موسیٰ ؑ کی کوہ طور سے واپسی ٭٭
حضرت موسیٰ ؑ نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے کہنے لگے اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو ناپسند آئی اور ان پر بھونچال آگیا۔ جس سے گھبرا کر حضرت موسیٰ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ سدی کہتے ہیں انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گو سالہ پرستی کی معذرت کرنے کیلئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
سورة الْاَعْرَاف 109
یہ طلبی اس غرض کے لیے ہوئی تھی کہ قوم کے 70 نمائندے کوہ سینا پر پیشی خداوندی میں حاضر ہو کر قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جرم کی معافی مانگیں اور از سرِنو اطاعت کا عہد استوار کریں۔ بائیبل اور تلمود میں اس بات کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ ذکر ہے کہ جو تختیاں حضرت موسیٰ ؑ نے پھینک کر توڑ دی تھیں ان کے بدلے دوسری تختیاں عطا کرنے کے لیے آپ کو سینا پر بلایا گیا تھا (خروج۔ باب 34)۔
سورة الْاَعْرَاف 110
مطلب یہ ہے کہ ہر آزمائش کا موقع انسانوں کے درمیان فیصلہ کن ہوتا ہے۔ وہ چھاج کی طرح ایک مخلوط گروہ میں سے کار آمد آدمیوں اور ناکارہ آدمیوں کو پھٹک کر الگ کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →ستر بنی اسرائیل کا انتخاب اور ان کی ہلاکت کا واقعہ
چوتھی آیت میں ایک خاص واقعہ کا ذکر ہے کہ موسیٰ ؑ نے جب اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات لاکر بنی اسرائیل کو دی تو اپنی کجروی اور حیلہ جوئی کی وجہ سے کہنے لگے کہ ہمیں یہ کیسے یقین آئے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے، ممکن ہے آپ اپنی طرف سے لکھ لائے ہوں، ان کو اطمینان دلانے کے لئے موسیٰ ؑ نے دعا کی تو حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد ہوا کہ اس قوم کے منتخب آدمیوں کو آپ کوہ طور پر لے آئیں تو ہم ان کو بھی خود اپنا کلام سنا دیں گے جس سے ان کو یقین آجائے، موسیٰ ؑ نے ان میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا اور کوہ طور پر لے گئے، حسب وعدہ انہوں نے اپنے کانوں اللہ…
Read the full tafseer →وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا ۚ فَلَمَّآ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ ۭاَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ مِنَّا ۚ اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ۭ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَهْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْن۔
یہ حضرت موسیٰ کے دوبارہ کوہ سینا پر جانے کا ذکر ہے جب وہ گوسالہ پرستی کے واقعہ کے بعد توبہ کے لیے گئے ہیں۔ تورات کے راویوں نے اس واقعہ کو پہلے واقعہ کے ساتھ گڈ مڈ کردیا ہے۔ اس وجہ سے بات گھپلا ہو کر رہ گئی ہے۔ قرآن نے ان دونوں…
Read the full tafseer →155۔ 1 ان ستر آدمیوں کی تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے ستر آدمی چنے اور انہیں کوہ طور پر لے گئے، جہاں بطور عذاب انہیں ہلاک کردیا گیا، جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے کہا۔
155۔ 2 بنی اسرائیل کے یہ ستر آدمی کون تھے ؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے تورات کے احکام انہیں سنائے تو انہوں نے کہا کہ ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل شدہ ہے ؟ ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں اسے نہیں مانیں گے۔ چناچہ انہوں نے ستر برگزیدہ آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں کوہ طور پر لے گئے۔ وہاں…
Read the full tafseer →71: ستر آدمیون کو کوہ طور پر لے جانے کی کیا وجہ تھی ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائیں ظاہر کی ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بچھڑے کی عبادت کا جو جرم عظیم بنی اسرائیل سے سرزد ہوتا تھا، اس پر توبہ کرانے کے لیے انہیں کوہ طور پر بلایا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ بات تھی تو ان پر زلزلہ مسلط کرنے کی کوئی معقول توجیہ واضح نہیں ہوتی۔ اور جو توجیہات بیان کی گئی ہیں، تکلف سے خالی نہیں ہیں۔ لہذا زیادہ صحیح بات وہ معلوم ہوتی ہے جو بعض روایات میں آئی ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین کیسے آئے کہ یہ کتاب اللہ…
