اسی طرح کی آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۭ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 63) 2۔ البقرة :63) ہے یعنی ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کیا۔ اسے فرشتے اٹھا لائے تھے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ جب موسیٰ ؑ انہیں ارض مقدس کی طرف لے چلے اور غصہ اتر جانے کے بعد تختیاں اٹھا لیں اور ان میں جو حکم احکام تھے، وہ انہیں سنائے تو انہیں وہ سخت معلوم ہوئے اور تسلیم و تعمیل سے صاف انکار کردیا تو بحکم الہی فرشتوں نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لا کھڑا کردیا (نسائی میں) مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ صلوات نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
سورة الْاَعْرَاف 132
اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو موسیٰ ؑ کو شہادت نامہ کی سنگین لوحیں عطا کیے جانے کے موقع پر کوہ سینا کے دامن میں پیش آیا تھا۔ بائیبل میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے
”اور موسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خدا سے ملائے اور وہ پہاڑ کے نیچے آ کھڑے ہوئے اور کوہ سینا اوپر سے نیچے تک دھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خداوند شعلہ میں ہو کر اس پر اترا اور دھواں تنور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا“ (خروج 19 17۔ 18)
اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے کتاب کی پابندی کا عہد لیا اور عہد لیتے ہوئے خارج میں ان پر ایسا ماحول طاری کردیا جس…
Read the full tafseer →اس آیت میں لفظ نَتَقْنَا، نتق سے مشتق ہے جس کے معنی کھینچنے اور اٹھانے کے ہیں، سورة بقرہ میں اسی واقعہ کا ذکر لفظ رَفَعنَا سے کیا گیا ہے اس لئے یہاں بھی حضرت ابن عباس نے نَتَقْنَا کی تفسیر رَفَعنَا سے فرمائی ہے۔
اور لفظ ظُلَّـةٌ، ظل بمعنی سایہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں سائبان، مگر لفظ سائبان عرف میں ایسی چیز کیلئے بولا جاتا ہے جس کا سایہ سر پر پڑتا ہو مگر وہ کسی عمود پر قائم ہو، اور اس واقعہ میں پہاڑ ان کے سر پر معلق کردیا گیا تھا سائبان کی صورت میں نہ تھا اسی لئے اس کو حرف تشبیہ کے ساتھ ذکر کیا گیا۔
معنی آیت کے یہ ہیں کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ ہم نے بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ…
Read the full tafseer →وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۚ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔
اس آیت کی تفسیر بقرہ آیت 63 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہ اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو یہود سے دامن کوہ میں کتاب پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لیے لیا گیا تھا اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و جبروت کا بھی ان کو مشاہدہ کرایا تھا تاکہ وہ یاد رکھیں کہ جس خدا سے وہ عہد کر رہے ہیں وہ بےپناہ قوت وقدرت والا ہے لیکن انہوں نے اپنی خواہشات کے پیچھے ہر چیز کو بھلا دیا۔
Read the full tafseer →171۔ 1 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ ان کے پاس تورات لائے اور اس کے احکام ان کو سنائے، تو انہوں نے پھر حسب عادت ان پر عمل کرنے سے انکار و اعراض کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر پہاڑ کو بلند کردیا کہ تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا، جس سے ڈرتے ہوئے انہوں تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ رفع جبل کا یہ واقعہ ان کے مطالبے پر پیش آیا، جب انہوں نے کہا کہ ہم تورات پر عمل اس وقت کریں گے جب اللہ تعالیٰ پہاڑ کو ہمارے اوپر بلند کرکے دکھائے، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے واللہ اعلَم۔ یہاں مطلق پہاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے قبل سورة بقرہ آیت 63 اور آیت 93 میں دو جگہ اس واقعہ کا…
