Al-A'raaf 7:140

Al-A'raaf · from ayah 140

7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۟قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡكُمۡ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَـكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Is it other than Allah I should desire for you as a god while He has preferred you over the worlds?"

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 16 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:140

پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حاﻻنکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور) کہا کہ : کیا تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود ڈھونڈ کر لاؤں حالانکہ اسی نے تمہیں دنیا جہان کے سارے لوگوں پر فضیلت دے رکھی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں، حالانکہ اسی (اللہ) نے تمہیں سارے جہانوں پر فضیلت بخشی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تمہیں جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(پھر) کہا : کیا میں اللہ کے علاوہ تمہارے لیے کوئی اور الٰہ تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا۔ کیا میں تمہارے لی اللہ کے سوا کوئی اور معبود ڈھونڈوں درآنحالیکہ وہی ہے جس نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نیز فرمایا کہ میں اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی معبود تلاش کروں، حالانکہ اسی وحدہ لاشریک نے تم کو فضیلت بخشی ہے سب جہان والوں پر،

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) کہا کیا میں اللہ کے سوا کسی (اور) کو تمہارا معبود تجویز کردوں درآنحالیکہ وہ تم کو دنیا جہان والوں پر فضلیت دے چکا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(حضرت موسیٰ ؑ نے) فرمایا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں جب کہ اس نے تمہیں فضیلت دی ہے تمام جہان والوں پر !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (یہ بھی کہا کہ) بھلا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said: 'Should I seek any god for you other than Allah although it is He who has exalted you above all?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Shall I seek any one other than Allah as God for you, while He has given you excellence over the (people of all the) worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Shall I seek any one other than Allah as God for you, while He has given you excellence over the (people of all the) worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Shall I seek for you an ilah (a god) other than Allah, while He has given you superiority over the nations."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Shall I seek for you a god other than Allah when He hath favoured you above (all) creatures?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Is it other than Allah I should desire for you as a god while He has preferred you over the worlds?"

— Saheeh International

Should I choose for you a lord other than God who has favored you above all other people?

— Muhammad Sarwar

He said: What! shall I seek for you a god other than Allah while He has made you excel (all) created things?

— Muhammad Habib Shakir

He said: shall I seek for you a god other than Allah, whereas He hath preferred you above the worlds?

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Shall I seek for you a god other than the (true) Allah, when it is Allah Who hath endowed you with gifts above the nations?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:140

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 140–141

ماضی کی یاد دہانی انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کیلئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا۔ ایسے رب کے سوا اور کوئی لائق عبادت کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 139–142

سورة الْاَعْرَاف 99 مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرئیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ہوگئیں اور انہیں ایک خود مختار قوم کی حیثیت حاصل ہوگئی تو حکم خداوندی کے تحت حضرت موسیٰ ؑ کوہ سینا پر طلب کیے گئے تاکہ انہیں بنی اسرائیل کے لیے شریعت عطا فرمائی جائے کہ حضرت موسیٰ ایک پورا چِلّہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر، شب و روز عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اس قول ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس ارشاد کی تعمیل میں کوہ سینا جاتے وقت بنی اسرائیل کو اس مقام پر چھوڑا تھا جو موجودہ نقشہ میں نبی صالح اور کوہ سینا کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 138–141

وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ ، یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا، بنی اسرائیل کو قوم فرعون کے مقابلہ میں معجزانہ کامیابی حاصل ہوئی اور اطمینان ملا تو اس کا وہی اثر ہوا جو عام قوموں پر عیش و عشرت اور عزت و دولت کا ہوا کرتا ہے کہ ان میں جاہلا نہ چیزیں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ یہ قوم ابھی ابھی اعجاز موسوی کے ساتھ دریا سے پار ہوئی اور پوری قوم فرعون کے غرق دریا ہونے کا تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا آگے بڑھی تو ایک قبیلہ پر گزر ہوا جو مختلف بتوں کی پرستش میں مبتلا تھا، بنی اسرائیل کو کچھ ان کا ہی طریقہ پسند آنے لگ موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ جیسے ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 139–140

اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ ، یہ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں سب خدا کے ہاں بالکل بربراد و پامال کردیا جائے گا اس لیے کہ یہ یکسر باطل ہے۔ سوچو کہ اپنی ہدایت و شریعت کے لیے تمہارا انتخاب کر کے تمہیں ساری دنیا پر فضیلت و سرفرازی تو اللہ نے بخشی تو کیا اب میں اس کو چھوڑ کر تمہارے لیے کوئی اور معبود ڈھونڈنے نکلوں۔ اس سے بڑی ناشکری و ناسپاسی اور کیا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

140۔ 1 کیا جس اللہ نے تم پر اتنے احسانات اور تمہیں جہانوں پر فضیلت بھی عطا کی، اسے چھوڑ کر میں تمہارے لئے پتھر اور لکڑی کے تراشے ہوئے بت تلاش کروں، یعنی یہ ناشکری اور احسان ناشناسی میں کس طرح کرسکتا ہوں ؟ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ کے مزید احسا نات کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 138–141

63: بنی اسرائیل حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان تولے آئے تھے اور فرعون کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں کو بھی انہوں نے صبر سے برداشت کیا جس کی تعریف قرآن کریم نے بھی فرمائی ہے لیکن بعد میں انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کو طرح طرح سے پریشان بھی کیا یہاں سے اللہ تعالیٰ اس قسم کے کچھ واقعات بیان فرما رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں اپنے نظریہ حیات اور اپنے رب کے بارے میں غیرت کی وجہ سے مزید جوش آجاتا ہے۔ ان کا نغمہ تیز تر ہوجاتا ہے اور وہ برہمی کے ساتھ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ابھی ابھی سمندر کے کنارے جو کچھ ہوا تم بھول گئے ہو ، تم اپنے مرتبہ ومقام کا خیال بھی نہیں رکھتے۔ (قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) ۔ : " پھر موسیٰ نے کہا " کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قومیں پر فضیلت بخشی ہے " اس دور میں تمام اقوام پر بنی اسرائیل کی فضیلت واضح ہے کہ تمام مشرک اقوام میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی خدا کے انعامات عظیمہ کی شکر گزاری اور حق شناسی کیا یہ ہی ہوسکتی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کر کے اللہ سے بغاوت کی جائے۔ پھر بڑی شرم کا مقام ہے کہ جس مخلوق کو خدا نے سارے جہان پر فضیلت دی وہ اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی مورتیوں کے سامنے سربسجود ہوجائے ؟ کیا مفضول افضل کا معبود بن سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 138–140

آیت 138 وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ بنی اسرائیل خلیج سویز کو عبور کر کے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے تھے۔ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّہُمْ ج۔ بتوں کا اعتکاف کرنے سے مراد بتوں کے سامنے پوری توجہ اور یکسوئی سے بیٹھنا ہے جو بت پرستوں کا طریقہ ہے۔ بت پرستی کے اس فلسفے پر ڈاکٹر رادھا کرشنن 1888 ء تا 1975 ء نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن ساٹھ کی دہائی میں ہندوستان کے صدر بھی رہے۔ انہوں نے اپنی تصنیفات کے ذریعے ہندوستان کے فلسفے کو زندہ کیا۔ یہ برٹرینڈرسل 1872 ء تا 1970 ء کے ہم عصر تھے اور یہ دونوں اپنے زمانے میں چوٹی کے فلسفی تھے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 139–141

135 یعنی میرا تو مشن ہی یہی ہے کہ ایسے بتوں کو برباد کر دوں اور ایسے باطل پرستوں کو ختم کر دوں اور ایک تم ہو کہ مجھی سے کہہ رہے ہو کہ میں تمہیں بت بنا دوں۔ اللہ نے تمہیں فضیلت اس لیے تو نہیں بخشی کہ تم اپنے سے حقیر اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤ لہذا ایسی جہالت کی باتیں نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

181 ۔ (بہ حیثیت علمبردار توحید کے) حضرت (علیہ السلام) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ شرک تو کسی قوم کے لیے کسی حال میں بھی جائز نہیں چہ جائیکہ تمہارے لیے جو شروع توحید کے حامل اور علمبرداربنا کر بھیجے گئے ہو۔ افضیلت بنی اسرائیل پر حاشیے سورة بقرہ، پارۂ اول رکوع 5، 6، میں گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 130–141

