Al-A'raaf 7:155

Al-A'raaf · from ayah 155

7:155

وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا ۚ— فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَ ؕ— اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ— اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ؕ— تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَتَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ ؕ— اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ ۟وَاخۡتَارَ مُوۡسٰى قَوۡمَهٗ سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا لِّمِيۡقَاتِنَا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَـكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّاىَ‌ ؕ اَ تُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنۡ هِىَ اِلَّا فِتۡنَـتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِىۡ مَنۡ تَشَآءُ ‌ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَـنَا وَارۡحَمۡنَا‌ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغَافِرِيۡنَ

اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Moses chose from his people seventy men for Our appointment. And when the earthquake seized them, he said, "My Lord, if You had willed, You could have destroyed them before and me [as well]. Would You destroy us for what the foolish among us have done? This is not but Your trial by which You send astray whom You will and guide whom You will. You are our Protector, so forgive us and have mercy upon us; and You are the best of forgivers.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 19 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:155

اور اُس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسیٰؑ نے عرض کیا "اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور موسیٰ ؑ نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین کے لیے منتخب کئے، سو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ ؑ عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار! اگر تجھ کو یہ منظور ہوتا تو اس سے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کردے گا؟ یہ واقعہ محض تیری طرف سے ایک امتحان ہے، ایسے امتحانات سے جس کو تو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کیے، تاکہ انہیں ہمارے طے کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) لائیں۔ پھر جب انہیں زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! اگر آپ چاہتے تو ان کو اور خود مجھ کو بھی پہلے ہی ہلاک کردیتے، کیا ہم میں سے کچھ بیوقوفوں کی حرکت کی وجہ سے آپ ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟ (ظاہر ہے کہ نہیں۔ لہذا پتہ چلا کہ) یہ واقعہ آپ کی طرف سے صرف ایک امتحان ہے جس کے ذریعے آپ جس کو چاہیں گمراہ کردیں، اور جس کو چاہیں ہدایت دے دیں۔ آپ ہی ہمارے رکھوالے ہیں۔ اس لیے ہمیں معاف کردیجیے، اور ہم پر رحم فرمایے۔ بیشک آپ سارے معاف کرنے والوں سے بہتر معاف کرنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور موسٰی ؑ نے اپنی قوم کے ستر مَردوں کو ہمارے مقرر کردہ وقت (پر ہمارے حضور معذرت کی پیشی) کے لئے چن لیا، پھر جب انہیں (قوم کو برائی سے منع نہ کرنے پر تادیباً) شدید زلزلہ نے آپکڑا تو (موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے رب! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان لوگوں کو اور مجھے ہلاک فرما دیتا، کیا تو ہمیں اس (خطا) کے سبب ہلاک فرمائے گا جو ہم میں سے بیوقوف لوگوں نے انجام دی ہے، یہ تو محض تیری آزمائش ہے، اس کے ذریعے تو جسے چاہتا ہے گمراہ فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے، سو ُتو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے چنے، پھر جب انھیں زلزلے نے پکڑا تو اس نے کہا اے میرے رب ! اگر تو چاہتا تو انھیں اس سے پہلے ہلاک کردیتا اور مجھے بھی، کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو ہم میں سے بیوقوفوں نے کیا ہے ؟ یہ نہیں ہے مگر تیری آزمائش، جس کے ساتھ تو گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جسے چاہتا ہے، تو ہی ہمارا یارو مددگار ہے، سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہماری طے شدہ میعاد کے لئے موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمی چن لئے۔ پھر جب انہیں زلزلے نے آلیا تو موسیٰ نے عرض کیا : پروردگار ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے بھی انہیں اور مجھے بھی ہلاک کرسکتا تھا، کیا تو ہم سب کو اس جرم میں ہلاک کرتا ہے جو ہم میں سے کچھ نادانوں نے کیا تھا ؟ یہ تو تیری ایک آزمائش تھی جس سے تو جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے تو ہی ہمارا سرپرست ہے۔ لہذا ہمیں معاف فرما اور ہم پر رحم فرما اور تو ہی سب سے بڑھ کر معاف کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمی چے ہمارے وقت مقرر کے لیے تو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ نے کہا اے اگر تو چاہتا ان کو ہلاک کر چھوڑتا پہلے ہی اور مجھ کو بھی۔ کیا تو ہمیں ایک ایسے جرم کی پاداش میں ہلاک کردے گا جس کا ارتکاب ہمارے اندر کے بیوقوفوں نے کیا۔ یہ تو بس تیری ایک آزمائش تھی تو اس سے جس کو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت دے تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین بخشنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چن لیا موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو ہمارے وعدہ کے وقت پر (ہمارے حضور) لانے کو، پھر جب ان کو آپکڑا ایک سخت زلزلے نے (ان کے ایک ایک بےہودہ مطالبہ پر) تو موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے رب ! اگر آپ چاہتے تو پہلے ہی ہلاک کردیتے ان کو بھی اور مجھے بھی، کیا آپ اس قصور پر ہم سب کو ہلاک کردیں گے جو کہ ہم میں سے کچھ بیوقوفوں نے کیا ؟ یہ تو محض آپ کی ایک آزمائش ہے جس کے ذریعے آپ جسے چاہیں گمراہ کردیں اور جسے چاہیں ہدایت بخش دیں، آپ ہی ہیں ہمارے لئے کارساز، پس بخشش فرما دے ہماری، اور رحم فرما دے ہم پر، اور آپ ہی (اے ہمارے رب !) سب سے بڑھ کر بخشش فرمانے والے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے ستر مرد انتخاب کیے ہمارے وقت موعود کے لیے۔ پھر جب انہیں زلزلہ نے آپکڑا۔ تو (موسی ؑ نے) کہا کے اے میرے پروردگار اگر تجھے (یہی) منظور تھا تو تو نے اس کے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کردیا ہوتا تو کیا تو ہمیں اس (حرکت) پر ہلاک کردے گا جو ہم میں سے (چند) بیوقوفوں نے کی۔ یہ تو بس تیری طرف سے آزمائش ہے ان (آزمائشوں) سے تو جس کو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم کردے۔۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے ہماری مغفرت کر ہم پر رحم کر اور تو ہی بہترین مغفرت کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انتخاب کیا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے ستر افراد کا ہمارے وقت مقررہ کے لیے پھر جب انہیں آپکڑازلزلے نے (موسیٰ ؑ نے) نے عرض کیا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ہلاک کردیتا پہلے ہی ان سب کو بھی اور مجھے بھی تو کیا تو ہمیں ہلاک کر دے گا ہم میں سے کچھ بیوقوف لوگوں کی حرکت کی وجہ سے ؟ تو ہمارا پشت پناہ ہے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور یقیناً تمام بخشنے والوں میں تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کرکے کوہ طور پر حاضر کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے رب العزت ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھے پہلے ہی ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس کام کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا یہ تو تیری آزمائش ہے اس سے تو جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت بخش دے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And out of his people Moses singled out seventy men for Our appointment. Then, when violent shaking seized them, he addressed his Lord: 'Had You willed, O my Lord, You could have destroyed them and me long ago. Will You destroy us for what the fools amongst us did? That was nothing but a trial from You whereby You mislead whom You will and guide whom You will. You alone are our guardian. Forgive us, then, and have mercy upon us. You are the best of those who forgive.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Musa selected seventy men from his people for Our appointment. Later when the earthquake seized them, he said, :My Lord, had it been Your will, You could have destroyed them earlier, and me too. Would You destroy us for what the foolish among them have done? It is nothing but a trial from You, wherewith you let go astray whom You will, and give guidance to whom You will. You are our protector, so forgive us, and have mercy on us, and You are the best among those who forgive.

