق ان ارواح کی شکل چیونٹیوں کی سی تھی۔…
Read the full tafseer →248 ۔ (بقدر ضرورت انہیں سمجھ عطا کرکے) واقعہ عالم ارواح کا بیان ہورہا ہے۔ اوپر ذکر بنی اسرائیل کے میثاق توحید کا تھا۔ اور اس سے پہلے بھی بنی اسرائیل کو بار بار ان کا میثاق توحید یاد دلایا جاچکا ہے۔ اس پر سوال ہوسکتا تھا کہ اسرائیلی میثاق دنیا کی غیر اسرائیلی آبادی کے لیے کیونکر حجت بن سکتا ہے ؟ اب بیان اس کا ہورہا ہے کہ توحید کا عہد تو ساری نسل انسانی سے لیا جا چکا ہے اور توحید شناسی، توحید پرستی انسان کی فطرت میں راسخ کی جا چکی، اور بشر کی سرشت میں رچی جاچکی ہے۔ فطرت اگر مسخ نہیں ہوچکی ہے تو ایک خالق و رازق ومربی کا اعتراف ہر فطرت سلیم کا جزو ہے۔ ھی عامۃ لجمیع الناس لان کل احد یعلم انہ کان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 172 تا 181
ترجمہ : اور یاد کرو اس وقت کو کہ تیرے رب نے جب اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا، مَنْ ظُھُوْرِھم اپنے ماقبل (من بنی آدم) سے اعادہ جار کے ساتھ بدل ہے بایں طور کہ وادی نعمان میں عرفہ کے دن بعض کو بعض کی پشت سے صلب آدم سے چیونٹی کی شکل میں نکالا نسلاً بعد نسل اس کے مطابق کہ جس طرح پیدا ہوں گے اور اپنی ربوبیت پر ان کیلئے دلائل قائم کئے اور ان کے اندر عقل کو ترتیب دیا، اور خود ان کو ان کے اوپر شاہد بنایا (اللہ) نے فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے جواب دیا بیشک آپ ہمارے رب ہیں اور یہ گواہ بنانے کا کام اس لئے کیا تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس…
Read the full tafseer →واذا اخذ ربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم واشہد ہم علی انفسہم الست بربکم ‘ قالوا بلی شہدنا ان تقولوا یوم القیمۃ انا کنا عن ہذا غفلین : اور جب آپ کے رب نے (آدم ( علیہ السلام) اور) اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل کو نکالا اور ان سے انہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں اور سب نے جواب دیا کیوں نہیں ہم سب (اس واقعہ کے) گواہ بنتے ہیں (یہ اس لئے کیا) تاکہ تم لوگ قیامت کے دن یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس (توحید) سے بیخبر تھے
Read the full tafseer →(172) اے محمد ﷺ وہ واقعہ بھی بیان کیجیے جب کہ انکی اولاد کو ان کی پشتوں سے نکالا اور ان ہی سے اقرار لیا تو سب نے اس بات کا اقرار کیا کہ بیشک آپ ہمارے پروردگار ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ ان پر گواہ رہو اور ان سے کہا تم بھی ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے وعدہ نہیں لیا گیا تھا ،
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ۔۔ : یہاں تک رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے بنی آدم کی ہدایت کا جو اہتمام فرمایا اس کا ذکر تھا، اب کائنات میں اور خود انسان کی ذات (اَنْفُسِهِمْ) میں ہدایت کی جو دلیلیں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں ان کا ذکر ہے۔ اہل علم نے اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ یہ جانے کہ میرا ایک رب ہے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے روزی دیتا ہے اور یہ بات جب اللہ تعالیٰ آدم ؑ کی اولاد کو نسلاً بعد نسل پیدا کرتا ہے اور بنی آدم میں سے کسی کی پشت سے اس کا نطفہ جدا کرکے ماں کے رحم میں اس کی اولاد پیدا کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
آیت نمبر : 172۔ 174
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : واذاخذ ربک یعنی تم انہیں یاد دلاو اس کے باوجود کہ معاہدوں کا ذکر ان کی کتابوں میں پہلے گزر چکا ہے وہ میثاق جو میں نے بندوں سے اس دن لیا جس دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے اولاد کو نکالا۔ یہ ایک مشکل آیت ہے اور علماء نے اس کی تاویل اور اس کے احکام کے بارے کافی گفتگو کی ہے، جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے ہم حسب توفیق اسے ذکر کریں گے۔ پس ایک گروہ نے کہا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بنی آدم کی پشتوں سے بعض کو نکالا۔ انہوں نے کہا : آیت : اشھدھم علی انفسھم الست بربکم کا معنی ہے کہ اللہ تعالٰٰ نے اپنی تخلیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا اخذ ربک من بنی ادم “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا فرمایا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ اس کے رب ہیں اور اس کی مدت زندگی اس کا رزق اور اس کی مصیبت لکھ دی پھر اس کی اولاد کو اس کی پیٹھ سے چیونٹی کی مانند نکالا اور ان سے بھی وعدہ لیا کہ وہ ان کے بھی رب ہیں اور ان کی مدت ان کے رزق اور ان کے مصائب کو لکھ دیا۔
عہد الست کا تذکرہ
