Explained with ayahs 160–162
یہ سب آیتیں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کردی ہے وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے ہم نے وہیں ذکر کردیا ہے دوبارہ کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
سورة الْاَعْرَاف 121
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، حاشیہ 74 و 75۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (ایک انعام بنی اسرائیل پر یہ کیا کہ انکی اصلاح و انتظام کے لئے) ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی (اور ہر ایک پر ایک سردار نگرانی کیلئے مقرر کردیا، جن کا ذکر مائدہ کے رکوع سوم میں (آیت) (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا) اور (ایک انعام یہ کہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا جبکہ انکی قوم نے ان سے پانی مانگا (اور انہوں نے حق تعالیٰ سے دعا کی، اس وقت یہ حکم ہوا) کہ اپنے اس عصاء کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے (بعدد ان بارہ خاندانوں کے) پھوٹ نکلے (چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا ۭوَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۭقَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۭوَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭكُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۭوَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ وَاِذْ قِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ…
Read the full tafseer →162۔ 1 160 تا 162 آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، یہ وہ ہیں جو پارہ الم، سورة بقرہ کے آغاز میں بیان کی گئی ہیں۔ وہاں ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
79: آیت نمبر 160 تا 162 میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سورة بقرہ (2۔ 57 تا 61) میں گزرچکے ہیں، تشریح کیلئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔
Read the full tafseer →فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ ۔ مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی ، بدل ڈالا۔
لہذا اب ان پر عالم بالا کی طرف سے عذاب آتا ہے ، وہ اللہ جو ان پر من وسلوی اتار رہا تھا ، اور ان پر اس کے بھیجے ہوئے بادل سایہ فگن تھے ، اب ان پر عذاب نازل فرما رہا ہے۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔
اس طرح ان میں جنہوں نے ظلم کیا یعنی کفر کیا انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ، کیونکہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق…
Read the full tafseer →2 یہ واقعات " وادی تیہ " کے ہیں۔ جن کا بیان سورة " بقرہ " ربع پارہ الم کے بعد گزر چکا، وہاں کے فوائد میں تفصیل ملاحظہ کی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 162 فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ قَوْلاً غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ
یعنی ان کو حِطَّۃٌ‘ حِطَّۃٌ کا ورد کرتے ہوئے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا ‘ جبکہ انہوں نے اس کے بجائیحِنْطَۃٌ‘ حِنْطَۃٌ کہنا شروع کردیا ‘ جس کا مطلب تھا کہ ہمیں گیہوں چاہیے ‘ ہمیں گیہوں چاہیے !
Read the full tafseer →166 فتحیاب فوج کا تکبر اور عذاب :۔ لیکن ان بدبختوں نے ہمارے حکم کی پوری پوری خلاف ورزی کی۔ فتح کے بعد ان میں عجز و انکساری کے بجائے فخر اور گھمنڈ پیدا ہوگیا اور اترانے لگے پھر اموال غنیمت میں بھی جی بھر کر خیانت کی۔ مفتوحہ علاقہ میں ظلم و تشدد کو روا رکھا۔ غرض یہ کہ وہ سب کچھ روا رکھا جو دنیا دار قسم کے لوگ فتح کے موقعہ پر کیا کرتے ہیں ان کے یہ لچھن دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا یہ عذاب کیا تھا اس کے متعلق مفسرین کے دو اقوال ہیں ایک یہ کہ ان میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تھی اور دوسرا یہ کہ دشمن قوم نے بنی اسرائیل کو پھر سے شکست دے کر بنی اسرائیل کو بےدریغ قتل کیا۔
