احسانات پہ احسانات
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان سب کے لئے باعث ہدایت و نور تھی جس میں ان کی شریعت کی تفصیل تھی اور اللہ کے تمام احکام موجود تھے۔ تیس راتوں کا وعدہ ہوا، آپ نے یہ دن روزوں سے گذارے۔ وقت پورا کر کے ایک درخت کی چھال کو چبا کر مسواک کی۔ حکم ہوا کہ دس اور پورے کر کے پورے چالیس کرو۔ کہتے ہیں کہ ایک مہینہ تو ذوالقعدہ کا تھا اور دس دن ذوالحجہ کے۔ تو عید والے دن وہ وعدہ پورا ہوا اور اسی دن اللہ کے کلام سے آپ کو شرف ملا اسی دن دین محمدی بھی کامل ہوا ہے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے آیت (اَلْيَوْمَ اَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
سورة الْاَعْرَاف 99
مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرئیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ہوگئیں اور انہیں ایک خود مختار قوم کی حیثیت حاصل ہوگئی تو حکم خداوندی کے تحت حضرت موسیٰ ؑ کوہ سینا پر طلب کیے گئے تاکہ انہیں بنی اسرائیل کے لیے شریعت عطا فرمائی جائے کہ حضرت موسیٰ ایک پورا چِلّہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر، شب و روز عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اس قول ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے اس ارشاد کی تعمیل میں کوہ سینا جاتے وقت بنی اسرائیل کو اس مقام پر چھوڑا تھا جو موجودہ نقشہ میں نبی صالح اور کوہ سینا کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (جب بنی اسرائیل سب پریشانیوں سے مطمئن ہوگئے تو موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ اب ہم کو کوئی شریعت ملے تو اس پر اطمینان کے ساتھ عمل کریں، موسیٰ ؑ نے حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ اس کا قصہ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ ؑ سے تیس را توں کا وعدہ کیا (کہ طور پر آکر اعتکاف کریں تو آپ کو شریعت اور کتاب تورات دی جائے گی) اور دس راتیں مزید ان تیس را توں کا تتمہ بنادیا (یعنی تورات دے کر ان میں دس راتیں عبادت کے لئے اور بڑھا دیں جس کی وجہ سورة بقرہ میں مذکور ہوچکی ہے) اس طرح ان کے پروردگار کا (مقرر کیا ہوا) وقت (سب مل کر) پوری چالیس راتیں ہوگیا اور موسیٰ ؑ کوہ طور آنے لگے تو چلتے…
Read the full tafseer →وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖٓ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ۚ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ۔
اس آیت کی وضاحت بقرہ کے تحت ہوچکی ہے یہ اس اہتمام کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنی شریعت دینے کے لیے فرمایا۔ ان کو ہدایت ہوئی کہ وہ 30 دن کے لیے کوہ طور کے ایک مخصوص مقام پر حاضر ہوں۔ حضرت موسیٰ ، جیسا کہ طہ آیت 84 کے تحت بحث آئے گی، وقت مقررہ سے پہلے طور پر پہنچ گئے۔ ہرچند حضرت موسیٰ کی یہ سبقت رضائے الٰہی کی طلب کی راہ میں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →142۔ 1 فرعون اس کے لشکر کے غرق کے بعد ضرورت لاحق ہوئی کہ بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی کتاب انہیں دی جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، جس میں دس راتوں کا اضافہ کرکے اسے چالیس کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جاتے وقت حضرت ہارون ؑ کو جو ان کے بھائی، بھی تھے اور نبی بھی، اپنا جانشین مقر کردیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کی ہدایت و اصلاح کا کام کرتے رہیں اور انہیں ہر قسم کے فساد سے بچائیں۔ اس آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے۔
142۔ 2 حضرت ہارون ؑ خود نبی تھے اور اصلاح کا کام ان کے فرائض منصبی میں شامل تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں محض تذکرہ تنبیہ کے طور پر یہ…
Read the full tafseer →64: فرعون سے نجات پانے اور سمندر عبور کرلینے کے بعد کچھ واقعات اس جگہ بیان نہیں ہوئے، ان کی کچھ تفصیل سور مائدہ (20:50 تا 26) میں گذر چکی ہے۔ ان آیات کے حواشی میں ہم نے یہ تفصیل بقدر ضرورت بیان کردی ہے۔ اب یہاں سے دو واقعات بیان فرمائے جا رہے ہیں جو وادی تیہ (صحرائے سینا) میں پیش آئے جہاں بنی اسرائیل کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے چالیس سال تک مقید کردیا گیا (جس کا واقعہ سورة مائدہ میں گزارا ہے) اس دوران انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں کوئی آسمانی کتاب لا کردیں جس میں ہمارے لیے زندگی گزارنے کے قوانین درج ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت…
