طلب زیارت اور موت
وعدے کے مطابق حضرت موسیٰ طور پہاڑ پر پہنچے، اللہ کا کلام سنا تو دیدار کی آرزو کی، جواب ملا کہ یہ تیرے لئے ناممکن ہے۔ اس سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ کا دیدار نہ ہوگا کیونکہ لن ابدی نفی کے لئے آتا ہے لیکن یہ قول بالکل ہی بودا ہے کیونکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مومنوں کو قیامت کے دن اللہ کا دیدار ہوگا۔ وہ حدیثیں آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22ۙ) 75۔ القیامة :22) اور آیت (كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ 15ۭ) 83۔ المطففین :15) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالٰی، ایک قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ یہ نفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
سورة الْاَعْرَاف 101
بائیبل میں تصریح ہے کہ یہ دونوں تختیاں پتھر کی سلیں تھیں، اور ان تختیوں پر لکھنے کا فعل بائیبل اور قرآن دونوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے ہم اس بات کا تعیُّن کرسکیں کہ آیا ان تختیوں پر کتابت کا کام اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی قدرت سے کیا تھا، یا کسی فرشتے سے یہ خدمت لی تھی، یا خود حضرت موسیٰ کا ہاتھ استعمال فرمایا تھا۔ (تقابل کے لیے ملاحضہ ہو بائیبل، کتاب خروج، باب 31، آیت 18۔ باب 32، آیت 15، 16 و استثناء باب 5 آیت 6۔ 22)
سورة الْاَعْرَاف 102
یعنی احکام الہٰی کا وہ صاف اور سیدھا مفہوم لیں جو عقل عام سے ہر وہ شخص سمجھ لے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جب موسیٰ (علیہ السلام اس واقعہ میں) ہمارے وقت (موعود) پر آئے (تھے جس کا قصہ بیان ہورہا ہے) اور ان کے رب نے ان سے (بہت سی لطف و عنایت کی) باتیں کیں تو (شدت انبساط سے دیدار کا اشتیاق پیدا ہوا) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو دکھلا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو دنیا میں) ہرگز نہیں دیکھ سکتے (کیونکہ یہ آنکھیں تاب جمال نہیں لاسکتیں، کما فی المشکوة عن مسلم لاحرقت سبحات وجھہ) لیکن (تمہاری تشفی کے لئے یہ تجویز کرتے ہیں کہ) تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو (ہم اس پر ایک جھلک ڈالتے ہیں) سو اگر یہ اپنی جگہ برقرار رہا تو (خیر) تم بھی دیکھ سکو گے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ۭقَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰي صَعِقًا ۚ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ۔
میقات کے معنی وقت مقرر کے ہیں۔ یہاں میقات سے مراد وہ وقت خاص ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنے خطاب و کلام سے مشرف کرنے کے لیے مقرر فرمایا۔
قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ۔ کلام سے مشرف ہونے کے بعد حضرت موسیٰ کو…
Read the full tafseer →143۔ 1 جب موسیٰ ؑ طور پر گئے اور وہاں اللہ نے ان سے براہ راست گفتگو کی تو حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں اللہ کو دیکھنے کے شوق کا اظہار رَ بِ اَرِنِیْ کہہ کر کیا۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَنْ تَرٰنِیْ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا اس سے استدلال کرتے ہوئے مسلمانوں کے کے ایک فرقہ نے کہا کہ لَنْ نَفْیُ نَاْبِیْدٍ (ہمیشہ کی نفی) کے لئے آتا ہے۔ اس لئے اللہ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے نہ آخرت میں۔ لیکن فرقہ کا یہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ متواتر صحیح اور قوی روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار الٰہی سے مشرف ہونگے، تمام اہل سنت کا یہی عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
65: اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں تو ممکن نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بات کا مظاہرہ حضرت موسیٰ ؑ کو کرادیا کہ دنیا میں انسانوں کو تو کجا، پہاڑوں کو بھی یہ طاقت نہیں دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرسکیں۔
