Al-A'raaf 7:160

Al-A'raaf · from ayah 160

7:160

وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا ؕ— وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ— فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا ؕ— قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ؕ— وَظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ؕ— كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ؕ— وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ۟وَقَطَّعۡنٰهُمُ اثۡنَتَىۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا‌ ؕ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اِذِ اسۡتَسۡقٰٮهُ قَوۡمُهٗۤ اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ‌ ۚ فَاْنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا‌ ؕ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ‌ؕ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰىؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ‌ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We divided them into twelve descendant tribes [as distinct] nations. And We inspired to Moses when his people implored him for water, "Strike with your staff the stone," and there gushed forth from it twelve springs. Every people knew its watering place. And We shaded them with clouds and sent down upon them manna and quails, [saying], "Eat from the good things with which We have provided you." And they wronged Us not, but they were [only] wronging themselves.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 20 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:160

اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کر کے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی اور جب موسیٰؑ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو چنانچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی ہم نے اُن پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلویٰ اتارا کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ان کو باره خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کر دی اور ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا جب کہ ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو پس فوراً اس سے باره چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کر لیا۔ اور ہم نے ان پر ابر کو سایہ فگن کیا اور ان کو من وسلوی (ترنجبین اور بٹیریں) پہنچائیں، کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) بارہ خاندانوں میں اس طرح تقسیم کردیا تھا کہ وہ الگ الگ (انتقامی) جماعتوں کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی مانگا تو ہم نے ان کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی فلاں پتھر پر مارو۔ چنانچہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر خاندان کو اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم ہوگئی۔ اور ہم نے ان کو بادل کا سایہ دیا، اور ہم نے ان پر من وسلوی (یہ کہہ کر) اتارا کہ : کھاؤ وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں دیا ہے۔ اور (اس کے باوجود انہوں نے ناشکری کی تو) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے انہیں گروہ در گروہ بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا، اور ہم نے موسٰی ؑ کے پاس (یہ) وحی بھیجی جب اس سے اس کی قوم نے پانی مانگا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو، سو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، پس ہر قبیلہ نے اپنا گھاٹ معلوم کرلیا، اور ہم نے ان پر اَبر کا سائبان تان دیا، اور ہم نے ان پر منّ و سلوٰی اتارا، (اور ان سے فرمایا:) جن پاکیزہ چیزوں کا رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ، (مگر نافرمانی اور کفرانِ نعمت کر کے) انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کر رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے انھیں بارہ قبیلوں میں تقسیم کردیا، جو کئی گروہ تھے اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی، جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا کہ اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، بلاشبہ سب لوگوں نے اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم کرلی اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ان پر من اور سلویٰ اتارا، کھاؤ ان پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کیں اور انھوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کو بارہ جماعتیں ہی بنادیا تھا۔ اور جب موسیٰ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اسے وحی کی کہ اس چٹان پر اپنا عصا مارو۔ تو اس چٹان سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ (اور) ہر قبیلہ نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا۔ نیز ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ان پر من وسلویٰ نازل کیا (اور فرمایا) یہ پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور ان لوگوں نے ہمارا تو کچھ بھی نہ بگاڑا بلکہ خود اپنے آپ پر ہی ظلم کر رہے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں الگ الگ امتیں بنا دیا اور ہم نے موسیٰ کی طرف، جب اس کی قوم نے پانی طلب کیا، وحی کی کہ اپنی لٹھیا پتھر پر مارو تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ معین کرلیا اور ہم نے ان پر بدلیوں کا سایہ کیا اور ان پر من اور سلوی اتارا۔ کھاؤ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے۔ اور انہوں نے کچھ ہمارا نہیں بگاڑا بلکہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں بانٹ کر مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی، اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کی طرف جب کہ پانی مانگا ان سے ان کی قوم نے کہ اپنی لاٹھی مارو فلاں پتھر پر، پس (لاٹھی کا مارنا تھا کہ) پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے، (اور اس طور پر) کہ اچھی طرح پہچان لیا ان میں کے ہر گروہ نے اپنے گھاٹ کو، اور ہم نے ان پر سایہ کردیا بادل کا، اور اتار دیا ان پر ہم نے (اپنے خزانہ غیب سے) من وسلوی، (اور ان سے کہا) کہ تم لوگ کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے بخشی ہیں تم کو، اور انہوں نے (اپنے کرتوتوں سے) ہمارا کچھ نہیں بگاڑا، بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انہیں بارہ خاندانوں جماعتوں میں تقسیم کردیا۔ اور ہم نے موسیٰ ؑ کو جب کہ ان کی قوم نے ان سے پانی طلب کیا وحی کی کہ اپنے (اس) عصا کو (فلاں) پتھر پر مارو تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (اور) ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا مقام معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کردیا جو ہم نے تم کو دے رکھی ہیں۔ اور انہوں نے (کوئی) ظلم ہم پر نہیں کیا بلکہ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) اور ہم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کردیا بارہ قبیلوں کی جماعتوں میں اور ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ ؑ سے آپ ؑ کی قوم نے کہ اپنی لاٹھی سے چٹان پر ضرب لگائیے پس اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تو ہر قبیلے نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو اور ہم نے ان کے اوپر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ (اور ان سے کہا کہ) کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو (بنی اسرائیل کے) بارہ قبیلوں کو اور بارہ ہی جماعتیں بنا دیا اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان کے سروں پر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور ان سے کہا کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھائو۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ جو نقصان کیا اپنا ہی کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We divided them into twelve tribes, forming them into communities. When his people asked Moses for water We directed him: 'Smite the rock with your rod.' Then twelve springs gushed forth from the rock and every people knew their drinking-places. And We caused thick clouds to provide them shade, and We sent down upon them manna and quails, saying: 'Eat of the clean things that We have provided you.' They wronged not Us, but it was themselves that they wronged.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We divided them into twelve tribes, as separate communities, and We revealed to Musa when his people asked him for water, :Strike the rock with your staff. Then twelve springs gushed forth from it. Each tribe came to know their drinking place. We shaded them with the shadow of the clouds. And We sent down to them Mann and Salwa (saying), :Eat of the good things we have provided you. And they did us no harm, rather they have been harming their own selves.

