Explained with ayahs 164–166
اصحاب سبت
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے ان کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے حوالوں سے مچھلی پکڑنے والا۔ دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہوجانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا نہ اس سے روکنے والا جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لئے ہیں رب کے غضب کیلئے تیار ہوگئے ہیں اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
سورة الْاَعْرَاف 125
اس بیان سے معلوم ہوا کہ اس بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الہٰی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرت ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان (اپنے ہمعصر یہودی) لوگوں سے (بطور تنبیہ کے) اس بستی (والوں) کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے (اور اس میں یہودی رہتے تھے جن کو ہفتہ کے روز شکار کرنا ممنوع تھا) اس وقت کا حال پوچھئے جب کہ وہ (وہ ان کے بسنے والے) ہفتہ (کے متعلق جو حکم تھا اس) کے بارے میں حد (شرعی) سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان (کے دریا) کی مچھلیاں (پانی سے سر نکال نکال) ظاہر ہو ہو کر (سطح دریا پر) ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں (بلکہ وہاں سے دور کہیں چلی جاتی تھیں اور وجہ اس کی یہ تھی کہ) ہم ان کی اس طرح پر (شدید) آزمائش کرتے تھے (کہ کون حکم پر…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس بستی کے لوگوں نے شقاوت کی یہ راہ سجھانے بجھانے والوں کے علی الرغم اختیار کی۔ یہ نہیں تھا کہ ان کو کوئی آگاہ کرنے والا نہیں تھا، اللہ کے ایسے بندے وہاں تھے جنہوں نے ان کو نہ صرف اس جرم سے روکنے کی کوشش کی بلکہ اس حد تک کوشش کی کہ ان کے اپنے ساتھیوں میں سے ایک جماعت نے اب مزید سمجھانے کو بالکل غیر مفید سمجھا اور یہ کہا کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے سے کیا حاصل جواب یا تو ہلاک ہونے والے ہیں یا کم از کم یہ کہ کسی شدید عذاب کی پکڑ میں آنے والے ہیں۔ لیکن اللہ کے ان بندوں نے اس نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کو یہ جواب دیا کہ ہمارا سمجھانے…
Read the full tafseer →164۔ 1 اس جماعت سے صالحین کی وہ جماعت مراد ہے جو اس حیلے کا ارتکاب بھی نہیں کرتی تھی اور حیلہ گروں کو سمجھا سمجھا کر ان کی اصلاح سے مایوس بھی ہوگئی تھی۔ تاہم کچھ اور لوگ بھی سمجھانے والے تھے جو انہیں واعظ و نصیحت کرتے تھے۔ صالحین کی یہ جماعت انہیں یہ کہتی کہ ایسے لوگوں کو واعظ و نصیحت کا کیا فائدہ جن کی قسمت میں ہلاکت و عذاب الٰہی ہے۔ یا اس جماعت سے وہی نافرمان اور تجاوز کرنے والے مراد ہیں۔ جب انکو وعظ کرنے والے نصیحت کرتے تو یہ کہتے کہ جب تمہارے خیال میں ہلاکت یا عذاب الہی ہمارا مقدر ہے تو پھر ہمیں کیوں وعظ کرتے ہو ؟ تو وہ جواب دیتے کہ ایک تو اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے تاکہ ہم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
82: دراصل ان لوگوں کے تین گروہ ہوگئے تھے، ایک گروہ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے تھا دوسرا گروہ شروع میں انہیں سمجھاتا رہا اور جب نہ مانے تو مایوس ہو کر بیٹھ گیا تیسرا گروہ مایوس ہونے کے بجائے بدستور انہیں نصیحت کرتا رہا، اب دوسرے گروہ نے تیسرے گروہ سے کہا جب یہ لوگ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے اس لئے ان کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔
83: يیہ تیسرے گروہ کا جواب ہے اور بڑا عارفانہ جواب ہے، انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی دو وجہیں بیان کیں، ایک یہ کہ ہمارے نصیحت کرتے رہنے کا پہلا مقصد تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →ان لوگوں کے خیال کے مطابق ان حیلہ سازوں کو وعظ و نصیحت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ اس کا فائدہ ہے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے لیے ہلاکت و بربادی کا فیصلہ کرلیا ہے اس لیے کہ انہوں نے احکام الٰہی کو مذاق بنایا ہے۔
لیکن منع کرنے والے گروہ نے جواب دیا کہ یہ ان پر ایک فریضہ ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور لوگوں کو انجام بد سے ڈرانا پیغمبروں کا فریضہ ہے اور اگر ہم نہ ادا کریں تو ہم قیامت میں معقول عذر پیش نہ کرسکیں گے۔ ایک تو یہ ہوگا کہ اللہ کے ہاں ہم سرخرو ہوں گے۔ دوسرے یہ امکان بھی ہے کہ شاید یہ لوگ راہ راست پر آجائیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہوجائے۔
یو اس ساحلی بستی کے لوگ تین…
Read the full tafseer →5 معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے حکم الٰہی کے خلاف حیلہ بازی شروع کی تو شہر کے باشندے کئی قسموں پر منقسم ہوگئے جیسا کہ عموماً ایسے حالات میں ہوا کرتا ہے۔ ایک وہ لوگ جنہوں نے اس حیلہ کی آڑ لے کر صریح حکم الٰہی کی خلاف ورزی کی۔ دوسرے نصیحت کرنے والے جو اخیر تک فہمائش اور امر بالمعروف میں مشغول رہے۔ تیسرے جنہوں نے ایک آدھ مرتبہ نصیحت کی پھر مایوس ہو کر اور ان کی سرکشی سے تھک کر چھوڑ دی۔ چوتھے وہ ہوں گے جو نہ اس عمل شنیع میں شریک ہوئے اور نہ منع کرنے کے لیے زبان کھولی، بالکل علیحدہ اور خاموش رہے۔ موخر الذکر دو جماعتوں نے انتھک نصیحت کرنے والوں سے کہا ہوگا کہ ان متمر دین کے ساتھ کیوں مغز زنی کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
آیت 164 وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا نِ لا اللّٰہُ مُہْلِکُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ط
دوسرے گروہ کے لوگ تیسرے گروہ کے لوگوں سے کہتے کہ تم خواہ مخواہ اپنے آپ کو ان مجرموں کے لیے ہلکان کر رہے ہو۔ اب یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ اللہ کا عذاب اور تباہی ان کا مقدر بن چکی ہے۔
قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ
تیسرے گروہ کے لوگ جواب دیتے کہ اس طرح ہم اللہ کے سامنے عذر پیش کرسکیں گے کہ اے پروردگار ! ہم آخری وقت تک نافرمان لوگوں کو ان کی غلط حرکتوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے ‘ نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے رہے۔ ہم نہ صرف خود اس گناہ سے بچے رہے بلکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
168 یہ وہ لوگ تھے جو خود تو مچھلیاں پکڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں تھے مگر پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ کا عذاب آیا تو صرف وہ لوگ بچائے گئے جو خود بھی مچھلیاں نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتے رہے اور اس درمیانی گروہ کو محض اس لیے سزا ملی کہ وہ اس گناہ کے کام سے منع کیوں نہ کرتے تھے۔ گویا جیسے کوئی برائی کرنا جرم ہے ویسے ہی برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔
نہی عن المنکر کے متعلق احادیث نبوی :۔ 1۔ نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھ کر خاموش رہنے والوں کی…
Read the full tafseer →236 ۔ (ان کے مسلسل جرائم کی پاداش میں) (آیت) ” اذ قالت امۃ “۔ یہ کہنے والے وہ لوگ تھے جو خود نیک کار تھے لیکن مجرموں کی اصلاح کی طرف سے مایوس ہوگئے تھے اور یہ کہا انہوں نے ان نیک کاروں سے جواب تک وعظ ونصیحت میں لگے ہوئے تھے۔