Read the full tafseer →اب تو یہ منظر آپ کے سامنے ہے۔ یہ منظر ایک منفرد منظر ہے اور یہ حضرت موسیٰ کا خاصہ ہے اس میں رب ذوالجلال اور رب العالمین براہ راست اپنے بندے سے مخاطب ہیں۔ اس منظر میں ایک ذرہ ، ایک محدود ذرہ اور ایک فانی وجود ایک ازلی اور ابدی ذات کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر ایک بندہ اپنے خالق سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے جبکہ خالق ابدی و ازلی وراء الوراء ہے اور بندہ زمین پر ہے۔ لیکن اس التقاء کی کیفیت کیا تھی ؟ اس کے ادراک سے ہم عاجز ہیں۔ اللہ کے ساتھ ہمکلام ہونے کی کیفیت کیا تھی ، اس کے بارے میں ہم نہیں بتا سکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کن ذرائع ادراک سے یہاں ہدایات اخذ کرتے تھے ، کلمات کس طرح…
Read the full tafseer →3 چالیس دن کی معیاد پوری ہو چکنے پر حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی مخصوص و ممتاز رنگ میں شرف مکالمہ بخشا۔ اس وقت حضرت موسیٰ کو بلاواسطہ کلام الٰہی سننے کی لذت بےپایاں حاصل ہوئی تو کمال اشتیاق سے متکلم کے دیدار کی آرزو کرنے لگے اور بےساختہ درخواست کردی۔ (رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ) 7 ۔ الاعراف :143) اے پروردگار ! میرے اور اپنے درمیان سے حجاب اور موانع اٹھا دیجئے اور وجہ انور بےحجاب سامنے کر دیجئے کہ ایک نظر دیکھ سکوں۔
4 یعنی دنیا میں کسی مخلوق کا یہ فانی وجود اور فانی قویٰ اس ذوالجلال والاکرام لم یزل ولا یزال کے دیدار کا تحمل نہیں کرسکتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ دنیا میں کسی کو موت…
Read the full tafseer →فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا
جَلَا یَجْلُو جَلَاءً کے معنی ہیں ظاہر کرنا ‘ روشن کرنا۔ اس سے تجلّی باب تفعل ہے ‘ یعنی کسی چیز کا خود روشن ہوجانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی تھی جو پہاڑ پر ڈالی گئی جس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا۔
وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج
تجلئ باری تعالیٰ کے اس بالواسطہ مشاہدے کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کرسکے۔ پہاڑ پر تجلی کا پڑنا تھا کہ آپ علیہ السلام بےہوش ہو کر گرپڑے۔
فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سوال کی…
Read the full tafseer →138 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا مطالبہ دیدار اور آپ کا بےہوش کر گرپڑنا :۔ چالیس دن کی اس شبانہ روز عبادت و ریاضت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی مخصوص و ممتاز رنگ میں شرف کلام بخشا۔ آپ کو بلا واسطہ اللہ کی بات سننے سے عجیب لذت حاصل ہوئی اور اسی لذت کے اثر سے دل میں متکلم کے دیدار کی آرزو پیدا ہوئی تو بےساختہ دیدار کے لیے درخواست کردی کہ الہٰی ! درمیان سے یہ حجاب اور موانع دور کر دے تاکہ میں ایک نظر تجھے دیکھ سکوں جواب ملا کہ تم اس فنا ہونے والے وجود اور فانی آنکھوں سے میرے دیدار کے کبھی متحمل نہ ہو سکو گے۔ اگر اتنی ہی آرزو ہے تو اس پہاڑ کی طرف دیکھو جس پر میں تھوڑا سا اپنی…
Read the full tafseer →185 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے جناب باری سے ہم کلامی کا یہ دوسرا موقع ہے۔ ایک بار اس سے قبل عطائے نبوت کے وقت کوہ طور پر ہی اس شرف سے مشرف ہوچکے تھے گو اس وقت کلام اس حد تک بےواسطہ اور براہ راست نہیں ہوا تھا جیسا کہ (آیت) ” نودی من شاطیء الواد الایمن “۔ سے اشارہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” لمیقاتنا “۔ میں ل، اختصاص کا ہے۔ ای لوقتنا الذی وقتناہ واللام للاختصاص (روح)
186 ۔ (اپنی انہی مادی آنکھوں سے) ایک پیغمبر جلیل القدر کی زبان سے یہ درخواست بجائے خود اس امر کی دلیل ہے کہ رویت باری مادی آنکھوں سے عقلا محل وممتنع نہیں۔ (آیت) ” ارنی انظر الیک “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول فرط اشتیاق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