— Muhammad Taqi Usmani

And We divided them into twelve tribes, as separate communities, and We revealed to Musa when his people asked him for water, :Strike the rock with your staff. Then twelve springs gushed forth from it. Each tribe came to know their drinking place. We shaded them with the shadow of the clouds. And We sent down to them Mann and Salwa (saying), :Eat of the good things we have provided you. And they did us no harm, rather they have been harming their own selves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We divided them into twelve tribes (as distinct) nations. We revealed to Musa when his people asked him for water (saying): "Strike the stone with your stick," and there gushed forth out of it twelve springs, each group knew its own place for water. We shaded them with the clouds and sent down upon them the manna and the quail (saying): "Eat of the good things with which We have provided you." They harmed Us not but they used to harm themselves.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We divided them into twelve tribes, nations; and We inspired Moses, when his people asked him for water, saying: Smite with thy staff the rock! And there gushed forth therefrom twelve springs, so that each tribe knew their drinking-place. And we caused the white cloud to overshadow them and sent down for them the manna and the quails (saying): Eat of the good things wherewith we have provided you. They wronged Us not, but they were wont to wrong themselves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We divided them into twelve descendant tribes [as distinct] nations. And We inspired to Moses when his people implored him for water, "Strike with your staff the stone," and there gushed forth from it twelve springs. Every people knew its watering place. And We shaded them with clouds and sent down upon them manna and quails, [saying], "Eat from the good things with which We have provided you." And they wronged Us not, but they were [only] wronging themselves.

— Saheeh International

We divided the descendants of Israel into twelve tribes and told Moses to strike the rock with his staff to let twelve fountains gush out therefrom; his people had asked him to supply them with water. The twelve flowing springs were divided among them (a spring for each tribe) and each tribe knew its drinking place well. We provided them with shade from the clouds, sent down manna and quails to them for food, and told them to eat the pure things which We had given them. They did not do injustice to Us but they wronged themselves.

— Muhammad Sarwar

And We divided them into twelve tribes, as nations; and We revealed to Musa when his people asked him for water: Strike the rock with your staff, so outnowed from it twelve springs; each tribe knew its drinking place; and We made the clouds to give shade over them and We sent to them manna and quails: Eat of the good things We have given you. And they did not do Us any harm, but they did injustice to their own souls.

— Muhammad Habib Shakir

And We cut them up into twelve tribes as communities. And We revealed unto Musa, when his people asked him for drink: Smite the rock with thy rod. Then gushed forth therefrcm twelve springs: every people already knew their drinking-places. And We shaded them with thick clouds, and We sent down upon them the manna and the quails, saying: eat of the clean things wherewith We have provided you. And they wronged not Us, but themselves they were wont to wrong.

— Abdul Majid Daryabadi

We divided them into twelve tribes or nations. We directed Moses by inspiration, when his (thirsty) people asked him for water: "Strike the rock with thy staff": out of it there gushed forth twelve springs: Each group knew its own place for water. We gave them the shade of clouds, and sent down to them manna and quails, (saying): "Eat of the good things We have provided for you": (but they rebelled); to Us they did no harm, but they harmed their own souls.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:160

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 160–162

یہ سب آیتیں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کردی ہے وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے ہم نے وہیں ذکر کردیا ہے دوبارہ کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 118 اشارہ ہے بنی اسرائیل کی اس تنظیم کی طرف جو سورة مائدہ آیت 12 میں بیان ہوئی ہے اور جس کی پوری تفصیل بائیبل کی کتاب گنتی میں ملتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوہ سینا کے بیابان میں بنی اسرائیل کی مردم شماری کرائی، پھر ان کے 12 گھرانوں کو جو حضرت یعقوب کے دس بیٹوں اور حضرت یوسف کے دو بیٹوں کی نسل سے تھے الگ الگ گروہوں کی شکل میں منظم کیا، اور ہر گروہ پر ایک ایک سردار مقرر کیا تاکہ وہ ان کے اندر اخلاقی، مذہبی، تمدنی و معاشرتی اور فوجی حیثیت سے نظم قائم رکھے اور احکام شریعت کا اجراء کرتا رہے۔ نیز حضرت یعقوب کے بارھویں بیٹے لاوی کی اولاد کو جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–162