آیت نمبر 130 تا 141 ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال اغیر اللہ ابغیکم الہا وہو فضلکم علی العلمین موسیٰ ( علیہ السلام) نے (بطور زجر و تعجب) کہا کیا میں تمہارے لئے کوئی دوسرا معبود طلب کروں حالانکہ اللہ ہی نے تم کو (اس زمانہ کے) سب لوگوں پر برتری عطا فرمائی ہے یعنی تم کو ایسی نعمتوں سے نوازا ہے کہ اس زمانہ میں کسی کو ایسا نہیں نوازا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس قول میں تنبیہ ہے کہ تم نے اللہ کی ان نعمتوں کا جو اس نے صرف تم کو عطا فرمائیں اور بغیر استحقاق کے محض اپنے کرم سے عطا فرمائیں برا بدلہ دیا کہ اللہ کی ذلیل مخلوق کو استحقاق معبودیت میں اللہ سے جا ملایا حالانکہ اس کی کوئی مثل نہیں۔ حضرت واقد لیثی کا بیان ہے کہ ایک بار حنین کی جانب ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(140) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا ایسے باطل الہ (معبود) کی پوجا کا تمہیں حکم کروں، حالانکہ اس نے تمام لوگوں پر تمہیں اسلام کی وجہ سے فضیلت دی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا۔۔ : تیسری ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے بطور سوال ڈانٹ ہے کہ کیا الٰہ (معبود) بھی کوئی ایسی ہستی ہے کہ انسان جسے جی چاہے بنا لے، بلکہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو انسان کو ہر قسم کے انعامات سے نوازتا ہے اور پھر جس ذات نے تم پر بےبہا انعامات کیے ہیں اور تمہیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے، کیا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو ؟ یہ شکر گزاری نہیں بلکہ عین ناشکری اور نمک حرامی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 139–140

قولہ تعالیٰ ؛ آیت : ان ھولاء متبر ما ھم فیہ، متبر بمعنی مھلک ( ہلاک کیا گیا) ہے اور تبار بمعنی ہلاک) ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 448 ) ۔ ہر ٹوٹا ہوا برتن متبر کہلاتا ہے۔ اور امر متبر ( تباہ حال معاملہ) یعنی بلاشبہ عابد اور معبود ہلاک ہو کر رہیں گے۔ اور قولہ وبطل یعنی ختم ہوجانے والا اور اڑ اجانے والا ہے۔ آیت : ما کانوا یعملون اس میں کانوا صلہ زائدہ ہے۔ آیت : قال اغیر اللہ ابغیکم الھا یعنی آپ نے فرمایا : کیا میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خدا تلاش کروں ؟ کہا جاتا ہے : بغیتہ وبغیت لہ ( میں نے اسے چاہا اور اس کے لیے طلب کیا) آیت : وھو فضلکم علی العلمین یعنی حالانکہ اسی نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 138–141

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لخم (قوم) پر گزرے (جو اپنے بتوں پر اعتکاب کئے ہوئے تھے) (2) امام ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ قبیلہ لخم اور جذام کے لوگ تھے۔ (3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ تانبے کی مورتیاں تھیں گائے کی شکل کی جب سامری نے بچھڑا بنایا تو ان کو شبہ ہوا کہ وہ اسی گائے میں سے ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : (موسی نے ) کہا ] [ اَ : کیا ] [ غَيْرَ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ کو ] [ اَبْغِيْكُمْ : میں چاہوں تمہارے لیے ] [ اِلٰهًا : بطور الہ ] [ وَّ : حالانکہ ] [ هُوَ : اس نے ] [ فَضَّلَكُمْ : فضیلت دی ہے تم کو ] [ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 139–141

فرعون سے نجات دینا بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے : (وَ اِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ) اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب فرما کر ان بد ترین تکلیفوں کی یاد دہانی فرمائی جو فرعونیوں کی طرف سے بنی اسرائیل کو پہنچا کرتی تھیں۔ یہ آیت تھوڑے سے اختلاف الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ (رکوع 7) میں گزر چکی ہے۔ (انوار البیان ج 1) وہاں اس کی تفصیل اور تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ وہاں یذبحون فرمایا اور یہاں یقتلون فرمایا ہے یہ لفظ کثرت قتل پر دلالت کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 138–141

