اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام ذلت و رسوائی
اللہ تعالیٰ نے یہود کو اطلاع کردی کہ ان کی اس سخت نافرمانی و بار بار کی بغاوت اور ہر موقعہ پر نافرمانی، رب سے سرکشی اور اللہ کے حرام کو اپنے کام میں لانے کیلئے حیلہ جوئی کر کے اسے حلال کی جامہ پوشی کا بدلہ یہ ہے کہ قیامت تک تم دبے رہو ذلت میں رہو لوگ تمہیں پست کرتے چلے جائیں۔ خود حضرت موسیٰ ؑ نے بھی ان پر تاوان مقرر کردیا تھا سات سال یا تیرہ سال تک یہ اسے ادا کرتے رہے، سب سے پہلے خراج کا طریقہ آپ نے ہی ایجاد کیا پھر ان پر یونانیوں کی حکومت ہوئی پھر کسرانیوں کلدانیوں اور نصرانیوں کی۔ سب کے زمانے میں ذلیل اور حقیر رہے ان سے جزیہ لیا جاتا رہا اور…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 127
اصل میں لفظ تاذَّن استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم تقریباً وہی ہے جو نوٹس دینے یا خبردار کردینے کا ہے۔
سورة الْاَعْرَاف 128
یہ تنبیہ بنی اسرائیل کو تقریباً آٹھویں صدی قبل مسیح سے مسلسل کی جا رہی تھی۔ چناچہ یہودیوں کے مجموعہ کتب مقدسہ میں یسعیاہ اور یرمیاہ اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کی تمام کتابیں اسی تنبیہ پر مشتمل ہیں پھر یہی تنبیہ مسیح ؑ نے انہیں کی جیسا کہ اناجیل میں ان کی متعدد تقریروں سے ظاہر ہے۔ آخر میں قرآن نے اس کی توثیق کی۔ اب یہ بات قرآن اور اس سے پہلے صحیفوں کی صداقت پر ایک بین شہادت ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک تاریخ میں کوئی دور ایسا نہیں گزرا ہے جس میں یہودی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور وہ وقت یاد کرنا چاہئے کہ جب آپ کے رب نے (انبیاء بنی اسرائیل کی معرفت) یہ بات بتلا دی کہ وہ ان یہود پر (ان کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کی سزا میں) قیامت (کے قریب) تک ایسے (کسی نہ کسی) شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سزائے شدید (ذلت و خواری و محکومیت) کی تکلیف پہنچاتا رہے گا (چنانچہ مدت سے یہودی کسی نہ کسی سلطنت کے محکوم و مقہور ہی چلے آتے ہیں) بلا شبہ آپ کا رب واقعی (جب چاہے) جلدی ہی سزادے دیتا ہے اور بلاشبہ وہ واقعی (اگر باز آجاوے تو) بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا (بھی) ہے اور ہم نے دنیا میں ان کی متفرق جماعتیں کردیں (چنانچہ) بعضے ان میں نیک (بھی) تھے اور بعضے ان میں اور…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ ښ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
تاذن کا صحیح مفہوم کسی فیصلہ قطعی سے لوگوں کو آگاہ کردینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کی اس طرھ کی بدعہدیوں کی بنا پر ان کو ان کے نبیوں کے ذریعہ سے آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر ایسے لوگوں کو قیامت تک مسلط کرتا رہے گا جو ان کو نہایت سخت عذابوں میں مبتلا کرتے رہیں گے۔ اس طرح کی تنبیہ ان کو حضرت موسیٰ نے بار بار فرمائی اور بعد کے نبی ون نے بھی نہایت آشکارا الفاظ میں اس سے آگاہ کیا۔ احبار میں ہے۔“ اگر تم…
Read the full tafseer →167۔ 1 یعنی وہ وقت بھی یاد کرو ! جب آپ کے رب نے ان یہودیوں کو اچھی طرح باخبر کردیا یا جتلایا تھا، یعنی قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب میں مبتلا رکھیں گے، چناچہ یہودیوں کی پوری تاریخ اس ذلت و مسکنت اور غلامی و محکومی کی تاریخ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دی ہے۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کے خلاف نہیں ہے اس لئے کہ وہ قرآن ہی کے بیان کردہ استثنا وَ حَبْلٍ مِنَا النَّاسِ کی مظہر ہے جو قرآنی حقیقت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی موید ہے۔ (تفصیل دیکھئے آل عمران۔ 112 کا حاشیہ)
167۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