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (ایک انعام بنی اسرائیل پر یہ کیا کہ انکی اصلاح و انتظام کے لئے) ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی (اور ہر ایک پر ایک سردار نگرانی کیلئے مقرر کردیا، جن کا ذکر مائدہ کے رکوع سوم میں (آیت) (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا) اور (ایک انعام یہ کہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا جبکہ انکی قوم نے ان سے پانی مانگا (اور انہوں نے حق تعالیٰ سے دعا کی، اس وقت یہ حکم ہوا) کہ اپنے اس عصاء کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے (بعدد ان بارہ خاندانوں کے) پھوٹ نکلے (چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 160–162

وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا ۭوَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۭقَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۭوَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭكُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۭوَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ وَاِذْ قِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 160–161

160۔ 1 اَسْبَا ط، سِبْط، ُ کی جمع ہے۔ بمعنی پوتا یہاں اسباط قبائل کے معنی میں ہیں۔ یعنی حضرت یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے معرض وجود میں آئے ہر قبیلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایک نقیب (نگران) بھی مقرر فرمادیا یہاں پر اللہ تعالیٰ ان بارہ قبیلوں کی بعض بعض صفات میں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے کی بنا پر ان کے الگ الگ گروہ ہونے کو بطور احسان کے ذکر فرما رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 160–162

79: آیت نمبر 160 تا 162 میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سورة بقرہ (2۔ 57 تا 61) میں گزرچکے ہیں، تشریح کیلئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی جس کا سایہ حضرت موسیٰ پر قائم و دائم رہا۔ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کرکے کفر کیا اور اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرکے غلطی معاف کروائی۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنے کا مطالبہ کیا اور زلزلے کی وجہ سے ان کی جان نکل گئی۔ اور حضرت موسیٰ کی آہ وزاری کے بعد دوبارہ ان کو زندگی ملی۔ اسی طرح ان کو 12 گروہوں میں ان کی شاخوں کے اعتبار سے تقسیم کیا گیا۔ ان کے 12 گروہ تھے اور ہر گروہ حضرت یعقوب کے پوتوں میں سے کسی ایک کی شاخ تھا۔ ان لوگوں نے قبائل کی طرح اپنے سلسلہ انساب کو اچھی طرح محفوظ کر رکھا تھا۔ وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا۔ اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اصلاح و انتظام کے لیے ان کی بارہ جماعتیں جو بارہ دادوں کی اولاد تھی الگ الگ کردی گئیں تھیں۔ پھر ہر ایک جماعت کا ایک نقیب مقرر فرما دیا جو اس کی نگرانی اور اصلاح کا خیال رکھے۔ (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا) 5 ۔ المائدہ :12)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 160 وَقَطَّعْنٰہُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا اُمَمًاط۔ ان کی نسل حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں سے چلی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لحاظ سے ان میں ایک مضبوط قبائلی نظام کو قائم رکھا۔ ہر بیٹے کی اولاد سے ایک قبیلہ وجود میں آیا اور یہ الگ الگ بارہ جماعتیں بن گئیں۔ فَانْبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًاط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ ط۔ مَشرب اسم ظرف ہے ‘ یعنی پانی پینے کی جگہ۔ ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معین کرلیا تاکہ پانی کی تقسیم میں کسی قسم کا کوئی تنازعہ جنم نہ لے۔ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ وہ اللہ کا کچھ نقصان کر بھی کیسے سکتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

162 بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے اور نقیبوں کی ذمہ داری :۔ بنی اسرائیل کی مردم شماری، پھر ان کو سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں کی اولاد ہونے کے لحاظ سے بارہ قبیلوں میں منظم کرنے کا کام سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے سر انجام دیا تھا پھر ان قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کا ایک نقیب یا سردار مقرر کیا۔ اس سردار کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے قبیلہ کے دینی، تمدنی اور معاشی مسائل کی نگرانی کرے اور ان لوگوں کو راہ راست پر رکھنے کا حتی المقدور انتظام کرے۔ پھر ان سب پر بنی لاوی کے سردار کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ اپنے قبیلہ کے مسائل کی نگرانی کے علاوہ دوسرے سب قبائل کے حالات کی بھی نگرانی کرے گا اور یہ وہی قبیلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

