حضرت موسیٰ کو اپنی قوم پر جو غصہ تھا جب وہ جاتا رہا تو سخت غصے کی حالت میں جن تختیوں کو انہوں نے زمین پر ڈال دیا تھا اب اٹھا لیں۔ یہ غصہ صرف اللہ کی راہ میں تھا کیونکہ آپ کی قوم نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ ان تختیوں میں ہدایت و رحمت تھی۔ کہتے ہیں کہ جب کلیم اللہ نے تختیاں زمین پر ڈال دیں تو وہ ٹوٹ گئیں پھر انہیں جمع کیا۔ تو ان میں رہبری اور رحم پایا اور تفصیل اٹھا لی گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ان تختیوں کے ٹکڑے شاہی خزانوں میں بنی اسرائیل کے پاس دولت اسلامیہ کے ابتدائی زمانے تک محفوظ رہے واللہ اعلم۔ اس کی صحت کا کوئی پتہ نہیں حالانکہ یہ بات مشہور ہے کہ وہ تختیاں جنتی جوہر کی تھیں اور اس آیت میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
سورة الْاَعْرَاف 109
یہ طلبی اس غرض کے لیے ہوئی تھی کہ قوم کے 70 نمائندے کوہ سینا پر پیشی خداوندی میں حاضر ہو کر قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جرم کی معافی مانگیں اور از سرِنو اطاعت کا عہد استوار کریں۔ بائیبل اور تلمود میں اس بات کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ ذکر ہے کہ جو تختیاں حضرت موسیٰ ؑ نے پھینک کر توڑ دی تھیں ان کے بدلے دوسری تختیاں عطا کرنے کے لیے آپ کو سینا پر بلایا گیا تھا (خروج۔ باب 34)۔
سورة الْاَعْرَاف 110
مطلب یہ ہے کہ ہر آزمائش کا موقع انسانوں کے درمیان فیصلہ کن ہوتا ہے۔ وہ چھاج کی طرح ایک مخلوط گروہ میں سے کار آمد آدمیوں اور ناکارہ آدمیوں کو پھٹک کر الگ کردیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں اس کا بیان ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ فرو ہوا تو تورات کی تختیاں جو جلدی سے رکھ دی تھیں پھر اٹھالیں، اور اس کے نسخہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت تھی۔
لفظ نسخہ اس تحریر کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کتاب وغیرہ سے نقل کی جائے، بعض روایات میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے تورات کی تختیاں جلدی سے رکھیں تو وہ ٹوٹ گئی تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی دوسری چیز میں لکھا ہوا عطا فرمایا، اس کو نسخہ کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ښ وَفِيْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُوْنَ۔
سکت کے بعد عن کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ ‘ ذال ’ یا اس کے کسی ہم معنی لفظ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب حضرت موسیٰ خاموش ہوئے اور ان کا غصہ دور ہوا۔ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ انہوں نے وہ تختیاں جو ایک طرف ڈال دی تھیں۔ پھر اٹھا لیں۔ اس سے ضمناً تورات کی اس غلط روایت کی تردید ہوگئی کہ تختیاں پھینکنے سے ٹوٹ پھوٹ گئی تھیں۔ یہ واضح رہے کہ ان تختیوں کو اس طرح ڈال دینے میں ان کی ناقدری کا کوئی پہلو نہیں تھا بلکہ بنی اسرائیل نے اس نعمت گراں مایہ کی جو…
Read the full tafseer →154۔ 1 یہاں نسخہ سے مراد یا تو وہ اصل الواح ہیں جن پر تورات لکھی گئی تھی یا اس سے مراد وہ دوسرا نسخہ ہے جو تختیوں کو زور سے پھنکنے کی وجہ سے ٹوٹ جانے کے بعد اس سے نقل کر کے تیار کیا گیا تھا تاہم بات پہلی ہی لگتی ہے۔ کیونکہ آگے چل کر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ان تختیوں کو اٹھا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تختیاں ٹوٹی نہیں تھیں۔ بہرحال اس کا مرادی مفہوم ' مضامین ' ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے۔
