Explained with ayahs 138–139
شوق بت پرستی
اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی حضرت موسیٰ سے کہنے لگے کہ " ہمارے لئے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اسکے جواب میں فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
سورة الْاَعْرَاف 99
مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرئیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ہوگئیں اور انہیں ایک خود مختار قوم کی حیثیت حاصل ہوگئی تو حکم خداوندی کے تحت حضرت موسیٰ ؑ کوہ سینا پر طلب کیے گئے تاکہ انہیں بنی اسرائیل کے لیے شریعت عطا فرمائی جائے کہ حضرت موسیٰ ایک پورا چِلّہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر، شب و روز عبادت اور تفکر و تدبر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اس قول ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے اس ارشاد کی تعمیل میں کوہ سینا جاتے وقت بنی اسرائیل کو اس مقام پر چھوڑا تھا جو موجودہ نقشہ میں نبی صالح اور کوہ سینا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ ، یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا، بنی اسرائیل کو قوم فرعون کے مقابلہ میں معجزانہ کامیابی حاصل ہوئی اور اطمینان ملا تو اس کا وہی اثر ہوا جو عام قوموں پر عیش و عشرت اور عزت و دولت کا ہوا کرتا ہے کہ ان میں جاہلا نہ چیزیں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔
واقعہ یہ پیش آیا کہ یہ قوم ابھی ابھی اعجاز موسوی کے ساتھ دریا سے پار ہوئی اور پوری قوم فرعون کے غرق دریا ہونے کا تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا آگے بڑھی تو ایک قبیلہ پر گزر ہوا جو مختلف بتوں کی پرستش میں مبتلا تھا، بنی اسرائیل کو کچھ ان کا ہی طریقہ پسند آنے لگ موسیٰ ؑ سے درخواست کی کہ جیسے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ ، یہ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں سب خدا کے ہاں بالکل بربراد و پامال کردیا جائے گا اس لیے کہ یہ یکسر باطل ہے۔ سوچو کہ اپنی ہدایت و شریعت کے لیے تمہارا انتخاب کر کے تمہیں ساری دنیا پر فضیلت و سرفرازی تو اللہ نے بخشی تو کیا اب میں اس کو چھوڑ کر تمہارے لیے کوئی اور معبود ڈھونڈنے نکلوں۔ اس سے بڑی ناشکری و ناسپاسی اور کیا ہوگی۔
Read the full tafseer →139۔ 1 یعنی مورتیوں کے پجاری جن کے حال نے تمہیں بھی دھوکے میں ڈال دیا، ان کا مقدر تباہی اور ان کا یہ فعل باطل اور خسارے کا باعث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
63: بنی اسرائیل حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان تولے آئے تھے اور فرعون کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں کو بھی انہوں نے صبر سے برداشت کیا جس کی تعریف قرآن کریم نے بھی فرمائی ہے لیکن بعد میں انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کو طرح طرح سے پریشان بھی کیا یہاں سے اللہ تعالیٰ اس قسم کے کچھ واقعات بیان فرما رہے ہیں۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے ہیں کہ جس بت پرستی میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی بری چیز ہے اور ان کی جانب سے یہ سراسر غیر معقول مطالبہ ہے ، کیا تم ایسے لوگوں کی پیروی کرتے ہو جو خود ہلاک و برباد ہونے والے ہیں ؟ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے "
یہ شرک و بت پرستی ، یہ بتوں کی پوجا پاٹ ، یہ بت پرستانہ تہذیب و تمدن جس میں کئی رب ہوں اور ان ارباب کے نیچے پھر مسند نشستیں اور مذہبی لیڈر ہوں اور حاکم و محکوم ہوں اور وہ بت پرستی سے اپنے…
Read the full tafseer →7 یعنی ان کا بت پرستی کا مذہب میرے اور اہل حق کے ہاتھوں سے آئندہ تباہ ہونے والا ہے اور جو کچھ سوانگ یہ اب تک بناتے رہے ہیں وہ محض باطل، غلط، بیکار اور بےحقیقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
آیت 138 وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ
بنی اسرائیل خلیج سویز کو عبور کر کے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے تھے۔
فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّہُمْ ج۔
بتوں کا اعتکاف کرنے سے مراد بتوں کے سامنے پوری توجہ اور یکسوئی سے بیٹھنا ہے جو بت پرستوں کا طریقہ ہے۔ بت پرستی کے اس فلسفے پر ڈاکٹر رادھا کرشنن 1888 ء تا 1975 ء نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن ساٹھ کی دہائی میں ہندوستان کے صدر بھی رہے۔ انہوں نے اپنی تصنیفات کے ذریعے ہندوستان کے فلسفے کو زندہ کیا۔ یہ برٹرینڈرسل 1872 ء تا 1970 ء کے ہم عصر تھے اور یہ دونوں اپنے زمانے میں چوٹی کے فلسفی تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–141
135 یعنی میرا تو مشن ہی یہی ہے کہ ایسے بتوں کو برباد کر دوں اور ایسے باطل پرستوں کو ختم کر دوں اور ایک تم ہو کہ مجھی سے کہہ رہے ہو کہ میں تمہیں بت بنا دوں۔ اللہ نے تمہیں فضیلت اس لیے تو نہیں بخشی کہ تم اپنے سے حقیر اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤ لہذا ایسی جہالت کی باتیں نہ کرو۔
Read the full tafseer →180 ۔ یعنی ان کا یہ شغل بت پرستی بجائے خود بھی باطل ہے اور انجام کار اس کے حق میں خدائے قادر وقدوس کی طرف سے تباہی و بربادی بھی ہے۔ تم آخر کیا ایسوں کی تقلید کی طرف جارہے ہو ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل باطل کے ساتھ تشبہ تو دنیوی عادات میں بھی مذموم ہے چہ جائیکہ رسول عبادت وغیرہ میں !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیت نمبر 130 تا 141
ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…
Read the full tafseer →ان ہولآء متبر ماہم فیہ وبطل ما کانوا یعملون۔ یہ لوگ جس (مذہب) میں ہیں وہ تباہ ہونے والا ہے اور جو کچھ کر رہے ہیں وہ بےحقیقت اور بیکار ہے۔
یعنی اللہ کا قرب اس سے نہیں ملے گا۔ اٰلہًا یعنی مورتی جس کی ہم پوجا کریں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کی یہ درخواست اس بناء پر نہ تھی کہ ان کو اللہ کی وحدانیت میں کوئی شک تھا بلکہ وہ اپنی عقل کی کمزوری اور انتہائی جہالت سے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اس عمل سے دینداری میں کوئی خرابی نہیں آئے گی اور ہم مقرر کردہ مورتی کی تعظیم کر کے اللہ کے مقرب ہوجائیں گے۔ اتنی آیات قدرت دیکھنے کے بعد جب بنی اسرائیل نے ایسی جاہلانہ درخواست کی تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →(139) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا تم حکم الہی سے ناواقف ہو۔ یہ جس شرک میں مبتلا ہیں، وہ ہلاک کیا جائے گا اور یہ شرک فی نفسہ گمراہی ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ۔۔ : موسیٰ ؑ نے ان کے مطالبے کے جواب میں چار باتیں فرمائیں، پہلی یہ کہ تم لوگ جہالت، یعنی نادانی اور اکھڑ پن اختیار کر رہے ہو، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا ہے۔ دوسری یہ کہ یہ لوگ اس وقت جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ و برباد کردیا جانے والا ہے اور اس سے پہلے بھی یہ جو کچھ کرتے آئے ہیں، باطل ہے۔ ایسے کام کا مطالبہ دنیا میں گمراہی و تباہی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
قولہ تعالیٰ ؛ آیت : ان ھولاء متبر ما ھم فیہ، متبر بمعنی مھلک ( ہلاک کیا گیا) ہے اور تبار بمعنی ہلاک) ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 448 ) ۔ ہر ٹوٹا ہوا برتن متبر کہلاتا ہے۔ اور امر متبر ( تباہ حال معاملہ) یعنی بلاشبہ عابد اور معبود ہلاک ہو کر رہیں گے۔ اور قولہ وبطل یعنی ختم ہوجانے والا اور اڑ اجانے والا ہے۔ آیت : ما کانوا یعملون اس میں کانوا صلہ زائدہ ہے۔
آیت : قال اغیر اللہ ابغیکم الھا یعنی آپ نے فرمایا : کیا میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خدا تلاش کروں ؟ کہا جاتا ہے : بغیتہ وبغیت لہ ( میں نے اسے چاہا اور اس کے لیے طلب کیا) آیت : وھو فضلکم علی العلمین یعنی حالانکہ اسی نے تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لخم (قوم) پر گزرے (جو اپنے بتوں پر اعتکاب کئے ہوئے تھے)
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ قبیلہ لخم اور جذام کے لوگ تھے۔
