انبیاء کا قاتل گروہ
خبر ہے کہ امت موسیٰ میں بھی ایک گروہ حق کا ماننے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ01103) 3۔ آل عمران :113) ، اہل کتاب میں سے ایک جماعت حق پر قائم ہے، راتوں کو اللہ کے کلام کی تلاوت کرتی رہتی ہے اور برابر سجدے کیا کرتی ہے اور آیت میں ہے (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 117
بیشتر مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا ہے جو حق کے مطابق ہدایت اور انصاف کرتا ہے، یعنی ان کے نزدیک اس آیت میں بنی اسرائیل کی وہ اخلاقی و ذہنی حالت بیان کی گئی ہے جو نزول قرآن کے وقت تھی۔ لیکن سیاق وسباق پر نظر کرتے ہوئے ہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اس آیت میں بنی اسرائیل کا وہ حال بیان ہوا ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں تھا، اور اس سے مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ جب اس قوم میں گوسالہ پرستی کے جرم کا ارتکاب کیا گیا اور حضرت حق کی طرف سے اس پر گرفت ہوئی تو اس وقت ساری قوم بگڑی ہوئی نہ تھی بلکہ اس میں ایک اچھا خاصا صالح عنصر موجود تھا۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک حق پرست جماعت
دوسری آت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ، یعنی موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو خود بھی حق کا اتباع کرتی ہے اور اپنے نزاعی معاملات کے فیصلوں میں حق کے موافق فیصلے کرتی ہے۔ سابقہ آیات میں حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کی کجروی، کج بحثی اور گمراہی کا بیان ہوا تھا، اس آیت میں بتلایا گیا کہ پوری قوم بنی اسرائیل ایسی نہیں بلکہ ان میں کچھ لوگ اچھے بھی ہیں جو حق کا اتباع کرتے ہیں، اور حق فیصلے کرتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تورات و انجیل کے زمانہ میں ان کی ہدایات کے موافق پورا عمل کیا، اور…
Read the full tafseer →وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ۔
ہم پیچھے ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ قرآن نے جہاں جہاں بنی اسرائیل کو عہد شکنیوں اور بد اعمالیوں پر شدت کے ساتھ سرزنش کی ہے وہاں ان کے اندر کے اس گروہ قلیل کی تحسین بھی فرمائی ہے جو حق و عدل پر قائم رہا ہے اور جس کی بدولت بنی اسرائیل کو ان کے جرائم کے باوجود مہلت ملتی رہی ہے۔ یہاں بھی اسی گروہ کی طرف اشارہ ہے اور الفظ امۃ کی تنکیر اس کی قلت کی طرف اشارہ کر رہی ہے یھدون اور یعدولن مضارع کے صیغے استمرار کو ظاہر کر رہے ہیں اس لیے کہ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں فعل ناقص محذوف ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جہاں موسیٰ کی قوم…
Read the full tafseer →159۔ 1 اس سے مراد وہی چند لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، عبد اللہ بن سلام وغیرہ۔
Read the full tafseer →78: یہودیوں کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی جو دعوت دی گئی اور اس سے پہلے ان کی بہت سی بد عنوانیاں بیان ہوئیں، اس سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ تمام بنی اسرائیل بد عنوانیوں کے مرتکب ہیں، اس لئے جملہ معترضہ کے طور پر آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمادی کے سارے بنی اسرائیل ایک جیسے نہیں ہیں، اس میں وہ بنی اسرائیل بھی داخل ہیں جو آنحضرت ﷺ سے پہلے دین حق پر قائم رہے اور وہ بھی جو آپ پر ایمان لائے، مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ، اس وضاحت کے بعد آگے پھر حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے کے بنی اسرائیل کا جو واقعہ دور سے چلا آرہا ہے اس کو دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔
Read the full tafseer →شدید زلزلے کے بعد کیا واقعات پیش آئے جس میں بنی اسرائیل کے ستر لیڈر ہلاک کرد دیے گئے ؟ یاں صرف یہ بات آتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی اس اچانک موت پر الہ کے ہاں نہایت ہی عاجزی سے دعا کی ، یہ نہیں بتایا کہ ان لوگوں کا کیا بنا لیکن دوسری سورتوں میں یہ قصہ جس طرح لایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعاء کی وجہ سے اللہ نے انہیں زندہ کردیا اور یہ لوگ پکے مومن کی طرح اپنی قوم کی طرح اپنی قوم کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ لوٹے۔
