النبی العالم اور النبی الخاتم ﷺ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب عجم گوروں کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لئے صرف آپ ہی نبی ہیں۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت (قل اللہ شھید بینی وبینکم واو حی الی ھذا القران لا نذر کم بہ ومن بلغ) یعنی اعلان کر دے کہ مجھ میں تم میں اللہ گواہ ہے اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لئے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے (ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ) یعنی مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 116
اصل سلسلہ کلام بنی اسرائیل سے متعلق چل رہا تھا۔ بیچ میں موقع کی مناسبت سے رسالت محمدی پر ایمان لانے کی دعوت بطور جملہ معترضہ آگئی۔ اب پھر تقریر کا رخ اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جو پچھلے کئی رکوعوں سے بیان ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ اے (دنیا جہان کے) لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (پیغمبر) ہوں جس کی بادشاہت ہے تمام آسمانوں اور زمین میں، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے وہی موت دیتا ہے، اس لئے اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر (بھی ایمان لاؤ) جو کہ (خود بھی) اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی جب باوجود اس رتبہ عظیمہ کے ان کو اللہ اور سب رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانے سے عار نہیں تو تم کو اللہ و رسول پر ایمان لانے سے کیوں انکار ہے) اور ان (نبی) کا اتباع کرو تاکہ تم راہ (راست) پر آجاؤ اور (اگرچہ بعض لوگوں نے آپ کی مخالفت کی لیکن) قوم موسیٰ میں…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔
جب بات نبی ﷺ کے ذکر تک پہنچ گئی تو برسر موقع آپ کی زبان مبارک سے بنی اسرائیل کو ایمان لانے کی دعوت بھی دلوا دی گئی کہ اے لوگو، میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ سب لوگوں کی طرف، یعنی بنی اسماعیل و بنی اسرائیل، عرب اور غیر عرب سب کی طرف۔ اوپر کی پیشنگوئیوں میں بھی تصریح ہے کہ…
Read the full tafseer →158۔ 1 یہ آیت بھی رسالت محمدیہ کی عالمگیر رسالت کے اثبات میں بالکل واضح ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے کائنات کے انسانو ! میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یوں آپ ﷺ پوری بنی نوع انسانی کے نجات دہندہ اور رسول ہیں۔ اب نجات اور ہدایت نہ عیسائت میں ہے نہ یہودیت میں، نہ کسی اور مذ ہب میں، نجات اور ہدایت اگر ہے تو صرف اسلام کے اپنانے اور اسے ہی اختیار کرنے میں ہے اس آیت میں بھی اور اس سے پہلی آیت میں بھی آپ ﷺ کو النبی الأمی کہا گیا ہے۔ یہ آپ کی ایک خاص صفت ہے۔ امی کے معنی ہیں ان پڑھ۔ یعنی آپ نے کسی استاد کے سامنے زانو بطور شاگرد نہیں کئے کسی…
Read the full tafseer →77: چونکہ پیچھے یہ ذکر آیا تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول کرتے وقت ان کو یہ بتادیا گیا تھا کہ نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لانا ان کی آئندہ نسلوں کے لئے ضروری ہوگا، اس لئے اس موقع کی مناسبت سے جملہ معترضہ کے طور پر آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت عطا فرمائی کہ وہ بنی اسرائیل سمیت تمام انسانوں کو اپنی نبوت پر ایمان لانے اور اپنی اتباع کی دعوت دیں۔
Read the full tafseer →قبل اس کے کہ سیاق کلام اگلے منظر کی نقاب کشائی کرے ، یہاں قدرے وقفہ کیا جاتا ہے اور اس وقفے میں روئے سخن نبی ﷺ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ پوری انسانیت کو دعوت دیتے رہیں اور یہ اللہ کا وعدہ قدیم ہے۔
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ اے محمد ان سے کہو کہ " اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے
یہ آخری رسالت ہے ، یہ پوری دنیا کے لیے عام ہے ، یہ کسی نوع یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، اس رسالت سے پہلے جو رسالتیں گزری ہیں وہ مقامی تھیں یا محدود اور ایک محدود…