Read the full tafseer →232 ۔ حاشیے سورة بقرہ، پارۂ اول، رکوع 6 میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
واوحینا۔۔۔۔ قومی (الآیۃ) سابق میں ان احسانات کا ذکر تھا جن کا تعلق انتظام سے تھا، اب مزید تین احسانوں کا ذکر ہے، ایک یہ کہ جزیرہ نمائے سینا بیابانی علاقہ میں ان کیلئے پانی کے انتظام کا غیر معمولی مسئلہ جو کہ دشوار ترین کام تھا غیر معمولی طریقہ پر حل کیا، دوسرے دھوپ سے بچانے اور سرچھپانے کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں تھا اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ سے دعاء کرکے اس طرح حل کرایا کہ بادل نے ان کیلئے سائبان اور خیمہ کا کام دیا تیسری بات یہ کہ خوراک کا مسئلہ بھی بڑا اہم تھا اس کا انتظام بھی من وسلویٰ کے نزول کی شکل میں کیا گیا، ظاہر ہے کہ مذکورہ تین بنیادی ضرورتوں کا بروقت اگر انتظام نہ کیا جاتا تو قوم جن…
Read the full tafseer →فبدل الذین ظلموا منہم قولا غیر الذی قیل لہم فارسلنا علیہم رجزا من السمآء بما کانوا یظلمون سو بدل دیا ان میں سے ظالموں نے اس لفظ کو جو ان سے کہا گیا تھا۔ غیر لفظ کے ساتھ اس پر ہم نے ان پر ایک آفت آسمان سے بھیجی اس وجہ سے کہ وہ حکم کو ضائع کرتے تھے۔ آیات مذکورہ بالا کی تفسیر سورة بقرہ میں مفصل گزر چکی ہے سورة بقرہ کی آیات اور ان آیات میں فرق صرف یہ ہے کہ سورة بقرہ میں فکلوا فاء کے ساتھ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سکونت قریہ سبب اکل ہے (وہاں جا کر رہو تو کھاؤ) اور اس جگہ فاء نہیں ہے وہاں فاء کا ذکر کافی سمجھا گیا یا یہ کہ آیات کی رفتار خود بتارہی ہے کہ سکونت سبب اکل ہے۔ کذا قال البیضاوی۔
میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
(161۔ 162) یعنی اس بستی ”اریحاء“ میں جاکر رہو ”لاالہ الا اللہ“۔ یا توبہ توبہ کرتے ہوئے اریحاء کے دروازہ سے عاجزی کے ساتھ داخل ہو ان گنہگاروں نے جو ان کو کہنے کے لیے کہا گیا تھا تبدیلی کرلی اور حطہ (توبہ) کے بجائے حنطۃ (گیہوں) کہنا شروع کردیا، نتیجہ یہ ہو کہ ان کی وجہ سے ہم نے آسمان سے طاعون نازل کردیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا : ”اَسْبَاطًا“ یہ ”سَبْطٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی اولاد کی اولاد ہے۔ یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبائل وجود میں آئے۔ اپنے الگ الگ اوصاف کی وجہ سے ہر قبیلے نے اپنا الگ وجود برقرار رکھا، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے پر ایک نقیب مقرر فرمایا : (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭ) [ المائدۃ : 12 ] ”اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے۔“ ”اُمَمًا“ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تعداد میں بہت بڑھ گئے۔
اس آیت میں ”فَانْۢبَجَسَتْ“ اور سورة بقرہ میں ”فَانْفَجَرَت“ ہے۔ راغب اصفہانی ؓ فرماتے ہیں کہ ”اِنْبَجَسَ“ اکثر اس کے متعلق کہا جاتا ہے جو تنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
آیت نمبر : 160۔ 162
قولہ تعالیٰ : آیت : وقطعنٰھم اثنتی عشرۃ اسباطا امما اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتیں شمار کیں۔ اور انہیں قبیلوں میں تقسیم کردیا تاکہ ہر قبیلے کا معاملہ ان کے اپنے سردار کی طرف سے معروف ہو، تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر معاملہ آسان ہوجائے۔ اور قرآن کریم میں ہے : آیت : وبعثنا منھم اثنی عشر رنقیبا ( المائدہ : 12) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 557) ( اور ہم نے مقرر کیے ان میں سے بارہ سردار) یہ پہلے گزر چکا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ : آیت : اثنتی عشرۃ حالانکہ لفظ السبط مذکر ہے کیونکہ اس کے بعد امما ہے پس تانیث امم کی وجہ سے ہوئی۔ اور اگر السبط کے مذکر ہونے کی وجہ سے اثنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