237 ۔ (اور اس خشیت الہی سے اپنی اصلاح کرلیں) (آیت) ” معذرۃ الی ربکم “۔ یعنی کم از کم اپنی صفائی تو ہم پیش ہی کردیں گے کہ ہم نے اپنی والی پند ونصیحت تو بہت کچھ کر ڈالی تھی، غرض یہ کہ ان مصلحین نے جواب دودیئے، ایک یہ کہ اپنے اوپر تو تلقین واتمام حجت کا بار نہ رہے۔ دوسرے یہ کہ شاید اب بھی یہ لوگ اصلاح قبول کرلیں، مفسرتھانوی (رح) نے فرمایا کہ جب نصیحت کے مؤثر ہونے کہ امید ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–170
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز…
Read the full tafseer →واذا قالت امۃ منہم لم تعظون قوما ان اللہ مہلکہم او معذبہم عذابا شدیدا قالوا معذرۃ الی ربکم ولعلہم یتقون۔ اور (اس وقت کا حال دریافت کرو) جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کئے جاتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہی ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے انہوں نے جواب دیا ‘ تمہارے رب کے سامنے عذر پیش کرنے کے لئے اور اس لئے بھی کہ شاید یہ پرہیزگار ہوجائیں۔
واذا قالت امۃ یعنی خاموش رہنے والے گروہ نے نصیحت کرنے والے اور (سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنے سے) روکنے والے گروہ سے کہا اللّٰہ مہلکہم یعنی جن کو اللہ دنیا میں ہلاک کرنے والا ہے یا آخرت میں سخت سزا دینے والا ہے۔…
Read the full tafseer →(164) ایک جماعت کہنے لگی کہ ہلاک ہونے والے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو، انہوں نے کہا تاکہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کرسکیں اور ممکن ہے کہ یہ لوگ ہفتہ کے روز مچھلیاں پکڑنے سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ۔۔ : یعنی اس بستی کے نیک لوگوں میں سے ایک گروہ نے ان لوگوں سے کہا جو اس حیلہ سازی سے شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے۔ جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ اس بستی کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے، ایک وہ ظالم جو اس حیلہ سازی سے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کرتے تھے۔ دوسرا گروہ وہ جو ان کو ایسا کرنے سے منع کرتا تھا اور تیسرا گروہ وہ جو خود اگرچہ نیک تھا لیکن دوسروں کو برائی سے منع نہیں کرتا تھا، پس یہاں ”اُمَّةٌ“ سے مراد یہی تیسرا گروہ ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ گروہ جو برائی سے منع کرنے والوں سے کہتا تھا کہ تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو، یہ بھی نیک لوگ تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
آیت نمبر : 163
قولہ تعالیٰ : آیت : وسئلھم عن القریۃ یعنی ان سے اس بستی والوں کا حال پوچھیں ( یعنی یہ اصل میں عن اھل القریۃ ہے) انہیں اس ( قریہ) سے تعبیر کیا گیا ہے یا تو اس لیے کہ وہ ان کی جائے استقرار تھی یا اس لیے کہ وہ ان کے اجتماع کا سبب تھی۔ اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : وسئل القریۃ التی کنا فیھا ( یوسف : 82) ( اور ( اگر آپ کو اعتبار نہ آئے تو) دریافت کیجئے بستی والوں سے جس میں ہم رہے) اور حضور ﷺ کا ارشاد ہے : اھتزالعرش لموت سعد بن معاد یعنی حضرت سعد ؓ کے آنے سے ملائکہ میں سے اہل عرش فرحت و انبساط کے ساتھ جھومنے لگے۔ آیت میں مراد یہ ہے جو یہود آپ کے پڑوس میں ہیں ان سے ان کے اسلاف کے حال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور وہ (یہ آیت) ” وسئلہم رن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “ پڑھ رہے تھے۔ فرمایا اے عکرمہ ! کیا تو جانتا ہے یہ بستی کو نسی تھی عرض کیا نہیں فرمایا وہ ایلہ تھی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ میں ” قریہ “ سے مراد طبریہ ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ سے مراد وہ بستی ہے جس کو مقناطیسی کہا جاتا ہے۔ مدین اور عینونا کے درمیان ہے۔