لیکن قصے کی اگلی کڑیاں لانے سے قبل یہاں اس حقیقت کو بیان کردیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگ اچھے بھی تھے ، وہ حق کو قبول…
Read the full tafseer →2 گو اکثر یہود سرکشی اور ناانصافی کی راہ اختیار کر رہے ہیں تاہم کچھ ایسی سعید روحیں بھی ہیں، جو دوسروں کو حق کی طرف دعوت دیتی ہیں اور بذات خود حق و انصاف کے راستوں پر گامزن ہیں۔ مثلا عبد اللہ بن سلام وغیرہ۔
Read the full tafseer →آیت 159 وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓی اُمَّۃٌ یَّہْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ ۔
اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل تھی مگر آپ علیہ السلام کے پیروکاروں میں حق پرست اور انصاف پسند افراد بھی موجود تھے جو لوگوں کو حق بات کی تلقین کرتے تھے اور ان کے فیصلے بھی عدل و انصاف پر مبنی ہوتے تھے۔
Read the full tafseer →161 ہر معاشرہ میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود ہوتے ہیں :۔ اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دور نبوی میں یہود کے گروہوں میں ایک گروہ انصاف پسند موجود تھا۔ اگرچہ یہ گروہ قلیل تعداد میں تھا تاہم اس آیت کو صرف دور نبوی سے مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں دور نبوی تک ایک ایسا انصاف پسند گروہ موجود رہا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہوگا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگرچہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ تاہم ان میں سے ایک گروہ ایسا ہوگا جو تاقیامت حق پر قائم رہے گا اور اگر ربط مضمون کے لحاظ سے یہ کہا جائے کہ جب بنی اسرائیل گؤ سالہ پرستی جیسے بڑے شرک میں مبتلا تھے تو اس…
Read the full tafseer →226 ۔ یہود میں یہ وہی اہل حق واہل انصاف ہیں جو آگے چل کر ایمان لے آئے۔ قیل ھم الیہود الذین کانوا فی زمان الرسول علی الصلوۃ والسلام واسلموا (کبیر) (آیت) ” ومن قوم موسیٰ ۔ قوم موسیٰ “۔ قوم موسیٰ سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ (آیت) ” بہ یعدلون “۔ ضمیر الحق کی طرف ہے اور یعدلون یعنی حکم و فیصلہ میں انصاف کرتے ہیں۔ بہ ای بالحق ویعدلون بینھم فی الحکم (بیضاوی) قال الزجاج العدل الحکم بالحق (کبیر) (آیت) ” یھدون بالحق “۔ یعنی دوسروں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں۔ اے یدعون الناس الی الھدایۃ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
آیت نمبر 158 تا 162
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے یہ نبی ﷺ کو خطاب ہے اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر، جو اللہ پر اور اس کے کلمات قرآن پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پر آجاؤ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتی اور اسی کے مطابق فیصلہ میں انصاف کرتی ہے اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے بارہ قبیلے بنا دئے (اثنتی عشرۃ) حال ہے اور (اسباطا) (اثنتی) سے بدل…
Read the full tafseer →وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ : اور قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو دین حق کے موافق ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف بھی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(159) اور حضرت موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو اللہ کے موافق عمل کرتی ہے اور وہ نہر رمل کے پرے رہنے والے لوگ ہیں۔
Read the full tafseer →وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ۔۔ : اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو تورات پر قائم رہے اور وہ جو نبی ﷺ کی آمد پر آپ پر ایمان لے آئے، جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 159
یعنی وہ لوگوں کو ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اور یعدلون کا معنی ہے کہ وہ حکم اور فیصلہ میں عدل کرتے ہیں اور تفسیر میں ہے : یہ ایک قوم ہے جو چین سے پرے اور دریائے رمل سے پرے ہے۔ وہ حق اور عدل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، وہ حضور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے اور ہفتہ کو ( کاروبار) چھوڑ دیا، وہ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں، ان میں سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہم میں سے کوئی ان تک پہنچ سکتا ہے۔ پس یہ روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اختلاف رونما ہوا تو ان میں سے ایک گروہ تھا جو حق کے ساتھ راہ بتاتے تھے اور وہ اس پر قادر نہ تھے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