Read the full tafseer →87: یہ واقعہ سورة بقرہ (63:2) اور سورة نساء (154:4) میں بھی گذرا ہے اور سورة بقرہ کی متعلقہ آیت کے تحت ہم نے اس کا خلاصہ بیان کیا ہے وہاں ہم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ عربی زبان کے لحاظ سے اس آیت کا یہ ترجمہ بھی ممکن ہے کہ : ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اس طرح زور زور سے ہلایا کہ انہیں یہ گمان ہوگیا کہ وہ ان کے اوپر گرنے والا ہے۔ْ
Read the full tafseer →اس قصے کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کس طرح پکڑا۔
۔۔۔
وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ ۔
یہ ناقابل فراموش عہد تھا ، کیونکہ یہ ایسے ظروف و احوال میں لیا گیا تھا جسے بھلا نہیں جاسکتا۔ یہ عہد اس وقت لیا گیا کہ جب پہاڑ ان پر اس طرح چھا گیا کہ گویا چھتری ہے۔ وہ یہی گمان کر رہے تھے کہ ابھی گرا۔ اس لیے کہ عہد لیتے ہی وہ سرکشی کرنے لگے تھے۔ اس لیے ان سے ایسی صورت میں عہد لیا گیا تھا کہ اس کے بعد وہ دوبارہ عہد شکنی کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ ان غیر معمولی حالات میں ان سے کہا گیا کہ کتاب اللہ کو سنجیدگی سے لو۔ سختی سے اس پر عمل کرو ، اس میثاق کے بعد بد عہدی ، سست روی اور…
Read the full tafseer →1 یعنی جو " میثاق الکتاب " (عہد و اقرار) انہیں یاد دلایا جا رہا ہے، وہ ایسے اہتمام سے لیا گیا تھا کہ پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لٹکا دیا گیا اور کہا گیا کہ جو کچھ تم کو دیا جا رہے ہے (تورات وغیرہ) اسے پوری مضبوطی اور عزم سے تھامو اور جو نصیحتیں کی گئیں انہیں ہمیشہ یاد رکھو۔ ورنہ بصورت انکار سمجھ لو کہ خدا تم پر یہ پہاڑ گرا کر ہلاک کرسکتا ہے۔ اس قدر اہتمام اور تخویف و تاکید سے جو قول وقرار لیا گیا تھا، افسوس ہے وہ بالکل فراموش کردیا گیا۔ یہ " رفع جبل " کا قصہ سورة بقرہ میں ربع پارہ الم کے بعد گزر چکا ہے، ملاحظہ فرما لیا جائے۔
Read the full tafseer →خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔
اب آخری تین رکوعوں میں فلسفۂ دین کے اعتبار سے بہت اہم مضامین آ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →174 اس کی تشریح سورة بقرہ کی آیت نمبر 63 کے تحت لکھی جا چکی ہے وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔
Read the full tafseer →247 ۔ (جیسا کہ ہر صالح موحد قوم کو ہونا چاہیے) اس رفع طور پر حاشیے سورة البقرہ پارۂ اول رکوع 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” واذکروا مافیہ “۔ اور توریت میں اہم ترین تعلیم توحید کی تھی۔ (آیت) ” ظنوا “۔ ظن۔ یہاں گمان و خیال کے معنی میں نہیں علم ویقین کے معنی میں ہے۔ قال المفسرون اے علموا وایقنوا (کبیر) اے تیقنوا (بیضاوی)
Read the full tafseer →واذ نقتنا الجبل فوقھم (الآیۃ) یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس تورات لائے اور اس کے احکام ان کو سنائے تو انہوں نے حسب عادت عمل کرنے سے انکار کردیا جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر پہاڑ بلند کیا کہ تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائیگا، جس سے ڈرتے ہوئے انہوں نے تورات پر عمل کرنے کا عہد کرلیا، بعض کہتے ہیں کہ رفع جبل کا یہ واقعہ ان کے مطالبہ پر پیش آیا جب انہوں نے کہا کہ ہم تورات پر عمل اس وقت کریں گے جب اللہ تعالیٰ ہمارے اوپر پہاڑ کو بلند کرکے دکھائے، مگر پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →واذا نتقنا الجبل فوقہم کانہ ظلۃ وظنوا انہ واقع بہم خذوا ما اتینکم بقوۃ واذکروا ما فیہ لعلم تتقون۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر چھت کی طرح ان کے اوپر معلق کردیا تھا اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ اب وہ ان پر گرنے ہی والا ہے اور (ان سے کہہ دیا تھا کہ) مضبوطی کے ساتھ جلد قبول کرو اس کتاب کو جو ہم نے تم کو دی ہے اور جو احکام (اس میں ہیں ان کو یاد رکھو اس امید پر کہ تم متقی ہوجاؤ گے (گناہوں سے اور عذاب سے بچ جاؤ گے)