227 ۔ (اور ہر جماعت کا نگراں ایک ایک سردار کو مقرر کردیا) یہی مضمون سورة مائدہ میں بھی آیا ہے۔ (آیت) وبعثنا منھم الثنی عشرنقیبا “۔ توریت میں اسی سلسلہ میں ہے۔ ” یہ سب بنی اسرائیل کے بارہ فرقہ ہیں اور یہی ہے جو انکے باپ نے انہیں کہہ کے برکت دی۔ “ (پیدائش۔ 4 1:28) نیز (خروج 28:2 1) (آیت) ” اسباط امما “۔ اسباط یہاں بدل ہے۔ (آیت) ” اثنتی عشرۃ “ سے اور امما صفت ہے اسباط کی اسباطا بدل من اثنی عشر امما نعت للاسباط (قرطبی) امما بدل بعد بدل اونعت اسباط (بیضاوی) (آیت) قطعنھم “ یعنی انہیں اتنے گروہوں میں تقسیم کردیا۔ اے صیرنا ھم قطعا ای فرقا (کبیر) 228 ۔ حاشیے سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 7 کے تحت میں گزر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 160–162

واوحینا۔۔۔۔ قومی (الآیۃ) سابق میں ان احسانات کا ذکر تھا جن کا تعلق انتظام سے تھا، اب مزید تین احسانوں کا ذکر ہے، ایک یہ کہ جزیرہ نمائے سینا بیابانی علاقہ میں ان کیلئے پانی کے انتظام کا غیر معمولی مسئلہ جو کہ دشوار ترین کام تھا غیر معمولی طریقہ پر حل کیا، دوسرے دھوپ سے بچانے اور سرچھپانے کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں تھا اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ سے دعاء کرکے اس طرح حل کرایا کہ بادل نے ان کیلئے سائبان اور خیمہ کا کام دیا تیسری بات یہ کہ خوراک کا مسئلہ بھی بڑا اہم تھا اس کا انتظام بھی من وسلویٰ کے نزول کی شکل میں کیا گیا، ظاہر ہے کہ مذکورہ تین بنیادی ضرورتوں کا بروقت اگر انتظام نہ کیا جاتا تو قوم جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقطعنہم اثنتی عشرۃ اسباط امما اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی۔ ومن قوم موسیٰ موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم میں سے یعنی بنی اسرائیل میں سے۔ اُّمّۃٌیعنی ایک جماعت بالحق (یہ لفظ یا حال ہے) یعنی ایسی حالت میں کہ وہ خود برحق ہیں اصحاب حق ہیں یا بالحق سے مراد ہے بکلمۃ الحق یعنی وہ لوگوں کو حق بات کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔ اس حق کے سبب جس پر وہ خود قائم ہیں لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں وبہ یعدلون یعنی آپس کے معاملات میں بھی حق کے ساتھ ہی انصاف کے فیصلے کرتے ہیں۔ ضحاک ‘ کلبی اور ربیع کا بیان ہے کہ جس جماعت کا اس آیت میں تذکرہ ہے وہ انتہائی مشرق میں چین سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(160) ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ (12) خاندانوں میں تقسیم کردیا، نو (9) خاندان علاحدہ ہیں اور ڈیڑھ خاندان مشرق کی طرف چین کی نہر رمل پر ارون کے اندر ہے اور ڈھائی خاندان تمام دنیا میں ہیں۔ اور ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو، چناچہ اس سے بارہ نہریں پھوٹ پڑیں اور ہر ایک خاندان نے اپنی نہر کو معلوم کرلیا اور وادی تیہ میں ان کو ابردن میں سورج کی شدت سے محفوظ رکھتا تھا اور رات کو چراغ کی طرح چمکتا تھا اور ہم نے انھیں من وسلوی دیا۔ مگر انہوں نے غلطی کی اور اس سے محروم ہوگئے انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 160–162

وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا : ”اَسْبَاطًا“ یہ ”سَبْطٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی اولاد کی اولاد ہے۔ یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبائل وجود میں آئے۔ اپنے الگ الگ اوصاف کی وجہ سے ہر قبیلے نے اپنا الگ وجود برقرار رکھا، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے پر ایک نقیب مقرر فرمایا : (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭ) [ المائدۃ : 12 ] ”اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے۔“ ”اُمَمًا“ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تعداد میں بہت بڑھ گئے۔ اس آیت میں ”فَانْۢبَجَسَتْ“ اور سورة بقرہ میں ”فَانْفَجَرَت“ ہے۔ راغب اصفہانی ؓ فرماتے ہیں کہ ”اِنْبَجَسَ“ اکثر اس کے متعلق کہا جاتا ہے جو تنگ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 160–162

آیت نمبر : 160۔ 162 قولہ تعالیٰ : آیت : وقطعنٰھم اثنتی عشرۃ اسباطا امما اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتیں شمار کیں۔ اور انہیں قبیلوں میں تقسیم کردیا تاکہ ہر قبیلے کا معاملہ ان کے اپنے سردار کی طرف سے معروف ہو، تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر معاملہ آسان ہوجائے۔ اور قرآن کریم میں ہے : آیت : وبعثنا منھم اثنی عشر رنقیبا ( المائدہ : 12) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 557) ( اور ہم نے مقرر کیے ان میں سے بارہ سردار) یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ : آیت : اثنتی عشرۃ حالانکہ لفظ السبط مذکر ہے کیونکہ اس کے بعد امما ہے پس تانیث امم کی وجہ سے ہوئی۔ اور اگر السبط کے مذکر ہونے کی وجہ سے اثنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 159–162

