Explained with ayahs 140–141
ماضی کی یاد دہانی
انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کیلئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا۔ ایسے رب کے سوا اور کوئی لائق عبادت کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
سورة الْاَعْرَاف 99
مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرئیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ہوگئیں اور انہیں ایک خود مختار قوم کی حیثیت حاصل ہوگئی تو حکم خداوندی کے تحت حضرت موسیٰ ؑ کوہ سینا پر طلب کیے گئے تاکہ انہیں بنی اسرائیل کے لیے شریعت عطا فرمائی جائے کہ حضرت موسیٰ ایک پورا چِلّہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر، شب و روز عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اس قول ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے اس ارشاد کی تعمیل میں کوہ سینا جاتے وقت بنی اسرائیل کو اس مقام پر چھوڑا تھا جو موجودہ نقشہ میں نبی صالح اور کوہ سینا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ ، یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا، بنی اسرائیل کو قوم فرعون کے مقابلہ میں معجزانہ کامیابی حاصل ہوئی اور اطمینان ملا تو اس کا وہی اثر ہوا جو عام قوموں پر عیش و عشرت اور عزت و دولت کا ہوا کرتا ہے کہ ان میں جاہلا نہ چیزیں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔
واقعہ یہ پیش آیا کہ یہ قوم ابھی ابھی اعجاز موسوی کے ساتھ دریا سے پار ہوئی اور پوری قوم فرعون کے غرق دریا ہونے کا تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا آگے بڑھی تو ایک قبیلہ پر گزر ہوا جو مختلف بتوں کی پرستش میں مبتلا تھا، بنی اسرائیل کو کچھ ان کا ہی طریقہ پسند آنے لگ موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ جیسے ان…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭوَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ۔
اس آیت کی تفسیر بقرہ میں بھی گزر چکی ہے اور اس سورة میں بھی۔ یہاں جو چیز قابل توجہ قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت سے لے کر آگے آیت 147 تک اللہ تعالیٰ نے اپنے اس اہتمام کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے بنی اسرائیل نے یہ قدر کی کہ ادھر حضرت موسیٰ طور پر اللہ کی شریعت لینے گئے ادھر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کی تمام نصیحتوں اور ان کے خلیفہ حضرت ہارون کی تمام کوششوں کے علی الرغم وہی بت ڈھال ؛ کر تیار کردیا جس کے…
Read the full tafseer →141۔ 1 یہ وہی آزمائشیں ہیں جن کا ذکر سورة بقرہ میں بھی گزرا ہے اور سورة ابراہیم میں بھی آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
63: بنی اسرائیل حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان تولے آئے تھے اور فرعون کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں کو بھی انہوں نے صبر سے برداشت کیا جس کی تعریف قرآن کریم نے بھی فرمائی ہے لیکن بعد میں انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کو طرح طرح سے پریشان بھی کیا یہاں سے اللہ تعالیٰ اس قسم کے کچھ واقعات بیان فرما رہے ہیں۔
Read the full tafseer →قرآن کا یہ انداز کلام ہے کہ انبیاء کے کلام کے ساتھ متصلاً اللہ کے کلام کو بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کی حکایت کے ساتھ متصلاً اللہ کا کلام بھی آجاتا ہے۔
وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭوَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ۔ اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی ، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے…
Read the full tafseer →9 اس کی تفسیر پارہ الم کے ربع کے بعد ملاحظہ کی جائے۔ یہ مضمون وہاں گزر چکا ہے۔ یعنی جس خدا نے ابھی ابھی تم پر ایسا عظیم الشان احسان فرمایا، کیا اسے چھوڑ کر لکڑیوں اور پتھروں کے سامنے جھکتے ہو ؟
Read the full tafseer →تقریباً یہی الفاظ سورة البقرۃ آیت 49 میں بھی گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–141
135 یعنی میرا تو مشن ہی یہی ہے کہ ایسے بتوں کو برباد کر دوں اور ایسے باطل پرستوں کو ختم کر دوں اور ایک تم ہو کہ مجھی سے کہہ رہے ہو کہ میں تمہیں بت بنا دوں۔ اللہ نے تمہیں فضیلت اس لیے تو نہیں بخشی کہ تم اپنے سے حقیر اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤ لہذا ایسی جہالت کی باتیں نہ کرو۔
Read the full tafseer →182 ۔ ان سب واقعات پر حاشیے سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 6 میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیت نمبر 130 تا 141
ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…