— Muhammad Taqi Usmani

And Musa selected seventy men from his people for Our appointment. Later when the earthquake seized them, he said, :My Lord, had it been Your will, You could have destroyed them earlier, and me too. Would You destroy us for what the foolish among them have done? It is nothing but a trial from You, wherewith you let go astray whom You will, and give guidance to whom You will. You are our protector, so forgive us, and have mercy on us, and You are the best among those who forgive.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Musa chose out of his people seventy (of the best) men for Our appointed time and place of meeting, and when they were seized with a violent earthquake, he said: "O my Lord, if it had been Your Will, You could have destroyed them and me before; would You destroy us for the deeds of the foolish among us It is only Your trial by which You lead astray whom You will, and keep guided whom You will. You are our protector, so forgive us and have mercy on us: for You are the best of those who forgive.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Moses chose of his people seventy men for Our appointed tryst and, when the trembling came on them, he said: My Lord! If Thou hadst willed Thou hadst destroyed them long before, and me with them. Wilt thou destroy us for that which the ignorant among us did? It is but Thy trial (of us). Thou sendest whom Thou wilt astray and guidest whom Thou wilt: Thou art our Protecting Friend, therefore forgive us and have mercy on us, Thou, the Best of all who show forgiveness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Moses chose from his people seventy men for Our appointment. And when the earthquake seized them, he said, "My Lord, if You had willed, You could have destroyed them before and me [as well]. Would You destroy us for what the foolish among us have done? This is not but Your trial by which You send astray whom You will and guide whom You will. You are our Protector, so forgive us and have mercy upon us; and You are the best of forgivers.

— Saheeh International

Moses selected seventy men from his people to attend Our appointment. (In Our presence). When an earthquake jolted them to death, Moses said, "Lord, had You wanted to destroy them, why did You not destroy them and me before. Are You destroying us for what the fools among us have done? This (destruction) is only a trial through which You cause some to go astray and guide others. You are our Guardian. Forgive us and have mercy on us; You are the best of those who forgive.

— Muhammad Sarwar

And Musa chose out of his people seventy men for Our appointment; so when the earthquake overtook them, he said: My Lord! if Thou hadst pleased, Thou hadst destroyed them before and myself (too); wilt Thou destroy us for what the fools among us have done? It is naught but Thy trial, Thou makest err with it whom Thou pleasest and guidest whom Thou pleasest: Thou art our Guardian, therefore forgive us and have mercy on us, and Thou art the best of the forgivers.

— Muhammad Habib Shakir

And Musa singled out of his people seventy men for Our appointment, then when the earthquake laid hold of them he said. O my Lord! hadst Thou willed, Thou wouldst have destroyed them afore and me also. wilt Thou destroy Us for that which the foolish ones amongst us have done! lt is only thy trial, whereby thou sendest astray whomsoever Thou wilt and keepest guided whomsoever Thou wilt. Thou art our patron. So forgive us Thou and have mercy on us; and thou art the Best of the forgivers.

