تصدیق رسالت سے گریزاں یھودی علماء
پہلے آیت (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـــِٕيْنَ 65ۚ) 2۔ البقرة :65) گذر چکی ہے اسی واقعہ کا تفصیلی بیان اس آیت میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنے زمانے کے یہودیوں سے ان کے پہلے باپ دادوں کی بابت سوال کیجئے جنہوں نے اللہ کے فرمان کی مخالفت کی تھی پس ان کی سرکشی اور حیلہ جوئی کی وجہ سے ہماری اچانک پکڑ ان پر مسلط ہوئی۔ اس واقعہ کو یاد دلا کہ یہ بھی میری ناگہانی سزا سے ڈر کر اپنی اس ملعون صفت کو بدل دیں اور آپ کے جو اوصاف ان کی کتابوں میں ہیں…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 122
محققین کا غالب میلان اس طرف ہے کہ یہ مقام ایلہ یا ایلات یا ایلوت تھا جہاں اب اسرائیل کی یہودی ریاست نے اسی نام کی ایک بندرگاہ بنائی ہے اور جس کے قریب ہی اردن کی مشہور بندرگاہ عَقَبہ واقع ہے۔ اس کی جائے وقوع بحر قلزم کی اس شاخ کے انتہائی سرے پر پے جو جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی اور عرب کے مغربی ساحل کے درمیان ایک لمبی خلیج کی صورت میں نظر آتی ہے۔ بنی اسرائیل کے زمانہ عروج میں یہ بڑا اہم تجارتی مرکز تھا۔ حضرت سلیمان نے اپنے بحر قلزم کے جنگی و تجارتی بیڑے کا صدر مقام اسی شہر کو بنایا تھا۔
جس واقعہ کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے اس کے متعلق یہودیوں کی کتب مقدسہ میں کوئی ذکر ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان (اپنے ہمعصر یہودی) لوگوں سے (بطور تنبیہ کے) اس بستی (والوں) کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے (اور اس میں یہودی رہتے تھے جن کو ہفتہ کے روز شکار کرنا ممنوع تھا) اس وقت کا حال پوچھئے جب کہ وہ (وہ ان کے بسنے والے) ہفتہ (کے متعلق جو حکم تھا اس) کے بارے میں حد (شرعی) سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان (کے دریا) کی مچھلیاں (پانی سے سر نکال نکال) ظاہر ہو ہو کر (سطح دریا پر) ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں (بلکہ وہاں سے دور کہیں چلی جاتی تھیں اور وجہ اس کی یہ تھی کہ) ہم ان کی اس طرح پر (شدید) آزمائش کرتے تھے (کہ کون حکم پر…
Read the full tafseer →وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘاِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ ڔ كَذٰلِكَ ڔ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۔
یہ جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کا ذکر بقرہ آیت 65۔ 66 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں ہم صرف ان چیزوں پر روشنی ڈالیں گے جو وہاں بیان نہیں ہوئیں ہیں۔ وسئلھم کا اسلوب زجر و توبیخ کا ظاہر کر رہا ہے۔ ھم سے مراد یہود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی تمام کرتوتوں کے باوجود جو بیان ہوئیں اپنی پاکی و برتری کے زعم سے باز نہیں آتے…
Read the full tafseer →163۔ 1 وسئلہم میں (ھم) ضمیر سے مراد یہود ہیں۔ یعنی ان سے پوچھئے اس میں یہودیوں کو یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اس واقعے کا علم نبی کریم ﷺ کو بھی ہے جو آپ ﷺ کی صداقت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے وحی کے بغیر آپ ﷺ کو اس واقعے کا علم نہیں ہوسکتا تھا۔ (2) اس بستی کی تعیین میں اختلاف ہے کوئی اس کا نام ایلہ کوئی طبریہ کوئی ایلیا اور کوئی شام کی کوئی بستی جو سمندر کے قریب تھی۔ بتلاتا ہے۔ مفسرین کا زیادہ رجحان ایلہ کی طرف ہے جو مدین اور کوہ طور کے درمیان دریائے قلزم کے ساحل پر تھی۔
(3) حیتان حوت (مچھلی کی جمع ہے۔ شرعا شارع کی جمع ہے۔ معنی ہیں پانی کے اوپر ابھر ابھر کر آنے والیاں۔ یہ یہودیوں کے اس…