(1) امام فریابی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو کہ انجیل (یعنی کتاب) ان کے دلوں میں محفوظ ہوگی ؟ فرمایا یہ امت ہوگی تیرے بعد جو احمد کی امت ہے۔ عرض کیا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو جو پانچ نمازیں پڑھیں گے جو کفارہ ہوں گی ان کے درمیان (ہونے والے گناہوں) کا فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب میں پاتا ہوں ایک امت کو جو اپنے مالوں کا صدقہ دیں گے پھر وہ ان کے درمیان لوٹ جائیں گے اور وہ اس کو کھائیں گے۔ فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب مجھے احمد کی امت میں سے کر…
Read the full tafseer →[ فَبَدَّلَ : تو بدل دیا ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے جنہوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ قَوْلًا : بات کو ] [ غَيْرَ الَّذِيْ : اس کے علاوہ جو ] [ قِيْلَ : کہا گیا ] [ لَهُمْ : ان سے ] [ فَاَرْسَلْنَا : پھر ہم نے بھیجا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ رِجْزًا : ایک عذاب ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ : وہ ظلم کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
سنیچر کے دن یہودیوں کا زیادتی کرنا اور بندر بنایا جانا
بنی اسرائیل کی حرکتیں بھی بہت بری تھیں ان کا نافرمانی کا مزاج تھا۔ ان پر آزمائش بھی طرح طرح سے آتی رہتی تھی، حکم تھا کہ سنیچر کے دن کی تعظیم کریں ان دنوں سے متعلق جو احکام تھے ان میں یہ بھی تھا کہ اس دن مچھلیاں نہ پکڑیں۔ لیکن یہ لوگ باز نہ آئے سنیچر کے دن ان کی آزمائش اس طرح ہوتی تھی کہ مچھلیاں خوب ابھر ابھر کر سامنے آجاتی تھیں اور دوسرے دنوں میں اس طرح نہیں آتی تھیں۔ ان لوگوں نے مچھلیوں کے پکڑنے کے حیلے نکالے اور یہ کہا کہ سنیچر کا دن آنے سے پہلے جال اور مچھلی کے کانٹے پہلے سے پانی میں ڈال دیتے تھے۔ چناچہ مچھلیاں ان میں پھنس کر رہ جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
ذکر احوال بنی اسرائیل
قال اللہ تعالیٰ ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانوا یظلمون
(ربط) اوپر سے سلسلۂ کلام موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں چلا آرہا ہے اب یہ بتاتے ہیں بنی اسرائیل میں اب بھی بعضے لوگ خدا پرست اور انصاف دوست ہیں جو لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کرتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام وگیرہ کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور اس بات کی شہادت دی کہ یہ وہی نبی امی ہیں جن کی توریت اور انجیل میں خبر دی گئی ہے اور ایسے ہی حق پرست اس رحمت خاصہ میں داخل ہوئے جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ میں دعا کی تھی اور انہی اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ظالم اور سرکش بھی…
Read the full tafseer →160: اس کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو ص 38 حاشیہ 120 و 121 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو انتظامی حیثیت سے بارہ قبیلوں میں تقسیم کیا صحرائے سینا میں پہنچ کر بنی اسرائیل کے لیے پانی کا مسئلہ پیدا ہوا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے فرمایا اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو ایسا کرنے سے اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معلوم کرلیا اور پانی سے سیراب ہونے لگے دھوپ سے بچنے کے لیے اللہ نے بادلوں کا سایہ کردیا اور خوراک کے طور پر من اور سلویٰ نازل فرمایا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ ہماری عطا کردہ روزی میں سے پاک چیزیں کھائو نیز یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے ہمارا تو…