154۔ 2 تورات کو بھی قرآن کریم کی طرح، انہیں لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے، جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ اصل فائدہ آسمانی کتابوں سے ایسے ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ تو چونکہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–154
70: یہ تورات کی تختیاں تھیں جو وہ کوہ طور سے لائے تھے ”پھینکنے“ سے یہاں مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جلدی میں انہیں اس طرح ایک طرف رکھا کہ دیکھنے ولا اسے پھینکنے سے تعبیر کرسکتا تھا، خدا نخواستہ ان کی بےحرمتی مقصود نہیں تھی۔
Read the full tafseer →غرض یہ تو ایک وقفہ اور لمحہ فکریہ تھا تاکہ بچھڑنے کو الہ بنانے والوں کے انجام پر قدرے غور کرایا جائے اب سابقہ منظر ہی اختتام کو یوں پہنچتا ہے۔
وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ۔ پھر جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں
قرآن کا ذرا انداز تعبیر ملاحظہ ہو " گویا غضب اور غصہ ایک شخصی چیز ہے ، جس نے حضرت موسیٰ پر تسلط حاصل کرلیا ہے اور اپنی مرضی سے ان کو چلاتا ہے اور حرکت میں لاتا ہے۔ اور جب یہ خاموش ہوگیا اور حضرت موسیٰ کو اس نے آزاد چھوڑ دیتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے اختیار میں آگئے۔ غصے کی وجہ سے جو تختیاں انہوں پھینک دی تھیں۔ وہ دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
1 راجح یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ میقات اس میقات کے علاوہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو " تورات " عطا فرمانے کے لیے مقرر ہوا تھا۔ نیز آیات حاضرہ کی ترتیب سے بظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ گوسالہ پرستی اور سزایابی کے بعد پیش آیا۔ لیکن سورة نساء کی آیت (فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ ) 4 ۔ النساء :153) زیادہ صفائی سے بتلائی ہے کہ گوسالہ پرستی اس واقعہ کے بعد ہوئی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس واقعہ کا خلاصہ سورة بقرہ میں ربع پارہ " الم " کے بعد گزر چکا ہے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
آیت 153 وَالَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْم بَعْدِہَا وَاٰمَنُوْٓاز اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِہَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
وہ لوگ جن سے اس غلطی کا ارتکاب تو ہوا مگر انہوں نے اس سے توبہ کر کے اپنے ایمان کی تجدید کرلی ‘ ایسے تمام لوگوں کا معاملہ اس اللہ کے سپرد ہے جو بخشنے والا اور انسانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ البتہ جو لوگ اس جرم پر اڑے رہے ان پر آخرت سے پہلے دنیا کی زندگی میں بھی اللہ کا غضب مسلط ہوا۔ اس کی تفصیل سورة البقرۃ کی آیت 54 کے تحت گزر چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر قبیلہ کے مؤمنین مخلصین کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے ان مجرمین کو قتل کردیں جنہوں نے…
Read the full tafseer →151 تورات کی اشاعت :۔ اپنے اور اپنے بھائی کے حق میں دعائے مغفرت و رحمت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے گؤ سالہ پرستوں کے حق میں اپنا فیصلہ بتلا دیا۔ اتنی دیر میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوچکا تو آپ نے وہ تختیاں زمین سے اٹھائیں۔ پھر ان تختیوں کی مختلف قبائل کے لیے نقول تیار کرائی گئیں۔ ان میں اگرچہ زندگی کے لیے رہنمائی تو موجود تھی اور اس لحاظ سے یہ اللہ کی رحمت بھی تھی مگر یہ رہنمائی تو اسی شخص کو سود مند ہوسکتی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہماری رہنمائی کرتی ہے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے ان پر عمل بھی کرے مگر جو لوگ خود ہی ہدایت کے طالب نہ ہوں انہیں ان سے ہدایت نہیں ملے…
