Explained with ayahs 172–174
ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا
اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 136
یعنی معرفت حق کے جو نشانات انسان کے اپنے نفس میں موجود ہیں ان کا صاف صاف پتہ دیتے ہیں۔
سورة الْاَعْرَاف 137
یعنی بغاوت و انحراف کی روش چھوڑ کر بندگی و اطاعت کے رویہ کی طرف واپس ہوں۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں اسی مضمون کا بیان اس طرح آیا ہے، (آیت) وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ، یعنی ہم اسی طرح اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کیا کرتے ہیں تاکہ لوگ غفلت اور کجروی سے باز آجائیں، مراد یہ ہے کہ آیات الہیہ میں ذرا بھی غور کریں تو وہ اس عہد و میثاق کی طرف لوٹ آئیں جو ازل میں کیا گیا تھا یعنی اللہ جل شانہ کی ربوبیت کا اعتراف کرنے لگیں اور اس کے نتیجہ میں اس کی اطا عت کو لازم سمجیں۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۔ اس آیت میں قرینہ دلیل ہے کہ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ اگر اس کو کھول دیا جائے تو ہمارے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے گا کہ اس طرح ہم آپنی آیات کی تفصیل اس لیے کر رہے ہیں تاکہ ہم لوگوں پر اپنی حجت اس طرح قائم کردیں کہ ان کے لیے کوئی ادنی عذر بھی باقی نہ رہ رہ جائے اور تاکہ اس وضاحت کے بعد ان میں سے جو شرک سے تائب ہو کر اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیں وہ رجوع کرلیں۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان سے مذکورہ عہد لینے کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل و احسان ہے کہ اس نے اس عہد و میثاق کی پوری تفصیل بھی سنا دی تاکہ جو اپنی غلطی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
173۔ 1 یعنی ہم نے یہ اخذ عہد اپنی ربوبیت کی گواہی اس لئے لی تاکہ تم یہ عذر پیش نہ کرسکو کہ ہم تو غافل تھے یا ہمارے باپ دادا شرک کرتے تھے، یہ عذر قیامت والے دن بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
88: اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے، پھر ان سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں ؟ سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم و بیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے…
Read the full tafseer →یہ آیات و ہدایات اس لیے اتاری گئیں کہ انسان راہ فطرت پر واپس آجائے اور اس صلاحیت کو کام میں لائے جو اس کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ یعنی ان فطری صلاحیتوں اور عقلی ادراک کی وجہ سے بھی وہ بجا طور پر حقیقت کا ادراک کرسکتا تھا لیکن اللہ نے رسول اور ہدایات اس لیے ارسال کیں کہ وہ راہ ہدایت پا لے۔ اور یاد دہانی اور ڈراوے سے استفادہ کرے۔
Read the full tafseer →3 موضح القرآن میں ہے کہ " یہ قصہ یہود کو سنایا کہ وہ بھی عہد سے پھرے ہیں جیسے مشرک پھرتے ہیں۔ "
Read the full tafseer →آیت 174 وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ
اب آئندہ آیات میں ایک شخصیت کا واقعہ تمثیلی انداز میں بیان ہوا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ محض تشبیہہ نہیں ہے بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ یہ قصہ دراصل ہمارے لیے درس عبرت ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت بدنصیب ہے وہ فرد یا قوم جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بیش بہا انعام و اکرام اور قرب خاص سے نوازے ‘ مگر وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کر کے خود کو ان تمام فضیلتوں سے محروم کرلے اور اللہ کی بندگی سے نکل کر شیطان کا چیلہ بن جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
