Explained with ayahs 164–166
اصحاب سبت
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے ان کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے حوالوں سے مچھلی پکڑنے والا۔ دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہوجانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا نہ اس سے روکنے والا جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لئے ہیں رب کے غضب کیلئے تیار ہوگئے ہیں اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
سورة الْاَعْرَاف 125
اس بیان سے معلوم ہوا کہ اس بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الہٰی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرت ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان (اپنے ہمعصر یہودی) لوگوں سے (بطور تنبیہ کے) اس بستی (والوں) کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے (اور اس میں یہودی رہتے تھے جن کو ہفتہ کے روز شکار کرنا ممنوع تھا) اس وقت کا حال پوچھئے جب کہ وہ (وہ ان کے بسنے والے) ہفتہ (کے متعلق جو حکم تھا اس) کے بارے میں حد (شرعی) سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان (کے دریا) کی مچھلیاں (پانی سے سر نکال نکال) ظاہر ہو ہو کر (سطح دریا پر) ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں (بلکہ وہاں سے دور کہیں چلی جاتی تھیں اور وجہ اس کی یہ تھی کہ) ہم ان کی اس طرح پر (شدید) آزمائش کرتے تھے (کہ کون حکم پر…
Read the full tafseer →فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ۔ یعنی جب وہ تنبیہا جو انہیں کی گئی تھیں وہ بھلا بیٹھے اور کسی طرح سوچنے سمجھنے پر راضی نہ ہوئے تو اللہ نے ان کی اس نافرمانی و عہد شکنی کی پاداش میں ان پر ایک سخت عذاب بھیجا جس سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو لوگوں کو برائی سے روکنے والے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس طرح کی اجتماعی نافرمانیوں پر جب اللہ کا کوئی فیصلہ کن عذاب نازل ہوتا ہے تو اس کی پکڑ سے صرف وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں جو برائی سے روکنے والے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →165۔ 1 یعنی واعظ و نصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے۔
165۔ 2 یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنالیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپنا شیوہ اور وطیرہ بنالیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
82: دراصل ان لوگوں کے تین گروہ ہوگئے تھے، ایک گروہ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے تھا دوسرا گروہ شروع میں انہیں سمجھاتا رہا اور جب نہ مانے تو مایوس ہو کر بیٹھ گیا تیسرا گروہ مایوس ہونے کے بجائے بدستور انہیں نصیحت کرتا رہا، اب دوسرے گروہ نے تیسرے گروہ سے کہا جب یہ لوگ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے اس لئے ان کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔
83: يیہ تیسرے گروہ کا جواب ہے اور بڑا عارفانہ جواب ہے، انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی دو وجہیں بیان کیں، ایک یہ کہ ہمارے نصیحت کرتے رہنے کا پہلا مقصد تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →ان لوگوں کو یہ سخت سزا اس لیے دی گئی تھیں کہ یہ لوگ معصیت اور نافرمانی میں ڈوب گئے تھے اور قرآن نے اسے کفر سے تعیر کیا ہے۔ کبھی اسے ظلم کہا گیا ، کبھی فسق کہا گیا اور قرآن کریم میں بارہا یہ انداز اختیار کیا جاتا ہے کہ کفر اور شرک کو ظلم اور فسق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ انداز تعبیر اس فقہی اور قانونی انداز تعبیر سے مختلف ہے جو ازمنہ مابعد میں اختیار کیا گیا۔ لہذا قرآنی انداز تعبیر اس فقہی اصطلاح کا پابند نہیں ہے کیونکہ اصطلاحات کا تعین بعد میں ہوا اور یہ شدید عذاب کیا تھا ؟ یہ کہ آدمیون کی شکل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا ، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو مرتبہ انسانیت سے گرا دیا تھا ، اس…
