Al-A'raaf 7:161

Al-A'raaf · from ayah 161

7:161

وَاِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓـٰٔتِكُمْ ؕ— سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۟وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّـغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطِيْٓـئٰــتِكُمۡ‌ ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention, O Muhammad], when it was said to them, "Dwell in this city and eat from it wherever you will and say, 'Relieve us of our burdens,' and enter the gate bowing humbly; We will [then] forgive you your sins. We will increase the doers of good [in goodness and reward]."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 20 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:161

یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے حسب منشا روزی حاصل کرو اور حطۃ حطۃ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جاکر رہو اور کھاؤ اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازه میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ وقت یاد کرو جب ان سے کہا گیا تھا کہ : اس بستی میں جاکر بس جاؤ، اور اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ، اور یہ کہتے جانا کہ (یا اللہ) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں، اور (بستی کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے، (اور) نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو جب ان سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (یاد کرو) جب ان سے فرمایا گیا کہ تم اس شہر (بیت المقدس یا اریحا) میں سکونت اختیار کرو اور تم وہاں سے جس طرح چاہو کھانا اور (زبان سے) کہتے جانا کہ (ہمارے گناہ) بخش دے اور (شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا (تو) ہم تمہاری تمام خطائیں بخش دیں گے، عنقریب ہم نیکو کاروں کو اور زیادہ عطا فرمائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا گیا اس بستی میں رہو اور اس میں سے جہاں چاہو کھاؤ اور کہو بخش دے اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو تو ہم تمہارے لیے تمہاری خطائیں معاف کردیں گے، عنقریب ہم نیکی کرنے والوں کو زیادہ دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اس بستی میں آباد ہوجاؤ اور جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور دعا کرتے رہو کہ ہمیں معاف کر دے اور دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور اچھے کام کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو، جب ان سے کہا گیا، اس بستی میں رہو بسو، اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ پیو اور توبہ استغفار کرتے رہو اور دروازے میں سرفگندہ داخل ہو تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ خوب کاروں کو ہم مزید نوازیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان سے کہا گیا کہ تم لوگ جاکر رہو اس بستی میں، اور وہاں پر جہاں سے تم چاہو کھاؤ (اور پیو) اور (زبان سے) یہ کہتے جانا کہ ہماری توبہ، اور شہر کے دروازے سے داخل ہونا (عاجزی کے ساتھ) جھکے جھکے، ہم بخش دیں گے تمہاری خطاؤں کو، اور مزید فضل سے نوازیں گے ہم نیکوکاروں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ (فلاں) بستی میں جا کر سکونت اختیار کرو اور وہاں کھاؤ جہاں بھی تم چاہو اور کہتے جاؤ کہ توبہ ہے اور (شہر کے) دروازہ میں (عاجزی سے) جھکے ہوئے داخل ہو تم تمہاری خطائیں تمہیں معاف کردیں گے ہم نیک کاروں کو اور زیادہ دیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب ان سے کہا گیا تھا کہ آباد ہوجاؤ اس بستی میں اور اس میں سے کھاؤ (پیو) جہاں سے بھی چاہو اور استغفار کرتے رہو اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم محسنین کو اور بھی زیادہ عطا کریں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں رہنا شروع کر دو (سکونت اختیار کرلو) اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا پینا اور حِطَّۃٌ (ہمیں بخش دے) کہنا اور سجدہ کرتے ہوئے (سر کو جھکاتے ہوئے) داخل ہونا۔ تو ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور بھی زیادہ دیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And recall when it was said to them: 'Dwell in this town and eat plentifully of whatever you please, and say: "Repentance", and enter the gate prostrate. We shall forgive you your sins and shall bestow further favours on those who do good.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Recall) when it was said to them, :Live in this town and eat therefrom anywhere you like, and say, HiTTah (we seek forgiveness) and enter the gate prostrating yourselves, so that We forgive your errors. We shall give much more to those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

(Recall) when it was said to them, :Live in this town and eat therefrom anywhere you like, and say, HiTTah (we seek forgiveness) and enter the gate prostrating yourselves, so that We forgive your errors. We shall give much more to those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when it was said to them: "Dwell in this town (Jerusalem) and eat therefrom wherever you wish, and say, `(O Allah) forgive our sins'; and enter the gate prostrating (bowing with humility). We shall forgive you your wrongdoings. We shall increase (the reward) for the good-doers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it was said unto them: Dwell in this township and eat therefrom whence ye will, and say "Repentance," and enter the gate prostrate; We shall forgive you your sins; We shall increase (reward) for the right-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention, O Muhammad], when it was said to them, "Dwell in this city and eat from it wherever you will and say, 'Relieve us of our burdens,' and enter the gate bowing humbly; We will [then] forgive you your sins. We will increase the doers of good [in goodness and reward]."