— Abdul Majid Daryabadi

And Moses chose seventy of his people for Our place of meeting: when they were seized with violent quaking, he prayed: "O my Lord! if it had been Thy will Thou couldst have destroyed, long before, both them and me: wouldst Thou destroy us for the deeds of the foolish ones among us? this is no more than Thy trial: by it Thou causest whom Thou wilt to stray, and Thou leadest whom Thou wilt into the right path. Thou art our Protector: so forgive us and give us Thy mercy; for Thou art the best of those who forgive.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:155

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

موسیٰ ؑ کی کوہ طور سے واپسی ٭٭ حضرت موسیٰ ؑ نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے کہنے لگے اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو ناپسند آئی اور ان پر بھونچال آگیا۔ جس سے گھبرا کر حضرت موسیٰ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ سدی کہتے ہیں انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گو سالہ پرستی کی معذرت کرنے کیلئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 151–155

سورة الْاَعْرَاف 109 یہ طلبی اس غرض کے لیے ہوئی تھی کہ قوم کے 70 نمائندے کوہ سینا پر پیشی خداوندی میں حاضر ہو کر قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جرم کی معافی مانگیں اور از سرِنو اطاعت کا عہد استوار کریں۔ بائیبل اور تلمود میں اس بات کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ ذکر ہے کہ جو تختیاں حضرت موسیٰ ؑ نے پھینک کر توڑ دی تھیں ان کے بدلے دوسری تختیاں عطا کرنے کے لیے آپ کو سینا پر بلایا گیا تھا (خروج۔ باب 34)۔ سورة الْاَعْرَاف 110 مطلب یہ ہے کہ ہر آزمائش کا موقع انسانوں کے درمیان فیصلہ کن ہوتا ہے۔ وہ چھاج کی طرح ایک مخلوط گروہ میں سے کار آمد آدمیوں اور ناکارہ آدمیوں کو پھٹک کر الگ کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ستر بنی اسرائیل کا انتخاب اور ان کی ہلاکت کا واقعہ چوتھی آیت میں ایک خاص واقعہ کا ذکر ہے کہ موسیٰ ؑ نے جب اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات لاکر بنی اسرائیل کو دی تو اپنی کجروی اور حیلہ جوئی کی وجہ سے کہنے لگے کہ ہمیں یہ کیسے یقین آئے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے، ممکن ہے آپ اپنی طرف سے لکھ لائے ہوں، ان کو اطمینان دلانے کے لئے موسیٰ ؑ نے دعا کی تو حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد ہوا کہ اس قوم کے منتخب آدمیوں کو آپ کوہ طور پر لے آئیں تو ہم ان کو بھی خود اپنا کلام سنا دیں گے جس سے ان کو یقین آجائے، موسیٰ ؑ نے ان میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا اور کوہ طور پر لے گئے، حسب وعدہ انہوں نے اپنے کانوں اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا ۚ فَلَمَّآ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ ۭاَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ مِنَّا ۚ اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ۭ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَهْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْن۔ یہ حضرت موسیٰ کے دوبارہ کوہ سینا پر جانے کا ذکر ہے جب وہ گوسالہ پرستی کے واقعہ کے بعد توبہ کے لیے گئے ہیں۔ تورات کے راویوں نے اس واقعہ کو پہلے واقعہ کے ساتھ گڈ مڈ کردیا ہے۔ اس وجہ سے بات گھپلا ہو کر رہ گئی ہے۔ قرآن نے ان دونوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

155۔ 1 ان ستر آدمیوں کی تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے ستر آدمی چنے اور انہیں کوہ طور پر لے گئے، جہاں بطور عذاب انہیں ہلاک کردیا گیا، جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے کہا۔ 155۔ 2 بنی اسرائیل کے یہ ستر آدمی کون تھے ؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے تورات کے احکام انہیں سنائے تو انہوں نے کہا کہ ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل شدہ ہے ؟ ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں اسے نہیں مانیں گے۔ چناچہ انہوں نے ستر برگزیدہ آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں کوہ طور پر لے گئے۔ وہاں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

71: ستر آدمیون کو کوہ طور پر لے جانے کی کیا وجہ تھی ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائیں ظاہر کی ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بچھڑے کی عبادت کا جو جرم عظیم بنی اسرائیل سے سرزد ہوتا تھا، اس پر توبہ کرانے کے لیے انہیں کوہ طور پر بلایا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ بات تھی تو ان پر زلزلہ مسلط کرنے کی کوئی معقول توجیہ واضح نہیں ہوتی۔ اور جو توجیہات بیان کی گئی ہیں، تکلف سے خالی نہیں ہیں۔ لہذا زیادہ صحیح بات وہ معلوم ہوتی ہے جو بعض روایات میں آئی ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین کیسے آئے کہ یہ کتاب اللہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہ قصہ ذرا آگے بڑھتا ہے ایک نیا منظر اسکرین پر آتا ہے۔ اس قصے کا یہ بارہواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اپنے منتخب ستر افراد کے ساتھ رواں دواں ہیں ؟ وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا۔ اور اس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں۔ اللہ کے ساتھ تعین وقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ شاید یہ وقت اس لیے متعین ہوا تھا کہ اس میں بنی اسرائیل توبہ کریں اور انہوں نے جس کفر اور شرک کا ارتکاب کیا تھا ، اس پر اللہ سے معافی چاہیں۔ سورة بقرہ میں ہے کہ اس جرم کے عوض بنی اسرائیل کے لیے بطور کفارہ جو سزا مقرر کی گئی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 154–155

