Al-A'raaf 7:136

Al-A'raaf · from ayah 136

7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ ۟فَانْتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So We took retribution from them, and We drowned them in the sea because they denied Our signs and were heedless of them.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 16 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:136

تب ہم نے اُن سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور اُن سے بے پروا ہو گئے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سے بدلہ لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا۔ کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، اور ان سے بالکل بےپرواہ ہوگئے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے ان سے (بالآخر تمام نافرمانیوں اور بدعہدیوں کا) بدلہ لے لیا اور ہم نے انہیں دریا میں غرق کردیا، اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی (پے در پے) تکذیب کی تھی اور وہ ان سے (بالکل) غافل تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس انھیں سمندر میں غرق کردیا، اس وجہ سے کہ بیشک انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آخر ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا۔ کیونکہ وہ ہماری آیات کو جھٹلاتے اور ان سے لاپروائی برتتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہم نے ان کو کیفر کردار کو پہنچا دیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا بوجہ اس کے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروا بنے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخر کار ہم نے ان سے انتقام لیا، اور غرق کردیا ان کو سمندر میں، اس بناء پر کہ انہوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، اور وہ ان سے غفلت (و لاپرواہی) برت رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

غرض ہم نے انہی سزا دے دی اور انہیں سمندر میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی طرف سے (بالکل ہی) غفلت میں پڑے رہتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور ہم نے انہیں سمندر میں غرق کردیا اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان (آیات) سے تغافل برتتے رہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ہم نے ان سے بدلہ لیکر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So We inflicted Our retribution on them, and caused them to drown in the sea because they gave the lie to Our signs and were heedless of them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We subjected them to retribution, and drowned them in the sea, because they rejected Our signs, and were neglectful of them.

— Muhammad Taqi Usmani

Then We subjected them to retribution, and drowned them in the sea, because they rejected Our signs, and were neglectful of them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So We took retribution from them. We drowned them in the sea, because they belied Our Ayat and were heedless with them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefore We took retribution from them; therefore We drowned them in the sea: because they denied Our revelations and were heedless of them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So We took retribution from them, and We drowned them in the sea because they denied Our signs and were heedless of them.

— Saheeh International

We took revenge on them for their rejecting Our miracles, by drowning them in the sea, but they were not aware of (reality).

— Muhammad Sarwar

Therefore We inflicted retribution on them and drowned them in the sea because they rejected Our signs and were heedless of them.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore We took vengeance on them and drowned them in the sea, for they belied Our signs and were neglectful of them.

— Abdul Majid Daryabadi

So We exacted retribution from them: We drowned them in the sea, because they rejected Our Signs and failed to take warning from them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:136

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 136–137

انجام سرکشی جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبر دست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کردیا۔ بنی اسرائیل بحکم اللہ تعالیٰ ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لئے خشک ہوگیا پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آگئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنادیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 134–137

سورة الْاَعْرَاف 97 یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین کی سر زمین کا وارث بنادیا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ بنی اسرائیل خود سر زمین مصر کے مالک بنادیے گئے۔ لیکن اس کے معنی کو تسلیم کرنے کے لیے نہ تو قرآن کریم کے اشارات کافی واضح ہیں اور نہ تاریخ و آثار ہی سے اس کی کوئی قوی شہادت ملتی ہے، اس لیے اس معنی کو تسلیم کرنے میں ہمیں تامل ہے۔ (ملاحظہ ہو الکہف حاشیہ 57۔ الشعراء حاشیہ 45)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد ایک چھٹے عذاب کا ذکر بعد کی آیت میں رجز کے نام سے آیا ہے، یہ لفظ اکثر طاعون کے لئے بولا جاتا ہے، چیچک وغیرہ وبائی امراض کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، تفسیری روایات میں ہے کہ ان لوگوں پر طاعون کی وباء مسلط کردی گئی، جس میں ان کے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوگئے۔ اس وقت پھر ان لوگوں نے فریاد کی اور پھر دعا کرنے پر یہ عذاب ہٹا اور پھر بدستور ان لوگوں نے عہد شکنی کی، اتنی مسلسل آزمائشوں اور مہلتوں کے بعد جب ان میں کوئی احساس پیدا ہی نہ ہوا تو اب آخری عذاب آگیا کہ سب کے سب اپنے مکان زمینیں سامان کو چھوڑ کر موسیٰ ؑ کے تعاقب میں نکلے اور بالآخر دریائے قلزم کا لقمہ بن گئے، فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ الایہ۔ اس انتقام سے مراد ان جرائم کا انتقام ہے جن پر پورے پورے اتمام حجت کے باوجود وہ جمے رہے۔ اللہ کی آیات سے اول تو وہ بےپروا اور غافل رہے اور جب وہ کھلے ہوئے چیلنج کے ساتھ ان کے سامنے ظاہر ہوئییں تو انہوں نے ان کی تکذیب کردی کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں بلکہ سحر و شعبدہ کا کر شم ہیں۔ اس کی پاداش میں وہ سمندر میں غرق کردیے گئے۔ اس واقعہ غرق کی تفصیلات کے لیے موزوں مقام ہماری اس کتاب میں آگے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