— Saheeh International

When they were told, "Settle down in this town, eat as you wish, seek forgiveness and enter the gate prostrating yourselves (in obedience to the Lord) and We will forgive you your sins and increase the reward of the righteous people,

— Muhammad Sarwar

And when it was said to them: Reside in this town and eat from it wherever you wish, and say, Put down from us our heavy burdens: and enter the gate making obeisance, We will forgive you your wrongs: We will give more to those who do good (to others).

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time it was said unto them: dwell in yonder town and eat plentifully therefrom an ye list, and say: fergiveness, and enter the gate bowing; and We will forgive you your trespasses: anon We will increase unto the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

And remember it was said to them: "Dwell in this town and eat therein as ye wish, but say the word of humility and enter the gate in a posture of humility: We shall forgive you your faults; We shall increase (the portion of) those who do good."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:161

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 160–162

یہ سب آیتیں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کردی ہے وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے ہم نے وہیں ذکر کردیا ہے دوبارہ کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 161–162

سورة الْاَعْرَاف 121 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، حاشیہ 74 و 75۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–162

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (ایک انعام بنی اسرائیل پر یہ کیا کہ انکی اصلاح و انتظام کے لئے) ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی (اور ہر ایک پر ایک سردار نگرانی کیلئے مقرر کردیا، جن کا ذکر مائدہ کے رکوع سوم میں (آیت) (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا) اور (ایک انعام یہ کہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا جبکہ انکی قوم نے ان سے پانی مانگا (اور انہوں نے حق تعالیٰ سے دعا کی، اس وقت یہ حکم ہوا) کہ اپنے اس عصاء کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے (بعدد ان بارہ خاندانوں کے) پھوٹ نکلے (چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 160–162

وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا ۭوَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۭقَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۭوَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭكُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۭوَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ وَاِذْ قِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 160–161

160۔ 1 اَسْبَا ط، سِبْط، ُ کی جمع ہے۔ بمعنی پوتا یہاں اسباط قبائل کے معنی میں ہیں۔ یعنی حضرت یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے معرض وجود میں آئے ہر قبیلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایک نقیب (نگران) بھی مقرر فرمادیا یہاں پر اللہ تعالیٰ ان بارہ قبیلوں کی بعض بعض صفات میں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے کی بنا پر ان کے الگ الگ گروہ ہونے کو بطور احسان کے ذکر فرما رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 160–162

79: آیت نمبر 160 تا 162 میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سورة بقرہ (2۔ 57 تا 61) میں گزرچکے ہیں، تشریح کیلئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ بنی اسرائیل اللہ کے انعامات و اکرامات کے جواب میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان کے کج رو قدم کس طرح کی روش اختیار کرتے ہیں۔ ۔۔۔ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی اور اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنا چاہا اور زلزلے سے جان ہی چلی گئی۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کرکے دوبارہ زندہ کیا۔ اللہ نے ان پر بہت بڑے انعامات کیے۔ لیکن دیکھیے ان کی کج رو طبیعت صراط مستقیم کی راہ پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بغیر جواز کے انہوں نے نافرمانی شروع کردی۔ بات کو بدلنے کی جسارت کی۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ، یہ شہر تمہارا ہے ، یہ کون سا شہر تھا ، اس کا یہاں نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 اس شہر سے مراد اکثر نے " ارِیحاء لیا ہے۔ 2 یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا۔ آگے سارا ملک ملے گا کذا فی الموضح۔ یا یہ مطلب ہے کہ خطا معاف کر کے نیکوکاروں کے اجر وثواب بڑھائیں گے کذا فی عامۃ الکتب۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 161 وَاِذْ قِیْلَ لَہُمُ اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِءْتُمْ اس شہر کا نام اریحا تھا ‘ جو آج بھی جریکو Jericho کے نام سے موجود ہے۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں باقاعدہ جنگ کر کے فتح کیا تھا۔ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا اور استغفار کرتے رہو ‘ اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو ’ حِطَّۃٌ‘ کا ورد کرتے ہوئے داخل ہوں۔ اس لفظ کے معنی استغفار کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