Read the full tafseer →اب یہ قصہ ذرا آگے بڑھتا ہے ایک نیا منظر اسکرین پر آتا ہے۔ اس قصے کا یہ بارہواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اپنے منتخب ستر افراد کے ساتھ رواں دواں ہیں ؟
وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا۔ اور اس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں۔
اللہ کے ساتھ تعین وقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ شاید یہ وقت اس لیے متعین ہوا تھا کہ اس میں بنی اسرائیل توبہ کریں اور انہوں نے جس کفر اور شرک کا ارتکاب کیا تھا ، اس پر اللہ سے معافی چاہیں۔ سورة بقرہ میں ہے کہ اس جرم کے عوض بنی اسرائیل کے لیے بطور کفارہ جو سزا مقرر کی گئی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
1 راجح یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ میقات اس میقات کے علاوہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو " تورات " عطا فرمانے کے لیے مقرر ہوا تھا۔ نیز آیات حاضرہ کی ترتیب سے بظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ گوسالہ پرستی اور سزایابی کے بعد پیش آیا۔ لیکن سورة نساء کی آیت (فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ ) 4 ۔ النساء :153) زیادہ صفائی سے بتلائی ہے کہ گوسالہ پرستی اس واقعہ کے بعد ہوئی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس واقعہ کا خلاصہ سورة بقرہ میں ربع پارہ " الم " کے بعد گزر چکا ہے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →آیت 155 وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لِّمِیْقَاتِنَا ج
وہ لوگ جو آخری وقت تک اس مشرکانہ فعل پر قائم رہے انہیں قتل کردیا گیا۔ اب اس تطہیر purge کے بعد اجتماعی توبہ کا مرحلہ تھا ‘ جس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کے ستر 70 سرکردہ افراد کو ساتھ لے کر کوہ طور پر حاضری کے لیے روانہ ہوگئے۔
فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ
کوہ طور پر یا اس کے مضافات میں ان لوگوں کے لیے جسمانی کپکپی یا زمینی زلزلے جیسی خوفناک کیفیت پیدا کردی گئی۔
قَالَ رَبِّ لَوْ شِءْتَ اَہْلَکْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَ ط اَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ج
قوم کے کچھ…
Read the full tafseer →152 ستر منتخب آدمیوں کا دیدار الہٰی کا مطالبہ اور ان کی موت :۔ جب انہیں اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنانے کے لیے یہ تختیاں دی گئیں تو ان لوگوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی بداعتمادی کا اظہار کردیا اور کہنے لگی کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کا یہ سوال اللہ کے حضور پیش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ان میں سے ستر آدمی منتخب کر کے فلاں وقت کوہ طور پر لے آؤ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر قبیلہ کے چھ چھ آدمی منتخب کیے تو یہ (72) بہتر ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ جو دو آدمی رضاکارانہ طور پر پیچھے رہ جائیں ان کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا…
Read the full tafseer →210 ۔ یعنی وقت معین پر اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے جانے کے لئے۔ یہ حاضری دوبارہ تھی یا یہ اسی پہلی حاضری کی مزید تشریحات ہیں ؟ توریت میں ذکر کسی دوسری میقات کا نہیں اور ہمارے یہاں کے عام مفسرین کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ کوئی دوسراواقعہ نہیں بلکہ نزول توریت کے وقت کی اس حاضری کا ذکر ہے۔ لیکن قرآن پاک میں ایک دوسری آیت۔ (آیت) ” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم ثم اتخذوا العجل “۔ (سورۂ نساء) نیز خود اسی رکوع کی ترتیب مضامین ظاہرا اس خیال کی منافی ہے واللہ اعلم۔