136۔ 1 اتنی بڑی نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لانے کے لئے اور خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوئے بالآخر انہیں دریا میں غرق کردیا، جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

60: فرعون اور اس کے غرق ہونے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة یونس، سورة طہ اور سورة ٔشعراء میں آنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اللہ کی سنت کے مطابق قدرتی انجام سامنے آتا ہے۔ ان لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرکے بھی آزمایا گیا ، انہیں فراوانی دے کر بھی آزمایا گیا لیکن وہ باز نہ آئے۔ اب وہ واقعہ پیش آتا ہے جو یقین بنا۔ فرعون اور اس کے حاشیہ نشین ہلاک ہوتے ہیں۔ اب ان کی مہلت ختم ہے اور جس انجام تک انہوں نے پہنچنا تھا ، وہ قریب آگیا ہے۔ اور ضعفاء اور صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کا جو عہد ہوتا ہے اس کا وقت بھی آپہنچا ہے لہذا سر کشوں اور جابروں کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ۔ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 " رجز " بعض مفسرین کے نزدیک طاعون مراد ہے جیسا کہ بعض احادیث میں یہ لفظ طاعون پر اطلاق کیا گیا ہے لیکن اکثر مفسرین ان آیات کو پچھلی آیات ہی کا بیان قرار دیتے ہیں موضح القرآن میں ہے کہ " یہ سب بلائیں ان پر آئیں ایک ہفتہ کے فرق سے۔ اول حضرت موسیٰ فرعون کو کہہ آتے کہ اللہ تم پر یہ بلا بھیجے گا، وہ ہی بلا آتی۔ پھر مضطر ہوتے، حضرت موسیٰ کی خوشامد کرتے، ان کی دعاء سے دفع ہوتی، پھر منکر ہوجاتے، آخر کو وبا پڑی۔ نصف شب کو سارے شہر میں ہر شخص کا پہلا بیٹا مرگیا، وہ لگے مردوں کے غم میں، حضرت موسیٰ اپنی قوم کو لے کر شہر سے نکل گئے پھر کئی روز کے بعد فرعون پیچھے لگا۔ دریائے قلزم پر جا پکڑا۔ وہاں یہ قوم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 134–136

آیت 134 وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ ج۔ لَءِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ اگر تم نے ہم سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے آمَنَ کے ساتھ جب ل کا صلہ آتا ہے جیسے لَکَ تو اس سے مراد عقیدہ والا ایمان نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس طرح کسی کی بات کو سرسری انداز میں ماننے کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ کا مطلب ہے کہ ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ جب ب کا صلہ آئے ‘ جیسا کہ آمَنْتُ باللّٰہِ وَمَلآءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ میں ہے تو اس کے معنی پورے وثوق ‘ یقین اور گہرے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

