Al-A'raaf 7:166

Al-A'raaf · from ayah 166

7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىِٕیْنَ ۟فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِـئِیْنَ

غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, "Be apes, despised."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 21 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:166

پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ ذلیل اور خوار

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ ہوا یہ کہ جس کام سے انہیں روکا گیا تھا جب انہوں نے اس کے خلاف سرکشی کی تو ہم نے ان سے کہا : جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بند ر دھتکارے ہوئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب انہوں نے اس چیز (کے ترک کرنے کے حکم) سے سرکشی کی جس سے وہ روکے گئے تھے (تو) ہم نے انہیں حکم دیا کہ تم ذلیل و خوار بندر ہوجاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب وہ اس بات میں حد سے بڑھ گئے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ : ذلیل و خوار بندر بن جاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب وہ سرکشی کرکے اس چیز سے باز نہ آئے جس سے روکے گئے تو ہم نے ان سے کہا جاؤ ذلیل بندر بن جاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو جب وہ اپنی سرکشی سے ان کاموں میں بڑھتے ہی چلے گئے جن سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ ہوجاؤ تم بندر ذلیل،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب وہ اس چیز کی حد سے نکل گئے جس سے وہ روکے گئے تھے ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

توجب وہ بہت بڑھ گئے اس میں جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ جاؤ ذلیل بندر بن جاؤ !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

غرض جن برے اعمال سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندرہو جاؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when they persisted in pursuing that which had been forbidden We said: 'Become despised apes.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When they persisted in doing what they were forbidden from, We said to them, :Become apes debased.

— Muhammad Taqi Usmani

When they persisted in doing what they were forbidden from, We said to them, :Become apes debased.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So when they exceeded the limits of what they were prohibited, We said to them: "Be you monkeys, despised."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So when they took pride in that which they had been forbidden, We said unto them: Be ye apes despised and loathed!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, "Be apes, despised."

— Saheeh International

When they crossed the limit of the prohibition, We made them turn into detested apes.

— Muhammad Sarwar

Therefore when they revoltingly persisted in what they had been forbidden, We said to them: Be (as) apes, despised and hated.

— Muhammad Habib Shakir

So when they exceeded the bounds of that which they were prohibited We said unto them: be ye apes despised.

— Abdul Majid Daryabadi

When in their insolence they transgressed (all) prohibitions, We said to them: "Be ye apes, despised and rejected."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:166

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 164–166

اصحاب سبت جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے ان کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے حوالوں سے مچھلی پکڑنے والا۔ دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہوجانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا نہ اس سے روکنے والا جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لئے ہیں رب کے غضب کیلئے تیار ہوگئے ہیں اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 163–166

خلاصہ تفسیر اور آپ ان (اپنے ہمعصر یہودی) لوگوں سے (بطور تنبیہ کے) اس بستی (والوں) کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے (اور اس میں یہودی رہتے تھے جن کو ہفتہ کے روز شکار کرنا ممنوع تھا) اس وقت کا حال پوچھئے جب کہ وہ (وہ ان کے بسنے والے) ہفتہ (کے متعلق جو حکم تھا اس) کے بارے میں حد (شرعی) سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان (کے دریا) کی مچھلیاں (پانی سے سر نکال نکال) ظاہر ہو ہو کر (سطح دریا پر) ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں (بلکہ وہاں سے دور کہیں چلی جاتی تھیں اور وجہ اس کی یہ تھی کہ) ہم ان کی اس طرح پر (شدید) آزمائش کرتے تھے (کہ کون حکم پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ الایہ، یہ اس لعنت کا ذکر ہے جو ان نافرمانوں پر ہوئی اور جس کا ذکر بقرہ 65 اور مائدہ 61 کے تحت بھی گزر چکا ہے۔ لعنت بد ترین عذاب ہے :۔ کسی قوم پر اللہ کی لعنت اس عذاب سے بھی سخت تر چیز ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اس لیے کہ لعنت

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

166۔ 1 عَتَوا کے معنی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ نجات پانے والے صرف وہی تھے، جو منع کرتے تھے اور باقی دونوں عذاب الٰہی کی زد میں آئے ؟ یا زد میں آنے والے صرف معصیت کار تھے ؟ باقی دو جماعتیں نجات پانے والی تھیں ؟ امام ابن کثیر نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

