Explained with ayahs 146–147
تکبر کا پھل محرومی
تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کے بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بیکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کردیتی ہے۔ علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہوسکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لئے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں ؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا اور امتوں کے سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 104
یعنی میرا قانون فطرت یہی ہے کہ ایسے لوگ کسی عبرت ناک چیز سے عبرت اور کسی سبق آموز شے سے سبق حاصل نہیں کرسکتے۔
”بڑا بننا“ یا ”تکبّر کرنا“ قرآن مجید اس معنی میں استعمال کرتا ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالا تر سمجھنے لگے اور خدا کے احکام کی کچھ پروا نہ کرے، اور ایسا طرز عمل اختیار کرے گویا کہ وہ نہ خدا کا بندہ ہے اور نہ خدا اس کا رب ہے۔ اس خودسری کی کوئی حقیقت ایک پندار غلط کے سوا نہیں ہے، کیونکہ خدا کی زمین میں رہتے ہوئے ایک بندے کو کسی طرح یہ حق پہنچتا ہی نہیں کہ غیر بندہ بن کر رہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ”وہ بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
خلاصہ تفسیر
(اب ترغیب اطاعت کے بعد ترہیب مخالفت کے لئے ارشاد ہے کہ) میں لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں (احکام ماننے سے) تکبر کرتے ہیں جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں (کیونکہ اپنے کو بڑا سمجھنا حق اس کا ہے جو واقع میں بڑا ہو، اور وہ ایک خدا کی ذات ہے) اور (برگشتگی کا ان پر یہ اثر ہوگا کہ) اگر تمام (دنیا بھر کی) نشانیاں (بھی دیکھ لیں تب بھی (غایت قسادت سے) ان پر ایمان نہ لاویں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں (یعنی حق کے قبول نہ کرنے سے پھر دل سخت ہوجاتا ہے اور برگشتگی اس حد تک پہنچ جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ۔
ایک برسر موقع تنبیہ : یہ برسر موقع ایک جامع تنبیہ و تذکری ہے کہ کون لوگ ان تعلیمات کی قدر کریں گے، ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون ان سے منہ موڑیں گے اور اس کے نتیجہ میں آخرت کی محرومی سے دوچار ہوں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی زمین میں رہتے بستے اپنے آپ کو خدا سے…
Read the full tafseer →146۔ 1 تکبر کا مطلب ہے اللہ کی آیات و احکام کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور لوگوں کو حقیر گرداننا۔ یہ تکبر انسان کے لئے زیبا نہیں دیتا، کیونکہ اللہ خالق ہے اور وہ اس کی مخلوق۔ مخلوق ہو کر، خالق کا مقابلہ کرنا اور اس کے احکام و ہدایات سے اعراض و غفلت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کو تکبر سخت ناپسند ہے۔ اس ایت میں تکبر کا نتیجہ بتلایا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایات الہی سے دور ہی رکھتا ہے اور پھر وہ اتنے دور ہوجاتے ہیں کہ کسی طرح کی بھی نشانی انہیں حق کی طرف لانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (ترجمہ) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئ وہ ایمان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
66: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تورات کے تمام ہی احکام بہترین ہیں، ان پر عمل کرنا چاہیے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں تورات نے ایک کام کو جائز کہا ہو، لیکن دوسرے کام کو بہتر یا مستحب قرار دیا ہو تو اللہ تعالیٰ کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کام کو اختیار کرلیا جائے جس کو اس میں بہترین قرار دیا گیا ہے۔
67: بظاہر اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے جو اس وقت عمالقہ کے قبضے میں تھا۔ اور دکھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ علاقہ بنی اسرائیل کے قبضے میں آجائے گا۔ جیسا کہ حضرت یوشع اور حضرت سموئیل (علیہما السلام) کے زمانے میں ہوا۔ بعض مفسرین نے ”نافرمانوں کے گھر“ کا مطلب دوزخ بتایا ہے اور مقصد یہ بیان کیا ہے…
Read the full tafseer →اب اس منظر کے آخر میں اور موسیٰ اور رب موسیٰ کے مکالمے کے اختتام پر ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جو متکبر ہیں ، جو اللہ کے معجزات و ہدایات سے منہ موڑتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں اور ان لوگوں کی تصویر کشی بڑے واضح رنگ اور قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے عین مطابق۔
اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کے بارے میں اپنی مشیت کا اعلان فرماتے ہیں جو اس زمین میں بغیر جواز کے تکبر کرتے ہیں اور بڑے بنتے ہیں۔ یہ لوگ کس قسم کے ہوتے ہیں ؟ ایسے کہ چاہے جو معجزانہ استدلال ان کے سامنے پیش کیا جائے وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ ان کو کسی اچھے کام کی دعوت دی جائے تو اس پر…
Read the full tafseer →1 جو لوگ خدا اور پیغمبروں کے مقابلہ میں ناحق کا تکبر کرتے ہیں اور نخوت و غرور اجازت نہیں دیتا کہ احکام الٰہی کو قبول کریں، ہم بھی ان کے دل اپنی آیات کی طرف سے پھیر دیں گے کہ آئندہ ان سے منتفع ہونے کی توفیق نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ خواہ کتنے ہی نشانی دیکھیں اور کتنی ہی آیتیں سنیں ٹس سے مس نہ ہوں، ہدایت کی سڑک کیسی ہی صاف اور کشادہ ہو، اس پر نہ چلیں ہاں گمراہی کے راستہ پر نفسانی خواہشات کی پیروی میں دوڑے چلے جائیں۔ تکذیب کی عادت اور غفلت کی تمادی سے جب دل مسخ ہوجاتا ہے، اس وقت آدمی اس حالت کو پہنچتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 146 سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ط۔
یہاں ایک اصول بیان فرما دیا گیا کہ جن لوگوں کے اندر تکبر ہوتا ہے ہم خود ان کا رخ اپنی آیات کی طرف سے پھیر دیتے ہیں ‘ چناچہ وہ ہماری آیات کو سمجھ ہی نہیں سکتے ‘ ان پر غور کر ہی نہیں سکتے۔ اس لیے کہ تکبر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِیْ 1 یعنی تکبر میری چادر ہے ‘ اگر کوئی انسان تکبر کرتا ہے تو وہ گویا میری چادر میرے شانے سے گھسیٹ رہا ہے ‘ لہٰذا ایسے ہر انسان کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَا…
Read the full tafseer →143 تکبر کی تعریف اور علامات :۔ تکبر کی جامع تعریف درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو۔ ایک شخص نے کہا : ہر انسان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اس کی جوتی اچھی ہو (کیا یہ تکبر ہے ؟ ) آپ نے فرمایا اللہ خوب صورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ تو حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے (مسلم، کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبروبیانہ )
یعنی تکبر کی ایک علامت تو یہ ہوتی ہے کہ متکبر انسان اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کرتا اور اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے…
Read the full tafseer →196 ۔ (اور دنیا میں تکبر کا حق کسی کو بھی نہیں پہنچتا اس لیے تکبر جہاں کہیں بھی ہوگا ناحق ہی ہوگا) یعنی ایسے لوگ قصدا راہ کبر وانانیت اختیار کئے ہوئے ہیں، انہیں کبھی بھی قبول حق کی توفیق نہ ہوگی اور یہ برابر راہ حق سے برگشتہ ہی رہیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کو تکوینی طور پر قبول حق پر مجبور کردیا جائے۔ (آیت) ” بغیر الحق “۔ یعنی یہ راہ کبروگردن کشی خود ان گردن کشوں کے معیار سے بھی سرتاسرمہمل و باطل ہے۔
197 ۔ معاندین حق کی یہ نفسیت آج تک برابر چلی آرہی ہے۔ نیک سے نیک نمونے ان کے لیے بےاثر رہتے ہیں اور بدی کی ہ رمثال ان کے لیے ایک سند اور نظیر کا کام دینے لگتی ہے۔ ساری آیت ان کے قساوت قلب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
فخذھا۔۔۔ دار الفسقین، یعنی رخصتوں کی تلاش میں نہ رہو جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے عزیمتوں پر عمل کرو، مقام دار سے مراد یا تو انجام یعنی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا، اور اس سے مراد ملک شام ہے جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی جو اللہ کے نافرمان تھے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بہا وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا وان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا ذلک بانہم کذبوا بایتنا وکانوا عنہا غفلین : میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گے جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں جس کا ان کو کوئی حق نہیں۔ اگر تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں۔ تب بھی ان کو نہ مانیں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنا لیں اور یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلایا اور ان سے غافل رہے