واذانتقنا اذکروا محذوف ہے اذ کا اسی محذوف سے تعلق ہے۔ نَتْقٌ کا لغوی معنی ہے کھینچنا یہاں مراد ہے اکھاڑ کر اوپر کو اٹھانا۔ فوقہمبنی اسرائیل کے اوپر۔ بنی اسرائیل نے…
Read the full tafseer →(171) اور جس وقت ہم نے پہاڑ کو اکھاڑ کر چھت کی طرح اٹھا کر ان کے سروں پر لٹکا دیا اور انھیں پورا یقین ہوگیا کہ اگر ہم نے کتاب کو قبول نہ کیا تو ہمارے اوپر گرا دیا جائے گا۔
اس وقت اللہ تعالیٰ نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس پر پوری مضبوطی اور استقامت سے عمل کرو اور ثواب و عذاب کو یاد رکھو یا یہ کہ اس کتاب میں جو اوامرو نواہی ہیں اسے محفوظ رکھو یا یہ کہ جو اس میں حلال و حرام ہیں، اس پر عمل کرو تاکہ غصہ اور عذاب سے نجات حاصل ہو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو۔
Read the full tafseer →وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ۔۔ : ”نَتَقَ یَنْتِقُ“ کا معنی ”کسی چیز کو زور سے کھینچ کر ہلانا“ ہے۔ (راغب) یہاں پہاڑ کا ذکر ہے اور سورة بقرہ میں طور کا ذکر ہے، یا تو وہ طور نامی پہاڑ تھا اور یا لفظ ”طور“ عام پہاڑ کے معنی میں بھی آتا ہے، دونوں جگہ دونوں مراد ہوسکتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی سابقہ سرکشیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان سے تورات کے احکام پر عمل کا پختہ عہد لینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زلزلے کے ساتھ پہاڑ کو اکھاڑ کر ان کے سروں پر سایہ فگن کردیا اور انھیں یقین ہوگیا کہ یہ ہم پر گرنے ہی والا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس ہیبت ناک ماحول میں وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے عمل کا سچا عہد کریں۔ قوت کے ساتھ پکڑنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 171
قولہ تعالیٰ : آیت : واذ نتقان الجبل، نتقنا اس کا معنی ہے ہم نے اٹھایا۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ آیت : کا نہ ظلۃ یعنی گویا کہ وہ اپنے اٹھنے اور بلند ہونے کے سبب ایک بادل ہے جس کا سایہ کیا جارہا ہے۔ آیت : خذواما اتینکم بقوۃ یعنی جو ہم نے تمہیں دیا ہے تم اسے انتہائی قوت کے ساتھ پکڑ لو۔ سورة البقرہ میں آیت کے آکر تک کا ذکر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذنتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے پہاڑ ان کے اوپر اٹھا دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم “ (النساء آیت 154) پھر فرمایا لفظ آیت ” خذوا ما اتینکم بقوۃ “ (اس کو مضبوطی سے پکڑ لو) ورنہ میں اس کو تم پر چھوڑ دون گا (یعنی گرا دوں گا) ۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذنقنا الجبل “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو فرشتے اٹھالائے ان کے سروں کے اوپر اور ان سے کہا گیا لفظ آیت ” خذوا ما اتینکم بقوۃ “ جب وہ اس…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [ نَتَقْنَا : کھینچ کر اونچا کیا ہم نے ] [ الْجَبَلَ : پہاڑ کو ] [ فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر ] [ كَاَنَّهٗ : گویا کہ وہ ] [ ظُلَّـةٌ: ایک سائبان ہے ] [ وَّظَنُّوْٓا : اور انہوں نے گمان کیا ] [ اَنَّهٗ : کہ وہ ] [ وَاقِعٌۢ : پڑنے والا ہے ] [ بِهِمْ ۚ : ان پر ] [ خُذُوْا : (تب ہم نے کہا ) تم لوگ پکڑو ] [ مَآ : اس کو جو ] [ اٰتَيْنٰكُمْ : ہم نے دیا تم کو ] [ بِقُوَّةٍ : مضبوطی سے ] [ وَّاذْكُرُوْا : اور یاد رکھو ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِيْهِ : اس میں ہے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید تم لوگ ] [ تَتَّقُوْنَ : تقوی اختیار کرو ]
ن ت ق : (ن ، ض) نتقا ۔ کسی چیز کو کھینچ کر پھیلانا ۔ اونچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–172