(1) امام فریابی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو کہ انجیل (یعنی کتاب) ان کے دلوں میں محفوظ ہوگی ؟ فرمایا یہ امت ہوگی تیرے بعد جو احمد کی امت ہے۔ عرض کیا اے میرے رب ! میں نے پایا ہے ایک امت کو جو پانچ نمازیں پڑھیں گے جو کفارہ ہوں گی ان کے درمیان (ہونے والے گناہوں) کا فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب میں پاتا ہوں ایک امت کو جو اپنے مالوں کا صدقہ دیں گے پھر وہ ان کے درمیان لوٹ جائیں گے اور وہ اس کو کھائیں گے۔ فرمایا یہ احمد کی امت ہے جو تیرے بعد ہوگی۔ عرض کیا اے میرے رب مجھے احمد کی امت میں سے کر…
Read the full tafseer →[ وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي : اور موسیٰ کی قوم میں سے ] [ اُمَّةٌ: ایک ایسا گروہ ہے ] [ يَّهْدُوْنَ : جو ہدایت دیتا ہے ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَبِهٖ : اور اس کے ساتھ ] [ يَعْدِلُوْنَ : عدل کرتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
بنی اسرائیل میں اچھے لوگ بھی تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے بادلوں کا سایہ کیا اور من وسلویٰ نازل فرمایا
اوپر چار آیات کا ترجمہ نقل کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں اچھے لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس زمانے میں توریت اور انجیل پر عمل کیا جب ان کتابوں پر عمل کرنے کا حکم تھا اور منسوخ نہیں کی گئی تھیں۔ پھر جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ کو انہوں نے توریت و انجیل میں بیان فرمودہ علامات سے پہچان لیا تو آپ پر ایمان لے آئے اور عامل بالقرآن ہوگئے۔ پھر دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے رہے اور اسی کے موافق فیصلے کرتے رہے کج بحثی اور کج روی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
ذکر احوال بنی اسرائیل
قال اللہ تعالیٰ ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانوا یظلمون
(ربط) اوپر سے سلسلۂ کلام موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں چلا آرہا ہے اب یہ بتاتے ہیں بنی اسرائیل میں اب بھی بعضے لوگ خدا پرست اور انصاف دوست ہیں جو لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کرتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام وگیرہ کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور اس بات کی شہادت دی کہ یہ وہی نبی امی ہیں جن کی توریت اور انجیل میں خبر دی گئی ہے اور ایسے ہی حق پرست اس رحمت خاصہ میں داخل ہوئے جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ میں دعا کی تھی اور انہی اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ظالم اور سرکش بھی…
Read the full tafseer →157: اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ
ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ایک تو بنی اسرائیل کی معافی کی دعا کی تھی اور دوسرے اپنی امت کے لیے تمام اقوام عالم کے مقابلے میں برتری کی درخواست کی تھی اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا قبول فرمالی اور بنی اسرائیل کی خطا کو معاف کردیا مگر دوسری دعا کی قبولیت کو بعض شرائط کے ساتھ مشروط کردیا اور فرمایا کہ میری رحمت خاصہ ان لوگوں کے لیے ہوگی جو تقویٰ اختیار کریں گے زکوٰۃ ادا کریں گے اور ہماری تمام باتوں پر ایمان لائیں گے نیز یہ بھی کہ جو اس عظیم الشان رسول کا اتباع کریں گے جو نبی امی ہے اور جس کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتا ہے برائی سے منع کرتا ہے پاکیزدہ چیزوں کو حلال اور…
Read the full tafseer →وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّۃٌ يَّہْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ يَعْدِلُوْنَ 159
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور والحمام، إلى غير ذلک من الطبائع التي تخصص بها كل نوع . وقوله تعالی: كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً [ البقرة/ 213]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