(1) امام فریابی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو کہ انجیل (یعنی کتاب) ان کے دلوں میں محفوظ ہوگی ؟ فرمایا یہ امت ہوگی تیرے بعد جو احمد کی امت ہے۔ عرض کیا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو جو پانچ نمازیں پڑھیں گے جو کفارہ ہوں گی ان کے درمیان (ہونے والے گناہوں) کا فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب میں پاتا ہوں ایک امت کو جو اپنے مالوں کا صدقہ دیں گے پھر وہ ان کے درمیان لوٹ جائیں گے اور وہ اس کو کھائیں گے۔ فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب مجھے احمد کی امت میں سے کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَقَطَّعْنٰهُمُ : اور ہم نے تقسیم کیا ان کو ] [ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ : بارہ (قبیلوں ) میں ] [ اَسْبَاطًا : نسلیں ہوتے ہوئے ] [ اُمَمًا ۭ : گروہ در گروہ ہوتے ہوئے ] [ وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کیا ] [ اِلٰي مُوْسٰٓي : موسیٰ کی طرف ] [ اِذِ : جب ] [ اسْتَسْقٰىهُ : پانی مانگا ان سے ] [ قَوْمُهٗٓ: ان کی قوم نے ] [ اَنِ : کہ ] [ اضْرِبْ : آپ ماریے ] [ بِّعَصَاكَ : اپنی لاٹھی سے ] [ الْحَجَرَ ۚ : اس پتھر کو ] [ فَانْۢبَجَسَتْ : تو پھوٹ بہے ] [ مِنْهُ : اس سے ] [ اثْنَتَا عَشْرَةَ : بارہ ] [ عَيْنًا ۭ: چشمے ] [ قَدْ عَلِمَ : جان لیا ] [ كُلُّ اُنَاسٍ : سب لوگ نے (یعنی قبیلہ ) ] [ مَّشْرَبَهُمْ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 159–160

بنی اسرائیل میں اچھے لوگ بھی تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے بادلوں کا سایہ کیا اور من وسلویٰ نازل فرمایا اوپر چار آیات کا ترجمہ نقل کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں اچھے لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس زمانے میں توریت اور انجیل پر عمل کیا جب ان کتابوں پر عمل کرنے کا حکم تھا اور منسوخ نہیں کی گئی تھیں۔ پھر جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ کو انہوں نے توریت و انجیل میں بیان فرمودہ علامات سے پہچان لیا تو آپ پر ایمان لے آئے اور عامل بالقرآن ہوگئے۔ پھر دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے رہے اور اسی کے موافق فیصلے کرتے رہے کج بحثی اور کج روی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–162

ذکر احوال بنی اسرائیل قال اللہ تعالیٰ ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانوا یظلمون (ربط) اوپر سے سلسلۂ کلام موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں چلا آرہا ہے اب یہ بتاتے ہیں بنی اسرائیل میں اب بھی بعضے لوگ خدا پرست اور انصاف دوست ہیں جو لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کرتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام وگیرہ کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور اس بات کی شہادت دی کہ یہ وہی نبی امی ہیں جن کی توریت اور انجیل میں خبر دی گئی ہے اور ایسے ہی حق پرست اس رحمت خاصہ میں داخل ہوئے جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ میں دعا کی تھی اور انہی اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ظالم اور سرکش بھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