84: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں واقعی بندر بنادیا گیا، ہمارے دور کے بعض لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے قرآن کریم میں تاویلات بلکہ تحریفات کا دروازہ کھول دیتے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ جب ڈارون کسی قطعی دلیل کے بغیر یہ کہے کہ بندر ترقی کرکے انسان بن گیا تھا تو اسے ماننے میں انہیں تامل نہیں ہوتا ؛ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے قطعی کلام میں یہ فرمائیں کہ انسان تنزل کرکے بندر بن گیا تو یہ حضرات شرما کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انسان کی تخلیق بھی لفظ (کن) سے ہوئی تھی اور اس کی خلق میں تبدیلی بھی لفظ کو نو قردۃ خاسئین سے ہوئی یعنی " ذلیل و خوار بندر بن جاؤ " چناچہ وہ ذلیل و خوار بندر بن گئے کیونکہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں کوئی حکم نہیں۔ اور نہ اسے کوئی رد کرسکتا ہے۔ اس سزا کے بعد ، سب پر اللہ تعالیٰ نے ابدی لعنت کا حکم فرمایا اور صرف ان لوگوں کو مستثنی کیا جو نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے ، اس لیے کہ وہ ایک عرصے تک یہی نافرمانیاں کرتے رہے اور اب ان کا زمانہ معصیت ختم ہوگیا اور مشیت الہیہ نے ان کے حق میں یہ دائمی حکم صادر کردیا جو اٹل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 شاید پہلے اور عذاب آیا ہوگا، جب بالکل حد سے گزر گئے تب ذلیل بندر بنائے گئے، یا فَلَمَّا عَتَوْا الخ کو گزشتہ آیت فَلَمَّا نَسُوا ماذُکِّرُوا بِہٖ کی تفسیر قرار دیا جائے یعنی وہ " عذاب بئیس " یہ ہی بندر بنادینا تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " منع کرنے والوں نے شکار والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھائی، ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی، دیوار پر سے دیکھا، ہر گھر میں بندر تھے وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت والوں کے پاؤں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے۔ آخر برے حال سے تین دن میں مرگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 166 فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُہُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِءِیْنَ آخر کار ان پر عذاب اس صورت میں آیا کہ ان کی انسانی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیا اور پھر انہیں ہلاک کردیا گیا۔ یہ اس واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورة البقرۃ اور سورة المائدۃ میں بھی آچکا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عذاب ان گروہوں میں سے صرف اس گروہ پر آیا تھا جو گناہ میں براہ راست ملوث تھا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نہی عن المنکر کرنے والے لوگوں کے بارے میں واضح طور پر بتادیا گیا : اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ کہ ہم نے ان کو بچالیا جو بدی سے روک رہے تھے اور جو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 164–166

168 یہ وہ لوگ تھے جو خود تو مچھلیاں پکڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں تھے مگر پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ کا عذاب آیا تو صرف وہ لوگ بچائے گئے جو خود بھی مچھلیاں نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتے رہے اور اس درمیانی گروہ کو محض اس لیے سزا ملی کہ وہ اس گناہ کے کام سے منع کیوں نہ کرتے تھے۔ گویا جیسے کوئی برائی کرنا جرم ہے ویسے ہی برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔ نہی عن المنکر کے متعلق احادیث نبوی :۔ 1۔ نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھ کر خاموش رہنے والوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 163–170

آیت نمبر 163 تا 171 ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما عتوا عن ما نہوا عنہ قلنا لہم کونوا قردۃ خسئین : یعنی جب وہ اس کام میں حد سے نکل گئے جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے (براہ قہر) ان کو کہہ دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ (وہ ذلیل بند رہو گے) فَلّما نسوا پھر جب نافرمان فرقہ واعظ و صالح فرقہ کی نصیحت بھول گیا یعنی نصیحت کا تارک رہا سمجھانے پر عمل نہ کیا۔ الذین ینہون عن السوء تو نصیحت کرنے والے نیکوکار فرقہ کو ہم نے ہلاکت سے بچا لیا۔ واخذنا الذین اور نافرمان گروہ کو سخت عذاب میں گرفتار کرلیا۔ بئیسبروزن شدید بمعنی شدید بوس باساشدید ہوگیا۔ (باب نصر) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں سن رہا ہوں کہ اللہ نے ( انجینا الذین ینہون عن السوء واخذنا الذین ظلموا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(166) جو ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتے تھے ان کو بچالیا اور مچھلیاں پکڑنے والوں کو سخت عذاب میں گرفتار کردیا اور ان کو کہہ دیا گیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 165–166

