Explained with ayahs 168–170
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں رہو سہو، جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے کجھ بد تھے، جنات میں بھی یہی حال ہے جیسے سورة جن میں ان کا قول ہے کہ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں پھر فرمان ہے کہ میں نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے غرض ہر طرح پر کھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں جب یہ زمانہ بھی گذرا جس میں نیک بد ہر طرح کے لوگ تھے ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
سورة الْاَعْرَاف 132
اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو موسیٰ ؑ کو شہادت نامہ کی سنگین لوحیں عطا کیے جانے کے موقع پر کوہ سینا کے دامن میں پیش آیا تھا۔ بائیبل میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے
”اور موسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خدا سے ملائے اور وہ پہاڑ کے نیچے آ کھڑے ہوئے اور کوہ سینا اوپر سے نیچے تک دھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خداوند شعلہ میں ہو کر اس پر اترا اور دھواں تنور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا“ (خروج 19 17۔ 18)
اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے کتاب کی پابندی کا عہد لیا اور عہد لیتے ہوئے خارج میں ان پر ایسا ماحول طاری کردیا جس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (ان میں سے) جو لوگ کتاب (یعنی تورات) کے پابند ہیں (جس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا بھی حکم ہے پس پابندی یہی ہے کہ مسلمان ہوگئے) اور (عقائد کے ساتھ اعمال صالحہ کے بھی پابند ہیں چنانچہ) نماز کی پابندی کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی (اس طرح) اصلاح کریں ثواب ضائع نہ کریں گے اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر چھت کی طرح ان (بنی اسرائیل) کے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا اور ان کو یقین ہوا کہ اب ان پر گرا اور (اس وقت) کہا کہ (جلدی) قبول کرو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے (یعنی تورات اور) مضبوطی کے ساتھ قبول کرو) اور یاد رکھو جو احکام اس (کتاب) میں ہیں جس سے توقع ہے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭاِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ۔
مصلحین اہل کتاب کی حوصلہ افزائی : تمسیک اور تمسک دونوں کے معنی کے ایک ہی معنی ہیں یعنی کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑنا یا تھا سنا۔ آیت کا مطلب اوپر کی آیت کی روشنی میں یہ ہے کہ یہ بدقسمت لوگ تو اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کے پیچھے چل کھڑے ہوئے حالانکہ جو لوگ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامتے اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں وہ لوگ خلق کی اصلاح کرنے والے بنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے مصلحین کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ اقامت نماز، یہاں تمسک بالکتاب کی علامت حیثیت سے بھی مذکور ہے اور یہ چیز…
Read the full tafseer →170۔ 1 ان لوگوں میں سے جو تقوٰی کا راستہ اختیار کرلیں، کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں۔ جس سے مراد اصلی تورات ہے اور جس پر عمل کرتے ہوئے نبوت محمدی پر ایمان لے آئیں، نماز وغیرہ کی پابندی کریں، تو اللہ ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ اس میں ان اہل کتاب (سیاق کلام سے یہاں
بطور خاص یہود) کا ذکر ہے جو تقوٰی، تمسک یا کتاب اور اقامت صلٰوۃ کا اہتمام کریں اور ان کے لئے آخرت کی خوشخبری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور رسالت محمدیہ پر ایمان لے آئیں۔ کیونکہ اب پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–170
