Explained with ayahs 144–145
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ
حضرت موسیٰ ؑ کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے حضرت محمد ﷺ تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابراہیم ؑ ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
سورة الْاَعْرَاف 101
بائیبل میں تصریح ہے کہ یہ دونوں تختیاں پتھر کی سلیں تھیں، اور ان تختیوں پر لکھنے کا فعل بائیبل اور قرآن دونوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے ہم اس بات کا تعیُّن کرسکیں کہ آیا ان تختیوں پر کتابت کا کام اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی قدرت سے کیا تھا، یا کسی فرشتے سے یہ خدمت لی تھی، یا خود حضرت موسیٰ کا ہاتھ استعمال فرمایا تھا۔ (تقابل کے لیے ملاحضہ ہو بائیبل، کتاب خروج، باب 31، آیت 18۔ باب 32، آیت 15، 16 و استثناء باب 5 آیت 6۔ 22)
سورة الْاَعْرَاف 102
یعنی احکام الہٰی کا وہ صاف اور سیدھا مفہوم لیں جو عقل عام سے ہر وہ شخص سمجھ لے…
Read the full tafseer →سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ ، اس جگہ دار الْفٰسِقِيْنَ سے کیا مراد ہے، اس میں دو قول ہیں، ایک ملک مصر، دوسرا ملک شام، کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ کے فتح کرنے سے پہلے مصر پر فرعون اور اس کی قوم حکمران اور غالب تھی اس کی وجہ سے مصر کو دار الْفٰسِقِيْنَ اور ملک شام پر عمالقہ کا قبضہ تھا وہ بھی کافر فاسق تھے اس لئے اس وقت شام بھی دار الْفٰسِقِيْنَ تھا، ان دونوں میں سے اس جگہ کونسا ملک مراد ہے، اس میں اختلاف اس بنیاد پر ہے کہ غرق فرعون کے بعد بنی اسرائیل مصر میں واپس چلے گئے تھے یا نہیں، اگر اس وقت مصر میں واپس گئے اور مملکت مصر پر قابض ہوئے جیسا کہ آیت وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ سے اس کی…
Read the full tafseer →وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ۔
وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ تختیوں پر اللہ تعالیٰ نے خود لکھا یا اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت موسیٰ ؑ نے لکھا ؟ تورات سے دونوں باتیں نکلتی ہیں۔“ اور موسیٰ نے لوگوں کے پاس جا کر خداوند کی سب باتیں لکھ لیں ”(خروج باب 14: 3۔ 4)
دوسرے مقام میں اس طرح ہے“ اور موسیٰ شہادت کی دونوں لوحیں لیے ہوئے الٹا پھرا اور پہاڑ سے نیچے اترا اور وہ لوحیں ادھر سے اور ادھر سے دونوں طرف سے لکھی ہوئیں تھین اور وہ…
Read the full tafseer →145۔ 1 گویا تورات تختیوں کی شکل میں عطا فرمائی گئی جس میں ان کے لئے دینی احکام، امر و نہی تر غیب و ترتیب کی پوری تفصیل تھی۔
145۔ 2 یعنی رخصتوں کی ہی تلاش میں نہ رہیں جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے۔
145۔ 3 مقام (دار) سے مراد تو انجام یہی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا اور اس سے مراد ملک شام ہے۔ جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ جو اللہ کے نافرمان تھے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
66: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تورات کے تمام ہی احکام بہترین ہیں، ان پر عمل کرنا چاہیے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں تورات نے ایک کام کو جائز کہا ہو، لیکن دوسرے کام کو بہتر یا مستحب قرار دیا ہو تو اللہ تعالیٰ کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کام کو اختیار کرلیا جائے جس کو اس میں بہترین قرار دیا گیا ہے۔
67: بظاہر اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے جو اس وقت عمالقہ کے قبضے میں تھا۔ اور دکھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ علاقہ بنی اسرائیل کے قبضے میں آجائے گا۔ جیسا کہ حضرت یوشع اور حضرت سموئیل (علیہما السلام) کے زمانے میں ہوا۔ بعض مفسرین نے ”نافرمانوں کے گھر“ کا مطلب دوزخ بتایا ہے اور مقصد یہ بیان کیا ہے…