Read the full tafseer →(146) اور میں اپنی آیات کے اقرار سے ایسے لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو ناحق تکبر کیا کرتے تھے یا یہ معنی ہیں کہ اے محمد ﷺ میں عنقریب گنہگاروں کو ان کی جگہ اور قیام دکھاؤں گا جو مقام بدر ہے یا مکہ مکرمہ اور فرعون اور اس کی قوم یا ابوجہل اور اس کے ساتھی تمام نشانیاں دیکھ کر بھی ان پر ایمان نہ لائیں گے۔
اور اگر اسلام اور نیکی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر کفر وشرک کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا لیں، اور یہ برگشتگی اس بنا پر ہے کہ انہوں نے ہماری کتاب اور رسول اکرم ﷺ کی تکذیب کی اور وہ اس کے منکرہی تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ۔۔ : نبی ﷺ نے فرمایا : ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی کبر ہے) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو بڑا بنتے ہوئے حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر اور بےوقعت جاننے کا نام ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91، عن ابن مسعود ؓ ] اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر جو لوگ اپنی بڑائی اور برتری کے زعم میں حق قبول نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ بھی انھیں اپنی آیات قبول کرنے سے دفع دور کردیتا ہے۔ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
آیت نمبر : 146۔ 147
قولہ تعالیٰ : آیت : ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میں انہیں اپنی کتاب کی فہم اور سمجھ سے روک دوں گا۔ اور حضرت سفیان بن عیینہ نے بھی یہی کہا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 544 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : میں اس کے سبب انہیں ایمان سے پھیر دوں گا۔ بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میں انہیں آیات کے نفع سے پھیر دوں گا۔ اور یہ ان کے تکبر اور غرور کی جزا ( اور بدلہ) ہے۔ اس کی نظیر یہ ارشاد ہے : آیت : فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھیم ( الصف : 5) (پس جب انہوں نے کجروی اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا) اس معنی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے روایت کیا کہ سدی (رح) نے لفظ آیت ” ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون “ کے بارے میں فرمایا کہ میں عنقریب ان لوگوں کو پھیر دوں گا اپنی آیات میں غوروفکر کرنے سے جو غرور کرتے پھرتے ہیں۔
(2) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ساصرف عن ایتی “ یعنی میں ان کی توجہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور ان نشانیوں میں جو ان میں ہیں عنقریب پھیردوں گا کہ وہ ان میں غور و فکر کریں اور اس میں عبرت حاصل کریں۔
(3) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر…
Read the full tafseer →[ سَاَصْرِفُ : میں پھیر دوں گا ] [ عَنْ اٰيٰتِيَ : اپنی نشانیوں سے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جو ] [ يَتَكَبَّرُوْنَ : بڑے بنتے ہیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ : حق کے بغیر ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّرَوْا : وہ لوگ دیکھیں ] [ كُلَّ اٰيَةٍ : ساری نشانیاں ] [ لَّا يُؤْمِنُوْا : تو (بھی ) ایمان نہیں لائیں گے ] [ بِهَا ۚ : ان پر ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّرَوْا : وہ دیکھیں ] [ سَبِيْلَ الرُّشْدِ : ہدایت کے راستے کو ] [ لَا يَتَّخِذُوْهُ : تو نہیں پکڑیں گے اس کو ] [ سَبِيْلًا ۚ : بطور راستے کے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ يَّرَوْا : وہ دیکھیں ] [ سَبِيْلَ الْغَيِّ : گمراہی…
Read the full tafseer →جب توریت شریف تختیوں پر لکھی ہوئی یکجا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مل گئی تو آپ ان تختیوں کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائے۔ قوم کا مزاج عجیب تھا۔ اطاعت اور فرمانبر داری سے دور تھے اس لیے (سَاُورِیْکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ) کے بعد مزید یوں فرمایا کہ (سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) (کہ میں اپنی آیات سے ایسے لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو دنیا میں شرعی احکام پر عمل کرنے سے تکبر کرتے ہیں اور ان کا یہ تکبر ناحق ہے) ۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیات سے برگشتہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جائے گی وہ آیات میں تفکر نہ کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