(4) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [ قَالَتْ : کہا ] [ اُمَّةٌ: ایک گروہ نے ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ لِمَ : کیوں ] [ تَعِظُوْنَ : تم لوگ وعظ کرتے ہو ] [ قَوْمَۨا : ایک ایسی قوم کو ،] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مُهْلِكُهُمْ : ہلاک کرنے والا ہے جن کو ] [ اَوْ : یا ] [ مُعَذِّبُهُمْ : عذاب دینے والا ہے ان کو ] [ عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک شدید عذاب ] [ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ مَعْذِرَةً : عذر پیش کرنے کے لیے ] [ اِلٰى رَبِّكُمْ : تمہارے رب کی طرف ] [ وَلَعَلَّهُمْ : اور شاید وہ لوگ ] [ يَتَّقُوْنَ : تقوی اختیار کریں ]
ع ذ ر : (ض ، ن) معذرۃ (1) کسی کو الزام سے بری کرنا ۔ عذر قبول کرنا ۔ (علی کے صلہ کے ساتھ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
بنی اسرائیل کی آزمائش اور ان کی حُبِ دنیا کا حال
ان آیات میں اول تو یہودیوں کے اس حال کا تذکرہ فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں منتشر فرما دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں تھوڑے تھوڑے کچھ یہاں کچھ وہاں سکونت اختیار کرتے گئے۔ ان کی جمعیت اور جماعت منتشر رہی۔ اجتماعیت جو اللہ کا انعام ہے اس سے محروم رہے۔ پھر فرمایا (مِنْھُمُ الصَّالِحُوْنَ ) (ان میں کچھ لوگ نیک تھے) (وَ مِنْھُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ ) (اور کچھ لوگ دوسری طرح کے یعنی برے لوگ تھے) اچھے لوگ توریت اور انجیل پر قائم رہے اور پھر اللہ کے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب پر ایمان لائے اور برے لوگ شر پسند کفر پر جمے رہے اور اپنی اس شر پسندی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
قصہۂ اصحاب سبت
قال اللہ تعالیٰ وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر۔۔ الی۔۔۔ کونوا قردۃ خسئین
(ربط) گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بیان کیا اب ان آیات میں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی کفران نعمت اور ان کی سرکشی اور تمرد کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو یہود کو بخوبی معلوم ہے جس سے غرض یہ بتلانا ہے کہ احکام خداوندی سے دیدہ و دانستہ انحراف ان کی جبلی اور آبائی خصلت ہے جس کی ہمیشہ ان کو سزا ملتی رہی اور اسی وجہ سے ان کو بندر بنایا گیا اور انسانی صورت سے حیوانی صورت میں مسخ کیے گئے جو انتہائی ذلت ہے اور عبرتناک سزا ہے اور یہ قصہ داود (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا جیسا کہ…
Read the full tafseer →162: ان لوگوں میں جماعتیں تھیں پہلی جماعت ہفتہ کے دن شکار کرتی تھی۔ دوسری جماعت ان کو اس سے منع کرتی تھی اور تیسری جماعت نہ شکار کرتی تھی اور نہ شکار کرنے والوں کو منع کرتی تھی بلکہ منع کرنے والوں سے بھی کہتی تھی کہ تم خوب جانتے ہو کہ اللہ ان کو ہلاک کرنے والا یا شدید عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔ اس لیے ان کو وعظ و نصیحت کر کے کیوں دماغ سوزی کرتے ہو۔ “ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰی رَبِّکُمْ ” تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو اللہ کے سامنے بطور معذرت ان کو اس فعل قبیح سے روکتے ہیں تاکہ نہی عن المنکر کا جو فریضہ ہمارے ذمہ ہے اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔ نیز ممکن ہے کہ وہ اس فعل سے باز آجائیں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ربط آیات
مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل صحرائے سینا میں آباد ہوئے اس صحرا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر طرح طرح کے انعامات کیے پینے کے لیے معجزانہ طور پر پانی کا انتظام کیا سائے کے لیے بادلوں کو بھیج دیا اور من وسلویٰ جیسی اعلیٰ خوراک مفت فراہم کی مگر ان لوگوں نے انعامات الٰہی کی قدر نہ کی اور اعلیٰ درجے کے کھانے کے بجائے ساگ پات ، دال ، لہن اور پیاز وغیرہ کا مطالبہ کیا اللہ نے فرمایا کہ اس بستی میں داخل ہوجائو وہاں کے باشندوں سے جہاد کرکے بستی پر قابض ہو جائو تو وہاں تمہیں مطلوب اشیاء کاشتکاری کے ذریعے حاصل ہوسکیں گی ان لوگوں نے جہاد کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی آئی اور یہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨاۙ اللہُ مُہْلِكُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا 0 ۭ قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ 164
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
ترکیب : اذیعدون حاضرۃ کا ظرف بھی ہوسکتا ہے یہ اصل یعتدون تھا اب اس کو مخفف بھی پڑھ سکتے ہیں اور مشدّد بھی۔ اذ تاتیہم ظرف ہے یعدون کا حیتان جمع حوت و کو ی سے بدل دیا گیا۔ شرعًا حال ہے حیتانہم سے یوم لایسبتون ظرف ہے لاتاتیہم کا معذرۃ مفعول ہے ای وعظنا للمعذرۃ۔
تفسیر : یہ قصہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں گذرا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد جبکہ بنی اسرائیل ملک شام میں آگئے اور یہاں کی سلطنت ان کی قوم میں ایک عرصہ سے قائم ہوگئی۔ یہ قصہ بھی سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔
عن القریۃ اس قریہ سے مراد وہ گائوں ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے جس کو علما مؤرخین ایلہ کہتے ہیں اور اس گائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
بنی اسرائیل کے سامنے ان کی تاریخ کا آئینہ
بنی اسرائیل کی مسلسل ناشکریوں اور نافرمانیوں کا بیان جاری ہے اور اسی سلسلہ میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو عبرت کے طور پر بنی اسرائیل میں معروف تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدیوں تک بنی اسرائیل نے کس طرح اللہ کی نافرمانیاں جاری رکھیں اور کس طرح ان پر اللہ کے عذاب آتے رہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر ان کے اجتماعی رویے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی چناچہ اس مشہور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔
وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کی دنیا پرستی اور اللہ تعالیٰ کی پرلے درجے کی نافرمانی کا ایک اور واقعہ۔
یہودی اس قدر دنیا پرست اور ناعاقبت اندیش قوم ہے کہ دنیا کے مقابلے میں ان کے نزدیک دین اور اخلاقی قدروں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اصحاب السّبت کا واقعہ یہودیوں کے ہاں ہمیشہ سے معروف رہا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھی سے استفسار فرمائیں کہ اس بستی کا کیا واقعہ اور معاملہ ہے ؟ جو سمندر کے کنارے واقع تھی جنھیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ ہفتہ کے دن کاروبار کرنے کی بجائے تمہیں صرف میری ہی عبادت کرنی چاہیے لیکن انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ جس کی…
Read the full tafseer →ثابت قدم لوگوں کی فہمائش :
آیت 164: وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْھُمْ (اور جبکہ ان کی ایک جماعت نے اس طرح کہا) اس کا اذیعدون پر عطف ہے اور جو اعراب اس کا ہے وہی اس کا ہے۔ صلحائے قریہ کی وہ جماعت جو ان کو نصیحت کر کے مایوسی کی حد تک پہنچ چکی تھی۔ اور ان کی طرف سے بہت تکالیف اور مشکلات بھی اٹھا چکی تھی دوسری جماعت کو کہنے لگی جو کسی صورت نصیحت سے علیحدگی اختیار کرنے کو تیار نہ تھی۔ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَانِ اللّٰہُ مُھْلِکُھُمْ اَوْمُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا (کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کیے جاتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ بالکل ہلاک کرنے والے ہیں یا ان کو سخت سزا دینے والے ہیں) انہوں نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