Read the full tafseer →80: یہ واقعہ بھی اختصار کے ساتھ سورة بقرہ (2۔ 65، 66) میں گزرا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ سنیچر کو عربی اور عبرانی زبان میں سبت کہتے ہیں، یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا، جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں، جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے، اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے، سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑ نا ان کے لئے ناجائز تھا، مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کرکے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی، اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں، کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے، بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کرکے…
Read the full tafseer →اب پھر بنی اسرائیل معصیت اور سرکشی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس بار وہ کھلے بندے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہیں کر رہے بلکہ تاویل سے کام لے رہے اور احکام سے گلو خلاصی کر رہے ہیں۔ جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو صبر نہیں کرتے کیونکہ ابتلاء اور مشکلات پر وہ لوگ صبر کرتے ہیں جن کی طبیعت سنجیدہ ہو اور جو ذاتی خواہشات اور ہر قسم کی لالچ کے مقابلے میں ضبط رکھتے ہوں۔
۔۔
یہاں قرآن نے بنی اسرائیل کے احوال ماضی کے بیان کو چھوڑ کر ، اب ان بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا ہے جو سابقہ بنی اسرائیل کی اولاد تھے اور حضور کے دور میں موجود تھے۔ یہ لوگ مدینہ میں بھی تھے۔ یہ آیات آیت واذ نتقنا الجبل فوقہم تک مدنی…
Read the full tafseer →3 یعنی اپنے زمانہ کے یہود سے بطور تنبیہ و توبیخ اس بستی میں رہنے والے یہود کا قصہ دریافت کیجئے جو داؤد (علیہ السلام) کے عہد میں پیش آیا۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس بستی سے شہر " اَیلَہ " مراد ہے جو بحر قلزم کے کنارے مدین اور طور کے درمیان واقع تھا وہاں کے لوگ دریا کے قرب کی وجہ سے مچھلی کے شکار کی عادت رکھتے تھے۔
4 حق تعالیٰ نے یہود پر ہفتہ کے دن شکار کرنا حرام کیا تھا۔ باشندگان " ایلہ " کو عدول حکمی اور نافرمانی کی عادت تھی۔ خدا کی طرف سے سخت آزمائش ہونے لگی کہ ہفتہ کے دن دریا میں مچھلیوں کی بیحد کثرت ہوتی۔ جو سطح دریا کے اوپر تیرتی تھیں۔ باقی دنوں میں غائب رہتیں۔ ان لوگوں سے صبر نہ ہوسکا صریح…
Read the full tafseer →آیت 163 وََسْءَلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ 7
اب یہ اصحاب سبت کا واقعہ آ رہا ہے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بستی اس مقام پر واقع تھی جہاں آج کل ایلات کی بندر گاہ ہے۔ 1966 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مصر نے اسی بندرگاہ کا گھیراؤ کیا تھا ‘ جس کے خلاف اسرائیل نے شدید ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے مصر ‘ شام اور اردن پر حملہ کر کے ان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ مصر سے جزیرہ نمائے سینا ‘ شام سے جولان کی پہاڑیاں اور اردن سے پورا مغربی کنارہ ‘ جو فلسطین کا زرخیز ترین علاقہ ہے ‘ ہتھیا لیا تھا۔ بہر حال ایلات کی اس بندرگاہ کے علاقے میں مچھیروں کی وہ بستی آباد تھی جہاں…