211 ۔ (اور وہ ستر کے ستر مردہ یا نیم مردہ ہو کر رہ گئے) اس پر حاشیہ سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 6 میں گزر چکا۔ قول جمہوریہ ہے کہ یہ لوگ واقعۃ مرگئے تھے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
واختار۔۔۔۔ لمیقاتنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے کوہ سینا پر اپنے ہمراہ لے جانے کیلئے ستر آدمیوں کو منتخب کیا، یہ آدمی کون تھے اس میں روایات مختلف ہیں۔
بنی اسرائیل کے منتخب کردہ ستر آدمی کون تھے ؟ ان ستر آدمیوں کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کے احکام انھیں سنائے تو انہوں نے کہا، ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے ہے، ہم تو جب تک خود اللہ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں تسلیم نہ کریں گے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر سربرآوردہ لوگوں کا انتخاب کیا اور انھیں اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے، وہاں اللہ تعالیٰ حضرت…
Read the full tafseer →واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا اور موسیٰ نے ہمارے مقرر کردہ وقت (پر کوہ طور کو) جانے کے لئے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے۔
قومہ یعنی من قومہ اپنی قوم میں سے۔ سبعین رجلا یعنی ان لوگوں میں سے ستّر آدمی جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی۔ لمیقاتنا یعنی ہم نے ان کی حاضری کا جو وقت مقرر کیا تھا اس وقت کے لئے۔
روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی قوم میں سے ستّر آدمیوں کو لے کر آؤ اور بچھڑے کی پوجا کی معذرت پیش کرو (یعنی قصور معاف ہونے کی دعا کرو) آپ نے ہر سبط میں سے چھ آڈمی چھانٹ لئے اس طرح دو آدمی بڑھ گئے کیونکہ کل اسباط بارہ تھے آپ نے فرمایا دو آدمی کم کرلو اس پر کوئی…
Read the full tafseer →(155) اپنی قوم میں سے ہمارے وقت مقرر کے لیے انتخاب کیا گیا کہ جب ان کو زلزلہ کی ہلاکت وغیرہ نے آگھیرا تو موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ اے پروردگار اس دن سے پہلے ان کو اور مجھے بھی قبطی کے قتل کرنے کی بنا پر ہلاک کردیتا، بھلا آپ چند بیوقوفوں کی بچھڑے کی پوجا سے ان کو ہلاک کیا جارہا ہے۔
یہ تو صرف ایک امتحان ہے، آپ ہی تو ہمارے خبر گیر ہیں، ہماری ان باتوں پر گرفت نہ کیجیے، آپ معاف کرنے والے ہیں، ہمارے لیے علم و عبادت اور گناہوں سے حفاظت اور جنت اور اس کی نعمتیں مقرر کردیجیے، ہم آپ سے توبہ کے لیے درخواست گزار ہیں۔
Read the full tafseer →وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ۔۔ : موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ وقت پر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب فرمایا، ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ نے ان میں سے بہترین آدمیوں ہی کا انتخاب کیا ہوگا، مگر وہاں جا کر ان پر اللہ کا ایسا غضب ہوا کہ وہ سب زلزلے سے مرگئے۔ اس عذاب کا باعث کیا تھا ؟ مفسرین نے مختلف وجوہ بیان کی ہیں، جن میں سے سب سے راجح وہی بات ہے جو سورة بقرہ (55) میں ذکر ہوئی ہے کہ انھوں نے کہا تھا : ”اے موسیٰ ! جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ نہ لیں تیرا یقین ہرگز نہیں کریں گے۔“ اس گستاخی پر ان پر بجلی گری جس سے وہ سب مرگئے۔ یہاں ”الرَّجْفَةُ“ (زلزلے) کا ذکر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 155
قولہ تعالیٰ ؛ آیت : واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا اس میں قومہ اور سبعین رجلا دو مفعو ہیں اور ان میں سے ایک سے من کو حذف کیا گیا ہے۔ اور سیبویہ نے یہ شعر بیان کیا ہے :
منا الذی اکتیر الرجال سماحۃ وبرا اذا ھب الریاح الزعازع (زاد المسیر) جلد 2، صفحہ 155 )
اور راعی نے ایک آدمی کی مدح کرتے ہوئے کہا ہے :
اخترتک الناس اذ رثت خلائقھم واختل من کان یرجی عندہ السول
اس میں مراد اخترتک من الناس ہے۔ اختار اصل میں اختیر ہے۔ پس جب یا متحرک ما قبل مفتوح ہے تو اسے الف سے بدل دیا گیا، جیسے قال اور باع۔