عہد اَلَسْتُ بِرَبّکُمْ کا تذکرہ
احادیث شریفہ میں اس کی تفصیل یوں وارد ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وادی نعمان میں (جو عرفات کے قریب ہے) حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا جو چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی صورتوں میں تھے۔ اور پشت در پشت ان کی نسل سے جو بھی مخلوق پیدا ہونے والی تھی سب کو پیدا فرمایا اور ان کی وہی صورتی بنا دیں جو بعد میں عالم ظہور میں پیدا ہونے والی تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بولنے کی قوت دی اس کے بعد ان سے عہد لیا اور انہیں ان کے نفسوں پر گواہ بنایا۔ ان سے فرمایا (اَلَسْتُ بِرَبّکُمْ ) (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) ان سب نے کہا ” بَلٰی “ ہم گواہی دیتے ہیں کہ واقعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–171
ذکر تسلیط عذاب ذلت بر یہود تا روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ واذ تاذن ربک لیبعثن علیہم الی یوم القیامۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تتقون
(ربط) گزشتہ آیات میں یہود کے بعض شنائع اور قبائح کا بیان تھا اور یہود کی ایک خاص جماعت کی ایک وقتی ذلت کا ذکر تھا کہ ذلیل و حقیر بندر اور لنگور بنا دئیے گئے اب ان آیات میں تمام یہود کی دائمی ذلت کا بیان ہے کہ تمرد اور سرکشی کی وجہ سے قیامت تک ان پر ذلت اور حقارت کی مہر لگا دی گئی۔ قیامت تک دوسرے لوگ ان پر مسلط رہیں گے اور ان کی کہیں حکومت نہ ہوگی۔ دوسروں کی حکومتوں میں رہیں گے اور طرح طرح کی ذلتیں سہتے رہیں گے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کم بختوں سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ اللہ…
Read the full tafseer →170: یہ یہود کے قول کی شناعت پر دوسری دلیل ہے یعنی اگر وہ بخشے ہوئے ہوتے تو کوہ طور ان پر معلق کر کے ان سے تورات کو قائم کرنے کا عہد کیوں لیا جاتا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے سامنے تورات پیش کی اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا تو وہ بگڑ گئے اور کہنے لگے اس کے احکام تو سخت ہیں ہم سے ان پر عمل نہیں ہوسکتا۔ کا یہ انکار چونکہ سراسر عنادًا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو حکم دیا۔ انہوں نے کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا۔ بنی اسرائیل کو یقین ہوگیا کہ وہ ضرور ان پر گر پڑے گا تو انہوں نے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر ضرور عمل کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
یہودیوں کی دائمی ذلت
مچھلی کے شکار والا واقعہ مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً سات سو سال پہلے پیش آیا اس وقت سے لے کر یہودیوں پر مسلسل ذلت مسلط رہی ہے اور یہ قرب قیامت تک اسی طرح رہے گی یہ لوگ کبھی بخت نصر کی غلامی میں رہے اور کبھی رومیوں اور کلدانیوں کے تسلط میں پستے رہے اور ان کے مظالم برداشت کرتے رہے پھر حضور ﷺ کے زمانے میں بنو قینقاع ، بنو نفیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بڑی سازشیں کیں جس کی وجہ سے یہاں کے یہودی کچھ مارے گئے اور کچھ جلاوطن ہوئے جب یہودیوں کا گڑھ خیبر فتح ہوگیا تو انہوں نے اپنی نصف پیداوار کے عوض وہیں آباد رہنے کی درخواست کی حضور ﷺ نے اس شرط…
Read the full tafseer →وَاِذْ نَـتَقْنَا الْجَــبَلَ فَوْقَہُمْ كَاَنَّہٗ ظُلَّـۃٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمْ 0 ۚ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 171 ۧ
نتق
نَتَقَ الشیءَ : جَذَبَهُ ونَزَعَهُ حتی يسترخِيَ ، كنَتْقِ عُرَى الحِمْل . قال تعالی: وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ [ الأعراف/ 171] ، ومنه استعیر : امرأة نَاتِقٌ: إذا کثُر ولدُها، وقیل : زِنْدٌ نَاتِقٌ: وَارٍ ، تشبيهاً بالمرأة النَّاتِق .
