Al-A'raaf 7:144

Al-A'raaf · from ayah 144

7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤی اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَبِكَلَامِیْ ۖؗ— فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ ۟قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنِّى اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِىۡ وَ بِكَلَامِىۡ ‌ۖ فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ

(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "O Moses, I have chosen you over the people with My messages and My words [to you]. So take what I have given you and be among the grateful."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 17 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:144

فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرمایا : اے موسیٰ ! میں نے اپنے پیغام دے کر اور تمام سے ہم کلام ہو کر تمہیں تمام انسانوں پر فوقیت دی ہے۔ لہذا میں نے جو کچھ تمہیں دیا ہے، اسے لے لو، اور ایک شکر گزار شخص بن جاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد ہوا: اے موسٰی! بیشک میں نے تمہیں لوگوں پر اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ذریعے برگزیدہ و منتخب فرما لیا۔ سو میں نے تمہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اسے تھام لو اور شکر گزاروں میں سے ہوجاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا اے موسیٰ ! بیشک میں نے تجھے اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر چن لیا ہے، پس لے لے جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اور شکر کرنے والوں میں سے ہوجا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : موسیٰ ! میں نے تجھے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے تمام لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے تجھے منتخب کرلیا ہے جو کچھ میں تجھے دوں اس پر عمل پیرا ہو اور میرا شکرگزار بن جا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا اے موسیٰ میں نے تم کو لوگوں پر اپنے پیغام اور اپنے کلام سے سرفراز کیا تو میں نے جو کچھ تم کو دیا اس کو لو اور شگر گزاروں میں سے بنو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(موسی کے رب نے) فرمایا، اے موسیٰ بیشک میں نے چن لیا ہے تم کو، دوسرے لوگوں کے مقابلے میں، اپنی پیغمبری اور ہم کلامی کے ذریعے، پس تم لے لو جو کچھ کہ میں تم کو عطا کروں، اور ہوجاؤ تم شکر کرنے والوں میں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا اے موسیٰ ؑ میں نے تمہیں انسانوں پر اپنی پیامبری اور اپنے کلام کے ذریعہ سے ممتاز کیا۔ سو اب لو جو کچھ میں نے تم کو عطا کیا ہے اور شکر گزاروں میں سے رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اللہ نے) فرمایا : اے موسیٰ ؑ میں نے تمہیں منتخب کیا ہے لوگوں پر (ترجیح دے کر) اپنی پیغمبری اور اپنی ہم کلامی کے لیے تو لے لو جو میں تمہیں دے رہا ہوں اور ہوجاؤ شکر کرنے والوں میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اللہ نے) فرمایا : موسیٰ ! میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں میں ممتاز کیا ہے تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور میرا شکر بجالاؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: 'O Moses! I have indeed preferred you to all others by virtue of the Message I have entrusted to you and by virtue of My speaking to you. Hold fast therefore, to whatever I have granted you, and give thanks.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Musa, I have chosen you above all men for my messages and for My speaking (to you). So, take what I have given to you, and be among the grateful.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Musa, I have chosen you above all men for my messages and for My speaking (to you). So, take what I have given to you, and be among the grateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) said: "O Musa I have chosen you above men by My Messages, and by My speaking (to you). So hold that which I have given you and be of the grateful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: O Moses! I have preferred thee above mankind by My messages and by My speaking (unto thee). So hold that which I have given thee, and be among the thankful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "O Moses, I have chosen you over the people with My messages and My words [to you]. So take what I have given you and be among the grateful."

— Saheeh International

The Lord said to Moses, "I have given you distinction above the people by speaking to you and giving you My Message. Receive what I have given to you and give Us thanks."

— Muhammad Sarwar

He said: O Musa! surely I have chosen you above the people with My messages and with My words, therefore take hold of what I give to you and be of the grateful ones.

