Al-A'raaf 7:156

Al-A'raaf · from ayah 156

7:156

وَاكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ ؕ— قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ ۚ— وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ ؕ— فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ۟ۚوَاكۡتُبۡ لَـنَا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ‌ؕ قَالَ عَذَابِىۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ‌ ۚ وَرَحۡمَتِىۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَىۡءٍ‌ ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And decree for us in this world [that which is] good and [also] in the Hereafter; indeed, we have turned back to You." [Allah] said, "My punishment - I afflict with it whom I will, but My mercy encompasses all things." So I will decree it [especially] for those who fear Me and give zakah and those who believe in Our verses -

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 19 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:156

اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا" جواب میں ارشاد ہوا "سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی۔ ہم (اس غرض کے لیے) آپ ہی سے رجوع کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا : اپنا عذاب تو میں اسی پر نازل کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں۔ اور جہاں تک میری رحمت کا تعلق ہے وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ چنانچہ میں یہ رحمت (مکمل طور پر) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو تقوی اختیار کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تو ہمارے لئے اس دنیا (کی زندگی) میں (بھی) بھلائی لکھ دے اور آخرت میں (بھی) بیشک ہم تیری طرف تائب و راغب ہوچکے، ارشاد ہوا: میں اپنا عذاب جسے چاہتا ہوں اسے پہنچاتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر وسعت رکھتی ہے، سو میں عنقریب اس (رحمت) کو ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اور وہی لوگ ہی ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی، بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا میرا عذاب، میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی نیکی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم نے تیری طرف رجوع کرلیا ہے اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : سزا تو میں اسے ہی دیتا ہوں جسے چاہوں گا مگر میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ لہذا جو لوگ پرہیزگاری کرتے، زکوٰۃ دیتے اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے میں رحمت ہی لکھوں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم نے تو تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا، میں اپنے عذاب میں تو اسی کو مبتلا کرتا ہوں جس کو چاہتا ہوں اور مری رحمت ہر چیز کو عام ہے۔ سو میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ رکھوں گا جو تقوی اختیار کریں گے اور زکوۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیات پر ایمان لائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور لکھ دیجئے ہمارے لئے بھلائی اس دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی، بیشک ہم نے رجوع کرلیا آپ کی طرف، ارشاد فرمایا کہ اپنا عذاب تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت چھائی ہوئی ہے ہر چیز پر، سو میں اس کو لکھ دوں گا (اس کے درجہ کمال میں میں) ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں، اور وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور جو (صدق دل سے) میری آیتوں پر ایمان (ویقین) رکھتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

ہمارے حق میں بھلائی لازم کردے اس دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) ہم تو تیرے ہی آگے جھک گئے ہیں۔ (اللہ نے) فرمایا اپنا عذاب میں ا سی پر واقع کرتا ہوں جس کے لیے چاہتا ہوں اور میری رحمت تو ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے۔ سو اسے ان لوگوں کے لیے تو ضرور ہی لازم کردوں گا جو خوف خدا رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو لوگ ہماری نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تو ہمارے لیے اس دنیا (کی زندگی) میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری جناب میں رجوع کرتے ہیں (اللہ نے) فرمایا کہ میں عذاب میں مبتلا کروں گا جس کو چاہوں گا اور میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے تو اسے میں لکھ دوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں گے زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو لوگ ہماری آیات پر پختہ ایمان رکھیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری طرف رجوع کرچکے۔ فرمایا کہ یہ میرا عذاب ہے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے، زکوٰۃ دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And ordain for us what is good in this world and in the World to Come for to You have we turned.'He replied: 'I afflict whomsoever I wish with My chastisement. As for My mercy, it encompasses everything. will show mercy to those who abstain from evil, pay Zakat and have faith in Our signs.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And write for us good in this world and in the Hereafter. We turn to You in repentance. He (Allah) said, :As for My punishment, I afflict with it whom I will. And My mercy extends to everything. So, I shall write it for those who guard themselves against evil, and pay Zakah, and those who do believe in Our verses,