( ن ت ق ) نتق الشئی کے معنی کسی چیز کو کھنیچ کر ڈھیلا کردینے کے ہیں ۔ جیسے نتق عر ی الحمل اس نے بوجھ کی گر ہیں کھول دیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَإِذْ…
Read the full tafseer →ترکیب : الجبل مفعول ہے نتقنا بمعنی رفعنا کا اور فوقہم اس کا ظرف ہے وظنوا جملہ معترضہ یا معطوف ہے نتقنا پر یا حال انہ جملہ قائم مقام دو مفعولوں کے من ظہورھم بدل ہے بنی آدم سے بدل الاشتمال باعادۃ الجار ذریتہم اخذ کا مفعول الست بربکم بیان ہے اشہدھم کا ان تقولوا مفعول لہ ہے اشہد کا ای مخافۃ ان تقولوا اور اسی طرح او تقولہ جملہ محل تعلیل میں ہے۔
تفسیر : اس جملہ معترضہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد کا یہ واقعہ جو کوہ سینا کے پاس گذرا تھا۔ یہ بات بتلانے کے لئے بیان کرتا ہے کہ بنی اسرائیل سے ان کے سر پر پہاڑ اٹھا کر عہد لیا گیا تھا۔ اس پر بھی وہ اس عہد کے پابند نہ رہے۔ یہ قصہ بڑی تفصیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
وَالَّذِیْنَ یُمَسِکُوْنَ بِالْکِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَط اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَالْمُصْلِحِیْنَ ۔ وَاِذْ نَتَقْنَالْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَانَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّطَنُوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌمبِھِمْج خُذُوْامَآاٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَافِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَقُوْنَ ۔ (الاعراف : 171 170)
” اور جو لوگ کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامتے اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے اور یاد کرو جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو معلق کردیا گویا وہ سائبان ہے اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ‘ (ہم نے کہا) پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے ‘ اور یاد رکھو جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو تو رات کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لیے ان کے سروں پر کوہ طور کا اٹھایا جانا۔
بنی اسرائیل پر کوہ طور کو اٹھائے جانے کا واقعہ قرآن مجید میں چار مرتبہ بیان ہوا ہے سورة البقرۃ، آیت : 63، 93 اور سورة النساء 154 میں اس کے لیے ” وَرَفَعْنَا “ کا لفظ استعمال ہوا۔ جس کا معنیٰ ہے ہم نے ان پر طور کو بلند کیا۔ جس کے بارے میں بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ کوہ طور کو جڑ سے نہیں اٹھایا گیا تھا۔ بلکہ یہ شدید زلزلہ کے باعث اس طرح ڈولنے اور حرکت کرنے لگا کہ انھوں نے سمجھا کہ بس یہ پہاڑ ہمارے اوپر گرنے ہی والا ہے لیکن یہاں قرآن نے ” نَتَقْنُا الْجَبَلَ فَوْ قَہُمْ “ کے الفاظ…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی تیسری حماقت اور سزا :
آیت 171ـ: وَاِذْنَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ (اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر معلق کردیا) اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے اس کو اکھاڑا اور ان پر بلند کیا جیسا کہ ارشاد ہے ورفعنا فوقھم الطور ( النساء : 54) کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ (چھت کی طرح) ظلہ ہر وہ چیز جو تم پر سایہ کرے۔ جیسے چھپریابادل۔ وَّظَنُّوْٓٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌم بِھِمْ (اور ان کو یقین ہوا کہ اب وہ ان پر گرا چاہتا ہے) انہوں نے گرنے کا یقین کرلیا اور یہ اس وجہ سے پیش آیا کہ انہوں نے تورات کے احکام سخت ہونے کی بناء پر ماننے سے انکار کردیا۔ اور ان کو بوجھل سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو…
