سابقہ کتابوں میں آخری پیغمبر خاتم الانبیاء ﷺ کے جو اوصاف بیان ہوئے تھے جس سے ان نبیوں کی امت آپ کو پہچان جائے وہ بیان ہو رہے ہیں سب کو حکم تھا کہ ان صفات کا پیغمبر اگر تمہارے زمانے میں ظاہر ہو تو تم سب ان کی تابعداری میں لگ جانا۔ مسند احمد میں ہے ایک صاحب فرماتے ہیں میں کچھ خریدو فروخت کا سامان لے کر مدینے آیا جب اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا اس شخص سے بھی مل لوں میں چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عمر کے ساتھ کہیں جا رہے ہیں میں بھی پیچھے پیچھے چلنے لگا آپ ایک یہودی عالم کے گھر گئے اس کا نوجوان خوبصورت تنومند بیٹا نزع کی حالت میں تھا اور وہ اپنے دل کو تسکین دینے کیلئے تورات کھولے…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 112
حضرت موسیٰ ؑ کی دعا کا جواب اوپر کے فقرے پر ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اب موقع کی مناسبت سے فورًا بنی اسرائیل کو محمد ﷺ کے اتباع کی دعوت دی گئی ہے۔ تقریر کا مدعا یہ ہے کہ تم پر خدا کی رحمت نازل ہونے کے لیے جو شرائط موسیٰ ؑ کے زمانے میں عائد کی گئی تھیں وہی آج تک قائم ہیں اور دراصل یہ انہی شرائط کا تقاضا ہے کہ تم اس پیغمبر پر ایمان لاؤ۔ تم سے کہا گیا تھا کہ خدا کی رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے جو نافرمانی سے پرہیز کریں۔ تو آج سب سے بڑی بنیادی نافرمانی یہ ہے کہ جس پیغمبر کو خدا نے مامور کیا ہے اس کی رہنمائی تسلیم کرنے سے انکار کیا جائے۔ لہٰذا جب تک اس نافرمانی سے پرہیز نہ کرو گے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (جن کی صفت یہ بھی ہے کہ) وہ ان کو نیک کاموں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتلاتے ہیں (گو وہ پہلی شرائع میں حرام تھیں) اور گندی چیزوں کو (بدستور) ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو (پہلے شرائع میں) بوجھ اور طوق (لدے ہوئے) تھے (یعنی سخت اور شدید احکام جن کا ان کو پابند کیا ہوا تھا) ان کو دور کرتے ہیں (یعنی ایسے سخت احکام ان کی شریعت میں منسوخ ہوجاتے ہیں) سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۭفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
یعنی وہ لوگ جو اس نبی امی کی پیروی کریں جس کی پیشین گوئیاں خود ان کی اپنی کتابوں، تورات و انجیل میں وجود ہیں۔ نبی امی…
Read the full tafseer →157۔ 1 یہ آیت بھی اس امر کی وضاحت کے لئے آیت قطعی کی حیثیت رکھتی ہے کہ رسالت محمدیہ پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں اور ایمان وہی معتبر ہے جس کی تفصیل محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ اس آیت سے بھی تصور ' دیگر مذاہب ' کی جڑ کٹ جاتی ہے۔
157۔ 2 معروف وہ ہے جسے شریعت نے اچھا اور منکر، وہ ہے جسے شریعت نے برا قرار دیا۔
157۔ 3 یہ بوجھ اور طوق وہ ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نفس کے بدلے نفس کا قتل ضروری تھا، (دیت یا معافی نہیں تھی۔ یا جس کپڑے کو نجاست لگ جاتی، اسے قطع کرنا ضروری تھا، شریعت اسلامیہ نے اسے صرف دھونے کا حکم دیا ہے۔ جس طرح قصاص میں دیت اور معافی کی اجازت دی وغیرہ۔ اور آپ…
Read the full tafseer →75:: حضرت موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل کو ان کی وفات کے بعد بھی صدیوں تک باقی رہنا تھا اور حضرت موسیٰ ؑ نے دنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو دعا کی تھی وہ بنی اسرائیل کی اگلی نسلوں کے لئے بھی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرتے وقت یہ بھی واضح فرمادیا کہ بنی اسرائیل کے جو لوگ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے میں موجود ہوں گے، ان کو دنیا اور آخرت کی بھلائی اسی صورت میں مل سکے گی جب وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لاکر ان کی پیروی کریں، آنحضرت ﷺ کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی کچھ صفات بھی بیان فرمائیں، جن میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ آپ نبی ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں گے، عام طور سے رسول…