— Muhammad Taqi Usmani

And write for us good in this world and in the Hereafter. We turn to You in repentance. He (Allah) said, :As for My punishment, I afflict with it whom I will. And My mercy extends to everything. So, I shall write it for those who guard themselves against evil, and pay Zakah, and those who do believe in Our verses,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And ordain for us good in this world, and in the Hereafter. Certainly we have Hudna unto You." He said: (As to) My punishment I afflict therewith whom I will and My mercy embraces all things. That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa, and give Zakah; and those who believe in Our Ayat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And ordain for us in this world that which is good, and in the Hereafter (that which is good), Lo! We have turned unto Thee. He said: I smite with My punishment whom I will, and My mercy embraceth all things, therefore I shall ordain it for those who ward off (evil) and pay the poor-due, and those who believe Our revelations;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And decree for us in this world [that which is] good and [also] in the Hereafter; indeed, we have turned back to You." [Allah] said, "My punishment - I afflict with it whom I will, but My mercy encompasses all things." So I will decree it [especially] for those who fear Me and give zakah and those who believe in Our verses -

— Saheeh International

"Grant us well-being in this life and in the life hereafter for we have turned ourselves to You." The Lord replied, "My torment only afflicts those whom I want to punish, but My mercy encompasses all things. I shall grant mercy to those who maintain piety, pay their religious tax, and those who have faith in Our revelations."

— Muhammad Sarwar

And ordain for us good in this world's life and in the hereafter, for surely we turn to Thee. He said: (As for) My chastisement, I will afflict with it whom I please, and My mercy encompasses all things; so I will ordain it (specially) for those who guard (against evil) and pay the poor-rate, and those who believe in Our communications.

— Muhammad Habib Shakir

And ordain for us good in the world and in the Hereafter; verily we have been guided unto Thee. Allah said: as to My chastisement, therewith afflict whomsoever I Will and as to My mercy, it comprehendeth everything. Wherefore I shall ordain it for those who fear an give poor- rate and those who believe in Our signs.

— Abdul Majid Daryabadi

"And ordain for us that which is good, in this life and in the Hereafter: for we have turned unto Thee." He said: "With My punishment I visit whom I will; but My mercy extendeth to all things. That (mercy) I shall ordain for those who do right, and practise regular charity, and those who believe in Our signs;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:156

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انسان چونکہ کلیم اللہ ؑ نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت عدل اور پورے علم کے ذریعے سے جانتا ہوں کہ مستحق عذاب کون ہے ؟ صرف اسی کو عذاب پہنچاتا ہے۔ ہاں البتہ میری رحمت بڑی وسیع چیز ہے جو سب پر شامل، سب پر حاوی اور سب پر محیط ہے۔ چناچہ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد رہنے والے فرشتے فرماتے رہا کرتے ہیں کہ اے رب تو نے اپنی رحمت اور اپنے علم سے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے۔ مسند امام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 111 یعنی اللہ تعالیٰ جس طریقے پر خدائی کر رہا ہے اس میں اصل چیز غضب نہیں ہے جس میں کبھی کبھی رحم اور فضل کی شان نمودار ہوجاتی ہو، بلکہ اصل چیز رحم ہے جس پر سارا نظام عالم قائم ہے اور اس میں غضب صرف اس وقت نمودار ہوتا ہے جب بندوں کا تمردُّحد سے فزوں ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی اس دعا کا تکملہ یہ بھی مذکور ہے، وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ، یعنی اے ہمارے پروردگار آپ ہمارے لئے اس دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دیجئے اور آخرت میں بھی، کیونکہ ہم آپ کی طرف خلوص و اطاعت سے رجوع کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَاۗءُ ۚ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤ ْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤ ْمِنُوْنَ یعنی اے موسیٰ اول تو میری رحمت مطلقا میرے غضب پر سابق ہے چناچہ میں اپنا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ۭقَالَ عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَاۗءُ ۚ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۔ وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً۔ اس دنیا میں بھی تو ہمارے لیے بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی بھلائی لکھ دے۔ آخرت کے ساتھ لفظ حسنہ کو حذف کردیا اس لیے کہ مذکور محذوف پر خود دلیل ہے۔ لفظ ھدنا پر دوسری جگہ ہم بحث کرچکے ہیں۔ اس کے معنی رجوع کرنے اور توبہ کرنے کے ہیں۔ اس لفظ میں یہود کے لیے ایک لطیف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

156۔ 1 یعنی توبہ کرتے ہیں۔ 156۔ 2 یہ اس کی وسعت رحمت ہی ہے کہ دنیا میں صالح و فاسق اور مومن و کافر دونوں ہی اس کی رحمت سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے ' اللہ تعالیٰ کی رحمت کے 10 حصے ہیں۔ یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ جس سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اس نے اپنی رحمت کے 99 حصے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