85: یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ واقعی ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان پر کوئی نہ کوئی جابر مسلط ہوتا رہا ہے جس نے ان کو اپنا محکوم بناکر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، البتہ ظاہر ہے کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایسے وقفے بھی آتے رہے جن میں وہ خوش حال رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے خود یہ فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمایا جس سے واضح ہے کہ ان پر خوش حالی کے دور بھی آتے رہے ہیں مگر مجموعی تاریخ کے مقابلے میں وہ کم ہیں۔
Read the full tafseer →یہ ایک دائمی اعلان (Standing Order) ہے اور جب سے یہ صادر ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ وقفے وقفے سے یہودیوں کی سرکوبی کے لیے کسی نہ کسی طاقت کو بھیجتا رہا ہے۔ اور عمومی اعتبار سے یہ حکم آئندہ بھی رد بعمل ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان پر ایسی قوتوں کو مسلط کرتے رہیں گے۔ اور یہ قوتیں ان کو ایسا ہی عذاب دیتی رہیں گی جب بھی وہ پھلیں پھولیں گے اور سرکشی کا رویہ اختیار کریں گے۔ اللہ ان پر ایسی ہی قوتوں کو بھیجتے رہیں گے۔ اور وہ ان پر اچھی ضرب لگاتے رہیں گے کیونکہ یہ ایک ایسا باغی اور سرکش گروہ ہے کہ جب یہ ایک نافرمانی سے نکلتا ہے تو دوسری میں داخل ہوجاتا ہے ، ان کی ایک ٹیڑھ کو اگر درست کردیا جائے…
Read the full tafseer →2 یعنی خدا کی طرف سے پختہ اعلان کردیا گیا تھا کہ یہود اگر احکام تورات پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے تو حق تعالیٰ قرب قیامت تک وقتاً فوقتاً ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو برے عذاب میں مبتلا رکھیں گے۔ برا عذاب یہاں محکومانہ زندگی کو فرمایا۔ چناچہ قوم یہود کبھی یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے زیر حکومت رہی۔ کبھی " بخت نصر " وغیرہ کے شدائد کا تختہ مشق بنی۔ آخر میں نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک تک مجوسیوں کی باجگذار رہی۔ پھر مسلمان حکمرانوں کو ان پر مسلط فرما دیا۔ غرض اس وقت سے آج تک ان کو من حیث القوم عزت و آزادی کی زندگی نصیب نہیں ہوئی۔ بلکہ جہاں کہیں رہے اکثر ملوک وحکام کی طرف سے سخت ذلت اور…
Read the full tafseer →آیت 167 وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ یَّسُوْمُہُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ ط اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِِج وَ اِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
اللہ تعالیٰ کی ایک شان تو یہ ہے کہ وہ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَام اور سَرِیْعُ الْعِقَاب ہے اور اس کی دوسری شان یہ ہے کہ وہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمہے۔ اب اس کا دار و مدار انسانوں کے طرز عمل پر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کی کس شان کا مستحق بناتے ہیں۔ اس آیت میں یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے جس قانون اور فیصلے کا ذکر ہو رہا ہے وہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ کی صورت میں ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔
Read the full tafseer →169 یہود کی ذلت و مسکنت کی تاریخی داستان :۔ تاذن کا عربی میں وہی مفہوم ہے جو ہمارے ہاں نوٹس دینے کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود کو خبردار کردیا تھا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو تم پر تا قیامت ایسے حکمران مسلط کر دے گا جو انہیں طرح طرح کے دکھ پہنچاتے رہیں گے۔ ان دکھوں سے مراد ان کی محکومانہ زندگی ہے چناچہ یہود کبھی یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے محکوم بنے رہے کبھی بخت نصر کے شدائد کا نشانہ بنے جس نے بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ان یہود کی کثیر تعداد کو غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ پھر یہ لوگ دور نبوی سے پہلے مجوسیوں کے باج گزار رہے۔ پھر اللہ نے مسلمان حکمرانوں کو ان پر…