ولما جاء۔۔۔۔۔ لمیقاتنا، جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے، اور وہاں اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست گفتگو فرمائی، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خدا کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا، اور اپنے اس شوق کا اظہار ربِّ اَرِنی کہہ کر کیا، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ لن ترانی، تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا، معتزلہ نے اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا لن، نفی کی تاکید کیلئے ہے یعنی دیدار سے ہمیشہ کی نفی مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے اور نہ آخرت میں۔
دیدار الہٰی کا مسئلہ : معتزلہ کا مذکورہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے جو متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ روز قیامت…
Read the full tafseer →ولما جآء موسیٰ لمیقاتنا وکلمہ ربہ قال رب ارنی انظر الیک قال لن ترنی ولکن انظر الی الجبل فان استقرمکانہ فسوف ترنی۔ اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب مجھے اپنا دیدار کرا دے کہ میں ایک نظر تجھے دیکھ لوں اللہ نے فرمایا تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو سو اگر یہ اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی دیکھ سکو گے۔
وقال موسٰی یعنی مناجات کے لئے پہاڑ کی طرف جاتے ہوئے موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اخلفنی یعنی میرا قائم مقام ہوجا۔ واصلِحْ اور جن امور کی اصلاح کی ضرورت پڑے ان کی درستی کرنا۔ یا مصلح بن جا۔ یا…
Read the full tafseer →(143) اور جب حضرت موسیٰ ؑ مدین میں ہمارے وقت مقرر پر آئے تھے تو انہوں نے دیدار الہی کی خواہش ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ تم دنیا میں ہمارے دیدار کی تاب نہیں لاسکتے لیکن مدین میں بڑے پہاڑ کی طرف دیکھو اگر پہاڑ میری تجلی کی وجہ سے اپنی جگہ پر برقرار رہ گیا تو خیر تم بھی میرا دیدار کرسکوگے۔
جب پہاڑ پر تجلی پڑی تو اس کے پرخچے اڑ گئے اور موسیٰ ؑ بےہوش ہو کر گر پڑے، ہوش آنے پر عرض کیا ! بیشک آپ کی ذات ان آنکھوں کی برداشت سے منزہ ہے اور اپنی درخواست سے معذرت طلب کرتا ہوں اور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ دنیا میں آپ کے دیدار کی تاب نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا : میقات سے مراد مقرر کردہ وقت ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا اور موسیٰ ؑ کی طرف سے حاضری کا وعدہ تھا، اس لیے ”وٰعَدْنَا“ (باب مفاعلہ) استعمال فرمایا جو دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے۔
وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ : یعنی کسی واسطے کے بغیر کلام فرمایا۔ دیکھیے سورة بقرہ (253) اور نساء (164) یہ ان کا اللہ سے ہم کلام ہونے کا دوسرا موقع تھا۔ پہلے موقعے کا ذکر سورة طٰہ (12) میں ہے، جب آگ لینے گئے تھے اور رسالت سے سرفراز ہوئے تھے۔ واسطے کے بغیر اس لیے کہ فرشتے کے ذریعے سے یا دل میں ڈال کر تو ہر نبی سے کلام ہوتا تھا، جسے ”وحی“ کہتے ہیں، پھر موسیٰ ؑ کی خصوصیت کیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 143
قولہ تعالیٰ : آیت : ولما جآء موسیٰ لمیقاتنا یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے۔ وکلمہ ربہ اور ان کے رب نے انہیں بلا واسطہ اپنا کلام سنایا۔ آیت : قال رب ارنی انظر الیل تو آپ نے رب کریم کا دیدار کرنے کی التجا کی، اور جب اس نے آپ کو اپنا کلام سنایا تو آپ دیدار الہٰی کے مشاق ہوئے۔ آیت : قال لن ترنی تو رب کریم نے فرمایا : تم دنیا میں مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے۔ اور اس معنی پر محمول کرنا جائز نہیں ہے کہ آپ نے یہ ارادہ کیا۔ مجھے ایک عظیم نشانی دکھاتا کہ میں تیری قدرت کا نظارہ کرسکوں۔ کیونکہ آپ نے عرض کی الیک ( تیری طرف) اور رب کریم نے فرمایا : آیت : قال لن ترنی اگر…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قال رب ارنی “ یعنی مجھ کو قوت عطا فرمائیے کہ میں آپ کی طرف دیکھ لوں۔