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ اخذ ربک من بنی ادم “ کے بارے میں فرمایا جب اللہ…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [ اَخَذَ : پکڑا (یعنی نکالا) ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ : آدم کے بیٹوں سے ] [ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ : ان کی پیٹھوں سے ] [ ذُرِّيَّتَهُمْ : ان کی اولاد کو ] [ وَاَشْهَدَهُمْ : اور اس نے گواہ بنایا ان کو ] [ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ : اپنے آپ پر ] [ اَلَسْتُ : (پھر پوچھا ) کیا میں نہیں ہوں ] [ بِرَبِّكُمْ ۭ : تمہارا رب ] [ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ بَلٰي ڔ : کیوں نہیں ] [ شَهِدْنَا ڔ : ہم نے گواہی دی ] [ اَنْ : کہیں ] [ تَقُوْلُوْا : تم لوگ کہو ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ اِنَّا كُنَّا : کہ ہم تھے ] [ عَنْ هٰذَا : اس سے ] [ غٰفِلِيْنَ : بیخبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–172
عہد اَلَسْتُ بِرَبّکُمْ کا تذکرہ
احادیث شریفہ میں اس کی تفصیل یوں وارد ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وادی نعمان میں (جو عرفات کے قریب ہے) حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا جو چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی صورتوں میں تھے۔ اور پشت در پشت ان کی نسل سے جو بھی مخلوق پیدا ہونے والی تھی سب کو پیدا فرمایا اور ان کی وہی صورتی بنا دیں جو بعد میں عالم ظہور میں پیدا ہونے والی تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بولنے کی قوت دی اس کے بعد ان سے عہد لیا اور انہیں ان کے نفسوں پر گواہ بنایا۔ ان سے فرمایا (اَلَسْتُ بِرَبّکُمْ ) (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) ان سب نے کہا ” بَلٰی “ ہم گواہی دیتے ہیں کہ واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
عہد الست
قال اللہ تعالیٰ
واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورھم ذریتھم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم یرجعون
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اس عہد کا ذکر فرمایا تھا جو خاص بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا اور جس کی خلاف ورزی سے وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے کما قال تعالیٰ الم یوخذ علیھم میثاق الکتب ان لا یقولو علی اللہ الا الحق۔ واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ۔ واذ اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور۔
اب ان آیات میں اس عہد کا ذکر فرماتے ہیں جو عالم ارواح میں تمام بنی آدم سے لیا گیا تھا کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو جو تاقیام قیامت پیدا ہونے والی ہے نکالا اور انہیں عقل اور تکلم کی قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
171: یہ ان کے قول باطل کے رد کی تیسری وججہ ہے یعنی اگر بخشے ہوئے ہوتے تمام بنی آدم کے ساتھ ان سے ہم اپنی ربوبیت کا عہد کیوں لیتے۔ “ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ”، “ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ ” سے بدل ہے اور “ ذُرِّیَّتَھُمْ ”، “ اَخذَ ” کا مفعول ہے۔ یعنی اولاد آدم سے ان کی اولاد کو پیدا کیا اور سب سے عہد لیا۔ “ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ” کیا میں تمہارا پروردگار اور مالک نہیں ہوں۔ “ قَالُوْا بَلیٰ ” تو سب نے کہا کیوں نہیں ؟ بیشک تو ہمارا رب ہے۔ ہم سب اس کا اقرار کرتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ “ والمعنی شھدنا انک ربنا والٰھنا ” (قرطبی ج 7 ص 318) ۔ یہ عہد کب لیا گیا ؟ عام طور پر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد و پیمان کا ذکر تھا وہ خاص عہد اللہ نے اس بات کا لیا تھا کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا اور اس پر عمل کرنا ، مگر بنی اسرائیل اس عہد پر قائم نہ رہے بلکہ وہ ہمیشہ عہد و پیما کی خلاف ورزی ہی کرتے رہے یہ عہد خاص تھا اب آج کے درس میں عہد عام کا ذکر ہے جو تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا تھا یہ عہد عہد الست اور عالم ارواح کا عہد بھی کہلاتا ہے جو کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد مگر باقی اولاد کی تخلیق سے پہلے لیا گیا دراصل یہ عہد تمام بنی نوع انسان کے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی توقیر ، اس کی پہچان اور اس کی ربوبیت کا بیج ہے جو ان کی پیدائش سے پہلے…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّيَّــتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ 0 ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 0 ۭ قَالُوْا بَلٰي 0 ۚۛ شَہِدْنَا 0 ۚۛ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اِنَّا كُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِيْنَ 172 ۙ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے…