تفسیر
ذکر مکالمہ خداوندی با موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) وعطاء تورات
قال اللہ تعالیٰ وواعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھل یجزون الا ما کانو یعملون
(ربط) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرے گا اور تمہیں ان کا جانشین اور ان کے ملک کا وارث بنائے گا اور اس وقت میں تم کو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب ہدایت مآب لا کر دونگا جو تمہارے لیے دستور العمل ہوگی چناچہ جب فرعون ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل کو اس کے پنجۂ ظلم سے نجات ملی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کتاب کی درخواست کی۔ حکم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر آکر اعتکاف کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
138: یہاں بنی اسرائیل کو عناد و استکبار کے انجام بد سے ڈرایا۔ یعنی جو لوگ تکبر و غرور کرتے ہیں۔ میری آیتوں کا ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں میں ان کے دلوں کو پھیر دوں گا اور ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دوں گا۔ ان کے دل حق سے بیزار اور باطل کی طرف مائل ہوجائیں گے یہاں تک کہ اگر وہ تمام معجزے بھی دیکھ لیں تو بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ہدایت کی راہ سے دور بھاگیں گے اور گمراہی کی طرف دوڑ کر جائیں گے۔
139:“ بِاَنَّھُمْ ” میں باء سببیہ ہے۔ یعنی ان کے ساتھ یہ معاملہ اس لیے کیا گیا کہ انہوں نے اللہ کی توحید کے دلائل کو محض ضد وعناد کی وجہ سے جھٹلایا۔ “ بسبب انھم کذبوا بایات اللہ الدالة علی التوحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
ربط آیات
اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے اور وہاں پر چالیس راتوں کا اعتکاف کیا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرف تکلم بخشا اور آپ کو کتاب تورات عطا فرمائی درمیان میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اشتیاق کا ذکر ہوا جب آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اللہ نے فرمایا اس مادی جہان میں میری رویت ممکن نہیں نیز فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ لوگوں میں ممتاز فرمایا ہے لہٰذا جو چیز میں عطا کروں اس کو لے لو اور میرا شکریہ ادا کرو جس چیز کا موقع اور محل نہیں ہے اس کے متعلق سوال نہ کرو اب آج کے درس میں اللہ جل شانہ نے…
Read the full tafseer →سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰــتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ 0 ۭ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَۃٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِہَا 0 ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْہُ سَبِيْلًا 0 ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْہُ سَبِيْلًا 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِيْنَ 146
صرف
الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152]
( ص ر) الصرف
کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
ترکیب : الذین یتکبرون الخ مفعول ہے اصرف کا وان یرو شرط لایؤمنوا بہا جواب ذلک مبتداء بانہم جملہ ثابت کے متعلق ہو کر خبر ‘ والذین مبتداء کذبوا فعل ضمیر فاعل راجع الذین کی طرف بایاتنا مفعول کذبوا معطوف علیہ ولقاء الآخرۃ اس پر معطوف تمام جملہ صلہ الذین حبطت خبر اور ممکن ہے کہ ہل الخ ہو۔
تفسیر : پہلے تھا کہ میں تمہیں تورات دیتا ہوں جس میں ہر قسم کی نصیحت اور سب شریعت ہے۔ اس کو خوب مضبوط ہو کرلو اور میں ابھی تمہیں بدکاروں کے ملک میں لے جاتا ہوں یعنی شام اور اس کے اطراف مواب وغیرہ میں جہاں حتی اور اموری اور عمالیق بت پرست بدکار لوگ بستے ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو دیکھ کر تمہارا بھی رنگ بگڑ جائے۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ط وَاِنْ یَّرْوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِھَا ج وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا ج وَ اِنْ یَّروْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُِْا بِاٰیٰتِنََا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ ط ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 146، 147)
” میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں وہ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ تورات کو اچھی طرح پکڑے رکھیں مگر انھوں نے اس حکم کی پرواہ نہ کی جس کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انسان کی دنیا وآخرت کی بہتری کے لیے بڑے ہی مؤثر اور دل نشین انداز میں ہدایات فرمائی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جو شخص یا قوم اللہ تعالیٰ کی نصیحت اور اس کی خیر خواہانہ رہنمائی کو اپنی رعونت اور تکبر سے ٹھکرا دیتا ہے۔ اس کی دنیا میں یہ سزا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہدایت کو دور کردیتا ہے ایسے شخص یا قوم کے پاس کوئی بھی نشانی اور معجزہ آئے تو وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اگر انھیں ہدایت کے راستہ کی طرف بلایا جائے تو وہ…
Read the full tafseer →متکبر حکمت سے محروم رہتا ہے :
آیت 146: سَاَ صْرِفُ عَنْ ٰایٰتِیَ (اور ایسے لوگوں کو میں اپنی آیات سے برگشتہ ہی رکھوں گا) ان کے سمجھنے سے ذوالنون مصری (رح) نے فرمایا اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے کہ باطل پسند بےکار لوگوں کو قرآن مجید کی خفیہ حکمتوں سے نوازے۔ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ (جو لوگ تکبر کرتے ہیں) جو مخلوق پر ظلم کرتے اور قبول حق سے نفرت کرتے ہیں تکبر کی اصل حقیقت اس بڑائی کی بتکلف کوشش کرنا جو باری تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ (زمین میں ناحق) یہ یتکبرون سے حال ہے ای یتکبرون غیر محقین کیونکہ تکبر تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ ٰایَۃٍ لَّا…
Read the full tafseer →تفسیر 146(ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرتے ہیں اور اس کے اولیاء سے جنگ کرتے ہیں کہ وہ مجھ پر ایمان نہ لاسکیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی حق سے عناد ہے اس لئے ان کو ہدایت سے محروم رکھوں گا اور قرآنی آیت کو قبول کرنے اور ان پر ایمان لانے سے پھیر دوں گا۔ دوسری آیت میں بھی اسی طرح کا مضمون آیا ہے۔ فرمایا فلما زاغوا زاغ اللہ قلوبھم سفیان ساصرف کی تشریح اس طرح کی کہ میں قرآن کو سمجھنے اور اس کے عجائبات کو جاننے سے روک دوں گا۔ ابن جریح فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین کی پیدائش اور اس میں جو کچھ ہے اس میں غور و فکر و تدبر…
Read the full tafseer →اللہ پاک نے اس آیت میں ذکر کیا کہ جو لوگ ایسی بات پر اڑے ہوئے ہیں جو حق نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ناحق دین پر غش میں ہیں ان کے دل کو ہم اپنی نشانیوں کے سمجھنے سے پھیر دیں گے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے یہاں تک کہ اگر ہزارہا نشانیاں اور معجزے بھی وہ دیکھیں گے تو ان کو اختیار نہیں کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھ پاویں گے تو جھٹ اس کو اختیار کرلیں گے پھر فرمایا کہ ان کا گمراہ رہنا اور ہدایت کا نہ اختیار کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے بالکل غافل ہیں مفسروں کے اس آیت کی تفسیر میں کئی قول ہیں بعضوں کا قول یہ ہے کہ آیات سے مراد قرآن پاک ہے گویا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
متکبہ لو گ حق سے محروم ہیں
قول باری ہے ساصرف عن ایاتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق۔ میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیردوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں پڑے بنتے ہیں) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ میرے عزوشرف کی وہ نشانیاں جو دلالت کے ذریعے معلوم کی جاتی ہیں اور ان کا علم دنیا اور آخرت دونوں میں ترقی درجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہیں میری آیات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے سے روک دیا جائے گا یعنی یہ لوگ ان آیات کو جھٹلا نہیں سکیں گے اور نہ ہی لوگوں کے سامنے انہیں ظاہر ہونے سے روک سکیں گے۔ آیت کا یہ مفہوم لینا درست نہیں کہ میں انہیں ان آیات پر ایمان لانے سے روک…