86: یہ ان کی اس بد عنوانی کا ذکر ہے کہ وہ رشوت لے کر اللہ کی کتاب کی غلط تفسیر کردیتے تھے، اور ساتھ ہی بڑے یقین کے ساتھ یہ بھی کہتے کہ ہمارے اس گناہ کی بخشش ہوجائے گی۔ حالانکہ بخشش تو توبہ سے ہوتی ہے، جس کا لازمی حصہ یہ ہے کہ آئندہ اس گناہ سے پرہیز کیا جائے۔ لیکن ان کا حال یہ تھا کہ اگر انہیں دوبارہ رشوت کی پیشکش کی جاتی تو وہ دوبارہ لینے کو بےتکلف تیار رہتے تھے۔ اور یہ سب کچھ وہ دنیا کی خاطر کرتے تھے۔ حالانکہ اگر عقل ہوتی تو یہ دیکھتے کہ آخر کی زندگی کہیں بہتر ہے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭاِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ ۔ جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کر رکھی ہے ، یقیناً ایسے نیک لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے "
یہ ان لوگوں پر ایک طنز ہے جن سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں اور اسے پڑھیں اور انہوں نے عہد کے باوجود کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا حالانکہ وہ اسے پکڑ تو لیتے ہیں لیکن عمل نہیں کر تھے اور اپنے نظریہ و عمل میں اسے نافذ نہیں کرتے ، نہ اپنے نظام زندگی میں اسے جاری کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک تعریض ہے لیکن آنے والی تمام نسلوں کے لیے اس میں طے کردہ اصول باقی…
Read the full tafseer →8 یعنی توبہ اور اصلاح حال کا دروازہ اب بھی کھلا ہے جو لوگ شریروں کی راہ چھوڑ کر تورات کی اصلی ہدایات کو تھامے رہیں اور اسی کی ہدایت و پیشین گوئی کے موافق اس وقت قرآن کریم کا دامن مضبوط پکڑے رہیں اور خدا کی بندگی (نماز وغیرہ) کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کریں۔ غرض اپنی اور دوسروں کی اصلاح پر متوجہ ہوں۔ خدا ان کی محنت ضائع نہ کرے گا وہ بلاشبہ اپنی محنت کا میٹھا پھل چکھیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 170 وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بالْکِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَط اِنَّا لاَ نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ
بنی اسرائیل میں نیک لوگ آخری وقت تک ضرور موجود رہے ہوں گے۔ ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کا اجر ہم کسی صورت میں ضائع نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →173 ہر معاشرے میں کچھ انصاف پسند موجود ہوتے ہیں :۔ اللہ تعالیٰ نے ان ناخلف لوگوں سے جن کی اوپر صفات بیان کی گئی ہیں ان لوگوں کو مستثنیٰ کردیا جو دیانتداری کے ساتھ دین پر قائم رہتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں خواہ کتنا فساد پھیل جائے کچھ نہ کچھ لوگ ایسے بھی نکل ہی آتے ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے اپنے دین کا خیال رکھنے والے ہوتے ہیں اللہ ایسے لوگوں کو ضرور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دے گا کیونکہ اس کے عدل کا یہی تقاضا ہے۔
Read the full tafseer →246 ۔ (چنانچہ جو لوگ اس معیار پر پورے اتر جاتے ہیں وہ یقیناً اپنا صلہ دنیا وآخرت دونوں عالموں میں پا کر رہتے ہیں۔ ) یہاں یہ بتلا دیا کہ اپنی اصلاح کے اہم ترین اجزاء یہ دو ہیں ایک کتاب آسمانی کے احکام کی تعمیل دوسرے نماز کی پابندی۔ (آیت) ” الذین یمسکون بالکتب “۔ اور ” کتاب “۔ میں رسول اسلام پر ایمان لانے کا حکم بھی درج ہے تو تمسک بالکتب بغیر اسلام کی حلقہ بگوشی کے ممکن نہیں۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے اس سیاق میں کھلی ہوئی مراد توریت سے ہے۔ ای بالتورۃ (قرطبی) (آیت) ” اقاموالصلوۃ “۔ اقامت صلوۃ کا حکم تو تمسک بالکتب میں شامل ہی ہے۔ پھر الگ سے جو اس کا تصریحا ذکر ہے تو وہ اس حکم کی عظمت خاص و امتیاز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–170
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز…
Read the full tafseer →والذین یمسکون بالکتب واقاموا الصلوۃ انا لا نضیع اجر المصلحین اور (ان میں سے) جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں ہم ان اہل اصلاح کا ثواب ضائع نہیں کریں گے۔