Read the full tafseer →171 (واذا نعفنا الجبل فوقھم) یعنی ہم نے اکھاڑا (کانہ ظلہ وظنوا انہ واقع بھم خدوا مآ اتینکم بقوۃ و اذکروا مافیہ) مورج کا قول ہے کہ ہم نے پہاڑ کو ان سے جدا کیا۔ قراء کا قول ہے کہ ہم نے ان پر معلق کیا۔ بعض نے کہا کہ ہم نے اسے بنلد کیا (کانہ ظلۃ) عطاء کا قول ہے کہ ظلتہ سے مراد چھت ہے بعض نے کہا ہر وہ چیز جو سایہ کرے (وظنوا انھم واقع بھم خدوا) اور ہم نے ان کو کہا کہ پکڑ لو۔ (ما اتینا کم بقوہ) کوشش اور اجتہاد سے (واذکروا مافیہ) مثل سائبان کے اور ڈرے کہ وہ ان پر گرے گا ہم نے کہا پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے زور سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے) اور اس کے ساتھ عمل کرو (لعلکم تتقون) اور یہ اس وقت ہوا جب…
Read the full tafseer →171۔ جب فرعون کو اللہ تعالیٰ نے غرق کر کے ہلاک کردیا تو بنی اسرائیل کو بڑی خوشی اور آزادی حاصل ہوئی ایک مدت دراز سے بنی اسرائیل فرعون کی قید اور طرح طرح کی سختیوں میں مبتلا تھے ان سختیوں سے چھوٹ جانے اور اس طرح کے دشمن قوی اور زبردست کے ایک دم میں ہلاک ہوجانے سے بنی اسرائیل کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت بڑھی اور اس کی قدرت کا یقین زیادہ پیدا ہوا ایسی حالت میں پہلے تو انہوں نے حضرت موسیٰ سے پورا عہد کیا کہ جس اللہ نے ہم پر یہ احسان کیا ہے اس کی طرف سے کچھ احکام آجاویں گے تو ہم اس کی مرضی نامرضی پہچان کر اس کے موافق پورا عمل کریں گے جب تورات نازل ہوئی تو بنی اسرائیل نے اس کے احکام کو سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
خلف کون ہے ؟
قول باری ہے فخلف من بعد ھم خلف۔ پھر اگلی نسلوں کے بعد ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے) ایک قول کے مطابق لفظ خلف میں لام کلمہ ساکن ہوتا ہے۔ اس صورت میں اس کا اکثر استعمال مذمت کے معنوں میں ہوتا ہے۔ بعید کا مصرعہ ہے۔
وبقیت فی خلف کجلدالاجرب
میں ایسے ناخلف لوگوں میں رہ گیا جو خارشی اونٹ کی کھال کی طرح تھے۔ بعض دفعہ یہ لفظ لام کلمہ کے سکون کے ساتھ مدح کے لئے بھی آتا ہے۔ حضرت حسان ؓ کا شعر ہے۔ لنا القدم العلیا الیک وخلفنا لاولنا فی طاعۃ اللہ تابع۔۔ حضور ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے شاعر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف آنے میں ہمیں اولیت حاصل ہے اور اللہ کی فرمانبرداری کے سلسلے میں ہمارے جانشین اس شخص کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
239 کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامنے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان لوگوں سے کہا کہ تم مضبوطی سے تھام لو اس کتاب کو جو ہم نے تم لوگوں کو دی ہے اور یاد کرو اس کو جو کہ اس کے اندر ہے تاکہ تم لوگ بچ سکو۔ سو کتاب الہی کو مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کو صحیح ایمان اور پختہ عقیدہ کے ساتھ اس کو تھام لو کہ اصل قوت تو ایمان و عقیدہ ہی کی قوت ہے جو کہ دوسری تمام ظاہری اور مادی قوتوں سے کہیں بڑھ کر اور حقیقی قوت ہے اور اس ایمانی قوت کا، جو کہ ایک مخفی و مستور حقیقت ہے، اور جس کا تعلق انسان کے قلب و ضمیر اور اس کے باطن سے ہے، اس کا اظہار اور عملی ثبوت انسان کے عمل و کردار ہی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–171
بنی اسرائیل پر غیروں کا تسلط اور حکومت
تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کی نافرمانی، سرکشی اور بدمعاشی کی وجہ سے جو ان پر ذلت و خواری ہمیشہ کے لیے ڈال دی گئی اس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مصیبت قیامت تک ان پر مسلط رہے گی۔ پھر اللہ اپنی رحمت کا اعلان اس طرح کرتا ہے کہ جو نیکی کا راستہ اختیار کرلے اور پکی توبہ کرلے اسے وہ معاف بھی کردیتا ہے۔ تاریخ میں اس بات کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ پہلے یونانی، کلدانی اور بخت نصر نے ان کو تباہ و برباد کیا، پھر جرمنی ہنگری نے ان کو ملک بدر کیا اگر کوئی چھوٹا موٹا ٹھکانا ان کو ملا بھی ہے تو دوسروں کے رحم و کرم پر ملا ہوا ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کو عبرت دلانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…