Read the full tafseer →240 ۔ اور یہ سزا دنیا میں اس قوم کی مسلسل نافرمانیوں اور گستاخیوں کی پاداش میں مقرر ہوئی ہے) اس کا مشاہدہ آج تک ( 1946 ء تک) ہورہا ہے جرمنی میں ابھی کل تک انپرجو قیامت برپارہی وہ اظہر من الشمس ہے۔ باقی یوں بھی بنی اسرائیل اس دنیا کے پردہ پر کسی خطہ وعلاقہ میں مطمئن نہیں، روس، برطانیہ، فرانس، امریکہ کوئی بھی ان کا دوست اور مخلص نہیں ہر ایک موقع پا کر انہیں پیس ہی ڈالنا چاہتا ہے اور مشہور عالم دولت و ثروت کے باوجود یہ قوم آج تک مقہور ہی چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” علیھم “۔ ضمیر ھم کس کی جانب ہے ؟ قول جمہور یہ ہے کہ اس سے عہد نبوی کے معاصر یہود مراد ہیں انہی کو یہ خبر پہنچا دینا مقصود ہے کہ اگر اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–170
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز…
Read the full tafseer →واذ تاذن ربک لیبعثن علیہم الی یوم القیمۃ من یسومہم سوء العذاب ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیم۔ اور وہ وقت یاد کرنا چاہئے جب آپ کے رب نے بتادیا تھا کہ وہ ان (یہودیوں) پر روز قیامت (کے قریب) تک ایسے لوگوں کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت دکھ پہنچائیں گے بلاشبہ آپ کا رب واقعی جلد سزا دینے والا ہے اور بلاشبہ وہ واقعی غفور رحیم ہے۔ وَاِذ تاذّن۔ تاذَّنماضی باب تفعل اذن سے مشتق ہے اس کا معنی ہے اٹل ارادہ کیونکہ کسی کام کا عزم کرنے والا۔ اپنے نفس کو اس کام کی محکم اطلاع دے دیتا ہے (چیلنج کردیتا ہے) اسی لئے فعل قسم عَلِمَ اللّٰہ شَہِدَ اللّٰہوغیرہ کے قائم مقام اس کو استعمال کیا جاتا ہے اور…
Read the full tafseer →(167) جس وقت ان کے پروردگار نے انہیں یہ بتلادیا کہ وہ ان پر ضرور ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو انہیں سخت ترین سزا جزیہ وغیرہ کی دے گا وہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کی امت ہے اللہ تعالیٰ نہ لانے والوں کو سخت ترین سزا جزیہ وغیرہ کی دے گا وہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کی امت ہے اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں کو سخت سزا دیتے ہیں، اور جو ایمان لائے اس کے گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ۔۔ : گزشتہ آیات میں یہود کی آسانی اور سختی کے ساتھ آزمائشوں اور ان کے بعض نیک و بد اعمال کا ذکر فرمایا، اب اس آیت میں بتایا کہ قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جاتے رہیں گے جو انھیں بدترین عذاب چکھاتے رہیں گے۔ سورة آل عمران (112) میں فرمایا کہ ان پر ذلت مسلط کردی گئی مگر اللہ کی پناہ اور لوگوں کی پناہ کے ساتھ۔ دیکھیے آیت مذکورہ کی تفسیر۔ یہودیوں کی پوری تاریخ اس حقیقت کی زندہ شہادت ہے، وہ ہر زمانے میں جہاں بھی رہے دوسروں کے محکوم اور غلام بن کر رہے اور آئے دن ان پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جنھوں نے انھیں ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنایا۔ دیکھیے سورة بنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 167
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اسلاف کو آگاہ کیا کہ وہ اگر تبدیل نہ ہوئے اور وہ نبی امی ﷺ کے ساتھ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسے شخص کو بھیج دے گا جو انہیں عذاب میں ڈال دے گا۔ او ابو علی نے کہا ہے : اذن مد کے ساتھ ہو تو بمعنی اعلم ( بنانا اور آگاہ کرنا) ہے اور اذن تشدید کے ساتھ ہو گو معنی نادی ( پکارنا، ندا دینا) ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ آزن اور اذن دونوں بمعنی اعلم ہیں، جیسے ایقن اور تیقن کہا جاتا ہے۔ زہری نے کہا ہے :
فقلت تعلم ان للصید غرۃ فالاتضیعھا فانک قاتلہ
اور ایک دوسرے نے کہا ہے :
تعلم ان شر الناس حی ینادی فی شعارھم یسار