مجاہد نے کہا ان سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی دوسرے مؤمنین اہل کتاب ہیں جو توریت پر بھی ایمان لائے تھے اور توریت میں انہوں نے کسی طرح کی تحریف نہیں کی تھی اور نہ اس کے احکام کو بگاڑ کر کمائی کا ذریعہ بنایا تھا بلکہ خالص حکم توریت پر عمل کرتے تھے پھر حضور اقدس ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ پر بھی ایمان لائے اور آپ کا اتباع کیا عطاء نے کہا ان سے مراد امت محمدیہ ہے۔
انا لا نضیع یعنی ان میں سے اہل اصلاح کا ثواب ہم ضائع…
Read the full tafseer →(170) اور جو لوگ جو کچھ کتاب میں ہے، اس پر عمل کرتے ہیں، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانتے ہیں اور رسول اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف کو بیان کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو قائم کرتے ہیں ہم ایسے لوگوں کے عمل کو جو قول وعمل میں نیک ہوتے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام ﷺ اور ان کے ساتھی ضائع نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بالْكِتٰبِ۔۔ : کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے سے مراد اس پر عمل کرنا ہے اور نماز بھی اگرچہ اس میں شامل تھی مگر اس کو خصوصاً اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ دین کا بنیادی ستون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلَاۃِ) [ مسلم، الإیمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر۔۔ : 82، عن جابر ؓ ] ”یقیناً آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک ہے۔“ گویا نماز نہیں تو کتاب سے تمسک بھی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 170
قولہ تعالیٰ : آیت : والذین یمسکون بالکتب کتاب سے مراد تورات ہے، یعنی وہ جو اس کے ساتھ مضبوطی سے عمل کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے : مسک بہ وتمسک بہ یعنی وہ اس کے ساتھ چمٹ گیا، اس نے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ ابو العالیہ اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں یمسکون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ امسک یمسک ہے ہے۔ پہلی قراءت اولی ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کے لیے تکریر و تکثیر کا معنی موجود ہے اور اسی کے سبب ان کی مدح اور تعریف کی جا رہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور دین کے ساتھ تمسک اور عمل ملازمت ( لازم پکڑنا) تکریر کا محتاج ہوتا ہے۔ کعب بن زہیر نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–170
دنیا کی خاطر دین فروشی سخت گناہ ہے
(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت لفظ آیت ” فخلف من بعدھم خلف ورثوا الکتب یاخذون عرض ھذا الادنی “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ (بعض) قومیں دنیا کی طرف متوجہ ہوگئیں اسے خوب کھاتے ہیں اور قرآن مجید کی رخصتوں کی پیروی کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں عنقریب ہم کو بخش دیا جائے گا اور ان کے لئے کوئی چیز دنیا میں سے پیش کی جاتی ہے تو اسے پکڑ لیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ضرور ہم کو بخش دیا جائے گا۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فخلف من بعدھم خلف “ کے…
Read the full tafseer →[ وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ ] [ يُمَسِّكُوْنَ : مضبوطی سے تھامتے ہیں ] [ بِالْكِتٰبِ : کتاب کو ] [ وَاَقَامُوا : اور قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوةَ ۭ : نماز کو ] [ اِنَّا : (تو ) بیشک ہم ] [ لَا نُضِيْعُ : ضائع نہیں کرتے ] [ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ : اصلاح کرنے والوں کے اجر کو ]
Read the full tafseer →مصلحین کا اجر ضائع نہیں ہوتا :
پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بالْکِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ ) (اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں بیشک ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے) ۔