Read the full tafseer →اب چند الفاظ اس رسالت کے مضمون اور طریقہ کار کے بارے میں ہیں کہ یہ رسالت کس طرح دی گئی :
(وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ) " اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی "
روایات اور مفسرین کے درمیان ان تختیوں کے بارے میں اختلافات ہیں ، بعض نے ان کے بارے میں تفصیلات دی ہیں۔ ان تفصیلات کا بیشتر حصہ ان اسرائیلی روایات پر مشتمل ہے جو اسلامی تفاسیر کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ ان روایات میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات مرفوع نہیں ہے۔ چناچہ ہم اس آیت کو پڑھ کر آگے جانے سے رک جاتے…
Read the full tafseer →9 بعض کہتے ہیں کہ تورات شریف ان تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اور بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ تختیاں تورات کے علاوہ تھیں جو نزول تورات سے پہلے مرحمت ہوئیں۔ بہرحال دیدار نہ ہوسکنے سے جو شکستگی موسیٰ (علیہ السلام) کو ہوئی اس کی تلافی اور جبر مافات کے طور پر الواح عطا کی گئیں۔ جن میں ہر قسم کی نصیحتیں اور تمام ضروری احکام کی تفصیل تھی (ابن کثیر)
10 یعنی خود بھی ان الواح کو مضبوطی اور احتیاط سے پکڑے رہو کہیں ہاتھ سے چھوٹ نہ جائیں اور اپنی قوم کو سمجھاؤ کہ وہ ان الواح کی بہترین ہدایات پر پختگی سے عمل کرتے رہیں اور ایسی اچھی چیز کو ہاتھ سے نہ دیں۔ (تنبیہ) لفظ " احسنہا " سے یا تو اس پر متنبہ فرمانا ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 145 وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ ج۔
یعنی شریعت کے تمام بنیادی احکام ان الواح میں درج کردیے گئے تھے۔ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے بنیادی احکام شاہراہ حیات پر انسان کے لیے گویا danger signals کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے کسی پر پیچ پہاڑی سڑک پر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے جگہ جگہ danger cautions نصب کیے جاتے ہیں اسی طرح انسانی تمدن کے پیچیدہ راستے پر آسمانی شریعت اپنے احکامات کے ذریعے caution نصب کر کے انسانی تگ و دو کے لیے ایک محفوظ دائرہ مقرر کردیتی ہے تاکہ انسان اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے ‘ اپنی عقل کو بروئے کار لاکر اپنی مرضی…
Read the full tafseer →140 تورات کی تختیاں :۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ تورات انہی تختیوں پر لکھی گئی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ ان تختیوں میں صرف چند جامع اور بنیادی احکام لکھے گئے تھے اور تورات بعد میں آپ پر نازل ہوئی۔ ان تختیوں پر کتاب کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان تختیوں کی تعداد کتنی تھی ؟ ان تختیوں میں وہی احکام مذکور ہیں جو سورة انعام کی آیت نمبر 151 اور 152 میں مذکور ہیں اور یہ سبت کی تعظیم کے حکم سمیت دس احکام بنتے ہیں۔
141 احسن کے معانی :۔ قرآن کا لفظ باحسنہا کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ میں ذکر کردیا گیا ہے یعنی ان پر عمل بےدلی سے اور بےکار سمجھ کر نہ کریں…
Read the full tafseer →193 ۔ یعنی مسائل و احکام دین سے متعلق ہر ضروری تفصیل ان میں درج کردی گئی۔ (آیت) ” من کل شیء “۔ سے ساری دنیا کی چیزیں مراد نہیں بلکہ وہی ومسائل دین مراد ہیں۔ ای ممایحتاج الیہ فی دینہ من الاحکام (قرطبی) ولا شبھۃ فیہ انہ لیس علی العموم بل المراد من کل مایحتاج الیہ موسیٰ وقومہ فی دینھم (کبیر) من یہاں مزیدہ ہے نہ کہ تبعیضیہ من مزید لاتبعیضیۃ (روح) (آیت) ” لہ “۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے۔ (آیت) ” الالواح “۔ انہی لکھی ہوئی تختیوں کا نام توریت پڑا۔ اجمال کی کسی قدر تفصیل خود توریت میں ہے :۔ اور موسیٰ پھر کر پہاڑ سے اتر گیا اور شہادت کے دونوں تختے اس کے ہاتھ میں تھے اور وہ تختے لکھے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
