Explained with ayahs 164–166
اصحاب سبت
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے ان کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے حوالوں سے مچھلی پکڑنے والا۔ دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہوجانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا نہ اس سے روکنے والا جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لئے ہیں رب کے غضب کیلئے تیار ہوگئے ہیں اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو ؟…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 126
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 83۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان (اپنے ہمعصر یہودی) لوگوں سے (بطور تنبیہ کے) اس بستی (والوں) کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے (اور اس میں یہودی رہتے تھے جن کو ہفتہ کے روز شکار کرنا ممنوع تھا) اس وقت کا حال پوچھئے جب کہ وہ (وہ ان کے بسنے والے) ہفتہ (کے متعلق جو حکم تھا اس) کے بارے میں حد (شرعی) سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان (کے دریا) کی مچھلیاں (پانی سے سر نکال نکال) ظاہر ہو ہو کر (سطح دریا پر) ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں (بلکہ وہاں سے دور کہیں چلی جاتی تھیں اور وجہ اس کی یہ تھی کہ) ہم ان کی اس طرح پر (شدید) آزمائش کرتے تھے (کہ کون حکم پر…
Read the full tafseer →فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ الایہ، یہ اس لعنت کا ذکر ہے جو ان نافرمانوں پر ہوئی اور جس کا ذکر بقرہ 65 اور مائدہ 61 کے تحت بھی گزر چکا ہے۔
لعنت بد ترین عذاب ہے :۔ کسی قوم پر اللہ کی لعنت اس عذاب سے بھی سخت تر چیز ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اس لیے کہ لعنت
Read the full tafseer →166۔ 1 عَتَوا کے معنی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ نجات پانے والے صرف وہی تھے، جو منع کرتے تھے اور باقی دونوں عذاب الٰہی کی زد میں آئے ؟ یا زد میں آنے والے صرف معصیت کار تھے ؟ باقی دو جماعتیں نجات پانے والی تھیں ؟ امام ابن کثیر نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔
Read the full tafseer →84: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں واقعی بندر بنادیا گیا، ہمارے دور کے بعض لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے قرآن کریم میں تاویلات بلکہ تحریفات کا دروازہ کھول دیتے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ جب ڈارون کسی قطعی دلیل کے بغیر یہ کہے کہ بندر ترقی کرکے انسان بن گیا تھا تو اسے ماننے میں انہیں تامل نہیں ہوتا ؛ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے قطعی کلام میں یہ فرمائیں کہ انسان تنزل کرکے بندر بن گیا تو یہ حضرات شرما کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →انسان کی تخلیق بھی لفظ (کن) سے ہوئی تھی اور اس کی خلق میں تبدیلی بھی لفظ کو نو قردۃ خاسئین سے ہوئی یعنی " ذلیل و خوار بندر بن جاؤ " چناچہ وہ ذلیل و خوار بندر بن گئے کیونکہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں کوئی حکم نہیں۔ اور نہ اسے کوئی رد کرسکتا ہے۔
اس سزا کے بعد ، سب پر اللہ تعالیٰ نے ابدی لعنت کا حکم فرمایا اور صرف ان لوگوں کو مستثنی کیا جو نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے ، اس لیے کہ وہ ایک عرصے تک یہی نافرمانیاں کرتے رہے اور اب ان کا زمانہ معصیت ختم ہوگیا اور مشیت الہیہ نے ان کے حق میں یہ دائمی حکم صادر کردیا جو اٹل ہے۔
Read the full tafseer →1 شاید پہلے اور عذاب آیا ہوگا، جب بالکل حد سے گزر گئے تب ذلیل بندر بنائے گئے، یا فَلَمَّا عَتَوْا الخ کو گزشتہ آیت فَلَمَّا نَسُوا ماذُکِّرُوا بِہٖ کی تفسیر قرار دیا جائے یعنی وہ " عذاب بئیس " یہ ہی بندر بنادینا تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " منع کرنے والوں نے شکار والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھائی، ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی، دیوار پر سے دیکھا، ہر گھر میں بندر تھے وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت والوں کے پاؤں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے۔ آخر برے حال سے تین دن میں مرگئے۔