Read the full tafseer →209 ۔ (اور اس خوف خدا کی بنا پر اس نسخہ ہدایت سے فائدہ اٹھانا بھی چاہتے ہیں) (آیت) ” سکت عن موسیٰ الغضب “۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عذر معقول سن کر قدرۃ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جوش غضب فروہوجاتا ہے۔ (آیت) ” اخذ الالواح “۔ لفظ قرآنی الواح ہے یعنی نفس تختیاں نہ کہ ان کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے۔ اس سے ضمنا یہ بھی نکل آیا کہ تختیاں سالم تھیں ٹوٹ گئیں تھیں۔ وظاھر ھذا یدل علی ان شیئا منھا لم ینکسر ولم یبطل (کبیر) (آیت) ” فی نسختھا ھدی ورحمۃ۔۔ یعنی اس نسخہ کے مضامین ہدایت سے بھرے ہوئے اور رحمت کی طرف لے جانے والے تھے۔
Read the full tafseer →ولما سکت۔۔۔۔۔ ھدی، نُسخۃٌ بروزن فُعلَۃ، بمعنی مفعول اس اصل کو کہتے ہیں جس سے نقل کیا جاتا ہے، اور نقل شدہ کو بھی نسخہ کہہ دیا جاتا ہے، یہاں نسخہ سے یا تو تورات کی وہ اصل تختیاں مراد ہیں جن پر توریت لکھی ہوئی تھی، یا وہ تختیاں مراد ہیں جو اصل تختیوں کے ٹوٹنے کے بعد دوسری عطا کی گئی تھیں، روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کو بعجلت رکھا تھا تو وہ ٹوٹ گئی تھیں، پھر اللہ نے ان کو کسی دوسری چیز میں لکھا ہوا، عطا فرمایا اس کو نسخہ کہا گیا ہے۔ (معارف)
Read the full tafseer →ولما سکت عن موسیٰ الغضب اخذ الالواح وفی نستختہا ہدی ورحمۃ للذین ہم لربہم یرہبون اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا اور ان کے مضامین میں ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی۔
سَکَتَبمعنی سَکَنَیعنی فرو ہوا عن موسیٰ الغضبحضرت ہارون کی معذرت اور قوم کی ندامت و توبہ کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا۔ سکون کو لفظ سکوت سے تعبیر کرنے میں کلام کی رفتار میں زور آگیا وہ غضب جس میں گزشتہ حرکت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے صادر ہوئی تھی اس کو آمر و حاکم کی صورت میں پیش کیا گیا ہے (گویا پہلے غضب نے حکم دیا تھا کہ تختیاں پھینک دو موسیٰ ( علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →(154) جب حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ چلا گیا تو ان بقیہ تختیوں میں یا ان دوتختیوں کی بجائے جو اور تختیاں دی گئیں ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے تھے گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت تھی۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ : ”سَكَتَ“ کا لفظی معنی ”خاموش ہونا“ ہے۔ یہ ایک پر لطف استعارہ ہے، گویا یہاں غصے کو ایسے آدمی سے تشبیہ دی ہے جو مسلسل موسیٰ ؑ کو بھڑکا رہا تھا، جب وہ انھیں بھڑکانے سے خاموش ہوگیا تو موسیٰ ؑ بھی ٹھنڈے پڑگئے۔ قرآن مجید میں جو لطف یہاں ”سَكَتَ“ کا لفظ دے رہا ہے کوئی دوسرا لفظ، مثلاً ”سَکَنَ“ (ساکن ہوگیا) وغیرہ کبھی یہ لطف نہ دیتا۔
اَخَذَ الْاَلْوَاحَ : غصہ ٹھنڈا ہونے پر موسیٰ ؑ نے وہ تختیاں اٹھائیں جو اگرچہ گرنے کی وجہ سے کچھ ٹوٹ گئی تھیں، جیسا کہ اس سے پہلے آیت (150) کے حاشیہ (3) میں صحیح حدیث سے نقل ہوا، مگر اس آیت سے معلوم ہوا کہ وہ ٹوٹنا معمولی تھا،…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 154
قولہ تعالیٰ : آیت : ولما سکت عن موسیٰ الغضب اس میں سکت بمعنی سکن ( ساکن ہونا، فرو ہونا) ہے۔ اسی طرح معاویہ ابن قرہ نے سکن نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ سکوت میں اصل سکون اور امساک ( رک جانا) ہے۔ کہا جاتا ہے جری الوادی ثلاثا ثم سکن، یعنی پھر وادی چلنے سے رک گئی۔