ترکیب : جمیعا حال ہے الیکم سے الذی الخ جملہ صفت ہے اللّٰہ کی جو مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے امۃ موصوف یہدون ویعدلون صفت مجموعۃ مبتداء مؤخر من قوم موسیٰ خبر مقدم۔
تفسیر : موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب میں فرمایا تھا کہ میں اس رحمت خاصہ کو متقیوں کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ شرط یہ قرار پائی تھی کہ وہ نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کا بھی اتباع کریں کہ جس کا لقب نبی امی ہے۔ اب اس جگہ آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اس عہد کے مطابق سب بنی آدم کو خبر دیجئے کہ وہ نبی امی جس پر ایمان لانے پر حصول رحمت کا مدار ہے ‘ میں ہی ہوں میں تم سب کی طرف ہو کر آیا ہوں سو تم ایمان لاؤ اور اتباع کرو الیکم جمیعًا جمہور…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَمِنْ قَوْمِ مُوسٰٓی اُمَّہٌ یَّھْدُوْنَ بَالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ ۔ (الاعراف : 159)
” اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہوا ہے جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے اور اسی کے مطابق انصاف کرتے “۔
اہلِ کتاب کے صالحین کی تحسین
گذشتہ ایک سے زیادہ مقامات پر بنی اسرائیل کی بد اعمالیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے ان کی عہد شکنیوں اور اس کے نتیجہ میں ملنے والی سزائوں کا ذکر کیا گیا ہے اللہ کے انعامات پر شکر کی بجائے ان کی طرف سے کفرانِ نعمت پر شدید گرفت کی گئی ہے لیکن اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کی اکثریت تو واقعی ہی ایسے لوگوں پر مشتمل تھی لیکن ان میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی بات کو واقعہ برائے واقعہ اور داستان گوئی کے لیے بیان نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ کے سوا کسی ایک نبی کا قصہ کسی ایک مقام پر مسلسل بیان نہیں کیا گیا بلکہ قصہ کا وہی حصہ بیان کیا جاتا ہے جس سے ایک خاص نقطہ اور نصیحت بیان کرنا مقصود ہوتی ہے۔ پھر قرآن مجید کا کمال اور اس کی انصاف پسندی یہ ہے کہ اس نے کسی قوم کے جرائم بیان کرتے ہوئے اس قوم کو کلیتاً مجرم قوم قرار نہیں دیا بلکہ ان کے اچھے لوگوں کو مستثنیٰ قرار دے کر ان کے اچھے کردار کی تعریف کی ہے۔ اسی اصول اور اسلوب کے پیش نظر یہاں حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل میں حق پرست طبقہ :
آیت 159: وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓی اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بِالْحَقِّ (اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتے ہیں) وہ لوگوں کی راہنمائی کرنے والے ہیں اس حال میں کہ وہ حق پرست ہیں۔ نمبر 2۔ اس حق کے سبب جس پر وہ قائم ہیں۔ دوسروں کو حق کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں۔ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ (اور اسی کے موافق انصاف بھی کرتے ہیں) حق کے ساتھ اپنے مابین حکم میں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور ظلم نہیں کرتے بعض نے کہا یہ ایک قوم ہے جو چین سے آگے رہتی ہے۔ جو لیلۃ المعراج میں مسلمان ہوئے۔ (مگر یہ روایت خود پا یہ ثبوت کو نہیں پہنچتی) نمبر 2۔ یہ عبداللہ بن…
Read the full tafseer →159 (ومن قوم موسیٰ ) یعنی بنی اسرائیل میں (امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون) حق کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں کلبی اور ضحاک اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قوم چین کے پیچھے اقصیٰ مشرق میں نہر اردن پر آباد تھی ان میں کسی کے پاس اپنے ساتھی سے کم مال نہ تھا، رات کو بارش ہوتی اور دن کو جانوروں کو وہی پانی پالتے اور کاشت کرتے۔ ذکر کیا گیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) معراج کی رات نبی کریم ﷺ کو لے گئے تو راستے میں ان سے کلام کیا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے پوچھا، تمہیں علم ہے کہ کس سے بات کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ محمد ﷺ نبی امی ہیں تو وہ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے…