Read the full tafseer →167 یعنی ذرا یہود مدینہ سے سبت والوں کی بات تو پوچھئے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ قصہ ان میں بڑا مشہور و معروف تھا اور بروایت تواتر چلا آ رہا تھا۔ جس سے یہود انکار نہیں کرسکتے تھے یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جس کا بجا لانا آپ کے لیے ضروری ہو یا فی الواقع آپ نے یہود سے پوچھا ہو اس واقعہ کی تفصیل بھی پہلے سورة بقرہ کی آیت 65 کے حواشی میں گزر چکی ہے اور اس قصہ کو یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ جتلانا ہے کہ یہ یہود نسلاً بعد نسل سرکش اور نافرمان چلے آ رہے ہیں۔ سرکشی اور نافرمانی ان کی رگ رگ میں رچی ہوئی ہے۔ لہذا ان کی اسلام دشمن سرگرمیاں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے کچھ تعجب نہ ہونا چاہیے۔
رہی یہ بات…
Read the full tafseer →233 ۔ (اے پیغمبر) (آیت) ” وسئلھم “۔ میں ضمیر عہد رسول ﷺ کے معاصر یہود کی طرف ہے۔ ای واسئل الیہود الذین ھم جیرانک عن اخبار اسلافھم (قرطبی) (آیت) ” القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “۔ حاشیے سورة البقرہ پارۂ اول رکوع 7 میں گزر چکے۔ (آیت) ” عن القریۃ “۔ القریہ سے مراد اھل القریۃ ہیں۔ ای عن اھل القریۃ (قرطبی)
234 ۔ (بلکہ وہاں سے کہیں اور نکل جاتیں) (آیت) ” حیتانھم “۔ یعنی ان کے سمندر کی مچھلیاں۔ (آیت) ” تاتیھم۔۔۔ شرعا “۔ یعنی وہ مچھلیاں سطح آب پر پانی سے سرنکال نکال کرنمودار ہوجاتی تھیں، اے شوارع ظاہرۃ علی الماء کثیرۃ (قرطبی)
235 ۔ یعنی اس سخت آزمائش میں وہ اسی لئے ڈالے گئے کہ وہ نافرمانیاں پہلے کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–170
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز…
Read the full tafseer →وسئلہم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر اذ یعدون فی السبت اذ تاتیہم حیتانہم یوم سبتہم شرعا ویوم لا یسبتون لا تاتیہم کذلک نبولہم بما کانوا یفسقون اور آپ ان
(یہودیوں) سے اس بستی کے متعلق دریافت کریں جو سمندر (بحر شور) کے کنارے آباد تھی جب کہ وہ سنیچر کے دن کے (احکام کے) بارے میں حد شرعی سے نکل رہے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ سنیچر کے دن سمندر کی مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آجاتی تھیں اور سنیچر نہ ہوتا تھا تو نہ آتی تھیں ہم اسی طرح ان کی آزمائش کرتے تھے کیونکہ وہ (پہلے سے) بےحکمی کیا کرتے تھے۔
واسئلہم یعنی اے محمد یہودیوں سے دریافت کرو یہودیوں سے اقرار کرانے اور کفر و معصیت پر تنبیہ کرنے…
Read the full tafseer →(163) محمد ﷺ آپ ان یہود سے بستی والوں کے متعلق بھی پوچھیے، کہ ہفتہ کے روز مچھلیاں پکڑنے میں شرعی حدود سے تجاوز کرتے تھے، اس دن پانی کی تہہ سے کنارا پر بہت زیادہ مچھلیاں آتی تھیں ان کی نافرمانیوں کے باعث اس طرح ان کی آزمایش کی گئی تھی۔
Read the full tafseer →وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ۔۔ : اس واقعہ کا انداز بیان پچھلی آیات سے ذرا مختلف ہے، فرمایا، ان سے اس بستی کے بارے میں پوچھیے، کیونکہ تورات یا کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں تھا مگر یہودیوں کو یہ واقعہ خوب معلوم تھا اور وہ اپنے دوسرے عیوب کی طرح اسے بھی چھپاتے تھے۔ جب آپ پوچھیں گے تو انھیں ضرور سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ اس واقعہ کی خبر آپ تک کیسے پہنچی، وحی کے سوا کوئی اور ذریعہ اس کے لیے ممکن نہیں، اس لیے لامحالہ انھیں آپ کے نبی الٰہی ہونے کی ایک اور شہادت مل جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے صرف یہ بتایا ہے کہ وہ بستی سمندر کے کنارے آباد تھی اور نصیحت کے لیے اتنا بتانا ہی کافی تھا۔ البتہ اکثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
آیت نمبر : 163