حضرت عکرمہ (رح) نے کہا ہے : سکت موسیٰ عن الغضب تو اس میں قلب کیا گیا ہے۔ جیسے تیرا یہ قول ہے : ادخلت الاصبع فی الخاتم ( میں نے انگلی انگوٹھی میں داخل کی) اور ادخلت الخاتم فی الاصبع ( میں نے انگوٹھی انگلی میں داخل کی) ادخلت القلنسوہ فی راسی ( میں نے ٹوپی اپنے سر میں داخل کی) اور ادخلت راسی فی القلنسوۃ ( میں نے اپنا سر ٹوپی میں…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سیروایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو زبدجد کی سات تختیوں میں تورات عطا فرمائی۔ اس میں ہر چیز کا بیان تھا اور نصیحت تھی تورات لکھی ہوئی تھی جب اس کو لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو بچھڑے پر بیٹھا ہوا دیکھا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔ ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے سر کو پکڑ لیا اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چھ اٹھالیں اور ساتویں باقی رہ گئی (اسی کو فرمایا) لفظ آیت ” ولما سکت عن موسیٰ الضغب اخذ الالواح، وفی نسختھا ھدی ورحمۃ للذین ہم لربھم یرھبون “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ تحریر ان میں سے باقی رہنے والی تختی میں تھی۔
(2) امام ابو…
Read the full tafseer →[ وَلَمَّا : اور جب ] [ سَكَتَ : تھم گیا ] [ عَنْ مُّوْسَى: موسیٰ سے ] [ الْغَضَبُ : غصہ ] [ اَخَذَ : تو انہوں نے پکڑا ] [ الْاَلْوَاحَ ښ : تختیوں کو ] [ وَفِيْ نُسْخَتِهَا : اور ان کی تحریر میں ] [ هُدًى: ہدایت تھی ] [ وَّرَحْمَةٌ: اور رحمت تھی ] [ لِّلَّذِيْنَ : ان کے لیے جو ] [ هُمْ لِرَبِّهِمْ : اپنے رب سے ہی ] [ يَرْهَبُوْنَ : ڈرتے ہیں ]
س ک ت : (ن) سکتا ۔ تھم جانا ۔ ساکت ہونا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 154 ۔
Read the full tafseer →توریت شریف ہدایت اور رحمت تھی :
پھر فرمایا (وَ لَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسَی الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ) (جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوگیا تو انہوں نے توریت شریف کی تختیوں کو لے لیا) جنہیں غصہ میں ڈال دیا تھا۔ کیوں کہ مقصود تو انہیں پر عمل کرانا تھا درمیان میں مشرکین کی حالت دیکھ کر جو غصہ آگیا تھا اس کی وجہ سے تختیوں کو ڈال دیا تھا پھر ان کو اٹھا لیا تاکہ تعلیم و تبلیغ کا کام شروع کیا جائے۔ (وَ فِیْ نُسْخَتِھَا ھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُوْنَ ) (اور اس توریت میں جو لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت تھی اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں) ۔
اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–154
تفسیر
قصہ اتخاذ عجل وانجامِ آن
قال اللہ تعالیٰ واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیھم عجلا۔۔۔ الی۔۔۔ للذین ھم لربھم یرھبون
(ربط) گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کی ایک جہالت کا بیان تھا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ کی جاہلانہ درخواست کی۔ اب ان آیات میں ان کی ایک اور حماقت اور سفاہت کو بیان کرتے ہیں کہ یہ نادان اپنے ایک خود ساختہ ڈھانچہ کی آواز پر ایسے مفتون ہوئے کہ اسے خدا سمجھ بیٹھے۔
(ربط دیگر) گزشتہ آیت یعنی والذین کذبوا بایتنا ولقاء الاخرۃ حبطت اعمالھم میں اس امر کا بیان تھا کہ تکذیب آیات کی وجہ سے ان کے اعمال حبط ہوگئے اب ان آیات میں حبط اعمال کے ایک اور سبب کا بیان…