فخذھا۔۔۔ دار الفسقین، یعنی رخصتوں کی تلاش میں نہ رہو جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے عزیمتوں پر عمل کرو، مقام دار سے مراد یا تو انجام یعنی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا، اور اس سے مراد ملک شام ہے جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی جو اللہ کے نافرمان تھے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →وکتبنالہ فی الالواح من کل شی موعظۃ وتفصیلا لکل شی فخذہا بقوۃ وامر قومک یاخذوا باحسنہا ساریکم دار الفسقین۔ اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی (ضروری) نصیحت اور (احکام ضروریہ کے متعلق) ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دے دی سو تم خود بھی کوشش کے ساتھ ان پر عمل کرو اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں۔ میں اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بےحکم لوگوں کا مقام دکھلاؤں گا۔
لَہٗیعنی موسیٰ کے لئے۔ فی الالواحیہ تختیاں سات یا دس تھیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا الواح سے مراد ہیں توریت کی تختیاں۔ حدیث میں آیا ہے کہ وہ تختیاں جنت کے بیری کے درخت کی تھیں۔ ایک تختی کی لمبائی بارہ ہاتھ تھی۔ یہ…
Read the full tafseer →(145) اور ہم نے چند تختیوں پر حلال و حرام اور امر و نواہی ہر ایک چیز کی تفصیل لکھ دی اس پر پوری کوشش کے ساتھ عمل کرو اور قوم کو حکم دو کہ وہ محکم پر عمل کرے اور متشابہ پر ایمان لائے، بہت جلد میں گنہگاروں کا مقام دکھلاتا ہوں اور وہ دوزخ ہے یا عراق یا مصر ہے۔
Read the full tafseer →وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ۔۔ : یعنی تمام عقائد و احکام اور نصائح جن کی حلال و حرام اور دین کے دوسرے معاملات معلوم کرنے کے سلسلہ میں بنی اسرائیل کو ضرورت پیش آسکتی تھی۔ ”كُلِّ“ کا لفظ موقع کی مناسبت ہی سے متعین ہوتا ہے، مثلاً ملکۂ سبا کے متعلق آتا ہے : (وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ) [ النمل : 23 ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ اور قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق فرمایا : (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۢ بِاَمْرِ رَبِّهَا) [ الأحقاف : 25 ] ”جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“ حالانکہ ظاہر ہے کہ نہ ملکۂ سبا کو کائنات کی ہر چیز عطا ہوئی تھی اور نہ اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 145
قولہ تعالیٰ : آیت : وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیء اس میں الواح سے مراد تورات ہے۔ اور خبر میں روایت ہے کہ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے آپ کو اپنے پر کے ساتھ اٹھایا اور بلندی میں لے گئے حتی کہ آپ کو اتنا قریب کیا کہ آپ نے قلم چلنے کی آواز سنی جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے تختیاں لکھیں۔ اسے حکیم ترمذی نے ذکر کیا ہے۔
حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ تختیاں سبز رنگ کے زمرد کی تھیں۔ ابن جبیر نے کہا ہے : وہ سرخ یاقوت کی تھیں۔ ابو العالیہ نے کہا ہے : وہ زبر جد کی تھیں۔ اور حسن نے کہا ہے : ول لکڑی کی بنی ہوئی تھیں (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحۃ 452 ) ۔ اور وہ آسمان سے نازل ہوئیں۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