Read the full tafseer →تفسیر وغیرہ میں اس آیت کی شان نزول جو لکھی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کی شان میں اتری ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے تھے اور حضرت پر ایمان لائے جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ ان ہی کو فرمایا کہ موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ہے جو حق بات کا پری دار صاحب انصاف ہے اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جو موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان ہو اس کے متعلق اللہ پاک نے یہاں تک یہ بیان فرمایا تھا کہ سامری نے گوسالہ بنالیا اور بنی اسرائیل کو شریک کر کے اس کو پوجنے لگا اور ستر آدمی موسیٰ (علیہ السلام) چن کر اپنے ساتھ کوہ طور پر لائے جو زلزلہ سے ہلاک ہوگئے اب اس آیت میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
218 زندگی و موت اللہ ہی کے اختیار میں ہے : سو { یحییٰ ویمیت } کے ان دونوں کلمات کریمہ سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زندگی اور موت اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ پس اللہ کے سوا کسی اور کے لئے احیا و اماتت کی صفت ماننا شرک ہوگا، جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ کچھ جہلاء کہتے رہتے ہیں کہ فلاں پیر صاحب نے فلاں انسان یا فلاں جانور کو مار دیا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ زندگی کی نعمت سے نوازنا اور موت سے ہمکنار کرنا اللہ وحدہ لاشریک ہی کا کام اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف پیغمبر کو حکم فرمایا گیا کہ آپ اعلان کریں کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول ہوں اس اللہ کا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
تشریح : پچھلی آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ کہ اللہ رب العزت کی مخلوق میں اس کا طریقہ فضل و کرم پر ہی ہے غضب تو صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان حد سے زیادہ خود سر اور نافرمان ہوجاتا ہے اور پھر نعمت و رحمت کے حق دار لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ جو ایمان وتقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے۔ پھر فرمایا کہ آج سب سے بڑی نافرمانی یہ ہے کہ تم اس نبی امی ﷺ پر ایمان نہ لاؤ جن کے بارے میں تمہاری کتابوں تورات اور انجیل میں بڑا واضح طور پر بتایا گیا ہے اور بڑی بڑی نشانیاں ان کے بارے میں بیان کی گئی ہیں جو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–162
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 158 ۔ تا۔ 162 ۔
اسرار و معارف :
جب آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء آپ کی خبر پہنچاتے رہے اور اپنی اپنی امت سے آپ پر ایمان لانے کا مطالبہ فرماتے رہے نیز یہ ارار بھی لیتے رہے کہ اگر تم میں سے کوئی آپ کا زمانہ پائے تو آپ کی اطاعت اختیار کرے۔ ۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ…
Read the full tafseer →ف 5 مراد ہیں وہ یہودی جو تورات پر قائم رہے یا نبی ﷺ پر ایمان لے آئے جیسے عبد اللہ سلام اور ان ساتھی، ( کبیر )
Read the full tafseer →(7:159) امۃ گروہ ۔ جماعت، نیز اس کے معنی مدت، طریقہ، دین بھی ہیں ۔ امۃ بمعنی گروہ۔ باعتبار لفظ واحد ہے اور باعتبار معنی جمع ہے
یھدون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ وہ ہدایت کرتے ہیں۔ ھدایۃ مصدر (باب ضرب) ھدی یھدی۔
وبہ یعدلون۔ اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتے تھے۔ ہ ضمیر الحق کی طرف راجع ہے۔ یعدلون۔ عدل یعدل (ضرب) سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
تشریح : آیت نمبر 159 تا 160
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تمام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا سے گذر رہے تھے تاکہ بنی اسرائیل کو فلسطین میں آباد کردیں ۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی گنتی کرانے کے بعد ان کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کردیا۔ جیسا کہ آپ نے اس سے پہلے پڑھ لیا ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) فلسطین سے مصر آئے ہیں اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کی تعداد ایک سو سے بھی کم تھی۔ روایات کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور سلطنت کے چھ سال کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور انہوں نے بی اسرائیل کی اصلاح و تربیت فرمائی اور…