— Muhammad Habib Shakir

He said: O Musa! verily I have chosen thee above mankind by My messages and by My speaking; so hold fast thou that which I have given thee, and be of the thankful.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) said: "O Moses! I have chosen thee above (other) men, by the mission I (have given thee) and the words I (have spoken to thee): take then the (revelation) which I give thee, and be of those who give thanks."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:144

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 144–145

انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ حضرت موسیٰ ؑ کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے حضرت محمد ﷺ تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابراہیم ؑ ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 143–145

سورة الْاَعْرَاف 101 بائیبل میں تصریح ہے کہ یہ دونوں تختیاں پتھر کی سلیں تھیں، اور ان تختیوں پر لکھنے کا فعل بائیبل اور قرآن دونوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے ہم اس بات کا تعیُّن کرسکیں کہ آیا ان تختیوں پر کتابت کا کام اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی قدرت سے کیا تھا، یا کسی فرشتے سے یہ خدمت لی تھی، یا خود حضرت موسیٰ کا ہاتھ استعمال فرمایا تھا۔ (تقابل کے لیے ملاحضہ ہو بائیبل، کتاب خروج، باب 31، آیت 18۔ باب 32، آیت 15، 16 و استثناء باب 5 آیت 6۔ 22) سورة الْاَعْرَاف 102 یعنی احکام الہٰی کا وہ صاف اور سیدھا مفہوم لیں جو عقل عام سے ہر وہ شخص سمجھ لے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ کا کلام اتنی بات تو قرآن کے واضح الفاظ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، پھر اس کلام میں بھی ایک تو وہ ہے جو اول عطاء نبوت کے وقت ہوا تھا، دوسرا کلام یہ ہے جو عطاء تورات کے وقت ہوا اور جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ آیت کے الفاظ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دوسرے کلام کو بہ نسبت پہلے کے کچھ مزید خصوصیت حاصل تھی، لیکن حقیقت اس کلام کی کیا اور کس طرح تھی اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتا، اس میں جتنے احتمالات عقلیہ ایسے ہوں جو شریعت کے کسی حکم کے خلاف نہ ہوں سب کی گنجائش ضرور ہے مگر ان احتمالات میں کسی ایک کو متعین کرنا بلادلیل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے پیغام اور اپنے کلام سے تم کو لوگوں پر جو برگزیدگی بخشی ہے تمہارے شرف کے لیے یہی بس ہے، میں نے جو تعلیم وہدایت تمہیں عطا فرمائی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑو اور برابر میرے شکر گزار رہو۔ یعنی اس کا حق ادا کرو۔ خود بھی دل و جان سے اس کی قدر کرو، دوسروں کو بھی یہ بتاؤ اور سکھاؤ۔ انداز کلام سے یہ بات بھی نہایت لطیف طریقہ سے نکلتی ہے کہ جو عطا ہوا ہے تمہارے لیے یہی بت ہے اس پر قناعت کرو میرے دیدار کی خواہش نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

144۔ 1 یہ ہم کلامی کا دوسرا موقع تھا جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو مشرف کیا گیا۔ اس سے قبل جب آگ لینے گئے تھے تو اللہ نے ہم کلامی سے نوازا تھا اور پیغمبری عطا فرمائی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 143–144

65: اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں تو ممکن نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بات کا مظاہرہ حضرت موسیٰ ؑ کو کرادیا کہ دنیا میں انسانوں کو تو کجا، پہاڑوں کو بھی یہ طاقت نہیں دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت موسیٰ نے دوسری بار رحمت الہیہ کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اب انہیں خوشخبری مل رہی ہے کہ وہ منتخب روزگار ہیں۔ آپ میرے کلام اور پیغام کے حامل ہیں۔ فرعون سے مطالبہ یہ تھا کہ میری قوم کو رہا کرو ، اب آپ نے اپنی قوم میں کام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتایا " میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا ہے کہ میری پیغمبری کرے " اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے زمانے کے سب لوگوں میں سے آپ کو رسول بنانے کے لیے منتخب کیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور بعد میں بھی۔ لہذا انتخاب اور اصطفاء سے مراد ہے ، قرائن کے مطابق اس دور کے لوگوں کے مقابلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی دیدار نہ ہوسکا نہ سہی، یہ شرف و امتیاز کیا تھوڑا ہے کہ ہم نے تجھ کو پیغمبر بنایا اور تورات عطا کی اور بالواسطہ کلام فرمایا۔ سو جس قدر بخشش ہماری طرف سے ہوئی، اسے پلے باندھو اور ان بندوں میں شامل رہو، جنہیں خدا نے " شاکرین " کے امتیازی لقب سے ملقب فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 144 قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَبِکَلاَمِیْ ز۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا امتیازی مقام تھا ‘ جیسے سورة النساء میں فرمایا : وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا ۔ فَخُذْ مَآ اٰتَیْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ یعنی یہ الواح جو ہم آپ علیہ السلام کو دے رہے ہیں انہیں لے لو اور ان میں جو احکام لکھے ہوئے ہیں ان کا حق ادا کرو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