تفسیر ذکر بعض جہالت بنی اسرائیل باینہمہ انعام جلیل قال اللہ تعالیٰ وجوزنا ببنی اسرائیل البحر۔۔۔ الی۔۔۔ وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (ربط) گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل پر حق تعالیٰ کے انعامات جلیلہ کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں ان کی بعض جہالتوں کا ذکر ہے کہ بت پرستوں کو دیکھ موسیٰ (علیہ السلام) سے ویسی ہی درخواست کرنے لگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس جاہلانہ درخواست پر انہیں سخت سرزنش کی اور حق جل شانہ کے انعامات اور احسانات یاد دلائے کہ باوجود ان احسانات کے تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے عظیم الشان منعم اور محسن کو چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بناؤ اور پتھروں کے سامنے اپنا سر جھکاؤ۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 140–141

132: یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے کہ کیسے ناشکر گذار ہو کیا میں اس اللہ کے سوا تمہیں کوئی اور معبود بنا دوں جس اللہ نے تمام دنیا جہاں کے لوگوں پر تم کو فضیلت دی، مراد یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جو لوگ موجود ہیں ان میں تم سب سے افضل ہو اس لیے اس سے امت محمدیہ پر ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ نیز وہ وقت یاد کرو جب فرعون نے تمہیں انتہائی ذلت کے عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، وہ تمہارے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا اس شدید بلاء و مصیبت سے اللہ نے تمہیں نجات عطا فرمائی۔ اس لیے اب تمہیں اس کے ان انعامات کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 138–141

بعداز ہلاکت آل فرعون اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی امت دعوت یعنی فرعون اور اس کی قوم کا کچھ حال بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں آپ کی امت اجابت یعنی بنی اسرائیل کا کچھ تذکرہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے سمندر میں غرق کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متعلق فرمایا وجوزنا ببنی اسرائیل البحر تو ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا یہاں پر دریا سے مراد بحیرہ قلزم ہے جن لوگوں نے اس سے دریائے نیل مراد لیا ہے وہ درست نہیں ہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر بحیرہ قلزم کے کنارے پر پہنچے تھے تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ اپنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَغَيْرَ اللہِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰہًا وَّہُوَفَضَّلَكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝ 140 غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 138–141

1 ؎ مصر کے لوگ بت پرست تھے اپنے دیوتائوں کی مورتیں مندروں میں رکھ کر پرستش کرتے تھے۔ بیل اور گائے کی بھی پرستش کرتے تھے۔ اس کے ذبح کرنے والے کو مار ڈالتے تھے اور بلی کو بھی پوجتے تھے اور اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے تھے اور اس کو بڑا دیوتا جانتے تھے جیسا کہ قدیم اہل ہند کا دستور تھا۔ ایسی پرستش سے فرعون کا دماغ چل گیا تھا جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا تھا۔ 12 منہ ترکیب : جاوزنا فعل بافاعل باتعدیہ کے لیے بنی اسرائیل مفعول اول البحر مفعول ثانی کما لہم آلہۃ مایا مصدریہ ہے اور بعد کا جملہ صلہ یا بمعنی الذی والعائد محذوف والٰہ بدل منہ تقدیرہ کالذی ھو لھم اور کاف اور جس پر یہ داخل ہے الہ کی صفت ہے اے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰہًا وَّ ھُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَاِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ ج یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآئَکُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَکُمْ ط وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (الاعراف : 141، 140) ” اس نے کہا کیا میں تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں ‘ درآنحالیکہ وہی ہے جس نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی۔ اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں نہایت برے عذاب چکھاتے تھے وہ تمہارے بیٹوں کو بےدردی سے قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 138–141

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ٓزادی حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل کا پہلا جرم۔ بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرکے ایسے علاقے میں پہنچے جہاں کے لوگ بت اور قبر پرست تھے۔ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اسے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود مقرر کیا جائے جس طرح ان لوگوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم انتہائی جاہل قوم ہو۔ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ انھوں نے بنا رکھا ہے وہ باطل اور جھوٹ ہے اور یہ سب کا سب تباہ ہوجائے گا۔ کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو تمہارا معبود ٹھہراؤں حالانکہ اس نے پوری دنیا پر تمہیں فضیلت و عظمت عطا کی ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 140: قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰھًا (اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سواء اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کر دوں) یعنی کیا میں تمہیں ایسا معبود تلاش کرکے دوں جو سرے سے ہی عبادت کا حقدار نہیں۔ وَّ ھُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے) یہ حال ہے مراد اس زمانہ کے لوگ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