Read the full tafseer →1 یعنی آپ کی بعثت تمام دنیا کے لوگوں کو عام ہے۔ عرب کے امیین یا یہود و نصاریٰ تک محدود نہیں۔ جس طرح خداوند تعالیٰ شہنشاہ مطلق ہے، آپ اس کے رسول مطلق ہیں۔ آپ ہدایت و کامیابی کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس جامع ترین عالمگیر صداقت کی پیروی کی جائے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ یہ ہی پیغمبر ہیں، جن پر ایمان لانا تمام انبیاء ومرسلین اور تمام کتب سماویہ پر ایمان لانے کا مرادف ہے۔
Read the full tafseer →اب اگلی آیت کا مطالعہ کرنے سے پہلے دو باتیں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ایک تو گزشتہ آیات کے مضمون کا اس آیت کے ساتھ ربط کا معاملہ ہے۔ اس ربط کو یوں سمجھنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد انباء الرسل کے اس سلسلے کو نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت تک لانے میں بہت تفصیل درکار تھی۔ اس تفصیل کو چھوڑ کر اب براہ راست آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمام بنی نوع انسان کی طرف۔ چناچہ پچھلی آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر اور تورات و انجیل میں نبی آخرالزماں کے بارے میں بشارتوں کے حوالے سے اس آیت کا سیاق وسباق گویا یوں ہوگا کہ اے محمد ﷺ اب آپ…
Read the full tafseer →159 آپ تا قیامت اور تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں :۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ آپ سابقہ انبیاء کی طرح نہ نسلی یا قومی پیغمبر تھے اور نہ علاقائی۔ آپ کا حلقہ تبلیغ پوری دنیا کے انسان ہیں اور سارے کے سارے لوگ ہیں پھر آپ وقتی یا کسی مخصوص زمانہ کے بھی پیغمبر نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے پیغمبر ہیں اور آپ کی رسالت کا کام تاقیامت جاری رہے گا، کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی اللہ کی طرف سے آنے والا نہیں اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔ آپ نے اپنی زندگی بھر امکانی حد تک تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیا حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے بڑی تاکید سے صحابہ کرام رضوان اللہ…
Read the full tafseer →223 ۔ جس میں استثناء نہ کسی قوم ونسل کا ہے نہ کسی ملک وزمانہ کا) آیت ایک محکم و روشن دلیل رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ پر ہے یعنی قرآن کی دعوت عالمگیر ہے، اس کی مخاطب ساری دنیا ہے نہ کہ عرب قوم، یاچھٹی یا ساتویں صدی مسیحی کی دنیا۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ اس طرز خطاب نے صراحت کردی کہ قرآن کے مخاطب سارے آدم زاد ہیں نہ کہ ان کا کوئی خاص ٹکڑا۔ (آیت) ” رسول اللہ الیکم “ اس نے ایک بار اور صراحت کردی کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک قاصد اور سفیر ہیں اور بس، نہ کہ اس کے مظہر یا اوتار، یا اس کے فرزند و رشتہ دار
224 ۔ یہ نہیں کہ بقاوحیات کے دیوتا وشنوجی ہوں اور موت واہلاک کے دیوتا شوجی۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
آیت نمبر 158 تا 162
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے یہ نبی ﷺ کو خطاب ہے اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر، جو اللہ پر اور اس کے کلمات قرآن پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پر آجاؤ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتی اور اسی کے مطابق فیصلہ میں انصاف کرتی ہے اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے بارہ قبیلے بنا دئے (اثنتی عشرۃ) حال ہے اور (اسباطا) (اثنتی) سے بدل…
Read the full tafseer →قال یایہا الذی انی رسول اللہ الیکم جمیعا الذی لہ ملک السموات والارض لا الہ لا ہو یحی و یمیت آپ کہہ دیجئے کہ اے (تمام) لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔
قل اے محمد آپ کہہ دیجئے۔ انی رسول اللّٰہاس میں اضافت عہد خارجی کی ہے یعنی میں وہی رسول نبی امی ہوں جس کا ذکر اوپر گزر گیا اور جس کے اعتبار کا عہد لیا گیا تھا۔ الیکمیہ تمام لوگوں کو خطاب ہے اسی لئے آگے جمیعًابطور تاکید فرمایا لفظ جمیعًا کُمْسے حال ہے۔
رسول اللہ : ﷺ کی بعثت تمام انسانوں کے لئے بلکہ جنات کے…
Read the full tafseer →(158) اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میں تمام لوگوں کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو مرنے کے بعد زندہ کرتا اور دنیا میں موت دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور کلمہ پڑھا جائے تو حضرت مراد ہوجائیں یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن فرمانے سے وہ پیدا ہوگئے اور رسول اکرم ﷺ کے دین کی پیروی کرو تاکہ تمہیں گمراہی سے ایمان کی طرف ہدایت نصیب ہو۔
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا۔۔ : یعنی میری رسالت تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ ”جَمِيْعَۨا“ کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں صاف ظاہر ہیں اور مجھے ہدایت کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجنے والا وہ ہے جو آسمان و زمین کا بادشاہ، اکیلا عبادت کا حق دار اور موت و حیات کا مالک ہے۔ اب مجھ پر ایمان نہ لانے کی صورت میں اپنا انجام سوچ لو۔ رسول اللہ ﷺ کے تاقیامت تمام قوموں کے لیے رسول ہونے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے۔ دیکھیے سورة سبا (28) ، فرقان (1) اور احزاب (40)۔ ”جہاں تک پہنچے“ کے الفاظ کے ساتھ رسالت عام ہونے کی تصریح کے لیے دیکھیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 158
ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی بشارت دی اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی بشارت دی، پھر آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے بارے میں یہ کہیں : آیت : انی رسول اللہ الیکم جمیعا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ قل یایھا الناس، جلد 2، صفحۃ 668) ( بیشک میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں) اور کلمتہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ کلمات ہیں جو اس نے تورات، انجیل اور قرآن کریم میں لکھے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو سرخ اور کالے (یعنی ہر نسل کے انسانوں) کی طرف بھیجا اسی کو فرمایا لفظ آیت ” قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “۔
(2) امام بخاری اور ابن مردویہ نے ابو الدرداء ؓ نے ابوبکر اور عمر ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر اور عمر ؓ کے درمیان کوئی بحث و مکالمہ ہوا تو عمر ؓ غصہ کے حالت میں چلے گئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان کا پیچھا کیا اور معافی کی درخواست کی چناچہ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا یہاں تک کہ انہوں نے اپنے سامنے کا دروازہ بند کرلیا ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عمر ؓ کو بھی اپنے کئے پر ندامت…
Read the full tafseer →[ قُلْ : آپ کہئے ] [ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ : اے لوگو ] [ اِنِّىْ : بیشک میں ] [ رَسُوْلُ اللّٰهِ : اللہ کا رسول ہوں ] [ اِلَيْكُمْ : تم لوگوں کی طرف ] [ جَمِيْعَۨا : سب کی طرف ] [ الَّذِيْ : اس (اللہ ) کا ] [ لَهٗ : جس کی ہی ] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ : زمین اور آسمانوں کی حکومت ہے ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی الہ نہیں ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [ هُوَ : وہی ] [ يُـحْيٖ : وہ زندگی دیتا ہے ] [ وَيُمِيْتُ ۠ : اور وہ (ہی ) موت دیتا ہے ] [ فَاٰمِنُوْا : پس تم لوگ ایمان لاؤ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَرَسُوْلِهِ : اور اس کے رسول پر ] [ النَّبِيِّ : جو نبی ہیں ] [ الْاُمِّيِّ : امی ہیں ] [ الَّذِيْ…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم اور آپ کی بعثت عامہ کا اعلان