قولہ تعالیٰ : آیت : وسئلھم عن القریۃ یعنی ان سے اس بستی والوں کا حال پوچھیں ( یعنی یہ اصل میں عن اھل القریۃ ہے) انہیں اس ( قریہ) سے تعبیر کیا گیا ہے یا تو اس لیے کہ وہ ان کی جائے استقرار تھی یا اس لیے کہ وہ ان کے اجتماع کا سبب تھی۔ اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : وسئل القریۃ التی کنا فیھا ( یوسف : 82) ( اور ( اگر آپ کو اعتبار نہ آئے تو) دریافت کیجئے بستی والوں سے جس میں ہم رہے) اور حضور ﷺ کا ارشاد ہے : اھتزالعرش لموت سعد بن معاد یعنی حضرت سعد ؓ کے آنے سے ملائکہ میں سے اہل عرش فرحت و انبساط کے ساتھ جھومنے لگے۔ آیت میں مراد یہ ہے جو یہود آپ کے پڑوس میں ہیں ان سے ان کے اسلاف کے حال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور وہ (یہ آیت) ” وسئلہم رن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “ پڑھ رہے تھے۔ فرمایا اے عکرمہ ! کیا تو جانتا ہے یہ بستی کو نسی تھی عرض کیا نہیں فرمایا وہ ایلہ تھی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ میں ” قریہ “ سے مراد طبریہ ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وسئلہم عن القریۃ “ سے مراد وہ بستی ہے جس کو مقناطیسی کہا جاتا ہے۔ مدین اور عینونا کے درمیان ہے۔
(4) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ وَسْــــَٔـلْهُمْ : اور آپ پوچھیے ان سے ] [ عَنِ الْقَرْيَةِ : اس بستی کے بارے میں ] [ الَّتِيْ : جو ] [ كَانَتْ : تھی ] [ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘ: سمندر کی بستی ] [ اِذْ : جب ] [ يَعْدُوْنَ : وہ لوگ حد سے بڑھے ] [ فِي السَّبْتِ : ہفتہ (کے حکم ) میں ] [ اِذْ : جب ] [ تَاْتِيْهِمْ : پہنچتی تھیں ان کے پاس ] [ حِيْتَانُهُمْ : ان کی مچھلیاں ] [ يَوْمَ سَبْتِهِمْ : ان کے ہفتہ کے دن ] [ شُرَّعًا : تیرتی ہوئی ] [ وَّيَوْمَ : اور جس دن ] لَا يَسْبِتُوْنَ ۙ : ہفتہ کا دن نہ ہوتا ] [ لَا تَاْتِيْهِمْ ڔ : وہ نہیں آتی تھیں ان کے پاس ] [ كَذٰلِكَ ڔ : اس طرح ] [ نَبْلُوْهُمْ : ہم نے آزمایا ان کو ] [ بِمَا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
سنیچر کے دن یہودیوں کا زیادتی کرنا اور بندر بنایا جانا
بنی اسرائیل کی حرکتیں بھی بہت بری تھیں ان کا نافرمانی کا مزاج تھا۔ ان پر آزمائش بھی طرح طرح سے آتی رہتی تھی، حکم تھا کہ سنیچر کے دن کی تعظیم کریں ان دنوں سے متعلق جو احکام تھے ان میں یہ بھی تھا کہ اس دن مچھلیاں نہ پکڑیں۔ لیکن یہ لوگ باز نہ آئے سنیچر کے دن ان کی آزمائش اس طرح ہوتی تھی کہ مچھلیاں خوب ابھر ابھر کر سامنے آجاتی تھیں اور دوسرے دنوں میں اس طرح نہیں آتی تھیں۔ ان لوگوں نے مچھلیوں کے پکڑنے کے حیلے نکالے اور یہ کہا کہ سنیچر کا دن آنے سے پہلے جال اور مچھلی کے کانٹے پہلے سے پانی میں ڈال دیتے تھے۔ چناچہ مچھلیاں ان میں پھنس کر رہ جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
قصہۂ اصحاب سبت
قال اللہ تعالیٰ وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر۔۔ الی۔۔۔ کونوا قردۃ خسئین
(ربط) گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بیان کیا اب ان آیات میں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی کفران نعمت اور ان کی سرکشی اور تمرد کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو یہود کو بخوبی معلوم ہے جس سے غرض یہ بتلانا ہے کہ احکام خداوندی سے دیدہ و دانستہ انحراف ان کی جبلی اور آبائی خصلت ہے جس کی ہمیشہ ان کو سزا ملتی رہی اور اسی وجہ سے ان کو بندر بنایا گیا اور انسانی صورت سے حیوانی صورت میں مسخ کیے گئے جو انتہائی ذلت ہے اور عبرتناک سزا ہے اور یہ قصہ داود (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا جیسا کہ…