139 یعنی اگر دیدار نہیں ہوسکا تو اور تھوڑی نعمتیں اور فضیلتیں تمہیں عطا کی ہیں تمہیں اپنا رسول بنایا اور براہ راست ہم کلامی کا شرف بخشا اور تمام جہان سے تمہیں منتخب کرلیا ہے لہذا اب میں جو شرعی احکام تمہیں دے رہا ہوں ان پر اچھی طرح عمل کرنا اور ان نعمتوں پر میرا شکر ادا کرتے رہنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

191 ۔ (سو تمہارے لیے یہ امتیازات خاصہ کچھ کم ہیں ؟ ) (آیت) ” برسلتی وبکلامی “۔ دونوں کے درمیان عطف مغایرت لاکرگویا ادھر بھی اشارہ کردیا کہ رسول اور کلیم دو مختلف منصبوں کے نام ہیں۔ اور ہر رسول کے لئے کلیم ہونا لازمی نہیں۔ 192 ۔ (بہ خلاف اپنی ناشکری قوم کے) (آیت) ” مااتیتک “۔ کے عموم میں رسالت ہم کلامی اور شریعت توریت سب آگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 143–144

ولما جاء۔۔۔۔۔ لمیقاتنا، جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے، اور وہاں اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست گفتگو فرمائی، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خدا کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا، اور اپنے اس شوق کا اظہار ربِّ اَرِنی کہہ کر کیا، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ لن ترانی، تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا، معتزلہ نے اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا لن، نفی کی تاکید کیلئے ہے یعنی دیدار سے ہمیشہ کی نفی مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے اور نہ آخرت میں۔ دیدار الہٰی کا مسئلہ : معتزلہ کا مذکورہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے جو متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ روز قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال یموسی انی اصطفیتک علی الناس برسلتی وبکلامی فخذ اما اتیتک وکن من الشکرین۔ اللہ نے فرمایا میں نے پیغمبری اور اپنی ہم کلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز کردیا ہے سو جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے اس کو لو اور شکر گزار بنو۔ اصطفیتک علی الناس یعنی تمہارے زمانہ کے لوگوں پر تم کو امتیاز عطا کیا اور برتری دی۔ بکلامی کلام سے مراد کلام کرنا۔ ما اتیتک یعنی جو پیغام میں نے تجھے دیا ہے اس کو لے۔ روایت میں آیا ہے کہ جب موسیٰ سے اللہ نے کلام کیا تو اس وقت آپ کے چہرہ پر ایسی چمک آگئی تھی کہ کوئی بھی آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا اور مرتے دم تک آپ کے چہرہ پر تابانی قائم رہی بیوی نے ایک بار آپ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(144) ارشاد ہوا اے موسیٰ ؑ تمہیں ہم کلامی کے شرف سے نواز کر میں نے تمہیں بنی اسرائیل پر امتیاز دیا ہے لہٰذا جو احکام میں تمہیں دوں اس پر عمل کرو اور اس ہم کلامی کے شرف پر اللہ کا شکر کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ : یعنی میں نے جو اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے لیے تمہیں چنا ہے یہی بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا جو چیز مل گئی اس پر قناعت کر اور کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کر جو تیری طاقت سے باہر ہے۔ اس سے مقصود موسیٰ ؑ کو تسلی دینا ہے کہ دیکھنے سے روک دینے پر دل گرفتہ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 144 قولہ تعالیٰ : آیت : قال یموسی انی اصطفیتک علی الناس برسٰلتی وبکلامی، الاصطفاء بعنی الاجتباء ہے۔ یعنی میں نے تجھے فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور پھر آیت میں علی الخلق ( مخلوق پر) نہیں فرمایا۔ کیونکہ اس اصطفاء اور سرفرازی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شر ہمکلامی عطا فرمایا اور تحقیق اس نے ملائکہ سے بھی کلام فرمایا ہے اور اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے جب کہ آپ کے علاوہ بھی اس نے رسول مبعوث فرمائے ہیں، پس علی الناس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت نافع اور ابن کثیر نے صیغہ مفرد کے ساتھ برسالتی پڑھا ہے (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 452 ) ۔ اور باقیوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 144–145