73: مطلب یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے، دنیا کا عذاب میں ہر نافرمان کو نہیں دیتا ؛ بلکہ اپنی حکمت اور علم سے جس کو چاہتا ہوں اسے دیتا ہوں، آخرت میں بھی ہر گناہ پر میرا عذاب دینا ضروری نہیں ؛ بلکہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کے بہت سے گناہ میں معاف کرتا رہتا ہوں ؛ البتہ جن لوگوں کی سرکشی کفر وشرک کی صورت میں حد سے بڑھ جاتی ہے ان کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت عذاب دیتا ہوں، اسکے برخلاف دنیا میں میری رحمت ہر مومن اور کافر، نیک اور بد سب پر چھائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت و عافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں اور آخرت میں بھی کفر وشرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کو اسی رحمت سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ۔ اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا۔ ہم مکمل طور پر تیری طرف لوٹ گئے ہیں ، تیری رحمت میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیری جانب سے نصرت کے امیدوار ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلیم و رضا اور حکمت ابتلاء کو سمجھتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی درخواست پیش فرمائی اور یہ حتمی اعلان کردیا کہ ہم اللہ کی پناہ گاہ کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی یہ دعا ہر مسلمان کے لیے خضوع و خشوع اور مقام کبریائی کے آداب کے عین مطابق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " شاید حضرت موسیٰ نے اپنی امت کے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی جو مانگی، مراد یہ تھی کہ سب امتوں پر مقدم اور فائق رہیں دنیا اور آخرت میں، جواباً خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عذاب اور رحمت کسی فرقہ پر مخصوص نہیں، سو عذاب تو اسی پر ہے جس کو اللہ چاہے اور رحمت عامہ سب مخلوق کو شامل ہے لیکن وہ رحمت خاص جو تم طلب کر رہے ہو، لکھی ہے ان کے نصیب میں جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں اور اموال میں زکوٰۃ ادا کرتے یا نفس کا تزکیہ کرتے ہیں اور خدا کی ساری باتوں پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ یعنی آخری امت کہ سب کتابوں پر ایمان لاوے گی، سو حضرت موسیٰ کی امت میں سے جو کوئی آخری کتاب پر یقین…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 156 وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے جو دعا کی ‘ یہ وہی الفاظ ہیں جو سورة البقرۃ میں مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَیْکَ ط۔ یعنی ہم سے جو خطا ہوگئی ہے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ہم معافی چاہتے ہیں۔ قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُج وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ط r ٰ علیہ السلام ٰ علیہ السلام یعنی میری ایک رحمت تو وہ ہے جو ہر شے کے شامل حال ہے ‘ ہر شے پر محیط ہے۔ ہر شے کا وجود اور بقا میری رحمت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

153 اللہ کی رحمت دنیا میں سب کے لئے عام ہے :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کے لیے دنیا اور آخرت دونوں جگہ کی بھلائی طلب فرمائی، تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا اصل چیز جس پر یہ کائنات کا سارا نظام چل رہا ہے وہ میری رحمت ہے اور ساری مخلوق میری رحمت سے مستفید ہو رہی ہے۔ سزا تو میں صرف اس شخص کو دیتا ہوں جس کے حق میں اس کی نافرمانیوں کی بنا پر وہ مقدر ہوچکی ہے بلکہ وہ بھی بسا اوقات دنیا میں میری رحمتوں سے مستفیض ہوتے رہتے ہیں اور جس خیر اور بھلائی کا تم مطالبہ کر رہے ہو کہ دنیا میں بھی یہ نعمت ملے اور آخرت میں بھی یہ صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ کی راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

215 ۔ (اخلاص و اطاعت کے ساتھ) (آیت) ” واکتب لنا “۔ کے معنی لازمی طور پر یہ نہیں کہ قید کتابت میں لے آ، یا ہمارے لیے تحریر کردے، بلکہ یہ ہیں کہ ہمارے حق میں لازم ومقرر کردے، محاورۂ عرب میں کتابۃ کے یہ معنی عام ہیں، اے اوجب لنا والکتابۃ تذکر بمعنی الایجاب (کبیر) واثبت لنا (کشاف) ویعبرعن الاثبات والتقدیر والایجاب والفرض والعزم بالکتابۃ (راغب) (آیت) ” ھدنا الیک “۔ یعنی ہم تیرے آگے رجوع و توبہ کے ساتھ حاضر ہورہے ہیں، قال المفسرون اے تبنا ورجعنا الیک (کبیر) 216 ۔ یعنی میرے قانون رحمت کے ماتحت معاملہ تو مجرم وغیرمجرم نیک وبد سب ہی کے ساتھ ہورہا ہے۔ البتہ قانون مکافات ومجازات کا عمل خاص خاص افراد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 155–157