Read the full tafseer →اس اصول کے تعین کے بعد اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ کو بعض آنے والے واقعات کے بارے میں اطلاع دیتے ہیں۔ یہ امت مسلمہ اور آخری امت کے بارے میں ہے جن پر اللہ کی رحمت کی بارش ہوگی ، اس انداز تعبیر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت اس پوری کائنات سے وسیع ہے۔ انسان اس کی انتہاؤں کو نہیں پا سکتا۔ اس کی وسعتوں سے اللہ ہی واقف ہے ، کیا ہی عظیم رحمت ہوگی یہ۔ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْن۔ اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ…
Read the full tafseer →3 " اُمی " یا تو " اُم " (بمعنی والدہ) کی طرف منسوب ہے، جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے اور کسی کا شاگرد نہیں ہوتا، نبی کریم ﷺ نے ساری عمر کسی مخلوق کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا۔ اس پر کمال یہ ہے کہ جن علوم و معارف اور حقائق و اسرار کا آپ نے افاضہ فرمایا۔ کسی مخلوق کا حوصلہ نہیں کہ اس کا عشر عشیر پیش کرسکے۔ پس " نبی امی " کا لقب اس حیثیت سے آپ کے لیے مایہ صد افتخار ہے، اور یا " اُمی " کی نسبت " ام القریٰ " کی طرف ہو جو " مکہ معظمہ " کا لقب ہے جو آپ کا مولد شریف تھا۔
4 یعنی آپ کی تشریف آوری کی بشارات اور نعوت وصفات کتب سماویہ سابقہ میں مذکور ہیں۔ حتیٰ کہ اس وقت سے لے کر آج تک ساڑھے…
Read the full tafseer →آیت 157 اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ
یعنی ہمارے نبی امی ﷺ کا اتباع کریں گے جن کو رسول بنا کر بھیجا جائے گا۔ محمد عربی ﷺ نے دنیوی اعتبار سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ آپ ﷺ دنیوی معیار کے مطابق پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ بھی امی تھے اور جن لوگوں میں آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا وہ بھی امی تھے ‘ کیونکہ ان لوگوں کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب تھی نہ کوئی شریعت۔
الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ز
یعنی آخری نبی ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ‘ آپ ﷺ کے حالات ‘ اور آپ ﷺ کے بارے میں واضح علامات ان کو تورات اور انجیل…
Read the full tafseer →154 بائیبل کی آپ کے متعلق بشارتیں :۔ اس آیت میں خطاب دور نبوی کے اہل کتاب اور دوسرے لوگوں سب کے لیے عام ہے کیونکہ آج بھی اللہ کی رحمت کے حصول کے ذرائع وہی ہیں جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دعا کے جواب میں بتلائے گئے تھے یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان لائیں، اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور مزید شرط یہ ہے کہ اس موجودہ نبی امی کی اطاعت و اتباع بھی کریں جس کی بشارت آج بھی تورات اور انجیل میں موجود ہے اور اہل کتاب انہیں پڑھتے اور اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں۔ مثلاً :
1۔ استثناء باب 18، آیت 15 تا 19 2۔ متی باب 21، آیت 33 تا 46 3۔ یوحنا باب 1، آیت 19 تا 21 4۔…
Read the full tafseer →218 ۔ (آیت) ” الذین “۔ کا لفظ سب انسانوں کے لئے عام ہے، یہاں خاص اشارہ اہل کتاب کی جانب ہے۔ امی سے مراد ان پڑھ بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے کہ ہمارے رسول اللہ ﷺ تھے اور ام القری والا یعنی مکی بھی اور امت والا بھی، اور حاصل ان دونوں آخری نسبتوں کا بھی وہی ہے یعنی ان پڑھ ہونا، قیل منسوب الی الامۃ الذین لم یکتبوالکونہ علی عادتھم وقیل سمی بذلک لانہ لم یکن یکتب ولایقرء من کتاب وقیل سمی بذلک لنسبتہ الی ام القری (راغب) قال الزجاج معنی الامی الذی ھو علی صفۃ امتہ العرب فالعرب اکثرھم ماکانوا یکتبون ولا یقرء ون والنبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کان لذلک (کبیر) اے الذی لایکتب ولا یقرأ (روح)