Read the full tafseer →آیت 166 فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُہُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِءِیْنَ
آخر کار ان پر عذاب اس صورت میں آیا کہ ان کی انسانی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیا اور پھر انہیں ہلاک کردیا گیا۔ یہ اس واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورة البقرۃ اور سورة المائدۃ میں بھی آچکا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عذاب ان گروہوں میں سے صرف اس گروہ پر آیا تھا جو گناہ میں براہ راست ملوث تھا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نہی عن المنکر کرنے والے لوگوں کے بارے میں واضح طور پر بتادیا گیا : اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ کہ ہم نے ان کو بچالیا جو بدی سے روک رہے تھے اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
168 یہ وہ لوگ تھے جو خود تو مچھلیاں پکڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں تھے مگر پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ کا عذاب آیا تو صرف وہ لوگ بچائے گئے جو خود بھی مچھلیاں نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتے رہے اور اس درمیانی گروہ کو محض اس لیے سزا ملی کہ وہ اس گناہ کے کام سے منع کیوں نہ کرتے تھے۔ گویا جیسے کوئی برائی کرنا جرم ہے ویسے ہی برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔
نہی عن المنکر کے متعلق احادیث نبوی :۔ 1۔ نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھ کر خاموش رہنے والوں کی…
Read the full tafseer →239 ۔ مفصل حاشیہ سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 8 میں گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–170
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز…
Read the full tafseer →فلما عتوا عن ما نہوا عنہ قلنا لہم کونوا قردۃ خسئین : یعنی جب وہ اس کام میں حد سے نکل گئے جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے (براہ قہر) ان کو کہہ دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ (وہ ذلیل بند رہو گے)
فَلّما نسوا پھر جب نافرمان فرقہ واعظ و صالح فرقہ کی نصیحت بھول گیا یعنی نصیحت کا تارک رہا سمجھانے پر عمل نہ کیا۔ الذین ینہون عن السوء تو نصیحت کرنے والے نیکوکار فرقہ کو ہم نے ہلاکت سے بچا لیا۔
واخذنا الذین اور نافرمان گروہ کو سخت عذاب میں گرفتار کرلیا۔ بئیسبروزن شدید بمعنی شدید بوس باساشدید ہوگیا۔ (باب نصر)
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں سن رہا ہوں کہ اللہ نے ( انجینا الذین ینہون عن السوء واخذنا الذین ظلموا…
Read the full tafseer →(166) جو ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتے تھے ان کو بچالیا اور مچھلیاں پکڑنے والوں کو سخت عذاب میں گرفتار کردیا اور ان کو کہہ دیا گیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ۔۔ : یعنی جب ہفتہ کی تعظیم کا حکم انھوں نے سرے سے بھلا ہی دیا اور حیلے سے بڑھ کر علانیہ نافرمانی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا اور ظلم کرنے والوں کو بہت سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اب بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے ایک عذاب بھیجا گیا، جیسا کہ یہاں ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ فرمایا ہے کہ شاید وہ باز آجائیں۔ (دیکھیے سورة سجدہ : 21) لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو اگلی آیت میں مذکور مسخ کی سزا دی گئی اور بعض نے فرمایا کہ ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ سے مراد یہی مسخ ہے، لیکن (وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 166
قولہ تعالیٰ : آیت : فلما عتوا عن مانھو عنہ یعنی جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت میں حدود سے تجاوز کیا۔ قلنا لھم کونوا قردۃ خاسئین کہا جاتا ہے : خسأتہ فخسا یعنی میں نے اسے دور کردیا اور میں اسے بھگا دیا۔ سورة البقرہ میں پہلے اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