قولہ تعالیٰ ؛ آیت : فلما اخذتھم الرجفۃ یعنی جب وہ مر گئے۔ لغت میں الرجفۃ سے مراد شدید…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واختار موسیٰ قومہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ وہ اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو چن لیں تو انہوں نے ستر آدمیوں کو چن لیا۔ ان کو لے کر کھلے میدان میں آئے۔ یہ اس لئے کہ تاکہ وہ تمہارے رب سے اس کے بارے میں دعا کریں۔ جس کے بارے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور انہوں نے کہا اے اللہ ہم کو وہ چیز عطا فرما جو ہمارے بعد کسی کو عطا نہ فرمایا۔ ان کی دعاؤں میں سے اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند فرمایا تو ان کو ایک زلزلہ سے پکڑ لیا موسیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” لوشئت اہلکنہم من قبل وایای، اتھلکنا بما فعل…
Read the full tafseer →[ وَاخْتَارَ : اور چنا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ قَوْمَهٗ : اپنی قوم سے ] [ سَبْعِيْنَ رَجُلًا : ستر مرد ] [ لِّمِيْقَاتِنَا ۚ : ہماری مقرر کردہ جگہ کے لیے ] [ فَلَمَّآ : پھر جب ] [ اَخَذَتْهُمُ : پکڑا ان کو ] [ الرَّجْفَةُ : زلزلے نے ] [ قَالَ : تو ( موسیٰ نے ) کہا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ لَوْ شِئْتَ : اگر تو چاہتا تو ] [ اَهْلَكْتَهُمْ : تو ہلاک کردیتا ان کو ] [ مِّنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَاِيَّايَ ۭ : اور مجھ کو بھی ] [ اَ : کیا ] [ تُهْلِكُنَا : تو ہلاک کرتا ہے ہم کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ فَعَلَ : کیا ] [ السُّفَهَاۗءُ : بیوقوفوں نے ] [ مِنَّا ۚ : ہم میں سے ] [ اِنْ : نہیں…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ستر افراد کو اپنے ہمراہ لے جانا اور وہاں ان لوگوں کی موت کا واقع ہوجانا
بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ بےتکی باتیں کیا کرتے تھے اور شبہات نکالتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ توریت ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ جو عمل کرنے کے لیے نازل فرمائے ہیں۔ تم ان پر عمل کرو، تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہ ہم کیسے یقین کریں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے فرما دے کہ یہ میری کتاب ہے اور میرے احکام ہیں تو ہم مان لیں گے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی منتخب فرمائے تاکہ ان کو ہمراہ لے جائیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام سنوائیں۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
ذکر میقات توبہ و معذرت از عبادت عجل
قال اللہ تعالیٰ واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم المفلحون
(ربط) گزشتہ رکوع میں میقات مناجاۃ وتکلیم کا ذکر کیا اور اس کے بع گوسالہ پرستی کا قصہ ذکر کیا اب ان آیات میں میقات توبہ و معذرت کا ذکر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمیوں کو منتخب کیا کہ وہ کوہ طور پر حاضر ہوں اور عبادت عجل سے معذرت کریں جب یہ لوگ کوہ طور پر پہنچے تو ایک ابر نمودار ہوا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ سب سے پہلے اس ابر میں موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوئے اور قوم سے کہا کہ تم قریب آجاؤ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ…
Read the full tafseer →148 ۔ یہ ساتواں واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے ستر منتخب نمائندے چن کر مقررہ وقت پر ان کو طور پہاڑ پر لے آئیں تاکہ وہ ساری قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے گناہ سے اللہ کے سامنے معذرت کریں۔ جب کوہ طور پر پہنچے تو اللہ نے پہاڑ پر سفید کہر ڈال دی جس سے وہ تمام ڈھک گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس میں داخل ہوئے اور ساتھ والوں سے فرمایا تم بھی اس بادل میں داخل ہوجاؤ جب وہ اس میں داخل ہوئے تو سجدے میں گر گئے اور اسی حالت میں انہوں نے اللہ کا کلام بھی سنا، جب بادل ہٹ گیا تو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا اور کہنے لگے۔