(2) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” قال رب ارنی انظر الیک “ کے بارے میں فرمایا کہ جب کلام کو سنا تو لالچ کی دیکھنے میں۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے عرض کیا کہ لفظ آیت ” قال رب ارنی انظر الیک “ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اے موسیٰ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھا سکتا۔ پھر فرمایا اے موسیٰ ! کبھی بھی اس طرح نہیں ہوگا کہ کوئی مجھے دیکھے اور زندہ بھی رہے۔…
Read the full tafseer →[ وَلَمَّا : اور جب ] [ جَاۗءَ : آئے ] [ مُوْسٰي : موسیٰ ] [ لِمِيْقَاتِنَا : ہماری طے شدہ جگہ پر ] [ وَكَلَّمَهٗ : اور کلام کیا ان پر ] [ رَبُّهٗ : ان کے رب نے ] [ قَالَ : تو انہوں نے کہا ] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ اَرِنِيْٓ: تو مجھے دکھا ] [ اَنْظُرْ : تو میں دیکھوں ] [ اِلَيْكَ : تیری طرف ] [ قَالَ : (اللہ نے) کہا [ لَنْ تَرٰىنِيْ : تو ہرگز نہیں دیکھے گا مجھ کو ] [ وَلٰكِنِ : اور لیکن ] [ انْظُرْ : تو دیکھ ] [ اِلَى الْجَبَلِ : اس پہاڑ کی طرف ] [ فَاِنِ : پھر اگر ] [ اسْـتَــقَرَّ : وہ برقرار رہا ] [ مَكَانَهٗ : اپنی جگہ پر ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ تَرٰىنِيْ : تو دیکھے گا مجھ کو ] [ ۚ…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دیدار الٰہی کے لیے درخواست کرنا اور پہاڑ کا چورا چورا ہوجانا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے طور پر جانے کا جو وقت مقرر ہوا تھا وہ اس کے مطابق وہاں پہنچے، حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ان راتوں کی ابتداء ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے تھی پھر مزید دس راتیں ماہ ذی الحجہ کے شروع کی بڑھا دی گئیں اور دس ذی الحجہ کو توریت شریف عطا کی گئی۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچے تو اللہ رب العزت جل مجدہ سے ہم کلامی ہوئی اور اس کے بعد ان کو اشتیاق ہوا کہ اپنے رب کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھیں، لہٰذا درخواست پیش کردی کہ اے رب مجھے اپنے دیدار کرا دیجیے، میں آپ کی ذات پر یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
تفسیر
ذکر مکالمہ خداوندی با موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) وعطاء تورات
قال اللہ تعالیٰ وواعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھل یجزون الا ما کانو یعملون
(ربط) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرے گا اور تمہیں ان کا جانشین اور ان کے ملک کا وارث بنائے گا اور اس وقت میں تم کو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب ہدایت مآب لا کر دونگا جو تمہارے لیے دستور العمل ہوگی چناچہ جب فرعون ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل کو اس کے پنجۂ ظلم سے نجات ملی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کتاب کی درخواست کی۔ حکم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر آکر اعتکاف کریں…
Read the full tafseer →134: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مقررہ وقت پر کوہ طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے تو اس کی عنایات بےغایات اور اس کی رحمت ورافت دیکھ کر خیال آیا کہ اگر دیدار خداوندی کی التجاء کروں تو شاید یہ آرزو بھی پوری ہوجائے۔ چناچہ عرض کیا۔ “ رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ” اے اللہ میرے سامنے اپنی ذات کو ظاہر فرما تاکہ میں اسے دیکھ سکوں، ارشاد ہوا تم میں مجھے دیکھنے کی تاب نہیں اور مجھے دیکھ سکنا محال ہے۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے فرمایا تم اس پہاڑ کو دیکھو اس پر میں اپنی تجلی ڈالتا ہوں اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا تو سمجھ لینا کہ تم بھی مجھے دیکھ سکو گے ورنہ نہیں۔ “ فَلَمَّا تَجَلّٰی الخ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