اور یہ اس پر دلیل ہے کہ معافی اور گناہ عذاب کا سبب ہیں۔ اور اس میں کوئی خفا اور ابہام نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ سنائی دینے والے کلام کے ساتھ فرمایا، تو وہ اس طرح ہوگئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں بندر بنا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور وہ (یہ آیت) ” وسئلہم رن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “ پڑھ رہے تھے۔ فرمایا اے عکرمہ ! کیا تو جانتا ہے یہ بستی کو نسی تھی عرض کیا نہیں فرمایا وہ ایلہ تھی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ میں ” قریہ “ سے مراد طبریہ ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ سے مراد وہ بستی ہے جس کو مقناطیسی کہا جاتا ہے۔ مدین اور عینونا کے درمیان ہے۔
(4) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ فَلَمَّا : پھر جب ] [ عَتَوْا : انہوں نے سرکشی کی ] [ عَنْ مَّا : اس سے ] [ نُهُوْا : انہیں منع کیا گیا ] [ عَنْهُ : جس سے ] [ قُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [ لَهُمْ : ان سے ] [ كُوْنُوْا : تم لوگ ہوجاؤ ] [ قِرَدَةً خٰسِـِٕـيْنَ : دھتکارے جانے والے بندر ]
نوٹ۔ 1: ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکام الہی کی خلاف ورزی ہورہی ہو وہ ساری بستی قابل مواخذہ ہوجاتی ہے ۔ اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی ، بلکہ اسے اللہ کے سامنے اس کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کی کوشش کرتا رہا تھا ۔ قرآن وحدیث سے بھی معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
بنی اسرائیل کی آزمائش اور ان کی حُبِ دنیا کا حال
ان آیات میں اول تو یہودیوں کے اس حال کا تذکرہ فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں منتشر فرما دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں تھوڑے تھوڑے کچھ یہاں کچھ وہاں سکونت اختیار کرتے گئے۔ ان کی جمعیت اور جماعت منتشر رہی۔ اجتماعیت جو اللہ کا انعام ہے اس سے محروم رہے۔ پھر فرمایا (مِنْھُمُ الصَّالِحُوْنَ ) (ان میں کچھ لوگ نیک تھے) (وَ مِنْھُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ ) (اور کچھ لوگ دوسری طرح کے یعنی برے لوگ تھے) اچھے لوگ توریت اور انجیل پر قائم رہے اور پھر اللہ کے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب پر ایمان لائے اور برے لوگ شر پسند کفر پر جمے رہے اور اپنی اس شر پسندی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
قصہۂ اصحاب سبت
قال اللہ تعالیٰ وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر۔۔ الی۔۔۔ کونوا قردۃ خسئین
(ربط) گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بیان کیا اب ان آیات میں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی کفران نعمت اور ان کی سرکشی اور تمرد کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو یہود کو بخوبی معلوم ہے جس سے غرض یہ بتلانا ہے کہ احکام خداوندی سے دیدہ و دانستہ انحراف ان کی جبلی اور آبائی خصلت ہے جس کی ہمیشہ ان کو سزا ملتی رہی اور اسی وجہ سے ان کو بندر بنایا گیا اور انسانی صورت سے حیوانی صورت میں مسخ کیے گئے جو انتہائی ذلت ہے اور عبرتناک سزا ہے اور یہ قصہ داود (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
163: یہاں “ نَسُوْا ” بمعنی “ تَرَکُوْا ” ہے یعنی جب انہوں نے اپنی قوم کے صلحاء اور ناصحین کی پند و نصیحت کو چھوڑ دیا اور اس سے بالکلیہ اعراض کرلیا تو برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا مگر ان ظالموں کو جو سرکشی اور نافرمانی کرتے تھے دردناک عذاب سے پکڑ لیا۔ “ فَلَمَّا عَتَوْا ” جب وہ اللہ کی نافرمانی میں حد سے بڑھ گئے اور ان کا انکار ضد وعناد کی حد کو پہنچ گیا تو ہم نے ان کی شکلیں مسخ کردیں اور ان کو بندر بنا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ربط آیات
مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل صحرائے سینا میں آباد ہوئے اس صحرا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر طرح طرح کے انعامات کیے پینے کے لیے معجزانہ طور پر پانی کا انتظام کیا سائے کے لیے بادلوں کو بھیج دیا اور من وسلویٰ جیسی اعلیٰ خوراک مفت فراہم کی مگر ان لوگوں نے انعامات الٰہی کی قدر نہ کی اور اعلیٰ درجے کے کھانے کے بجائے ساگ پات ، دال ، لہن اور پیاز وغیرہ کا مطالبہ کیا اللہ نے فرمایا کہ اس بستی میں داخل ہوجائو وہاں کے باشندوں سے جہاد کرکے بستی پر قابض ہو جائو تو وہاں تمہیں مطلوب اشیاء کاشتکاری کے ذریعے حاصل ہوسکیں گی ان لوگوں نے جہاد کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی آئی اور یہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُہُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ كُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِـِٕـيْنَ 166
عتو
العُتُوُّ : النبوّ عن الطاعة، يقال : عَتَا يَعْتُو عُتُوّاً وعِتِيّاً. قال تعالی: وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيراً [ الفرقان/ 21] ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ [ الذاریات/ 44] ، عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّها[ الطلاق/ 8] ، بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] ، مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا[ مریم/ 8] ، أي : حالة لا سبیل إلى إصلاحها ومداواتها . وقیل :إلى رياضة، وهي الحالة المشار إليها بقول الشاعر : 310 ۔ ومن العناء رياضة الهرم وقوله تعالی: أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمنِ عِتِيًّا[ مریم/ 69] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
ترکیب : اذیعدون حاضرۃ کا ظرف بھی ہوسکتا ہے یہ اصل یعتدون تھا اب اس کو مخفف بھی پڑھ سکتے ہیں اور مشدّد بھی۔ اذ تاتیہم ظرف ہے یعدون کا حیتان جمع حوت و کو ی سے بدل دیا گیا۔ شرعًا حال ہے حیتانہم سے یوم لایسبتون ظرف ہے لاتاتیہم کا معذرۃ مفعول ہے ای وعظنا للمعذرۃ۔
تفسیر : یہ قصہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں گذرا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد جبکہ بنی اسرائیل ملک شام میں آگئے اور یہاں کی سلطنت ان کی قوم میں ایک عرصہ سے قائم ہوگئی۔ یہ قصہ بھی سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔
عن القریۃ اس قریہ سے مراد وہ گائوں ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے جس کو علما مؤرخین ایلہ کہتے ہیں اور اس گائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
بنی اسرائیل کے سامنے ان کی تاریخ کا آئینہ
بنی اسرائیل کی مسلسل ناشکریوں اور نافرمانیوں کا بیان جاری ہے اور اسی سلسلہ میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو عبرت کے طور پر بنی اسرائیل میں معروف تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدیوں تک بنی اسرائیل نے کس طرح اللہ کی نافرمانیاں جاری رکھیں اور کس طرح ان پر اللہ کے عذاب آتے رہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر ان کے اجتماعی رویے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی چناچہ اس مشہور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔
وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور بد اعمالیوں کا تسلسل جس وجہ سے ان پر وقفہ، وقفہ سے عذاب آتے رہیں گے۔
غورو فکرکے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اصلاح اور ہدایت کے لیے ان گنت انبیاء مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے انتھک جدوجہد کی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مختلف عذاب اور بیش بہا انعامات کے ذریعے صدیوں تک بار بار اپنی اصلاح کا موقعہ دیا۔ لیکن یہ قوم اصلاح کے بجائے بگاڑ اور فساد کو ترجیح دیتی رہی۔ جس بنا پر ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آخری فیصلہ صادر فرماتے ہوئے اعلان کیا کہ اب قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جائیں گے جو انھیں…
Read the full tafseer →حد توڑنے پر سزائے مسخ :