219 ۔” جسے “ یعنی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
واختار۔۔۔۔ لمیقاتنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے کوہ سینا پر اپنے ہمراہ لے جانے کیلئے ستر آدمیوں کو منتخب کیا، یہ آدمی کون تھے اس میں روایات مختلف ہیں۔
بنی اسرائیل کے منتخب کردہ ستر آدمی کون تھے ؟ ان ستر آدمیوں کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کے احکام انھیں سنائے تو انہوں نے کہا، ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے ہے، ہم تو جب تک خود اللہ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں تسلیم نہ کریں گے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر سربرآوردہ لوگوں کا انتخاب کیا اور انھیں اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے، وہاں اللہ تعالیٰ حضرت…
Read the full tafseer →الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورۃ والانجیل یامرہم بالمعروف وینہہم عن المنکر ویحل لہم الطیبت ویحرم علیہم الخبآئث .
جو لوگ اتباع کرتے ہیں اس رسول نبی امی کا جس (کے صفات و احوال) کو وہ اپنے پاس انجیل و توریت میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں کی ممانعت کرتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتاتا ہے اور گندی چیزوں کو (بدستور) ان پر حرام قرار دیتا ہے۔ الذین یتبعون مبتداء ہے یَاْمرہمخبر ہے یا مبتدا محذوف ہے اور الذینخبر ہے یعنی وہ وہی لوگ ہیں جو اتباع کرتے ہیں۔ الرسول النبی یعنی اللہ کا پیغمبر اور بندوں کے لحاظ سے نبی الامی…
Read the full tafseer →(157) اس پر اہل کتاب کو تکبر ہوا اور کہنے لگے کہ ہم اہل تقوی اور اہل کتاب ہیں اللہ تعالیٰ نے انکو بھی اس سے خارج کردیا اور فرما دیا کہ میری رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو محمد ﷺ کے دین کی پیروی کرتے ہیں، آپ انھیں توحید اور احسان کا حکم دیتے اور کفر وشرک سے روکتے ہیں اور جن چیزوں کو کتاب اللہ میں حلال کیا ہے جیسا کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ اور گائے، بکری کی چربی اس کو ان کے سامنے بیان کرتے ہیں۔
اب مردار خون اور سورکا گوشت وغیرہ کا حرام ہونا ان کے سامنے بیان کرتے ہیں اور جو ان لوگوں پر عہد تھے کہ جن کے توڑنے کی وجہ سے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام ہوجاتی تھیں، ان کو اور جو سختیاں مثلا کپڑے وغیرہ…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ۔۔ : یعنی اس زمانے میں میری رحمت کے خاص طور پر مستحق وہ لوگ ہیں۔۔ (قرطبی)
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی نو صفات مذکور ہیں اور الْاُمِّيَّ (جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو) کے لفظ سے یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود آپ میں جو کمال علم پایا جاتا ہے وہ آپ کا بہت بڑا معجزہ ہے، جو ”علوم نبوت“ قرآن مجید اور احادیث کی شکل میں موجود ہیں انھیں پڑھ کر عرب جیسی ان پڑھ قوم دنیا کی انتہائی تعلیم یافتہ اور مہذب ترین قوموں کی راہنما بن گئی۔
الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا۔۔ : اگرچہ یہود و نصاریٰ نے تورات و انجیل میں لفظی اور معنوی تحریف میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 157
اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