158: یہ آٹھواں واقعہ ہے۔ حضرت یعقوب (علیہم السلام) کے بارہ بیٹے تھے۔ ان بارہ بھائیوں کی اولاد بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلائے ہیں۔ قوم کا بارہ قبیلوں پر مشتمل ہونا یہ بھی اللہ کا ایک احسان ہے۔ “ وَ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی الخ ” یہ دوسرا احسان ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو اس سے پانی کے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر قبیلے کے لوگوں نے آسانی کے ساتھ علیحدہ چشمہ سے پانی پیال۔ اور دھوپ سے بچانے کے لیے ان پر بادلوں کا سایہ کردیا اور کھانے کے لیے ترنجبین اور بٹیریں بھیج دیں۔ جب وہ صبح اٹھتے تو ایک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعض منصف مزاج لوگوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اگرچہ ایسے لوگوں کی تعداد بالکل قلیل ہے مگر ان کی صفت یہ ہے کہ وہ حق کے مطابق رہنمائی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں جب حضور ﷺ کی بعثت ہوئی اور قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو یہ لوگ فوراً ایمان لے آئے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ نے دعا کا ایک حصہ قبول کرکے بنی اسرائیل کو معاف فرما دیا تاہم دوسرے حصے کے متعلق فرمایا کہ میری رحمت خاصہ ان لوگوں کو پہنچے گی جن میں مذکورہ اوصاف پائے جائیں گے پھر حضور ﷺ کی نبوت عامہ کا ذکر ہوا قرآن پاک اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَطَّعْنٰہُمُ اثْنَـتَيْ عَشْرَۃَ اَسْـبَاطًا اُمَمًا۝ 0 ۭ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىہُ قَوْمُہٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ۝ 0 ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَيْنًا۝ 0 ۭ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ۝ 0 ۭ وَظَلَّلْنَا عَلَيْہِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْہِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى۝ 0 ۭ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ۝ 0 ۭ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَ۝ 160 قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : قطعنا بمعنی صیّرنا تب اثنتی عشرۃ ممیز اسباطا تمیز بلکہ بدل لانہ جمع امما دوسرا بدل مجموعہ مفعول ثانی ورنہ تقدیر یوں ہوگی فرقنا ہم فرقا۔ ان اضرب ان مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اس تقدیر پر یہ مفعول اوحینا ہوگا اور بمعنی اے بھی ہوسکتا ہے۔ تب یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی۔ اثنتا عشرۃ ممیز عینا تمیز یہ انبجست کا فاعل منہ اس سے متعلق انفسہم منصوب ہے یظلمون سے الا بنجاس الانفجار والاسباط جمع السبط ہو ولدالولد والمراد بھا القبائل۔ تفسیر : یہاں بنی اسرائیل پر جو کچھ اس نے ان بیابانوں میں انعام و عنایت کی ان کا ذکر فرماتا ہے کہ باوجودیکہ انہوں نے قلزم کا معجزہ دیکھا جس میں ان پر بڑی عنایت تھی کہ ان کو اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے۔ وَقَطَّعْنٰہُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا اُمَمًاط وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اِذِاسْتَسْقٰہُ قَوْمُہٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَج فَامنْبَجَسَتْ مَنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنْاط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْط وَطَلَّلْنَا عَلَیْھِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْھِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰیط کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْط وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (الاعراف : 160) ” اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں الگ الگ امتیں بنادیا ‘ اور ہم نے موسیٰ کی طرف جب کہ اس کی قوم نے پانی طلب کیا وحی کی کہ اپنا عصاء پتھر پر مارو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہدایت کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم تھی ایک طبقہ ہمیشہ حق پر قائم رہا جبکہ دوسرا طبقہ حق و باطل کی کشمکش میں پھسلتا اور سنبھلتا رہا۔ اب بار بار پھسلنے والے طبقے کا ذکر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنیادی طور پر مختلف قبائل میں بٹی ہوئی تھی جن کی تقسیم مفسّریننے یوں بیان کی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دس بیٹے تھے اس قوم کے دس قبائل انھی کی طرف منسوب تھے۔ دو قبیلوں کی نسبت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کی طرف تھی اس طرح یہ بارہ قبائل بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں باہمی جنگ وجدال سے بچانے کے لیے بارہ چشموں کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کے بارہ قبائل اور ان پر انعامات : آیت 160: وَقَطَّعْنٰہُمُ (ہم نے ان کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا) یعنی گروہوں میں اور ایک دوسرے سے ممتاز کردیا۔ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا (بارہ خاندانوں میں) جیسا کہتے ہیں اثنتی عشرۃ قبیلۃ۔ الاسباط بیٹے کی اولاد جمع سبط۔ یہ یعقوب ( علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں کی اولاد میں بارہ قبائل تھے۔ مسئلہ : عشرہ تک کے علاوہ کی تمیز مفرد آتی ہے اور یہاں اسباط جمع ہے مگر یہاں مراد اثنتی عشرہ قبیلہ ہے اور ہر قبیلہ سبط ہے نہ کہ اسباط پس یہاں قبیلہ کی جگہ اسباط کہہ دیا۔ معنی کا لحاظ کرتے ہوئے۔ اُمَمًا (جماعتوں کی صورت میں) یہ اثنتی عشرہ سے بدل ہے یعنی قطعنا ہم اممًا ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 160 (وقطعنھم اثنی عشرۃ اسیاطاً امما) ہم نے نے بنی اسرائیلیوں کو فرقہ فرقہ کردیا۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ ” النتی عشرہ “ مئونث ذکر کیا ہے حالانکہ سبط مذکر ہے اس وجہ سے کہ اس کا تعلق ” امما “ سے ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کو بارہ مختلف جماعتوں میں جدا جدا کردیا اور ” اسباطا امما “ جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے حالانکہ دس سے اوپر کی تفسیر جمع کے ساتھ نہیں کی جاتی۔ پس ” اتالی النا عشر رجالا نہیں کہا جئے گا ؟ جواب یہ ہے کہ اسباط حقیقت میں مفسر محذوف کی صفت ہے اور وہ فرقتہ ہے یعنی ” وقطعناھم اثنتی عشرۃ فرقہ امما “ اور بعض نے کہا ہے اس میں تقدیم اور تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 160–162