Read the full tafseer →واذا نجینکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب یقتلون ابنآء کم ویستحیون نسآء کم وفی ذلکم بلآء من ربکم عظیم۔ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں کے ظلم سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے تمہارے بیٹوں کو بکثرت مار ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو (اپنی بیگار اور خدمت کے لئے) زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔
واِذْاور اس احسان کو یاد کرو جو اللہ نے تمہارے ساتھ کیا تھا (یعنی اس وقت کے واقعات کو یاد کرو)
یقتلون باب تفعیل سے ہے اور باب تفعیل کبھی تکثیر کے لئے آتا ہے یعنی بکثرت قتل کرتے تھے۔ یقتونکا پورا جملہ یسومونکم سوء العذابکا بیان ہے۔ وفی…
Read the full tafseer →(141) اور جس وقت تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی، جس بنا پر تمہیں نجات دی اس میں بڑی نعمت تھی یا اس کے عذاب دینے میں بڑی بھاری آزمایش تھی۔
Read the full tafseer →وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ۔۔ : چوتھی یہ کہ آل فرعون سے نجات کو یاد کرو کہ اکیلے فرعون ہی نے نہیں بلکہ پوری قوم نے تمہیں غلام بنا رکھا تھا۔ ”بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ“ آزمائش انعام اور مصیبت دونوں طرح ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں تم پر مصیبت کا ابتلا بھی آیا اور انعام کا بھی۔ تمہارے لڑکوں کا ذبح کرنا اور عورتوں کو زندہ رکھ کر لونڈیاں بنا کر ان سے کام لینا اور اپنی خواہش نفس پوری کرنا اور مردوں کو ختم کرنے کے ذریعے سے بنی اسرائیل کی نسل ختم کرنے کا منصوبہ بنانا مصیبت تھا اور اس سے نجات انعام۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (49)۔
ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حنین کی طرف نکلے تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 141
اس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے احسانات یاد دلائے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کے زماننہ کے یہودیوں کو خطاب ہے، یعنی تم وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہارے اسلاف کو نجات دی، جیسا کہ اس کی وضاحت سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لخم (قوم) پر گزرے (جو اپنے بتوں پر اعتکاب کئے ہوئے تھے)
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ قبیلہ لخم اور جذام کے لوگ تھے۔
(3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ تانبے کی مورتیاں تھیں گائے کی شکل کی جب سامری نے بچھڑا بنایا تو ان کو شبہ ہوا کہ وہ اسی گائے میں سے ہے۔…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [ اَنْجَيْنٰكُمْ : ہم نے نجات دی تم کو ] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں سے ] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ تکلیف دیتے تھے تم کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ : برے عذاب کی ] [ يُقَتِّلُوْنَ : وہ قتل کرتے تھے ] [ اَبْنَاۗءَكُمْ : تمہارے بیٹوں کو ] [ وَ يَسْتَحْيُوْنَ : اور زندہ رکھتے تھے ] [ نِسَاۗءَكُمْ : تمہاری عورتوں کو ] [ وَفِيْ ذٰلِكُمْ : اور اس میں ] [ بَلَاۗءٌ: ایک آزمائش تھی ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب (کی طرف ) سے [ عَظِيْمٌ: ایک بڑی (آزمائش ) ]
(آیت ۔ 141) سوء العذاب مرکب اضافی ہے لیکن اس کا ترجمہ مرکب توصیفی میں ہوگا (دیکھیں آیت 20:94، نوٹ ۔ 3) کی رفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–141
فرعون سے نجات دینا بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے :
(وَ اِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ) اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب فرما کر ان بد ترین تکلیفوں کی یاد دہانی فرمائی جو فرعونیوں کی طرف سے بنی اسرائیل کو پہنچا کرتی تھیں۔ یہ آیت تھوڑے سے اختلاف الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ (رکوع 7) میں گزر چکی ہے۔ (انوار البیان ج 1) وہاں اس کی تفصیل اور تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ وہاں یذبحون فرمایا اور یہاں یقتلون فرمایا ہے یہ لفظ کثرت قتل پر دلالت کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
تفسیر
ذکر بعض جہالت بنی اسرائیل باینہمہ انعام جلیل
قال اللہ تعالیٰ وجوزنا ببنی اسرائیل البحر۔۔۔ الی۔۔۔ وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم
(ربط)