1 راجح یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ میقات اس میقات کے علاوہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو " تورات " عطا فرمانے کے لیے مقرر ہوا تھا۔ نیز آیات حاضرہ کی ترتیب سے بظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ گوسالہ پرستی اور سزایابی کے بعد پیش آیا۔ لیکن سورة نساء کی آیت (فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ ) 4 ۔ النساء :153) زیادہ صفائی سے بتلائی ہے کہ گوسالہ پرستی اس واقعہ کے بعد ہوئی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس واقعہ کا خلاصہ سورة بقرہ میں ربع پارہ " الم " کے بعد گزر چکا ہے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 155 وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لِّمِیْقَاتِنَا ج وہ لوگ جو آخری وقت تک اس مشرکانہ فعل پر قائم رہے انہیں قتل کردیا گیا۔ اب اس تطہیر purge کے بعد اجتماعی توبہ کا مرحلہ تھا ‘ جس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کے ستر 70 سرکردہ افراد کو ساتھ لے کر کوہ طور پر حاضری کے لیے روانہ ہوگئے۔ فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ کوہ طور پر یا اس کے مضافات میں ان لوگوں کے لیے جسمانی کپکپی یا زمینی زلزلے جیسی خوفناک کیفیت پیدا کردی گئی۔ قَالَ رَبِّ لَوْ شِءْتَ اَہْلَکْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَ ط اَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ج قوم کے کچھ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

152 ستر منتخب آدمیوں کا دیدار الہٰی کا مطالبہ اور ان کی موت :۔ جب انہیں اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنانے کے لیے یہ تختیاں دی گئیں تو ان لوگوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی بداعتمادی کا اظہار کردیا اور کہنے لگی کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کا یہ سوال اللہ کے حضور پیش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ان میں سے ستر آدمی منتخب کر کے فلاں وقت کوہ طور پر لے آؤ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر قبیلہ کے چھ چھ آدمی منتخب کیے تو یہ (72) بہتر ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ جو دو آدمی رضاکارانہ طور پر پیچھے رہ جائیں ان کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

210 ۔ یعنی وقت معین پر اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے جانے کے لئے۔ یہ حاضری دوبارہ تھی یا یہ اسی پہلی حاضری کی مزید تشریحات ہیں ؟ توریت میں ذکر کسی دوسری میقات کا نہیں اور ہمارے یہاں کے عام مفسرین کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ کوئی دوسراواقعہ نہیں بلکہ نزول توریت کے وقت کی اس حاضری کا ذکر ہے۔ لیکن قرآن پاک میں ایک دوسری آیت۔ (آیت) ” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم ثم اتخذوا العجل “۔ (سورۂ نساء) نیز خود اسی رکوع کی ترتیب مضامین ظاہرا اس خیال کی منافی ہے واللہ اعلم۔ 211 ۔ (اور وہ ستر کے ستر مردہ یا نیم مردہ ہو کر رہ گئے) اس پر حاشیہ سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 6 میں گزر چکا۔ قول جمہوریہ ہے کہ یہ لوگ واقعۃ مرگئے تھے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 155–157