Read the full tafseer →ف 11 یہ وقعہ اس وقت پر پیش آیا جب توراۃ کے احکام سن کر بن اسرائیل شرارت سے کہنے لگے کہ اتنے احکام کی پیروی ہم سے نہ ہو سکے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے طور کو حکم دیا جو ان کے سروں پر چھتری کی طرح چھا گیا۔ اس حال میں اپنے لیے کوئی چارہ کار نہ پاکر انہوں نے توراۃ کے احکام پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ ( ابن کثیر
Read the full tafseer →(7:171) نتقنا۔ ماضی جمع متکلم نتق سے (باب نصر) ہم نے اٹھایا۔ (سیوطی) ہم نے اکھاڑ دیا (بغوی) ہم نے معلق کردیا (فرار) نتق (باب ضرب و نصر) کھینچنا۔ ہلانا۔ بات کہنا کسی چیز کو کھینچنا اور بلانا اس طرح کہ وہ ڈھیلی پڑجائے (راغب)
لسان العرب میں ہے کہ النتق۔ الزمزعۃ۔ والھز والجذب والنقص یعنی نتق کا معنی جھٹکا دینا۔ روز سے بلانا۔ کھینچنا اور جھاڑنا ہے۔ جب پہاڑ میں زلزلہ آتا ہے تو یہ کیفیت رونما ہوتی ہے۔ اور جو لوگ پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوتے ہیں انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ ان پر ابھی گرا چاہتا ہے۔ اس قسم کی صورت حال سے بنی اسرائیل کو دو چار کردیا گیا۔
ظلۃ۔ سائبان کی طرح سایہ دار بدلی۔ پھر ہر چیز پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
تشریح : آیت نمبر 169 تا 171
یہاں دو لفظ استعمال کئے گئے خلف ۔ خلف ۔ خلف ۔ کے معنی ہیں قائم مقام۔ جانشین اور خلف کے معنی ہیں نالائق اور براجانشین۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد میں کچھ اچھے لوگ ضرور تھے لیکن ان کی جگہ پر بعد میں آنے والی نسل میں اچھی لوگوں کی تعدا گھٹتی گئی ان بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے لازمی اور ضروری تھا کہ وہ خلافت کا حق اچھی طرح ادا کرتیں چونکہ وہ کتاب اللہ کی وارث تھیں۔ وہ اس کتاب اللہ کی پیروی سے دنیا کی امامت و رہنمائی کا فریضہ احسن طریقہ پر ادا کرسکتی تھیں مگر وہ اس کی اہل ثابت نہ ہوئیں ۔ ان کے احبار اور علماء نے مذہب فروشی شروع کردی۔ دنیا کے حقیر ، عارضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
زبردستی احکام توریت قبول کرنا
جب فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو خوشی اور آزادی حاصل ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی خواہش کی۔ اس پر جب توریت نازل ہوئی تو بنی اسرائیل نے اس کے احکام سخت خیال کرکے ان کے قبول کرنے سے انکار کیا، تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے بحکم الہی ایک بڑا پہاڑ اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سروں کے قریب کردیا اور ان سے کہا گیا کہ " توریت کے احکام قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سجدے میں گر گئے اور قبول کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–172
[66] اس آیت کی تفسیر میں جلیل القدر صحابی اور امام القرآ ابی بن کعب فرماتے ہیں :
'' اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں ترتیب دے کر انہیں انسانی صورت اور گویائی عطا کی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھہراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–172