آیت 166: فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُھُوْا عَنْہُ (جب وہ اس کام میں حد سے نکل گئے جس سے ان کو روکا گیا تھا) اسکو چھوڑنے سے جو ممنوع تھی۔ قُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِپیْنَ ( تو ہم نے ان کو کہہ دیا کہ ذلیل بندر ہوجائو) یعنی ہم نے ان کو ذلیل بندربنا دیا۔ اس حال میں کہ وہ ذلیل اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے والے تھے۔ فلما عتوا یہ فلما نسوا کی تکریر ہے۔ اور عذاب بئیس مسخ کا عذاب تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ نوجوان بندر بن گئے اور بوڑھوں کو خنزیر بنادیا گیا تھا۔ وہ اپنے اقارب کو پہچانتے تھے اور روتے تھے۔ مگر کلام نہ کرسکتے تھے۔ جمہور کا مسلک یہی ہے کہ وہ تین دن بعد…
Read the full tafseer →166 (فلما عفوا عن مانھوا غدہ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے معصیت کو چھوڑنے سے انکار کردیا (قلنا لھم کونوا فردۃ حسئین) دور کئے ہوئے تو وہ تین دن ٹھہرے رہے ایک دوسرے کو دیکھتے تھے اور لوگ ان کو دیکھتے تھے پھر وہ ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
(164 ۔ 166) ۔ اللہ پاک نے ان اصحاب سبت کا حال بیان فرمایا کہ اس قریہ میں تین فرقے ہوگئے ایک تو ہفتہ کے روز شکار کھیلتا تھا دوسرا فرقہ ان کو منع کرتا تھا تیسرا فرقہ وہ تھا کہ نہ شکار کرتا تھا اور نہ منع کرتا تھا ہاں منع کرنے والوں کو صرف یہ کہا کرتا تھا کہ بھائی تم کیوں ان لوگوں کو منع کرتے ہو ان کو اپنے حال میں رہنے دو غنقریب عذاب ان پر اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے ہلاک ہونے سے کبھی یہ بچ نہیں سکتے ہیں اللہ پاک نے ان کا حال بیان فرمایا کہ جو فرقہ منع کرتا تھا اس کو اللہ نے بچالیا اور جو لوگ ہفتہ کے دن شکار کرنے سے باز نہیں آتے تھے ان پر سخت عذاب نازل کیا ایک روز رات کو اپنے اپنے گھروں میں سوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
232 ان ظالموں کے ذلیل بندر بن جانے کا حکم ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان سے کہا کہ تم ہوجاؤ بندر ذلیل۔ یعنی تکوینی طور پر ان سے یوں کہا گیا اور ان کو ذلیل بندر بنادیا گیا۔ پس یہ آیت پہلی آیت کے مضمون کی تقریر و تفصیل ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو جس " عذاب بئیس " یعنی " سخت عذاب " کا ذکر اوپر فرمایا گیا تھا، اس سے مراد یہی عذاب تھا کہ ان لوگوں کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ سو احکام خداوندی کے توڑنے کا نتیجہ و انجام بہرحال بہت برا اور نہایت ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کو ان کی نافرمانی اور عہد شکنی کی بناء پر ایک سخت عذاب سے دو چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–166
بنی اسرائیل کا بقیہ بیان
تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…
Read the full tafseer →ف 10 مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا واقعی بندر بنا دیے گئے تھے یا ان میں صرف بندروں جیسی صفات پیدا کردی گئی تھیں بظاہر نظم قرآن سے معلوم ہو تو ہے کہ اسن کا یہ مسخ ہونا اخلاقی نہیں بلکہ جسمانی تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مسخ ہونے کے بعد وہ صرف تین دن زندہ ان کی کوئی نسل نہیں چلی۔ ( ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے عذاب بھیجا گیا جیسا کہ یہاں بعذاب بیئس فرمایا ہے لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو انہیں مسخ کی سزا دی گئی اور بعض کہتے ہیں کہ عذاب بئیس سے مراد یہی مسخ ہے واللہ اعلم ( فتح القدیر )
Read the full tafseer →(7:166) عنوا۔ انہوں نے سرکشی کی۔ نافرمانی کی۔ سرتابی میں حد سے گزر گئے۔ شرارت میں انتہاء کو پہنچ گئے۔ عتو سے۔
نھوا۔ نہی سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کو منع کیا گیا۔
قردۃ۔ جمع۔ قرد واحد۔ بندر۔ لنگور۔ خسئین۔ ذلیل ۔ خوار۔ خسنا سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
تشریح آیات نمبر 163 تا 166