Read the full tafseer →161:“ قِصَصْ ” کے اختتام پر اصحاب سبت کا واقعہ ذکر فرمایا اور اس سے مقصود تخویف دنیوی ہے۔ “ اَلْقَرْیَةَ ” سے “ اَیْلَة ” مراد ہے جو مدین اور طور کے درمیان سمندر کے کنارے پر واقع تھا۔ ہفتہ کا دن دین موسوی میں قابل تعظیم تھا اور اس دن میں مچھلی کا شکار ان کے لیے جائز نہیں تھا۔ لیکن ان کے ابتلاء و امتحان کے لیے اللہ کے حکم سے ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کے اوپر کنارے سے بالکل قریب کثرت سے آجائیں اور باقی ایام میں غائب رہتیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر انہوں نے یوم سبت کی تعظیم کو بالائے طاق رکھ کر مچھلی کا شکار کرنا شروع کردیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابلیس نے ان کو یہ حیلہ بتایا کہ وہ سمندر کے کنارے…
Read the full tafseer →ربط آیات
بنی اسرائیل کے حوالہ سے ایک بستی کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے جب انہوں نے اعلیٰ درجے کی نعمتوں کو چھوڑ کر ادنیٰ درجے کی چیزوں کا مطالبہ کیا تھا تو اللہ نے حکم دیا تھا کہ اریحا نامی بستی کے اصل باشندوں کے ساتھ جہاد کرو ، جب وہ فتح ہوجائے تو اس میں داخل ہوجائو ، وہاں کاشتکاری کرو تو تمہاری مطلوبہ اشیا سبزی ، تر کاری ، دال ، پیاز ، لہسن وغیرہ میسر آجائیں گے مگر یہ لوگ جنگ کے لیے تیار نہ ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم اور تمہارا خدا جاکر لڑائی کرو ، ہم یہیں بیٹھتے ہیں جب فتح حاصل ہوجاء تو ہمیں بتا دینا ، ہم اس بستی میں داخل ہوجائیں گے اس نافرمانی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَسْــــَٔـلْہُمْ عَنِ الْقَرْيَۃِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ 0 ۘ اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْہِمْ حِيْتَانُہُمْ يَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ 0 ۙ لَا تَاْتِيْہِمْ 0 ۚۛ كَذٰلِكَ 0 ۚۛ نَبْلُوْہُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ 163
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
ترکیب : اذیعدون حاضرۃ کا ظرف بھی ہوسکتا ہے یہ اصل یعتدون تھا اب اس کو مخفف بھی پڑھ سکتے ہیں اور مشدّد بھی۔ اذ تاتیہم ظرف ہے یعدون کا حیتان جمع حوت و کو ی سے بدل دیا گیا۔ شرعًا حال ہے حیتانہم سے یوم لایسبتون ظرف ہے لاتاتیہم کا معذرۃ مفعول ہے ای وعظنا للمعذرۃ۔
تفسیر : یہ قصہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں گذرا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد جبکہ بنی اسرائیل ملک شام میں آگئے اور یہاں کی سلطنت ان کی قوم میں ایک عرصہ سے قائم ہوگئی۔ یہ قصہ بھی سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔
عن القریۃ اس قریہ سے مراد وہ گائوں ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے جس کو علما مؤرخین ایلہ کہتے ہیں اور اس گائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
بنی اسرائیل کے سامنے ان کی تاریخ کا آئینہ
بنی اسرائیل کی مسلسل ناشکریوں اور نافرمانیوں کا بیان جاری ہے اور اسی سلسلہ میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو عبرت کے طور پر بنی اسرائیل میں معروف تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدیوں تک بنی اسرائیل نے کس طرح اللہ کی نافرمانیاں جاری رکھیں اور کس طرح ان پر اللہ کے عذاب آتے رہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر ان کے اجتماعی رویے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی چناچہ اس مشہور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے۔
وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کی دنیا پرستی اور اللہ تعالیٰ کی پرلے درجے کی نافرمانی کا ایک اور واقعہ۔