(1) امام ابو الشیخ نے ابن شودب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تجھ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں میں سے کیوں چنا ؟ موسیٰ نے عرض کیا نہیں اے میرے رب (میں نہیں جانتا) فرمایا کہ کسی نے میری ایسی عاجزی نہیں کی جیسے تو نے عاجزی کی۔ (2) امام ابن ابی شیبہ نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ عمل کروں تو تیرے لئے وہ شکر ہوجائے ان انعامات کا جو آپ نے مجھ پر فرمائے فرمایا اے موسیٰ کہہ لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیرا “ راوی نے کہا موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : (اللہ نے ) کہا ] [ يٰمُوْسٰٓي : اے موسیٰ ] [ اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ : میں نے ترجیح دی تجھ کو ] [ عَلَي النَّاسِ : لوگوں پر ] [ بِرِسٰلٰتِيْ : اپنے پیغام کے لیے ] [ وَبِكَلَامِيْ : اور اپنے کلام کے لیے ] [ ڮ فَخُذْ : پس تو پکڑ ] [ مَآ : اس کو جو ] [ اٰتَيْتُكَ : میں نے جو دیا تجھ کو ] [ وَكُنْ : اور تو ہوجا ] [ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ : شکر کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 144–145

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتیں گزر جانے کے بعد توریت شریف عطا فرمائی جو تختیوں میں لکھی ہوئی تھی اس میں احکام شرعیہ تفصیل سے لکھے ہوئے تھے اور ہر طرح کی نصیحتیں بھی تھیں۔ حلال و حرام کو واضح طریقہ پر بیان فرما دیا تھا۔ اور محاسن و مساوی (اچھے برے کاموں) کو تفصیل سے بتادیا تھا۔ اسی کو فرمایا (وَ کَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ ) کتاب عطا فرمانے کے ساتھ فَخُذْھَا بِقُوَّۃٍ بھی فرمایا کہ اسے قوت اور مضبوطی کے ساتھ لے لو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِھَا) اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 142–147

تفسیر ذکر مکالمہ خداوندی با موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) وعطاء تورات قال اللہ تعالیٰ وواعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھل یجزون الا ما کانو یعملون (ربط) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرے گا اور تمہیں ان کا جانشین اور ان کے ملک کا وارث بنائے گا اور اس وقت میں تم کو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب ہدایت مآب لا کر دونگا جو تمہارے لیے دستور العمل ہوگی چناچہ جب فرعون ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل کو اس کے پنجۂ ظلم سے نجات ملی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کتاب کی درخواست کی۔ حکم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر آکر اعتکاف کریں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

136: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آرزو چونکہ پوری نہ ہوسکی اس لیے ان کی دلجوئی اور تسلی کے لیے فرمایا اے موسیٰ تجھ پر میرے دوسرے انعامات کیا کم ہیں۔ میں نے تجھ کو اپنی نبوت و رسالت اور کلام و پیام کے لیے منتخب کر کے تیرے زمانے کے تمام لوگوں پر تجھ کو فضیلت دی جو انعام و اکرام میں تجھے دے چکا ہوں اسی پر قناعت کر۔ “ اي اقنع بما اعطیتک ” (قرطبی ج 7 ص 380) اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 142–144