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ۔۔ : یعنی جب ہفتہ کی تعظیم کا حکم انھوں نے سرے سے بھلا ہی دیا اور حیلے سے بڑھ کر علانیہ نافرمانی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا اور ظلم کرنے والوں کو بہت سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اب بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے ایک عذاب بھیجا گیا، جیسا کہ یہاں ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ فرمایا ہے کہ شاید وہ باز آجائیں۔ (دیکھیے سورة سجدہ : 21) لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو اگلی آیت میں مذکور مسخ کی سزا دی گئی اور بعض نے فرمایا کہ ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ سے مراد یہی مسخ ہے، لیکن (وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 166 قولہ تعالیٰ : آیت : فلما عتوا عن مانھو عنہ یعنی جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت میں حدود سے تجاوز کیا۔ قلنا لھم کونوا قردۃ خاسئین کہا جاتا ہے : خسأتہ فخسا یعنی میں نے اسے دور کردیا اور میں اسے بھگا دیا۔ سورة البقرہ میں پہلے اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ معافی اور گناہ عذاب کا سبب ہیں۔ اور اس میں کوئی خفا اور ابہام نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ سنائی دینے والے کلام کے ساتھ فرمایا، تو وہ اس طرح ہوگئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں بندر بنا دیا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 163–166

(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور وہ (یہ آیت) ” وسئلہم رن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “ پڑھ رہے تھے۔ فرمایا اے عکرمہ ! کیا تو جانتا ہے یہ بستی کو نسی تھی عرض کیا نہیں فرمایا وہ ایلہ تھی۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ میں ” قریہ “ سے مراد طبریہ ہے۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ سے مراد وہ بستی ہے جس کو مقناطیسی کہا جاتا ہے۔ مدین اور عینونا کے درمیان ہے۔ (4) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ لفظ آیت ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَلَمَّا : پھر جب ] [ عَتَوْا : انہوں نے سرکشی کی ] [ عَنْ مَّا : اس سے ] [ نُهُوْا : انہیں منع کیا گیا ] [ عَنْهُ : جس سے ] [ قُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [ لَهُمْ : ان سے ] [ كُوْنُوْا : تم لوگ ہوجاؤ ] [ قِرَدَةً خٰسِـِٕـيْنَ : دھتکارے جانے والے بندر ] نوٹ۔ 1: ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکام الہی کی خلاف ورزی ہورہی ہو وہ ساری بستی قابل مواخذہ ہوجاتی ہے ۔ اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی ، بلکہ اسے اللہ کے سامنے اس کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کی کوشش کرتا رہا تھا ۔ قرآن وحدیث سے بھی معلوم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 164–168

بنی اسرائیل کی آزمائش اور ان کی حُبِ دنیا کا حال ان آیات میں اول تو یہودیوں کے اس حال کا تذکرہ فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں منتشر فرما دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں تھوڑے تھوڑے کچھ یہاں کچھ وہاں سکونت اختیار کرتے گئے۔ ان کی جمعیت اور جماعت منتشر رہی۔ اجتماعیت جو اللہ کا انعام ہے اس سے محروم رہے۔ پھر فرمایا (مِنْھُمُ الصَّالِحُوْنَ ) (ان میں کچھ لوگ نیک تھے) (وَ مِنْھُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ ) (اور کچھ لوگ دوسری طرح کے یعنی برے لوگ تھے) اچھے لوگ توریت اور انجیل پر قائم رہے اور پھر اللہ کے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب پر ایمان لائے اور برے لوگ شر پسند کفر پر جمے رہے اور اپنی اس شر پسندی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 163–166

قصہۂ اصحاب سبت قال اللہ تعالیٰ وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر۔۔ الی۔۔۔ کونوا قردۃ خسئین (ربط) گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بیان کیا اب ان آیات میں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی کفران نعمت اور ان کی سرکشی اور تمرد کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو یہود کو بخوبی معلوم ہے جس سے غرض یہ بتلانا ہے کہ احکام خداوندی سے دیدہ و دانستہ انحراف ان کی جبلی اور آبائی خصلت ہے جس کی ہمیشہ ان کو سزا ملتی رہی اور اسی وجہ سے ان کو بندر بنایا گیا اور انسانی صورت سے حیوانی صورت میں مسخ کیے گئے جو انتہائی ذلت ہے اور عبرتناک سزا ہے اور یہ قصہ داود (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 165–166