(3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لہم “ کے بارے میں فرمایا کہ تانبے کی مورتیاں تھیں گائے کی شکل کی جب سامری نے بچھڑا بنایا تو ان کو شبہ ہوا کہ وہ اسی گائے میں سے ہے۔…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : یقینا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ !] [ مُتَبَّرٌ: برباد کیا ہوا ہے ] [ مَّا : وہ ] [ هُمْ : یہ لوگ ] [ فِيْهِ : جس میں ہیں ] [ وَبٰطِلٌ: اور باطل ہے ] [ مَّا : وہ جو ] [ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ]
ت ب ر : (س) تبرا ۔ ہلاک ہونا ۔ برباد ہونا ۔ تبار ۔ اسم ذات ہے ، تباہی ۔ بربادی ۔ ولا تزد الظلمین الا تبارا [ اور تو زیادہ نہ کر ظالموں کو مگر تباہی میں ] 71:28 ۔ تفعیل ۔ تتبیرا ۔ تباہ کرنا ۔ برباد کرنا ۔ وکلا تبرنا تتبیرا [ اور سب کو ہم نے برباد کیا جیسا برباد کرنے کا حق ہے ] 25:39 ۔ متبرا ، اسم المفعول ہے اور ظرف بھی (1) برباد کیا ہوا ۔ (2) بربادشدہ جگہ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–141
فرعون سے نجات دینا بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے :
(وَ اِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ) اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب فرما کر ان بد ترین تکلیفوں کی یاد دہانی فرمائی جو فرعونیوں کی طرف سے بنی اسرائیل کو پہنچا کرتی تھیں۔ یہ آیت تھوڑے سے اختلاف الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ (رکوع 7) میں گزر چکی ہے۔ (انوار البیان ج 1) وہاں اس کی تفصیل اور تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ وہاں یذبحون فرمایا اور یہاں یقتلون فرمایا ہے یہ لفظ کثرت قتل پر دلالت کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
تفسیر
ذکر بعض جہالت بنی اسرائیل باینہمہ انعام جلیل
قال اللہ تعالیٰ وجوزنا ببنی اسرائیل البحر۔۔۔ الی۔۔۔ وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم
(ربط)
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل پر حق تعالیٰ کے انعامات جلیلہ کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں ان کی بعض جہالتوں کا ذکر ہے کہ بت پرستوں کو دیکھ موسیٰ (علیہ السلام) سے ویسی ہی درخواست کرنے لگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس جاہلانہ درخواست پر انہیں سخت سرزنش کی اور حق جل شانہ کے انعامات اور احسانات یاد دلائے کہ باوجود ان احسانات کے تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے عظیم الشان منعم اور محسن کو چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بناؤ اور پتھروں کے سامنے اپنا سر جھکاؤ۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے…
Read the full tafseer →131: یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ یعنی یہ گائے کے پجاری جس دین پر ہیں یہ عنقریب میرے ہاتھوں برباد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ محض باطل اور لا حاصل ہے اس سے انہیں نہ دنیا میں کچھ نفع ملیگا نہ آخرت میں۔ “ یعنی یدمر اللہ تعالیٰ دینھم الذي ھم علیه علی یدي۔ وان ذلک لا ینفھم اصلا ” (روح ج 9 ص 40) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
بعداز ہلاکت آل فرعون
اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی امت دعوت یعنی فرعون اور اس کی قوم کا کچھ حال بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں آپ کی امت اجابت یعنی بنی اسرائیل کا کچھ تذکرہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے سمندر میں غرق کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متعلق فرمایا وجوزنا ببنی اسرائیل البحر تو ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا یہاں پر دریا سے مراد بحیرہ قلزم ہے جن لوگوں نے اس سے دریائے نیل مراد لیا ہے وہ درست نہیں ہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر بحیرہ قلزم کے کنارے پر پہنچے تھے تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ اپنی…