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل پر حق تعالیٰ کے انعامات جلیلہ کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں ان کی بعض جہالتوں کا ذکر ہے کہ بت پرستوں کو دیکھ موسیٰ (علیہ السلام) سے ویسی ہی درخواست کرنے لگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس جاہلانہ درخواست پر انہیں سخت سرزنش کی اور حق جل شانہ کے انعامات اور احسانات یاد دلائے کہ باوجود ان احسانات کے تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے عظیم الشان منعم اور محسن کو چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بناؤ اور پتھروں کے سامنے اپنا سر جھکاؤ۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
132: یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے کہ کیسے ناشکر گذار ہو کیا میں اس اللہ کے سوا تمہیں کوئی اور معبود بنا دوں جس اللہ نے تمام دنیا جہاں کے لوگوں پر تم کو فضیلت دی، مراد یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جو لوگ موجود ہیں ان میں تم سب سے افضل ہو اس لیے اس سے امت محمدیہ پر ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ نیز وہ وقت یاد کرو جب فرعون نے تمہیں انتہائی ذلت کے عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، وہ تمہارے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا اس شدید بلاء و مصیبت سے اللہ نے تمہیں نجات عطا فرمائی۔ اس لیے اب تمہیں اس کے ان انعامات کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
بعداز ہلاکت آل فرعون
اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی امت دعوت یعنی فرعون اور اس کی قوم کا کچھ حال بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں آپ کی امت اجابت یعنی بنی اسرائیل کا کچھ تذکرہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے سمندر میں غرق کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متعلق فرمایا وجوزنا ببنی اسرائیل البحر تو ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا یہاں پر دریا سے مراد بحیرہ قلزم ہے جن لوگوں نے اس سے دریائے نیل مراد لیا ہے وہ درست نہیں ہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر بحیرہ قلزم کے کنارے پر پہنچے تھے تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ اپنی…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ 0 ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ 0 ۭ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ 141 ۧ
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
1 ؎ مصر کے لوگ بت پرست تھے اپنے دیوتائوں کی مورتیں مندروں میں رکھ کر پرستش کرتے تھے۔ بیل اور گائے کی بھی پرستش کرتے تھے۔ اس کے ذبح کرنے والے کو مار ڈالتے تھے اور بلی کو بھی پوجتے تھے اور اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے تھے اور اس کو بڑا دیوتا جانتے تھے جیسا کہ قدیم اہل ہند کا دستور تھا۔ ایسی پرستش سے فرعون کا دماغ چل گیا تھا جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا تھا۔ 12 منہ
ترکیب : جاوزنا فعل بافاعل باتعدیہ کے لیے بنی اسرائیل مفعول اول البحر مفعول ثانی کما لہم آلہۃ مایا مصدریہ ہے اور بعد کا جملہ صلہ یا بمعنی الذی والعائد محذوف والٰہ بدل منہ تقدیرہ کالذی ھو لھم اور کاف اور جس پر یہ داخل ہے الہ کی صفت ہے اے…
Read the full tafseer →تمہید
بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرنے کے بعد جب صحرائے سینا میں داخل ہوئے تو ان کا رخ کوہ سینا کی طرف تھا بڑھتے بڑھتے جب وہاں پہنچے جو موجودہ نقشہ میں نبی ٔ صالح اور کوہ سینا کے درمیان وادی الشیخ کے نام سے موسوم ہے اور جو آج کل میدان الراحہ کہلاتا ہے۔ اس وادی کے ایک سرے پر وہ پہاڑی واقع ہے جہاں مقامی روایت کے مطابق حضرت صالح (علیہ السلام) ثمود کے علاقے سے ہجرت کر کے تشریف لے آئے تھے آج وہاں ان کی یاد گار کے طور پر ایک مسجد بنی ہوئی ہے دوسری طرف ایک اور پہاڑی جبل ہارون نام سے موسوم ہے تیسری طرف سینا کا بلند پہاڑ ہے جس کا بالائی حصہ اکثر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے اور جس کی بلندی سات ہزار تین سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ٓزادی حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل کا پہلا جرم۔
بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرکے ایسے علاقے میں پہنچے جہاں کے لوگ بت اور قبر پرست تھے۔ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اسے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود مقرر کیا جائے جس طرح ان لوگوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم انتہائی جاہل قوم ہو۔ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ انھوں نے بنا رکھا ہے وہ باطل اور جھوٹ ہے اور یہ سب کا سب تباہ ہوجائے گا۔ کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو تمہارا معبود ٹھہراؤں حالانکہ اس نے پوری دنیا پر تمہیں فضیلت و عظمت عطا کی ہے…
Read the full tafseer →انعامات سے تذکیر :