یحییٰ بن ابی کثیر نے نوف بکالی حمیری (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 101) سے روایت بیان کی ہے : جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کی وعدہ ملاقات کے لیے اپنی قوم کے ستر افراد چن لیے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ میں تمہارے لیے زمین کو مسجد اور پاکیزہ بنا دوں تم نماز پڑھ سکو گے جہاں تمہیں نماز کا وقت آپہنچے سوائے غسل خانہ یا حمام یا قبرستان کے اور یہ کہ میں تمہارے دلوں میں سکینہ رکھ دوں اور میں تمہیں اس طرح بنا دوں کہ تم تو رات حفظ اور ازبر پڑھنے لگو، تم میں سے مرد و عورت، آزاد و غلام اور صغیر وکبیر سبھی اسے پڑھ سکیں گے۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
(1) امام سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ موسیٰ کو نہیں دی گئی پھر فرمایا لفظ آیت ” قال عذابی اصیب بہ من اشاء “ سے لے کر ” المفلحون “ تک۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس دن اس امت کے لئے رحمت کو لکھ دیا گیا۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ “ سے مراد مغفرت ہے۔
(4) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے چند طریق سے ابن…
Read the full tafseer →[ اَلَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يَتَّبِعُوْنَ : پیروی کرتے ہیں ] [ الرَّسُوْلَ : ان رسول کی ] [ النَّبِيَّ : جو نبی ہیں ] [ الْاُمِّيَّ : امی ہیں ] [ الَّذِيْ : وہ ] [ يَجِدُوْنَهٗ : یہ لوگ پاتے ہیں جن کو ] [ مَكْتُوْبًا : لکھا ہوا ] [ عِنْدَهُمْ : اپنے پاس ] [ فِي التَّوْرٰىةِ : تورات میں ] [ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ : اور انجیل میں ] [ يَاْمُرُهُمْ : وہ حکم دیتے ہیں ان کو ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : نیکی کا ] [ وَيَنْهٰىهُمْ : اور منع کرتے ہیں ان کو ] [ عَنِ الْمُنْكَرِ : برائی سے ] [ وَيُحِلُّ : اور وہ حلال کرتے ہیں ] [ لَهُمُ : ان کے لیے ] [ الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ (چیزوں ) کو ] [ وَيُحَرِّمُ : اور حرام…
Read the full tafseer →بنی اُمّی ﷺ کا ذکر یہود و نصاریٰ توریت و انجیل میں پاتے ہیں
یہ آیت سابقہ کے آخری جملہ (وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ) سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دائمی رحمت کے مستحق متقی اور اہل ایمان ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں جو اہل ایمان تھے اور اب جو اہل ایمان ہیں ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ رحمت دائمہ لکھ دے گا، اب اہل ایمان وہ لوگ ہیں جو نبی امی آخر الانبیاء ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں جو لوگ ان کی رسالت اور نبوت کے منکر ہیں وہ کیسا ہی ایمان کا دعویٰ کریں اللہ کے نزدیک ان کا ایمان معتبر نہیں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان فرمائیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
ذکر میقات توبہ و معذرت از عبادت عجل
قال اللہ تعالیٰ واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم المفلحون
(ربط) گزشتہ رکوع میں میقات مناجاۃ وتکلیم کا ذکر کیا اور اس کے بع گوسالہ پرستی کا قصہ ذکر کیا اب ان آیات میں میقات توبہ و معذرت کا ذکر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمیوں کو منتخب کیا کہ وہ کوہ طور پر حاضر ہوں اور عبادت عجل سے معذرت کریں جب یہ لوگ کوہ طور پر پہنچے تو ایک ابر نمودار ہوا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ سب سے پہلے اس ابر میں موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوئے اور قوم سے کہا کہ تم قریب آجاؤ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ…