Read the full tafseer →یہ آٹھواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اور آپ کے رب العالمین کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ حضرت موسیٰ اس عظیم تقریب کے لیے بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ حضرت ہارون کو وصیت کرکے اپنا قائم مقام بناتے ہیں اور اس کے بعد آپ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے ہیں۔
حضرت موسیٰ کی مہم کا پہلا مرحلہ اب مکمل ہوگیا ہے ، اس مرحلے میں بنی اسرائیل کو ذلت اور زبردستی کی زندگی سے نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ قوم فرعون کی ایذا رسانیوں اور تشدد کے دائرے سے باہر نکل آتے ہیں۔ ذلت اور غلامی کی شہری زندگی کو ترک کرکے اب وہ صحرا کی آزاد فضاؤں میں گھوم رہے ہیں۔ اور ارض مقدس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ ارض مقدس کی بازیابی کی…
Read the full tafseer →1 جب بنی اسرائیل کو طرح طرح کی پریشانیوں سے اطمینان نصیب ہوا تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اب ہمارے لیے کوئی آسمانی شریعت لائیے جس پر ہم دلجمعی کے ساتھ عمل کر کے دکھلائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا معروضہ بارگاہ الٰہی میں پیش کردیا۔ خدا تعالیٰ نے ان سے کم از کم تین دن اور زائد از زائد چالیس دن کا وعدہ فرمایا کہ جب اتنی مدت تم پے بہ پے روزے رکھو گے اور کوہ طور پر معتکف رہو گے تو تم کو تورات شریف عنایت کی جائے گی، دو مدتیں (کم اور زیادہ) ٹھہرانے کا شاید یہ مطلب تھا کہ اگر اثنائے ریاضت میں وظائف عبودیت اور آداب تقرب ادا کرنے کے اعتبار سے کسی قسم کی کوتاہی اور تقصیر ظاہر نہ…
Read the full tafseer →آیت 142 وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً
یعنی کوہ سینا طور پر طلب کیا۔ عام طور پر اس طرح کہنے سے دن رات ہی مراد ہوتے ہیں ‘ لیکن عربی محاورہ میں رات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
وَّاَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ج۔
اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور پر چلہ مکمل کیا ‘ جس کے دوران آپ نے لگاتار روزے بھی رکھے۔ ہمارے ہاں صوفیاء نے چلہ کاٹنے کا تصور غالباً یہیں سے لیا ہے۔
Read the full tafseer →136 طور کے دامن میں چالیس راتیں :۔ جب بنی اسرائیل کو غلامانہ زندگی سے نجات مل گئی تو اب انہیں ایک ضابطہ یا شریعت کی ضرورت تھی اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ سینا پر بلایا کہ یہاں مبارک وادی میں آ کر تنہائی میں اللہ کی عبادت کریں اور اس کے لیے کم سے کم مدت ایک ماہ اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن مقرر کی گئی تھی۔ تاہم سورة بقرہ میں چالیس راتوں ہی کا ذکر آیا ہے۔ اس عرصے کے لیے آپ کو حکم یہ تھا کہ دن کو روزے سے رہیں اور شب و روز اللہ کی عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ شریعت (الواح) کو اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر…
Read the full tafseer →183 ۔ ان چالیس شبوں پر حاشیے سورة بقرۂ پارہ اول رکوع 6 میں گزر چکے، اب وقت وہ ہے کہ قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل کر آزاد خود مختار ہوچکی ہے اور اب اس قوم کے لئے ایک دستور شریعت نازل ہونے کو ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کو لینے کے لیے کوہ طور پر طلب کئے گئے ہیں پہاڑ پر ایک چلہ کی مدت کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خاص ریاضتوں کے ساتھ قیام کیا۔ (آیت) ” لیلۃ “۔ میں دن اور رات دونوں شامل ہیں۔ اور لفظ (آیت) ” لیلۃ “۔ ہی سے استنباط کیا گیا ہے کہ شریعت میں معتبر تاریخ کا وہی حساب ہے جو بجائے دن کے رات سے کیا جائے دلت الایۃ علی ان التاریخ یکون باللیالی دون الایام (قرطبی) اور جو تقویم قمری…
Read the full tafseer →آیت نمبر 142 تا 147
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا کہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد وہ اس سے کلام کرے گا (وَاعَدْنا) الف اور بغیر الف (وعدنا) ہے بایں طور کہ موسیٰ (علیہ السلام) مذکورہ مدت میں روزہ رکھے اور وہ ذوالقعدہ کا مہینہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مدت کے روزے رکھے جب (تیس دن) پورے ہوگئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے منہ کی بو سے کراہت محسوس ہوئی، تو آپ نے مسواک کرلی، تو اللہ نے دوسرے دس دن کا حکم دیا تاکہ موسیٰ منہ کی بو کے ساتھ اللہ سے ہمکلام ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم نے اس تیس دن کی مدت کو ذی الحجہ کے مزید دس کے ساتھ پورا کردیا…