رابط آیات جب فرعون اور اس کا لشکر بحیرہ قلزم میں غرق ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) واپس مصر میں نہیں آئے بلکہ آگے صحرائے سینا کی طرف چلے گئے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب انہوں نے بحیرہ قلزم کو عبور کیا تو ان کا گزر ایک بستی پر ہوا ج کے لوگ اپنے معبودان باطلہ پر جھکے وہئے تھے یعنی ان کی پرستش کر رہے تھے بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کو عبادت کا یہ ریقہ بھلا معلوم ہوا اور انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ان کے لیے بھی ایک معبود بنا دیاجائے جسے سامنے رکھ کر وہ عبادت کیا کریں آپ نے قوم کو ڈانٹا اور فرمایا ، تم بڑے جاہل ہوگ ہو جس خدا نے تمہیں فضیلت بخشی اور تم پر احسانات کیے کیا اسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ۝ 0 ۡ ۖ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ۝ 144 اصْطِفَاءُ : تناولُ صَفْوِ الشیءِ ، كما أنّ الاختیار : تناول خيره، والاجتباء : تناول جبایته . واصْطِفَاءُ اللهِ بعضَ عباده قد يكون بإيجاده تعالیٰ إيّاه صَافِياً عن الشّوب الموجود في غيره، وقد يكون باختیاره وبحکمه وإن لم يتعرّ ذلک من الأوّل، قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [ الحج/ 75] الاصطفا ء کے معنی صاف اور خالص چیز لے لینا کے ہیں جیسا کہ اختیار کے معنی بہتر چیز لے لینا آتے ہیں اور الا جتباء کے معنی جبایتہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–144

ترکیب : اربعین کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے ای تم بالغا ھذا العدد لیلۃ منصوب ہے تمیز ہونے کی وجہ سے لمیقاتنا لام بمعنی وقت قال رب الخ شرط یا جواب ہے لما جاء موسیٰ کا موعظۃ وتفصیلا مفعول کتبنا کا من کل شیء صفت ہے اس کی جو مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہے۔ تفسیر : فرعون کا قصہ مجملاً اسی جملہ میں تمام کردیا (ودقرنا ماکان یصنع فرعون وقومہ الخ) قلزم کو عبور کرکے عرب کے ریگستانی اور کو ہی بیابانوں قادسیہ وغیرہ میں آپڑے۔ یہاں اسرائیلیوں نے جو لوگوں کو بت پرستی کرتے دیکھا تو مصریوں کے صحبت یافتہ تو تھے ہی منہ میں پانی بھر آیا کہ حضرت ہمارے لئے بھی ایسے ہی معبود بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے لئے ہیں۔ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِیّ اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَبِکَلَامِیْ ز فَخُذْ مَآ اٰتَیْتُکَ وَ کُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 144) ” فرمایا : اے موسیٰ ! میں نے تم کو لوگوں پر اپنے پیغام اور اپنے کلام سے برگزیدہ کیا تو میں نے جو کچھ تم کو دیا اس کو لو اور شکر گزاروں میں سے بنو “۔ انسان کی رسائیِ فکر اور تقرب خدا وندی کی انتہا اس آیت کریمہ میں حقیقت تو اللہ جانتا ہے بظاہر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ 1 اللہ کی ذات سے انسان کے تقرب کی جو انتہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنی پیغامبری کے لیے چن لے اور اسے شرف ہم کلامی سے نوازدے اس سے زیادہ پیغمبر ہوتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 143–144