163: یہاں “ نَسُوْا ” بمعنی “ تَرَکُوْا ” ہے یعنی جب انہوں نے اپنی قوم کے صلحاء اور ناصحین کی پند و نصیحت کو چھوڑ دیا اور اس سے بالکلیہ اعراض کرلیا تو برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا مگر ان ظالموں کو جو سرکشی اور نافرمانی کرتے تھے دردناک عذاب سے پکڑ لیا۔ “ فَلَمَّا عَتَوْا ” جب وہ اللہ کی نافرمانی میں حد سے بڑھ گئے اور ان کا انکار ضد وعناد کی حد کو پہنچ گیا تو ہم نے ان کی شکلیں مسخ کردیں اور ان کو بندر بنا دیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 164–166

ربط آیات مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل صحرائے سینا میں آباد ہوئے اس صحرا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر طرح طرح کے انعامات کیے پینے کے لیے معجزانہ طور پر پانی کا انتظام کیا سائے کے لیے بادلوں کو بھیج دیا اور من وسلویٰ جیسی اعلیٰ خوراک مفت فراہم کی مگر ان لوگوں نے انعامات الٰہی کی قدر نہ کی اور اعلیٰ درجے کے کھانے کے بجائے ساگ پات ، دال ، لہن اور پیاز وغیرہ کا مطالبہ کیا اللہ نے فرمایا کہ اس بستی میں داخل ہوجائو وہاں کے باشندوں سے جہاد کرکے بستی پر قابض ہو جائو تو وہاں تمہیں مطلوب اشیاء کاشتکاری کے ذریعے حاصل ہوسکیں گی ان لوگوں نے جہاد کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی آئی اور یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُہُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَہُمْ كُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِـِٕـيْنَ۝ 166 عتو العُتُوُّ : النبوّ عن الطاعة، يقال : عَتَا يَعْتُو عُتُوّاً وعِتِيّاً. قال تعالی: وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيراً [ الفرقان/ 21] ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ [ الذاریات/ 44] ، عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّها[ الطلاق/ 8] ، بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] ، مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا[ مریم/ 8] ، أي : حالة لا سبیل إلى إصلاحها ومداواتها . وقیل :إلى رياضة، وهي الحالة المشار إليها بقول الشاعر : 310 ۔ ومن العناء رياضة الهرم وقوله تعالی: أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمنِ عِتِيًّا[ مریم/ 69] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 163–166

ترکیب : اذیعدون حاضرۃ کا ظرف بھی ہوسکتا ہے یہ اصل یعتدون تھا اب اس کو مخفف بھی پڑھ سکتے ہیں اور مشدّد بھی۔ اذ تاتیہم ظرف ہے یعدون کا حیتان جمع حوت و کو ی سے بدل دیا گیا۔ شرعًا حال ہے حیتانہم سے یوم لایسبتون ظرف ہے لاتاتیہم کا معذرۃ مفعول ہے ای وعظنا للمعذرۃ۔ تفسیر : یہ قصہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں گذرا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد جبکہ بنی اسرائیل ملک شام میں آگئے اور یہاں کی سلطنت ان کی قوم میں ایک عرصہ سے قائم ہوگئی۔ یہ قصہ بھی سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ عن القریۃ اس قریہ سے مراد وہ گائوں ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے جس کو علما مؤرخین ایلہ کہتے ہیں اور اس گائوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 163–166

بنی اسرائیل کے سامنے ان کی تاریخ کا آئینہ بنی اسرائیل کی مسلسل ناشکریوں اور نافرمانیوں کا بیان جاری ہے اور اسی سلسلہ میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو عبرت کے طور پر بنی اسرائیل میں معروف تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدیوں تک بنی اسرائیل نے کس طرح اللہ کی نافرمانیاں جاری رکھیں اور کس طرح ان پر اللہ کے عذاب آتے رہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر ان کے اجتماعی رویے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی چناچہ اس مشہور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 166–167