Read the full tafseer →اس عہد کی تفسیر میں علماء کے دو قول ہیں :
عہد الست کی تحقیق : اول جمہور مفسرین اہل سنت کا ہے کہ یہ عہد حضرت آدم (علیہ السلام) کی تمام ذریت سے جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی۔ اس طور سے لیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے آدم کی پشت سے تمام اولاد کو نکالا جو چیونٹیوں کی طرح سے نکل پڑے۔ پھر ان کو عقل اور گویائی عطا کرکے کہا کہ الست بربکم کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں۔ سب نے کہا بلی ٗ کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کہ میں تم پر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اور تمہارے باپ آدم کو گواہ کرتا ہوں تاکہ تم قیامت کو یہ نہ کہو کہ ہم کو خبر نہ تھی۔ تم کو معلوم رہے کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں تم میرا کسی کو بھی شریک نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
گزشتہ رکوع کی آخری آیت پر بنی اسرائیل سے خطاب ختم ہوجاتا ہے اب گفتگو کا رخ عام انسانوں کی طرف پھیرا جا رہا ہے روئے سخن اگرچہ اہل مکہ کی طرف ہے لیکن خطاب پوری نوع انسانی سے ہے اس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ آیات میں ہم نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت اور اللہ کی کتاب سے وابستگی کا جو عہد لیا تھا وہ کوئی ان کی خصوصیت نہیں تھی بلکہ تم بھی اسی طرح اللہ کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں بھی ایک دن اس میثاق کے حوالے سے جواب دہی کرنی ہے وہ میثاق کیا ہے ؟ اس کا ذکر اگلی آیات کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
وَاِذْاَخَذَرَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے عہد کی مناسبت سے وہ عہد بھی بنی نوع انسان کو یاد کروایا جا رہا ہے جو روز آفرینش ان سے لیا گیا تھا۔
خالق کائنات نے زمین و آسمان بنانے کے بعد جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس وقت آدم (علیہ السلام) کی پشت پر اپنا دست مبارک رکھا جس سے قیامت تک نسل در نسل پیدا ہونے والے بنی نوع انسان اس کی بار گاہ میں حاضر ہوگئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سب سے یہ استفسار فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں کہ نہیں ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اس کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ شہادت دی کیوں نہیں ! آپ ہی ہمارے خالق، مالک، اور پیدا کرنے والے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اس پر قائم رہنا…
Read the full tafseer →میثاقِ بنی آدم اور عہد الست :
آیت 172 : وَاِذْاَخَذَرَبُّکَ مِنْ 7 بَنِیْٓ ٰادَمَ (اور جبکہ آپ کے رب نے اولاد آدم کو نکالا) ای واذکر اذ اخذیہاں اذکر محذوف ہیمِنْ ظُہُوْرِھِمْ (ان کی پشتوں سے) یہ بنی آدم سے بدل ہے۔ اور تقدیر عبارت یہ ہے واذخذ ربک من ظہوربنی ٰادم جب اللہ تعالیٰ نے ظہور بنی آدم سے میثاق لیا۔ ذُرِّیَّتَھُمْ اور اخذ ذریت کا معنی باپوں کی اصلاب سے انکا نکالنا ہے۔ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا (اور ان سے ان کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے جواب دیا کیوں نہیں ؟ ہم سب گواہ بنتے ہیں) یہ باب تمثیل سے ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →ذریت آدم کو پشت آدم سے نکالنے اور عہد کا واقعہ
172 (واذا اخذ ربک من م بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم) مسلم بن یسار جہنی (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) سے بھی یہی سوال کیا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر ان کی پیٹھ پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور اس سے کچھ مخلوق نکالی اور فرمایا کہ ان کو میں نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے کام کریں گے۔ پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور اس سے مخلوق نکالی تو فرمایا کہا ن کو میں نے جہنم کے لیء پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
172۔ 174۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو جتنی اولاد ان کی ہونے والی تھی ان سب کو آدم اور ان کی اولاد کی پشت سے نکال کر ان سے اس بات کا عہد لے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں میں تمہارا مالک نہیں ہوں جس کا جواب انہوں نے ایک زبان ہو کر یہی دیا تھا کہ بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کے یہ عہد اس واسطے لیا تھا کہ شاید یہ لوگ قیامت کے دن عذر کریں کہ ہمیں اس بات کی خبر نہ تھی ہم اس سے بالکل غافل تھے یا یہ کہیں کہ دنیا میں جا کر ہم اس کو بھول گئے اس واسطے ان لوگوں کے پاس رسول بھیج کر اس کو جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