165 یہ غالباً اریحا کا شہر تھا جو سب سے پہلے بنی اسرائیل کے ہاتھوں فتح ہوا یہاں انہیں آباد ہونے کا حکم دیا گیا اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل بتلایا گیا اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ جب فاتحانہ انداز میں اس شہر میں داخلہ ہو تو اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اس کا شکر بجا لاتے ہوئے اور اپنے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے داخل ہونا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن حکم ہوا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے سجدہ شکر ادا کیا۔ فتح مکہ کے بعد آپ میں اللہ کے حضور عجز و انکساری پہلے سے بھی بڑھ گئی اور پہلے سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے لگے فتح کے بعد اپنے قدیمی دشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے ان کے لیے عام معانی کا اعلان کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 160–162

واوحینا۔۔۔۔ قومی (الآیۃ) سابق میں ان احسانات کا ذکر تھا جن کا تعلق انتظام سے تھا، اب مزید تین احسانوں کا ذکر ہے، ایک یہ کہ جزیرہ نمائے سینا بیابانی علاقہ میں ان کیلئے پانی کے انتظام کا غیر معمولی مسئلہ جو کہ دشوار ترین کام تھا غیر معمولی طریقہ پر حل کیا، دوسرے دھوپ سے بچانے اور سرچھپانے کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں تھا اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ سے دعاء کرکے اس طرح حل کرایا کہ بادل نے ان کیلئے سائبان اور خیمہ کا کام دیا تیسری بات یہ کہ خوراک کا مسئلہ بھی بڑا اہم تھا اس کا انتظام بھی من وسلویٰ کے نزول کی شکل میں کیا گیا، ظاہر ہے کہ مذکورہ تین بنیادی ضرورتوں کا بروقت اگر انتظام نہ کیا جاتا تو قوم جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا قیل لہم اسکنوا ہذہ القریۃ وکلوا منہا حیث شئتم وقولوا حطۃ وادخلوا الباب سجدا نغفرلکم خطیئتکم سنزیر المحسنین اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ تم لوگ اسی بستی میں جا کر رہو اور بستی میں سے جہاں چاہو (رہ کر) کھاؤ اور (داخلہ کے وقت) زبان سے حِطّۃٌ (توبہ ہے توبہ ہے) کہتے جاؤ اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہو ہم تمہاری (پچھلی) خطائیں معاف کردیں گے (اور) جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید عنایت کریں گے۔ کلوا یعنی ہم نے کہا کھاؤ۔ سنزیر المحسنین عمومی مغفرت گناہ کے ساتھ نیکوکاروں سے مزید ثواب دینے کا وعدہ فرمایا۔ بغیر عطف کے اس جملہ کو ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 161–162

(161۔ 162) یعنی اس بستی ”اریحاء“ میں جاکر رہو ”لاالہ الا اللہ“۔ یا توبہ توبہ کرتے ہوئے اریحاء کے دروازہ سے عاجزی کے ساتھ داخل ہو ان گنہگاروں نے جو ان کو کہنے کے لیے کہا گیا تھا تبدیلی کرلی اور حطہ (توبہ) کے بجائے حنطۃ (گیہوں) کہنا شروع کردیا، نتیجہ یہ ہو کہ ان کی وجہ سے ہم نے آسمان سے طاعون نازل کردیا

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 160–162

وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا : ”اَسْبَاطًا“ یہ ”سَبْطٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی اولاد کی اولاد ہے۔ یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبائل وجود میں آئے۔ اپنے الگ الگ اوصاف کی وجہ سے ہر قبیلے نے اپنا الگ وجود برقرار رکھا، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے پر ایک نقیب مقرر فرمایا : (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭ) [ المائدۃ : 12 ] ”اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے۔“ ”اُمَمًا“ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تعداد میں بہت بڑھ گئے۔ اس آیت میں ”فَانْۢبَجَسَتْ“ اور سورة بقرہ میں ”فَانْفَجَرَت“ ہے۔ راغب اصفہانی ؓ فرماتے ہیں کہ ”اِنْبَجَسَ“ اکثر اس کے متعلق کہا جاتا ہے جو تنگ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 160–162