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور بد اعمالیوں کا تسلسل جس وجہ سے ان پر وقفہ، وقفہ سے عذاب آتے رہیں گے۔ غورو فکرکے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اصلاح اور ہدایت کے لیے ان گنت انبیاء مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے انتھک جدوجہد کی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مختلف عذاب اور بیش بہا انعامات کے ذریعے صدیوں تک بار بار اپنی اصلاح کا موقعہ دیا۔ لیکن یہ قوم اصلاح کے بجائے بگاڑ اور فساد کو ترجیح دیتی رہی۔ جس بنا پر ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آخری فیصلہ صادر فرماتے ہوئے اعلان کیا کہ اب قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جائیں گے جو انھیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حد توڑنے پر سزائے مسخ : آیت 166: فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُھُوْا عَنْہُ (جب وہ اس کام میں حد سے نکل گئے جس سے ان کو روکا گیا تھا) اسکو چھوڑنے سے جو ممنوع تھی۔ قُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِپیْنَ ( تو ہم نے ان کو کہہ دیا کہ ذلیل بندر ہوجائو) یعنی ہم نے ان کو ذلیل بندربنا دیا۔ اس حال میں کہ وہ ذلیل اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے والے تھے۔ فلما عتوا یہ فلما نسوا کی تکریر ہے۔ اور عذاب بئیس مسخ کا عذاب تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ نوجوان بندر بن گئے اور بوڑھوں کو خنزیر بنادیا گیا تھا۔ وہ اپنے اقارب کو پہچانتے تھے اور روتے تھے۔ مگر کلام نہ کرسکتے تھے۔ جمہور کا مسلک یہی ہے کہ وہ تین دن بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

166 (فلما عفوا عن مانھوا غدہ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے معصیت کو چھوڑنے سے انکار کردیا (قلنا لھم کونوا فردۃ حسئین) دور کئے ہوئے تو وہ تین دن ٹھہرے رہے ایک دوسرے کو دیکھتے تھے اور لوگ ان کو دیکھتے تھے پھر وہ ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 164–166

(164 ۔ 166) ۔ اللہ پاک نے ان اصحاب سبت کا حال بیان فرمایا کہ اس قریہ میں تین فرقے ہوگئے ایک تو ہفتہ کے روز شکار کھیلتا تھا دوسرا فرقہ ان کو منع کرتا تھا تیسرا فرقہ وہ تھا کہ نہ شکار کرتا تھا اور نہ منع کرتا تھا ہاں منع کرنے والوں کو صرف یہ کہا کرتا تھا کہ بھائی تم کیوں ان لوگوں کو منع کرتے ہو ان کو اپنے حال میں رہنے دو غنقریب عذاب ان پر اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے ہلاک ہونے سے کبھی یہ بچ نہیں سکتے ہیں اللہ پاک نے ان کا حال بیان فرمایا کہ جو فرقہ منع کرتا تھا اس کو اللہ نے بچالیا اور جو لوگ ہفتہ کے دن شکار کرنے سے باز نہیں آتے تھے ان پر سخت عذاب نازل کیا ایک روز رات کو اپنے اپنے گھروں میں سوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 157–173

(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 150–168

عجلت اور سرعت کا فرق قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 166–168

232 ان ظالموں کے ذلیل بندر بن جانے کا حکم ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان سے کہا کہ تم ہوجاؤ بندر ذلیل۔ یعنی تکوینی طور پر ان سے یوں کہا گیا اور ان کو ذلیل بندر بنادیا گیا۔ پس یہ آیت پہلی آیت کے مضمون کی تقریر و تفصیل ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو جس " عذاب بئیس " یعنی " سخت عذاب " کا ذکر اوپر فرمایا گیا تھا، اس سے مراد یہی عذاب تھا کہ ان لوگوں کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ سو احکام خداوندی کے توڑنے کا نتیجہ و انجام بہرحال بہت برا اور نہایت ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کو ان کی نافرمانی اور عہد شکنی کی بناء پر ایک سخت عذاب سے دو چار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 160–166

بنی اسرائیل کا بقیہ بیان تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 163–171

رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔ اسرار و معارف : آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا واقعی بندر بنا دیے گئے تھے یا ان میں صرف بندروں جیسی صفات پیدا کردی گئی تھیں بظاہر نظم قرآن سے معلوم ہو تو ہے کہ اسن کا یہ مسخ ہونا اخلاقی نہیں بلکہ جسمانی تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مسخ ہونے کے بعد وہ صرف تین دن زندہ ان کی کوئی نسل نہیں چلی۔ ( ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے عذاب بھیجا گیا جیسا کہ یہاں بعذاب بیئس فرمایا ہے لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو انہیں مسخ کی سزا دی گئی اور بعض کہتے ہیں کہ عذاب بئیس سے مراد یہی مسخ ہے واللہ اعلم ( فتح القدیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:166) عنوا۔ انہوں نے سرکشی کی۔ نافرمانی کی۔ سرتابی میں حد سے گزر گئے۔ شرارت میں انتہاء کو پہنچ گئے۔ عتو سے۔ نھوا۔ نہی سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کو منع کیا گیا۔ قردۃ۔ جمع۔ قرد واحد۔ بندر۔ لنگور۔ خسئین۔ ذلیل ۔ خوار۔ خسنا سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 163–166