(160 ۔ 162) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بارہ گروہ میں تھی ایک ہی اولاد تھی۔ اصل میں یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا انہیں کی اولاد میں یہ لوگ تھے اس لئے ان کو بنی اسرائیل کہتے ہیں اور یہ لوگ علیحدہ علیحدہ گروہ ہیں کثیر التعداد آدمی ہوگئے تھے اس لئے ان کو اللہ پاک نے فرمایا کہ بارہ فرقے الگ الگ کردئے گئے اور ہر ایک کا سردار اور امام جدا جدا تھا سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ کنعانی قوم کے ساتھ لڑنے سے جب بنی اسرائیل نے انکار کیا تو اس شرارت کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں قید کیا اور وہاں جب دھوپ کی شدت ہوئی پانی کو ترس گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 157–173

(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 150–168

عجلت اور سرعت کا فرق قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

220 بنی اسرائیل کی بارہ مختلف گروہوں میں تقسیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو تقسیم کر کے بارہ خاندانوں کی شکل دے دی تاکہ ان کو نظم و نسق قائم رکھنے میں سہولت و آسانی ہو۔ " اسباط " جمع ہے " سبط " کی، جسکے معنی " اولاد " کے آتے ہیں۔ اور اس کا اطلاق گروہ، قبیلہ اور گروپ پر ہوتا ہے۔ سو بنی اسرائیل کو بارہ مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا گیا تھا اور ہر قبیلے پر اس کا ایک سردار مقرر کردیا گیا تھا جو اس کی نگرانی کرتا تھا۔ اور اگر ان میں سے کسی گروہ کو حضرت موسیٰ تک اپنی بات پہنچانا ہوتی تو وہ انہی کے توسط سے پہنچاتا کہ وہی ان کے نگران اور ذمہ دار ہوتے تھے۔ جیسا کہ سورة مائدہ میں ارشاد فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 160–166

بنی اسرائیل کا بقیہ بیان تشریح : ان آیات کی سورة البقرہ میں کافی وضاحت ہوچکی ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات ان کی نافرمانیاں اور پھر ان پر عذاب کیسے نازل ہوا۔ بنی اسرائیل بڑی مشہور قوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں جن کا ذکر مذکورہ آیات میں ملتا ہے۔ اس قوم کا ذکر قرآن پاک میں بارہا کیا جا چکا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصلیت اپنی عظمت وقدرت، رحم و کرم یاد دلاتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھاتا ہے کہ اس کا غضب، غصہ اور عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ ہر شخص کو اس بات کا خیال ہر وقت رکھنا چاہیے۔ پھر ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 158–162

رکوع نمبر 20 ۔ آیات 158 ۔ تا۔ 162 ۔ اسرار و معارف : جب آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء آپ کی خبر پہنچاتے رہے اور اپنی اپنی امت سے آپ پر ایمان لانے کا مطالبہ فرماتے رہے نیز یہ ارار بھی لیتے رہے کہ اگر تم میں سے کوئی آپ کا زمانہ پائے تو آپ کی اطاعت اختیار کرے۔ ۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 160–161

ف 1 یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا ہے آگے سارا ملک ملے گا۔ ( موضح) یا مطلب یہ ہے کہ گناہ معاف کرنے کے علاوہ ان کے درجے بھی بلند ہوں گے ( دیکھئے سو رہ البقرہ آیت 58) اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ اس قریہ ( شہر) سر مراد ایلتہ ( یا ایلات ہے جو بحر قلزم کے ساحل پر مدین پر مدین اور طور کے درمیان واقع ہے۔ ( کبیر) یہ شہر بحر قلزم کے اند خلیج عقبہ میں اس جگہ واقع تھا جہاں کج این اردن کی بندر گاہ عقبہ پائی جاتی ہے اس کے قریب خلیج عقبہ ہی ہیں یہود یوں نے جو نئی بندر گاہ بنائی ہے اس کا نام نام انہوں نے ایلات ہی رکھا ہے تفہیم القرآن کے حاشیہ نمبر پر لکھا ہے کہ بنی سرائیل کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:160) قطعنہم۔ ماضی جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تقطبع مصدر (باب تفعیل) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں ۔ خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام وغیرہ۔ یا بصیرت سے ہو جیسے معنوی چیزیں۔ قرآن میں ہے : السارق والساقۃ فاتطعوا ایدیہما (5:38) اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔ اور دوسری جگہ ہے : فالذین کفروا قطعت لہم ثیاب من النار (22:19) جو کافر ہیں ان کیلئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے۔ یہاں اس آیۃ میں جملہ کا مطلب ہے : کہ ہم نے ان کو بانٹ دیا۔ ہم نے ان کو تقسیم کردیا۔ اسباطا۔ سبط کی جمع۔ قبیلے۔ ایک داد ا کی اولاد۔ اثنتی عشرۃ کا بدل ہے۔ امما۔ فرقے ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 159–160