Read the full tafseer →147: جب ہارون (علیہ السلام) نے معذرت کردی اور قوم نے بھی نادم ہو کر توبہ کرلی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جوش غضب ٹھنڈا ہوگیا تو الواح کو اٹھا لیا اس میں خدا سے ڈرنے والوں اور انابت کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–154
سورة الاعراف پر ایک نظر
یہ سورة الاعراف ہے اس کی ابتداء میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی اس کے بعد آدم (علیہ السلام) اور خلافت ارضی کا ذکر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کی تاریخ بیان فرمائی ہے اس ضمن میں انبیاء کی دعوت ، طریقہ تبلیغ ، ان کی قوموں کا جواب اور پھر ان کا انجام بھی بیان فرمایا ہے گزشتہ چند رکوعات سے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے اللہ نے دو انبیاء کی بعثت کا ذکر فرمایا وہ خدا کا پیغام لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس گئے قوم سخت بدسلوکی سے پیش آئی اور اللہ کے نبیوں کو طرح طرح کی تکالیف دیں اور آخر کار فرعون اور اس کی قوم کی سزا کا وقت بھی آگیا اللہ کی…
Read the full tafseer →وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ 0 ۚ ۖ وَفِيْ نُسْخَتِہَا ہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلَّذِيْنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ يَرْہَبُوْنَ 154
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
ترکیب : الذین مع صلہ اسم ان سینا لہم الخ جملہ خبر والذین عملوا السئیات مبتدا ان ربک جملہ خبروالتقدیر غفور لھم ورحیم بھم لما سکت شرط اخذ الالواح جواب ھدی معطوف علیہ ورحمۃ معطوف لربہم یرھبون سے متعلق للذین رحمۃ سے متعلق جملہ مبتداء موخر فی نسختہا ثابت کے متعلق ہو کر خبر ضمیر مونث الواح کی طرف راجع ہے۔ یہ تمام جملہ حال ہوگا الواح سے۔
تفسیر : کہ میں نے منع کیا مگر نہ مانا میرے قتل کے درپے ہوگئے اور نصِّ قرآن سے بھی یہی ثابت۔ پس وہ جو آج کل توریت میں ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نے یہ کام کیا اگر تاویل پذیر نہیں تو محض غلط اور الحاق یہود ہے۔ ہارون خدا کے برگزیدہ سے یہ بت پرستی بعید از قیاس ہے اور جو…
Read the full tafseer →وَلَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسٰی الْغضَبُ اخَذَاالْاَلْوَاحَ ج وَفِی نُسْخَتِھَا ھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُوْنَ ۔ (الاعراف : 154)
” جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا اس نے تختیاں اٹھائیں اور اس کے نوشتہ میں ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں “۔
موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی سے جس طرح برہم تھے اور پھر حضرت ہارون اور دوسرے قبائل کے سرداروں سے جس طرح دل گرفتہ تھے ‘ جب پوری صورت حال کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی طبیعت میں اعتدال آیا تو آپ نے سب سے پہلے تورات کی تختیوں کو اٹھایا کیونکہ یہی تختیاں تھیں جو اللہ کی کتاب تھیں اور انھیں ہی بنی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو انھوں نے تورات کی تختیوں کو سنبھالا جو ہدایت کا منبع اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سرچشمہ تھیں۔ ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے جلوت اور خلوت میں ڈرنے والے ہیں۔ یہاں تورات کے دو اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے جو ہر آسمانی کتاب کا وصف رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جو کتاب بھی انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل فرمائی وہ اپنے دور میں لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ آسمانی کتاب کا نزول اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہوتا ہے۔ جس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے لوگوں کی ہدایت کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →آیت 154: جبکہ غصہ اس شدت کی بناء پر تھا گویا اللہ تعالیٰ ہی موسیٰ کو اس غصے کا حکم دینے والے تھے تو کہا گیا :