بنی اسرائیل کی زندگی کے مختلف پہلوئو کا ذکر فرمایا جار ہا ہے اسی میں سے یہ ایک واقعہ ہے جو انہیں ایلہ کے مقام پر پیش آیا۔۔۔۔ واقعہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کا قبیلہ جو ایلہ میں آباد تھا اور کا گذر بسر مچھلیوں پر تھا۔ اس قوم کو آزمانے کے لئے کہا گیا کہ تم ہر روز مچھلی کا شکار کرسکتے ہو۔ صرف ہفتہ کے دن تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے توریت کی بعض آیات سے بھی اس طرف اشارے ملتے ہیں کہ اسی وجہ سے یہودیوں نے ہفتہ کے دن ہر طرح کے کام کاج کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت ان کا محض امتحان تھا ان کو مزید آزمانے کے لیے اللہ نے یہ انتظام فرمایا کہ جب ہفتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر توریت کے احکام توڑدوگے تو یاد رکھو قیامت تک تمہیں عزت نصیب نہیں ہوگی، ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے۔ ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی۔ یہ بات خدائے تعالیٰ کی پوری ہو کر رہی۔ ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بہانے نکال کر مجرم ہوتے رہے۔ کہا جاتا ہے پہلے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر اخراج لگایا پھر اوروں نے جزیہ اور خراج لیا۔ پھر مسلمانوں کے زیر حکومت رہ کر برابر جزیہ اور خراج دیتے رہے جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
[65] یعنی بنی اسرائیل کو۔
Read the full tafseer →(ف 2) جب یہودیوں نے فسق وفجور میں حد سے بڑھ کر تجاوز کیا اور ناصحین کی نصیحتوں کو بھی ٹھکرا دیا ، جب حجت تمام ہوچکی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعتوں کو مسخ کردیا جسم وروح میں تبدیلی پیدا ہوئی ، اور دنیا والوں کے لئے عبرت وموعظت کا سامان بن گئے ۔
Read the full tafseer →166 پس جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ اس کام میں حد سے بڑھ گئے تو ہم نے ان کو کہا اور حکم دیا کہ تم ذلیل ہونے والے بندر ہوجائو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منع کرنے والوں نے شکار کرنے والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھالی ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی دیوار پر سے دیکھا ہر گھر میں بندر وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت داروں کے پائوں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے آخر برے حال سے تین دن میں مرگئے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ف 2۔ جب نصیحت کے موثر ہونے کی بالکل امید نہ ہو تو نصیحت کرنا واجب نہیں رہتا گوعالی ہمتی ہے پس قائلین لم تعظون نے بوجہ یاس کے عدم وجوب پر عمل کیا اور قائلین معذرة کو یا تو یاس نہیں ہوا یا عالی ہمتی کی شق کو اختیار کیا غرض دونوں مصیب تھے اور دونوں کی نجات پانے کا حضرت عکرمہ نے استنباط کیا اور ابن عباس نے پسند کرکے ان کو انعام بھی دیا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی لعنت بد ترین عذاب ہے جس میں وہ مبتلا ہوئے :
189: کسی قوم یا جماعت پر اللہ کی لعنت اس عذاب سے بھی سخت چیز ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اس لئے کہ لعنت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قوم بظاہر زندہ رہتی ہے لیکن اس کی زندگی صرف ذلت و خواری کی ایک داستان عبرت ہوتی ہے اس بستی پر بھی اللہ کی ایسی لعنت برسی کہ وہ دیکھنے والوں کے لئے ایک نمونہ عبرت بن گئی یعنی ان کو بندر ذلیل بنا دیا گیا۔ رہی یہ بات بندر ہوجانے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا ان کی صورتیں بندروں کی سی ہوگئی تھیں یا دل ؟ آئمہ تفسیر میں بلا شبہ اس بات میں اختلاف ہے ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ مسخت قلوبھم ان کے دل مسخ ہوگئے تھے ( ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
The detailed discussion of the events contained in the above verses have been produced in Surah Al-Baqarah (under verses 58-60). Those interested may refer to those verses for details.
The Holy Prophet ﷺ has been asked to warn the Israelites present in his time by reminding them the events related in these verses. The events referred to in these verses are clear and require no explanation.
Read the full tafseer →126. For details see Towards Understanding the Q ur'an, vol. 1, alBaqarah 2: n. 83, pp. 81-2,
Read the full tafseer →