Read the full tafseer →ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ واتممنہا بعشر فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ وقال موسیٰ لاخیہ ہرون اخلفنی قومی واصلح ولا تتبع سبیل المفسدین : اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے تیس شب کا وعدہ کرلیا اور (مزید) دس راتوں کو تیس کا تتمہ کردیا اور اس طرح اللہ کا مقرر کردہ وقت چالیس شب ہوگیا اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون سے کہہ دیا تھا کہ میرے بعد میری جگہ ان لوگوں کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہے اور بدعمل لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا۔
ابن ابی حاتم نے ابوالعالیہ کا قول لکھا ہے کہ ایک چلہ ہوگیا یعنی ذیقعدہ کا ایک مہینہ اور ذی الحجہ کے دس دن۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے…
Read the full tafseer →(142) یعنی پورے ذی قعدہ کے مہینہ میں پہاڑ پر رہنے کا وعدہ کیا اور ذی الحجہ کے دس دن کا اور اضافہ کردیا، سو ان کے پروردگا کا یہ وقت مقرر ہوگیا اور اپنے بھائی سے کہنے لگے میرے قائم مقام ہوجاؤ اور ان کو نیکی کا حکم دو اور ان کے ساتھ برائی میں شامل نہ ہونا۔
Read the full tafseer →وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً۔۔ : فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ انھیں کتاب دی جائے۔ پہلے تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی، پھر اس میں دس دن کا اضافہ کردیا گیا، تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ ؑ روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تیس راتوں کی خلوت سے عبادت اور مناجات کی عادت پڑجائے گی اور مناجات کی لذت سے آشنائی کے بعد دس راتیں بڑھانے سے بھی طبیعت پر بوجھ نہیں پڑے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی چالیس راتیں تھیں جو دس بڑھانے سے مکمل…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 142
قولہ تعالیٰ : آیت : ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلت واتممنھا بعشر فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر :
قولہ تعالیٰ : آیت : ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عزت و تکریم عطا فرمائی۔ پس اللہ تعالیٰ کا آپ کے ساتھ ہمکلام ہونے کا وعدہ فرمانا ان کے لیے باعث عزت و تکریم تھا۔ آیت : واتممنھا بعشر حضرت ابن عباس ( تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 59 ) ، حضرت مجاہد اور حضرت مسروق ؓ نے بیان فرمایا : یہ ذوالقعدہ اور ذوالحج کے دس دن تھے۔ آپ کو حکم ہوا کہ ایک مہینہ کے روزے رکھیں اور آپ اس میں اس…
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے چند طرق سے ابن عباس سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ واتممنھا بعشر “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ذوالقعدہ اور ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ حضرمی نے یہ گمان کیا کہ تیس راتیں جن کا موسیٰ سے وعدہ کیا گیا تھا وہ ذوالقعدہ کی ہیں اور وہ دس راتیں جن سے اللہ تعالیٰ نے چالیس راتیں پوری فرمائیں وہ ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔
(3) امام ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سال میں کوئی عمل بھی اس طرح سے افضل نہیں جو ذی الحجہ کے دس دنوں میں کیا جائے اور یہی وہ دس راتیں ہیں کہ جن کے…
Read the full tafseer →وَوٰعَدْنَا : اور ہم نے وعدہ کیا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ سے ] [ ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً : تیس راتوں کا ] [ وَّاَتْمَمْنٰهَا : اور ہم نے مکمل کیا انہیں ] [ بِعَشْرٍ : دس سے ] [ فَتَمَّ : تو پورا ہوا ] [ مِيْقَاتُ رَبِّهٖٓ: ان کے رب کا طے شدہ وقت ] [ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً : چالیس راتوں کا ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ : اپنے بھائی ہارون سے ] [ اخْلُفْنِيْ : تو میرے پیچھے رہ ] [ فِيْ قَوْمِيْ : میری قوم میں ] [ وَاَصْلِحْ : اور اصلاح کر ] [ وَلَا تَتَّبِعْ : اور پیروی مت کرنا ] [ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ : نظم بگاڑنے والوں کے راستے کی ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 142 میں تیس…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طور پر تشریف لے جانا اور وہاں چالیس راتیں گزارنا