Read the full tafseer →152: یہ بھی ان لوگوں کی صفت ہے جو رحمت خداوند کے مستحق ہیں۔ پہلے اوصاف بیان کرنے کے بعد یہود و نصاریٰ کے لیے گنجائش باقی تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کا انکار کرنے کے باوجود دعوی کرلیں کہ ان میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ لہذا وہی اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے استحقاق رحمت کے لیے حضرت نبی امی ﷺ پر ایمان لانے کو شرط قرار دیدیا جن کے تمام اوصاف تورات وانجیل میں صاف صاف مذکور ہیں۔ “ الْاُمِّی ” یہ “ اُمٌّ ” (ماں) کی طرف منسوب ہے۔ یعنی جو شخص اسی حالت میں باقی ہو جس حالت میں اس کو ماں نے جنا ہو۔ آنحضرت ﷺ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے۔ “ او الی امه کا نه علی الحالة التی ولدته امه علیھا ” (روح ج 9 ص…
Read the full tafseer →ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی امت کے حق میں دعا کی تھی ” واکتب لنا فی ھذا الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ھدنا الیک “ اے مولا کریم ! لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا کی زندگی میں بھی بھلائی اور آخرت کی زندگی میں بھی ! بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” عذابی اصیب بہ من اشائ “ یہ میرا عذاب ہے جسے میں چاہوں پہنچاتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے فرمایا میں وہ خاص رحمت ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی امت کے حق میں موسیٰ (علیہ السلام) کی برتری کی دعا…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ 0 ۡيَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ 0 ۭ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ 0 ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 157 ۧ
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله…
Read the full tafseer →1 ؎ بار گراں وہ سخت احکام ہیں کہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں اہل کتاب کے لئے تھے اور اسی طرح طوق وہ اس کی نافرمانی کی پھٹکاریں ہیں جو وقتاً فوقتاً ان کے گلوں میں ڈالی گئیں۔ ان سب باتوں کو رسول امی یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت سے دور کردیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلَز یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھاھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمْ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبِِٰٓئِثَ وَیضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ لا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الاعراف : 157)
(جو پیروی کریں گے اس نبی امی رسول کی ‘ جس کا ذکر انھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق قرار دیے گئے لوگ (1) صاحب تقویٰ (2) زکوٰۃ ادا کرنے والے (3) اللہ تعالیٰ کی آیات پر مکمل ایمان لانے والے لوگ بیان کیے گئے ہیں۔ اب رحمت کے مستحق حضرات کے لیے مزید بنیادی شرائط بیان کی جاتی ہیں۔
مندرجہ بالا صفات رکھنے والے تب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوں گے اگر وہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے پہلے فوت ہوچکے ہوں۔ جب سے نبی آخر الزماں ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا اس کے بعد کوئی شخص مذکورہ بالا اوصاف کا مالک ہی کیوں نہ ہو اس کا ایمان، کردار اور تقویٰ اس وقت تک قبول نہیں ہوگا جب تک وہ نبی امیّ پر ایمان لاکر آپ کی ذات والا صفات کے حوالے سے…
Read the full tafseer →رُوئے سخن امت محمدیہ کی طرف اور رسالت مآب ﷺ کی تعریف :
آیت 157: اَ لَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ (جو لوگ کہ ایسے رسول کی اتباع کرتے ہیں) وہ جو ہم اسکی طرف وحی کرینگے اس کتاب کی صورت میں جو اس کے ساتھ خاص ہوگی اور وہ قرآن ہے۔ النَّبِیَّ (جو نبی) معجزات والے الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ (جن کو یہ لوگ پاتے ہیں) اسکی تعریف وہ لوگ پائیں گے جو بنی اسرائیل میں سے انکی اتباع کریں گے۔ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ (لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں) شرکاء سے علیحدگی اور بندوں سے انصاف…