اس آیت میں عام قانون بیان فرما دیا کہ جو شخص اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے گا یعنی اس پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں فرمائے گا۔ البتہ طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس میں اجرھم کے بجائے (اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ ) فرمایا جس سے یہ واضح ہوگیا کہ کتاب اللہ کا مضبوطی سے پکڑنا جب ہی ہوسکتا ہے جبکہ ایمان کی بھی اصلاح ہو یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–171
ذکر تسلیط عذاب ذلت بر یہود تا روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ واذ تاذن ربک لیبعثن علیہم الی یوم القیامۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تتقون
(ربط) گزشتہ آیات میں یہود کے بعض شنائع اور قبائح کا بیان تھا اور یہود کی ایک خاص جماعت کی ایک وقتی ذلت کا ذکر تھا کہ ذلیل و حقیر بندر اور لنگور بنا دئیے گئے اب ان آیات میں تمام یہود کی دائمی ذلت کا بیان ہے کہ تمرد اور سرکشی کی وجہ سے قیامت تک ان پر ذلت اور حقارت کی مہر لگا دی گئی۔ قیامت تک دوسرے لوگ ان پر مسلط رہیں گے اور ان کی کہیں حکومت نہ ہوگی۔ دوسروں کی حکومتوں میں رہیں گے اور طرح طرح کی ذلتیں سہتے رہیں گے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کم بختوں سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ اللہ…
Read the full tafseer →169: یہ میثاق پر قائم رہنے والوں کیلئے بشارت ہے اور اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو تورات کے عہد پر قائم رہے اور اس کے احکام پر عمل کیا اور اس میں کسی قسم کی تحریف نہ کی۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام اور دوسرے اسلام قبول کرنے والے یہودی “ قال مجاھد ھم الذین امنوا من اھل الکتاب کعبدالله بن سلام و اصحابه تمسکوا بالکتاب الذي جاء به موسیٰ علیه السلام فلم یحرفوه و لم یکتموه و لم یتخذوه ماکلة ”(ابو السعود ج 4 ص 456) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
یہودیوں کی دائمی ذلت
مچھلی کے شکار والا واقعہ مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً سات سو سال پہلے پیش آیا اس وقت سے لے کر یہودیوں پر مسلسل ذلت مسلط رہی ہے اور یہ قرب قیامت تک اسی طرح رہے گی یہ لوگ کبھی بخت نصر کی غلامی میں رہے اور کبھی رومیوں اور کلدانیوں کے تسلط میں پستے رہے اور ان کے مظالم برداشت کرتے رہے پھر حضور ﷺ کے زمانے میں بنو قینقاع ، بنو نفیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بڑی سازشیں کیں جس کی وجہ سے یہاں کے یہودی کچھ مارے گئے اور کچھ جلاوطن ہوئے جب یہودیوں کا گڑھ خیبر فتح ہوگیا تو انہوں نے اپنی نصف پیداوار کے عوض وہیں آباد رہنے کی درخواست کی حضور ﷺ نے اس شرط…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ 0 ۭ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ 170
مسس
المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد
والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ،
( م س س ) المس کے
معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش
کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔
اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–170
1 ؎ یعنی توریت میں عہد نہیں لیا ہے کہ سچ ہی کہیں گے ‘ رشوت نہ لیں گے ٗ انصاف کریں گے۔ اس کو پڑھ چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
وَالَّذِیْنَ یُمَسِکُوْنَ بِالْکِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَط اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَالْمُصْلِحِیْنَ ۔ وَاِذْ نَتَقْنَالْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَانَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّطَنُوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌمبِھِمْج خُذُوْامَآاٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَافِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَقُوْنَ ۔ (الاعراف : 171 170)