واختار۔۔۔۔ لمیقاتنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے کوہ سینا پر اپنے ہمراہ لے جانے کیلئے ستر آدمیوں کو منتخب کیا، یہ آدمی کون تھے اس میں روایات مختلف ہیں۔ بنی اسرائیل کے منتخب کردہ ستر آدمی کون تھے ؟ ان ستر آدمیوں کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کے احکام انھیں سنائے تو انہوں نے کہا، ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے ہے، ہم تو جب تک خود اللہ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں تسلیم نہ کریں گے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر سربرآوردہ لوگوں کا انتخاب کیا اور انھیں اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے، وہاں اللہ تعالیٰ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا اور موسیٰ نے ہمارے مقرر کردہ وقت (پر کوہ طور کو) جانے کے لئے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے۔ قومہ یعنی من قومہ اپنی قوم میں سے۔ سبعین رجلا یعنی ان لوگوں میں سے ستّر آدمی جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی۔ لمیقاتنا یعنی ہم نے ان کی حاضری کا جو وقت مقرر کیا تھا اس وقت کے لئے۔ روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی قوم میں سے ستّر آدمیوں کو لے کر آؤ اور بچھڑے کی پوجا کی معذرت پیش کرو (یعنی قصور معاف ہونے کی دعا کرو) آپ نے ہر سبط میں سے چھ آڈمی چھانٹ لئے اس طرح دو آدمی بڑھ گئے کیونکہ کل اسباط بارہ تھے آپ نے فرمایا دو آدمی کم کرلو اس پر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(155) اپنی قوم میں سے ہمارے وقت مقرر کے لیے انتخاب کیا گیا کہ جب ان کو زلزلہ کی ہلاکت وغیرہ نے آگھیرا تو موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ اے پروردگار اس دن سے پہلے ان کو اور مجھے بھی قبطی کے قتل کرنے کی بنا پر ہلاک کردیتا، بھلا آپ چند بیوقوفوں کی بچھڑے کی پوجا سے ان کو ہلاک کیا جارہا ہے۔ یہ تو صرف ایک امتحان ہے، آپ ہی تو ہمارے خبر گیر ہیں، ہماری ان باتوں پر گرفت نہ کیجیے، آپ معاف کرنے والے ہیں، ہمارے لیے علم و عبادت اور گناہوں سے حفاظت اور جنت اور اس کی نعمتیں مقرر کردیجیے، ہم آپ سے توبہ کے لیے درخواست گزار ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ۔۔ : موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ وقت پر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب فرمایا، ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ نے ان میں سے بہترین آدمیوں ہی کا انتخاب کیا ہوگا، مگر وہاں جا کر ان پر اللہ کا ایسا غضب ہوا کہ وہ سب زلزلے سے مرگئے۔ اس عذاب کا باعث کیا تھا ؟ مفسرین نے مختلف وجوہ بیان کی ہیں، جن میں سے سب سے راجح وہی بات ہے جو سورة بقرہ (55) میں ذکر ہوئی ہے کہ انھوں نے کہا تھا : ”اے موسیٰ ! جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ نہ لیں تیرا یقین ہرگز نہیں کریں گے۔“ اس گستاخی پر ان پر بجلی گری جس سے وہ سب مرگئے۔ یہاں ”الرَّجْفَةُ“ (زلزلے) کا ذکر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 155 قولہ تعالیٰ ؛ آیت : واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا اس میں قومہ اور سبعین رجلا دو مفعو ہیں اور ان میں سے ایک سے من کو حذف کیا گیا ہے۔ اور سیبویہ نے یہ شعر بیان کیا ہے : منا الذی اکتیر الرجال سماحۃ وبرا اذا ھب الریاح الزعازع (زاد المسیر) جلد 2، صفحہ 155 ) اور راعی نے ایک آدمی کی مدح کرتے ہوئے کہا ہے : اخترتک الناس اذ رثت خلائقھم واختل من کان یرجی عندہ السول اس میں مراد اخترتک من الناس ہے۔ اختار اصل میں اختیر ہے۔ پس جب یا متحرک ما قبل مفتوح ہے تو اسے الف سے بدل دیا گیا، جیسے قال اور باع۔ قولہ تعالیٰ ؛ آیت : فلما اخذتھم الرجفۃ یعنی جب وہ مر گئے۔ لغت میں الرجفۃ سے مراد شدید…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واختار موسیٰ قومہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ وہ اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو چن لیں تو انہوں نے ستر آدمیوں کو چن لیا۔ ان کو لے کر کھلے میدان میں آئے۔ یہ اس لئے کہ تاکہ وہ تمہارے رب سے اس کے بارے میں دعا کریں۔ جس کے بارے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور انہوں نے کہا اے اللہ ہم کو وہ چیز عطا فرما جو ہمارے بعد کسی کو عطا نہ فرمایا۔ ان کی دعاؤں میں سے اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند فرمایا تو ان کو ایک زلزلہ سے پکڑ لیا موسیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” لوشئت اہلکنہم من قبل وایای، اتھلکنا بما فعل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاخْتَارَ : اور چنا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ قَوْمَهٗ : اپنی قوم سے ] [ سَبْعِيْنَ رَجُلًا : ستر مرد ] [ لِّمِيْقَاتِنَا ۚ : ہماری مقرر کردہ جگہ کے لیے ] [ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اَخَذَتْهُمُ : پکڑا ان کو ] [ الرَّجْفَةُ : زلزلے نے ] [ قَالَ : تو ( موسیٰ نے ) کہا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ لَوْ شِئْتَ : اگر تو چاہتا تو ] [ اَهْلَكْتَهُمْ : تو ہلاک کردیتا ان کو ] [ مِّنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَاِيَّايَ ۭ : اور مجھ کو بھی ] [ اَ : کیا ] [ تُهْلِكُنَا : تو ہلاک کرتا ہے ہم کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ فَعَلَ : کیا ] [ السُّفَهَاۗءُ : بیوقوفوں نے ] [ مِنَّا ۚ : ہم میں سے ] [ اِنْ : نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ستر افراد کو اپنے ہمراہ لے جانا اور وہاں ان لوگوں کی موت کا واقع ہوجانا بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ بےتکی باتیں کیا کرتے تھے اور شبہات نکالتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ توریت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ جو عمل کرنے کے لیے نازل فرمائے ہیں۔ تم ان پر عمل کرو، تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہ ہم کیسے یقین کریں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے فرما دے کہ یہ میری کتاب ہے اور میرے احکام ہیں تو ہم مان لیں گے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی منتخب فرمائے تاکہ ان کو ہمراہ لے جائیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام سنوائیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 155–157

ذکر میقات توبہ و معذرت از عبادت عجل قال اللہ تعالیٰ واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم المفلحون (ربط) گزشتہ رکوع میں میقات مناجاۃ وتکلیم کا ذکر کیا اور اس کے بع گوسالہ پرستی کا قصہ ذکر کیا اب ان آیات میں میقات توبہ و معذرت کا ذکر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمیوں کو منتخب کیا کہ وہ کوہ طور پر حاضر ہوں اور عبادت عجل سے معذرت کریں جب یہ لوگ کوہ طور پر پہنچے تو ایک ابر نمودار ہوا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ سب سے پہلے اس ابر میں موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوئے اور قوم سے کہا کہ تم قریب آجاؤ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