رابط آیات
جب فرعون اور اس کا لشکر بحیرہ قلزم میں غرق ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) واپس مصر میں نہیں آئے بلکہ آگے صحرائے سینا کی طرف چلے گئے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب انہوں نے بحیرہ قلزم کو عبور کیا تو ان کا گزر ایک بستی پر ہوا ج کے لوگ اپنے معبودان باطلہ پر جھکے وہئے تھے یعنی ان کی پرستش کر رہے تھے بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کو عبادت کا یہ ریقہ بھلا معلوم ہوا اور انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ان کے لیے بھی ایک معبود بنا دیاجائے جسے سامنے رکھ کر وہ عبادت کیا کریں آپ نے قوم کو ڈانٹا اور فرمایا ، تم بڑے جاہل ہوگ ہو جس خدا نے تمہیں فضیلت بخشی اور تم پر احسانات کیے کیا اسے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَہٗ رَبُّہٗ 0 ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ 0 ۭ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَـبَلِ فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ 0 ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰي صَعِقًا 0 ۚ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ 143
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
ترکیب : اربعین کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے ای تم بالغا ھذا العدد لیلۃ منصوب ہے تمیز ہونے کی وجہ سے لمیقاتنا لام بمعنی وقت قال رب الخ شرط یا جواب ہے لما جاء موسیٰ کا موعظۃ وتفصیلا مفعول کتبنا کا من کل شیء صفت ہے اس کی جو مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہے۔
تفسیر : فرعون کا قصہ مجملاً اسی جملہ میں تمام کردیا (ودقرنا ماکان یصنع فرعون وقومہ الخ) قلزم کو عبور کرکے عرب کے ریگستانی اور کو ہی بیابانوں قادسیہ وغیرہ میں آپڑے۔ یہاں اسرائیلیوں نے جو لوگوں کو بت پرستی کرتے دیکھا تو مصریوں کے صحبت یافتہ تو تھے ہی منہ میں پانی بھر آیا کہ حضرت ہمارے لئے بھی ایسے ہی معبود بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے لئے ہیں۔ موسیٰ…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَآئَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَکَلَّمَہٗ رَبُّہٗ لا قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ وَ لٰکِنِ اْنْطُرْاِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰنِیْ ج فَلَمَّا تَجَلّیٰ رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 143)
” اور جب موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام کیا تو اس نے درخواست کی کہ اے میرے رب مجھے موقع دے کہ میں تجھے دیکھ لوں فرمایا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور ذات اقدس کے دیدار کا مطالبہ۔
حسب وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس راتوں سے مراد تمام مفسرین نے دن اور راتیں مراد لی ہیں کیونکہ شریعت میں قمری مہینوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ جس کی ابتداء چاند کے نمودار ہونے سے ہوتی ہے اس لیے شریعت کی تمام عبادات کا حساب طلوع چاند سے لگایا جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی غرض سے کوہ طور پر پہنچے اور انھوں نے چالیس راتیں مکمل کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی ہم کلامی کا…
Read the full tafseer →موسیٰ ( علیہ السلام) کا طورؔ پر ہم کلامی سے مشرف ہونا :
آیت 143: وَلَمَّا جَآ ئَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا (جب آئے موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر) ہمارے اس ٹائم پر جو ہم نے ان کے لیے مقرر کیا تھا اور جس وقت کی حد بندی کردی تھی۔ میقات کی لام، لام تخصیص ہے ہمارے میقات کے لیے ان کی آمد خاص کردی گئی۔ وَکَلَّمَہٗ رَبُّہٗ (اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں) بلا واسطہ اور بلا کیف روایت میں ہے کہ وہ کلام ہر جہت سے سن رہے تھے۔ اور شیخ ابو منصور (رح) نے اپنی کتاب التاویلات میں ذکر کیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ایک آواز سنی جو اللہ تعالیٰ کے کلام پر دلالت کرنے والی تھی۔ اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا اس کے ساتھ خاص…