Read the full tafseer →7 یعنی جب ان نالائقوں نے تمام نصیحتوں کو بالکل ایسا بھلا دیا گویا سنا ہی نہیں، تو ہم نے ناصحین کو بچا کر ظالمین کو سخت عذاب میں گرفتار کردیا۔ اَلَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّو ءِ کا عموم الفاظ دلالت کرتا ہے کہ جو نصیحت سے تھک کر لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْماً الخ کہنے لگے اور جنہوں نے اخیر تک سلسلہ وعظ و نصیحت کا جاری رکھا۔ ان دونوں کو نجات ملی۔ صرف ظالم پکڑے گئے۔ یہ ہی عکرمہ سے منقول ہے اور ابن عباس نے ان کے فہم کی داد دی ہے۔ باقی جو لوگ اول سے آخر تک بالکل ساکت رہے، خدا نے بھی ان کے ذکر سے سکوت فرمایا۔ ابن کثیر نے خوب لکھا ہے۔ فَنَصَّ عَلٰی نجاۃ الناہین وَہَلَاک الظَّالِمِیْنَ وَسَکَت عن الساکتین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
آیت 164 وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا نِ لا اللّٰہُ مُہْلِکُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ط
دوسرے گروہ کے لوگ تیسرے گروہ کے لوگوں سے کہتے کہ تم خواہ مخواہ اپنے آپ کو ان مجرموں کے لیے ہلکان کر رہے ہو۔ اب یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ اللہ کا عذاب اور تباہی ان کا مقدر بن چکی ہے۔
قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ
تیسرے گروہ کے لوگ جواب دیتے کہ اس طرح ہم اللہ کے سامنے عذر پیش کرسکیں گے کہ اے پروردگار ! ہم آخری وقت تک نافرمان لوگوں کو ان کی غلط حرکتوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے ‘ نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے رہے۔ ہم نہ صرف خود اس گناہ سے بچے رہے بلکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
168 یہ وہ لوگ تھے جو خود تو مچھلیاں پکڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں تھے مگر پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ کا عذاب آیا تو صرف وہ لوگ بچائے گئے جو خود بھی مچھلیاں نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتے رہے اور اس درمیانی گروہ کو محض اس لیے سزا ملی کہ وہ اس گناہ کے کام سے منع کیوں نہ کرتے تھے۔ گویا جیسے کوئی برائی کرنا جرم ہے ویسے ہی برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔
نہی عن المنکر کے متعلق احادیث نبوی :۔ 1۔ نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھ کر خاموش رہنے والوں کی…
Read the full tafseer →238 ۔ عذاب الہی کی یہ خصوصیت بار بار بیان کرنے کے قابل ہے (بار بار اس لیے کہ لوگ اسے بھول بھول جاتے ہیں) کہ اس گنہگار اور بےگناہ سب نہیں صرف گنہگار ہی مبتلا کئے جاتے ہیں (آیت) ” انجینا الذین ینھون عن السوٓء “۔ جو لوگ راہ ہدایت پر قائم رہے اور اس کی تلقین دوسروں کو کرتے رہے۔ وہ عذاب الہی سے محفوظ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–170
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز…
Read the full tafseer →فلما نسوا ما ذکروا بہ انجینا الذین ینہون عن السوء واخذنا الذین ظلموا بعذاب بیئس بما کانوا یفسقون : آخرجو بات ان کو سمجھائی جاتی تھی جب وہ اس کے تارک ہی رہے (یعنی نصیحت نہ مانی) تو ہم نے بری بات سے روکنے والوں کو تو بچا لیا اور جو لوگ بےجا حرکت کرتے تھے ان کی نافرمانی کی پاداش میں ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیا
Read the full tafseer →(165) غرض کہ ان لوگوں کی تین جماعتیں تھیں، ایک جماعت تو خود بھی شکار کرتی تھی اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتی تھی، اور دوسری جماعت نہ خود شکار کرتی تھی اور نہ ہی لوگوں کو اس سے روکتی تھی، تیسر جماعت خود بھی شکار نہیں کرتی تھی، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے منع کرتی تھی چناچہ پہلی شکاری جماعت کی شکلیں مسخ کردی گئیں اور بعد والی دونوں جماعتیں عذاب الہی سے بچ گئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ۔۔ : یعنی جب ہفتہ کی تعظیم کا حکم انھوں نے سرے سے بھلا ہی دیا اور حیلے سے بڑھ کر علانیہ نافرمانی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا اور ظلم کرنے والوں کو بہت سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اب بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے ایک عذاب بھیجا گیا، جیسا کہ یہاں ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ فرمایا ہے کہ شاید وہ باز آجائیں۔ (دیکھیے سورة سجدہ : 21) لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو اگلی آیت میں مذکور مسخ کی سزا دی گئی اور بعض نے فرمایا کہ ”بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ“ سے مراد یہی مسخ ہے، لیکن (وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 165
نسیان کا اطلاق بھولنے والاے پر ہوتا ہے۔ اور عامد کا اطلاق ترک کرنے والے پر، کیونک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلما نسوا ما ذکروا بہ یعنی انہوں نے اسے بالا رادہ ترک کر یا۔ اور اس معنی میں یہ ارشاد گرامی ہے : نسو اللہ فنسیھم (التوبہ : 67) ( انہوں نے بھلا دیا اللہ کو تو ان نے بھی فراموش کردیا ہے انہیں) اور بعذاب بئیس کا معنی ہے شدید عذاب۔ اور اس میں گیارہ قرائتیں ہیں : (1) ابو عمرو، حمزہ اور کسائی کی قراءت فعیل کے وزن پر بئیس ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 213) (2) اہل مکہ کی قراءت بئیس با کے کسرہ کے ساتھ ہے اور وزن ایک ہی ہے ( 3) اہل مدینہ کی قراءت بیس ہے یعنی با مسکور ہے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور وہ (یہ آیت) ” وسئلہم رن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “ پڑھ رہے تھے۔ فرمایا اے عکرمہ ! کیا تو جانتا ہے یہ بستی کو نسی تھی عرض کیا نہیں فرمایا وہ ایلہ تھی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ میں ” قریہ “ سے مراد طبریہ ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ سے مراد وہ بستی ہے جس کو مقناطیسی کہا جاتا ہے۔ مدین اور عینونا کے درمیان ہے۔
(4) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ فَلَمَّا : پھر جب ] [ نَسُوْا : وہ لوگ بھولے ] [ مَا : اس کو ] [ ذُكِّرُوْا : انہیں یاد دلایا گیا ] [ بِهٖٓ: جس سے ] [ اَنْجَيْنَا : تو ہم نے نجات دی ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جو ] [ يَنْهَوْنَ : منع کرتے تھے ] [ عَنِ السُّوْۗءِ : برائی سے ] [ وَاَخَذْنَا : اور ہم نے پکڑا ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جنہوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ : ایک سخت عذاب سے ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ : وہ لوگ نافرمانی کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
بنی اسرائیل کی آزمائش اور ان کی حُبِ دنیا کا حال
ان آیات میں اول تو یہودیوں کے اس حال کا تذکرہ فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں منتشر فرما دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں تھوڑے تھوڑے کچھ یہاں کچھ وہاں سکونت اختیار کرتے گئے۔ ان کی جمعیت اور جماعت منتشر رہی۔ اجتماعیت جو اللہ کا انعام ہے اس سے محروم رہے۔ پھر فرمایا (مِنْھُمُ الصَّالِحُوْنَ ) (ان میں کچھ لوگ نیک تھے) (وَ مِنْھُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ ) (اور کچھ لوگ دوسری طرح کے یعنی برے لوگ تھے) اچھے لوگ توریت اور انجیل پر قائم رہے اور پھر اللہ کے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب پر ایمان لائے اور برے لوگ شر پسند کفر پر جمے رہے اور اپنی اس شر پسندی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