Read the full tafseer →اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمْ فِيْہِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 139
ها
هَا للتنبيه في قولهم : هذا وهذه، وقد ركّب مع ذا وذه وأولاء حتی صار معها بمنزلة حرف منها، و (ها) في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ [ آل عمران/ 66] استفهام، قال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] ، ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] ، هؤُلاءِ جادَلْتُمْ
[ النساء/ 109] ، ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] ، لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] . و «هَا» كلمة في معنی الأخذ، وهو نقیض : هات . أي : أعط، يقال : هَاؤُمُ ، وهَاؤُمَا، وهَاؤُمُوا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
1 ؎ مصر کے لوگ بت پرست تھے اپنے دیوتائوں کی مورتیں مندروں میں رکھ کر پرستش کرتے تھے۔ بیل اور گائے کی بھی پرستش کرتے تھے۔ اس کے ذبح کرنے والے کو مار ڈالتے تھے اور بلی کو بھی پوجتے تھے اور اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے تھے اور اس کو بڑا دیوتا جانتے تھے جیسا کہ قدیم اہل ہند کا دستور تھا۔ ایسی پرستش سے فرعون کا دماغ چل گیا تھا جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا تھا۔ 12 منہ
ترکیب : جاوزنا فعل بافاعل باتعدیہ کے لیے بنی اسرائیل مفعول اول البحر مفعول ثانی کما لہم آلہۃ مایا مصدریہ ہے اور بعد کا جملہ صلہ یا بمعنی الذی والعائد محذوف والٰہ بدل منہ تقدیرہ کالذی ھو لھم اور کاف اور جس پر یہ داخل ہے الہ کی صفت ہے اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ الْجَْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلیٰٓ اَصْنَامٍ لَّہُمْ ج قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَہُمْ اٰلِھَۃٌ ط قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ ۔ اِنَّ ھٰٓؤُلَآئِ مُتَبَّرٌ مَّا ھُمْ فِیْہِ وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاعراف : 139، 138)
” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا کہ ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو اپنے کچھ بتوں کی پرستش میں لگی ہوئی تھی انھوں نے کہا کہ اے موسیٰ جس طرح ان کے دیوتا ہیں اسی طرح کا ایک دیوتا تم ہمارے لیے بھی بنادو ‘ موسیٰ نے کہا ہم تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ٓزادی حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل کا پہلا جرم۔
بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرکے ایسے علاقے میں پہنچے جہاں کے لوگ بت اور قبر پرست تھے۔ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اسے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود مقرر کیا جائے جس طرح ان لوگوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم انتہائی جاہل قوم ہو۔ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ انھوں نے بنا رکھا ہے وہ باطل اور جھوٹ ہے اور یہ سب کا سب تباہ ہوجائے گا۔ کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو تمہارا معبود ٹھہراؤں حالانکہ اس نے پوری دنیا پر تمہیں فضیلت و عظمت عطا کی ہے…
Read the full tafseer →بت پرستی بےبنیاد چیز ہے :
آیت 139: اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ (بیشک یہ کام) ان تماثیل کی عبادت کرنے والے مُتَبَّرٌ (بیکار ہیں) ہلاک ہونے والے ہیں۔ یہ تبار سے بنا ہے۔ مَّا ھُمْ فِیْہِ (جس میں وہ مصروف ہیں) اللہ تعالیٰ ہلاک کردیں گے اور ان کے لین دین کو مہندم کردیں گے جس پر وہ چل رہے ہیں میرے ذریعہ یہاں ہٰٓؤُلَآئِ کو اِنّ کا اسم بنانے اور خبر کو مقدم کر کے اس بات کو نشان زدہ کردیا کہ بت پرست دراصل خود ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں۔ اور وہ اس سے بالکل نہیں بچ سکتے۔ وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور محض بےبنیاد ہے جو وہ کر رہے ہیں) یعنی جو کچھ وہ بت پرستی کرتے ہیں وہ بےکار اور بےحقیقت ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →139(ان ھولآء متبر) ہلاک کرنے والے ہیں (ماھم فیہ) اور تتبیر بمعنی ہلاک کرنا (وبطل ) زائل ہونے والا ہے (ما کانوا یعملون) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