Read the full tafseer →143(ولما جآء موسیٰ لمیقاتنا وکلمہ ربہ) یعنی اس وقت جس کے بارے میں ہم نے طے کردیا تھا کہ وہ اپنے رب سے کلام کریں گے اس وقت کلام کیا۔ مفسرین رحمہما الل ہفرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جسم پاک کیا اور کیڑے پاک کئے اپنے رب کے وعدہ کے لئے۔ پس جب طور سینا پہاڑ آئے۔
باقی قصہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار فرسخ دور تاریکی اتاری اور اس سے شیطان کو بھگا دیا اور زمین کے حشرات کو بھی بھگا دیا اور اس سے دونوں فرشتے الگ ہوگئے تو مسویٰ (علیہ السلام) نے فرشتوں کو آسمان میں ٹھہرے ہوئے دیکھا اور عرش کو بالکل واضح دیکھا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام کی اور آپ (علیہ السلام) سے…
Read the full tafseer →جب موسیٰ (علیہ السلام) چلہ پورا کرچکے تو وقت مقرر پر خدا کے حکم سے کوہ طور پر گئے اللہ پاک اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علی نبینا (علیہ السلام) سے ملا واسطہ کسی فرشتے کے باتیں کیں موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب جب تو نے مجھ سے کلام کیا تو اب آپ مجھے دکھا بھی دے میں تجھے دیکھنا بھی چاہتا ہوں اللہ جل شانہ نے فرمایا اے موسیٰ اس خیال سے باز آ تجھ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ تو مجھ دیکھ سکے پہاڑ جو تجھ سے کہیں مضبوط اور سخت ہے تو اسے دیکھتا رہ کہ وہ بھی میرے جلوہ کی مطلق تاب نہیں رکھتا اگر یہ پہاڑ میرے جلوہ کے بعد قائم رہ گیا تو جان لیجیوں کہ تو مجھے دیکھ سکے گا پھر جب خدا کی تجلی ہوئی تو پہاڑ چکنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
التجائے موسیٰ
قول باری ہے قال رب ارنی انظر الیک۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے التجا کی کہ ” اے میرے رب ! مجھے یا رائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روایت باری کی اس وجہ سے التجا کی تھی کہ اپنی قوم کے اس مطالبہ کا انہیں جواب دے سکیں کہ ” ہم تمہاری بات پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں “۔ اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے اتھلکنا بما فعل الشفھاء منا۔ کیا آپ اس قصور میں ہم سب کو ہلاک کردیں گے جس کا ارتکاب ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس رویت کی التجا کی تھی جو علم ضرورت کہلاتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
183 حضرت موسیٰ کی اپنے رب سے دیدار کی درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو اس موقع پر موسیٰ نے یہ درخواست پیش کردی۔ سو کوہ طور پر اپنے رب سے ہم کلامی کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد حضرت موسیٰ کے دل میں اپنے رب کی دید و زیارت کا بھی شوق پیدا ہوا۔ لذت تکلم ربّانی سے مخمور و سرشار اور فرط شوق و محبت سے متاثر و مغلوب ہو کر۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب اور اپنے خالق ومالک کی دید و زیارت سے بڑھ کر محبوب چیز اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے بڑھ کر اس کا اشتیاق اور کس کو ہوسکتا ہے ؟ اس لئے آنجناب نے بےساختہ اپنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 تا 147 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ جب فرعون سے امن نصیب ہوا تو اب ضرورت پیش آئی کہ اگر بت پرستی درست نہیں تو کوئی طریق عبادت اور شریعت تو ہونا چاہئے جسے اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ طور پر آ کر تیس راتوں کا اعتکاف کریں تاکہ آپ کو کتاب عطا ہو اور پھر دس راتیں مزید بڑھا دی گئیں یعنی مطلوبہ نسبت یا توجہ الی اللہ تیس کی بجائے چالیس راتوں میں نصیب ہوئی غرض ایک حالت مطلوب تھی جو اللہ کریم چاہتے تو بغیر کسی مجاہدے کے بھی عطا فرما سکتے تھے مگر دنیا عالم اسباب ہے لہذا سبب اختیار کرنے کا حکم دیا۔