176 عہدِالست اور اتمام حجت :۔ اس ازلی عہد کی اللہ تعالیٰ نے دو اغراض بیان فرمائیں ایک یہ کہ انسان پر اتمام حجت ہوجائے اور کوئی مشرک، ملحد، کافر یا نافرمان انسان قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو اس حقیقت کا پتہ ہی نہ چل سکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عہد کو سمجھنے کی استعداد بھی انسان کے اندر رکھ دی ہے اور خارج میں انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں بھی بھیج دیں اور دوسری یہ کہ انسان اپنی سابقہ نسلوں پر یا بگڑے ہوئے ماحول پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر شخص سے یہ عہد انفرادی طور پر لیا گیا تھا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اصل میں مشرک یا قصوروار تو ہمارے بڑے…
Read the full tafseer →251 ۔ (دین توحید کی طرف اور باز آجائیں کفر وشرک سے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
عہد الست کی غرض : اوتقو۔۔۔ آباؤنا (الآیۃ) اس آیت میں وہ غرض بیان کی گئی جس کے لئے ازل میں پوری نسل آدم سے اقرار لیا گیا تھا اور وہ یہ کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے خدا سے بغاوت کریں گے وہ اپنے جرم کے پوری طرح ذمہ دار ہوں گے، انھیں صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے گا اور نہ وہ سابق نسلوں پر اپنی گمراہی کہ ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکیں گے۔
Read the full tafseer →وکذلک نفصل الایت ولعلہم یرجعون۔ اور ہم آیات کو اسی طور پر صاف صاف بیان کیا کرتے ہیں (تاکہ وہ غور کریں) اور تاکہ وہ باز آجائیں۔
وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُیعنی ہم یونہی آیات کو واضح طور پر کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ بندے ان پر غور کریں اور بھولے ہوئے عہد کو یاد رکھیں اور کفر سے توحید کی طرف لوٹ آئیں اس مطلب پر لعلہم یرجعونکا عطف ایک محذوف جملہ پر ہوگا یعنی لعلہم یتدبرون ویتذکرون مانسوا ویرجعون۔
جمہور مفسرین اور علمائے سلف نے احادیث کی روشنی میں آیات مذکورہ کا مطلب حسب تفسیر مندرجہ بالا بیان کیا ہے۔
بیضاوی اور بیضاوی کے مقلدوں نے (جمہور سلف کے خلاف) آیات مذکورہ کی تفسیر اس طرح کی ہے۔
واذا اخذ ربک اور…
Read the full tafseer →(174) اسی طرح ہم قرآن حکیم میں عہد ومیثاق کے واقعات بیان کرتے ہیں تاکہ یہ کفر وشرک سے میثاق اول کی طرف رجوع کریں۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ : ”اور تاکہ وہ پلٹ آئیں“ اور باطل کو چھوڑ دیں۔ یہ واقعہ یہود کو سنایا، کیونکہ وہ بھی مشرکوں کی طرح اپنے عہد سے پھرے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
آیت نمبر : 172۔ 174
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : واذاخذ ربک یعنی تم انہیں یاد دلاو اس کے باوجود کہ معاہدوں کا ذکر ان کی کتابوں میں پہلے گزر چکا ہے وہ میثاق جو میں نے بندوں سے اس دن لیا جس دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے اولاد کو نکالا۔ یہ ایک مشکل آیت ہے اور علماء نے اس کی تاویل اور اس کے احکام کے بارے کافی گفتگو کی ہے، جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے ہم حسب توفیق اسے ذکر کریں گے۔ پس ایک گروہ نے کہا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بنی آدم کی پشتوں سے بعض کو نکالا۔ انہوں نے کہا : آیت : اشھدھم علی انفسھم الست بربکم کا معنی ہے کہ اللہ تعالٰٰ نے اپنی تخلیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذا اخذ ربک من بنی ادم “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا فرمایا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ اس کے رب ہیں اور اس کی مدت زندگی اس کا رزق اور اس کی مصیبت لکھ دی پھر اس کی اولاد کو اس کی پیٹھ سے چیونٹی کی مانند نکالا اور ان سے بھی وعدہ لیا کہ وہ ان کے بھی رب ہیں اور ان کی مدت ان کے رزق اور ان کے مصائب کو لکھ دیا۔
عہد الست کا تذکرہ
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ اخذ ربک من بنی ادم “ کے بارے میں فرمایا جب اللہ…
Read the full tafseer →[ وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ نُفَصِّلُ : ہم کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ] [ الْاٰيٰتِ : نشانیوں کو ] [ وَلَعَلَّهُمْ : اور شاید وہ لوگ ] [ يَرْجِعُوْنَ : لوٹ آئیں ]