زوالِ غصہ کے بعد حالات :
وَلَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسَی الْغَضَبُ (اور جب موسیٰ کا غصہ دور ہوا) زجاج کہتے ہیں کہ سکت کا معنی سکن ہے اور یہ بھی پڑھا گیا ہے اَخَذَ الْاَلْوَاحَ (تو ان تختیوں کو اٹھا لیا) جن کو جلدی سے ڈال دیا تھا۔ وَفِیْ نُسْخَتِھَا (اور ان کے مضامین میں) نُسْخَہیہ فُعلہ کا وزن ہے خطبہ کی طرح بمعنی مفعول ہے۔ اس کی کتابت میں ھُدًی وَّرَّحَمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُوْنَ (ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی)
نحو : لام مفعول پر داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
تفسیر 154(ولما سکت) ساکن ہوگیا (عن موسیٰ الغضب اخذ الالواح) جو انہوںں نے پھینک دی تھیں اور ان میں سے چھے حصے چلے گئے تھے۔ (وفی نسختھا) اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے تختیاں مراد ہیں۔ ان سے دوسرا نسخہ لکھا گیا اور یہی مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وفی نسختھا “ سے اور بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جو اس میں سے منسوخ کردیا گیا تھا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں جو اس میں سے باقی رہا تھا اور ابن عباس ؓ اور عمرو بن دینار (رح) فرماتے ہیں جب موسیٰ علیہ اسللام نے تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن روزہ رکھا تو وہ ان کو دو تختیوں میں لوٹا دی گئی۔” ھدی و رحمۃ “ یعنی…
Read the full tafseer →جب موسیٰ (علیہ السلام) کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو الواح توریت جو غصہ کی حالت میں زمین پر پھینک دی تھیں وہ پھر اٹھائیں اکثر مفسرین کے قول کے مطابق جس وقت ہاتھ سے لوحیں ڈال دی تھیں تو ٹوٹ گئی تھیں کچھ حصے اس کے جاتے رہے اور باقی حصہ جو رہ گیا تھا اس میں ہدایت اور رحمت پائی مگر اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ لوح ٹوٹ گئی تھی اور بعضوں کا یہ گمان ہے کہ اس لوح کے ریزے بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے خزانہ میں دولت اسلامی تک موجود رہے اس کا ثبوت بھی کوئی پکا نہیں ملتا خدا جانے یہ بات کہاں تک صحیح ہے بہر حال اللہ نے فرمایا کہ لوح جب انہوں نے اٹھائی تو اس میں ہدایت اور خدا کی رحمتیں پائیں جن سے وہی لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →206 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان تختیوں کی تحریر میں بڑی ہدایت اور عین رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں کہ رجوع الی اللہ کی توفیق وسعادت ایسے ہی خوش نصیبوں کو ملتی ہے جو اپنے رب سے ڈرتے اور اس کی گرفت و پکڑ اور ناراضگی سے بچنے کی فکر و کوشش کرتے ہیں۔ انہی کو وہ وحدہ لاشریک اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے کہ اس کی شان ہی نوازنا اور لگاتار اور ہمیشہ نوازنا ہے۔ نہ اس کی رحمتوں کا کوئی کنارہ اور نہ اس کی عنایتوں کی کوئی انتہائ۔ سو ان تختیوں کی تحریر میں نری ہدایت اور عین رحمت تھی ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ پس جو اس بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 تا 153 ۔
اسرار و معارف :
غیر اللہ سے امید وابستہ کرنیوالا ذلت میں مبتلا ہوتا ہے :