Read the full tafseer →157 (الذین یتبعون الرسول النبی الامی) نوفل بکالی حمیری فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمیوں کو لے کر گئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ میں تمہارے لئے ساری زمین کو سجدہ گاہ اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دوں گا جب نماز کا وقت ہو جہاں دل کرے نماز پڑھ لو مگر بیت الخلاء حمام یا قبر کے پاس نہ پڑھ سکو گے اور میں تمہارے دل میں سکینہ ڈال دوں گا تم اپنی یادداشت سے تو ریت کو پڑھ لو مگر بیت الخلاء حمام یا قبر کے پاس نہ پڑھ سکو گے اور میں تمہارے دل میں سکینہ ڈال دوں گا تم اپنی یادداشت سے تو ریت کو پڑھو گے، مرد و عورت، آزاد ، غلام، بچہ، بڑا سب پڑھیں گے موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں جو اللہ پاک نے یہ فرمایا تھا کہ میری رحمت انہی لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور میری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں انہی کا یہ ذکر اس آیت میں فرمایا کہ وہ لوگ وہ ہیں جو رسول امی کی پیروی کرتے ہیں امام رازی نے کہا ہے الذین یتبعون سے مراد بنی اسرائیل ہیں مگر جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ اس آیت میں ساری امت آنحضرت کی مراد ہے خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ کسی اور فرقے کے ہوں جو حضرت پر ایمان لایا ہے آیت اسی کی شان میں ہے پھر فرمایا کہ اگلی امتیں ان رسول کو اپنی کتاب توریت انجیل میں نبی امی لکھا ہوا پاتے ہیں اس لئے کہ آپ جس طرح ماں کے شکم سے پیدا ہوئے اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →214 صفت " اُمِّیَّت " اور اس کی عظمت شان : سو امیت نبی اکرم ﷺ کی وہ امتیازی صفت ہے جو معجزوں کا معجزہ ہونے کی شان رکھتی ہے۔ سو اس اشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس پیغمبر کا امی ہونا ہی اس کا ایک عظیم الشان اور منفرد معجزہ ہوگا کہ جس امی نے اگرچہ لکھنا پڑھنا کسی سے نہیں سیکھا ہوگا لیکن وہ اپنے خالق ومالک کے فضل و کرم اور اس کی وحی و عنایت سے دنیا جہاں والوں کو ایسے علوم و معارف سے سرفراز فرمائے گا کہ دنیا بھر کے علوم اس کے سامنے بےحقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور اس طرح اس کی یہ امیت ہی اس کا ایک عظیم الشان معجزہ بن جائے گی ۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم ۔ چناچہ اس نبیٔ اُمی نے باوجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
تشریح : پچھلی آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ کہ اللہ رب العزت کی مخلوق میں اس کا طریقہ فضل و کرم پر ہی ہے غضب تو صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان حد سے زیادہ خود سر اور نافرمان ہوجاتا ہے اور پھر نعمت و رحمت کے حق دار لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ جو ایمان وتقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے۔ پھر فرمایا کہ آج سب سے بڑی نافرمانی یہ ہے کہ تم اس نبی امی ﷺ پر ایمان نہ لاؤ جن کے بارے میں تمہاری کتابوں تورات اور انجیل میں بڑا واضح طور پر بتایا گیا ہے اور بڑی بڑی نشانیاں ان کے بارے میں بیان کی گئی ہیں جو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 تا 153 ۔
اسرار و معارف :
غیر اللہ سے امید وابستہ کرنیوالا ذلت میں مبتلا ہوتا ہے :