نوٹ ۔ 1: مذکورہ آیات میں جس واقعہ کا ذکر ہے اسے عہد الست کہتے ہیں ۔ اس کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ یہ دنیا ہماری امتحان گاہ ہے ۔ مختلف پیرائے میں قرآن مجید میں تین مقامات پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے (11:7 ۔ 18:7 ۔ 67:2) ۔ اصول یہ ہے کہ کسی کا امتحان لینے سے پہلے اسے کچھ سکھاتے پڑھاتے ہیں پھر امتحان لیتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ انسان کو کچھ سکھا پڑھا کر امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے یا ویسے ہی بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
ایک ایسے شخص کا تذکرہ جو اتباع ھویٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھوڑ بیٹھا
جس شخص کا ان آیات میں ذکر ہے یہ کون شخص تھا اس کے بارے میں تفسیر درمنثور (ص 145 ج 3) میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے اقوال بھی ہیں اور ان کے علاوہ تابعین میں سے سعید بن مسیب اور مجاہد اور قتادہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ حضرت قتادہ نے تو یہ فرمایا کہ جس شخص پر ہدایت پیش کی جائے اور وہ اس کے قبول کرنے سے انکار کر دے اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرمائی ہے۔ لیکن قرآن مجید کا سیاق بتاتا ہے کہ یہ ایک واقعہ بھی ہے۔ واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
عہد الست
قال اللہ تعالیٰ
واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورھم ذریتھم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم یرجعون
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اس عہد کا ذکر فرمایا تھا جو خاص بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا اور جس کی خلاف ورزی سے وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے کما قال تعالیٰ الم یوخذ علیھم میثاق الکتب ان لا یقولو علی اللہ الا الحق۔ واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ۔ واذ اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور۔
اب ان آیات میں اس عہد کا ذکر فرماتے ہیں جو عالم ارواح میں تمام بنی آدم سے لیا گیا تھا کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو جو تاقیام قیامت پیدا ہونے والی ہے نکالا اور انہیں عقل اور تکلم کی قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
171: یہ ان کے قول باطل کے رد کی تیسری وججہ ہے یعنی اگر بخشے ہوئے ہوتے تمام بنی آدم کے ساتھ ان سے ہم اپنی ربوبیت کا عہد کیوں لیتے۔ “ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ”، “ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ ” سے بدل ہے اور “ ذُرِّیَّتَھُمْ ”، “ اَخذَ ” کا مفعول ہے۔ یعنی اولاد آدم سے ان کی اولاد کو پیدا کیا اور سب سے عہد لیا۔ “ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ” کیا میں تمہارا پروردگار اور مالک نہیں ہوں۔ “ قَالُوْا بَلیٰ ” تو سب نے کہا کیوں نہیں ؟ بیشک تو ہمارا رب ہے۔ ہم سب اس کا اقرار کرتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ “ والمعنی شھدنا انک ربنا والٰھنا ” (قرطبی ج 7 ص 318) ۔ یہ عہد کب لیا گیا ؟ عام طور پر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد و پیمان کا ذکر تھا وہ خاص عہد اللہ نے اس بات کا لیا تھا کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا اور اس پر عمل کرنا ، مگر بنی اسرائیل اس عہد پر قائم نہ رہے بلکہ وہ ہمیشہ عہد و پیما کی خلاف ورزی ہی کرتے رہے یہ عہد خاص تھا اب آج کے درس میں عہد عام کا ذکر ہے جو تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا تھا یہ عہد عہد الست اور عالم ارواح کا عہد بھی کہلاتا ہے جو کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد مگر باقی اولاد کی تخلیق سے پہلے لیا گیا دراصل یہ عہد تمام بنی نوع انسان کے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی توقیر ، اس کی پہچان اور اس کی ربوبیت کا بیج ہے جو ان کی پیدائش سے پہلے…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ 174
تفصیل
: ما فيه قطع الحکم، وحکم فَيْصَلٌ ، ولسان مِفْصَلٌ. قال : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] ، الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1]
(ص ل ) الفصل