یہودی اس قدر دنیا پرست اور ناعاقبت اندیش قوم ہے کہ دنیا کے مقابلے میں ان کے نزدیک دین اور اخلاقی قدروں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اصحاب السّبت کا واقعہ یہودیوں کے ہاں ہمیشہ سے معروف رہا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھی سے استفسار فرمائیں کہ اس بستی کا کیا واقعہ اور معاملہ ہے ؟ جو سمندر کے کنارے واقع تھی جنھیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ ہفتہ کے دن کاروبار کرنے کی بجائے تمہیں صرف میری ہی عبادت کرنی چاہیے لیکن انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ جس کی…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا شکاری گروہ اور ان کی حرکات :
آیت 163: وَسْئَلْھُمْ (اور آپ ان سے حال پوچھیں) ان یہود سے سوال کریں عَنِ الْقَرْیَۃِ (اس بستی والوں کا) نمبر 1۔ ایلہ، نمبر 2۔ مدین۔ ان کے کفروناشکری کو مقدم کر کے یہ سوال درحقیقت ان کے کان کھولنے کے لئے ہے۔ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ (جو سمندر کے قریب آباد تھے) سمندر کے قریب اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ (جبکہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے) جبکہ وہاں وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے تھے۔ اور وہ ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار تھا۔
نحو : اذیعدون یہ قریہ سے بدل ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہے۔ یہاں قریہ سے اہل قریہ مراد ہیں۔ گویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
164 (واذ قالت امۃ منھم لم تعظون قوما اللہ مھلکھم) اس قول کے قائلین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ ہلاک ہونے والے فرقہ کے لوگ تھے کیونکہ جب ان کو کہا جاتا کہ تم اس برے عمل سے باز آ جائو عذاب آنے سے پہلے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کرنے والا ہے اگر تم باز نہ آئے تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ تم کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جن کو اللہ چاہتا ہے کہ ہلاک کرے (او معدبھم عذاباً شدیداً ط قالوا) ای منع کرنے والے کہنے لگے (معلبوۃ الی ربکم) یعنی ہم یہ کام اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت کرنے کے لئے کر رہے ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ یہ ساکن فرقہ کا قول ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ تم ایسی قوم کو…
Read the full tafseer →یہ قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے وقت کا ہے حضرت صلعم کو اللہ پاک نے حکم دیا کہ یہود سے آپ ہفتہ کے دن شکار کھیلنے والوں کا حال دریافت کریں اور ان کو یہ قصہ سنا کر ڈرائیں کہ کس طرح ان لوگوں پر بہ سبب مخالفت حکم الٰہی کے عذاب نازل ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب آوے تم میری صفت کو جو تمہاری کتابوں میں لکھی ہوئی ہے چھپائے ہو۔ وہ لوگ بحر قلزم کے کنارے رہتے تھے ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے کہ مدین اور طور کے درمیان میں ایک قریہ ایلہ تھا وہاں یہ لوگ رہتے تھے ان کو ہفتہ کے دن شکار کرنے کو منع کیا گیا تھا لیکن یہ لوگ بےک ہے خدا کے حکم کے خلاف جرأت کے بیٹھے تھے اس لئے ان کی آزمائش کی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →226 " القریۃ " سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو اس بستی کے بارے میں جو کہ سمندر کے کنارے پر واقع تھی اور اس کی تعیین کے سلسلے میں " ایلہ " یا " مدین " یا " طبریہ " مختلف نام ذکر کئے گئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر نے ایک ہی کا ذکر کیا ہے یعنی " ایلہ "، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے نزدیک اس بارے راحج قول یہی ہے۔ (ابن کثیر، محاسن وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ بستی دریائے قلزم کے ساحل پر واقع تھی اور آج کل یہ " عقبہ " کے نام سے مشہور ہے۔ اور اسی کے نام سے " خلیج عقبہ " مشہور ہے۔ عام ساحلی بستیوں کی طرح اس بستی کے باشندوں کا گزر بسر بھی ماہی گیری پر تھا۔ انہی سے وہ کھاتے اور انہی کو بیچ کر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–166