(1) امام ابو الشیخ نے ابن شودب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تجھ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں میں سے کیوں چنا ؟ موسیٰ نے عرض کیا نہیں اے میرے رب (میں نہیں جانتا) فرمایا کہ کسی نے میری ایسی عاجزی نہیں کی جیسے تو نے عاجزی کی۔
(2) امام ابن ابی شیبہ نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ عمل کروں تو تیرے لئے وہ شکر ہوجائے ان انعامات کا جو آپ نے مجھ پر فرمائے فرمایا اے موسیٰ کہہ لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیرا “ راوی نے کہا موسیٰ…
Read the full tafseer →[ وَكَتَبْنَا : اور ہم نے لکھا ] [ لَهٗ : اس کے لیے ] [ فِي الْاَلْوَاحِ : تختیوں پر ] [ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ : سب چیزوں میں سے ] [ مَّوْعِظَةً : نصیحت ہوتے ہوئے ] [ وَّتَفْصِيْلًا : اور تفصیل ہوتے ہوئے ] [ لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ : ہر چیز کے لیے ] [ فَخُذْهَا : پس تو پکڑ اس کو ] [ بِقُوَّةٍ : قوت سے ] [ وَّاْمُرْ : اور تو حکم دے ] [ قَوْمَكَ : اپنی قوم کو ] [ يَاْخُذُوْا : کہ وہ لوگ پکڑیں ] [ بِاَحْسَنِهَا ۭ : اس کے بہترین کو ] [ سَاُورِيْكُمْ : میں دکھاؤں گا تم لوگوں کو ] [ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والوں کا گھر ]
ل وح : ۔ لوحا ، کسی چیز کا نمایاں ہونا۔ لوحا ۔ گرم ہونا ۔ پیاسا ہونا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتیں گزر جانے کے بعد توریت شریف عطا فرمائی جو تختیوں میں لکھی ہوئی تھی اس میں احکام شرعیہ تفصیل سے لکھے ہوئے تھے اور ہر طرح کی نصیحتیں بھی تھیں۔ حلال و حرام کو واضح طریقہ پر بیان فرما دیا تھا۔ اور محاسن و مساوی (اچھے برے کاموں) کو تفصیل سے بتادیا تھا۔ اسی کو فرمایا (وَ کَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ ) کتاب عطا فرمانے کے ساتھ فَخُذْھَا بِقُوَّۃٍ بھی فرمایا کہ اسے قوت اور مضبوطی کے ساتھ لے لو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِھَا) اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
تفسیر
ذکر مکالمہ خداوندی با موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) وعطاء تورات
قال اللہ تعالیٰ وواعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھل یجزون الا ما کانو یعملون
(ربط) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرے گا اور تمہیں ان کا جانشین اور ان کے ملک کا وارث بنائے گا اور اس وقت میں تم کو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب ہدایت مآب لا کر دونگا جو تمہارے لیے دستور العمل ہوگی چناچہ جب فرعون ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل کو اس کے پنجۂ ظلم سے نجات ملی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کتاب کی درخواست کی۔ حکم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر آکر اعتکاف کریں…
Read the full tafseer →137:“ اَلْاَلْوَاحَ ” سے مراد تورات ہے اور “ شَیْءٍ ” سے ہر وہ چیز مراد ہے جن کی شریعت میں ان کو ضرورت تھی یعنی حلال و حرام کے احکام۔ “ من کل شیء یحتاجون الیه من الحلال والحرام والمحاسن والقبائح ”(روح ج 9 ص 56) ۔ “ مَوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا ” مفعول لہ ہیں یا “ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ” سے بدل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
ربط آیات
اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے اور وہاں پر چالیس راتوں کا اعتکاف کیا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرف تکلم بخشا اور آپ کو کتاب تورات عطا فرمائی درمیان میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اشتیاق کا ذکر ہوا جب آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اللہ نے فرمایا اس مادی جہان میں میری رویت ممکن نہیں نیز فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ لوگوں میں ممتاز فرمایا ہے لہٰذا جو چیز میں عطا کروں اس کو لے لو اور میرا شکریہ ادا کرو جس چیز کا موقع اور محل نہیں ہے اس کے متعلق سوال نہ کرو اب آج کے درس میں اللہ جل شانہ نے…
Read the full tafseer →وَكَتَبْنَا لَہٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ 0 ۚ فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِہَا 0 ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ 145
كتب ( لکھنا)
الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ
[ البقرة/ 1- 2] ، وقوله : قالَ إِنِّي…
Read the full tafseer →1 ؎ نافرمانی اور بدکاری کے سبب کیسے اجڑے پڑے ہیں۔ 12
الالواح کی کیفیت : وکتبنا لہ فی الالواح الخ تورات موجود کے سفر خروج کے 32 باب 15 درس میں ان لوحوں کی بابت لکھا ہے ” موسیٰ پھر کر پہاڑ سے اتر گیا اور شہادت کے دونوں تختے (لوحین جن کو الواح کہتے ہیں) اس کے ہاتھ میں تھے۔ دونوں طرف ادھر اور ادھر لکھے ہوئے تھے اور وہ تختے خدا کے کام سے تھے اور جو لکھا ہوا سو خدا کا لکھا ہوا اور ان پر کندہ کیا ہوا تھا۔ پھر اسی باب میں آگے چل کر یہ لکھا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پرستش کرتے دیکھا اور ان کے شور و غل کی آواز سنی تو ان لوحوں کو پھینک دیا اور پہاڑ کے نیچے آکر توڑ ڈالا۔ پھر…
Read the full tafseer →وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کَُلِّ شَیْئٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیْلًا لِّکَُلِّ شَیْئٍ ج فَخُذْھَا بِقُوَّۃٍ وَّاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِہَا ط سَاُورِیْکُمْ دَارَالْفٰسِقِیْنَ ۔
(الاعراف : 145)
” اور ہم نے اس کے لیے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پس اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو ہدایت کرو کہ اس کے بہتر طریقہ کو اپنائیں میں تم کو عنقریب نافرمانوں کا ٹھکانا دکھائوں گا “۔
تورات کا تعارف اور اس کے مقتضیات
اس آیت کریمہ میں متعدد باتیں ہماری توجہ کا تقاضہ کرتی ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ اس میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو تختیاں لکھ کے دی تھیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے منصب پر تو پہلے ہی فائز کردیا تھا اپنی ہم کلامی کا شرف بخشتے ہوئے تختیوں کی شکل میں تورات عطا فرمائی جس میں بنی اسرائیل کے لیے نصیحت اور دین کی متعلقہ تفصیلات درج تھیں۔
قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تحریر کی شکل میں تورات عطا کی تھی شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بنی اسرائیل اہم اور حساس معاملات میں بھی ظاہر پرست واقع ہوئے تھے۔ جس کی بنا پر انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر اس پر اتنا اصرار کیا کہ موسیٰ…
Read the full tafseer →تورات بنی اسرائیل کا قانون :
آیت 145: وَکَتَبْنَا لَـہٗ فِی الْاَ لْوَاحِ (اور ہم نے ان کو چند تختیوں پر لکھ دی) الواح جمع لوح تورات یہ دس تختیاں تھیں بعض نے کہا سات یہ زمرد کی بنی ہوئی تھیں دوسرا قول یہ ہے کہ لکڑی کی بنی ہوئی تھیں آسمان سے اتریں اور ان میں تورات درج تھی۔ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ (ہر چیز کی) یہ کتبنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ (نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل) یہ من کل شئی کا بدل ہے۔ مطلب یہ ہے ہم نے ان کے لیے ہر وہ چیز لکھ دی جس کی بنی اسرائیل کو مواعظ و تفصیل احکام کے سلسلہ میں ضرورت تھی ایک قول یہ بھی ہے کہ تورات ستّر اونٹوں پر…