مصر میں بنی اسرائیل بہت ہی زیادہ مقہور اور مجبور تھے وہاں ان کو حکم تھا کہ ایمان لائیں اور گھروں میں نماز پڑھ لیا کریں۔ جب فرعونیوں سے نجات پا گئے تو اب عمل کرنے اور احکام خداوندیہ کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے شریعت کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت شریف دینے کے لیے طور پہاڑ پر بلایا اور وہاں تیس دن اعتکاف کرنے اور روزے رکھنے کا حکم دیا لیکن تیس راتیں گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مسواک کرلی جس سے وہ خاص قسم کی مہک جاتی رہی جو روزہ دار کے منہ سے پیدا ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
تفسیر
ذکر مکالمہ خداوندی با موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) وعطاء تورات
قال اللہ تعالیٰ وواعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھل یجزون الا ما کانو یعملون
(ربط) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرے گا اور تمہیں ان کا جانشین اور ان کے ملک کا وارث بنائے گا اور اس وقت میں تم کو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب ہدایت مآب لا کر دونگا جو تمہارے لیے دستور العمل ہوگی چناچہ جب فرعون ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل کو اس کے پنجۂ ظلم سے نجات ملی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کتاب کی درخواست کی۔ حکم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر آکر اعتکاف کریں…
Read the full tafseer →133: یہ پانچواں واقعہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ نے تمہارے دشمن فرعون کو ہلاک کردیا تو میں اللہ کی طرف سے ایک کتاب لاؤں گا جس میں شریعت کے تمام احکام مذکور ہوں گے۔ غرق فرعون کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے کتاب کے لیے التجا کی تو حکم ہوا کہ تیس دن کے روزے رکھو، تیس روزوں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے منہ کو بو ناگوار سی محسوس ہوئی تو انہوں نے مسواک سے اس کا ازالہ کردیا اس پر اللہ نے حکم فرمایا تمہارے منہ کی بو مجھے کستوری سے بھی زیادہ پسند تھی مگر تم نے مسواک کر کے اس کو زائل کردیا اس لیے اب دس روزے اور رکھو اس طرح پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
رابط آیات
جب فرعون اور اس کا لشکر بحیرہ قلزم میں غرق ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) واپس مصر میں نہیں آئے بلکہ آگے صحرائے سینا کی طرف چلے گئے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب انہوں نے بحیرہ قلزم کو عبور کیا تو ان کا گزر ایک بستی پر ہوا ج کے لوگ اپنے معبودان باطلہ پر جھکے وہئے تھے یعنی ان کی پرستش کر رہے تھے بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کو عبادت کا یہ ریقہ بھلا معلوم ہوا اور انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ان کے لیے بھی ایک معبود بنا دیاجائے جسے سامنے رکھ کر وہ عبادت کیا کریں آپ نے قوم کو ڈانٹا اور فرمایا ، تم بڑے جاہل ہوگ ہو جس خدا نے تمہیں فضیلت بخشی اور تم پر احسانات کیے کیا اسے…
Read the full tafseer →وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَۃً وَّاَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَۃً 0 ۚ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ 142
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
ترکیب : اربعین کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے ای تم بالغا ھذا العدد لیلۃ منصوب ہے تمیز ہونے کی وجہ سے لمیقاتنا لام بمعنی وقت قال رب الخ شرط یا جواب ہے لما جاء موسیٰ کا موعظۃ وتفصیلا مفعول کتبنا کا من کل شیء صفت ہے اس کی جو مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہے۔
تفسیر : فرعون کا قصہ مجملاً اسی جملہ میں تمام کردیا (ودقرنا ماکان یصنع فرعون وقومہ الخ) قلزم کو عبور کرکے عرب کے ریگستانی اور کو ہی بیابانوں قادسیہ وغیرہ میں آپڑے۔ یہاں اسرائیلیوں نے جو لوگوں کو بت پرستی کرتے دیکھا تو مصریوں کے صحبت یافتہ تو تھے ہی منہ میں پانی بھر آیا کہ حضرت ہمارے لئے بھی ایسے ہی معبود بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے لئے ہیں۔ موسیٰ…