آیت 141: وَاِذْ اَنْجَیْنٰـکُمْ مِّنْ ٰالِ فِرْعَوْنَ ۔ (اور جب ہم نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے) ۔ قراءت : اَنْجَاکُمْ شامی نے پڑھا یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْئَ الْعَذَابِ : (جو تمہیں بری تکلیفیں دیتے تھے) وہ تمہارے لیے سخت سزا کے خواہاں تھے۔ یہ سام السلعہ سے لیا گیا ہے جبکہ اس کو طلب کیا جائے۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ نمبر 2۔ مخاطبین سے حال ہے۔ نمبر 3۔ آل فرعون سے حال ہے۔ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآ ئَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآ ئَ کُمْ (وہ تمہارے بیٹوں کو بکثرت قتل کر ڈالتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے) قراءت : نافع نے یَقْتُلُوْنَ پڑھا۔ وَفِیْ…
Read the full tafseer →تفسیر 141(واذا انجینکم) ابن عامر نے ” واذا انجاکم “ پڑھا ہے اور اہل شام کے مصاحف میں بھی اسی طرح ہے (من ال فرعون یسومونکم سواء العذاب یقتلون ابنآء کم) نافع (رح) نے تاء کو بغیر شد کے پڑھا ہے قتل سے اور باقی حضرات نے تاء کو شد کے ساتھ پڑھا ہے تقیل مصدر سے کہ کثرت کے معنی میں ہے۔ (ویستحیون نسآء کم و فی ذلکم بلآء من ربکم عظیم)
Read the full tafseer →یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر کہی کہ وہ وقت یاد کرو جب فرعون تم سے بری طرح پیش آتا تھا تمہارے لڑکے قتل کردیا کرتا تھا اور لڑکیاں زندہ چھوڑ دیا کرتا تھا کہ یہ خدا کا احسان تم پر نہیں ہے کہ اس نے تم کو اس بلا سے چھڑایا اور جب اس کا اتنا بڑا احسان تم پر ہے تو عبادت بھی اسی کی واجب ہے غیر کی تعظیم اور عبادت تم کو ہرگز لائق نہیں ہے اس بیہودہ سوال سے باز آؤ اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں مفصل گذر چکی ہے صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو پیدا کیا اس کے احسنات کو بھول کر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →178 نجات دہندہ اور مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب ہم نے تم کو نجات دی تھی فرعون والوں سے کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ اور جب موسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی حاجت روا ومشکل کشا نہیں، بلکہ وہ بھی مشکلات و مصائب سے رہائی پانے کے لیے ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر اور کون ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہوسکے ؟ سو غلط کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ وحدہ لا شریک کے سوا بغیر کسی سند و دلیل کے طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا ازخود گھڑ رکھے ہیں۔ سو اس ارشاد سے ان کو تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…
Read the full tafseer →ف 5 کہ تم کو ایسی سخت مصیبت سے نجات دی یا دوسرا مطلب یی بھی ہوسکتا کہ اس مصیبت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری سخت ازمائش تھی اور یہ معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 49) اور اگر اس کے مخا طب وہ یہودی ہوں جو آنحضرت کے زمانہ میں موجود تھے تو مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے باپ داداکو فرعون سے نجات دلائی،
Read the full tafseer →(7:141) اذ بمعنی اذکروا۔ یاد کرو۔ یسومونکم۔ وہ تم کو تکلیف دیتے تھے۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ سوم۔ مصدر۔ نیز ملاحظہ ہو۔ 2:49 اور 3:14 ۔
بلائ۔ آزمائش۔ مصدر ہے۔ جب باب نصر سے ہو تو بمعنی آزمائش آتا ہے۔ اور جب باب سمع سے آئے تو بمعنی زائل ہونا۔ بوسیدہ ہونا آتا ہے۔ جیسے ہل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لایبلی (20:120) کیا میں تم کو ایک ایسا درخت نہ بتاؤں جو ہمیشہ رہے اور ایسی بادشاہت جو کبھی زائل نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
تشریح آیات نمبر 138 تا 141
وہ کونسا پانی تھا جسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل نے پا کیا تھا اور جس میں فرعون اور اس کا پور لشکر غرق ہوگیا تھا۔ اس کا صحیح اندازہ تو نہیں کیا جاسکتا البتہ تاریخ اور جغرافیہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ بحیرہ احمر تھا۔ جزیرہ نما سینا کے مغرب میں جہاں اس کا پھیلائو اور پاٹ تنگ ہوجاتا ہے اور جہاں سے اب نہر سوئز شروع ہوتی ہے۔ سمندر کا یہ حصہ خاص مصر کو اور جزیرہ نمائے سینا کو الگ کرتا ہے اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ یہ لوگ سمندرپار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے جہاں سامی قوم کے بڑے چھوٹے بت خانے تھے قرینہ ہے کہ ان ہی بت خانوں کو دیکھ…