ایک قانون ارشاد فرمادیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش اختیار کی انہیں دنیا بھی اللہ کا غضب اور ذلت پیش آئے گی یعنی ایسے لوگ جو حالات سے گھبرا کر یا جلد بازی میں اللہ کا دروازہ چھوڑ کر کسی دوسری ذات سے امید وابستہ کرلیتے ہیں ۔ جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
ف 9 بعض علما نے تفسری (رح) سے منقول ہے کہ وہ الواح ٹوٹ گئی تھیں مگر ان تختیوں کا ٹوٹنا صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ قرآن میں القی کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ڈال دینے کے ہیں۔ اس سے ٹوٹنا لازم نہیں آتا بلکہ قرآن کے پیرا یہ بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ مو سیٰ ( علیہ السلام) نے وہ الواح صحیح واسالم حالت میں دوبارہ اٹھالیں۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →(7:154) سکت۔ وہ تھم گیا۔ اس نے سکوت (خاموشی) اختیار کیا۔ (باب نصر) سکوت سے ماضی واحد مذکر غائب۔ السکوت۔ سکوت ترک کلام کے ساتھ مخصوص ہے اور چونکہ سکوت۔ سکون کی بھی ایک قسم ہے۔ اس لئے یہاں اس آیۃ میں اس کا استعمال بطور استعارہ سکون ہی کے معنوں میں ہوا ہے۔
نسختھا۔ نسخہ یعنی کتاب۔ لکھی ہوئی تحریر۔ مضامین۔ ان کے مضامین میں (رحمت اور ہدایت تھی)
یرھبون۔ وہ ڈرتے ہیں۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ رھب (باب فتح) سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
تشریح : آیت نمبر 154 تا 156
صدیوں کی غلامی اور فرعون کے ظلم و ستم سے نجات کے بعد اللہ نے بنی اسرائیل کو خلافت ارضٰ سپرد کی تھی۔ اس خلافت کو چلانے کے لئے جس آئین اور قوانین کی ضرورت تھی وہ اللہ نے توریت کی شکل میں بنی اسرائیل کو عطا کردئیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک امیر مملکت بھی جو ، آئین و قوانین کی تفصیلات سمجھنے کے لئے خصوصی علم و دانش رکھتا ہو اور جس کا مسلسل رابط اللہ تعالیٰ سے ہو چناچہ اس خلافت ارضی کیلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا گیا جہاں چالیس دن رات ان کی تعلیم و تربیت فرمائی گئی اس تعلیم و تربتی کے بعد توریت کی تختیاں سپرد ہوئیں جن پر دنیا وآخرت کی فلاح بہبود کے اصول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
جب حضرت موسیٰ کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو الواح توریت جو غصہ کی حالت میں زمین پر پھینک دی تھیں وہ پھر اٹھالیں۔ تو اس میں ہدایت اوت خدا کی رحمتیں پائیں جن سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے کہا اے رب میں اس لوح میں دیکھتا ہوں کہ ایک امت ساری امتوں سے بہتر وہ تیرے حکم کو بجالاوے گی اور جن باتوں سے تو نے منع کیا اس سے وہ باز رہے گی۔ اے اللہ ! وہ امت میری ہی امت بنا۔ فرمایا کہ وہ امت امت محمدیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
[57] اس واقعے کا خلاصہ سورة بقرہ آیت 56 میں گزر چکا ہے۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تمہاری باتیں ہم اس وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ سے سن لیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ستر آدمیوں کو جو سردار تھے منتخب کر کے کوہ طور پر لے گئے اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا تو کہنے لگے کہ جب تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے بےحجاب نہ دیکھ لیں ہم کو یقین نہیں آسکتا۔ اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی اور وہ سب مرگئے یا مردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–154
گاؤ پرستی ذلت ہے ! ۔