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور ذات اقدس کے دیدار کا مطالبہ۔ حسب وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس راتوں سے مراد تمام مفسرین نے دن اور راتیں مراد لی ہیں کیونکہ شریعت میں قمری مہینوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ جس کی ابتداء چاند کے نمودار ہونے سے ہوتی ہے اس لیے شریعت کی تمام عبادات کا حساب طلوع چاند سے لگایا جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی غرض سے کوہ طور پر پہنچے اور انھوں نے چالیس راتیں مکمل کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی ہم کلامی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مشرّفِ ہم کلامی اور تورات کی الواح : 144: قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ (ارشاد فرمایا میں نے اے موسیٰ تجھے لوگوں پر امتیاز دیا) میں نے تجھے اہل زمانہ میں سے منتخب کیا۔ بِرِسٰلٰتِیْ (اپنی پیغمبری سے) وہ تورات کے اسفار ہیں۔ قراءت : حجازی نے برسالتی پڑھا ہے۔ وَبِکَلَامِیْ (اور اپنی ہم کلامی سے) خاص تجھ سے کلام کر کے فَخُذْ مَآ ٰاتَیْتُکَ (پس جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے اس کو لو) جو میں نے تجھے شرف نبوت اور حکمت عنایت فرمائی وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ (اور شکر کرو) اس نعمت پر پس یہ عظیم نعمتوں میں سے ہے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) عرفہ کے دن بےہوش ہو کر گرے اور دس ذی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 144(قال یموسی انی اصطفینک علی الناس) یعنی میں نے آپ کو اختیار کیا۔ ابن کثیر اور ابو عمرو رحمہما اللہ نے ” انی “ کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ” اخی اشد ”‘ کو اپنے پیغام بھیجنے کا ) اہل حجاز نے ” برسالائی “ مفرد اور باقی نے جمع پڑھا ہے (وبکلامی فخذما اتینک وکن من الشکرین) اللہ کا اس کی نعمتوں پر۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تو دیگر رسول بھی بنائے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ” اصطفیتک علیالناس برسالائی “ کا کہنے کا کیا مطلب ہوا ؟ تو جواب یہ ہے کہ رسالت تمام لوگوں کے حق میں عام نہیں ہے تو تمام لوگوں میں سے چند حضرات کو امتیاز دیا ہے یہ ایسے ہے جیسے کوئی کسی کو کہے میں نے اس بات کے مشورہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

پھر اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ میں نے موجودہ زمانہ میں سارے لوگوں میں تمہیں منتخب کر کے رسول بنایا اور توریت تمہیں دی اور تم سے میں نے کلام کیا تم اس بات کا شکریہ ادا کرو اور اس بات کا خیال نہ کرو کہ میں نے تمہیں اپنے دیدار سے منع کیا اور اپنے دیکھنے سے تمہیں باز رکھا کیونکہ بجائے دیدار کے میں نے یہ نعمتیں تمہیں دیں تم ان کو لے کر خوش ہوجاؤ گویا اس کلام سے موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی بعض مفسروں نے یہاں یہ بات بیان کی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ پاک کی تجلی کا اتنا اثر ہوا کہ ان کا چہرہ ایسا منور ہوگیا تھا کہ کوئی شخص ان کے چہرہ کی طرف دیکھنے کی تاب نہیں لاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 143–145

التجائے موسیٰ قول باری ہے قال رب ارنی انظر الیک۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے التجا کی کہ ” اے میرے رب ! مجھے یا رائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روایت باری کی اس وجہ سے التجا کی تھی کہ اپنی قوم کے اس مطالبہ کا انہیں جواب دے سکیں کہ ” ہم تمہاری بات پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں “۔ اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے اتھلکنا بما فعل الشفھاء منا۔ کیا آپ اس قصور میں ہم سب کو ہلاک کردیں گے جس کا ارتکاب ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس رویت کی التجا کی تھی جو علم ضرورت کہلاتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 143–145

183 حضرت موسیٰ کی اپنے رب سے دیدار کی درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو اس موقع پر موسیٰ نے یہ درخواست پیش کردی۔ سو کوہ طور پر اپنے رب سے ہم کلامی کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد حضرت موسیٰ کے دل میں اپنے رب کی دید و زیارت کا بھی شوق پیدا ہوا۔ لذت تکلم ربّانی سے مخمور و سرشار اور فرط شوق و محبت سے متاثر و مغلوب ہو کر۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب اور اپنے خالق ومالک کی دید و زیارت سے بڑھ کر محبوب چیز اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے بڑھ کر اس کا اشتیاق اور کس کو ہوسکتا ہے ؟ اس لئے آنجناب نے بےساختہ اپنی یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–147

رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 تا 147 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ جب فرعون سے امن نصیب ہوا تو اب ضرورت پیش آئی کہ اگر بت پرستی درست نہیں تو کوئی طریق عبادت اور شریعت تو ہونا چاہئے جسے اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ طور پر آ کر تیس راتوں کا اعتکاف کریں تاکہ آپ کو کتاب عطا ہو اور پھر دس راتیں مزید بڑھا دی گئیں یعنی مطلوبہ نسبت یا توجہ الی اللہ تیس کی بجائے چالیس راتوں میں نصیب ہوئی غرض ایک حالت مطلوب تھی جو اللہ کریم چاہتے تو بغیر کسی مجاہدے کے بھی عطا فرما سکتے تھے مگر دنیا عالم اسباب ہے لہذا سبب اختیار کرنے کا حکم دیا۔ خلوت کا اثر : جہاں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی جو چیز مل گئی اس پر قناعت کر اور کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کر تیری طاقت سے باہر ہے۔ اس سے مقصود موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو تسلی دینا ہے کہ رؤیت سے روک پر گرفتہ خاطر نہ ہوں (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 144–145

(7:144) اصطفیتک۔ میں نے تجھ کو امتیاز دیا۔ میں نے تجھ کو برگزیدہ کردیا۔ میں نے تجھ کو سرفراز کیا۔ اصطفاء (افتعال) صفو مادہ۔ الصفاء کے اصل معنی کسی چیز کا ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور صاف ہونا کے ہیں۔ الاصطفاء کے معنی پاک اور صاف چیز کا لے لینا۔ جیسے الاجتباء کے معنی عمدہ چیز کا منتخب کرلینا اسی سے ہے المصطفیٰ اور المجتبیٰ ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 142–144

تشریح آیات نمبر 142 تا 144 فرعون اپنے تمام لاء لشکر کے ساتھ غرق ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری قوتیں بنی اسرائیل کو دے کر ان پر جانشینی اور خلافت کی ذمہ داریاں ڈال دی تھیں ۔ اگر ذمہ داریاں ڈال دی جائیں تو اور ذمہ داریوں کی وضاحت نہ کی جائے تو انسان کس طرح اپنی ذمہ داریون کو پورا کرسکتا ہے اس لئے اب بنی اسرائیل کے لئے ایک کتاب اور مستقل شریعت کی ضرورت تھی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلوایا۔ کوہ طور ایک پہاڑ کا نام نہیں بلکہ یہ متعدد پہاڑ ہیں ۔ کوہ سینا کی چوٹی کا نام طور ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ میں نے موجودہ زمانے میں سارے لوگوں میں تمہیں منتخب کرکے رسول بنایا اور توریت تمہیں دی اور تم سے میں نے کلام کیا تم اس بات کا شکریہ ادا کرو اس بات کا خیال نہ کرو کہ میں نے تمہیں اپنے دیدار سے منع کیا اور اپنے دیکھنے سے تمہیں باز رکھا۔ کیونکہ بجائے دیدار کے میں نے یہ نعمتیں تمہیں دیں تم ان کو لے کر خوش ہوجاؤ ''۔ گویا اس کلام سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 144–145

[52] یعنی مسائل و احکام دین کے متعلق ضروری تفصیل۔ [53] بہتر باتیں یعنی جو کرنے کے احکام ہیں۔ ان کے خلاف بری باتیں ہیں جن کے نہ کرنے کا حکم ہے۔ [54] یعنی تم اپنے دشمنوں کے ملک میں داخل ہوگے اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 143–145