Read the full tafseer →192 کبر و غرور باعث خسران و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں پھیر دوں گا اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو ناحق طور پر تکبر کرتے ہیں اللہ کی زمین میں۔ پس تکبر و استکبار سبب حرمان اور باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اللہ پاک کے حضور عجز و انکسار، رفعت شان کا ذریعہ و وسیلہ ہے جیسا کہ ارشاد نبوی میں فرمایا گیا ہے " مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ " کہ عظمت وکبریائی اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کی شان ہے۔ بندہ کی عظمت اپنی عبدیت و بندگی میں کمال پیدا کرنا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ کی زمین پر رہنے بسنے کے باوجود اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 تا 147 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ جب فرعون سے امن نصیب ہوا تو اب ضرورت پیش آئی کہ اگر بت پرستی درست نہیں تو کوئی طریق عبادت اور شریعت تو ہونا چاہئے جسے اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ طور پر آ کر تیس راتوں کا اعتکاف کریں تاکہ آپ کو کتاب عطا ہو اور پھر دس راتیں مزید بڑھا دی گئیں یعنی مطلوبہ نسبت یا توجہ الی اللہ تیس کی بجائے چالیس راتوں میں نصیب ہوئی غرض ایک حالت مطلوب تھی جو اللہ کریم چاہتے تو بغیر کسی مجاہدے کے بھی عطا فرما سکتے تھے مگر دنیا عالم اسباب ہے لہذا سبب اختیار کرنے کا حکم دیا۔
خلوت کا اثر :
جہاں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی انہیں یہ سزا دوں گا کہ وہ میری عظمت شریعت اور احکام کو سمجھ نہ سکیں گے اور پھر جاہل سے رہنے کی وجہ سے دنیا آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے نیز۔ دیکھئے، ( سورة الانعام آیت 110) اسی لیے بعض سلف کا قول ہے کہ متکبر شخص علم حاصل نہیں کرسکتا اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے ایک ساعت کی ذلت گوارا نہیں کرسکتا وہ جاہل رہ کر ہمیشہ کی ذلت مول لیتا ہے۔ ( ابن کثیر) یعنی یہ سب اس کے اپنے کئے سزا ہوگی جیسا کہ دوسری آیت فرمایا ی فلما زاوغوا اذاغ اللہ قلو بھم، جب وہ خود ٹیڑہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ٹیڑھا کردیا۔ (صف آیت 5) معلوم ہوا کہ ہدایت و ضلالت اور اسی طرح جنت و دوزخ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →(7:146) ساصرف۔ میں عنقریب پھیردوں گا۔ فعل بافاعل۔ الذین یتکبرون مفعول فی الارض بغیر الحق۔ الذین یتکبرون سے حال۔ عن ایاتی۔ متعلق فعل ۔ جو لوگ زمین پر بغیر حق کے تکبر و نخوت سے کام لیتے ہیں عنقریب میں ان کو (اس پاداش میں) اپنی آیات (کی پیروی) سے پھیردوں گا۔
اور تصریف کیا ہوگی ؟ اس کا بیان وان یروا کل ایۃ ۔۔ سبیل الغی یتخذوہ سبیلا۔ میں کیا گیا ہے کہ اگر وہ تمام معجزات و حقائق کو دیکھ بھی لیں تو بھی ایمان نہ لاویں۔ اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھ بھی لیں تو اختیار نہ کریں۔ (اس کے برعکس) اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو جھٹ اپنا لیں (وائے محرومی)
ذلک۔ اشارۃ ہے تصریف کی طرف ۔ یعنی یہ تصریف اس لئے ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
تشریح :ـآیات نمبر ا 45 تا 147
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مختلف موقعوں پر پس پردہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ہے اگر چہ وہ اللہ کا دیدار تو حاصل نہ کرسکے لیکن ان کو اللہ سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے۔
پہلی گفتگو تو وہ ہے جو سورة الاعراف کی آیت نبمر 143 سے ظاہر ہے ۔ اللہ سے کلام کا سلسلہ جاری رہا اور چالیس دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پتھر کی سلوں پر لکھی ہوئی توریت عطا کی۔ اس میں جو ہدایات دی گئی تھیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔
1) حکم پر محض عمل کرنا کافی نہیں ہے اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ ہے حسن عمل یعنی کسی کا حکم…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا کہ جو لوگ اپنے لوگ اپنے ناحق دین پر خوش ہیں ان کے دلوں کو ہم اپنی نشانیوں کے سمجھنے سے پھیر دیں گے اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں گے۔ یہاں تک کہ اگر ہزار ہا نشانیاں اور معجزے بھی وہ دیکھیں گے تو ان کو اختیار نہ کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھ پائیں گے تو جھٹ اس کو اختیار کرلیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان کا گمراہ رہنا اور ہدایت کو نہ اختیار کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے بالکل غافل ہیں۔