خلوت کا اثر :
جہاں…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی کس ی واسطہ کے بغیر۔ ( سورة بقرہ آیت آیت 253)9 یعنی جب تک تو دنیا میں زندہ ہے مجھے نہیں دیکھ سکتا باقی رہا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی روئیت تو وہ مومنوں کے حق میں متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے، مزید تشریح کے لیے دیکھئے ( سورة قیامہ آیت 22 ۔ 23)10 یعنی جب میں تجلی فرماؤں۔۔۔۔11 کہ تیری اجازت کہ بغیر تجھے دیکھنے کی درخواست کر بیٹھا (رازی)12 یعنی تجھ پر اور تیری عظمت و جلال پر یا اس پر کہ کوئی تجھے قیامت سے پہلے دیکھ سکتا، (کبیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے بزرگی دی کہ فرشتہ کے بغیر خود کلام فرمایا ان کو شوق ہوا کہ دیدار بھی دیکھوں اس کی برداشت نہ ہوئی۔۔۔۔…
Read the full tafseer →(7:143) ارنی۔ ای ارنی ذاتک اونفسک۔ مجھے اپنی ذات اقدس دکھائیں۔ انظر الیک۔ کہ میں تجھے دیکھ سکوں۔ تیرا دیدار کرسکوں۔ استقر۔ وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا۔ استقرار (استفعال) سے جس کے معنی ٹھہرے رہنے اور قرار پکڑنے کے ہیں۔
تجلی۔ اس نے تجلی کی۔ وہ روشن ہوا۔ وہ ظاہر ہوا۔ وہ جلوہ افروز ہوا۔ تجلی سے جس کے معنی دیدار اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ باب تفعل۔
دکا۔ ریزہ ریزہ کرنا۔ ڈھاکر برابر کرنا۔ کوٹ کوٹ کر ہموار کرنا۔ دک سے جس کا معنی ہموار اور نرم زمین کے ہیں۔ چونکہ نرم اور ہموار زمین ریزہ ریزہ ہوتی ہے اسی لئے اسی مناسبت سے اس کے مصدر کے معنی مقرر ہوئے۔ دکۃ (باب نصر) مصدر۔
خر۔ وہ گرپڑا۔ خر (باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
تشریح آیات نمبر 142 تا 144
فرعون اپنے تمام لاء لشکر کے ساتھ غرق ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری قوتیں بنی اسرائیل کو دے کر ان پر جانشینی اور خلافت کی ذمہ داریاں ڈال دی تھیں ۔ اگر ذمہ داریاں ڈال دی جائیں تو اور ذمہ داریوں کی وضاحت نہ کی جائے تو انسان کس طرح اپنی ذمہ داریون کو پورا کرسکتا ہے اس لئے اب بنی اسرائیل کے لئے ایک کتاب اور مستقل شریعت کی ضرورت تھی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلوایا۔ کوہ طور ایک پہاڑ کا نام نہیں بلکہ یہ متعدد پہاڑ ہیں ۔ کوہ سینا کی چوٹی کا نام طور ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے جلوہ سے پہاڑ کا ریزہ ریزہ ہونا
جب حضرت موسیٰ علیہ السلان چلہ پورا کرچکے تو وقت مقررہ پر خدا کے حکم سے کوہ طور پر گئے۔ اللہ پاک نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بلا واسطہ کسی فرشتے کے باتیں کیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب جب تو نے مجھ سے کلام کیا تو اب اپنے آپ کو مجھے دکھلا بھی دے، میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا :'' سے موسیٰ اس خیال سے باز آ تجھ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ تو مجھ دیکھ سکے ''۔ یعنی آنکھوں سے سوال کرکے بلکہ دیدار الہی بغیر سوال کے محض ہمارے عطا و فضل سے حاصل ہوگا وہ بھی اس فانی آنکھ سے نہیں بلکہ باقی آنکھ سے۔ پہاڑ جو تجھ…
Read the full tafseer →[51] یعنی ذاتی تجربے کے بعد تیرے اس ارشاد پر ایمان لایا ہوں کہ '' تو ہمیں ہرگز نہ دیکھ سکے گا ''۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
دیدار یار :
(ف 2) اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مکالمہ کے شرف سے نوازا ، یہاں دل میں یہ خیال چٹکیاں لے رہا تھا ، کہ گفتگو کافی نہیں ، دیدار چاہئے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” لن ترانی “ کہ یہ آنکھیں کیونکر تجلیات کو جذب کرسکتی ہیں ، مگر وہاں اصرار وشوق کی فراوانی تھی نقاب کے کچھ حصے سرکے ، اور موسیٰ (علیہ السلام) غش کھا کر گر پڑے ، آنکھوں میں تاب و تواں کہاں کہ برداشت کرسکیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ اس ذوالجلال کو دیکھنا ناممکن ہے اور اس نوع کا مطالبہ اس کے حسن و جلال کی توہین ہے فورا ” تبت “ کی صدائے ندامت فضاء میں گونجی اور دلائل وبراہین کی آیتوں پر…