اس آیت کریمہ میں نبی امی سیدنا رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ آپ تمام انسانوں کو خطاب کر کے فرما دیں کہ بلاشبہ مجھے اللہ نے تم سب کی طرف بھیجا ہے۔ میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے ان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی مخلوق و مملوک ہے تم سب بھی اللہ کی مخلوق و مملوک ہو۔ اس کے ملک سے اور اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی، لہٰذا اس پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کی تصدیق کرو۔ یہ رسول اللہ کا نبی ہے جو امی ہے، یعنی اس نے کسی…
Read the full tafseer →ذکر عموم بعثت نبی آخر الزمان ﷺ
قال اللہ تعالیٰ قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیک جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تھتدون
(ربط) گزشتہ آیت میں نبی آخر الزمان کی بشارت کا ذکر تھا اور یہ بتلایا تھا کہ فسا کتبھا للذین یتقون الخ۔ میں متقین کے لیے جس رحمت خاصہ کا وعدہ ہے وہ ان متقین کے لیے مخصوص ہے کہ جو اس نبی امی کے متبع ہوں جس کا ظہور آخر زمانہ میں ہوگا اب اس آیت میں نبی امی کی عموم بعثت کا ذکر ہے کہ اس نبی آخر الزمان کی بعثت عام ہوگی یعنی تمام عالم کے لیے آپ نبی اور رسول ہوں گے انبیاء سابقین کی طرح آپ کی بثت کسی قوم اور قبیلہ کے ساتھ مخصوص نہ ہوگی آپ کی اطاعت سب پر لازم ہوگی اہل کتاب میں سے جو شخص اس…
Read the full tafseer →156: پہلے ذکر فرمایا کہ تورات و انجیل میں حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) نے اس جلیل القدر پیغمبر کی بشارت دی اس کے بعدحضور ﷺ کو خود اپنی رسالت کا اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔ “ ذکر ان موسیٰ بشر به و ان عیسیٰ بشر به ثم امره ان یقول بنفسه انی رسول اللہ الیکم جمیعا ” (قرطبی ج 7 ص 302) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ایک تو بنی اسرائیل کی معافی کی دعا کی تھی اور دوسرے اپنی امت کے لیے تمام اقوام عالم کے مقابلے میں برتری کی درخواست کی تھی اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا قبول فرمالی اور بنی اسرائیل کی خطا کو معاف کردیا مگر دوسری دعا کی قبولیت کو بعض شرائط کے ساتھ مشروط کردیا اور فرمایا کہ میری رحمت خاصہ ان لوگوں کے لیے ہوگی جو تقویٰ اختیار کریں گے زکوٰۃ ادا کریں گے اور ہماری تمام باتوں پر ایمان لائیں گے نیز یہ بھی کہ جو اس عظیم الشان رسول کا اتباع کریں گے جو نبی امی ہے اور جس کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتا ہے برائی سے منع کرتا ہے پاکیزدہ چیزوں کو حلال اور…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَيُـحْيٖ وَيُمِيْتُ 0 ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَكَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ 158
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
ترکیب : جمیعا حال ہے الیکم سے الذی الخ جملہ صفت ہے اللّٰہ کی جو مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے امۃ موصوف یہدون ویعدلون صفت مجموعۃ مبتداء مؤخر من قوم موسیٰ خبر مقدم۔
تفسیر : موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب میں فرمایا تھا کہ میں اس رحمت خاصہ کو متقیوں کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ شرط یہ قرار پائی تھی کہ وہ نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کا بھی اتباع کریں کہ جس کا لقب نبی امی ہے۔ اب اس جگہ آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اس عہد کے مطابق سب بنی آدم کو خبر دیجئے کہ وہ نبی امی جس پر ایمان لانے پر حصول رحمت کا مدار ہے ‘ میں ہی ہوں میں تم سب کی طرف ہو کر آیا ہوں سو تم ایمان لاؤ اور اتباع کرو الیکم جمیعًا جمہور…
Read the full tafseer →جس آخری پیغمبر کے اتباع پر دنیا اور آخرت کی کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے اب اسی پیغمبر کی زبان سے اگلی آیت کریمہ میں ایمان لانے کی دعوت بھی دی گئی ہے اور آپ کی اصل حیثیت کو بھی واضح فرمایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔
قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَاالَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَج لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُص فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدْوْنَ ۔ (الاعراف : 158)
” اے پیغمبر کہہ دیجئے اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ کو ایمان کی دعوت کے ساتھ بنی نوع انسان کو ایمان کی دعوت اور قرآن مجید میں رسول اکرم ﷺ کا ذکر گرامی آپ کی زبان اطہر سے نبوت کا اعلان۔
قرآن مجید کے مختلف مقامات میں نبی آخر الزمان ﷺ کی نبوت و رسالت کا تذکرہ موجود ہے لیکن اس مقام پر آپ کی زبان اطہر سے یہ کہلوایا گیا ہے کہ اے رسول ! آپ از خود اعلان کریں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ سب سے مراد ہر علاقے اور ہر زمانے کے لوگ ہیں۔
امام ابن کثیر ؓ نے اس آیت سے آپ کی ختم نبوت کا استدلال کیا ہے۔ کیونکہ آپ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب کیے گئے ہیں لہٰذا آپ کے بعد اب کسی نبی اور…
Read the full tafseer →آیت 158: قُلْ یٰٓاَیـُّـھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (کہہ دیں اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں) تمام رسول اپنی اقوام خاص کی طرف مبعوث ہوئے اور حضرت محمد ﷺ تمام جن و انس کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔
نحو : یہ الیکم سے حال ہے۔ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے) اعنی مضمر کی وجہ سے یہ محل نصب میں ہے اور یہ نصب مدح کہلاتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)
مسئلہ : یہ الّذی کا صلہٗ لہ ملک السٰمٰوت سے بدل ہے اور اسی طرح یحی و یمیت بدل ہے۔ لا الٰہ الا ہو یہ ماقبل جملہ کا بیان ہے…
Read the full tafseer →تفسیر 158 (قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیغان الذی لہ ملک السموت والارض لا الہ الا ھو یحی ویمیت فامنوا باللہ و رسولہ النی الامی الذی یومن باللہ وکلمہ) یعنی آیات پر اور وہ قرآن ہے اور مجاہد، سدی رحمما اللہ فرماتے ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور دلیل میں یہ آیت پڑھی ” کلمۃ القھا الی مریم “ (واتبعوہ لعلکم تھتدون)
Read the full tafseer →اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں سے صاف صاف کہہ دو کہ میں تم سب لوگوں کی طرف کیا عجم اور کیا عرب مغرب سے مشق تک جنوب سے شمال تک سارے جہان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ پاک نے پانچ چیزیں مجھ کو دیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور یہ بات میں کچھ فخر کی راہ سے نہیں کہتا ہوں میں سارے لوگوں کی طرف کیا لال کیا کالے سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور میں رعب کے ساتھ ایک مہینہ کی راہ کے فاصلہ سے مدد تک گیا ہوں مطلب یہ ہے کہ جہاد میں فقط میرے رعب سے ملک یوں فتح ہوجاتے ہیں کہ میں ایک مہینہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
218 زندگی و موت اللہ ہی کے اختیار میں ہے : سو { یحییٰ ویمیت } کے ان دونوں کلمات کریمہ سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زندگی اور موت اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ پس اللہ کے سوا کسی اور کے لئے احیا و اماتت کی صفت ماننا شرک ہوگا، جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ کچھ جہلاء کہتے رہتے ہیں کہ فلاں پیر صاحب نے فلاں انسان یا فلاں جانور کو مار دیا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ زندگی کی نعمت سے نوازنا اور موت سے ہمکنار کرنا اللہ وحدہ لاشریک ہی کا کام اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف پیغمبر کو حکم فرمایا گیا کہ آپ اعلان کریں کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول ہوں اس اللہ کا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