140(قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے (اغیر اللہ ابغیکم الھا وھو فضلکم علی العلمین) تمہارے زمانے کے جہان والوں پر ۔ حضرت ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے کہ ہم نکلے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حنین کی جانب تو ہمارا گزر ایک بیری پر ہوا تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے لئے چیزیں لٹکانے کے لئے کوئی جگہ مقرر کردیں جیسا کہ کفار کے لئے ذات انواط تھی کہ کفار اپنے ہتھیار ایک بیری کے ساتھ لٹکا دیتے تھے اور اس کے اردگرد چکر لگاتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر یہ فرمائش ایسے ہے جیسے بنی اسرائیل نے کہا تھا ” اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ “ البتہ تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر یہ کہا کہ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود میں تمہارے لئے تلاش کروں بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس خدا نے تمہیں ذلت ورسوائی سے رہائی دی فرعون اور قبطی تمہیں خوار و ذلیل سمجھتے تھے قیدیوں کی طرح تمہیں نظر بند کر رکھا تھا اس صاحب قدرت نے ان کے پنجے سے تم کو چھڑایا اور ان دشمنوں کو غارت کر کے تمہارے کلیجے کو ٹھنڈا کیا اور پھر تم پر یہ فضل کیا کہ ان کی سلطنت تمہیں بخشی تمہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایا اسے چھوڑ کر اور دین کی عبادت کب زیبا ہے کیا اس کے انعام اور فضل کا یہی شکر اور مقابلہ ہے جس کا وسوسہ تمہارے دل میں گذرا ہے صحیح بخاری ومسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

177 معبود برحق اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کوئی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے مزید کہا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کرلوں حالانکہ اسی وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو فضیلت بخشی ہے سب جہانوں پر۔ یعنی جب معبود حقیقی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی ہے ہی نہیں اور اس نے تم لوگوں کو طرح طرح کے انعامات اور احسانات سے بھی نوازا ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ میں اس خالق ومالک حقیقی اور معبود برحق کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں ؟ کہ اس کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔ سو تم لوگ ذرا سوچو کہ تمہارے رب نے اپنی ہدایت اور شریعت کے لئے تمہارا انتخاب کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اس آیت میں بھی ان کے مطالبہ کی تر دید اور انکار و توبیخ کے اسلوب میں اس پر اظہار تعجب ہے ( رازی) یعنی الہ (معبود) کوئی ایسی ہستی نہیں ہوسکتی انسان کو جسے جی چاہے بنالے بلکہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو انسان کی ہر قسم کے انعامات سے نوازتا رہے اور پھر جس ذات ن تم پر انعامات کئے اور تمہیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے کی ا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو ؟ یہ شرکزاری نہیں بلکہ عین ناشکر اور نمک حرام ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:140) ابغیکم۔ میں تمہارے لئے تلاش کروں۔ ابغی مضارع واحد متکلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 138–141

تشریح آیات نمبر 138 تا 141 وہ کونسا پانی تھا جسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل نے پا کیا تھا اور جس میں فرعون اور اس کا پور لشکر غرق ہوگیا تھا۔ اس کا صحیح اندازہ تو نہیں کیا جاسکتا البتہ تاریخ اور جغرافیہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ بحیرہ احمر تھا۔ جزیرہ نما سینا کے مغرب میں جہاں اس کا پھیلائو اور پاٹ تنگ ہوجاتا ہے اور جہاں سے اب نہر سوئز شروع ہوتی ہے۔ سمندر کا یہ حصہ خاص مصر کو اور جزیرہ نمائے سینا کو الگ کرتا ہے اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ یہ لوگ سمندرپار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے جہاں سامی قوم کے بڑے چھوٹے بت خانے تھے قرینہ ہے کہ ان ہی بت خانوں کو دیکھ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 139–140