قصہۂ اصحاب سبت
قال اللہ تعالیٰ وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر۔۔ الی۔۔۔ کونوا قردۃ خسئین
(ربط) گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بیان کیا اب ان آیات میں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی کفران نعمت اور ان کی سرکشی اور تمرد کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو یہود کو بخوبی معلوم ہے جس سے غرض یہ بتلانا ہے کہ احکام خداوندی سے دیدہ و دانستہ انحراف ان کی جبلی اور آبائی خصلت ہے جس کی ہمیشہ ان کو سزا ملتی رہی اور اسی وجہ سے ان کو بندر بنایا گیا اور انسانی صورت سے حیوانی صورت میں مسخ کیے گئے جو انتہائی ذلت ہے اور عبرتناک سزا ہے اور یہ قصہ داود (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
163: یہاں “ نَسُوْا ” بمعنی “ تَرَکُوْا ” ہے یعنی جب انہوں نے اپنی قوم کے صلحاء اور ناصحین کی پند و نصیحت کو چھوڑ دیا اور اس سے بالکلیہ اعراض کرلیا تو برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا مگر ان ظالموں کو جو سرکشی اور نافرمانی کرتے تھے دردناک عذاب سے پکڑ لیا۔ “ فَلَمَّا عَتَوْا ” جب وہ اللہ کی نافرمانی میں حد سے بڑھ گئے اور ان کا انکار ضد وعناد کی حد کو پہنچ گیا تو ہم نے ان کی شکلیں مسخ کردیں اور ان کو بندر بنا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ربط آیات
مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل صحرائے سینا میں آباد ہوئے اس صحرا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر طرح طرح کے انعامات کیے پینے کے لیے معجزانہ طور پر پانی کا انتظام کیا سائے کے لیے بادلوں کو بھیج دیا اور من وسلویٰ جیسی اعلیٰ خوراک مفت فراہم کی مگر ان لوگوں نے انعامات الٰہی کی قدر نہ کی اور اعلیٰ درجے کے کھانے کے بجائے ساگ پات ، دال ، لہن اور پیاز وغیرہ کا مطالبہ کیا اللہ نے فرمایا کہ اس بستی میں داخل ہوجائو وہاں کے باشندوں سے جہاد کرکے بستی پر قابض ہو جائو تو وہاں تمہیں مطلوب اشیاء کاشتکاری کے ذریعے حاصل ہوسکیں گی ان لوگوں نے جہاد کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی آئی اور یہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِہٖٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍؚ بَىِٕيْــسٍؚبِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ 165
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
ترکیب : اذیعدون حاضرۃ کا ظرف بھی ہوسکتا ہے یہ اصل یعتدون تھا اب اس کو مخفف بھی پڑھ سکتے ہیں اور مشدّد بھی۔ اذ تاتیہم ظرف ہے یعدون کا حیتان جمع حوت و کو ی سے بدل دیا گیا۔ شرعًا حال ہے حیتانہم سے یوم لایسبتون ظرف ہے لاتاتیہم کا معذرۃ مفعول ہے ای وعظنا للمعذرۃ۔
تفسیر : یہ قصہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں گذرا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد جبکہ بنی اسرائیل ملک شام میں آگئے اور یہاں کی سلطنت ان کی قوم میں ایک عرصہ سے قائم ہوگئی۔ یہ قصہ بھی سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔
عن القریۃ اس قریہ سے مراد وہ گائوں ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے جس کو علما مؤرخین ایلہ کہتے ہیں اور اس گائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
بنی اسرائیل کے سامنے ان کی تاریخ کا آئینہ
بنی اسرائیل کی مسلسل ناشکریوں اور نافرمانیوں کا بیان جاری ہے اور اسی سلسلہ میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو عبرت کے طور پر بنی اسرائیل میں معروف تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدیوں تک بنی اسرائیل نے کس طرح اللہ کی نافرمانیاں جاری رکھیں اور کس طرح ان پر اللہ کے عذاب آتے رہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر ان کے اجتماعی رویے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی چناچہ اس مشہور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔
وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کی دنیا پرستی اور اللہ تعالیٰ کی پرلے درجے کی نافرمانی کا ایک اور واقعہ۔
یہودی اس قدر دنیا پرست اور ناعاقبت اندیش قوم ہے کہ دنیا کے مقابلے میں ان کے نزدیک دین اور اخلاقی قدروں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اصحاب السّبت کا واقعہ یہودیوں کے ہاں ہمیشہ سے معروف رہا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھی سے استفسار فرمائیں کہ اس بستی کا کیا واقعہ اور معاملہ ہے ؟ جو سمندر کے کنارے واقع تھی جنھیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ ہفتہ کے دن کاروبار کرنے کی بجائے تمہیں صرف میری ہی عبادت کرنی چاہیے لیکن انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ جس کی…
Read the full tafseer →ترکِ نصیحت پر عذاب :
آیت 165: فَلَمَّا نَسُوْا (سو جب وہ بھول گئے) یعنی جب اہل قریہ نے چھوڑ دیا مَاذُکِّرُوْ ا بِہٖٓ (اس بات کو جس کے ذریعے ان کو نصیحت کی گئی تھی) جو صالحین نے ان کو نصیحت کی تھی۔ جیسا کہ بھولنے والا بھلائی ہوئی چیز کو چھوڑتا ہے۔ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْھَوْنَ عَنِ السُّوْٓئِ (نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو برائی سے روکتے تھے) سخت عذاب سے وَاَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (تو ہم نے پکڑ لیا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا) منکر کا ارتکاب کرنے والے اور وہ لوگ جو لم تعظون کہنے والے تھے وہ بھی نجات پانے والے تھے۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ دو جماعتیں عذاب سے بچ سکیں اور ایک گروہ…
Read the full tafseer →تفسیر 165 (فلما نسوا ما ذکروا بہ) یعنی جوان کو نصیحت کی گئی تھی اس کو چھوڑ دیا (انجیدالذین ینھون عن السوء واخدنا الذین ظلموا) یعنی نافرمان جماعت کو (بعذاب بئین) یعنی سخت تکلیف دینے والے میں الباس سے ہے یعنی سختی اس کی قرأت میں اختلاف ہے۔ اہل مدینہ اور ابن عامر نے (بئیس) باء کی زیر کے ساتھ فعل کے وزن پر پڑھا ہے مگر ابن عامر اس کو ہمزہ دیتے ہیں اور ابو جعفر اور نافع ہمزہ نہیں پڑھتے اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں باء کے زبر اور باء کے سکون کے ساتھ اور ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ فیصل کے وزن پر صیقل کی طرح اور دیگر حضرات نے فصیل کے وزن پر بصیر اور صغیر کی طرح پڑھا ہے (بما کانوا یقسقن) ابن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
(164 ۔ 166) ۔ اللہ پاک نے ان اصحاب سبت کا حال بیان فرمایا کہ اس قریہ میں تین فرقے ہوگئے ایک تو ہفتہ کے روز شکار کھیلتا تھا دوسرا فرقہ ان کو منع کرتا تھا تیسرا فرقہ وہ تھا کہ نہ شکار کرتا تھا اور نہ منع کرتا تھا ہاں منع کرنے والوں کو صرف یہ کہا کرتا تھا کہ بھائی تم کیوں ان لوگوں کو منع کرتے ہو ان کو اپنے حال میں رہنے دو غنقریب عذاب ان پر اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے ہلاک ہونے سے کبھی یہ بچ نہیں سکتے ہیں اللہ پاک نے ان کا حال بیان فرمایا کہ جو فرقہ منع کرتا تھا اس کو اللہ نے بچالیا اور جو لوگ ہفتہ کے دن شکار کرنے سے باز نہیں آتے تھے ان پر سخت عذاب نازل کیا ایک روز رات کو اپنے اپنے گھروں میں سوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →230 فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی ذریعہ نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے بچا لیا ان لوگوں کو جو روکتے تھے برائی سے کہ انہوں نے نہی عن المنکر کا فریضہ اداء کردیا تھا۔ اور خاموش رہنے والوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ بھی ہلاک ہوگئے تھے اور بعض کا کہنا ہے کہ وہ بچ گئے تھے۔ اور راحج یہی دوسرا قول ہے۔ ابن عباس ؓ پہلے تو اس بارے میں توقف فرماتے تھے مگر بعد میں انہوں نے اسی قول کو اختیار کیا۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی ذریعہ نجات اور باعث خیر و برکت ہے۔ اور اس کے مقابلے میں تذکیر و یاد دہانی اور مخلصوں کی طرف سے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–166