واختار۔۔۔۔ لمیقاتنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے کوہ سینا پر اپنے ہمراہ لے جانے کیلئے ستر آدمیوں کو منتخب کیا، یہ آدمی کون تھے اس میں روایات مختلف ہیں۔ بنی اسرائیل کے منتخب کردہ ستر آدمی کون تھے ؟ ان ستر آدمیوں کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کے احکام انھیں سنائے تو انہوں نے کہا، ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے ہے، ہم تو جب تک خود اللہ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں تسلیم نہ کریں گے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر سربرآوردہ لوگوں کا انتخاب کیا اور انھیں اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے، وہاں اللہ تعالیٰ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واکتب لنا فی ہذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ہدنا الیک : اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہمارا رجوع تیری ہی طرف ہے۔ فلما اخذتہم الرجفۃ سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا الرجفۃ یعنی سخت زلزلہ۔ چونکہ گوسالہ پرستوں سے وہ لوگ گوسالہ پرستی کے وقت الگ اور کنارہ کش نہیں ہوئے اس لئے سخت بھونچال میں گرفتار ہوگئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ان کی حالت دیکھ کر رحم آیا اور اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مر نہ جائیں اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے نکل نہ جائیں یہ لوگ تمام نیک کاموں میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مددگار تھے اطاعت گزار اور فرماں بردار تھے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(156) اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری رحمت نیک وبد سب کے لیے عام ہے، اس پر شیطان کو غرور ہوا کہ میں بھی اس میں شامل ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس رحمت سے خارج کردیا، اور فرمادیا کہ جو لوگ کفر وشرک اور فواحش سے بچتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول پر ایمان لاتے ہیں، میں ان لوگوں کا نام ضرور لکھ لوں گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَاۗءُ ۚ۔۔ : یعنی میرا عذاب تو صرف ان کافروں اور نافرمانوں کے لیے مخصوص ہے جنھیں میں ان کی نافرمانی پر سزا دینا چاہتا ہوں، کیونکہ عذاب دینا میری غالب صفت نہیں بلکہ وہ میرا ایک فعل ہے جو عدل کے تقاضے کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔ میری اصل اور غالب صفت جس کے ساتھ کائنات کا نظام چل رہا ہے، وہ میری رحمت ہے، جس سے کائنات کی ہر چیز فیض یاب ہو رہی ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، اسی اثنا میں ایک اعرابی نے نماز کی حالت میں کہہ دیا : ”اے اللہ ! مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 156 قولہ تعالیٰ : آیت : واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ یعنی تو ہمیں ایسے اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما جن کے عوض ہمارے لیے نیکیاں لکی جائیں۔ وفی الاخرۃ یعنی ( آخرت میں) ان پر جزا ہو۔ آیت : انا ھدنا الیک بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے۔ یہ حضرت مجاہد، ابو العالیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے : اور الھود کا معنی توبہ ہے اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قال عذابی اصیب بہ من اشآء یعنی جو اس کے مستحق ہیں، یدنی یہ زلزلہ اور صاعقہ میری طرف سے عذاب ہے میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ من اشآء کا معنی ہے جسے میں چاہتا ہوں کہ میں اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 156–157