Read the full tafseer →فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَہُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ 162 ۧ
بدل
الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
ترکیب : قیل سے لھم متعلق ہے اسکنوا الخ جملہ مفعول مالم یسم فاعلہ ھذہ القریۃ صفت و موصوف مفعول فیہ حطۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای امرنا حطۃ سجدا حال ہے ادخلوا کے فاعل سے نغفر مجذوم ہے جواب امر کی وجہ سے قولا بدل کا مفعول موصوف غیر الذی صفت یا حال قیل کا مفعول مالم یسم فاعلہ ضمیر ہے جو الذی کی طرف راجع ہے۔
تفسیر : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کا قصہ ہے ان کے خلیفہ یوشع بن نون کا جبکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ملک شام میں پہنچے اور یرون ندی کو عبور کیا۔ اس قریہ سے مراد شہر بریکو ہے جس کو اریحا بھی کہتے ہیں۔ یہ شہر یروشلم سے بیس میل اور دریائے یرون سے 9 یا 7 میل کے فاصلہ پر آباد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
ارشاد فرمایا :
وَاِذْ قِیْلَ لَھُمُ اسْکُنُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوْاالْبَابَ سُجَّدْا نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِیْٓئٰتِکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَطْلِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 162، 161)
” اور یاد کرو جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں رہو بسو ‘ اس میں سے جہاں سے چاہو کھائو پیو اور توبہ استغفار کرتے رہو اور دروازے میں سرفگندہ داخل ہو تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے ‘ خوب کاروں کو ہم مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کا بیان جاری ہے۔
سورۃ البقرۃ، آیت : 58 میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بستی میں داخلہ کو یوں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ سورة المائدۃ، آیت : 21 میں ذکر ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فتح تمہارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ یہاں داخل ہونے کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے تینوں مقامات میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسر ائیل کو پوری طرح یقین دہانی کروائی گئی…
Read the full tafseer →ظالموں نے الٹ بات بنائی :
آیت 162: فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآ ئِ بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ (پس بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر ہم نے ایک آفت آسمان سے ان پر بھیجی اس وجہ سے کہ وہ حکم کو ضائع کرتے تھے) اس میں اور دوسری آیات میں کوئی تناقض نہیں۔ اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْہَا جو اسی سورت میں ہے۔ اور اس قول میں جو سورة البقرہ میں ہے۔ ادْخُلُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا (البقرۃ : 58) کیونکہ داخلہ اور سکونت پائی…
Read the full tafseer →تفسیر 162 (وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر) یعنی اے محمد ﷺ آپ اپنے پڑوسی یہودیوں سے اس بستی کے بارے میں سوال کریں جو دریا کے کنارے تھی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس بستی کا نام ایلہ تھا۔ مدین اور طور کے درمیان دریا کے کنارے آباد تھی اور زہری (رح) فرماتے ہیں کہ یہ طبریۃ الشام ہے (ادیعدون فی السبت) یعنی مچھلی کا شکار کر کے اللہ کے حکم سے تجاوز کیا (اذتاتیھم حیتالھم یوم سبتھم شرعاً ) یعنی پانی کے اوپر ظاہر ہو کر کثیر تعداد میں یہ شارع کی جمع ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ لگاتار آتیں اور قصہ میں یہ بات منقول ہے کہ ہفتہ کے دن سفید موٹے مینڈھوں کی طرح موٹی مچھلیاں ان کے سامنے آتیں۔ (ویوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