بنی اسرائیل کا بقیہ بیان
تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…
Read the full tafseer →ف 9 یہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صرف اہل معصیت ہی ہلاک ہوئے اور باقی دونوں گروہ بچ گئے جیسا کہ مروی ہے کہ جب حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے یہ خیال پیش کیا کہ سکوت اختیار کرتے تھے اور انہوں نے بھی ارتکاب کرنے والوں کی مخالفت کی تھی تو حضرت ابن عباس ؓ نے ان کو خلعت پہنایا اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ صرف وہی گروہ عذاب سے محفوظ رہا جو دوسروں کو منع کرتا تھا باقی سب ہلاک کر دئے گئے یہ قول بھی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور اسناد جید کے ساتھ ثابت ہے مگر پہلا قول اصح ہے چناچہ حافظ ابن کثیر حضرت ابن عباس کا یہ دوسرا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں ولکن رجوعہ الی قول عکرمتہ فی نجا ۃ ا الساکن او…
Read the full tafseer →(7:165) نسوا ماضی معروف جمع مذکر غائب نسیان مصدر (باب سمع) وہ بھول گئے۔ یعنی انہوں نے چھوڑ دیا (متذکرہ بالا پہلے گروہ کے افراد مراد ہیں) ۔ بئیس۔ شدید۔ سخت۔ بروزن فعیل۔ باس اور بؤس سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
تشریح آیات نمبر 163 تا 166
بنی اسرائیل کی زندگی کے مختلف پہلوئو کا ذکر فرمایا جار ہا ہے اسی میں سے یہ ایک واقعہ ہے جو انہیں ایلہ کے مقام پر پیش آیا۔۔۔۔ واقعہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کا قبیلہ جو ایلہ میں آباد تھا اور کا گذر بسر مچھلیوں پر تھا۔ اس قوم کو آزمانے کے لئے کہا گیا کہ تم ہر روز مچھلی کا شکار کرسکتے ہو۔ صرف ہفتہ کے دن تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے توریت کی بعض آیات سے بھی اس طرف اشارے ملتے ہیں کہ اسی وجہ سے یہودیوں نے ہفتہ کے دن ہر طرح کے کام کاج کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت ان کا محض امتحان تھا ان کو مزید آزمانے کے لیے اللہ نے یہ انتظام فرمایا کہ جب ہفتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر توریت کے احکام توڑدوگے تو یاد رکھو قیامت تک تمہیں عزت نصیب نہیں ہوگی، ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے۔ ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی۔ یہ بات خدائے تعالیٰ کی پوری ہو کر رہی۔ ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بہانے نکال کر مجرم ہوتے رہے۔ کہا جاتا ہے پہلے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر اخراج لگایا پھر اوروں نے جزیہ اور خراج لیا۔ پھر مسلمانوں کے زیر حکومت رہ کر برابر جزیہ اور خراج دیتے رہے جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
[64] اس بیان سے معلوم ہوا کہ صرف وہی گروہ عذاب سے بچایا گیا جس نے نافرمانی والے گروہ کو باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور اس طرح اللہ کے حضور اپنی برأت پیش کرنے کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ رہے وہ لوگ جو خلاف ورزی کو خاموشی سے بیٹھے دیکھ رہے تھے اور منع کرنے والوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے ظالموں میں شامل کیا اور نافرمان گروہ کے ساتھ وہ بھی مبتلائے عذاب ہوئے، کیونکہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہ ہے (جیسا کہ قرآن اور احادیث سے واضح ہے) کہ جس بستی میں علانیہ احکام الٰہی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