148 ۔ یہ ساتواں واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے ستر منتخب نمائندے چن کر مقررہ وقت پر ان کو طور پہاڑ پر لے آئیں تاکہ وہ ساری قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے گناہ سے اللہ کے سامنے معذرت کریں۔ جب کوہ طور پر پہنچے تو اللہ نے پہاڑ پر سفید کہر ڈال دی جس سے وہ تمام ڈھک گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس میں داخل ہوئے اور ساتھ والوں سے فرمایا تم بھی اس بادل میں داخل ہوجاؤ جب وہ اس میں داخل ہوئے تو سجدے میں گر گئے اور اسی حالت میں انہوں نے اللہ کا کلام بھی سنا، جب بادل ہٹ گیا تو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا اور کہنے لگے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا بیان تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تعلق رکھتے تھے مگر بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہوگئے تھے اللہ نے انہیں اسی وقت آگاہ کردیا تھا کہ انہیں خدا تعالیٰ کا غضب پہنچنے والا ہے اور یہ کہ انہیں دنیا کی زندگی میں بھی ذلت کا سامنا ہوگا یہ کیا کم ذلت تھی کہ انہیں اپنے ہی عزیزوں کے ہاتھوں قتل کیا گیا ان کی توبہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں اللہ نے فرمایا ہم افتراء کرنے والوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں امام سفیان ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ کل صاحب بدعۃ ذلیل یعنی ہر بدعتی شخص ذلیل ہے جو دین میں نئی بات ایجاد کرتا ہے وہ اچھا آدمی نہیں ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَہٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا۝ 0 ۚ فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَہْلَكْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ۝ 0 ۭ اَتُہْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَاۗءُ مِنَّا ۝ 0 ۚ اِنْ ہِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ۝ 0 ۭ تُضِلُّ بِہَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَہْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ۝ 0 ۭ اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ۝ 155 اختیارُ : طلب ما هو خير وفعله، وقد يقال لما يراه الإنسان خيرا، وإن لم يكن خيرا، وقوله : وَلَقَدِ اخْتَرْناهُمْ عَلى عِلْمٍ عَلَى الْعالَمِينَ [ الدخان/ 32] ، يصحّ أن يكون إشارة إلى إيجاده تعالیٰ إياهم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : اختار کا فاعل موسیٰ قومہ مفعول اول بواسطہ حرف جر جو محذوف ہے ای من قومہ۔ سبعین مفعول ثانی رجلا اس کی تمیز اور ممکن ہے کہ سبعین قومہ سے بدل ہو والتقدیر سبعین رجلا منہم حسنۃ مفعول ہے اکتب لنا کا وفی الاخرۃ معطوف ہے فی ھذا الدنیا پر من اشاء مفعول ہے اصیب کا کل شیء وسعت کا مفعول رجفۃ کے لغوی معنی ہیں زلزلہ کے جو بڑا سخت ہو۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد کڑک ہے۔ تفسیر : یہ اسی بیان کا بقیہ ہے جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلنے کے بعد تیسرے مہینے بیابان سینا میں آئے اور بنی اسرئیل نے کوہ سینا کے سامنے خیمے کھڑے کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ کے اوپر بلائے گئے۔ وہاں سے نیچے اتر کر بنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے۔ وَاختَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ سِبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَاج فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَط اَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ اسُفَھَآئُ مَنَّاج اِنْ ھِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ تُضِلُّ بِھَا مَنْ تَشَآئُ وَتَھْدِیْ مَنْ تَشَآئُ اَنْتَط وَلِیُّنَا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 155) ” اور موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا ہمارے وقت مقرر کے لیے جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا ‘ تو موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے سرکار آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے ‘…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی مبارک اور بابرکت تختیاں قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لیے نازل فرمائی ہیں۔ لہٰذا ان پر خلوص دل اور پوری ہمت کے ساتھ عمل کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا میں عزت و عظمت اور ہر قسم کی نعمتیں عطا کرنے کے ساتھ آخرت کے انعام و اکرام سے مالا مال فرمائے گا۔ لیکن قوم نے اپنی عادت کے مطابق یہ کہہ کر تورات کو ماننے سے انکار کردیا کہ ہم کس طرح یقین کریں کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور فریاد کی کہ بار الٰہا ! ان کی یقین دہانی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کے منتخب افراد کا بےتکا سوال : آیت 155: وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ (اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے منتخب کئے) اپنی قوم میں سے۔ نحو : اس میں حرف جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کو ساتھ ملا دیا۔ سَبْعِیْنَ رَجُلًا (ستر آدمی) کہا گیا ہے کہ بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کے چھ آدمی کل تعداد بہتر ہوگئی۔ پھر فرمایا تم میں سے دو پیچھے رہیں۔ کالب ویوشع بیٹھ گئے۔ لِّمِیْقَاتِنَا (ہمارے وقت مقررہ کیلئے) تاکہ وہ عبادت عجل کے سلسلہ میں معذرت پیش کریں۔ فَلَمَّآ اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ (پس جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا) زلزلہ شدیدہ نے۔ عرضِ موسوی : قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِّنْ قَبْلُ (تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