تشریح : پچھلی آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ کہ اللہ رب العزت کی مخلوق میں اس کا طریقہ فضل و کرم پر ہی ہے غضب تو صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان حد سے زیادہ خود سر اور نافرمان ہوجاتا ہے اور پھر نعمت و رحمت کے حق دار لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ جو ایمان وتقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے۔ پھر فرمایا کہ آج سب سے بڑی نافرمانی یہ ہے کہ تم اس نبی امی ﷺ پر ایمان نہ لاؤ جن کے بارے میں تمہاری کتابوں تورات اور انجیل میں بڑا واضح طور پر بتایا گیا ہے اور بڑی بڑی نشانیاں ان کے بارے میں بیان کی گئی ہیں جو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–162
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 158 ۔ تا۔ 162 ۔
اسرار و معارف :
جب آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء آپ کی خبر پہنچاتے رہے اور اپنی اپنی امت سے آپ پر ایمان لانے کا مطالبہ فرماتے رہے نیز یہ ارار بھی لیتے رہے کہ اگر تم میں سے کوئی آپ کا زمانہ پائے تو آپ کی اطاعت اختیار کرے۔ ۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی میری رسالت عالمگیر ہے اور دائمی بھی، صحیح بخاری میں ہے کہ کہ حضرت ابوبکر ؓ سب سے پہلے اس پر ایمان لائے اور حدیث میں ہے، بعثت الی الناس کا فتہ کہ میں ج سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں یہاں یا یھا الناس سے خطاب اور جمیعا سے تاکید صراحت کے ساتھ اس پر دال ہیں۔ ابن کثیر)3 یعنی قرآن پاک یا اس کی نازل کردہ تمام کتابوں پر (روح المعانی)4 آنحضرت ﷺ کی پیروی یہ ہے کہ زندگی، انفراد دی ہو یا اجتماعی، کے ہر گوشہ میں آپ ﷺ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے اس میں اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کے علاوہ ہدایت کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ خلاف پمیر کسے رہ گزید کہ ہر کز بمنزل نخواہد رسید نیز دیکھئے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(7:157) الذین یتبعون الرسول النبی بدل ہے الذین یتقون کا۔
فساکن تھا ۔۔ کانت علیہم۔ کا ترجمہ ہوگا : میں اپنی رحمت کو ان لوگوں کی قسمت میں لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو پیروی کرتے ہیں اس رسول اور نبی امی کی جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ حلال کرتا ہے ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزوں کو۔ اور ان پر سے اس بوجھ کو اتارتا ہے (جس میں وہ دبے ہوئے ہیں) اور وہ بندش یا زنجریں کھولتا ہے۔ جنہوں نے ان کو جکڑ رکھا ہے۔
الرسول۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
تشریح : آیت نمبر 157 تا 158
پچھلی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ میر رحمت شفقت اور کرم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے میں اپنے رحم و کرم کے حصے میں ڈال دوں گا جو
(1) تقویٰ رکھتے ہیں ۔
(2) زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
(3) اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ۔ آیت نمبر 157 میں اللہ تعالیٰ نے چوتھی صفت بھی ارشاد فرمادی ہے۔
(4) چوتھی شرط یہ ہے کہ اس نبی امی ﷺ کی مکمل اطاعت و فرما برداری کی جائے جن کا ذکر توریت اور انجیل میں موجود ہے۔
یعنی ہرچند کہ یہ نبی امی ﷺ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و حضرت عیسٰی اور دیگر انبیا کے بعد آئے ہیں مگر ان کے آنے سے پہلے ہر نبی ان کے آنے کی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں سے صاف صاف کہ دو کہ میں تم سب لوگوں کی طرف کیا عجم اور کیا عرب، مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک سارے جہان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بناکر بھیجا گیا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزیں مجھ کو دی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور یہ بات میں کچھ فخر کی راہ سے نہیں کہتا ہوں۔