دیدار یار : (ف 2) اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مکالمہ کے شرف سے نوازا ، یہاں دل میں یہ خیال چٹکیاں لے رہا تھا ، کہ گفتگو کافی نہیں ، دیدار چاہئے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” لن ترانی “ کہ یہ آنکھیں کیونکر تجلیات کو جذب کرسکتی ہیں ، مگر وہاں اصرار وشوق کی فراوانی تھی نقاب کے کچھ حصے سرکے ، اور موسیٰ (علیہ السلام) غش کھا کر گر پڑے ، آنکھوں میں تاب و تواں کہاں کہ برداشت کرسکیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ اس ذوالجلال کو دیکھنا ناممکن ہے اور اس نوع کا مطالبہ اس کے حسن و جلال کی توہین ہے فورا ” تبت “ کی صدائے ندامت فضاء میں گونجی اور دلائل وبراہین کی آیتوں پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

144 اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تجھ کو اپنی پیغامبری اور اپنی ہم کلامی سے عام لوگوں پر شرف و امتیاز بخشا ہے لہٰذا جو کچھ میں نے تجھ کو دیا ہے اس کو حاصل کر اور اس کو لے اور شکر ادا کرتا رہ اور ان لوگوں میں شامل رہ جن کا شیوہ شکر گزاری ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 143–144

ف 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا مگر یہ کہ اس کی حقیقت کیا تھی اللہ ہی کو معلوم ہے جن احتمالات عقلیہ کی شریعت نفی نہ کرے ان سب کے قائل ہونے کی گنجائش ہے لیکن بلادلیل عدم یقین اسلم ہے۔ 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست دیدار کی کرنا دنیا میں اس کے امکان عقلی پر اور اللہ تعالیٰ کا جواب اس کے امتناع شرعی پر دلیل ہے اور یہی مذہب ہے اہل سنت والجماعت کا۔ 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بےہوشی ان پر تجلی فرمانے سے نہ تھی کیونکہ ظاہر للجبل کے خلاف ہے بلکہ پہاڑ کی یہ حالت دیکھ کر نیز محل تجلی کے ساتھ ایک گونہ تلبس وتعلق ہونے سے یہ بےہوشی ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ رسول (علیہ السلام) بھی تھے اور کلیم بھی : 155: مطب یہ کہ میں نے اپنا پیغام ہدایت پہنچانے کے لئے آپ کے ہم عصروں میں سے آپ کو چن لیا ہے اور آپ کو بلا واسطہ کلام کرنے کی عزت سے ممتاز کیا ہے اور وہی عزت وشرف بخشا ہے جو اپنے دوسرے رسولوں کو بخشتا ہوں ۔ آپ کو جو نعمت دی جارہی ہے اس بصد شوق و مسرت قبول کرو اور اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور برابر میرے شکر گزار رہو یعنی اس نعمت کا صحیح صحیح حق ادا کرو خود بھی دل وجان سے اس کی قدر کرو اور دوسروں کو بھی یہ بتائو اور سکھائو اور اپنا فرض منصبی ادا کرو اور ان باتوں کے متعلق سوال نہ کرو جو آپ کی طاقت سے باہر ہیں اور کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Speech of Allah: The fact that Allah spoke directly to the Prophet Musa (علیہ السلام) is confirmed by the Qur'an in clear terms. The first time Allah spoke with the Prophet Musa (علیہ السلام) was when he was entrusted with Prophethood. This is the second time at the occasion of giving him the Torah that He spoke to him. The wording of the present verse indicates that this later discourse of Allah had some additional characteristics as compared to the first speech of Allah. As to the question what was the nature and character of this discourse, cannot be ascertained by anyone but Allah.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 143–145

101. The Bible categorically mentions that the tablets were of stone. The act of writing on these tablets is attributed in both the Qur'an and the Bible, to God. Nonetheless, it is not possible to ascertain whether the actual act of writing was as performed by God exercising His power directly, or by God in the sense of His assignment of the task to some angel or to Moses (cf. Exodus 31: 18, 32: 15-16; and Deuteronomyi, 5: 6-22). 102 The Israelites were asked to hold fast to the Law to follow it in its plain meaning, a meaning which can he grasped by an ordinary man of sound heart and good…

Read the full tafseer →