Read the full tafseer →یہ آیت ان لوگوں کی شان میں اتری ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے تھے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی الہ عنہ وغیرہ۔ انہی کو فرمایا کہ موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ہے جو حق بات کا پیرو اور صاحب انصاف ہے۔ یعنی نبی آخر الزماں کے اوصاف اور توریت کے مسائل کے ظاہر کرنے میں ناحق پسندی اور ناانصافی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
[61] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 44 صفحہ 99۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
رسول امی :
(ف 1) توراۃ وانجیل میں بیشمار پیشگوئیاں حضور ﷺ کے متعلق مرقوم ہیں ، یہودی خوب جانتے تھے کہ حضور ﷺ اپنے دعاوی میں سچے ہیں ، منصف عیسائی بھی آپ کے مرتبہ ومقام سے آگاہ تھے ورقہ بن نوفل کا اعتراف ، عبداللہ بن سلام کا اسلام اس حقیقت پر گواہ ہے ۔
توراۃ میں سرخ وسپید ، نبی کا ذکر ہے ، ” محمدیم “ کا لفظ موجود ہے دس ہزار قدسیوں کا حوالہ ہے : آتشین شریعت ، اور نئے یروشلم ، کی پیشگوئی ہے ، یہ بھی لکھا ہے بحری ممالک اس کی راہ تکیں گے ،
انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) دنیا کی سردار کی خوشخبری سناتے ہیں اور برنباس کی انجیل میں جو مسیح کا حواری تھا ، صاف طور پر حضور ﷺ کا نام لے کر پیشگوئی کی…
Read the full tafseer →159 اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو راہ حق بتاتی ہے اور اسی حق کے مطابق جملہ معاملات میں انصاف کرتی ہے۔ یعنی اسلام کا راستہ بتاتی ہے اور اسلام کے موافق معاملات باہمی میں انصاف کرتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہی لوگ تھے کہ جب حضرت پہنچے تو ایمان لائے جیسے عبداللہ بن سلام ؓ ۔ 12
Read the full tafseer →ف 4۔ مراد اس سے عبداللہ بن سلام وغیرہ ہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کی نبوت جیسے شہادت دلائل سے ثابت ہے اسی طرح شہادت اہل علم سے بھی موید ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کے سچے ساتھیوں کی مدح سرائی اور حوصلہ افزائی :
182: قرآن کریم ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام ہے جس نے ہر سچی بات کو بلا جھجک برملا بیان کردیا ۔ غور کرو کہ جہاں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں اور بد اعمالیوں پر شدت کے ساتھ سرزنش کی ہے ۔ وہاں ان کے اندر کے گروہ قلیل کی تحسین بھی فرمائی ہے جو حق و عدل پر قائم ہے ۔ بلا شبہ بنی اسرائیل کی بڑی اکثریت کا طرز عمل حوصلہ شکن تھا ۔ ذرا ذرا سی بات پر بگڑ جانا ، اناڑی بچوں کی طرح اپنی بات خواہ وہ کتنی ہی نامعقول ہو منوانے پر بضد ہونا ۔ معمولی سے معمولی شبہ پر راہ حق سے رو گردان ہوجانا ان کا معمول تھا تاہم ان میں ایک گروہ ایسا بھی تھا…
Read the full tafseer →The Truthful among the Israelites
The verse 159 said: وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ﴿159﴾ '"Among the community of Musa there are people who guide to the truth, and do justice thereby." That is, there is a group among the Israelites who follows the truth and decides their controversies according to the dictates of the Truth - Islam. Which are the people referred to in this verse as following the truth among the Israelites? This refers to the people who faithfully followed the commandments of the Torah and the Injil at the time they were revealed, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
116. This marks the resumption of the main theme of the discourse which had been interrupted by the parenthesis (see verses 157-8) calling people to affirm the prophethood of Muhammad (peace be on him).
>117. The translators generally render the verse as the following:
Of the people of Moses there is a section who guide and do justice in the light of truth. (Translation by Abdullah Yusuf Ali.)
They do so because, in their view, the present verse describes the moral and intellectual state of the Israelites at the time when the Qur'an was revealed. However, the context seems to indicate that…
Read the full tafseer →