” اور جو لوگ کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامتے اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے اور یاد کرو جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو معلق کردیا گویا وہ سائبان ہے اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ‘ (ہم نے کہا) پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے ‘ اور یاد رکھو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–170
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کی نسل در نسل حالت اور ذہنیت۔
اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو اپنے انعامات اور عذابوں کے ساتھ اس لیے آزمایا تاکہ نعمت عطا ہونے پر شکر گزار ہوں اور عذاب آنے کی صورت میں اس کی طرف رجوع کریں۔ لیکن ہوا یہ کہ ان کی ایک کے بعد دوسری نسل پہلے سے بھی بری ثابت ہوئی۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ خلف کا لفظ لام کی جزم کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ناخلف اور برا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی اچھے وارث کو صرف خلف نہیں بلکہ خلف الرشید کہا جاتا ہے۔ لہٰذا ناخلف اور نالائق لوگ ہی تورات کے وارث بنے یعنی ان کی رہنمائی کے لیے کسی نہ کسی حالت میں تورات موجود تھی۔ لیکن جس طرح ان کے آباؤ اجداد نے آسمانی دستر خوان…
Read the full tafseer →حاملین کتاب قابل بدلہ ہیں :
آیت 170: وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتٰبِ (اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں) قراءت : ابوبکر نے یُمْسِکون پڑھا ہے اور الا مساک اور التمسک کسی چیز کو مضبوطی سے تھامنا۔ اور اس سے چمٹنا۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ (اور نماز کی پابندی کرتے ہیں) یہاں نماز کو خاص کر ذکر کیا۔ باجود اس کے کہ تمسک بالکتاب تو ہر عبادت کو شامل ہے۔ کیونکہ نماز دین کا ستون ہے۔
نحو : نمبر 1۔ الذین مبتداء ہے اور انالا نضیع اس کی خبر ہے۔ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ (ہم ان اصلاح والوں کا ثواب ضائع نہیں کریں گے) یعنی ہم ان کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔ نمبر 2۔ جائز ہے کہ یہ مجرور ہو اس صورت…
Read the full tafseer →تفسیر 170 (والذین یمسکون بالکتب) ابوبکر (رح) نے عاصم سے ” یمسکون “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر کی قرأت شد کے ساتھ ہے اس لئے کہ کہا جاتا ہے ” مسکت بالشیئ “ اور ” امسکت بالشیء نہیں کہا جاتا صرف ” امسکئہ “ کہا جاتا ہے۔ اور ابی بن کعب ؓ نے ” والذین تمسکوا بالکتاب ‘ ماضی کا صیغہ پڑھا ہے اور یہ قرأت عمدہ ہے کیونکہ آگے ” وقاموا الصلوۃ “ ماضی ہے اور ماضی کا مستقبل پر عطف بہت کم ہے ہاں معنی کے اعتابر سے ہو تو وہ کثیر ہے اور مراد وہ لوگ ہیں جو کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اہل کتاب کے مئومنین ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی کہ انہوں نے اس کتاب کو مضبوطی سے تھاما جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–170
(168 ۔ 170) ۔ یہود کی سلطنت جب تباہ ہوئی تو آپس میں ایسی پھوٹ پڑگئی جس سے یہ مختلف شہروں میں کچھ ادھر کچھ ادھر ہوگئے۔ اور مختلف مذہب پیدا ہوگئے اسی بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ہم نے یہود کو متفرق گروہ بنا دیا اور دنیا کے اطراف میں ایک کو دوسرے سے جدا کردیا سلطنت کی باگ ان کے ہاتھ سے نکال دی یہ لوگ ہر سرزمین میں پریشان ہوگئے کوئی شاخ ان کی باقی نہ رکھی جہاں بستیاں ہیں وہاں دوسرے کے زیرحکومت میں پھر فرمایا کہ بعض ان میں صالح اور نیک بخت ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے پہلے اپنے دین پر قائم رہے کوئی تبدیل اور تحریف کتاب آسمانی میں انہوں نے نہیں کی اور مرتے دم تک خدا کے احکام پر عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
خلف کون ہے ؟
قول باری ہے فخلف من بعد ھم خلف۔ پھر اگلی نسلوں کے بعد ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے) ایک قول کے مطابق لفظ خلف میں لام کلمہ ساکن ہوتا ہے۔ اس صورت میں اس کا اکثر استعمال مذمت کے معنوں میں ہوتا ہے۔ بعید کا مصرعہ ہے۔