155(واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلاً لمیقاتنا) اسی میں دلیل ہے کہ تمام لوگوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ لائیں جو بچھڑے کی عبادت کی معذرت کریں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی چنے (فلما) وہ اس جگہ آئے تو کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو ان کو زلزلہ نے پکڑا تو وہ سب مرگئے اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں ان کو اختیار کیا تاکہ یہ لوگ اپنے فعل کی توبہ کریں اور جن کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں ان کے لئے توبہ کا سوال کریں تو یہ دلالت کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ ستر آدمی اپنی قوم میں سے چن کر میرے پاس لے آؤ اور گوسالہ پوجنے کی عذر خواہی کردی خطیب کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو منتخب کیا تھا تو ساٹھ آدمی بوڑھے نکلے حکم ہوا کہ دس آدمی جوان بھی لو دس جو ان جب لے لئے تو وہ بھی صبح کو بوڑھے ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کو لے کر وقت مقررہ پر حاضر ہوئے کوہ طور کے نیچے ایک بہت بڑا ابر کا ٹکڑا آیا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا موسیٰ (علیہ السلام) اس ابر میں گھس گئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرے پاس آجاؤ اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں جب اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 150–168

عجلت اور سرعت کا فرق قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

207 حضرت موسیٰ کا اپنی قوم کے ستر آدمیوں کا انتخاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو چن لیا ہمارے وعدے کے وقت ہمارے حضور حاضر ہونے کے لیے۔ یعنی ان کو جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی تاکہ یہ اپنی قوم کے اس عظیم اور سنگین جرم پر اپنے رب کے حضور معذرت پیش کرسکیں۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ روایات کے مطابق حضرت موسیٰ نے ہر قبیلے سے چھ چھ آدمیوں کا انتخاب کیا۔ (الکشاف وغیرہ) ۔ سو ان سب کو لیکر حضرت موسیٰ کوہ طور پر پہنچے۔ سو اس میں حضرت موسیٰ کے دوبارہ کوہ طور پر جانے کا ذکر ہے۔ گو سالہ پرستی کے جرم سے توبہ کے لئے کوہ طور پر جانے کا یہ واقعہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 152–157

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 تا 153 ۔ اسرار و معارف : غیر اللہ سے امید وابستہ کرنیوالا ذلت میں مبتلا ہوتا ہے : ایک قانون ارشاد فرمادیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش اختیار کی انہیں دنیا بھی اللہ کا غضب اور ذلت پیش آئے گی یعنی ایسے لوگ جو حالات سے گھبرا کر یا جلد بازی میں اللہ کا دروازہ چھوڑ کر کسی دوسری ذات سے امید وابستہ کرلیتے ہیں ۔ جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اللہ تعالیٰ موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک مقررہ وقت پر قوم کے ستر نمائندوں کے ساتھ کوہ طور پر حاضر ہوں تاکہ قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جر م کے معافی مانگیں چناچہ موسیٰ نے ان ستر نمائندوں کا انتخاب فرمایا اور مقررہ وقت پر کوہ طور پہنچ گئے۔ ( قرطبی، ابن کثیر)2 اس زلزلہ یا صاعقہ کا سبب نہ تو قرآن کی کسی آیت میں مذکور ہے اور نہ اس بارے میں نبی ﷺ ہی سے کوئی حدیث مفسرین کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں یہ دعا کی : یا للہ ہمیں وہ چیز دے جو تو نے نہ پہلے کسی کو دی اور نہ آئندہ کسی کو دے گا، یہ دعا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی۔ سدی (رح) کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:155) اختار قومہ۔ ای اختار من قومہ۔ اختیار (افتعال) سے اس نے اپنی قوم سے چن لئے۔ لیمقاتنا۔ ہمارے مقررہ وقت پر۔ مضاف مضاف الیہ۔ میقات اسم ظرف زمان۔ طے شدہ ۔ مقرر دشہ وقت۔ الرجفۃ۔ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ الرجف (باب نصر) اضطراب شدید کو کہتے ہیں۔ رجفت الارض۔ زمین زلزلہ سے ہل گئی بحررجاف۔ تلاطم سمندر (نیز دیکھو 7:91) من قبل۔ من بعد کی ضد ہے۔ قبل اور بعد کو اضافت لازمی ہے جب بغیر اضافت کے آئے گا ۔ یا تو اس پر ضمہ ہوگا یا اس پر دوزبر ہوں گے۔ بعداً ۔ قرآن مجید میں بعداً استعمال نہیں ہوا ہے۔ ان ہی ۔ میں ان نافیہ ہے۔ فتنتک۔ فتنۃ مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ ۔ تیری آزمائش ۔ فتنہ کے معنی عذاب کے بھی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 154–156

تشریح : آیت نمبر 154 تا 156 صدیوں کی غلامی اور فرعون کے ظلم و ستم سے نجات کے بعد اللہ نے بنی اسرائیل کو خلافت ارضٰ سپرد کی تھی۔ اس خلافت کو چلانے کے لئے جس آئین اور قوانین کی ضرورت تھی وہ اللہ نے توریت کی شکل میں بنی اسرائیل کو عطا کردئیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک امیر مملکت بھی جو ، آئین و قوانین کی تفصیلات سمجھنے کے لئے خصوصی علم و دانش رکھتا ہو اور جس کا مسلسل رابط اللہ تعالیٰ سے ہو چناچہ اس خلافت ارضی کیلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا گیا جہاں چالیس دن رات ان کی تعلیم و تربیت فرمائی گئی اس تعلیم و تربتی کے بعد توریت کی تختیاں سپرد ہوئیں جن پر دنیا وآخرت کی فلاح بہبود کے اصول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ ستر آدمی اپنی قوم میں سے چن کر میرے پاس لے آؤ اور گئو سالہ پوجنے کی عذر خواہی کرو ''۔ حجرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمی بوڑھے لے کر وقت مقررہ پر حاضر ہوئے، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں تو ان ستر آدمیوں نے حجرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تو ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ جل شانہ کو صاف صاف نہ دیکھیں۔ اتنا کہنا تھا کہ ایک زلزلہ آیا اور بجلی چمکی اور ان لوگوں پر گری یہ ستر آدمی ایک دم ہلاک ہوگئے جس کا ذکر سورة بقرہ میں صاف آچکا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس حال میں دیکھنے سے بہت قلق ہوا۔ اس لئے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 151–155