آیت نمبر : 160۔ 162 قولہ تعالیٰ : آیت : وقطعنٰھم اثنتی عشرۃ اسباطا امما اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتیں شمار کیں۔ اور انہیں قبیلوں میں تقسیم کردیا تاکہ ہر قبیلے کا معاملہ ان کے اپنے سردار کی طرف سے معروف ہو، تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر معاملہ آسان ہوجائے۔ اور قرآن کریم میں ہے : آیت : وبعثنا منھم اثنی عشر رنقیبا ( المائدہ : 12) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 557) ( اور ہم نے مقرر کیے ان میں سے بارہ سردار) یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ : آیت : اثنتی عشرۃ حالانکہ لفظ السبط مذکر ہے کیونکہ اس کے بعد امما ہے پس تانیث امم کی وجہ سے ہوئی۔ اور اگر السبط کے مذکر ہونے کی وجہ سے اثنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 159–162

(1) امام فریابی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو کہ انجیل (یعنی کتاب) ان کے دلوں میں محفوظ ہوگی ؟ فرمایا یہ امت ہوگی تیرے بعد جو احمد کی امت ہے۔ عرض کیا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو جو پانچ نمازیں پڑھیں گے جو کفارہ ہوں گی ان کے درمیان (ہونے والے گناہوں) کا فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب میں پاتا ہوں ایک امت کو جو اپنے مالوں کا صدقہ دیں گے پھر وہ ان کے درمیان لوٹ جائیں گے اور وہ اس کو کھائیں گے۔ فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب مجھے احمد کی امت میں سے کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ : اور جب ] [ قِيْلَ : کہا گیا ] [ لَهُمُ : ان سے ] [ اسْكُنُوْا : تم لوگ سکونت اختیار کرو ] [ هٰذِهِ الْقَرْيَةَ : اس بستی میں ] [ وَكُلُوْا : اور کھاؤ] [ مِنْهَا : اس میں ] [ حَيْثُ : جہاں سے ] [ شِئْتُمْ : تم لوگ چاہو ] [ وَقُوْلُوْا : اور کہو ] [ حِطَّةٌ: معافی ہو ] [ وَّادْخُلُوا : اور داخل ہو ] [ الْبَابَ : دروازے میں ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] [ نَّغْفِرْ : تو ہم بخش دیں گے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ ۭ: تمہاری خطاؤں کو ] [ سَنَزِيْدُ : ہم زیادہ کریں گے (بلحاظ درجہ ) ] [ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ] (آیت ۔ 161)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم اور بنی اسرائیل کی نافرمانی : تیسری اور چوتھی آیت میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک بستی میں رہنے کا حکم فرمایا تھا ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس بستی میں خشوع کے ساتھ جھکے ہوئے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہونا۔ ان ظالموں نے قولاً و عملاً دونوں طرح سے نافرمانی کی اور اس بات کو بدل دیا جس کا حکم فرمایا گیا تھا۔ عملاً تو یہ کیا کہ بجائے جھکے ہوئے داخل ہونے کے بچوں کی طرح گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے جس میں ایک طرح کا استہزاء ہے اور معافی مانگنے کا جو حکم ہوا تھا اس کی خلاف ورزی یوں کی کہ حِطَّۃٌ کی جگہ حَبَّۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ بعض مفسرین نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–162

ذکر احوال بنی اسرائیل قال اللہ تعالیٰ ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانوا یظلمون (ربط) اوپر سے سلسلۂ کلام موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں چلا آرہا ہے اب یہ بتاتے ہیں بنی اسرائیل میں اب بھی بعضے لوگ خدا پرست اور انصاف دوست ہیں جو لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کرتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام وگیرہ کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور اس بات کی شہادت دی کہ یہ وہی نبی امی ہیں جن کی توریت اور انجیل میں خبر دی گئی ہے اور ایسے ہی حق پرست اس رحمت خاصہ میں داخل ہوئے جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ میں دعا کی تھی اور انہی اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ظالم اور سرکش بھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