یعنی یہ بمعنی علم ہے اور یسومھم کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذتاذن ربک “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ ایسے جابر بھیجتا رہے گا جو ان کو بڑا عذاب دیتے رہیں گے وہ اور محمد ﷺ اور ایک امت سے قیامت تک آنے والی اور ” سوء العذاب “ سے جزیہ مراد ہے۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” واذ تاذن ربک “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ یہودی ہیں ان پر عربوں کو مسلط کیا گیا جو ان سے خراج وصول کرنے لگے اور یہ بڑا عذاب ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا کسی نبی نے خراج وصول نہیں کیا آپ نے تیرہ سال تک خراج پھر اس…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [ تَاَذَّنَ : سنادیا ] [ رَبُّكَ : آپ کے رب نے ] [ لَيَبْعَثَنَّ : (کہ ) وہ لازما بھیجتا رہے گا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن تک ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ يَّسُوْمُهُمْ : تکلیف دے گا ان کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۭ : برے عذاب کی ] [ اِنَّ : بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ کا رب ] [ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ ښ : یقینا پکڑنے کا تیز ہے ] [ وَاِنَّهٗ : اور بیشک وہ ] [ لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
ترکیب : (آیت ۔ 167) الی یوم القیمۃ کا تقاضہ ہے کہ لیبعثن کا ترجمہ مستقبل استمراری سے کیا جائے ۔ سوء العذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
بنی اسرائیل کی آزمائش اور ان کی حُبِ دنیا کا حال
ان آیات میں اول تو یہودیوں کے اس حال کا تذکرہ فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں منتشر فرما دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں تھوڑے تھوڑے کچھ یہاں کچھ وہاں سکونت اختیار کرتے گئے۔ ان کی جمعیت اور جماعت منتشر رہی۔ اجتماعیت جو اللہ کا انعام ہے اس سے محروم رہے۔ پھر فرمایا (مِنْھُمُ الصَّالِحُوْنَ ) (ان میں کچھ لوگ نیک تھے) (وَ مِنْھُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ ) (اور کچھ لوگ دوسری طرح کے یعنی برے لوگ تھے) اچھے لوگ توریت اور انجیل پر قائم رہے اور پھر اللہ کے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب پر ایمان لائے اور برے لوگ شر پسند کفر پر جمے رہے اور اپنی اس شر پسندی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–171
ذکر تسلیط عذاب ذلت بر یہود تا روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ واذ تاذن ربک لیبعثن علیہم الی یوم القیامۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تتقون
(ربط) گزشتہ آیات میں یہود کے بعض شنائع اور قبائح کا بیان تھا اور یہود کی ایک خاص جماعت کی ایک وقتی ذلت کا ذکر تھا کہ ذلیل و حقیر بندر اور لنگور بنا دئیے گئے اب ان آیات میں تمام یہود کی دائمی ذلت کا بیان ہے کہ تمرد اور سرکشی کی وجہ سے قیامت تک ان پر ذلت اور حقارت کی مہر لگا دی گئی۔ قیامت تک دوسرے لوگ ان پر مسلط رہیں گے اور ان کی کہیں حکومت نہ ہوگی۔ دوسروں کی حکومتوں میں رہیں گے اور طرح طرح کی ذلتیں سہتے رہیں گے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کم بختوں سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ اللہ…
Read the full tafseer →164: یہ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر وہ آخر الزمان پیغمبر نبی امی صلی اللہ علی ہو سلم پر ایمان نہ لائے تو قیامت تک ذلیل و خوار رہیں گے اور ان پر ہمیشہ ایسے لوگ مسلط رہیں گے جن کے ہاتھوں وہ سخت تکلیفیں اٹھائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
ربط آیات