تشریح : آیت نمبر 159 تا 160 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تمام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا سے گذر رہے تھے تاکہ بنی اسرائیل کو فلسطین میں آباد کردیں ۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی گنتی کرانے کے بعد ان کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کردیا۔ جیسا کہ آپ نے اس سے پہلے پڑھ لیا ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) فلسطین سے مصر آئے ہیں اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کی تعداد ایک سو سے بھی کم تھی۔ روایات کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور سلطنت کے چھ سال کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور انہوں نے بی اسرائیل کی اصلاح و تربیت فرمائی اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بارہ گروہ تھی ایک ہی دادا کی اولاد۔ اصل میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا انہیں کی اولاد میں یہ لوگ تھے اس لیے ان کو بنی اسرائیل کہتے تھے اور یہ لوگ علیحدہ علیحدہ گروہ میں کثیر التعداد آدمی رہ گئے تھے۔ اس لیے ان کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بارہ فرقے الگ الگ کردیے گئے۔ سورة بقرہ اور مائدہ میں گزر چکا ہے کہ کنعانی قوم کے ساتھ لڑنے سے جب بنی اسرائیل نے انکار کیا تو اس میں شرارت کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں قید کیا۔ وہاں دھوپ کی شدت ہوئی، پانی کو ترس گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 160–161

(ف 1) یہ اس وقت کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل کو جنگل میں پانی کی ضرورت محسوس ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے وحی سے اشارہ پاکر ایک پتھر پر لٹھ مارا ، تو بارہ چشمے پانی کے پھوٹ نکلے ، اور چونکہ بنی اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ تھے ، اس لئے پانی کی فروانی کی وجہ سے ان کی سیرابی کا خاصا انتظام ہوگیا ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اضرب کے معنی چلنے کے ہیں ، مقصد یہ تھا موسیٰ (علیہ السلام) لاٹھی ٹیکتے ہوئے پہاڑ پر چڑھیں وہاں بارہ چشمے بہتے ہوئے پائیں گے ۔ یہ تاویل قطعا غلط ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ معجزات اور خوارق اللہ کا انکار ہے ، دلائل یہ ہیں :۔ 1۔ ضرب کے معنی چلنے کے ہوتے ہیں تو اس وقت صلہ ب نہیں ہوتا ، فی ہوتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

160 اور ہم نے بنی اسرائیل کے جدی خاندانوں کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کرکے ان کی الگ الگ جماعتیں بنادیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب اس وقت جبکہ اس کی قوم نے اس سے پانی طلب کیا اور پانی مانگا یہ وحی کی کہ اے موسیٰ تو اپنی لکڑی فلاں پتھر پر مار لہٰذا لکڑی کے مارتے ہی اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے بنی اسرائیل کے ہر ایک قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا اور ہم نے ان پر ابر کو سایہ فگن کیا اور بادل کو ان پر سائبان کردیا اور ان پر ہم نے من اور سلویٰ اتارا اور ان کو من وسلویٰ کھانے کی اجازت دی کہ یہ لذیذ و طیب چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں ان میں سے کھائو اور ان نافرمان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 160–162

ف 5۔ اور ہر ایک پر ایک سردار نگرانی کے لیے مقرر کردیا جن کا ذکر مائدہ کے رکوع سوم میں ہے۔ وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا۔ 6۔ یہ واقعات وادی تیہ کے ہیں ان کی تفصیل سورة بقرہ میں گزرچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل کے بارہ گروہوں میں منقسم ہونے اور ان کے مطالبات کا ذکر ــ: 183: بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد در اولاد کو کہا جاتا ہے ۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے وہ سب کے سب اپنے خاندان کے مورث اعلیٰ ٹھہرے اور ان کی اولاد اسی طرح مستقل بارہ خاندانوں میں منقسم ہوگئی اور ان کی یہ تقسیم بد ستور قائم رہی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں بھی یہ سارے گروہ موجود تھے اور آپ نے ہر گروہ کا ایک سردار منتخب کیا ہوا تھا اس طرح گویا یہ ایک امت ہونے کے باوجود بارہ جماعتوں میں بٹے ہوئے تھے اور خاندانی رقابت میں ان میں موجود تھی۔ ان کا تفصیلی ذکر جلد اول سورة البقرہ کی آیت 57 تا 60 میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 160–162

The above verses have enumerated various favours that Allah bestowed upon the Israelites, and spoke of their deviation from the commands of Allah resulting in a heavenly punishment for their transgression. The translation of the verses given above is self explanatory and the relevant details have already been given in Surah Al-Baqarah (First volume of this book, translation and commentary under verses 57-59).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

118. This refers to the organization of the people of Israel which has been mentioned in the Qur'an in al-Ma'idah 5:12 and also described, at length, in the Bible in Numbers. According to these sources, in compliance with God's command the Prophet Moses first conducted the census of the Israelites in the wilderness of Sinai. He registered their twelve tribes, ten of whom were descendants of the Prophet Jacob, and the remaining two descendants of the Prophet Joseph, as separate and distinct tribes. He appointed a chief for each tribe and assigned to him the duty to maintain moral, religious,…

Read the full tafseer →