تشریح آیات نمبر 163 تا 166 بنی اسرائیل کی زندگی کے مختلف پہلوئو کا ذکر فرمایا جار ہا ہے اسی میں سے یہ ایک واقعہ ہے جو انہیں ایلہ کے مقام پر پیش آیا۔۔۔۔ واقعہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کا قبیلہ جو ایلہ میں آباد تھا اور کا گذر بسر مچھلیوں پر تھا۔ اس قوم کو آزمانے کے لئے کہا گیا کہ تم ہر روز مچھلی کا شکار کرسکتے ہو۔ صرف ہفتہ کے دن تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے توریت کی بعض آیات سے بھی اس طرف اشارے ملتے ہیں کہ اسی وجہ سے یہودیوں نے ہفتہ کے دن ہر طرح کے کام کاج کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت ان کا محض امتحان تھا ان کو مزید آزمانے کے لیے اللہ نے یہ انتظام فرمایا کہ جب ہفتہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 165–167

یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر توریت کے احکام توڑدوگے تو یاد رکھو قیامت تک تمہیں عزت نصیب نہیں ہوگی، ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے۔ ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی۔ یہ بات خدائے تعالیٰ کی پوری ہو کر رہی۔ ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بہانے نکال کر مجرم ہوتے رہے۔ کہا جاتا ہے پہلے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر اخراج لگایا پھر اوروں نے جزیہ اور خراج لیا۔ پھر مسلمانوں کے زیر حکومت رہ کر برابر جزیہ اور خراج دیتے رہے جو کہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) جب یہودیوں نے فسق وفجور میں حد سے بڑھ کر تجاوز کیا اور ناصحین کی نصیحتوں کو بھی ٹھکرا دیا ، جب حجت تمام ہوچکی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعتوں کو مسخ کردیا جسم وروح میں تبدیلی پیدا ہوئی ، اور دنیا والوں کے لئے عبرت وموعظت کا سامان بن گئے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

166 پس جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ اس کام میں حد سے بڑھ گئے تو ہم نے ان کو کہا اور حکم دیا کہ تم ذلیل ہونے والے بندر ہوجائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منع کرنے والوں نے شکار کرنے والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھالی ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی دیوار پر سے دیکھا ہر گھر میں بندر وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت داروں کے پائوں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے آخر برے حال سے تین دن میں مرگئے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 164–166

ف 2۔ جب نصیحت کے موثر ہونے کی بالکل امید نہ ہو تو نصیحت کرنا واجب نہیں رہتا گوعالی ہمتی ہے پس قائلین لم تعظون نے بوجہ یاس کے عدم وجوب پر عمل کیا اور قائلین معذرة کو یا تو یاس نہیں ہوا یا عالی ہمتی کی شق کو اختیار کیا غرض دونوں مصیب تھے اور دونوں کی نجات پانے کا حضرت عکرمہ نے استنباط کیا اور ابن عباس نے پسند کرکے ان کو انعام بھی دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کی لعنت بد ترین عذاب ہے جس میں وہ مبتلا ہوئے : 189: کسی قوم یا جماعت پر اللہ کی لعنت اس عذاب سے بھی سخت چیز ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اس لئے کہ لعنت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قوم بظاہر زندہ رہتی ہے لیکن اس کی زندگی صرف ذلت و خواری کی ایک داستان عبرت ہوتی ہے اس بستی پر بھی اللہ کی ایسی لعنت برسی کہ وہ دیکھنے والوں کے لئے ایک نمونہ عبرت بن گئی یعنی ان کو بندر ذلیل بنا دیا گیا۔ رہی یہ بات بندر ہوجانے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا ان کی صورتیں بندروں کی سی ہوگئی تھیں یا دل ؟ آئمہ تفسیر میں بلا شبہ اس بات میں اختلاف ہے ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ مسخت قلوبھم ان کے دل مسخ ہوگئے تھے ( ابن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 163–166

The detailed discussion of the events contained in the above verses have been produced in Surah Al-Baqarah (under verses 58-60). Those interested may refer to those verses for details. The Holy Prophet ﷺ has been asked to warn the Israelites present in his time by reminding them the events related in these verses. The events referred to in these verses are clear and require no explanation.

Read the full tafseer →