(ف 1) یہ سزا اس درجہ وموزون اور درست ہے کہ گوبنی اسرائیل میں اب یہ مرض نہیں رہا لیکن جن میں اب تک گائے کا احترام کرتی ہے ، دیکھ لیجئے قومی لحاظ سے ذلیل ہیں ، دولت اور ثروت کے باوجود ذلیل ہیں ، علم وہنر کی فروانی ہے جب بھی ذلیل ہیں ، صدہا سال سے غلام ہیں اب کچھ بیداری کے آثار ہیں مگر یاد رہے ، جب تک توہم پرستی کو نہیں چھوڑیں گے ، آزادی بہت دور ہے ۔
حل لغات :
سکت : تھا رکا ، ، استعارہ ہے ، سکون ہے ۔
Read the full tafseer →154 اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا اور ہارون (علیہ السلام) کی معذرت سے غصہ کو سکون ہوا تو انہوں نے توریت کی تختیوں کو اٹھالیا اور ان میں لوح محفوظ سے جو مضامین نقل کئے گئے تھے اور جو مضامین لکھے گئے تھے وہ مضامین ان لوگوں کے لئے سراسر ہدایت و رحمت تھے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ یعنی مضامین ہدایت و رحمت سے ڈرنے والے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 2۔ موسیٰ کا غضب چونکہ للہ تھا اس کی مثال سکرمن المباح کی سی ہے جس میں مکلف نہیں رہتا اس پر دوسرے شخص کے غصہ کو جو نفس کے واسطے ہو قیاس نہیں کرسکتے بلکہ اس کی حالت سکر من المحرم کی سی ہے جس کو شارع نے عذ نہیں قرار دیا ونیز عادتا ممکن ہے کہ شدت مشغولی میں مشغول ہوگیا ہو کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے اور بھائی کو داروگیر کرنے کے لیے ہاتھ خالی کرنا ہواسلے القاء الواح واقع ہوا ہو اور بعض نے لکھا ہے کہ القی کے معنی ہیں جلدی سے رکھ دینا مجازا وتشبیھا القاء سے تعبیر کیا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو الواح پر کندہ ہدایات سے قوم کو آگاہ کیا :
168: فی نسختھا نسخہ اس تحریر کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کتاب وغرہ سے نقل کی جائے ۔ الٰہی کتابوں کا لوح محفوظ میں تحریر ہونا سب جانتے اور مانتے ہیں اور وہاں سے رسولوں کو عطا کی گئی تھیں اس لئے جو کچھ ان میں تحریر ہوا اس کو نسخہ کہنا شاید اسی وجہ سے ہو مطلب یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا اور قوم کے لوگوں نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معافی دے دی تو اب مو سی ٰ (علیہ السلام) نے وہ ہدایت جو ان الواح میں تحریر یا کندہ تھیں ان کو قوم کے سامنے رکھا اور ان ہدایات کے مطابق ان کو…
Read the full tafseer →The verse 154 describes that the Prophet Musa (علیہ السلام) lifted up the tablets of the Torah which contained guidance and blessing for those who feared Allah. The Arabic word: نُسخَہ 'Nuskha' rendered as contents signifies a writing copied from a book or other writings. There are certain reports that inform us that the tablets had broken at the time the Prophet Musa (علیہ السلام) had put them away quickly. This time Allah gave him the Torah written on some other material.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–155
109. Moses was summoned for the second time to Mount Sinai along with seventy chiefs of the nation in order that they might seek pardon for their calf-worship and renew their covenant with God. Reference to this event is not found in the Bible and Talmud. They simply mention that Moses was summoned to receive new tablets as replacements for the ones he had thrown down and broken. (Cf. Exodus 34.)
110. When a people are put to the test it is an occasion of crucial importance for it helps to distinguish the righteous from the wicked. Like a winnow, it separates out of the mass the useful from…
Read the full tafseer →