…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا بیان تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تعلق رکھتے تھے مگر بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہوگئے تھے اللہ نے انہیں اسی وقت آگاہ کردیا تھا کہ انہیں خدا تعالیٰ کا غضب پہنچنے والا ہے اور یہ کہ انہیں دنیا کی زندگی میں بھی ذلت کا سامنا ہوگا یہ کیا کم ذلت تھی کہ انہیں اپنے ہی عزیزوں کے ہاتھوں قتل کیا گیا ان کی توبہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں اللہ نے فرمایا ہم افتراء کرنے والوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں امام سفیان ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ کل صاحب بدعۃ ذلیل یعنی ہر بدعتی شخص ذلیل ہے جو دین میں نئی بات ایجاد کرتا ہے وہ اچھا آدمی نہیں ہوسکتا…
Read the full tafseer →وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَہٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا 0 ۚ فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَہْلَكْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ 0 ۭ اَتُہْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَاۗءُ مِنَّا 0 ۚ اِنْ ہِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ 0 ۭ تُضِلُّ بِہَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَہْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ 0 ۭ اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ 155
اختیارُ :
طلب ما هو خير وفعله، وقد يقال لما يراه الإنسان خيرا، وإن لم يكن خيرا، وقوله : وَلَقَدِ اخْتَرْناهُمْ عَلى عِلْمٍ عَلَى الْعالَمِينَ [ الدخان/ 32] ، يصحّ أن يكون إشارة إلى إيجاده تعالیٰ إياهم…
Read the full tafseer →ترکیب : اختار کا فاعل موسیٰ قومہ مفعول اول بواسطہ حرف جر جو محذوف ہے ای من قومہ۔ سبعین مفعول ثانی رجلا اس کی تمیز اور ممکن ہے کہ سبعین قومہ سے بدل ہو والتقدیر سبعین رجلا منہم حسنۃ مفعول ہے اکتب لنا کا وفی الاخرۃ معطوف ہے فی ھذا الدنیا پر من اشاء مفعول ہے اصیب کا کل شیء وسعت کا مفعول رجفۃ کے لغوی معنی ہیں زلزلہ کے جو بڑا سخت ہو۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد کڑک ہے۔
تفسیر : یہ اسی بیان کا بقیہ ہے جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلنے کے بعد تیسرے مہینے بیابان سینا میں آئے اور بنی اسرئیل نے کوہ سینا کے سامنے خیمے کھڑے کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ کے اوپر بلائے گئے۔ وہاں سے نیچے اتر کر بنی…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے۔
وَاختَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ سِبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَاج فَلَمَّآ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَہُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَط اَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ اسُفَھَآئُ مَنَّاج اِنْ ھِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ تُضِلُّ بِھَا مَنْ تَشَآئُ وَتَھْدِیْ مَنْ تَشَآئُ اَنْتَط وَلِیُّنَا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 155)
” اور موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا ہمارے وقت مقرر کے لیے جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا ‘ تو موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے سرکار آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے ‘…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی مبارک اور بابرکت تختیاں قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لیے نازل فرمائی ہیں۔ لہٰذا ان پر خلوص دل اور پوری ہمت کے ساتھ عمل کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا میں عزت و عظمت اور ہر قسم کی نعمتیں عطا کرنے کے ساتھ آخرت کے انعام و اکرام سے مالا مال فرمائے گا۔ لیکن قوم نے اپنی عادت کے مطابق یہ کہہ کر تورات کو ماننے سے انکار کردیا کہ ہم کس طرح یقین کریں کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور فریاد کی کہ بار الٰہا ! ان کی یقین دہانی…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کے منتخب افراد کا بےتکا سوال :