(1) امام سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ موسیٰ کو نہیں دی گئی پھر فرمایا لفظ آیت ” قال عذابی اصیب بہ من اشاء “ سے لے کر ” المفلحون “ تک۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس دن اس امت کے لئے رحمت کو لکھ دیا گیا۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ “ سے مراد مغفرت ہے۔ (4) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے چند طریق سے ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاكْتُبْ : اور تو لکھ دے ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا : اس دنیا میں ] [ حَسَـنَةً : بھلائی ] [ وَّفِي الْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں (بھی ) ] [ اِنَّا هُدْنَآ : بیشک ہم نے رجوع کیا ] [ اِلَيْكَ ۭ : تیری طرف ] [ قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا ] [ عَذَابِيْٓ: میرا عذاب ] [ اُصِيْبُ : میں پہنچتا ہوں ] [ بِهٖ : اس کے ساتھ ] [ مَنْ : جس پر ] [ اَشَاۗءُ ۚ : میں چاہتا ہوں ] [ وَرَحْمَتِيْ : اور میری رحمت ] [ وَسِعَتْ : وہ وسیع ہوئی ] [ كُلَّ شَيْءٍ ۭ : ہر چیز پر ] [ فَسَاَكْتُبُهَا : پس میں لکھوں گا اس کو ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لیے جو ] [ يَتَّقُوْنَ : تقوی کرتے ہیں ] […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ اکْتُبْ لَنَا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ ) (اور ہمارے لیے اس دنیا میں نیک حالت پر ہونا لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی) ۔ (اِنَّا ھُدْنَآ اِلَیْکَ ) (بلاشبہ ہم آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں) ۔ (قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ ) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ میرا عذاب ہے جسے چاہوں پہنچا دوں۔ (وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ) اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے۔ (فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ ) سو عنقریب میں اپنی رحمت کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 155–157

ذکر میقات توبہ و معذرت از عبادت عجل قال اللہ تعالیٰ واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم المفلحون (ربط) گزشتہ رکوع میں میقات مناجاۃ وتکلیم کا ذکر کیا اور اس کے بع گوسالہ پرستی کا قصہ ذکر کیا اب ان آیات میں میقات توبہ و معذرت کا ذکر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمیوں کو منتخب کیا کہ وہ کوہ طور پر حاضر ہوں اور عبادت عجل سے معذرت کریں جب یہ لوگ کوہ طور پر پہنچے تو ایک ابر نمودار ہوا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ سب سے پہلے اس ابر میں موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوئے اور قوم سے کہا کہ تم قریب آجاؤ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