گزشتہ درس میں یہودیوں کے اس گروہ کی سزا کا ذکر تھا جو ہفتے کے دن تعدی کرتے تھے اور منع کرنے والوں کی نصیحت پر بھی عمل نہیں کرتے تھے بالآخر جب وہ سرکشی میں حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بندروں کی شکل میں تبدیل کردیا اور تین دن کے بعد صفحہ ہستی سے بالکل ناپید ہوگئے اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو موجودہ اور آئندہ آنے والے لوگوں کے لیے باعث عبرت بنادیا اس سے پہلے بنی اسرائیل کی بعض دوسری نافرمانیوں کا ذکر بھی ہوچکا ہے صحرائے سینا میں من اور سلویٰ کھاتے کھاتے جب تنگ آگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے سبزی تر کاری کا سوال کیا اللہ نے فرمایا کہ اس بستی کے رہنے والوں سے جہاد کرکے بستی پر…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْہِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ يَّسُوْمُہُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ 0 ۚ ۖ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 167
اذن ( تأذين)
: كل من يعلم بشیءٍ نداءً ، قال عالی: ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ [يوسف/ 70] ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ [ الأعراف/ 44] ، وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ [ الحج/ 27] اذنتہ بکذا او اذنتہ کے ایک معنی ہیں یعنی اطلاع دینا اور اعلان کرنا اور اعلان کرنے والے کو مؤذن کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ } ( سورة يوسف 70) تو ایک پکارنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
ترکیب : تاذن بمعنی اذن ای اعلم الی یوم القیامۃ تاذن سے متعلق سوء العذاب مصدر مضاف ہے۔ امما مفعول ثانی ہے یا حال ہے منہم الصالحون امم کی صفت یا بدل دون ذلک ظرف یا خبر ورثوا الکتاب صفت ہے خلف کی یاخذون حال ہے ضمیر ورثوا سے درسوا معطوف ہے ورثوا پر الم یؤخذ جملہ معترضہ ہے میثاق الکتاب مفعول مالم یسم فاعلہ یؤخذ کا۔ ان لا یقولوا الخ تفسیر ہے میثاق کی والدار الاخرۃ مبتداء خیر الخ والذین مبتداء واقاموا اس پر معطوف انا لا نضیع خبر۔
تفسیر : ان خوفناک واقعات سننے کے بعد یہودی یہ خیال کرتے تھے کہ یہ جو کچھ ہوا ہم سے پہلے لوگوں پر ہوا ٗ ہم پر نہ ہوگا بلکہ ہم سے خدا تعالیٰ کا عہد ہے کہ ہم کو اب تک برومند…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مِنْ یَّسُوْمُھُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابَط اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ج صلے وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔
(الاعراف : 176)
” اور یاد کرو جب تیرے رب نے فیصلہ کن انداز میں خبر دار کیا کہ وہ روز قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو نہایت برے عذاب چکھاتے رہیں گے۔ بیشک تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا اور مہربان ہے “۔
یہود پرا بدی لعنت کا اعلان
اس آیت کریمہ کے آغاز میں تَاَذَّن کا لفظ آیا ہے۔ جس کا صحیح مفہوم کسی قطعی فیصلے سے آگاہ کرنا اور نوٹس دینا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور بد اعمالیوں کا تسلسل جس وجہ سے ان پر وقفہ، وقفہ سے عذاب آتے رہیں گے۔
غورو فکرکے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اصلاح اور ہدایت کے لیے ان گنت انبیاء مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے انتھک جدوجہد کی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مختلف عذاب اور بیش بہا انعامات کے ذریعے صدیوں تک بار بار اپنی اصلاح کا موقعہ دیا۔ لیکن یہ قوم اصلاح کے بجائے بگاڑ اور فساد کو ترجیح دیتی رہی۔ جس بنا پر ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آخری فیصلہ صادر فرماتے ہوئے اعلان کیا کہ اب قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جائیں گے جو انھیں…
Read the full tafseer →سزا یافتہ یہود :