(160 ۔ 162) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بارہ گروہ میں تھی ایک ہی اولاد تھی۔ اصل میں یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا انہیں کی اولاد میں یہ لوگ تھے اس لئے ان کو بنی اسرائیل کہتے ہیں اور یہ لوگ علیحدہ علیحدہ گروہ ہیں کثیر التعداد آدمی ہوگئے تھے اس لئے ان کو اللہ پاک نے فرمایا کہ بارہ فرقے الگ الگ کردئے گئے اور ہر ایک کا سردار اور امام جدا جدا تھا سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ کنعانی قوم کے ساتھ لڑنے سے جب بنی اسرائیل نے انکار کیا تو اس شرارت کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں قید کیا اور وہاں جب دھوپ کی شدت ہوئی پانی کو ترس گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →223 احکام الہی سے استہزاء باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں نے اللہ کی ارشاد فرمودہ بات کو بدل دیا کہ انہوں نے { حِطَّۃٌ } کی جگہ " حِنْطَۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ " کہا، جس کے معنیٰ ہیں " دانہ گندم جو کے اندر "، جبکہ " حطۃ " کے معنیٰ معافی اور گناہوں کے اتارنے کے ہیں جو دراصل معنیٰ ہے " مَغْفِرَتُکَ اَللّٰہُمَّ " کا۔ سو اس طرح انہوں نے اپنے گناہوں کے معانی مانگنے کی بجائے الٹا احکام خداوندی کا مذاق اڑایا اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے انجام بد کو پہنچ کر رہے۔ اور یہی حال ہوتا ہے اس بدبخت قوم کا جس کی شامت آچکی ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–166
بنی اسرائیل کا بقیہ بیان
تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–162
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 158 ۔ تا۔ 162 ۔
اسرار و معارف :
جب آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء آپ کی خبر پہنچاتے رہے اور اپنی اپنی امت سے آپ پر ایمان لانے کا مطالبہ فرماتے رہے نیز یہ ارار بھی لیتے رہے کہ اگر تم میں سے کوئی آپ کا زمانہ پائے تو آپ کی اطاعت اختیار کرے۔ ۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
ف 3) فریب اور حیلہ سازی سے مچھلیوں کا شکار کرتے تھے انہیں حکم تو یہ تھا کہ اس دن کی تعظیم کریں اور اس میں شکار وغیرہ سے بار رہیں مگر انہوں نے دریا کے کنا رے سے پانی کاٹ کر حوض تعمیر کرلیے جب ہفتہ کے دن ان حوضوں میں مچھلیاں آجاتیں تو ان کا راستہ بند کردیتے اور اتوار کے دن پکڑ لیتے اس سے معلوم ہوا کہ کسی حرام کارتکاب کرنے کے لیے حیلہ سازی بھی حرام ہے حدیث میں ہے لا تر تکبو اما ارتکب الیھود فتسحلوا محارم اللہ باونی الحیل کہ یہود کی طرح شریعت میں حیلے نکال کر اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال مت سمجھو۔ ( ابن کثیر) بائیل کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ سبت کے دن ان کو مکمل طور پر کارو بار…
Read the full tafseer →(7:162) رجزا۔ عذاب ۔ بلا۔ عقوبت۔ الرجز کے اصل معنی اضطراب کے ہیں۔ اس سے رجزالبعیر۔ جس کے معنی ضعف کے سبب چلتے وقت اونٹ کی ٹانگوں کے کپکپانے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
تشریح : آیت نمبر ا 16 تا 162
آپ نے اس سے پہلے کی آیات میں یہ پڑھ لیا ہے کہ بنی اسرائیل جنہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بہت عروج حاصل ہوا اور مصر کے اہم مقام پر بنی اسرائیل آباد ہوگئے تھے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد آل فرعون نے مصر کی سلطنت پر قبضہ کرلیا اور بنی اسرائیل کو ذلیل و خوار کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔ اس قوم کی ذلت و خواری جب انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ نے قوم بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا جنہوں نے اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھادی کہ قومیں جب اپنی ذندگی کا مقصد کھو بیٹھتی ہے تو پھر ان کی کوئی قدرو قیمت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