Read the full tafseer →143 اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وعدے کے مطابق اور ہمارے مقررہ وقت پر حاضر ہوئے اور ان کا پروردگار ان سے ہم کلام ہوا تو انہوں نے عرض کی اے میرے پروردگار ! آپ مجھ کو اپنا جمال دکھا دیجئے تاکہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتا مگر ہاں ایسا ہی شوق ہے تو اس پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا اور اپنی حالت پر قائم رہا تو تو مجھ کو دیکھ لے گا یعنی پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ گیا تو تو بھی مجھ کو دیکھ سکے گا۔
غرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی الٰہی نے اس پہاڑ کو ڈھاکر ریزہ ریزہ اور چکنا چور کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
ف 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا مگر یہ کہ اس کی حقیقت کیا تھی اللہ ہی کو معلوم ہے جن احتمالات عقلیہ کی شریعت نفی نہ کرے ان سب کے قائل ہونے کی گنجائش ہے لیکن بلادلیل عدم یقین اسلم
ہے۔
5۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست دیدار کی کرنا دنیا میں اس کے امکان عقلی پر اور اللہ تعالیٰ کا جواب اس کے امتناع شرعی پر دلیل ہے اور یہی مذہب ہے اہل سنت والجماعت کا۔
6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بےہوشی ان پر تجلی فرمانے سے نہ تھی کیونکہ ظاہر للجبل کے خلاف ہے بلکہ پہاڑ کی یہ حالت دیکھ کر نیز محل تجلی کے ساتھ ایک گونہ تلبس وتعلق ہونے سے یہ بےہوشی ہوئی۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے کلام کی حقیقت کہ وہ کیسے ہوتا ہے ؟ :
154: میقات کے معنی وقت مقرر کے ہیں۔ یہاں میقات سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اپنے خطاب و کلام سے مشرف کرنے کے لئے اور قوم کے لئے احکامات دینے کے لئے مقرر کیا تھا جس کی مدت چالیس دن رات تھی۔ کلام خدا کے متعلق جب تک نہ سنیں اور دیکھیں تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ مگر انسانوں کا کلام جو سننے میں آتا ہے وہ تو یہ ہے کہ زبان اور ہونٹ ہلتے ہیں اس ہوائے محیط کی مدد سے ایک آواز کان تک پہنچتی ہے اور اس زبان کا بولنے اور سمجھنے والا جس زبان میں یہ کلام کیا جائے ہر ایک لفظ کے بعد دوسرا لفظ بلکہ ہر لفظ کے پہلے حرف کے…
Read the full tafseer →The verse 143 carries the phrase لن ترانی “ you shall never see me”. The phrase has an indication that sighting of Allah is not impossible, but that he (Musa علیہ السلام) cannot endure it with his present physical disposition. Had it been impossible, the phrase would have been لن اری : “ I cannot be seen” (Mazhari). This allows that sighting of Allah is a logical possibility even in this world but at the same time this verse has precluded the possibility of its occurrence in this world. This is also the unanimous view of the majority of scholars. The following hadith has been included in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
101. The Bible categorically mentions that the tablets were of stone. The act of writing on these tablets is attributed in both the Qur'an and the Bible, to God. Nonetheless, it is not possible to ascertain whether the actual act of writing was as performed by God exercising His power directly, or by God in the sense of His assignment of the task to some angel or to Moses (cf. Exodus 31: 18, 32: 15-16; and Deuteronomyi, 5: 6-22).
102 The Israelites were asked to hold fast to the Law to follow it in its plain meaning, a meaning which can he grasped by an ordinary man of sound heart and good…
Read the full tafseer →