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بنی اسرائیل کو نصیحت پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر کہا کہ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود میں تمہارے لئے تلاش کروں۔ بڑے حیف کی بات ہے کہ جس خدا نے تمہیں ذلت و رسوائی سے رہائی دی فرعون و قبطی تمہیں ذلیل و خوار سمجھتے تھے ان دشمنوں کو غارت کرکے ان کی سلطنت تمہیں بخشی۔ تمہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایا اسے چھوڑ کر اوروں کی عبادت کب زیبا ہے۔ کیا اس کے انعام و فضل کا یہی شکر اور مقابلہ ہے جس کا وسوسہ تمہارے دل میں گزرا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 140–141

(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی جس کود داری کو بیدار کیا ہے ، اور کہا ہے تم وہ ہو جنہیں اللہ نے خاص مقصد کے لئے قوموں میں سے چن لیا ہے ، اس لئے تم شرک اور بت پرستی کی ذلت کو کیوں برداشت کرو ، اس نے بعد انہیں مصائب کی طرف متوجہ کیا ، اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس شفقت اور مہربانی سے تمہیں فرعون کے دست تظلم سے نجات بخشی ہے ، کیا یہ احسان اس بات کا متقاضی نہیں کہ اس کے اظہار تشکر میں توحید کو قبول کرلیں اور سب دیوتاؤں سے منہ موڑ لیں ۔ حل لغات : متبر : ھالک ، فنا ہونے والا تبار سے مشتق ہے ۔ نسآء : کا اولین اطلاق عورت پر ہوتا ہے ، یہاں بنات کے معنوں میں مستعمل ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

140 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میں تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس معبود حقیقی نے تم کو اس زمانے میں تمام اقوام ِ عالم پر برتری اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یعنی بجائے شکر بجالانے کے شرک کی ہوس اور خواہش کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 138–141

ف 2۔ وجہ ان کی اس بےہودہ درخواست کی بغوی نے یہ لکھی ہے کہ ان کو توحید میں شک نہ ہوا تھا بلکہ اپنے غایت جہل سے یہ سمجھے کہ الہ غائب کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اگر کسی شاہد کو ذریعہ بنایا جائے تو یہ امر منافی دیانت نہیں ہے بلکہ اس میں تعظیم و تقرب الی اللہ زیادہ ہے اور چونکہ یہ خیال بھی فی نفسہ نقلا وعقلا غلط ہے اس لیے اس کو جہل فرمایا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم کو فضیلت بخشنے والا اللہ ہے اس کو چھوڑ کر اس کس کی تلاش کروں ؟ : 151: غور کرو کہ اپنی ہدایت و شریعت کے لئے تمہارا انتخاب کر کے تمہیں ساری دنیا پر فضیلت بخشی تو کیا اب میں اس اللہ کو چھوڑ کر تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں تو اس سے بڑی ناشکری اور ناسپاسی اور کیا ہوگی اور تعجب ہے جس بات پر تم ریجھ گئے ہو اس کا کوئی سر پیر بھی ہو ؟ تف ہے تمہاری اس ذہنیت پر کہ تم نے ایسی بات کہہ دی جس کی کم از کم تم سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ پھر اپنے مسلک کی بڑی زور دار دلیل پیش فرمائی کہ میں اپنے خالق حقیقی کے سوا کسی غیر کی عبادت نہیں کرتا۔ فرمایا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور جو فضیلت اور شرف اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 138–141

After the miraculous victory of the Israelites over Pharaoh and his people, and having a life of ease and comfort, they started to show the signs of ignorance as people of wealth show when given a life of luxury and opulence. The first impertinent request they made was to the prophet Musa (علیہ السلام) to make for them a god like the gods of the people they saw being worshipped on their way. They (the Israelites) said, يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ "0 Musa make a god for us like their gods." He said, قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ "You are really an ignorant…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 139–142

99. After the exodus of the Israelites from Egypt which marks, on the one hand, the end of the constraints of slavery and on the other, the beginning of their life as an independent nation, Moses was summoned by God to Mount Sinai in order that he might receive the Law for Israel. He was initially summoned for a period of forty days so that he might single-mindedly devote himself to worshipping, fasting, meditation and reflection and thus develop the ability to receive the revelation which was to put a very heavy burden upon him. In compliance with God's command, Moses left the Israelites at…

Read the full tafseer →