آیت 155: وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ (اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے منتخب کئے) اپنی قوم میں سے۔
نحو : اس میں حرف جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کو ساتھ ملا دیا۔ سَبْعِیْنَ رَجُلًا (ستر آدمی) کہا گیا ہے کہ بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کے چھ آدمی کل تعداد بہتر ہوگئی۔ پھر فرمایا تم میں سے دو پیچھے رہیں۔ کالب ویوشع بیٹھ گئے۔ لِّمِیْقَاتِنَا (ہمارے وقت مقررہ کیلئے) تاکہ وہ عبادت عجل کے سلسلہ میں معذرت پیش کریں۔ فَلَمَّآ اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ (پس جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا) زلزلہ شدیدہ نے۔
عرضِ موسوی :
قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِّنْ قَبْلُ (تو…
Read the full tafseer →155(واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلاً لمیقاتنا) اسی میں دلیل ہے کہ تمام لوگوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ لائیں جو بچھڑے کی عبادت کی معذرت کریں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی چنے (فلما) وہ اس جگہ آئے تو کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو ان کو زلزلہ نے پکڑا تو وہ سب مرگئے اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں ان کو اختیار کیا تاکہ یہ لوگ اپنے فعل کی توبہ کریں اور جن کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں ان کے لئے توبہ کا سوال کریں تو یہ دلالت کرتا ہے…
Read the full tafseer →اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ ستر آدمی اپنی قوم میں سے چن کر میرے پاس لے آؤ اور گوسالہ پوجنے کی عذر خواہی کردی خطیب کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو منتخب کیا تھا تو ساٹھ آدمی بوڑھے نکلے حکم ہوا کہ دس آدمی جوان بھی لو دس جو ان جب لے لئے تو وہ بھی صبح کو بوڑھے ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کو لے کر وقت مقررہ پر حاضر ہوئے کوہ طور کے نیچے ایک بہت بڑا ابر کا ٹکڑا آیا جس نے سارے پہاڑ کو ڈھانپ لیا موسیٰ (علیہ السلام) اس ابر میں گھس گئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرے پاس آجاؤ اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں جب اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →207 حضرت موسیٰ کا اپنی قوم کے ستر آدمیوں کا انتخاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو چن لیا ہمارے وعدے کے وقت ہمارے حضور حاضر ہونے کے لیے۔ یعنی ان کو جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی تاکہ یہ اپنی قوم کے اس عظیم اور سنگین جرم پر اپنے رب کے حضور معذرت پیش کرسکیں۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ روایات کے مطابق حضرت موسیٰ نے ہر قبیلے سے چھ چھ آدمیوں کا انتخاب کیا۔ (الکشاف وغیرہ) ۔ سو ان سب کو لیکر حضرت موسیٰ کوہ طور پر پہنچے۔ سو اس میں حضرت موسیٰ کے دوبارہ کوہ طور پر جانے کا ذکر ہے۔ گو سالہ پرستی کے جرم سے توبہ کے لئے کوہ طور پر جانے کا یہ واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 تا 153 ۔
اسرار و معارف :
غیر اللہ سے امید وابستہ کرنیوالا ذلت میں مبتلا ہوتا ہے :
ایک قانون ارشاد فرمادیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش اختیار کی انہیں دنیا بھی اللہ کا غضب اور ذلت پیش آئے گی یعنی ایسے لوگ جو حالات سے گھبرا کر یا جلد بازی میں اللہ کا دروازہ چھوڑ کر کسی دوسری ذات سے امید وابستہ کرلیتے ہیں ۔ جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی…