[57] اس واقعے کا خلاصہ سورة بقرہ آیت 56 میں گزر چکا ہے۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تمہاری باتیں ہم اس وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ سے سن لیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ستر آدمیوں کو جو سردار تھے منتخب کر کے کوہ طور پر لے گئے اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا تو کہنے لگے کہ جب تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے بےحجاب نہ دیکھ لیں ہم کو یقین نہیں آسکتا۔ اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی اور وہ سب مرگئے یا مردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) یہ ستر آدمی وہ تھے جنہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہم جب تک خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ، مکالمہ ومخاطبہ کو نہیں جان سکتے موسیٰ (علیہ السلام) ان کو طور پر اپنے ساتھ لے گئے ، وہاں پہنے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے خواہش کی تو خدا نے آثار غضب ظاہر کئے ، پہاڑ مارے خوف وہراس کے کانپا اور زمین تھرتھرائی اور یہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوگئے ۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی اللہ تعالیٰ یہ تو بیوقوف ہیں تیرے جلال و جبروت سے آگاہ نہیں ، شان توحید سے آشنا نہیں ، ان کو کیوں ہلاک کئے دیتا ہے ان کو موقع دے کہ یہ تیری دین کی اطاعت کرسکیں ، اور تیرے جلال کی گواہی دیں ، بات یہ ہے کہ اس نوع کا مطالبہ جناب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

155 اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر 70 آدمیوں کو ہمارے مقررکردہ وقت کے لئے منتخب کیا۔ یعنی توریت لانے کے بعد قوم نے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے نمائندوں کو خدا کا کلام سنوئو تب ہم ایمان لائیں گے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر 70 آدمیوں کو منتخب کرکے اپنے ہمراہ طور پر لے گئے پھر جب ان ستر کے ستر کو زلزلے نے آپکڑا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو یہاں آنے سے پہلے ہی ہلاک کردیتا کیا تو محض اس فعل کے باعث جو ہم میں سیح بعض بیوقوفوں نے کیا ہے ہم سب کو ہلاک کر ڈالے گا یہ واقعہ تیری طرف سے محض ایک آزمائش اور امتحان ہے اس قسم کے امتحانات سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ جب گوسالہ کا قصہ تمام ہوا تو موسیٰ نے اطمینان سے تورات کے احکام سنائے ان لوگوں کی عادت تھی ہی شبہات نکالنے کی چناچہ اس میں یہی شبہ نکالا ہم کو کیسے معلوم ہو کہ یہ اللہ کے احکام ہیں ہم سے اللہ خود کہہ دیں تو یقین کیا جائے آپ نے حق تعالیٰ سے عرض کیا وہاں سے حکم ہوا کہ ان میں کے کچھ آدمی جن کو یہ لوگ معتبر سمجھتے ہوں منتخب کر کے ان کو طور پر لے آو ہم ان سے خود کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے احکام ہیں اور اس کے لانے کے لیے ایک وقت معین کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم بنی اسرائیل سے ستر آدمی انتخاب میں چن کر کو ئہ طور پر لے جانے کا واقعہ : 169: موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات لا کر اپنی قوم بنی اسرائیل کو دی تو انہوں نے اپنی کج روی سے حیلہ جوئی کی اور ایک بات جو مدت سے کہتے آرہے تھے اس کا مطالبہ تیز کردیا ۔ جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا جا چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لئے آپ کو چن لیا اور یہ واقعات وہاں پیش آئے وہ جب قوم کے سامنے رکھے تو قوم کے لوگوں نے مطالبہ شروع کیا تھا کہ وہ نظارہ جو آپ نے دیکھا ہے ہم کو بھی دکھائو ۔ اس کا اثر تھا کہ موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Seventy people and their death The verse 155 describes an unusual event. After the Prophet Musa (علیہ السلام) brought the Torah for his people and bade them to follow it, they, being a crooked and pretentious people, said that they were not sure of it's being the word of Allah, and that the Prophet Musa (علیہ السلام) might have written it himself. He prayed to Allah for making them certain about it. Allah said to Musa (علیہ السلام) that he should choose seventy men out of his people and bring them to the mount of Sinai, He shall make them hear the word of Allah which was done as was promised.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 151–155

109. Moses was summoned for the second time to Mount Sinai along with seventy chiefs of the nation in order that they might seek pardon for their calf-worship and renew their covenant with God. Reference to this event is not found in the Bible and Talmud. They simply mention that Moses was summoned to receive new tablets as replacements for the ones he had thrown down and broken. (Cf. Exodus 34.) 110. When a people are put to the test it is an occasion of crucial importance for it helps to distinguish the righteous from the wicked. Like a winnow, it separates out of the mass the useful from…

Read the full tafseer →