159: انعامات کے بعد بنی اسرائیل کی سرکشی اور کج روی کا ذکر فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت یوشع (علیہ السلام) آپ کے جانشین ہوئے۔ ان کی قیادت میں بنی اسرائیل نے ملک شام فتح کرلیا تو اللہ نے حکم دیا کہ بیت المقدس کے شہر میں جاؤ اور وہاں جاکر میری عبادت بجا لاؤ اور “ الباب ” سے یہاں بیت المقدس کے شہر کا دروازہ مراد نہیں بلکہ اس سے بیت المقدس کی مسجد کا دروازہ مراد ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو۔ ص 37 ص 38 حاشیہ 117 تا 119 ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 161–162

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو انتظامی حیثیت سے بارہ قبیلوں میں تقسیم کیا صحرائے سینا میں پہنچ کر بنی اسرائیل کے لیے پانی کا مسئلہ پیدا ہوا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے فرمایا اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو ایسا کرنے سے اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معلوم کرلیا اور پانی سے سیراب ہونے لگے دھوپ سے بچنے کے لیے اللہ نے بادلوں کا سایہ کردیا اور خوراک کے طور پر من اور سلویٰ نازل فرمایا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ ہماری عطا کردہ روزی میں سے پاک چیزیں کھائو نیز یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے ہمارا تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قِيْلَ لَہُمُ اسْكُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْيَۃَ وَكُلُوْا مِنْہَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ۝ 0 ۭ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 161 سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، وقال تعالی: وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] ، ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] ، فمن الأوّل يقال : سکنته، ومن الثاني يقال : أَسْكَنْتُهُ نحو قوله تعالی: رَبَّنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 161–162

ترکیب : قیل سے لھم متعلق ہے اسکنوا الخ جملہ مفعول مالم یسم فاعلہ ھذہ القریۃ صفت و موصوف مفعول فیہ حطۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای امرنا حطۃ سجدا حال ہے ادخلوا کے فاعل سے نغفر مجذوم ہے جواب امر کی وجہ سے قولا بدل کا مفعول موصوف غیر الذی صفت یا حال قیل کا مفعول مالم یسم فاعلہ ضمیر ہے جو الذی کی طرف راجع ہے۔ تفسیر : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کا قصہ ہے ان کے خلیفہ یوشع بن نون کا جبکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ملک شام میں پہنچے اور یرون ندی کو عبور کیا۔ اس قریہ سے مراد شہر بریکو ہے جس کو اریحا بھی کہتے ہیں۔ یہ شہر یروشلم سے بیس میل اور دریائے یرون سے 9 یا 7 میل کے فاصلہ پر آباد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 161–162

ارشاد فرمایا : وَاِذْ قِیْلَ لَھُمُ اسْکُنُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوْاالْبَابَ سُجَّدْا نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِیْٓئٰتِکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَطْلِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 162، 161) ” اور یاد کرو جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں رہو بسو ‘ اس میں سے جہاں سے چاہو کھائو پیو اور توبہ استغفار کرتے رہو اور دروازے میں سرفگندہ داخل ہو تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے ‘ خوب کاروں کو ہم مزید…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 161–162

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کا بیان جاری ہے۔ سورۃ البقرۃ، آیت : 58 میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بستی میں داخلہ کو یوں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ سورة المائدۃ، آیت : 21 میں ذکر ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فتح تمہارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ یہاں داخل ہونے کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے تینوں مقامات میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسر ائیل کو پوری طرح یقین دہانی کروائی گئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بیت المقدس میں داخلے کا حکم : آیت 161: وَاِذْ قِیْلَ لَھُمُ اسْکُنُوْاہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ (اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم اس آبادی میں جا کر رہو) اذکروااِذْ قِیْلَ لَھُمُ اس وقت کو یاد کرو جب ان سے کہا گیا اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَبیت المقدس میں وَکُلُوْا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِٓیْئٰتِکُمْ (اور کھائو اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا توبہ ہے توبہ اور جھکے جھکے دروازے میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے) قراءت : مدنی اور شامی نے تغفرلکم پڑھا خطیئاتکم مدنی اور خطایا کم ابو عمرو نے خطیئتکم شامی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

161 (واذ قیل لھم اسکتوا ھذہ القریۃ وکلوا منھا حیث شئتم وقولوا حطۃ وادخلوا الباب سجداً تغفرلکم) اہل مدینہ ابن عامر اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” تعظر “ تاء پر پیش کے ساتھ اور فاء کے فتحہ کے ساتھ اور باقی حضرات نے نون اور اس پر زبر پڑھی ہے اور فاء کے کسرہ کے ساتھ (خطیتتکم) اہل مدینہ اور یعقوب نے ” خطیئاتکم “ جمع اور پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے جمع کا صیغہ اور تاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ (سنرید المحسنین)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 160–162