Read the full tafseer →ف 1 اللہ تعالیٰ موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک مقررہ وقت پر قوم کے ستر نمائندوں کے ساتھ کوہ طور پر حاضر ہوں تاکہ قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جر م کے معافی مانگیں چناچہ موسیٰ نے ان ستر نمائندوں کا انتخاب فرمایا اور مقررہ وقت پر کوہ طور پہنچ گئے۔ ( قرطبی، ابن کثیر)2 اس زلزلہ یا صاعقہ کا سبب نہ تو قرآن کی کسی آیت میں مذکور ہے اور نہ اس بارے میں نبی ﷺ ہی سے کوئی حدیث مفسرین کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں یہ دعا کی : یا للہ ہمیں وہ چیز دے جو تو نے نہ پہلے کسی کو دی اور نہ آئندہ کسی کو دے گا، یہ دعا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی۔ سدی (رح) کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →(7:155) اختار قومہ۔ ای اختار من قومہ۔ اختیار (افتعال) سے اس نے اپنی قوم سے چن لئے۔
لیمقاتنا۔ ہمارے مقررہ وقت پر۔ مضاف مضاف الیہ۔ میقات اسم ظرف زمان۔ طے شدہ ۔ مقرر دشہ وقت۔
الرجفۃ۔ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ الرجف (باب نصر) اضطراب شدید کو کہتے ہیں۔ رجفت الارض۔ زمین زلزلہ سے ہل گئی بحررجاف۔ تلاطم سمندر (نیز دیکھو 7:91)
من قبل۔ من بعد کی ضد ہے۔ قبل اور بعد کو اضافت لازمی ہے جب بغیر اضافت کے آئے گا ۔ یا تو اس پر ضمہ ہوگا یا اس پر دوزبر ہوں گے۔ بعداً ۔ قرآن مجید میں بعداً استعمال نہیں ہوا ہے۔
ان ہی ۔ میں ان نافیہ ہے۔
فتنتک۔ فتنۃ مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ ۔ تیری آزمائش ۔ فتنہ کے معنی عذاب کے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
تشریح : آیت نمبر 154 تا 156
صدیوں کی غلامی اور فرعون کے ظلم و ستم سے نجات کے بعد اللہ نے بنی اسرائیل کو خلافت ارضٰ سپرد کی تھی۔ اس خلافت کو چلانے کے لئے جس آئین اور قوانین کی ضرورت تھی وہ اللہ نے توریت کی شکل میں بنی اسرائیل کو عطا کردئیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک امیر مملکت بھی جو ، آئین و قوانین کی تفصیلات سمجھنے کے لئے خصوصی علم و دانش رکھتا ہو اور جس کا مسلسل رابط اللہ تعالیٰ سے ہو چناچہ اس خلافت ارضی کیلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا گیا جہاں چالیس دن رات ان کی تعلیم و تربیت فرمائی گئی اس تعلیم و تربتی کے بعد توریت کی تختیاں سپرد ہوئیں جن پر دنیا وآخرت کی فلاح بہبود کے اصول…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ ستر آدمی اپنی قوم میں سے چن کر میرے پاس لے آؤ اور گئو سالہ پوجنے کی عذر خواہی کرو ''۔ حجرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمی بوڑھے لے کر وقت مقررہ پر حاضر ہوئے، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں تو ان ستر آدمیوں نے حجرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تو ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ جل شانہ کو صاف صاف نہ دیکھیں۔ اتنا کہنا تھا کہ ایک زلزلہ آیا اور بجلی چمکی اور ان لوگوں پر گری یہ ستر آدمی ایک دم ہلاک ہوگئے جس کا ذکر سورة بقرہ میں صاف آچکا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس حال میں دیکھنے سے بہت قلق ہوا۔ اس لئے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
[57] اس واقعے کا خلاصہ سورة بقرہ آیت 56 میں گزر چکا ہے۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تمہاری باتیں ہم اس وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ سے سن لیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ستر آدمیوں کو جو سردار تھے منتخب کر کے کوہ طور پر لے گئے اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا تو کہنے لگے کہ جب تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے بےحجاب نہ دیکھ لیں ہم کو یقین نہیں آسکتا۔ اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی اور وہ سب مرگئے یا مردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔
Read the full tafseer →(ف 1) یہ ستر آدمی وہ تھے جنہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہم جب تک خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ، مکالمہ ومخاطبہ کو نہیں جان سکتے موسیٰ (علیہ السلام) ان کو طور پر اپنے ساتھ لے گئے ، وہاں پہنے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے خواہش کی تو خدا نے آثار غضب ظاہر کئے ، پہاڑ مارے خوف وہراس کے کانپا اور زمین تھرتھرائی اور یہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوگئے ۔