آیت 167: وَاِذْتَاَذَّنَ رَبُّکَ (اور وہ وقت یاد کرنا چاہیے جب آپ کے رب نے یہ بات بتلا دی) جب تمہارے رب نے اعلان کردیا۔ اس کو فعل قسم کی جگہ لایا گیا اس لیے جواب میں قسم والا معاملہ کیا گیا۔ کہ لام تاکید اور نون ثقیلہ لائے۔ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْھِمْ (وہ ضرور ان پر مسلط کرتا رہے گا) یعنی اس نے اپنے ذمہ لے لیا کہ وہ یہود پر ضرور دوسروں کو مسلط کریں گے۔ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ یَّسُوْمُھُمْ (جو ان کو قیامت کے دن تک تکلیف دیتا رہے گا) جو ان پر ذمہ دار ہو۔ سُوْٓ ئَ الْعَذَابِ (سخت سزا کی) وہ مجوس کو جزیہ دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا۔ آپ نے بھی ان پر…
Read the full tafseer →167 (واذ تاذن ربک) یعنی اطلاع کردی۔ کہا جاتا ہے کہ ” تاذن اور ” اذن توعد “ اور ” اوعد “ کی طرح ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” تادن قال “ کے معنی میں ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حکم دیا تیرے رب نے ۔ (لیغن علیھم الی یوم القیمۃ من یسومھم سوء العذاب) اللہ تعالیٰ نے ان پر محمد ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کی امت کو بھیجا جو ان سے اس وقت تک قتال کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ دینے لگیں۔ (ان ربک تسرئع العقاب وانہ لغفور رحیم)
Read the full tafseer →یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر تو رات کے احکام کو چھوڑ دو گے تو یاد رکھو قیامت تک پھر تمہیں عزت نصیب نہیں ہونے کی ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی یہ بات خدا کی پوری ہو کر رہی ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بھانہ نکال نکال کر مجرم ہوتے رہے کہا جاتا ہے کہ پہلے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر خراج لگایا سات برس یاتیرہ برس کا ایک دم خراج لگا دیا تھا پھر سلطنت یونان کے بادشاہوں کے زیر حکومت رہے پھر نصاری کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–173
(فالذین امنوا بہ وعزرہ) ” پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی “ (ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ) ” اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے “ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے (اولئک ھم المفلحون) ” وہی مراد پانے والے ہیں۔ “ یہی لوگ میں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے، کیونکہ وہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں۔ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–168
عجلت اور سرعت کا فرق
قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
232 ان ظالموں کے ذلیل بندر بن جانے کا حکم ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان سے کہا کہ تم ہوجاؤ بندر ذلیل۔ یعنی تکوینی طور پر ان سے یوں کہا گیا اور ان کو ذلیل بندر بنادیا گیا۔ پس یہ آیت پہلی آیت کے مضمون کی تقریر و تفصیل ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو جس " عذاب بئیس " یعنی " سخت عذاب " کا ذکر اوپر فرمایا گیا تھا، اس سے مراد یہی عذاب تھا کہ ان لوگوں کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ سو احکام خداوندی کے توڑنے کا نتیجہ و انجام بہرحال بہت برا اور نہایت ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کو ان کی نافرمانی اور عہد شکنی کی بناء پر ایک سخت عذاب سے دو چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–171
بنی اسرائیل پر غیروں کا تسلط اور حکومت
تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کی نافرمانی، سرکشی اور بدمعاشی کی وجہ سے جو ان پر ذلت و خواری ہمیشہ کے لیے ڈال دی گئی اس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مصیبت قیامت تک ان پر مسلط رہے گی۔ پھر اللہ اپنی رحمت کا اعلان اس طرح کرتا ہے کہ جو نیکی کا راستہ اختیار کرلے اور پکی توبہ کرلے اسے وہ معاف بھی کردیتا ہے۔ تاریخ میں اس بات کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ پہلے یونانی، کلدانی اور بخت نصر نے ان کو تباہ و برباد کیا، پھر جرمنی ہنگری نے ان کو ملک بدر کیا اگر کوئی چھوٹا موٹا ٹھکانا ان کو ملا بھی ہے تو دوسروں کے رحم و کرم پر ملا ہوا ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کو عبرت دلانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 163 ۔ تا۔ 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ذرا ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ صرف بات نہیں بلکہ قانون قدرت ہے اور یہ یعنی آپ کے زمانہ کے یہودی بھی اس واقعہ سے پوری طرح باخبر ہیں کہ دریا کنارے یہودیوں کی ہی ایک بستی آباد تھی جن کو یہ حکم دیا گیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ہفتہ کے روز تو مچھلیاں پانی کے اوپر سے نظر آنے لگتیں اور دوسرے دنوں میں یہ حال نہ ہوتا بلکہ محنت اور تلاش سے شکار ہاتھ لگتا یا نہ بھی لگتا تو در اصل یہ ان کا امتحان تھا ۔ اس لیے کہ وہ پہلے بھی نافرمانی کیا کرتے تھے اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ نیک لوگوں پہ آزمائش ایایسی ہی آتی ہے جس میں…
Read the full tafseer →ف 1 گزشتہ آیات میں یہود کے بعض نیک و بداعمال کا ذکر فرمایا، اور اس آیت میں بتایا کہ قیامت تک ان پر ذلت و خواری مسلط کردی گئی ہے۔ کبیر) یہودیوں کے پوری تاریخ اس حقیقت کی زندہ شہادت ہے۔ وہ ہر زمانے میں جہاں بھی رہے دوسروں کے محکوم اور غلام بن کر رہے اور آئے دن ان پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جنہوں نے انہیں اپنے ظلم وستم کا تختہ مشق بنایا ہمارے زمانے میں جرمنی میں ہٹلر نے ان سے جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر کسی جگہ عارضی طور پر انہیں امن وامان نصیب ہوا بھی اور ان کی برائے نام حکومت قائم ہوئی بھی تو وہ اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ سراسر دوسروں کے سہاروں پر۔
Read the full tafseer →(7:167) تاذن۔ اس نے اعلان کیا۔ اس نے خبر دی۔ اذن سے باب تفعل تاذن جس سنا دینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔
لیبعثن۔ مضارع واحد مذکر غائب تاکید بانون ثقیلہ جواب قسم کے لئے ہے بعث سے وہ ضرور ہی بھیجے گا۔
یسومہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ سوم مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو تکلیف دیتا ہے یا تکلیف دیگا۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:49 ، 3:14) ہم کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے۔ اس میں علماء میں اختلاف ہے۔
بعض کے نزدیک یہ ضمیر اس گروہ کے افراد کے لئے جنہوں نے متواتر حکم عدولی کرتے ہوئے سبت کے روز بھی مچھلیوں کا شکار کیا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد پوری یہودی امت ہے۔ اور بعض کے نزدیک حضور ﷺ کے ہمعصر یہودی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
تشریح :ـ آیت نمبر 167 تا 168
یہ ان دو عظیم سزاؤں کا ذکر ہے جو نبی اسرائیل کو اسی دنیا میں دی گئی ہیں یہ سزائیں ان کو اچانک نہیں دی گئیں بلکہ انبیاء کرام کے ذریعہ صدیوں پہلے ان کو مطلع کردیا گیا تھا۔
1) دوسری سزا یہ ہے کہ ان کا مستقل کوئی وطن نہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ مختلف ملکوں میں منتشر رہیں گے یعنی ان کی کوئی اجتماعی طاقت نہ ہوگی۔ ہمیشہ دوسروں کے سہارے زندہ رہیں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بخت نصر سے لے کر ہٹلر اور اسٹالن تک صدیوں سے یہودی مقہور ، محکوم اور مغضوب رہے ہیں۔
ہزاروں سال سے آج سے ان کی کوئی سیاسی طاقت نہ بن کسی اور جب بھی بنی ہے تو ان کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی ہے۔
یہ جو آجکل عربوں کے سینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر توریت کے احکام توڑدوگے تو یاد رکھو قیامت تک تمہیں عزت نصیب نہیں ہوگی، ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے۔ ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی۔ یہ بات خدائے تعالیٰ کی پوری ہو کر رہی۔ ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بہانے نکال کر مجرم ہوتے رہے۔ کہا جاتا ہے پہلے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر اخراج لگایا پھر اوروں نے جزیہ اور خراج لیا۔ پھر مسلمانوں کے زیر حکومت رہ کر برابر جزیہ اور خراج دیتے رہے جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