Read the full tafseer →وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ج وَ قَالَ مُوسٰی لِاَخِیْہِ ھٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔
(الاعراف : 142)
” اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم میں میری جانشینی کرنا ‘ اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کی روش کی پیروی نہ کرنا “۔
واعدنا کا مفہوم
اس آیت کریمہ کا پہلا لفظ { وَاعَدْنَا } وعدہ سے مشتق ہے اور وعدہ کی حقیقت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے آزاد ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی شکل میں مفصل ہدایات دیں تاکہ وہ اپنی قوم کی تربیت کرسکیں۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آزادی عنایت فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا کہ انھیں مفصل کتاب دی جائے۔ تاکہ بنی اسرائیل کو شام و فلسطین کا اقتدار ملنے سے پہلے ان کی تربیت کرسکیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر یہ لوگ اپنے آپ کو قیادت کے اہل ثابت کریں۔
چنانچہ حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! آپ تیس دن تک کوہ طور پر اعتکاف کریں۔ جس کو بعد میں چالیس دن کردیا گیا۔ یہ اعتکاف آزادی کا شکریہ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور…
Read the full tafseer →کتاب ملنے کا وعدہ :
آیت 142: وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً (ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے تیس رات کا وعدہ کیا) تو رات دینے کے لیے وَّ اَتْمَمْنٰھَا بِعَشْرٍ (اور مزید دس راتوں سے ان تیس راتوں کو مکمل کردیا) روایت میں ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا جبکہ آپ مصر میں تھے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کو ہلاک کردیا تو تمہیں اپنی طرف سے ایک کتاب دیں گے جب فرعون ہلاک ہوچکا تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں کتاب کا سوال کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے تیس دن کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا یہ ذی القعدہ کا مہینہ تھا۔ جب تیس دن پورے ہوگئے آپ نے منہ میں مہک محسوس…
Read the full tafseer →142(ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ) مکمل ذوالقعدہ (واتممنھا یعشر) ذوالحجہ کے دس دن (فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ وقال موسیٰ ) دعا کے لئے پہاڑ پر جانے کے وقت (لاخیہ ھرون اخلفی فی قومی واصلح ) ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھار کر ان کی اصلاح کرتے رہنا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ ان کیساتھ نرمی کرنا اور ان کی طرف احسان کرنا (ولا تتبع سبیل المفسدین) یعنی جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی ان کی اطاعت نہ کرنا اور ان کے حکم کی موافقت نہ کرنا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا جب وہ مصر میں تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جب تمہارے دشمن کو ہلاک کردیں گے تو ان کو…
Read the full tafseer →اللہ پاک نے بنی اسرائیل پر اپنا احسان اس بات کا جتلایا کہ ہم نے تمہارے نبی موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کہیں اور ان کو تمہاری ہدایت کے لئے تورات دی یہ بھی فرمایا کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور پھر چالیس راتیں پوری کرنے کو کہا یہاں پر مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے موسیٰ ( علیہ السلام) چلہ میں بیٹھے تھے دن کو روزہ رکھتے تھے جب تیس راتیں پوری ہوگئیں تو انہوں نے روزے کی حالت میں مسواک کی اور منہ کو صاف کیا کیونکہ روزہ داروں کے منہ سے ایک طرح کو بو آنے لگتی ہے جس کو اللہ پاک مشک کی خوشبو سے اچھا سمجھتا ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →قول باری ہے ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ واتممنھا بعشر فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ۔ ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لئے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کردیا۔ اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہوگئی) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ) اس لئے فرمایا کہ جب یہ ارشاد ہوا کہ ثلثین لیلۃ واتمماھا بعشر) تو سننے والوں کے لئے اس وہم کی گنجائش پیدا ہوگئی تھی کہ شاید پہلے بیس راتیں تھیں اور پھر اس تعداد میں دس کا اضافہ ہوا اور اس طرح تیس راتیں ہوگئیں اللہ تعالیٰ نے اس وہم اور گنجائش کو زائل کردیا اور یہ بتادیا کہ اس نے تیس راتوں میں مزید دس راتوں…