(160 ۔ 162) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بارہ گروہ میں تھی ایک ہی اولاد تھی۔ اصل میں یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا انہیں کی اولاد میں یہ لوگ تھے اس لئے ان کو بنی اسرائیل کہتے ہیں اور یہ لوگ علیحدہ علیحدہ گروہ ہیں کثیر التعداد آدمی ہوگئے تھے اس لئے ان کو اللہ پاک نے فرمایا کہ بارہ فرقے الگ الگ کردئے گئے اور ہر ایک کا سردار اور امام جدا جدا تھا سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ کنعانی قوم کے ساتھ لڑنے سے جب بنی اسرائیل نے انکار کیا تو اس شرارت کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں قید کیا اور وہاں جب دھوپ کی شدت ہوئی پانی کو ترس گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 157–173

(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 150–168

عجلت اور سرعت کا فرق قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

222 اطاعت و احسان ذریعہ سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ احکام خداوندی کی اطاعت و پیروی باعث برکت و سرفرازی ہوتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہمارے ان اور ان احکام کی اطاعت و پیروی کرو۔ ہم بخش دیں گے تمہاری خطاؤں کو۔ یعنی تمہاری ان خطاؤں کو جو اس سے قبل تم سے سرزد ہوچکی ہیں اور نیکو کاروں کو ہم مزید فضل سے نوازیں گے۔ اور اس طرح تم لوگ دوہرے فائدے سے بہرہ ور اور سرفراز ہوجاؤ گے۔ اور یہی شان ہوتی ہے اللہ پاک کے احکام پر صدق دل سے عمل پیرا ہونے کی۔ کہ اس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، عنایتوں اور برکتوں سے سرفرازی و سرشاری نصیب ہوتی ہے۔ اس کی نعمتوں میں برکت و بڑھوتری حاصل ہوتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 160–166

بنی اسرائیل کا بقیہ بیان تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 158–162

رکوع نمبر 20 ۔ آیات 158 ۔ تا۔ 162 ۔ اسرار و معارف : جب آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء آپ کی خبر پہنچاتے رہے اور اپنی اپنی امت سے آپ پر ایمان لانے کا مطالبہ فرماتے رہے نیز یہ ارار بھی لیتے رہے کہ اگر تم میں سے کوئی آپ کا زمانہ پائے تو آپ کی اطاعت اختیار کرے۔ ۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 160–161

ف 1 یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے سارا ملک ملے گا۔ ( موضح) یا مطلب یہ ہے کہ گناہ معاف کرنے کے علاوہ ان کے درجے بھی بلند ہوں گے ( دیکھئے سو رہ البقرہ آیت 58) اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ اس قریہ ( شہر) سر مراد ایلتہ ( یا ایلات ہے جو بحر قلزم کے ساحل پر مدین پر مدین اور طور کے درمیان واقع ہے۔ ( کبیر) یہ شہر بحر قلزم کے اند خلیج عقبہ میں اس جگہ واقع تھا جہاں کج این اردن کی بندر گاہ عقبہ پائی جاتی ہے اس کے قریب خلیج عقبہ ہی ہیں یہود یوں نے جو نئی بندر گاہ بنائی ہے اس کا نام نام انہوں نے ایلات ہی رکھا ہے تفہیم القرآن کے حاشیہ نمبر پر لکھا ہے کہ بنی سرائیل کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:161) القریۃ۔ یہاں اور 2:58 میں القریۃ سے مراد بیت المقدس ہے۔ منھا۔ ای من اثمار القریۃ وزروعھا۔ یعنی شہر میں پائے جانے والے پھل وغیرہ ۔ حطۃ۔ ہم بخشش مانگتے ہیں۔ تو ہمارے گناہ چھوڑ۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:58)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 161–162

تشریح : آیت نمبر ا 16 تا 162 آپ نے اس سے پہلے کی آیات میں یہ پڑھ لیا ہے کہ بنی اسرائیل جنہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بہت عروج حاصل ہوا اور مصر کے اہم مقام پر بنی اسرائیل آباد ہوگئے تھے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد آل فرعون نے مصر کی سلطنت پر قبضہ کرلیا اور بنی اسرائیل کو ذلیل و خوار کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔ اس قوم کی ذلت و خواری جب انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ نے قوم بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا جنہوں نے اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھادی کہ قومیں جب اپنی ذندگی کا مقصد کھو بیٹھتی ہے تو پھر ان کی کوئی قدرو قیمت نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 161–163