(ف 1) اہل کتاب میں ایک طبقہ بااحساس بھی تھا ، وہ ان کو منکرات کے ارتکاب سے روکتا اور وعظ ونصیحت سے سمجھانے کی کوشش کرتا ، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ، جو یاس وقنوط میں ڈوبے رہتے ہیں ، ان سے نہ خود کچھ ہوتا ہے اور نہ دوسرے کو کچھ کرنے دیتے ہیں ، چناچہ وہ کہتے بھلا ایسوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ ، جو بالکل ہلاکت کے کنارے کھڑے ہیں ، وہ جوابا کہتے ، محض فریضہ تبلیغ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اور ممکن ہے ان کے دلوں میں گداز پیدا ہو ، مقصد یہ ہے کہ بہرحال مبلغین اور اہل علم کو اپنے فرائض کو محسوس کرنا چاہئے ، یہ ضرور نہیں کہ ان کی کوششیں بار آور بھی ہوں ۔
Read the full tafseer →165 پھر جب ان ماہی گیروں نے ان تمام نصیحتوں کو جو ان کو کی گئی تھیں فراموش کردیا اور جملہ نصائح کو نظرانداز کردیا تو ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو اس بری بات یعنی ارتکاب جرم سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو نافرمان تھے ان کو ان کی اس نافرمانی کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ یعنی جو برابر سمجھاتے رہے اور جنہوں نے تھک کر سمجھانا چھوڑ دیا تھا یہ دونوں فریق بچ گئے۔ تیسرے کے ذکر سے حضرت حق نے سکوت فرمایا چوتھا فریق جو مجرم تھا اس کی گرفت کا ذکر فرمادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ف 2۔ جب نصیحت کے موثر ہونے کی بالکل امید نہ ہو تو نصیحت کرنا واجب نہیں رہتا گوعالی ہمتی ہے پس قائلین لم تعظون نے بوجہ یاس کے عدم وجوب پر عمل کیا اور قائلین معذرة کو یا تو یاس نہیں ہوا یا عالی ہمتی کی شق کو اختیار کیا غرض دونوں مصیب تھے اور دونوں کی نجات پانے کا حضرت عکرمہ نے استنباط کیا اور ابن عباس نے پسند کرکے ان کو انعام بھی دیا۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی اس آبادی پر عذاب مسلط ہوا تو وہی بچ سکے جو روکنے والے تھے :
188: اس معاملہ میں سنت الٰہی یہی ہے کہ جب کوئی قوم یا جماعت بد کرداری اور سر کشی میں مبتلا ہوتی ہے تو اللہ کا قانون یہ ہے کہ ان کو فوراََ ہی گرفت میں نہیں لے لیا جاتا بلکہ ان کو بتدریج مہلت ملتی رہتی ہے کہ اب باز آجائے ، اب سمجھ جائے اور اصلاح حال کرلے لکنف جب وہ قوم باجماعت آمادہ اصلاح نہیں ہوتی اور ان کی سر کشی و بد عملی ایک خاص حد تک پہنچ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت کا سخت پنجہ ان کو پکڑ لیتا ہے اور وہ بےیارو مدگار فنا کے گھاٹ اتار دئے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت یہاں کام کرتی رہی اور جب وہ تنبیہات جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
The detailed discussion of the events contained in the above verses have been produced in Surah Al-Baqarah (under verses 58-60). Those interested may refer to those verses for details.
The Holy Prophet ﷺ has been asked to warn the Israelites present in his time by reminding them the events related in these verses. The events referred to in these verses are clear and require no explanation.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
125. This shows that the people in that town were of three categories. One, those who flagrantly violated God's commands. Two, those who were silent spectators to such violations and discouraged those who admonished the criminals, pleading that their efforts were fruitless. Three, those who, moved by their religious commitment, actively enjoined good and forbade evil so that the evil-doers might make amends. In so doing, they were prompted by, a sense of duty, to bring back the evil-doers to the right path, and if the latter did not respond to their call, they would at least be able to…
Read the full tafseer →