[65] یعنی بنی اسرائیل کو۔
Read the full tafseer →(ف 3) یہودیوں کی ذلت آج تک قائم ہے ، ہر زمانے میں ان کے لئے ایک بخت نصر موجود ہے ان کی حرص وآز کو دیکھ کر ہر شخص نفور ہے ، اور یہ اللہ کا بدترین عذاب ہے ۔
حل لغات :
بئیس : بؤس سے ہے یعنی تکلیف دہ ۔
Read the full tafseer →167 اور وہ وقت بھی یاد دلائو جب آپ کے پروردگار نے ان یہود کو آگاہ کردیا تھا اور ان کو یہ بات بتادی تھی کہ وہ قیامت تک ان پر کسی نہ کسی ایسے شخص کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت سزا کی تکلیف پہنچاتا ہے گا بلاشبہ آپ کا پروردگار بہت جلد سزا دیتا ہے اور یقین جانو کہ وہ بڑی مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان بھی ہے۔
یعنی یہود ہمیشہ مقہور و مغلوب رہیں گے اور اگر کبھی کوئی عارضی اقتدار مل بھی جائے تو اس کا اعتبار نہیں گناہگاروں کے لئے جس طرح کبھی عذاب میں جلدی ہوجاتی ہے اسی طرح توبہ کرنے والوں کے ساتھ رحمت و مغفرت کا برتائو بھی ہوتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں توریت میں فرمایا تھا کہ جب حکم…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی ذلت و خواری ومحکومیت چناچہ مدت سے یہودی کسی نہ کسی سلطنت کے محکوم ومقہور چلے آتے ہیں۔
Read the full tafseer →اس ابدی لعنت کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ :
190: تاذن کے معنی اعلم کے ہیں یعنی یہ علم دے دیا یا خبر دے دی یعنی اس فیصلہ قطعی سے لوگوں کو آگاہ کردیا ہے ۔ یہ لوگ کون تھے جن کے متعلق یہ فیصلہ قطعی کا اعلان کیا گیا ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے یوم سبت کے متعلق احکام الٰہی کو پس پشت ڈال دیا تھا اور بعض کا خیال ہے کہ ان سے مراد پوری یہودی امت ہے اور بعض نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے وقت کے یہود کو مراد لیا ہے ۔ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سے پوری قوم یہود ہی مراد ہے اس لئے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کی ان بد عہدیوں کی وجہ سے نبیوں کے ذریعہ جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے ان کو آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →The first two verses (167 and 168) have referred to the two punishments given to the Israelites. Firstly, Allah will keep sending up to the Day of Doom, some individuals or groups of people who will punish and bring disgrace to them. In fact, this is what has been happening to them up to this day. They had been dominated and disdainfully treated by others as has been recorded by history. We may not be in doubt about their present government in a part of Palestine, as it is a common knowledge that the state of Israel is, in fact, a part of the world powers, created by them for their political…
Read the full tafseer →127. The Qur'anic expression 'ta'adhdhana' means almost the same 'he warned; he proclaimed'.
128. Since the 8th century B.C. the Israelites were warned consistently. This is borne out by the contents of the Books of the Prophets Isaiah, Jeremiah, and their successors. Jesus too administered the same warning which is borne out by many of his orations in the New Testament, This was also later confirmed by the Qur'an. History bears out the veracity of the statement made both in the Qur'an and the earlier scriptures. For throughout history, since the time the Jews were warned, they have…
Read the full tafseer →