یہ قصہ حضرت داود (علیہ السلام) کے وقت کا ہے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہود سے آپ ہفتہ کے دن شکار کھیلنے والوں کا حال دریافت کریں اور ان لوگوں پر بسبب مخالفت حکم الہی کے عذاب نازل ہوا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب آوے۔ تم میری صفت کو جو کتابوں میں لکھی ہوئی ہے چھپاتے ہو۔ وہ لوگ بحر قلزم کے کنارے رہتے تھے۔ ان کو ہفتہ کے روز شکار کرنے کو منع کیا گیا تھا مگر حیلہ سے مچھلیاں پکڑنے لگے۔ پھر بھی وہ ہاتھ نہیں آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عدول حکمی کا یہ مزہ چکھایا کہ ان کو بندر بنادیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 160–161

(ف 1) یہ اس وقت کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل کو جنگل میں پانی کی ضرورت محسوس ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے وحی سے اشارہ پاکر ایک پتھر پر لٹھ مارا ، تو بارہ چشمے پانی کے پھوٹ نکلے ، اور چونکہ بنی اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ تھے ، اس لئے پانی کی فروانی کی وجہ سے ان کی سیرابی کا خاصا انتظام ہوگیا ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اضرب کے معنی چلنے کے ہیں ، مقصد یہ تھا موسیٰ (علیہ السلام) لاٹھی ٹیکتے ہوئے پہاڑ پر چڑھیں وہاں بارہ چشمے بہتے ہوئے پائیں گے ۔ یہ تاویل قطعا غلط ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ معجزات اور خوارق اللہ کا انکار ہے ، دلائل یہ ہیں :۔ 1۔ ضرب کے معنی چلنے کے ہوتے ہیں تو اس وقت صلہ ب نہیں ہوتا ، فی ہوتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

161 اور وہ زمانہ بھی قابل ذکر ہے جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں جاکر رہو اور اس بتی میں جہاں سے چاہو کھائو اور جب اندر جانے لگو تو زبان سے حطۃ کہتے ہوئے جانا اور عاجزی سے کمر کو جھکائے ہوئے دروازے میں داخل ہونا اگر تم نے حکم کی تعمیل کی تو ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دیں گے۔ یعنی بیابان کی زندگی سے جب تنگ آئے تو بستی میں جانے کا حکم ہوا۔ جانے کے آداب بتائے دروازے میں داخل ہونے کا طریقہ سکھایا تعمیل ارشاد پر زیادہ عطا کا وعدہ فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے سارا ملک ملے گا ۔ 12 عام طور سے اس بستی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 160–162

ف 5۔ اور ہر ایک پر ایک سردار نگرانی کے لیے مقرر کردیا جن کا ذکر مائدہ کے رکوع سوم میں ہے۔ وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا۔ 6۔ یہ واقعات وادی تیہ کے ہیں ان کی تفصیل سورة بقرہ میں گزرچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل کو ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم اور ان کی نافرمانی کا بیان : 184: اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے ۔ قرآن کریم میں اور کسی صحیح حدیث میں اس کا ذکر موجود نہیں ۔ مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے ۔ کسی نے بیت المقدس لکھا ہے اور کسی نے سطیم یا شطیم بتایا ہے ۔ بہر حال وہ کوئی بستی ہو ان میں داخل ہونے والوں کو وہ یقیناً معلوم تھی لیکن ان کو جس طریقہ سے اس بستی میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا انہوں نے اس کے صریحاََ خلاف کیا اور جو ہدایت ان کو دی گئی اس کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا اور جو نظم و ضبط ان کو بتایا گیا تھا اس کے خلاف کیا اس واقع کا ذکر بھی سورة البقرہ کی آیت 58 میں گزر چکا ہے ۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 160–162

The above verses have enumerated various favours that Allah bestowed upon the Israelites, and spoke of their deviation from the commands of Allah resulting in a heavenly punishment for their transgression. The translation of the verses given above is self explanatory and the relevant details have already been given in Surah Al-Baqarah (First volume of this book, translation and commentary under verses 57-59).

Read the full tafseer →