ایک قانون ارشاد فرمادیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش اختیار کی انہیں دنیا بھی اللہ کا غضب اور ذلت پیش آئے گی یعنی ایسے لوگ جو حالات سے گھبرا کر یا جلد بازی میں اللہ کا دروازہ چھوڑ کر کسی دوسری ذات سے امید وابستہ کرلیتے ہیں ۔ جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی اس زمانہ میں میری رحمت کے خاص طو پر مستحق وہ ہیں۔۔۔۔۔ ( قر طبی)12 یہاں آنحضرت ﷺ کی صفات تسعہ مذکور ہیں اور ان پڑھ نبی لقط سے یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود آپ میں جو کمال علم پایا جاتا ہے وہ آپ ﷺ کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ چناچہ علوم نبوت جو احادیث کی شکل میں جود ہیں ان کو پڑھ کر عرب جیسی ان پڑھ قوم دنیا کی انتہائی تعلیم یافتہ اور سب ترین قوموں کی رہنما بن گئی۔13 آج بھی توراۃ وانجیل میں وہ مقامات موجود ہیں جن میں بنی سرائیل کو نبی ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے، مثال کے طور پر دیکھئے استثنا باب 18 آیت 17 ۔ 22) باب 32 ۔ آیت 21) باب 3 آیت 1 ۔ 2 متی۔ باب 4 آیت 23 ۔ 12 وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(7:157) الذین یتبعون الرسول النبی بدل ہے الذین یتقون کا۔
فساکن تھا ۔۔ کانت علیہم۔ کا ترجمہ ہوگا : میں اپنی رحمت کو ان لوگوں کی قسمت میں لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو پیروی کرتے ہیں اس رسول اور نبی امی کی جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ حلال کرتا ہے ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزوں کو۔ اور ان پر سے اس بوجھ کو اتارتا ہے (جس میں وہ دبے ہوئے ہیں) اور وہ بندش یا زنجریں کھولتا ہے۔ جنہوں نے ان کو جکڑ رکھا ہے۔
الرسول۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
تشریح : آیت نمبر 157 تا 158
پچھلی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ میر رحمت شفقت اور کرم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے میں اپنے رحم و کرم کے حصے میں ڈال دوں گا جو
(1) تقویٰ رکھتے ہیں ۔
(2) زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
(3) اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ۔ آیت نمبر 157 میں اللہ تعالیٰ نے چوتھی صفت بھی ارشاد فرمادی ہے۔
(4) چوتھی شرط یہ ہے کہ اس نبی امی ﷺ کی مکمل اطاعت و فرما برداری کی جائے جن کا ذکر توریت اور انجیل میں موجود ہے۔
یعنی ہرچند کہ یہ نبی امی ﷺ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و حضرت عیسٰی اور دیگر انبیا کے بعد آئے ہیں مگر ان کے آنے سے پہلے ہر نبی ان کے آنے کی…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کو تمام رسولوں پر فضیلت
شان نزول : جب قوم موسیٰ نے اس سے پہلے کی آیت سنی تو رحمت الہی کے آرزو مند ہوکر بولے کہ ہم بھی اللہ کی آیتوں یعنی توریت پر یقین رکھتے ہیں، اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ لہذا ہم بھی اللہ کی وسیع رحمت میں شامل ہیں۔ اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی جس میں رحمت کامل کو امت محمدیہ کے ساتھ خاص فرمایا گیا۔
امتیازات مصطفےٰ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم
اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو پچھلی کتابوں میں '' امی '' لقب سے یاد فرمایا ہے اس لئے کہ آپ ان پڑھ تھے یا اس وجہ سے کہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان پڑھ ہونا حضور کے لئے بڑا فخر ہے کہ نہ پڑھے نہ لکھے اور وحی کے ذریعے سے بڑے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
[58] یعنی مذہبی احکام کی بےجا سختیاں، ناقابل فہم عقیدوں کا بوجھ، توہمات کا انبار اور عالموں اور فقیہوں کی تقلید کی بیڑیاں جن سے پیغمبر اسلام نے نجات دلائی۔
[59] یعنی قرآن مجید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
رحمت خداوندی کی وسعتیں :
(ف 1) (آیت) ” انا ھدنا الیک “۔ سے غرض یہ ہے کہ ہر بات میں اللہ کی ہدایت اور کرم فرمائی ضروری ہے ، ورنہ گمراہی کا احتمال ہے ۔