(ف 1) یعنی عہد قدیم میں ان لوگوں سے وعدہ لیا گیا تھا کہ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہیں ، اس سے استفادہ کریں ، اور دل کی حالتوں کو سنواریں ، مگر ان لوگوں نے ہر عہد کو ٹھکرایا ، اور میثاق کی مخالفت کی ، پہاڑ کو سر پر اٹھا کر کھڑا کرنے میں حکمت یہ تھی کہ کتاب کی مخالفت سے جو نتائج پیدا ہونے والے ہیں ، ان کو ابھی سے دیکھ لیں ، مقصد یہ تھا کہ اگر تواریت کو یہ پس پشت ڈال دیں گے ، تو مصیبتوں کے پہاڑ ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں گے ، اور یہ مقابلہ نہ کرنے پائیں گے ، اور اگر اطاعت وشعار رہیں گے تو پہاڑ کی سی بلندی و رفعت انہیں حاصل ہوگی ،
غرض جبر اور سختی نہ تھی ، حقیقت واقعی کی طرف اشارہ تھا ، کیونکہ اس…
Read the full tafseer →171 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جس وقت بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ کو اس طرح معلق کردیاد جیسے وہ ایک سائبان ہے یعنی پہاڑ ان کے سروں پر چھت کی طرح معلق ہوگیا اور وہ بنی اسرائیل یہ سمجھ گئے کہ وہ پہاڑ ان پر گراہی چاہتا ہے اور ان کو حکم دیا گیا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو پوری قوت اور کامل عزم کے ساتھ لو اور مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور جو کچھ اس کتاب میں مذکور ہے اس کو یاد رکھو توقع ہے کہ تم بچ جائو۔ یعنی جس طرح کوئی سائبان یا چھت ہوتی ہے اس طرح پہاڑ کا ایک ٹکڑا ان پر معلق کردیا گیا اور سمجھے اور ان کو یقین ہوگیا کہ یہ پہاڑ ہم پر گرپڑے گا۔
اس وقت ان کو حکم ہوا کہ جو توریت ہم نے تم کو دی ہے…
Read the full tafseer →ف 1۔ چھت کے ساتھ تشبیہ بالائے سرہونے میں ہے معلق ہونے میں نہیں۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل سے لئے گئے عہد کا ذکر جو پہاڑ کے نیچے لیا گیا تھا :
195: اس عہد سے ایک خاص عہد مراد ہے جو بنی اسرائیل سے اس وقت لیا گیا جب وہ ایک پہاڑ کے نیچے کھڑے تھے اور پہاڑ ایسا نظر آتا تھا گویا ان کے سروں پر کھڑا ہے اور پہاڑ کی کیفیت یہ بیان کی گئی کہ پہاڑ ایسے تھا جیسے زلزلہ ہل رہا ہو نتقنا ای زلزلنا دوسری صورت میں اس کی یہ بیان ہوئی کہ سائبان کی طرح سایہ کئے ہوئے تھا اور ایسا لگتا تھا گویا گرا کہ گرا اس طرح ان سے لئے گئے عہد کی پوری کیفیت بیان کردی جیسے کسی کو یاد کرانے کے لئے صرف وقت اور ارد گرد کے ماحول کا پورا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے کہ یہ کس عہد کی بات ہو رہی…
Read the full tafseer →The next verse (171) described another incident of the Israelites when they were forced to promise their obedience to the law of the Torah. It has also been mentioned in the Surah al-Baqarah. The Arabic word نَتَقنَا signifies drawing or lifting up. In the Surah al-Baqarah the word رَفَعنَا has been used which denotes the act of raising up. Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ has therefore, taken the word نَتَقنَا to signify raising high. The Arabic word ظُلَّہ 'Zullah' means a sunshade or a canopy.
The verse refers to the time when the Prophet Musa (علیہ السلام) came back from the mount of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
132. The allusion here is to the event which took place when Moses proclaimed God's Divine Law at the foot of Mount Sinai.
Then Moses brought the people out of the camp to meet God; and they took their stand at the foot of the mountain. And Mount Sinai was wrapped in smoke, because the Lord descended upon it in fire; and the smoke of it went up like the smoke of a kiln, and the whole mountain quaked greatly. (Exodus 19: 17-18.)
This awesome atmosphere was created by God at the time when He made the people of Israel enter into a covenant with Him in order to impress upon them the gravity of…
Read the full tafseer →