التفصیل واضح کردینا کھولکر بیان کردینا چناچہ فرمایا : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] اور ہم نے ہر چیز بخوبی ) تفصیل کردی ہے ۔ اور آیت کریمہ : الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم و خیبر کی طرف سے بہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
3 ؎ جیسے بڑوں کو کرتے پایا ویسا ہم نے بھی کیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
گزشتہ رکوع کی آخری آیت پر بنی اسرائیل سے خطاب ختم ہوجاتا ہے اب گفتگو کا رخ عام انسانوں کی طرف پھیرا جا رہا ہے روئے سخن اگرچہ اہل مکہ کی طرف ہے لیکن خطاب پوری نوع انسانی سے ہے اس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ آیات میں ہم نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت اور اللہ کی کتاب سے وابستگی کا جو عہد لیا تھا وہ کوئی ان کی خصوصیت نہیں تھی بلکہ تم بھی اسی طرح اللہ کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں بھی ایک دن اس میثاق کے حوالے سے جواب دہی کرنی ہے وہ میثاق کیا ہے ؟ اس کا ذکر اگلی آیات کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
وَاِذْاَخَذَرَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے عہد کی مناسبت سے وہ عہد بھی بنی نوع انسان کو یاد کروایا جا رہا ہے جو روز آفرینش ان سے لیا گیا تھا۔
خالق کائنات نے زمین و آسمان بنانے کے بعد جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس وقت آدم (علیہ السلام) کی پشت پر اپنا دست مبارک رکھا جس سے قیامت تک نسل در نسل پیدا ہونے والے بنی نوع انسان اس کی بار گاہ میں حاضر ہوگئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سب سے یہ استفسار فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں کہ نہیں ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اس کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ شہادت دی کیوں نہیں ! آپ ہی ہمارے خالق، مالک، اور پیدا کرنے والے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اس پر قائم رہنا…
Read the full tafseer →آیت 174: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) اس بلیغ تفصیل کے بعد نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ (ہم آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں) ان کے لیے وَلَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ (اور تاکہ وہ باز آجائیں) اپنے شرک سے ہم ان کی تفصیل کرتے ہیں۔ اہل تفسیر میں سے محقق علمائے تفسیر نے یہی تفسیر کی ہے جن میں شیخ ابومنصور الزجاج، زمخشری ہیں۔ جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم کو آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے چیونٹیوں جیسی چھوٹی شکلیں دے کر نکالا اور ان سے میثاق ربوبیت اس قول سے لیا۔ ألست بربکم پس انہوں نے بَلٰی سے جواب دیا۔ علماء نے فرمایا یہی وہ فطرت ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا گیا۔
قول ابن عباس :
حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →174 (وکذلک نفصل الایت) یعنی آیاتک وبیان کرتے ہیں تاکہ ان میں نبدے تدبر کریں (ولعلھم یرجعون) کفر سے توحید کی طرف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
172۔ 174۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو جتنی اولاد ان کی ہونے والی تھی ان سب کو آدم اور ان کی اولاد کی پشت سے نکال کر ان سے اس بات کا عہد لے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں میں تمہارا مالک نہیں ہوں جس کا جواب انہوں نے ایک زبان ہو کر یہی دیا تھا کہ بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کے یہ عہد اس واسطے لیا تھا کہ شاید یہ لوگ قیامت کے دن عذر کریں کہ ہمیں اس بات کی خبر نہ تھی ہم اس سے بالکل غافل تھے یا یہ کہیں کہ دنیا میں جا کر ہم اس کو بھول گئے اس واسطے ان لوگوں کے پاس رسول بھیج کر اس کو جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →آیت 174
یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیا نقرن بعد قرن سلسلہ تناسل وتوالد جاری ہوا۔ (و) ” اور “ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباؤ کی صلبوں سے نکالا (اشھدھم علی انفسھم الست بربکم) ” اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق ومالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ (قالوا بلی) ” انہوں نے کہا ہاں ! ہم نے اقرار کیا “۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہر شخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–184
عہد الست
قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا…
Read the full tafseer →243 تفصیل آیات کا مقصد رجوع الی اللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ باز آجائیں اتباع ھویٰ اور باطل پرستی سے، جو کہ جڑ بنیاد ہے تمام معاصی اور خرابیوں کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح یہ بچ سکیں اپنی سوئِ عاقبت اور ہولناک انجام سے۔ سو اس کے بعد بھی جو آنکھ نہیں کھولے گا وہ اپنی ہلاکت و بربادی کا ذمہ دار آپ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مذکورہ عہد لینے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید احسان اس کے بندوں پر یہ ہوا کہ اس نے اس عہد و پیمان کی پوری تفصیل بھی سب کو سنا دی تاکہ جو لوگ شرک و بدعت اور الحادو بےدینی کی اپنی باغیانہ اور سرکشانہ روش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا عہد
تشریح : یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم بڑے عظیم رب کی مخلوق ہیں۔ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور زمین پر اللہ کا خلیفہ یا نائب بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ عہد ہر شخص سے لیا گیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ جواب میں ہر رو ح نے کہا کہ کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہے۔ یہ ایک راز ہے جو ہر شخص کے ساتھ وابستہ ہے مگر اس کو صاف طور پر یاد نہیں بلکہ اس کی عقل، سمجھ روح اور لاشعور میں یہ بات پکی طرح موجود ہے۔ اسی لاشعور کی بات اللہ تعالیٰ قرآن کے ذریعہ واضح کرتا ہے۔ عام زندگی میں اس کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ انتہائی جاہل، کافر، مشرک اور بیوقوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–181
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 172 ۔ تا۔ 181
اسرار و معارف :
اور جہاں تک دینی شعور کا تعلق ہے تو وہ ازل ہی سے انسان میں ودیعت فرما دیا گیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ارواح عالم امر سے متعلق ہے اور یہ عالم تخلیق سے بلند تر براہ راست صفات باری سے متعلق ہے پھر ارواح کو پیدا فرما کر یونہی چھوڑ نہیں دیا گیا بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے پھر ان کی اولاد در اولاد کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد آدم کو نکال کر یکجا جمع فرما دیا اور ان سے خطاب فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کہ بیشک اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ ہم اس بات کے…
Read the full tafseer →ف 4 اور باطل کا چھو ڑدیں یہ قصہ یہود کے سنایا کیونکہ وہ بھی مشرکوں کی طرح اپنے عہد سے پھرے ہوئے تھے ( از مو ضح)5 یعنی اس علم سے اس طرح نگل گیا جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے، (کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
(7:173) اوتقولوا۔ عطف ہے ان تقولوا (آیہ سابقہ پر)
افتھلکنا۔ الف لام استفہام کے لئے ہے۔ تہلک مضارع واحد مذکر حاضر نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ کیا تو ہمیں ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ مبطلون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ غلط گو۔ جھوٹے۔ اہل باطل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–174
تشریح آیت نمبر 172 تا 174
پچھلی آیات میں دو وعدوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لئے ہیں۔ (ا) ایک کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کرنے سے پہلے اور دوسرا معلق کرنے کے بعد اسی طرح قرآن کریم میں بہت سے عہد، میثاق اور وعدوں کا ذکر ہے جو مختلف جماعتوں سے لئے گئے ہیں ان آیات میں ایک مقدس ترین عہد کا ذکر فرمایا گیا ہے جسے خود حق تعالیٰ شانہ نے براہ راست اپنے تمام بندوں سے لیا ہے اس عہد کا نام عہد الست ہے۔