239 کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامنے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان لوگوں سے کہا کہ تم مضبوطی سے تھام لو اس کتاب کو جو ہم نے تم لوگوں کو دی ہے اور یاد کرو اس کو جو کہ اس کے اندر ہے تاکہ تم لوگ بچ سکو۔ سو کتاب الہی کو مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کو صحیح ایمان اور پختہ عقیدہ کے ساتھ اس کو تھام لو کہ اصل قوت تو ایمان و عقیدہ ہی کی قوت ہے جو کہ دوسری تمام ظاہری اور مادی قوتوں سے کہیں بڑھ کر اور حقیقی قوت ہے اور اس ایمانی قوت کا، جو کہ ایک مخفی و مستور حقیقت ہے، اور جس کا تعلق انسان کے قلب و ضمیر اور اس کے باطن سے ہے، اس کا اظہار اور عملی ثبوت انسان کے عمل و کردار ہی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا عہد
تشریح : یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم بڑے عظیم رب کی مخلوق ہیں۔ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور زمین پر اللہ کا خلیفہ یا نائب بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ عہد ہر شخص سے لیا گیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ جواب میں ہر رو ح نے کہا کہ کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہے۔ یہ ایک راز ہے جو ہر شخص کے ساتھ وابستہ ہے مگر اس کو صاف طور پر یاد نہیں بلکہ اس کی عقل، سمجھ روح اور لاشعور میں یہ بات پکی طرح موجود ہے۔ اسی لاشعور کی بات اللہ تعالیٰ قرآن کے ذریعہ واضح کرتا ہے۔ عام زندگی میں اس کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ انتہائی جاہل، کافر، مشرک اور بیوقوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →ف 12) یعنی جب وہ آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کی پشت سے تمام ذریت پیدا کی جو قیامت تک انکی نسل سے روئے زمین پر پائی جانے والی تھی اور انہیں عقل اور قوت گو یائی عطا فرماکر ان سے اپنی ربوبیت عامہ کا قرار لیا۔ حاٖفظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ذراول کے بارے متعدد احادیث بھی ورد ہیں لہذا اس کو ایک تمیثلی واقعہ کہنا صحیح نہیں ہے جبکہ عقلا بھی اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے۔ اور حدیث کل مو لود یو لد علی الفطرۃ کسر بچہ فرطت اسلام پر پیدا ہوتا ہے) میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ ( قرطبی، ابن کثیر )
Read the full tafseer →(7:172) ظھورھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ظھور۔ ظھر۔ کی جمع ہے ۔ پیٹھیں۔ پشتیں۔ نسلیں۔
ذریۃ۔ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں۔ مگر عرف میں مطلق اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے ذریۃ بعضھا من بعض (3:34) ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے ذریۃ کے اصل کے متعلق تین قول ہیں۔
(1) بعض کے نزدیک یہ ذرء اللہ الخلق سے ہے یعنی اصل میں مہموز اللام ہے مگر کثرت استعمال کے سبب دوتۃ وبریۃ کی طرح ہمزہ کو ترک کردیا گیا۔ اور ذریۃ ہوگیا۔ (مادہ ذرئ) ۔
(2) بعض کے نزدیک یہ اصل میں ذرویۃ بروزن فعلیۃ تھا اور ذر (ذرر) سے مشتق ہے جیسے قریۃ قر سے۔
(3) کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
تشریح آیت نمبر 172 تا 174
پچھلی آیات میں دو وعدوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لئے ہیں۔ (ا) ایک کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کرنے سے پہلے اور دوسرا معلق کرنے کے بعد اسی طرح قرآن کریم میں بہت سے عہد، میثاق اور وعدوں کا ذکر ہے جو مختلف جماعتوں سے لئے گئے ہیں ان آیات میں ایک مقدس ترین عہد کا ذکر فرمایا گیا ہے جسے خود حق تعالیٰ شانہ نے براہ راست اپنے تمام بندوں سے لیا ہے اس عہد کا نام عہد الست ہے۔
اس عہد الست کے لئے بہت سی روایات موجود ہیں جن میں اس عہد کی وضاحت فرمائی گئی ہے کچھ حضرات نے حضرت عمر فاروق ؓ سے اس میثاق اور اور عہد کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب یہ آیت…
Read the full tafseer →عہد و میثاق کا ذکر
آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو ان کی جتنی ہونے والی اولاد تھی، ان سب کو حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی پشت سے نکال کر ان سے اس بات کا عہد لے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ! کیا میں تمہارا مالک نہیں ہوں ! جس کا جواب انہوں نے ایک زبان ہوکر یہی دیا تھا کہ بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں۔ پھر فرمایا یہ عہد و میثاق اس لئے کیا تھا کہ شاید یہ لوگ قیامت کے دن عذر کریں کہ ہمیں اس بات کی خبر نہ تھی دنیا میں بھول گئے۔ اس واسطے رسول بھیج کر اس کو جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–172
[66] اس آیت کی تفسیر میں جلیل القدر صحابی اور امام القرآ ابی بن کعب فرماتے ہیں :
'' اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں ترتیب دے کر انہیں انسانی صورت اور گویائی عطا کی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھہراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–172
(ف 1) یعنی عہد قدیم میں ان لوگوں سے وعدہ لیا گیا تھا کہ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہیں ، اس سے استفادہ کریں ، اور دل کی حالتوں کو سنواریں ، مگر ان لوگوں نے ہر عہد کو ٹھکرایا ، اور میثاق کی مخالفت کی ، پہاڑ کو سر پر اٹھا کر کھڑا کرنے میں حکمت یہ تھی کہ کتاب کی مخالفت سے جو نتائج پیدا ہونے والے ہیں ، ان کو ابھی سے دیکھ لیں ، مقصد یہ تھا کہ اگر تواریت کو یہ پس پشت ڈال دیں گے ، تو مصیبتوں کے پہاڑ ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں گے ، اور یہ مقابلہ نہ کرنے پائیں گے ، اور اگر اطاعت وشعار رہیں گے تو پہاڑ کی سی بلندی و رفعت انہیں حاصل ہوگی ،
غرض جبر اور سختی نہ تھی ، حقیقت واقعی کی طرف اشارہ تھا ، کیونکہ اس…
Read the full tafseer →172 اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب اے پیغمبر آپ کے پروردگار نے اولاد آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد اور ان کی اولاد کی پشت سے ان کی اولاد اسی طرح اولاد در اولاد سب کو عالم ارواح میں نکال کر جمع کیا اور ان سب کو خود انہی کی ذات پر گواہ بنایا اور ان کو خطاب کرتے ہوئے دریافت فرمایا کہ میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟… ان سب نے جواب دیا کہ بیشک آپ ہمارے پروردگار ہیں ہم سب آپ کی ربوبیت پر گواہ بنتے ہیں اور آپ کی ربوبیت اور آپ کے رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں یہ اقرار اولاد ِ آدم (علیہ السلام) سے اس لئے لیا گیا تاکہ قیامت میں اگر تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
ف 2۔ یہ میثاق عالم ارواح کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →بنی آدم سے عہد فطرت لئے جانے کا بیان جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا :
196: زیر نظر آیت میں اس فطری عہد کا ذکر کیا گیا ہے جو عہد عہد الست عہد ازل عالم ارواح کا عہد اور روز میثاق کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور قرآن کریم کی زبان میں ایک دوسری جگہ اسے فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا 1ؕ سے تعبیر فرمایا ۔ یعنی وہ فطرت جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ۔ اس عہد کو احادیث میں عالم مثال کے طور پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ سب انسانوں کو اس کی تفہیم ہو سکے کہ عہد الست کیا ہے ؟ بلا شبہ قرآن کریم اور صحیح احادیث نبوی ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح انسانی کو…
Read the full tafseer →The covenant of Alust: عہد الست
These two verses describe the event of the great heavenly covenant which the Creator, Allah, made with all His created being even before they took the form of their existence. This covenant is known as the covenant of Alust (أَلَسْتُ ).
Allah is the creator of all the worlds, the heavens, the earth and whatever exists between them. His infinite wisdom and all-encompassing knowledge has designed and manufactured this universe with as much perfection as leaves no room for any doubt or question. He has created everything with a wise set of rules and regulations.…
Read the full tafseer →133. The preceding discourse concluded with the note that God made the Israelites enter into a covenant with their Lord. In the following passages all men are told that a covenant with God is not the exclusive privilege of Israel. In fact all human beings are bound in a covenant with God and a Day will come when they will be made to answer how well they were able to observe that covenant.
134. This event, according to several traditions, took place at the time of the creation of Adam. Apart from the prostration of the angels before Adam and the proclamation that man would be God's vicegerent…
Read the full tafseer →