Read the full tafseer →[60] یعنی اس کی کتابوں پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
رسول امی :
(ف 1) توراۃ وانجیل میں بیشمار پیشگوئیاں حضور ﷺ کے متعلق مرقوم ہیں ، یہودی خوب جانتے تھے کہ حضور ﷺ اپنے دعاوی میں سچے ہیں ، منصف عیسائی بھی آپ کے مرتبہ ومقام سے آگاہ تھے ورقہ بن نوفل کا اعتراف ، عبداللہ بن سلام کا اسلام اس حقیقت پر گواہ ہے ۔
توراۃ میں سرخ وسپید ، نبی کا ذکر ہے ، ” محمدیم “ کا لفظ موجود ہے دس ہزار قدسیوں کا حوالہ ہے : آتشین شریعت ، اور نئے یروشلم ، کی پیشگوئی ہے ، یہ بھی لکھا ہے بحری ممالک اس کی راہ تکیں گے ،
انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) دنیا کی سردار کی خوشخبری سناتے ہیں اور برنباس کی انجیل میں جو مسیح کا حواری تھا ، صاف طور پر حضور ﷺ کا نام لے کر پیشگوئی کی…
Read the full tafseer →158 اے پیغمبر ﷺ ! آپ بنی نوع انسان کو فرما دیجئے اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا رسول اور پیغامبر ہوکر آیا ہوں جس کی حکومت اور جس کا راج تمام آسمانوں میں اور زمین میں قائم ہے اور اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے لہٰذا تم سب لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور اس کے بھیجے ہوئے رسول نبی امی پر ایمان لائو جس کی شان یہ ہے کہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتا ہے تم اس نبی امی کی پیروی کرو تاکہ تم راہ راست پر آجائو اور تم راہ یافتہ ہوجائو۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی باوجود اس رتبہ عظیمہ کے ان کو اللہ پر اور سب رسل وکتب پر ایمان سے عار نہیں تو تم کو اللہ و رسول پر ایمان لانے سے کیوں انکار ہے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ پوری انسانیت کے رسول ہیں :
179: یہ گویا دعوت عامہ کا اعلان ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت کسی خاص قوم اور ملک و ملت کے لئے نہیں ہے بلکہ تمام نوع انسان کے لئے ہے اور اس سے پہلے جتنے رسولوں کا ذکر ہوا وہ خاص خاص علاقوں اور مخصوص قوموں کے ایک مقرہ وقت تک مرشد و رہنما اور رہبر تھے لیکن اب جس پیر و مرشد اولین اور آخرین اور جس رہبر اعظم اور رسول معظم ﷺ کا ذکر ہو رہا ہے اس کی شان رہبری نہ کسی قوم سے مخصوص ہے اور نہ ہی کسی زمانہ سے محدود ہے جس طرح اس کے بھیجنے والے کی حکومت و سروری عالمگیر ہے اسی طرح اس کے اس رسول کی رسالت بھی جہاں گیر ہے ۔ ہر خاص و عام ، ہر فقیر و امیر ، ہر عربی و…
Read the full tafseer →This verse speaks of one of the basic aspects of the prophethood which is among the fundamental tenets of Islam. That is, the Holy Prophet ﷺ has been sent as His Messenger to the entire mankind and to the jinn (genies) coming into being upto the day of judgment.
This verse has commanded the Holy Prophet ﷺ to make general declaration that he has been sent to all the people of the world, and that his prophethood was not limited to a particular people and place as was the case with the early prophets who came to a particular people and place and for a limited period of time.
He is the last of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
116. This marks the resumption of the main theme of the discourse which had been interrupted by the parenthesis (see verses 157-8) calling people to affirm the prophethood of Muhammad (peace be on him).
>117. The translators generally render the verse as the following:
Of the people of Moses there is a section who guide and do justice in the light of truth. (Translation by Abdullah Yusuf Ali.)
They do so because, in their view, the present verse describes the moral and intellectual state of the Israelites at the time when the Qur'an was revealed. However, the context seems to indicate that…
Read the full tafseer →