150: یعنی جس کو چاہوں عذاب دے سکتا ہوں مجھے روکنے والا کوئی نہیں۔ “ وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ الخ ” مطلب یہ ہے کہ میری رحمت سب سے بڑی اور زیادہ ہے اور اس کی کوئی انتہا نہیں اور وہ ہر مستحق پر حاوی ہے۔ “ عموم اي لا نھایة لھا ای من دخل فیھا لم تعجز منه ” (قرطبی ج 7 ص 296) یہ مطلب نہیں کہ ہر شیئ کو شامل ہے۔ 151: اب یہاں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں۔ یعنی وہ تمام گناہوں سے بچتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں۔ زکوۃ کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ وہ یہود پر نہایت شاق تھی۔ یہودی علماء اور پیر مختلف طیرقوں سے لوگوں کا مال کھانے کے تو عادی تھے، مگر اپنے پاس سے دینا ان کے لیے نہایت مشکل تھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں لے کر طور پہاڑ پر گئے تاکہ وہ معصیت کے ارتکاب پر اللہ تعالیٰ سے معذرت کریں وہاں پر ان لوگوں نے کلام الٰہی سنا مگر ایمان لانے کی بجائے حیل و حجت کرنے لگے اور اس کے کلام الہی ہونے پر شک کا اظہار کیا طرح طرح کی نقطہ چینی اور اعتراضات کیے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوئی نیچے سے زلزلہ آیا اور اوپر سے بجلی گری اور ان لوگوں پر موت طاری ہوگئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی بار گاہ میں نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا کی کہ پروردگار ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا حَسَـنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَيْكَ۝ 0 ۭ قَالَ عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِہٖ مَنْ اَشَاۗءُ۝ 0 ۚ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝ 0 ۭ فَسَاَكْتُبُہَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۝ 156 ۚ كتب ( لکھنا) الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : الذین الخ یہ جملہ محلا مجرور ہے کیونکہ صفت ہے للذین مجرور کی اور مبتدا بھی ہوسکتا ہے اور اس کی خبر یامرھم یا اولئک ھم المفلحون ہے النبی الامی الذی الرسول کی صفت مکتوبا حال ہے یجدونہ کی ضمیر سے والمراد یجدون اسمہ عندہم مکتوبا یا یجدون سے متعلق ہے یامرھم اور ینھہم اور یحل اور یحرم اور یضع سب جملہ حال ہیں النبی سے یا مستانفہ ہیں فالذین مبتدا آمنوا وعزروا ونصروا واتبعوا اس کے صلہ اولئک الخ خبر۔ تفسیر : موجودات میں سے کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کو میری رحمت گھیرے ہوئے نہ ہو۔ ادنیٰ مرتبہ وجود ایک ایسی نعمت عام ہے جس سے کوئی شے بھی محروم نہیں مگر اس کے بعد جو اور صدہا نعمتیں ہیں ان کا تو کوئی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَکْتُبْ لَنَا فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ اِنَّا ھُدْنَآ اِلَیْکَط قَالَ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآئُ ج وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍط فَسَاَ کْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الاعراف : 156) ” اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیئے او آخرت کی بھی ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا پروردگار نے ارشاد فرمایا سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اسے میں ان لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی زندہ ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرمادیا ہے تو انھوں نے اس کرم نوازی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ بھی دعا کی اے اللہ ! ہمارے لیے اس دنیا کی ” حَسَنَۃً “ لکھ دیجیے اور آخرت کو بھی بہتر فرما دیجیے۔ یقیناً ہم تیری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ ” حَسَنَۃً “ سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جس کے ملنے سے آدمی کے دل کو سکون اور ایمان میں اضافہ ہو۔ پھر اس کا آخرت میں بھی پورا پورا اجر مل جائے۔ اس لیے مومنوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ جب بھی وہ اپنے رب سے کوئی چیز طلب کریں انھیں دنیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوسری دعا : آیت 156: وَاکْتُبْ لَنَا (اور ہمارے نام لکھ دے) تو قائم فرما اور قسمت میں کردے۔ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً (اس دنیا میں نیک حالت) عافیت، حیات طیبہ، اطاعت کی توفیق وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ (اور آخرت میں بھی) جنت اِنَّا ھُدْنَآ اِلَیْکَ (بےشک ہم آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں) تیری طرف تو بہ و رجوع کیا۔ ھاد یھود الیہ کا معنی لوٹنا تو بہ کرنا الھود جمع ھائد تائب کو کہتے ہیں۔ جوابِ باری تعالیٰ : قَالَ عَذَابِیْٓ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اپنا عذاب تو) اس کا معاملہ یہ ہے کہ میں اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآئُ (اسی کو دیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں) یعنی میں جس کو معاف نہیں کرتا وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 156 (واکتب لنا) واجب کر دے (ی ھذہ الدنیا حسنۃ) نعمت و عافیت (وفی الاخرۃ) مغفرۃ اور جنت ہے (انا ھدنا الیک قال) ہم نے رجوع کیا تیری طرف فرمایا) اللہ تعالیٰ نے (غذابی اصیب بہ من اشآء رحمتی وسعت کل شیئ) حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی رحمت دنیا میں ہر نیک اور گناہ گار کو شامل ہے اور قیامت کے دن متقین کے ساتھ خاص ہے۔ عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں ہر چیز پر وسیع ہے لیکن واجب صرف تقویٰ والوں کے لئے ہے کیونکہ کافر بھی مئومنین کے ساتھ دنیا میں رزق دیئے جاتے ہیں کیونکہ اللہ کی رحمت وسیع ہے تو وہ اس میں زندگی گزارتے ہیں تو جب آخرت میں جائیں گے تو یہ خاص مئومنین کے لئے ہوگی۔ جیسے کوئی شخص…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

یہ دوسری دعا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلی جو دعا کی تھی رفع ضرر کے لئے تھی اور یہ دعا حصول مقصد کے لئے حسنۃ کے معنے اعمال صالح کے ہیں یا مراد حسنۃ سے فضل ہے یعنی دین میں نیک عملوں کی توفیق اور رزق میں وسعت رہے اور آخرت میں بہشت عطا کر۔ ھُدنا کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے توبہ کی اور تیری طرف رجوع ہوتے ہیں مفسروں کا بیان ہے کہ اسی ھدنا کہنے سے یہودی یہود کے نام سے مشہور ہوئے جب تک شریعت موسوی منسوخ نہیں ہوئی تھی یہ نام خوبی کا تھا اور بعد اس شریعت کے منسوخ ہوجانے کے وہ بات باقی نہیں رہی اس لئے کہ منسوخ شریعت کے موافق عمل کرنے سے کچھ اجر نہیں اسی واسطے حضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخری وقت میں مو سے (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 150–168