وبقیت فی خلف کجلدالاجرب
میں ایسے ناخلف لوگوں میں رہ گیا جو خارشی اونٹ کی کھال کی طرح تھے۔ بعض دفعہ یہ لفظ لام کلمہ کے سکون کے ساتھ مدح کے لئے بھی آتا ہے۔ حضرت حسان ؓ کا شعر ہے۔ لنا القدم العلیا الیک وخلفنا لاولنا فی طاعۃ اللہ تابع۔۔ حضور ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے شاعر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف آنے میں ہمیں اولیت حاصل ہے اور اللہ کی فرمانبرداری کے سلسلے میں ہمارے جانشین اس شخص کے…
Read the full tafseer →237 کتاب الہی کو مضبوطی سے تھامنا ذریعہ فوز و فلاح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامنا ایک اہم اور بنیادی مطلب اور ذریعہ فوز و فلاح ہے۔ سو ان میں سے اچھے لوگوں کی صفات کے ذکر کے ذیل میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو مضبوطی سے تھامتے ہیں اللہ کی کتاب کو۔ سو کتاب الہی کو مضبوطی سے تھامنا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ پس تحریف و تبدیل کی بجائے وہ اس کے احکام پر صحیح طور سے عمل کرتے ہیں اور خوف خداوندی اور حق و ہدایت کی طلب صادق اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اور اس طرح انہوں نے اپنے باطن اور اپنے دلوں کی دنیا کو آباد رکھا تو ان کو نور حق و ہدایت کی دولت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–171
بنی اسرائیل پر غیروں کا تسلط اور حکومت
تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کی نافرمانی، سرکشی اور بدمعاشی کی وجہ سے جو ان پر ذلت و خواری ہمیشہ کے لیے ڈال دی گئی اس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مصیبت قیامت تک ان پر مسلط رہے گی۔ پھر اللہ اپنی رحمت کا اعلان اس طرح کرتا ہے کہ جو نیکی کا راستہ اختیار کرلے اور پکی توبہ کرلے اسے وہ معاف بھی کردیتا ہے۔ تاریخ میں اس بات کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ پہلے یونانی، کلدانی اور بخت نصر نے ان کو تباہ و برباد کیا، پھر جرمنی ہنگری نے ان کو ملک بدر کیا اگر کوئی چھوٹا موٹا ٹھکانا ان کو ملا بھی ہے تو دوسروں کے رحم و کرم پر ملا ہوا ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کو عبرت دلانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اس میں کوئی تحریٖف نہیں کرتے اور اسی برا پر وہ اگلی کتاب یعنی قرآن حکیم پر ایمان لاتے اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(7:170) یمسکون۔ جمع مذکر غائب تمسک (باب تفعل) سے ۔ وہ پکڑے ہوئے ہیں وہ پابند ہیں۔ امساک الشیٔ کے معنی کسی چیز سے چمٹ جانا۔ اور اس کی حفاظت کرنے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
تشریح : آیت نمبر 169 تا 171
یہاں دو لفظ استعمال کئے گئے خلف ۔ خلف ۔ خلف ۔ کے معنی ہیں قائم مقام۔ جانشین اور خلف کے معنی ہیں نالائق اور براجانشین۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد میں کچھ اچھے لوگ ضرور تھے لیکن ان کی جگہ پر بعد میں آنے والی نسل میں اچھی لوگوں کی تعدا گھٹتی گئی ان بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے لازمی اور ضروری تھا کہ وہ خلافت کا حق اچھی طرح ادا کرتیں چونکہ وہ کتاب اللہ کی وارث تھیں۔ وہ اس کتاب اللہ کی پیروی سے دنیا کی امامت و رہنمائی کا فریضہ احسن طریقہ پر ادا کرسکتی تھیں مگر وہ اس کی اہل ثابت نہ ہوئیں ۔ ان کے احبار اور علماء نے مذہب فروشی شروع کردی۔ دنیا کے حقیر ، عارضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–171
زبردستی احکام توریت قبول کرنا
جب فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو خوشی اور آزادی حاصل ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی خواہش کی۔ اس پر جب توریت نازل ہوئی تو بنی اسرائیل نے اس کے احکام سخت خیال کرکے ان کے قبول کرنے سے انکار کیا، تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے بحکم الہی ایک بڑا پہاڑ اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سروں کے قریب کردیا اور ان سے کہا گیا کہ " توریت کے احکام قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سجدے میں گر گئے اور قبول کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–172