(138 ۔ 139) ۔ جب فرعون دریائے قلزم میں مع اپنے لشکر کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لئے ہوئے پار ہوگئے تو ان لوگوں کا گزر شہر رقہ میں ہوا جو اسی دریا کے کنارہ پر واقعہ ہے یہاں قبیلہ کنعانی کے لوگ جن سے موسیٰ (علیہ السلام) کو لڑنے کا حکم ہوا تھا مورتیں پوج رہے تھے گائے کی شکل کے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے انہیں بت پوجتے ہوئے دیکھ کر بنی اسرائیل نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ بھی ہمارے لئے بت بنادیں ہم بھی اسی طرح ان بتوں کی پوجا کریں گے جس طرح یہ لوگ مورتیں پوج رہے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تم لوگ کیسے حامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →176 کفر و شرک کا انجام ہلاکت و بربادی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے ان لوگوں کے اس بیہودہ مطالبے کے جواب میں ان سے کہا کہ بیشک تباہ ہو کر رہنے والا ہے وہ سب کچھ جس میں یہ لوگ محض اپنے وہم باطل کی وجہ سے پڑے ہیں۔ اور باطل ہیں وہ تمام اعمال جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ تو پھر بھی تم لوگ مجھ سے اس کی درخواست کرتے ہو اور وہ بھی میرے سامنے، اور مجھ ہی سے۔ اور اس قدر صراحت اور ڈھیٹ پنے کے ساتھ ؟ واقعی تم بڑے ہی کوڑھ مغز اور ناشکرے لوگ ہو کہ توحید خداوندی کے عقیدئہ صافیہ سے آگہی و سرفرازی کے بعد ایسی حماقت کا ارتکاب کرتے اور اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ شرک اور بت پرستی کا مطالبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…
Read the full tafseer →ف 3 یہ بھی ان کے مطالبہ کی تر دید اور اس کا جواب ہے، یعنی اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ دنیا میں گمراہی و بربادی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔
Read the full tafseer →(7:139) ھؤلاء قوم کی طرف اشارہ ہے۔
متبر اسم مفعول ۔ واحد۔ تتبیر (تفعیل) مصدر۔ ٹوٹ جانے والا۔ ٹوٹا ہوا۔ تباہ برباد۔ ہر ٹوٹے ہوئے برتن کو بھی متبر کہتے ہیں
تبات۔ ہلاکت، متبر۔ کلہاڑا۔ (جس سے ہلاک کیا جاسکتا ہے) قرآن میں ہے ولیتبروا ما علوا تتبیرا (17:7) اور جس چیز پر غلبہ پاویں اسے تباہ کردیں۔ ولاتزد الظالمین الاتبارا۔ (71:28) اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی لا۔
ما ھم فیہ۔ جس (کام) میں وہ لگے ہوئے ہیں۔ (وہ ہلاک و برباد ہونے والا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
تشریح آیات نمبر 138 تا 141
وہ کونسا پانی تھا جسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل نے پا کیا تھا اور جس میں فرعون اور اس کا پور لشکر غرق ہوگیا تھا۔ اس کا صحیح اندازہ تو نہیں کیا جاسکتا البتہ تاریخ اور جغرافیہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ بحیرہ احمر تھا۔ جزیرہ نما سینا کے مغرب میں جہاں اس کا پھیلائو اور پاٹ تنگ ہوجاتا ہے اور جہاں سے اب نہر سوئز شروع ہوتی ہے۔ سمندر کا یہ حصہ خاص مصر کو اور جزیرہ نمائے سینا کو الگ کرتا ہے اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ یہ لوگ سمندرپار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے جہاں سامی قوم کے بڑے چھوٹے بت خانے تھے قرینہ ہے کہ ان ہی بت خانوں کو دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بنی اسرائیل کو نصیحت
پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر کہا کہ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود میں تمہارے لئے تلاش کروں۔ بڑے حیف کی بات ہے کہ جس خدا نے تمہیں ذلت و رسوائی سے رہائی دی فرعون و قبطی تمہیں ذلیل و خوار سمجھتے تھے ان دشمنوں کو غارت کرکے ان کی سلطنت تمہیں بخشی۔ تمہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایا اسے چھوڑ کر اوروں کی عبادت کب زیبا ہے۔ کیا اس کے انعام و فضل کا یہی شکر اور مقابلہ ہے جس کا وسوسہ تمہارے دل میں گزرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