اس عہد الست کے لئے بہت سی روایات موجود ہیں جن میں اس عہد کی وضاحت فرمائی گئی ہے کچھ حضرات نے حضرت عمر فاروق ؓ سے اس میثاق اور اور عہد کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
واقعہ بلعم باعور (جس کی زبان سینہ تک آگئی)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم یہود کو اس شخص کے حال کی اطلاع دے دو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں دی تھیں، اور وہ نشانیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس طرح نکل گئیں جیسے سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جبارین سے جنگ کا قصد کیا اور سرزمین شام میں نزول فرمایا تو بلعم باعور کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت تیز مزاج ہیں اور ان کے ساتھ کثیر لشکر ہے۔ وہ یہاں آئے ہیں ہمیں اس شہر سے نکالیں گے اور قتل کریں گے، اور بجائے ہمارے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
[67] یعنی اپنے احکام کا علم عطا کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
عہد فطرت :
(ف 1) ان آیات میں بتایا کہ عہد ومیثاق کا تعلق فطرت وتکوین سے ہے ، انبیاء محض اس لئے مبعوث ہوتے ہیں ، تاکہ وہ اس عہد کو تاکید و توضیح کے ساتھ ان کے سامنے دوبارہ پیش کردیں ، ورنہ انسانوں کے ضمیر میں اور ان کی گھٹی میں توحید اور اعتراف حق ودیعت ہے ، یعنی اللہ نے جب سے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی رگ رگ اور نس نس سے اعتراف و ایمان کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، ناممکن ہے ، کہ انسان اللہ سے بےنیاز ہو سکے ، اور اس کی احتیاج کو برملا محسوس نہ کرے ۔
عہد الست سے یہی مقصود ہے ، (آیت) ” قالوا بلی “۔ میں قول زبان حال سے تعبیر ہے ، جس طرح کہا جاتا ہے ، اذا متلاء الحوض قال قطنی ۔ یعنی انسانی بناوٹ انسانی…
Read the full tafseer →174 اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو مفصل اور صاف صاف بیان کرتے ہیں کہ وہ ان آیات کے مطالب کو سمجھیں اور تاکہ وہ باز آجائیں اور اصرار علی الباطل کو چھوڑ دیں اور حق کی جانب مائل ہوجائیں۔
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر اثناء احوال بنی اسرائیل میں ان کا مامور باحکام الہییة ہونا اور ذکر میثاق عالم ارواح میں تمام آدمیوں کا مامور بتوحید ہونا مقصود اور ان مذکورین کا توحید و رسالت کے انکار سے ان عہود کے خلاف کرنا ضمنا مذکور ہوا تھا آگے بعد علم احکام کے ان کے خلاف کرنے والے کی مثال بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →لوگوں کی تفہیم کے لئے ہم سچائی کی نشانیاں الگ الگ کر کے بیان کر رہے ہیں :
198: پچھلی آیت میں مشرکوں کی تفہیم کے لئے بہت وضاحت سے بیان دیا تھا اب بتایا جا رہا ہے کہ ہم اس طرح اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ غفلت اور کج روی سے باز آجائیں مطلب یہ ہے کہ آیات الٰہی میں ذرا بھی غور کریں تو وہ اس فطری عہد کی طرف لوٹ آئیں جو سب انسانوں سے ایک ہی طرح لیا گیا ہے یعنی اللہ عزوجل کی ربوبیت کا اعتراف کرنے لگیں اور اس کے نتیجہ میں اس کی اطاعت کو لازم سمجھیں ۔ چونکہ انسان کے اندر حق اور باطل کی قوتیں موجود ہیں پھر جب حق دبانے کے لئے باطل کوشش کرتا ہے جو اس کا گویا فطری حق ہے تو اس کو…
Read the full tafseer →The next verse 174 said:
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿174﴾
"And this is how we elaborate the verses, so that they may return."
That is, Allah has made His signs clear through His elaborate verses to facilitate people to turn back to their pledge and acknowledge Him as their Lord. Any one applying his reason can find the Truth and save himself from everlasting punishment.
Read the full tafseer →136. 'Signs' here refer to the imprints made by knowledge of the truth on the human heart which help towards cognition of the truth.
137. 'To return' here signifies giving up rebellion, and reverting to obedience to God.
Read the full tafseer →