Read the full tafseer →یہ بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر کہی وہ وقت یاد کرو جب فرعون تم سے بری طرح پیش آتا تھا۔ تمہارے لڑکے قتل کردیا کرتا تھا اور لڑکیاں زندہ چھوڑ دیا کرتا تھا۔ کیا یہ خدا کا احسان تم پر نہیں ہے اس نے تم کو اس بلا سے چھڑایا اور جب اس کا اتنا بڑا احسان تم پر ہے تو عبادت بھی اسی کی واجب ہے غیر کی تعظیم اور عبادت تم کو ہرگز لائق نہیں ہے۔ اس بیہودہ سوال سے باز آؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
[50] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41 صفحہ 98۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–141
(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی جس کود داری کو بیدار کیا ہے ، اور کہا ہے تم وہ ہو جنہیں اللہ نے خاص مقصد کے لئے قوموں میں سے چن لیا ہے ، اس لئے تم شرک اور بت پرستی کی ذلت کو کیوں برداشت کرو ، اس نے بعد انہیں مصائب کی طرف متوجہ کیا ، اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس شفقت اور مہربانی سے تمہیں فرعون کے دست تظلم سے نجات بخشی ہے ، کیا یہ احسان اس بات کا متقاضی نہیں کہ اس کے اظہار تشکر میں توحید کو قبول کرلیں اور سب دیوتاؤں سے منہ موڑ لیں ۔
حل لغات :
متبر : ھالک ، فنا ہونے والا تبار سے مشتق ہے ۔
نسآء : کا اولین اطلاق عورت پر ہوتا ہے ، یہاں بنات کے معنوں میں مستعمل ہے ۔
Read the full tafseer →141 اور اے بنی اسرائیل تم اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعونیوں سے نجات دی اور فرعون والوں کے مظالم سے بچا نکالا جو تم پر بدترین عذاب کرنے کی تلاش میں رہتے تھے اور تمہیں سخت ایذاء دیتے تھے وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو قتل کردیا کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے اور اس بات پر تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی یعنی بیٹوں کو اس لئے قتل کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کی تعداد نہ بڑھے اور ان میں زور نہ آئے یا موسیٰ (علیہ السلام) نہ پیدا ہوجائے۔ لڑکیوں کو خدمت گزار بنانے کی غرض سے چھوڑ دیتے تھے۔
عذاب کی تلاش یہ کہ سخت سے سخت سزا دیکر بھی دل ٹھنڈا نہ ہوتا تھا اور اس جستجو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ف 2۔ وجہ ان کی اس بےہودہ درخواست کی بغوی نے یہ لکھی ہے کہ ان کو توحید میں شک نہ ہوا تھا بلکہ اپنے غایت جہل سے یہ سمجھے کہ الہ غائب کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اگر کسی شاہد کو ذریعہ بنایا جائے تو یہ امر منافی دیانت نہیں ہے بلکہ اس میں تعظیم و تقرب الی اللہ زیادہ ہے اور چونکہ یہ خیال بھی فی نفسہ نقلا وعقلا غلط ہے اس لیے اس کو جہل فرمایا گیا۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل پر الٰہی انعامات کی بارش کا ذکر :
152: اللہ نے تم کو فرعون اور اس کے لوگوں سے نجات دی جب کہ وہ لوگ تم کو سخت عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے ۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کردیتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو ان کی عصمت سے کھیلنے کے لئے زند رکھتے تھے اور انہوں نے تم کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کر رکھا تھا ۔ تفصیل کے لے سورة بقرہ آیت 49 تا 52 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
After the miraculous victory of the Israelites over Pharaoh and his people, and having a life of ease and comfort, they started to show the signs of ignorance as people of wealth show when given a life of luxury and opulence. The first impertinent request they made was to the prophet Musa (علیہ السلام) to make for them a god like the gods of the people they saw being worshipped on their way. They (the Israelites) said, يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ "0 Musa make a god for us like their gods." He said, قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ "You are really an ignorant…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
99. After the exodus of the Israelites from Egypt which marks, on the one hand, the end of the constraints of slavery and on the other, the beginning of their life as an independent nation, Moses was summoned by God to Mount Sinai in order that he might receive the Law for Israel. He was initially summoned for a period of forty days so that he might single-mindedly devote himself to worshipping, fasting, meditation and reflection and thus develop the ability to receive the revelation which was to put a very heavy burden upon him.
In compliance with God's command, Moses left the Israelites at…
Read the full tafseer →