” ورحمتی وسعت کل شیء “۔ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کا غضب اس کے جذبہ رحم سے بسا اوقات مغلوب ہوجاتا ہے ، اور دب جاتا ہے ، مگر شرط یہ ہے کہ ایمان واتقاء کا مظاہرہ کیا جائے وہ لوگ جو صحیح معنوں میں مومن ہیں ، جن کے دلوں میں اتقاء و خشیت کی درشتی ہے ، جو باقاعدہ زکوۃ ادا کرتے ہیں ، اور مال و دولت کی محبت انہیں آپے سے باہر نہیں کردیتی وہ جو پاکباز اور پرہیزگار ہیں ، اعمال صالحہ جن کا وطیرہ اور شغل ہے ایمان جن کے دلوں میں اعتقاد محکم کی شکل میں موجود ہے وہ…
Read the full tafseer →157 وہ لوگ وہ ہیں جو اس رسول نبی امی کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں جس نبی کی صفات کو اور اس کے نام کو یہ لوگ توریت و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو توریت و انجیل ان کے پاس موجود ہیں وہ رسول ایسا ہے جو ان کو بھلی باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور بڑے کاموں سے منع کرتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال قرار دیتا ہے اور گندی اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے وہ بوجھ اور وہ بندشیں جو ان پر سابقہ شریعت میں مقرر تھیں ان سب بوجھ اور بندشوں کو ان سے دور کرتا ہے لہٰذا جو لوگ ان صفات مذکورہ سے متصف رسول نبی امی پر ایمان لائے اور اس کی حمایت ورفاقت کی اور اس کی امداد و اعانت کی اور اس نور…
Read the full tafseer →ف 2۔ مراد اس سے قرآن ہے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ کا امی ہونے کا مطلب کیا ؟
171: قرآن کریم میں نبی اعظم و آخر ﷺ کا بکثرت ذکر آیا ہے کہیں آپ کے منصب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ کہیں آپ کے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا ذکر فرمایا۔ کہیں آپ ﷺ کی عبادات کا تذکرہ کیا ۔ کہیں آپ ﷺ کو رحمت للعالمین قرار دیا ۔ کہیں گھریلو معاملات کی طرف اشارات کئے ۔ کہیں آپ ﷺ کے جنگی معرکوں کی تفصیلات بیان کیں ۔ کہیں آپ ﷺ کے القابات کا ذکر فرمایا اس طرح آپ ﷺ کو (النبی الامی ) کے لقب سے نوازا گیا جیسا کہ زیر نظر آیت میں فرمایا ۔ رہی یہ بات کہ آپ ﷺ کو امی کیوں کہا گیا ؟ تو اس کے چار جواب ممکن ہیں اور چاروں ہی آپ ﷺ کے حق میں درست…
Read the full tafseer →The Distinct virtues of the Muslim Ummah
This verse speaks of the people who, in actual sense, deserve the perfect Mercy and complete favour of Allah asked by the Prophet Musa (علیہ السلام) for his people. It said that the people fulfilling the conditions, referred to in the previous verse, in real sense are those who follow the unlettered Messenger of Allah. The verse, while speaking of these people, described certain distinctive qualities of the Holy Prophet ﷺ . Then the verse enjoined not only belief in him but also following the commands and practice of the Holy Prophet ﷺ . This makes us…
Read the full tafseer →112. The preceding verse concludes God's response to Moses' prayer. This was the appropriate moment to invite the Israelites to follow the Message preached by the Prophet Muhammad (peace be on him). The upshot of what is being said here is that people can even now attain God's mercy exactly as they could in the past. These conditions require that people should now follow the Prophet Muhammad (peace be on him), since refusal to follow a Prophet after his advent amounts to gross disobedience to God. Those who do not commit themselves to follow the Prophet (peace be on him) cannot attain the…
Read the full tafseer →