عجلت اور سرعت کا فرق قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

212 رحمت خداوندی کی شان عمومیت : سو حضرت موسیٰ کی دعا و درخواست کے جواب میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ عذاب تو میں جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں لیکن میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ یہاں پر اس ارشاد ربانی کا یہ اسلوب بھی قابل غور ہے کہ عذاب پہنچانے سے متعلق تو مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا گیا یعنی { اُصِیْبُ } مگر رحمت کے لئے ماضی کا۔ یعنی وسعت کیونکہ رحمت اصل ہے جو کسی سبب کے بغیر محض اس کی شان کریمی اور رحیمی سے ملتی ہے اور وہ بالفعل اور فی الواقع ہر چیز پر اور ہمیشہ چھائی ہوئی ہے، جبکہ عذاب بندوں کے اپنے اختیار کردہ اسباب پر مرتب ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے اور ہمیشہ کیلئے نہیں ہوتا ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 152–157

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 تا 153 ۔ اسرار و معارف : غیر اللہ سے امید وابستہ کرنیوالا ذلت میں مبتلا ہوتا ہے : ایک قانون ارشاد فرمادیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش اختیار کی انہیں دنیا بھی اللہ کا غضب اور ذلت پیش آئے گی یعنی ایسے لوگ جو حالات سے گھبرا کر یا جلد بازی میں اللہ کا دروازہ چھوڑ کر کسی دوسری ذات سے امید وابستہ کرلیتے ہیں ۔ جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی میرا عذات تو صرف ان کافروں اور نا فر مونوں کے لیے مخصوص ہے جنہیں ان کی نافرمانی پر سزا دینا چاہتا ہے کیونکہ عذاب دینا میری صفات میں سے نہیں ہے بلکہ وہ محض میرا ایک فعل ہے جو صفت عدل کے تقا ضے میں ظاہر ہوتا ہے۔ میری صفت اور نظام کائنات میں اصل چیز رحمت ہے جس سے کائنات کی ہر چیز فیض یاب ہو رہی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے دعا کی الھم ارحمنی ومحداولا تر حم منا احدا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا لقد تحجرت وسعا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رحمت واسع کو محددو کردیا ابن کثیر) اگر اللہ تعالیٰ کے غضب کی طرح اس کی رحمت بھی خاص نیکو کاروں کے لیے ہوتی اور کفر و نافرمانی پور فو را امو اخذ ہوتا تو روئے زمین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:156) انا ھدنا الیک۔ بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کرلیا ہے۔ ھاد یہود (باب نصر) سے۔ ھدنا ماضی جمع متکلم کا صیغہ ہے ھاد بمعنی رجع ہے۔ اس کا معنی تبنا ہوسکتا ہے۔ ہم (اپنے کئے پر) تائب ہیں۔ اصیب بہ۔ جسے میں اس کو دیتا ہوں (جسے میں چاہوں) اصاب یصیب اصابۃ (افتعال) سے مضارع واحد متکلم۔ ساکب تھا للذین۔ میں اس کو لکھ دوں گا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ رحمۃ کی طرف راجع ہے ۔ میں اس کو مقدر کر دوں گا۔ اسے ( رحمت کو ان کی تودیر میں) لکھ دوں گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 154–156

تشریح : آیت نمبر 154 تا 156 صدیوں کی غلامی اور فرعون کے ظلم و ستم سے نجات کے بعد اللہ نے بنی اسرائیل کو خلافت ارضٰ سپرد کی تھی۔ اس خلافت کو چلانے کے لئے جس آئین اور قوانین کی ضرورت تھی وہ اللہ نے توریت کی شکل میں بنی اسرائیل کو عطا کردئیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک امیر مملکت بھی جو ، آئین و قوانین کی تفصیلات سمجھنے کے لئے خصوصی علم و دانش رکھتا ہو اور جس کا مسلسل رابط اللہ تعالیٰ سے ہو چناچہ اس خلافت ارضی کیلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا گیا جہاں چالیس دن رات ان کی تعلیم و تربیت فرمائی گئی اس تعلیم و تربتی کے بعد توریت کی تختیاں سپرد ہوئیں جن پر دنیا وآخرت کی فلاح بہبود کے اصول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دوسری دعا مانگی تھی جو حصول مقصفد کے لئے اور دنیا میں نیک عملوں کی توفیق اور رزق میں وسعت رہے اور آخرت میں بہشت عطاکر۔ ہم نے توبہ کی اور تیری طرف رجوع ہوتے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں ہر چیز میں میرا حکم جاری ہے۔ میں جس پر چاہتا ہوں عذاب بھیجتا ہوں اور جس پر چاہتا ہوں رحمت نازل کرتا ہوں۔ میرا عذاب اور رحمت کسی خاص فرقہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، رحمت خاص اسی کے حصہ میں ہے جو خدا سے ڈرتا ہے اور اپنے مال میں سے خدا کی راہ پر دیتا ہے، اور اپنے نفس کو شرک اور کفر سے بچاتا ہے اور میری آیتوں اور ساری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 156–157