[66] اس آیت کی تفسیر میں جلیل القدر صحابی اور امام القرآ ابی بن کعب فرماتے ہیں :
'' اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں ترتیب دے کر انہیں انسانی صورت اور گویائی عطا کی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھہراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–170
دین فروشی :
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان میں دونوں قسم کے لوگ ہیں صالح اور نیک بھی ہیں ، اور وہ بھی ہیں ، جو دین فروشی میں دنیا کے متاع قلیل پر مغرور ہیں اور لطف یہ ہے ، کہ باوجود اس بددینی کے مغفرت و بخشش کے امیدوار بھی ہیں ، حالانکہ اللہ کا کرم ان لوگوں سے مختص ہے ، جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور جن کا آخرت پر مضبوط ایمان ہے ، جو اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں اور اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش نہیں کرتے ، ان لوگوں سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے سے عہد لیا گیا تھا ، کہ دین کی بابت ہمیشہ صداقت وشعار رہیں ، اور کبھی باطل اور جھوٹ کی اشاعت نہ کریں ، مگر یہ ہیں ، کہ دنیا کی مسرتوں کے لئے آخرت کی…
Read the full tafseer →170 اور جو لوگ توریت کے صحی پابند ہیں اور اس کے تمام احکام پر عامل ہیں اور نماز کی بھی پابندی کرتے ہیں تو یقیناً ہم ایسے نیک کردار لوگوں کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–170
ف 4۔ کیونکہ گاہے حسنات سے ترغیب ہوجاتی ہے اور گاہے سیات سے ترہیب ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کے بعض مصلحین کی حوصلہ افزائی :
194: سابقہ آیات میں عہد و میثاق کا ذکر تھا جو علمائے یہود سے تورات کے متعلق کیا گیا تھا کہ اس میں تغیر و تبدل نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بجز حق اور صحیح بات کے کوئی چیز منسوب نہ کریں گے اور پھر بیان فرما یا کہ ان علماء بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی اور اہل غرض سے رشوتیں لے کر تورات کے احکام بدلے اور ان کی غرض کے مطابق کر کے بتلائے اور پھر یہ آیت اس مضمون کا تکملہ ہے کہ علمائے بنی اسرائیل سب کے سب ایسے نہیں ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے تورات کے احکام کو مضبوطی سے تھاما اور ایمان کے ساتھ عمل کے بھی پابند ہوئے اور کتاب کو سمجھ سوچ کر پڑھا اور…
Read the full tafseer →The preceding verse (169) contained a mention of a covenant made with the religious leaders of the Israelites in particular, that they shall not make any changes in the Torah and shall not ascribe to Allah anything but the truth. It has already been mentioned that they violated this pledge and distorted the contents of the Torah for petty amounts of money. This verse is an extension of the same theme. It says that there are some among their religious leaders who are truth-fully following the commands of the Torah and are firmly adhering to its guidance. They established the Salah as was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–171
132. The allusion here is to the event which took place when Moses proclaimed God's Divine Law at the foot of Mount Sinai.
Then Moses brought the people out of the camp to meet God; and they took their stand at the foot of the mountain. And Mount Sinai was wrapped in smoke, because the Lord descended upon it in fire; and the smoke of it went up like the smoke of a kiln, and the whole mountain quaked greatly. (Exodus 19: 17-18.)
This awesome atmosphere was created by God at the time when He made the people of Israel enter into a covenant with Him in order to impress upon them the gravity of…
Read the full tafseer →