164 (واذ قالت امۃ منھم لم تعظون قوما اللہ مھلکھم) اس قول کے قائلین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ ہلاک ہونے والے فرقہ کے لوگ تھے کیونکہ جب ان کو کہا جاتا کہ تم اس برے عمل سے باز آ جائو عذاب آنے سے پہلے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کرنے والا ہے اگر تم باز نہ آئے تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ تم کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جن کو اللہ چاہتا ہے کہ ہلاک کرے (او معدبھم عذاباً شدیداً ط قالوا) ای منع کرنے والے کہنے لگے (معلبوۃ الی ربکم) یعنی ہم یہ کام اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت کرنے کے لئے کر رہے ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ یہ ساکن فرقہ کا قول ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ تم ایسی قوم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
(164 ۔ 166) ۔ اللہ پاک نے ان اصحاب سبت کا حال بیان فرمایا کہ اس قریہ میں تین فرقے ہوگئے ایک تو ہفتہ کے روز شکار کھیلتا تھا دوسرا فرقہ ان کو منع کرتا تھا تیسرا فرقہ وہ تھا کہ نہ شکار کرتا تھا اور نہ منع کرتا تھا ہاں منع کرنے والوں کو صرف یہ کہا کرتا تھا کہ بھائی تم کیوں ان لوگوں کو منع کرتے ہو ان کو اپنے حال میں رہنے دو غنقریب عذاب ان پر اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے ہلاک ہونے سے کبھی یہ بچ نہیں سکتے ہیں اللہ پاک نے ان کا حال بیان فرمایا کہ جو فرقہ منع کرتا تھا اس کو اللہ نے بچالیا اور جو لوگ ہفتہ کے دن شکار کرنے سے باز نہیں آتے تھے ان پر سخت عذاب نازل کیا ایک روز رات کو اپنے اپنے گھروں میں سوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →229 وعظ و نصیحت برائے ازالہ عذر وقطع حجت : سو ان نصیحت کرنے والوں نے ان کی نصیحت کے بارے میں کہا کہ ہم ان کو یہ نصیحت اس لیے کرتے ہیں تاکہ رب تعالیٰ کے یہاں معذرت پیش کرسکیں یعنی تاکہ اس کے یہاں نہی عن المنکر میں کوتاہی کے مرتکب نہ قرار پائیں۔ اور اس کے نتیجے میں اس کی گرفت و پکڑ کے حق دار نہ بن جائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی کل قیامت کے یوم حساب میں اگر مالک نے ہم سے پوچھا کہ جب تمہارے درمیان اور تمہارے سامنے برائی ہو رہی تھی تو تم نے اس کو روکا کیوں نہیں تو ہم اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں عرض کریں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا تھا مگر ان لوگوں نے نہیں مانا تھا۔ سو اس وقت یہ لوگ ایسا کوئی عذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–166
بنی اسرائیل کا بقیہ بیان
تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اس بستی کے نیک لوگوں میں سے ایک گروہ نے ان لوگوں سے کہا جو اس حیلہ سازی سے شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے جمہور مفسرین (رح) کا خیال ہے کہ اس بستی کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے ایک ظالم جو حیلہ سازی سے ہفتہ کے دن مجھلیوں کا شکار کرتے تھے، دوسرا گروہ جو ان کے ایسا کرنے سے منع کا شکار کرتے تھے، دوسرا گروہ وہ جو ان کی ایسا کرن سے منع کرتا تھا اور تیسرا گروہ وہ جو خود اگرچہ نیک تھا لیکن دوسروں کو برائی سے منع نہیں کرتا تھا۔ پس یہاں امتہ سے مراد یہی تیسرا گروہ ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی کیوں ان کے سمجھانے میں وقت ضائع کرتے ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں…