[58] یعنی مذہبی احکام کی بےجا سختیاں، ناقابل فہم عقیدوں کا بوجھ، توہمات کا انبار اور عالموں اور فقیہوں کی تقلید کی بیڑیاں جن سے پیغمبر اسلام نے نجات دلائی۔ [59] یعنی قرآن مجید۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 156–157

رحمت خداوندی کی وسعتیں : (ف 1) (آیت) ” انا ھدنا الیک “۔ سے غرض یہ ہے کہ ہر بات میں اللہ کی ہدایت اور کرم فرمائی ضروری ہے ، ورنہ گمراہی کا احتمال ہے ۔ ” ورحمتی وسعت کل شیء “۔ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کا غضب اس کے جذبہ رحم سے بسا اوقات مغلوب ہوجاتا ہے ، اور دب جاتا ہے ، مگر شرط یہ ہے کہ ایمان واتقاء کا مظاہرہ کیا جائے وہ لوگ جو صحیح معنوں میں مومن ہیں ، جن کے دلوں میں اتقاء و خشیت کی درشتی ہے ، جو باقاعدہ زکوۃ ادا کرتے ہیں ، اور مال و دولت کی محبت انہیں آپے سے باہر نہیں کردیتی وہ جو پاکباز اور پرہیزگار ہیں ، اعمال صالحہ جن کا وطیرہ اور شغل ہے ایمان جن کے دلوں میں اعتقاد محکم کی شکل میں موجود ہے وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

156 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی اور اس دنیا میں بھی ہمارے لئے بہتری اور خوشحالی لکھ دے اور اسی طرح آخرت میں بھدی بہتری لکھ دے ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں یعنی ہمارے لئے دونوں عالم میں بہتری اور بھلائی مقرر کردے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں اپنا عذاب تو جس پر چاہتا ہودں اس کو پہنچاتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیاء کو محیط اور ہر ایک چیز پرچھائی ہوئی ہے البتہ میں اس رحمت کو کامل طور پر ان تمام لوگوں کے لئے مخصوص کروں گا جو نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں۔ یعنی یوں تو میری رحمت عام ہے مستحق اور غیر مستحق سب ہی فائدہ اٹھاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ تقوی وزکوة و ایمان میں حصر مقصود نہیں ہر باب کا ایک عمل نمونہ کے طور پر ذکر فرمایا مطلب یہ کہ اطاعت احکام کی کرتے ہیں پھر جس درجہ کی اطاعت ہوگی اسی درجہ کی رحمت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کے دعائیہ کلمات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا ضابطہ : 170: اب اصل عظیم کا ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ اس کائنات ہستی میں اصل اور عام حقیقت رحمت ہے اور تعذیب و عقوبت صرف خاص خاص حالتوں کے لئے ہے اور اگر بغور دیکھا جائے تو وہ بھی حقیقت میں رحمت ہی ہے جیسے آپریشن سے تکلیف ضرور ہوتی ہے لیکن آپریشن کیوں کیا جاتا ہے ؟ سب کو معلوم ہے کہ تکلیف و مصیبت کو دور کرنے کیلئے ہی ہوتا ہے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ افراد اور قوموں کو چھوٹے چھو ٹے عذابوں اور عقوبتوں میں مبتلا کر کے اس بڑے عذاب اور عقوبت سے بچنے کی فکر کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے۔ پس اصل قانون رحمت ہوا جس کے احاطہ سے کوئی گوشہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The verse 156 contains the last portion of the prayer. It said: وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَ‌ةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ “ And write for us good in this world and in this world and in the Hereafter. We turn to you in repentance." Allah Almighty answered in response to this request: عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۖ وَرَ‌حْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ "As for My punishment, I afflict with it whom I will. And My Mercy extends to everything. So I shall write…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

111. It is false to assume that the general rule underlying God's governance of His realm is that of wrath which is occasionally tempered with mercy and benevolence. On the contrary, the general rule is that of mercy and benevolence and wrath is the exception which is aroused when man's transgression and rebellion exceed all reasonable limits.

Read the full tafseer →