بنی اسرائیل کا بقیہ بیان
تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
ف 3) فریب اور حیلہ سازی سے مچھلیوں کا شکار کرتے تھے انہیں حکم تو یہ تھا کہ اس دن کی تعظیم کریں اور اس میں شکار وغیرہ سے بار رہیں مگر انہوں نے دریا کے کنا رے سے پانی کاٹ کر حوض تعمیر کرلیے جب ہفتہ کے دن ان حوضوں میں مچھلیاں آجاتیں تو ان کا راستہ بند کردیتے اور اتوار کے دن پکڑ لیتے اس سے معلوم ہوا کہ کسی حرام کارتکاب کرنے کے لیے حیلہ سازی بھی حرام ہے حدیث میں ہے لا تر تکبو اما ارتکب الیھود فتسحلوا محارم اللہ باونی الحیل کہ یہود کی طرح شریعت میں حیلے نکال کر اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال مت سمجھو۔ ( ابن کثیر) بائیل کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ سبت کے دن ان کو مکمل طور پر کارو بار…
Read the full tafseer →(7:163) القریۃ۔ مدین اور کوہ طور کے درمیان سمندر کے ساحل پر ایک بستی۔ حاضرۃ البحر۔ لب دریا۔ سمندر کے کنارے۔ حاضرۃ۔ حضور سے اسم فاعل ہے۔ مضاف البحر مضاف الیہ۔ بحر سے بحیرۂ قلزم مراد ہے۔
یعدون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عدوان مصدر۔ باب نصر۔ حد شرعی سے تجاوز کر رہے تھے۔ زیادتی کر رہے تھے۔
السبت۔ سنیچر کا دن۔ یوم شنبہ۔ سنیچر کے دن کی تعظیم کرنا۔ کام کاج سے چھٹی کرنا۔
شرعا۔ الشرع۔ سیدھا راستہ جو واضح ہو۔ چناچہ واضح راستہ کو شرع شرع شریعۃ کہا جاتا ہے پھر استعارہ کے طور پر طریق الٰہیہ پر یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ شرعا شارع کی جمع اسم فاعل ہے۔ شارعۃ الطریق کی جمع شوارع آتی ہے۔ جس کے معنی کھلی سڑک ہے۔ آیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
تشریح آیات نمبر 163 تا 166
بنی اسرائیل کی زندگی کے مختلف پہلوئو کا ذکر فرمایا جار ہا ہے اسی میں سے یہ ایک واقعہ ہے جو انہیں ایلہ کے مقام پر پیش آیا۔۔۔۔ واقعہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کا قبیلہ جو ایلہ میں آباد تھا اور کا گذر بسر مچھلیوں پر تھا۔ اس قوم کو آزمانے کے لئے کہا گیا کہ تم ہر روز مچھلی کا شکار کرسکتے ہو۔ صرف ہفتہ کے دن تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے توریت کی بعض آیات سے بھی اس طرف اشارے ملتے ہیں کہ اسی وجہ سے یہودیوں نے ہفتہ کے دن ہر طرح کے کام کاج کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت ان کا محض امتحان تھا ان کو مزید آزمانے کے لیے اللہ نے یہ انتظام فرمایا کہ جب ہفتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
یہ قصہ حضرت داود (علیہ السلام) کے وقت کا ہے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہود سے آپ ہفتہ کے دن شکار کھیلنے والوں کا حال دریافت کریں اور ان لوگوں پر بسبب مخالفت حکم الہی کے عذاب نازل ہوا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب آوے۔ تم میری صفت کو جو کتابوں میں لکھی ہوئی ہے چھپاتے ہو۔ وہ لوگ بحر قلزم کے کنارے رہتے تھے۔ ان کو ہفتہ کے روز شکار کرنے کو منع کیا گیا تھا مگر حیلہ سے مچھلیاں پکڑنے لگے۔ پھر بھی وہ ہاتھ نہیں آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عدول حکمی کا یہ مزہ چکھایا کہ ان کو بندر بنادیا۔
Read the full tafseer →[63] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 51 صفحہ 99۔