Read the full tafseer →(7:164) امۃ منھم۔ ان میں سے کا ایک گروہ۔ ایک جماعت۔ سنیچر کے دن مچھلیوں کے شکار نہ کرنے کے متعلق اس بستی کی آبادی تین مختلف الخیال گروہوں میں بٹ گئی۔
ایک گروہ کھلم کھلا نافرمانی کا مرتکب تھا۔ اور بےدھڑک اس روز شکار کرتا تھا۔
دوسرا گروہ خود تو شکار کرنے کے حق میں نہ تھا اور نہ شکار کرتا تھا ۔ لیکن شکار کرنے والوں کو روکتا بھی نہ تھا۔
تیسرا گروہ نہ صرف شکار سے اجتناب کرتا تھا بلکہ شکار کرنے والوں کو اس حکم عدولی سے منع بھی کرتا تھا۔
لم تعظمون۔ تم کیوں نصیحت کرتے ہو۔ وعظ سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ یہاں مخاطب تیسر اگر وہ ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے اور متکلم دوسرا گروہ ہے۔
معذرۃ الی ربکم۔ سوال کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
تشریح آیات نمبر 163 تا 166
بنی اسرائیل کی زندگی کے مختلف پہلوئو کا ذکر فرمایا جار ہا ہے اسی میں سے یہ ایک واقعہ ہے جو انہیں ایلہ کے مقام پر پیش آیا۔۔۔۔ واقعہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کا قبیلہ جو ایلہ میں آباد تھا اور کا گذر بسر مچھلیوں پر تھا۔ اس قوم کو آزمانے کے لئے کہا گیا کہ تم ہر روز مچھلی کا شکار کرسکتے ہو۔ صرف ہفتہ کے دن تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے توریت کی بعض آیات سے بھی اس طرف اشارے ملتے ہیں کہ اسی وجہ سے یہودیوں نے ہفتہ کے دن ہر طرح کے کام کاج کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت ان کا محض امتحان تھا ان کو مزید آزمانے کے لیے اللہ نے یہ انتظام فرمایا کہ جب ہفتہ…
Read the full tafseer →تین فرقوں کا ذکر اور یہود کی بربادی اور بندروں کی صورت میں بدلنا
اللہ تعالیٰ نے ان صحاب سبت کا حال بیان فرمایا کہ جو اس قریہ میں تین فرقے ہوگئے : (1) ایک تو ہفتہ کے روز شکار کھیلتا۔ (2) دوسرا منع کرتا۔ (3) تیسرا نہ منع کرتا نہ کھیلتا۔ ہاں منع کرنے والوں کو یہ کہتا کہ تم کیوں منع کرتے ہو ان کو اپنے حال پر رہنے دو ۔ عنقریب عذاب ان پر اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے، ہلاک ہونے سے کبھی یہ بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا کہ جو فرقہ منع کرتا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا، اور جو لوگ ہفتہ کے دن شکار کرنے سے باز نہیں آتے تھے، ان پر سخت عذاب نازل کیا گیا۔ ایک روز رات کو اپنے گھروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
[64] اس بیان سے معلوم ہوا کہ صرف وہی گروہ عذاب سے بچایا گیا جس نے نافرمانی والے گروہ کو باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور اس طرح اللہ کے حضور اپنی برأت پیش کرنے کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ رہے وہ لوگ جو خلاف ورزی کو خاموشی سے بیٹھے دیکھ رہے تھے اور منع کرنے والوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے ظالموں میں شامل کیا اور نافرمان گروہ کے ساتھ وہ بھی مبتلائے عذاب ہوئے، کیونکہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہ ہے (جیسا کہ قرآن اور احادیث سے واضح ہے) کہ جس بستی میں علانیہ احکام الٰہی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
(ف 1) اہل کتاب میں ایک طبقہ بااحساس بھی تھا ، وہ ان کو منکرات کے ارتکاب سے روکتا اور وعظ ونصیحت سے سمجھانے کی کوشش کرتا ، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ، جو یاس وقنوط میں ڈوبے رہتے ہیں ، ان سے نہ خود کچھ ہوتا ہے اور نہ دوسرے کو کچھ کرنے دیتے ہیں ، چناچہ وہ کہتے بھلا ایسوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ ، جو بالکل ہلاکت کے کنارے کھڑے ہیں ، وہ جوابا کہتے ، محض فریضہ تبلیغ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اور ممکن ہے ان کے دلوں میں گداز پیدا ہو ، مقصد یہ ہے کہ بہرحال مبلغین اور اہل علم کو اپنے فرائض کو محسوس کرنا چاہئے ، یہ ضرور نہیں کہ ان کی کوششیں بار آور بھی ہوں ۔