Read the full tafseer →الواح کی مختلف تفاسیر
تفسیر 145(وکتبنا لہ فی الالواح) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ توریت کی تختیاں مراد ہیں اور حدیث میں ہے کہ یہ تختیاں جنت کی بیری کی تھیں، تختی کی لمبائی بارہ گز تھی اور احادیث میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور توریت کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور طوبیٰ درخت کو اپنے ہاتھ سے لگایا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ لکڑی کی تختیاں تھیں ۔ کلبی رحمہ الل ہفرماتے ہیں کہ سبز زمرد کی تھیں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ سرخ یاقوت کی تھیں ابن جریج (رح) فرماتے ہیں یہ زمرد کی تھی، اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا وہ ان کو عدن سے لائے اور اس قلم سے…
Read the full tafseer →علمائے مفسرین نے ان تختیوں کی تفسیر میں بڑا اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں یہ تختیاں یاقوت کی تھیں اور بعضے کہتے ہیں زبرجد کی تھیں اور بعضے اور چیزوں کی بتلاتے ہیں پھر یہ بھی اختلاف ہے کہ ان تختیوں پر تورات ہی لکھی ہوئی تھی یا تو ریت کے علاوہ دوسری کچھ نصیحتیں اور احکام تھے اور یہ بھی اختلاف ہے کہ بنی اسرائیل کے بچھڑے کے پوجنے پر حضرت موسیٰ کو جو غصہ آیا اور اس غصہ میں حضرت موسیٰ نے ان تختیوں کو زمین پر پٹخ دیا تو وہ تختیاں ٹوٹ گئیں یا ثابت رہیں رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ یہ سب اختلاف بنی اسرائیل کی مختلف روایتوں کو وجہ س ہے اور بنی اسرائیل کی روایتوں کے باب میں دو دو صحیح حدیثیں آئی ہیں ایک حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
التجائے موسیٰ
قول باری ہے قال رب ارنی انظر الیک۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے التجا کی کہ ” اے میرے رب ! مجھے یا رائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روایت باری کی اس وجہ سے التجا کی تھی کہ اپنی قوم کے اس مطالبہ کا انہیں جواب دے سکیں کہ ” ہم تمہاری بات پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں “۔ اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے اتھلکنا بما فعل الشفھاء منا۔ کیا آپ اس قصور میں ہم سب کو ہلاک کردیں گے جس کا ارتکاب ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس رویت کی التجا کی تھی جو علم ضرورت کہلاتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
183 حضرت موسیٰ کی اپنے رب سے دیدار کی درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو اس موقع پر موسیٰ نے یہ درخواست پیش کردی۔ سو کوہ طور پر اپنے رب سے ہم کلامی کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد حضرت موسیٰ کے دل میں اپنے رب کی دید و زیارت کا بھی شوق پیدا ہوا۔ لذت تکلم ربّانی سے مخمور و سرشار اور فرط شوق و محبت سے متاثر و مغلوب ہو کر۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب اور اپنے خالق ومالک کی دید و زیارت سے بڑھ کر محبوب چیز اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے بڑھ کر اس کا اشتیاق اور کس کو ہوسکتا ہے ؟ اس لئے آنجناب نے بےساختہ اپنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 تا 147 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ جب فرعون سے امن نصیب ہوا تو اب ضرورت پیش آئی کہ اگر بت پرستی درست نہیں تو کوئی طریق عبادت اور شریعت تو ہونا چاہئے جسے اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ طور پر آ کر تیس راتوں کا اعتکاف کریں تاکہ آپ کو کتاب عطا ہو اور پھر دس راتیں مزید بڑھا دی گئیں یعنی مطلوبہ نسبت یا توجہ الی اللہ تیس کی بجائے چالیس راتوں میں نصیب ہوئی غرض ایک حالت مطلوب تھی جو اللہ کریم چاہتے تو بغیر کسی مجاہدے کے بھی عطا فرما سکتے تھے مگر دنیا عالم اسباب ہے لہذا سبب اختیار کرنے کا حکم دیا۔