Read the full tafseer →179 بنی اسرائیل کے لئے دستور حیات کا انتظام : کہ دستور حیات اور کتاب شریعت کی ضرورت سب سے بڑھ کر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے لیے اس کا بھی انتظام کیا تاکہ تم کو دستور حیات اور کتاب شریعت یعنی تورات سے نوازیں، جس کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں تم لوگ پاکیزہ زندگی گزار کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکو کہ انسان کیلئے دستور حیات اور کتاب شریعت کی ضرورت کھانے پینے کی ظاہری اور مادی ضرورتوں سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے اپنے بندوں کیلئے ہمیشہ اس کا بھی انتظام فرمایا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کو دستور و شریعت سے نوازنے کے لئے ہدایت ہوئی کہ تیس دن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 تا 147 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ جب فرعون سے امن نصیب ہوا تو اب ضرورت پیش آئی کہ اگر بت پرستی درست نہیں تو کوئی طریق عبادت اور شریعت تو ہونا چاہئے جسے اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جائے تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ طور پر آ کر تیس راتوں کا اعتکاف کریں تاکہ آپ کو کتاب عطا ہو اور پھر دس راتیں مزید بڑھا دی گئیں یعنی مطلوبہ نسبت یا توجہ الی اللہ تیس کی بجائے چالیس راتوں میں نصیب ہوئی غرض ایک حالت مطلوب تھی جو اللہ کریم چاہتے تو بغیر کسی مجاہدے کے بھی عطا فرما سکتے تھے مگر دنیا عالم اسباب ہے لہذا سبب اختیار کرنے کا حکم دیا۔
خلوت کا اثر :
جہاں…
Read the full tafseer →ف 6 فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ انہیں کتاب عطا کی جائے اور تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی اور پھر اس میں مزید دس دن کا اضافہ کردیا گیا تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں جب موسیٰ ( علیہ السلام) چالیس دن کی یہ معاد پوری کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے اس کلام فرمایا اور انہیں الواح دیئے اکثر مفسیر ن چالیس دونوں سے ذولقعد اور دس ذوالحجہ کے مراد لیے ہیں اس طرح گو یا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو الواح 10 ذولحجہ کو ملیں اور یہی وہ دن…
Read the full tafseer →(7:142) فاتممناھا بعشر۔ اور پورا کیا ہم نے ان (تیس راتوں) کو (مزید) دس راتوں سے۔
فتم۔ پس تمام ہوا۔ یعنی پورا ہوگیا۔ میقات۔ ظرف زمان ۔ مقررہ وقت۔ میعاد۔ وہ میعاد وقت جس میں مقررہ کام کیا جاوے۔ امام راغب نے اس کو اسم آلہ (بروزن مفعال) کہا ہے۔
اربعین لیلۃ۔ چالیس راتیں۔ یہی مدت چلہ کشی کی اصل ہے۔ وضاحت کے لئے کتب تفسیر کی طرف رجوع کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
تشریح آیات نمبر 142 تا 144
فرعون اپنے تمام لاء لشکر کے ساتھ غرق ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری قوتیں بنی اسرائیل کو دے کر ان پر جانشینی اور خلافت کی ذمہ داریاں ڈال دی تھیں ۔ اگر ذمہ داریاں ڈال دی جائیں تو اور ذمہ داریوں کی وضاحت نہ کی جائے تو انسان کس طرح اپنی ذمہ داریون کو پورا کرسکتا ہے اس لئے اب بنی اسرائیل کے لئے ایک کتاب اور مستقل شریعت کی ضرورت تھی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلوایا۔ کوہ طور ایک پہاڑ کا نام نہیں بلکہ یہ متعدد پہاڑ ہیں ۔ کوہ سینا کی چوٹی کا نام طور ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنا احسان اس بات کو جتلایا کہ ہم نے تمارے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں اور ان کو تمہاری ہدایت کے لئے توریت بھی دی۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتیں پوری کرنے کو کہا یعنی ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلہ میں بیٹھے تھے دن کو روزہ رکھتے تھے۔ جب تیس راتیں پوری ہوگئیں تو انہوں نے روزے کی حالت میں مسواک کی اور منہ کو صاف کیا، کیونکہ روزہ دار کے منہ سے ایک طرح کی بو آنے لگتی ہے جس کو اللہ پاک مشک کی خوشبو سے اچھا سمجھتا ہے۔ مسواک کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اور دس راتیں چلے میں بڑھادیں تاکہ روزہ رکھنے سے پھر وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