Read the full tafseer →[55] قرآن کا یہ عام اسلوب بیان ہے کہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قوانین سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں انہیں براہ راست اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ مثلاً اللہ کا ایک قانون یہ ہے کہ جو لوگ سمجھ بوجھ سے کام لینے کی جگہ اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں اور اس پر اڑے رہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی عقلیں ماری جاتی ہیں اور سمجھ الٹی ہوجاتی ہے۔ قرآن اس حالت کو یوں تعبیر کرے گا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی پس وہ سمجھتے نہیں۔ یعنی یہ صورت حال اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قانون کا قدرتی نتیجہ ہے۔ یہاں جو فرمایا کہ جو لوگ اکڑتے ہیں ہم ان کو اپنی نشانیوں سے پھیر دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر سرکشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
(ف 1) توریت میں بنی اسرائیل کی زندگی کے لئے پورا پروگرام درج تھا ہر بات کی تفصیل تھی قرآن کی اصطلاح میں توریت کے معنی صرف اس کتاب کے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی وہ صحائف جو عہد نامہ قدیم کے نام سے مشہور ہیں توریت نہیں البتہ ان میں توریت کے نصائح اور تعلیمات مذکور ہیں ۔
حل لغات :
الالواح : جمع لوح ، بمعنے تختی ، یہ الواح پتھر کے تھے اس وقت خط مسماری رائج تھا ، اس لئے کتابوں کے لئے پتھر تجویز کئے جاتے ، تاکہ اس پر حروف کندہ کئے جائیں ،
Read the full tafseer →146 میں عنقریب ایسے لوگوں کو اپنی آیات سے برگشتہ رکھوں گا اور اپنی آیات کو سمجھنے کی توفیق نہ دوں گا جو بلاوجہ زمین میں متکبرانہ برتائو کرتے ہیں اور ایسا ناحق تکبر کرتے پھرتے ہیں جس تکبر اور بڑائی کا ان کو حق نہیں ہے اس تکبر اور اس کی پاداش میں برگشتہ کرنے کا ان پر یہ اثر ہوگا اور ان کی یہ حالت ہوجائے گی کہ اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ صاف اور واضح طور پر دیکھ لیں تب بھی اس راہ کو اختیار نہ کریں اور اس سیدھی راہ کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اس پر چلنے کو آمادہ نہ ہوں اور اگر گمراہی اور کج روہی کا کوئی راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
ف 2۔ کیونکہ اپنے کو بڑا سمجھنا حق اس کا ہے جو واقع میں بڑا ہو اور وہ ایک خدا کی ذات ہے۔
3۔ یعنی حق کے قبول نہ کرنے سے پھر دل سخت ہوجاتا ہے اور برگشتگی اس حدتک پہنچ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →قانون الٰہی یہ ہے کہ سر کشوں کو آیات الٰہی کبھی نظر نہیں آتیں :
157: فرمایا جو لوگ سر کشی کریں گے میں ان کی نگاہیں اپنی نشانیوں سے پھیر دوں گا یعنی جو کوئی جان بوجھ کر سر کشی کرے تو اللہ کا قانون یہی ہے کہ وہ دلیلوں اور روشنیوں سے متاثر ہونے کی استعداد کھو دیتا ہے ۔ یہ برسر موقع ایک جامع تنبیہ و تذکیر ہے کہ کون لوگ ان کی تعلیمات کی قدر کریں گے ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون ان سے منہ موڑ دیں گے اور اس کے نتیجہ میں آخرت کی محرومی سے دوچار ہوں گے ۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ بیان فرما دیا کہ جو لوگ غرور وتکبر کی روش اختیار کرتے ہیں اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مست رہتے ہیں اور انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
Commentary
The verse 146 spoke of the arrogant people as showing arrogance unjustly. The word without truth or unjustly indicates that assuming arrogance in response to the arrogant people is a justified act, since it is the act of arrogance in appearance, and not in reality. It is a known dictum: اَلتَّکَبُّرُ مَعَ المُتَّکبِّرِینَ تواضُعُ "Showing arrogance to the arrogant is an act of humbleness". (Masail as-Suluk).
The effects of Arrogance
By saying, "I shall keep away from My verses those who show arrogance," the verse implies that the people who have an offensive sense of superiority…
Read the full tafseer →104. It is God's law that evil-doers do not and cannot take any lesson from the otherwise instructive events which they observe. The arrogance mentioned here refers to man's delusion that he is on a higher plane than God's creatures and servants. It is this which prompts him to disregard God's command and to adopt an attitude which suggests that he neither considers himself God's servant, nor God his Lord. Such egotism has no basis in fact; it is sheer vanity. For as long as man live on God's earth, what can justify his living as a servant of anyone other than the Lord of the universe? It is…
Read the full tafseer →