اب موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی اللہ تعالیٰ یہ تو بیوقوف ہیں تیرے جلال و جبروت سے آگاہ نہیں ، شان توحید سے آشنا نہیں ، ان کو کیوں ہلاک کئے دیتا ہے ان کو موقع دے کہ یہ تیری دین کی اطاعت کرسکیں ، اور تیرے جلال کی گواہی دیں ،
بات یہ ہے کہ اس نوع کا مطالبہ جناب…
Read the full tafseer →155 اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر 70 آدمیوں کو ہمارے مقررکردہ وقت کے لئے منتخب کیا۔ یعنی توریت لانے کے بعد قوم نے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے نمائندوں کو خدا کا کلام سنوئو تب ہم ایمان لائیں گے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر 70 آدمیوں کو منتخب کرکے اپنے ہمراہ طور پر لے گئے پھر جب ان ستر کے ستر کو زلزلے نے آپکڑا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو یہاں آنے سے پہلے ہی ہلاک کردیتا کیا تو محض اس فعل کے باعث جو ہم میں سیح بعض بیوقوفوں نے کیا ہے ہم سب کو ہلاک کر ڈالے گا یہ واقعہ تیری طرف سے محض ایک آزمائش اور امتحان ہے اس قسم کے امتحانات سے…
Read the full tafseer →ف 3۔ جب گوسالہ کا قصہ تمام ہوا تو موسیٰ نے اطمینان سے تورات کے احکام سنائے ان لوگوں کی عادت تھی ہی شبہات نکالنے کی چناچہ اس میں یہی شبہ نکالا ہم کو کیسے معلوم ہو کہ یہ اللہ کے احکام ہیں ہم سے اللہ خود کہہ دیں تو یقین کیا جائے آپ نے حق تعالیٰ سے عرض کیا وہاں سے حکم ہوا کہ ان میں کے کچھ آدمی جن کو یہ لوگ معتبر سمجھتے ہوں منتخب کر کے ان کو طور پر لے آو ہم ان سے خود کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے احکام ہیں اور اس کے لانے کے لیے ایک وقت معین کیا گیا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم بنی اسرائیل سے ستر آدمی انتخاب میں چن کر کو ئہ طور پر لے جانے کا واقعہ :
169: موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات لا کر اپنی قوم بنی اسرائیل کو دی تو انہوں نے اپنی کج روی سے حیلہ جوئی کی اور ایک بات جو مدت سے کہتے آرہے تھے اس کا مطالبہ تیز کردیا ۔ جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا جا چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لئے آپ کو چن لیا اور یہ واقعات وہاں پیش آئے وہ جب قوم کے سامنے رکھے تو قوم کے لوگوں نے مطالبہ شروع کیا تھا کہ وہ نظارہ جو آپ نے دیکھا ہے ہم کو بھی دکھائو ۔ اس کا اثر تھا کہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Seventy people and their death
The verse 155 describes an unusual event. After the Prophet Musa (علیہ السلام) brought the Torah for his people and bade them to follow it, they, being a crooked and pretentious people, said that they were not sure of it's being the word of Allah, and that the Prophet Musa (علیہ السلام) might have written it himself. He prayed to Allah for making them certain about it. Allah said to Musa (علیہ السلام) that he should choose seventy men out of his people and bring them to the mount of Sinai, He shall make them hear the word of Allah which was done as was promised.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
109. Moses was summoned for the second time to Mount Sinai along with seventy chiefs of the nation in order that they might seek pardon for their calf-worship and renew their covenant with God. Reference to this event is not found in the Bible and Talmud. They simply mention that Moses was summoned to receive new tablets as replacements for the ones he had thrown down and broken. (Cf. Exodus 34.)
110. When a people are put to the test it is an occasion of crucial importance for it helps to distinguish the righteous from the wicked. Like a winnow, it separates out of the mass the useful from…
Read the full tafseer →