[50] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41 صفحہ 98۔
Read the full tafseer →چلہ :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کسب انوار کے لئے طور پر بلایا اور کہا چالیس راتیں یہاں زہد وتقشف میں بسر کرو ، میری نگرانی میں رہو پھر تمہیں توریت دی جائے گی اور شریعت کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا جائے گا مقصد یہ تھا اس طرح ترک علائق سے دل میں یکسوئی پیدا ہوجائے ، بےگانگی اسباب سے دل جمعی و استقلال کی عادت پڑجائے ، اور جناب موسیٰ (علیہ السلام) اس قابل ہوجائیں کہ منصب نبوت کے بار عظیم کو باحسن وجہ اٹھا سکیں ،
بات یہ ہے کہ جمال مطلق سے بہرہ اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ گوشہ ہائے قلب میں ریاضت کے دئیے روشن ہوں اور شوق و محبت کے دیئے جلیں ، قلب کا گوشہ گوشہ آغوش انتظار ہوجائے…
Read the full tafseer →142 جب بنی اسرائیل کو اطمینان ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کتاب طلب کی تاکہ اس کتاب پر عمل شروع کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ن جناب باری کی خدمت میں عرض کی اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا یعنی ابتدائً کم از کم تیس رات کوہ طور پر آکر اعتکاف کرو اور پورے مہینے کے روزے رکھو تو ہم تم کو تمہاری امت کے لئے کتاب تورات عنایت کردیں گے بشرطیکہ آداب عبودیت اور صلاحیت و استعداد کی تکمیل ہوگئی ورنہ اس مدت میں اضافہ کردیا جائے گا چناچہ ان تیس راتوں میں ہم نے دس راتوں کا اضافہ کرکے ان راتوں کو پورا کردیا لہٰذا اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →ف 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا اخلقنی فرمانا اس بنا پر ہے کہ حضرت ہارون صرف نبی تھے حاکم اور سلطان نہ تھے اس صفت میں خلیفہ بنانا مقصود ہے استخلاف فی النبوة مقصود نہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلانے کا حکم :
153: اس واقعہ کی تفصیل سورة البقرہ آیت 51 میں گزر چکی ہے وہاں فرمایا تھا : وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ، ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس رات کا وعدہ کیا تھا اس جگہ بھی فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً 1ۚ اس کے رب کا وقت چالیس رات پر پورا ہوگیا فرمایا ہے۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ پہلے تیس رات کا وعدہ کیا تھا اور اس کے گزر جانے کے بعد پھر دس راتیں مزید بڑھا دیں بلکہ مطلب اس جگہ صرف ایک ماہ اور دس دن کو ظاہر کرنے کا ہے کیونکہ تیس رات کا پورا مہینہ بنتا ہے ہاں ! اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →This verse speaks of the period followed by the destruction of the Pharaoh and his people. Having a peaceful time after their deliverance from the Pharaoh and his people the Israelites requested the Prophet Musa (علیہ السلام) to have some religious system of law so that they may act upon it. The Prophet Musa (علیہ السلام) prayed Allah for a code of guidance for them. The Arabic word: واعدنا "wa` adana' is a derivative of وعدہ ; wa` dah' which signifies a worded expression of offering something good to someone - a promise.
Allah made a promise to Musa (علیہ السلام) to send His word to him. It…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
99. After the exodus of the Israelites from Egypt which marks, on the one hand, the end of the constraints of slavery and on the other, the beginning of their life as an independent nation, Moses was summoned by God to Mount Sinai in order that he might receive the Law for Israel. He was initially summoned for a period of forty days so that he might single-mindedly devote himself to worshipping, fasting, meditation and reflection and thus develop the ability to receive the revelation which was to put a very heavy burden upon him.
In compliance with God's command, Moses left the Israelites at…
Read the full tafseer →