خلوت کا اثر :
جہاں…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی تمام احکام و مواعظ جن کی حلال و حرام معلوم کرنے سلسلہ میں بنی اسرائیل کو ضرورت پیش آسکتی تھی۔ ( کبیر)3 اچھی باتیں یعنی کرنے کے کام ہیں او بری باتیں جن سے بچنے کا حکم ہے۔ ( مو ضح) یا عزیمت کی راہ اختیار کریں اور وہ کام کرنے کی کوشش کریں جن کا اجر دوسرے کاموں سے زیادہ ہے۔ (کذافی الکبیر)4 یعنبی اگر تم نے ان باتوں پر عمل نہ کیا تو تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا میری نافرمانی کرنے والوں کو انجام کیا ہوتا ہے اور انہیں کسی قسم کی تباہی وبر بادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ ( ابن جریر) بعض نے لکھا ہے کہ دار الفا ستمین سے مراد اہل شام ہیں گویا اس میں وعدہ ہے کہ ملک شام تمہاہا سے قبضہ آئے گا، (کبیر) یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
(7:144) اصطفیتک۔ میں نے تجھ کو امتیاز دیا۔ میں نے تجھ کو برگزیدہ کردیا۔ میں نے تجھ کو سرفراز کیا۔ اصطفاء (افتعال) صفو مادہ۔ الصفاء کے اصل معنی کسی چیز کا ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور صاف ہونا کے ہیں۔ الاصطفاء کے معنی پاک اور صاف چیز کا لے لینا۔ جیسے الاجتباء کے معنی عمدہ چیز کا منتخب کرلینا اسی سے ہے المصطفیٰ اور المجتبیٰ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
تشریح :ـآیات نمبر ا 45 تا 147
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مختلف موقعوں پر پس پردہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ہے اگر چہ وہ اللہ کا دیدار تو حاصل نہ کرسکے لیکن ان کو اللہ سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے۔
پہلی گفتگو تو وہ ہے جو سورة الاعراف کی آیت نبمر 143 سے ظاہر ہے ۔ اللہ سے کلام کا سلسلہ جاری رہا اور چالیس دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پتھر کی سلوں پر لکھی ہوئی توریت عطا کی۔ اس میں جو ہدایات دی گئی تھیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔
1) حکم پر محض عمل کرنا کافی نہیں ہے اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ ہے حسن عمل یعنی کسی کا حکم…
Read the full tafseer →توریت نازل ہونے اور سامری کی وجہ سے بنی اسرائیل کی گمراہی کا واقعہ
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے لئے چھانٹا اور تفصیل کے ساتھ احکام نصیحت ان تختیوں پر لکھ کر کندہ کئے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئے کہ وہ ان کو مظبوط ہو کرلیں اور اپنی قوم کو ان اچھی باتوں پر عمل کرنے کا حکم کریں۔ آخر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تنبیہ فرمائی ہے جس طرح اس آیت میں توریت کے موافق عمل کرنے کا حکم ہے۔ اس حکم کی تعمیل اگر یہ لوگ نہ کریں گے تو مصر سے شام کے ملک کو جاتے ہوئے ان کو قوم عاد اور ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں ملیں گی۔ ان بستیوں کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
[52] یعنی مسائل و احکام دین کے متعلق ضروری تفصیل۔
[53] بہتر باتیں یعنی جو کرنے کے احکام ہیں۔ ان کے خلاف بری باتیں ہیں جن کے نہ کرنے کا حکم ہے۔
[54] یعنی تم اپنے دشمنوں کے ملک میں داخل ہوگے اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
دیدار یار :