یہ قصہ حضرت داود (علیہ السلام) کے وقت کا ہے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہود سے آپ ہفتہ کے دن شکار کھیلنے والوں کا حال دریافت کریں اور ان لوگوں پر بسبب مخالفت حکم الہی کے عذاب نازل ہوا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب آوے۔ تم میری صفت کو جو کتابوں میں لکھی ہوئی ہے چھپاتے ہو۔ وہ لوگ بحر قلزم کے کنارے رہتے تھے۔ ان کو ہفتہ کے روز شکار کرنے کو منع کیا گیا تھا مگر حیلہ سے مچھلیاں پکڑنے لگے۔ پھر بھی وہ ہاتھ نہیں آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عدول حکمی کا یہ مزہ چکھایا کہ ان کو بندر بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
[62] یہ مضمون سورة بقرہ کی آیات 59-58 صفحہ 20 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →تبدیل قول :
(ف 1) بنی اسرائیل کو آبادی میں رہنے کے لئے مشروط کردیا تھا کہ وہ توبہ و استغفار کے جذبات کو زندہ رکھیں ، یعنی شہری زندگی میں جا کر اللہ کو اور دین کو بھول نہ جائیں ، مگر جب وہ شہر میں بس گئے تو ان میں وہی خوابیاں پیدا ہوگئیں ، جو شہری زندگی کا خاصہ تھیں ، یہی تبدیل قول ہے ۔
Read the full tafseer →162 مگر ان لوگوں نے جو ان میں سے ناسپاسی کے خوگر ہوچکے تھے اس لفظ کو جو بستی میں جاتے وقت کہنے کو ان سے کہا گیا تھا دوسرے لفظ سے بدل دیا اس پر ہم نے آسمان سے ان پر عذاب نازل کیا اس شرارت و نافرمانی کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے یعنی حطۃ کی بجائے حنطۃ کہا جس کے معنی گیہوں کے ہیں اور بجائے سر کو اور کمر کو جھکانے کے پائوں پھیلا کر سرین کے بل داخل ہوئے تب ان پر طاعون پڑا ان واقعات کی مزید تفصیل سورة بقرہ اور سورة مائدہ میں دیکھئے۔ یہ ارض تیہ سے نکلنے کا واقعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ف 5۔ اور ہر ایک پر ایک سردار نگرانی کے لیے مقرر کردیا جن کا ذکر مائدہ کے رکوع سوم میں ہے۔ وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا۔
6۔ یہ واقعات وادی تیہ کے ہیں ان کی تفصیل سورة بقرہ میں گزرچکی ہے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل نے جب صریحاً حکم عدولی کی تو ان کو ایک آسمانی عذاب نے آلیا :
185: بنی اسرائیل کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ تم اس بستی میں جابر و ظالم اور دنیوی فاتحوں کی طرح اکڑتے ہوئے اس بستی میں داخل نہ ہونا بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا جیسا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ کو فتح کرتے وقت داخل ہوئے تھے اور یہ بات ہم نے استدلالاََ بتائی ہے اور اور حطۃ کہتے ہوئے یعنی اللہ سے اپنی خطائوں کی معافی مانگتے ہوئے یا یہ کہ لوٹ کھسوٹ اور قتل عام کی بجائے بستی کے باشندوں سے در گزر کرتے ہوئے بلکہ عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے لیکن انہوں نے وہی کیا جو کچھ کرنے کے وہ عادی تھے ۔ بائبل کا بیان ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
The above verses have enumerated various favours that Allah bestowed upon the Israelites, and spoke of their deviation from the commands of Allah resulting in a heavenly punishment for their transgression. The translation of the verses given above is self explanatory and the relevant details have already been given in Surah Al-Baqarah (First volume of this book, translation and commentary under verses 57-59).
Read the full tafseer →121. For details see Towards Understanding the Qur'an, vol. 1, al-Baqarah 2: nn. 74-5, pp. 76-7.
Read the full tafseer →