Read the full tafseer →164 اور ان سے اس وقت کا حال بھی دریافت کیجئے جب ان میں سے ایک جماعت نے جو ان ماہی گیروں کو سمجھاتے سمجھاتے تنگ آگئی تھی اور آخر کار اس نے مایوس ہوکر سمجھانا اور نصیحت کرنا چھوڑ دیا تھا ان لوگوں سے کہا جو ان کو برابر سمجھانے اور نصیحت کرنے میں شغول تھے کہ آخر تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کئے جاتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو کسی سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے ان نصیحت کرنے والوں اور سمجھانے والوں نے جواب دیا اس لئے ہم ان کو سمجھاتے ہیں کہ تمہارے پروردگار کے روبرو اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکیں اور نیز اس توقع پر کہ شاید یہ باز آجائیں اور ہفتہ کے دن شکار کرنا چھوڑ دیں۔
یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ف 2۔ جب نصیحت کے موثر ہونے کی بالکل امید نہ ہو تو نصیحت کرنا واجب نہیں رہتا گوعالی ہمتی ہے پس قائلین لم تعظون نے بوجہ یاس کے عدم وجوب پر عمل کیا اور قائلین معذرة کو یا تو یاس نہیں ہوا یا عالی ہمتی کی شق کو اختیار کیا غرض دونوں مصیب تھے اور دونوں کی نجات پانے کا حضرت عکرمہ نے استنباط کیا اور ابن عباس نے پسند کرکے ان کو انعام بھی دیا۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی اس بستی کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے :
187: اس آیت نے یہ سبق دیا کہ کوئی حق کو قبول کرے یا نہ کرے حق کے داعی کا فرض ہے کہ موعظت حق سے باز نہ رہے چناچہ سبت کی بےحرمتی پر ان ہی میں سے بعض اہل حق نے ان کو سمجھایاتو بعض نے یہ بھی کہا کہ یہ ماننے والے نہیں ان کو سمجھانا بیکار ہے مگر پختہ کار داعین حق نے جواب دیا کہ قیامت کے روز اللہ کے سامنے ہم معذرت تو کرسکیں گے کہ ہم حق کی تبلیغ برابر کرتے رہے اور ہم کو غیب کا کیا علم ؟ کیا عجب ہے کہ یہ لوگ پرہیز گار بن جائیں ؟ اس طرح یہ لوگ مستقل تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک حیلہ جو ، جو ہفتہ کے روز شکار کی ممانعت کے باعث شکار نہ کھیلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
The detailed discussion of the events contained in the above verses have been produced in Surah Al-Baqarah (under verses 58-60). Those interested may refer to those verses for details.
The Holy Prophet ﷺ has been asked to warn the Israelites present in his time by reminding them the events related in these verses. The events referred to in these verses are clear and require no explanation.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
125. This shows that the people in that town were of three categories. One, those who flagrantly violated God's commands. Two, those who were silent spectators to such violations and discouraged those who admonished the criminals, pleading that their efforts were fruitless. Three, those who, moved by their religious commitment, actively enjoined good and forbade evil so that the evil-doers might make amends. In so doing, they were prompted by, a sense of duty, to bring back the evil-doers to the right path, and if the latter did not respond to their call, they would at least be able to…
Read the full tafseer →