(ف 2) اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مکالمہ کے شرف سے نوازا ، یہاں دل میں یہ خیال چٹکیاں لے رہا تھا ، کہ گفتگو کافی نہیں ، دیدار چاہئے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” لن ترانی “ کہ یہ آنکھیں کیونکر تجلیات کو جذب کرسکتی ہیں ، مگر وہاں اصرار وشوق کی فراوانی تھی نقاب کے کچھ حصے سرکے ، اور موسیٰ (علیہ السلام) غش کھا کر گر پڑے ، آنکھوں میں تاب و تواں کہاں کہ برداشت کرسکیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ اس ذوالجلال کو دیکھنا ناممکن ہے اور اس نوع کا مطالبہ اس کے حسن و جلال کی توہین ہے فورا ” تبت “ کی صدائے ندامت فضاء میں گونجی اور دلائل وبراہین کی آیتوں پر…
Read the full tafseer →145 پھر ہم نے چند تختیوں پر موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر قسم کی نصیحت اور ہر ضروری چیز کی تفصیل لکھ دی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ان تختیوں کو سنبھال اور پورے عزم اور پوری قوت کے ساتھ خود بھی اس پر عمل کر اور اپنی قوم کو بھی حکم دے کہ وہ اس کے احکام پر جو بہترین ہیں عمل کرتے رہیں اور اس کے بہترین احکام کو پکڑے رہیں میں عنقریب تم کو نافرمانی اور بےحکمی کرنے والوں کا گھر دکھائوں گا۔ یعنی ان تختیوں پر کتاب تورات لکھی ہوئی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اور حکم ہوا کہ اس پر مضبوطی کے ساتھ عمل کرو اور دوسروں سے اس کی اچھی اور بہترین باتوں پر عمل کرائو۔ نافرمانوں کے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس میں بشارت اور وعدہ ہے کہ مصر یا شام پر عنقریب تسلط ہوا چاہتا ہے مقصود اس سے ترغیب دینا ہے اطاعت کی کہ اطاعت احکام الہییہ کے یہ برکات ہیں۔
Read the full tafseer →وہ نسخہ ہدایت و رحمت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا جس کا نام تورات ہے :
156: وَ کَتَبْنَا اور لکھا ہم نے کے الفاظ سے ہمارے مفسرین نے بڑی لمبی چوڑی بحثیں بیان کی ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ ان الواح کی عبارت کو اللہ تعالیٰ نے خود لکھا تھا حالانکہ قرآن کریم میں کَتَبْنَا کا لفظ جہاں بھی آیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی نسبت فعل کتابت مراد نہیں لی گئی بلکہ مقرر کرنے اور فرض کرنے کے معنی لئے گئے ہیں ۔ چناچہ کَتَبْنَا کے ہر جگہ علمائے اسلام نے یہی معنی قرار دئیے ہیں اور علیٰ اور لہ جو کتابت کے صلہ میں آتا ہے اس سے بھی کچھ تغیر معنی میں نہیں ہوتا بلکہ فی کے صلہ میں آنے سے بھی کچھ تغر واقع نہیں ہوتا چناچہ…
Read the full tafseer →The last sentence is سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِين . "I will show you the abode of the sinners". This is a kind of promise by Allah that the Israelites shall soon take over Egypt or perhaps Syria, referred to as the abode of the sinners in this verse. There are two views about the reference to the abode of the sinners. The first holds that the reference has been made to Egypt while the second takes it to refer to Syria. The difference of opinion is, in fact, based on a question whether the Israelites had returned to Egypt after the destruction of Pharaoh and his people or not. If they went…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
101. The Bible categorically mentions that the tablets were of stone. The act of writing on these tablets is attributed in both the Qur'an and the Bible, to God. Nonetheless, it is not possible to ascertain whether the actual act of writing was as performed by God exercising His power directly, or by God in the sense of His assignment of the task to some angel or to Moses (cf. Exodus 31: 18, 32: 15-16; and Deuteronomyi, 5: 6-22).
102 The Israelites were asked to hold fast to the Law to follow it in its plain meaning, a meaning which can he grasped by an ordinary man of sound heart and good…
Read the full tafseer →