[50] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41 صفحہ 98۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
(ف 1) بنی اسرائیل چونکہ حدیث العہد تھے ، نیا نیا اسلام قبول کیا تھا ، اس لئے جب انہوں نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بتوں کو پوج رہی ہے تو ان کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو جہالت ہے میں اس کی تائید کیونکر کرسکتا ہوں ، اس سے معلوم ہوتا ہے ، مو سے (علیہ السلام) نے اولا اپنی توجہ کو زیادہ تر آزادی واستخلاص پر مرکوز رکھا ، توحید کا درس تو دیا مگر زیادہ زور آزادی کے مسئلہ پر ہی تھا ،
Read the full tafseer →139 بلاشبہ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں اور یہ لوگ جس دین میں ہیں وہ تباہ و برباد کیا جانے والا ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ بےبنیاد اور باطل ہے۔ یعنی فطرتاً باطل کو دوام نہیں باطل پھلتا پھولتا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ف 2۔ وجہ ان کی اس بےہودہ درخواست کی بغوی نے یہ لکھی ہے کہ ان کو توحید میں شک نہ ہوا تھا بلکہ اپنے غایت جہل سے یہ سمجھے کہ الہ غائب کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اگر کسی شاہد کو ذریعہ بنایا جائے تو یہ امر منافی دیانت نہیں ہے بلکہ اس میں تعظیم و تقرب الی اللہ زیادہ ہے اور چونکہ یہ خیال بھی فی نفسہ نقلا وعقلا غلط ہے اس لیے اس کو جہل فرمایا گیا۔
Read the full tafseer →اے قوم بنی اسرائیل یہ لوگ تو باطل پرست ہیں جن پر تم ریجھ گئے ہو :
150: موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم بنی اسرائیل کے ان افراد کو سمجھایا جنہوں نے بت پرستوں کی ریت کو پسند کیا تھا فرمایا ان کا یہ شغل بت پرستی بجائے خود بھی باطل ہے اور انجام کار اس کے حق میں خدائے قادر و قدوس کی طرف سے تباہی و بربادی بھی لازم ہے۔ تم آخر کیوں ایسوں کی تقلدا کی طرف مائل ہو ؟ یہ لوگ تو خود بھی تباہ و برباد ہونے والے ہیں اور ان کا کیا کرایا عمل بھی اہل باطل کے ساتھ تشبیہ دنیوی عادات میں بھی مذموم ہے اور رسوم عبادت میں بھی متبر مہلک اور ٹوٹی پھوٹی چیز کو بھی متبر کہا جاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے اس عمل کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
After the miraculous victory of the Israelites over Pharaoh and his people, and having a life of ease and comfort, they started to show the signs of ignorance as people of wealth show when given a life of luxury and opulence. The first impertinent request they made was to the prophet Musa (علیہ السلام) to make for them a god like the gods of the people they saw being worshipped on their way. They (the Israelites) said, يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ "0 Musa make a god for us like their gods." He said, قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ "You are really an ignorant…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–142
99. After the exodus of the Israelites from Egypt which marks, on the one hand, the end of the constraints of slavery and on the other, the beginning of their life as an independent nation, Moses was summoned by God to Mount Sinai in order that he might receive the Law for Israel. He was initially summoned for a period of forty days so that he might single-mindedly devote himself to worshipping, fasting, meditation and reflection and thus develop the ability to receive the revelation which was to put a very heavy burden upon him.
In compliance with God's command, Moses left the Israelites at…
Read the full tafseer →