Read the full tafseer →قانون اور اس کا منشاء :
(ف 2) یہود کے روحانی امراض میں ایک مرض حیلہ جوئی بھی ہے سبت کا دن اللہ تعالیٰ نے اطاعت وفرمانبرداری کے لئے مقرر کیا ، یہودیوں سے کہا گیا تھا ، کہ سبت کا دن کا ملا فراغت سے گذاریں ، اس ان کوئی دنیوی کام نہ ہو ، صرف اللہ کا ذکر وشغل ہو ، تورایت پڑھیں اور دوسروں کو سنائیں ، مگر ان کی نافرمانی نے اعتداء فی السبت کی راہ نکال لی ، وہ مقام ایلہ میں رہتے تھے ، جو پانی کے قریب واقع ہے ، جب انہوں نے دیکھا کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں کثرت سے نمودار ہوتی ہیں ، اور توریت کی رو سے اس دن شکار ممنوع ہے ، تو انہوں نے یہ کیا کہ کنارے کنارے گڑھے کھود لئے تاکہ رات کو جب مچھلیاں ان گڑھوں میں…
Read the full tafseer →163 اے پیغبران بنی اسرائیل سے اس بستی کے لوگوں کا حال تو دریافت کیجئے جو بستی سمندر کے کنارے آباد تھی کہ جب اس بستی کے باشندے ہفتہ کے دن کے احکام میں حد سے آگے بڑھ رہے تھے جب ہفتہ کا دن ہوتا تو ان کے دریا کی مچھلیاں پانی پر نمایاں ہوکر ان کے سامنے آجاتی تھیں اور جس دن ہفتہ نہ ہوتا تو مچھلیاں ان کے سامنے نہ آتی تھیں ہم اسی طرح ان لوگوں کی اس نافرمانی کے باعث جس کے وہ خوگر تھے آزمائش کرتے تھے اور اس طرح ان کو آزماتے تھے۔ یعنی ہفتہ کے روز یہود پر مچھلیاں کا شکار ممنوع تھا یہ مذکورہ بستی غالباً ایلہ تھی اس میں اکثر ماہی گیر رہتے تھے چونکہ یہ بےحکمی اور نافرمانی کے عادی تھی اس لئے ان کو اس آزمائش…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس قریہ کا نام اکثر نے ایلہ لکھا ہے قرب سحر کی وجہ سے یہ لوگ ماہی گیری کے شوقین تھے۔
Read the full tafseer →قوم بنی اسرائیل کے ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے ہفتہ کے متعلق غلو کیا :
186: دین کے متعلق ایک بہت بڑی گمراہی یہ ہے کہ انسان صداقت و سچائی کے ساتھ اس پر عمل پیرا نہ ہو اور خواہش نفس کو امام بنا کر احکام الٰہی میں مرض کے مطابق حیلہ سازیاں تراشے اور خود فریبی میں مبتلا ہو کر یہ سمجھ بیٹھے کہ من مانی بھی ہوگئی اور دین کا اتباع بھی ہوگیا۔ برائی کو برائی سمجھ کر اس میں مبتلا ہونا اس درجہ شنیع نہیں جتنا کہ برائی کو بھلائی کا رنگ دے کر اور منہیات میں حیلہ سازی کر کے اس کا جواز پیدا کرنا مذموم و مکروہ ہے ۔ حق تعالیٰ کی طرف سے اکثر و بیشتر قوموں پر عذاب اسی قابل نفرت عمل کی وجہ سے ہوتا رہا ہے ۔ یہود نے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–166
The detailed discussion of the events contained in the above verses have been produced in Surah Al-Baqarah (under verses 58-60). Those interested may refer to those verses for details.
The Holy Prophet ﷺ has been asked to warn the Israelites present in his time by reminding them the events related in these verses. The events referred to in these verses are clear and require no explanation.
Read the full tafseer →122. Most scholars identify this place with Eilat, Eilath or Eloth. (Cf. Encyclopaedia Britannica, XV edition, 'Macropaedia', vol. 3, art. 'Elat' -Ed.) The seaport called Elat which has been built by the present state of Israel (which is close to the Jordanian seaport, Aqaba), stands on the same site. It lies at the end of that long inlet of the Red Sea situated between the eastern part of the Sinai peninsula and the western part of Arabia. It was a major trading centre in the time of Israelite ascendancy. The Prophet Solomon took this city as the chief port for his fleet in the Red Sea.
The…
Read the full tafseer →