131 آل فرعون کی غرقابی :۔ جب بنی اسرائیل اس سمندر کے کنارے پہنچ گئے تو انہیں فرعون کے تعاقب کی خبر ہوگئی وہ سخت گھبرائے کہ اگر اب ہم ان کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر ہماری خیر نہیں۔ ایسی پریشان کن اور نازک صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل فرمائی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔ عصا سمندر پر مارنے کی دیر تھی کہ اللہ کے حکم سے ادھر کا پانی ادھر ہی تھم گیا اور ادھر کا ادھر تھم گیا جیسے ساکت و جامد پہاڑوں کے بڑے بڑے تودے کھڑے ہوں درمیان میں خشک راستہ بن گیا اس خشک راستے سے بنی اسرائیل جب سمندر کے دوسرے کنارے پر جا پہنچے تو فرعونیوں نے بھی وہاں پہنچ کر اسی خشک راستے پر اپنے گھوڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

176 ۔ غرق فرعون پر مفصل حاشیہ سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 6 کی تفسیر میں گزر چکے۔ (آیت) ” انتقمنا “۔ انتقام کے معنی محاورۂ عرب میں عذاب سے کسی نعمت کو سلب کرلینے کے ہیں۔ الانتقام فی اللغۃ سلب النعمۃ بالعذاب (کبیر) (آیت) ” فاغرقنھم فی الیم “۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ عقوبت دنیوی کبھی معصیت پر بھی مرتب ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین “۔ اس میں تصریح کردی کہ سزا کی بناء ان لوگوں کی تکذیب آیات الہی اور ان کی طرف سے اعراض تھا۔ (آیت) ” عنھا “۔ میں ضمیر ایات کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ اور نقمت کی طرف بھی (آیت) ” فانتقمنا “ َ کا مدلول ہے۔ الکنایۃ عائدۃ الی الایات وھو اخیتار الزجاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 130–141

آیت نمبر 130 تا 141 ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانتقمنا منہم فاغرقنہم فی الیم بانہم کذبوا باتینا وکانوا عنہا غفلین۔ پھر ہم نے ان سے بدلہ لے لیا یعنی دریا میں ان کو غرق کردیا کیونکہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی بےتوجہی کرتے تھے۔ فانتقمنا یعنی ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا لقمۃٌ عذاب فی الیم اتہاہ سمندر میں ہم نے ان کو ڈبو دیا یم سے مراد ہے بحر شور کا کنڈ اور وسطی گہرا حصہ یم کا لفظ تیمم سے ماخوذ ہے تیمم کا معنی ہے قصد کرنا۔ سمندر سے فائدہ اٹھانے والے سمندر کا سفر بالارادہ کرتے ہیں۔ بانہم میں باء سببیہ ہے اور عنہا کی ضمیر آیات کی طرف راجع ہے وہ ہماری آیات سے غافل تھے یعنی آیات پر انہوں نے کبھی غور نہیں کیا تو گویا غافلوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 134–136

(134۔ 135۔ 136) اور جس وقت بھی ان لوگوں پر طوفان، ٹڈی، گھن، کیڑا، مینڈک، خون وغیرہ میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا تھا تو کہتے تھے اے موسیٰ ؑ ہمارے رب سے جس چیز کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے دعا کیجیے اگر ہم سے عذاب دور ہوگیا تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے، اور تمام بنی اسرائیل کو اس کے مالوں کے ساتھ آپ کے ساتھ روانہ کردیں گے پھر جب ہم عذاب ہٹا دیتے تو وہ پھر بدعہدی شروع کردیتے چناچہ ہم نے انہیں غرق آب کردیا اور وہ ہماری آیات کے منکر ہی تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 133–136

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ۔۔ : جب وہ قحط سالی اور پھلوں کی کمی کی گرفت کے باوجود کفر اور سرکشی پر ڈٹ گئے اور اس مصیبت کو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مزید سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو فرعون اور اس کی فوجوں کے مکمل خاتمے اور غرق ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ قحط سالیوں کے بعد ”الطُّوْفَانَ“ یعنی سخت بارش اور سیلاب شروع ہوا جس سے ان کی زندگی دشوار ہوگئی تو انھوں نے موسیٰ ؑ سے دعا کی درخواست کی کہ تمہارا اپنے رب سے جو عہد اور معاملہ ہے اسے پیش کرکے اس سے ہمارے لیے یہ عذاب دور کرنے کی دعا کریں، اگر تم نے ہم سے یہ عذاب دور کروا دیا تو ہم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 134–136

قولہ تعالیٰ ؛ آیت : ولما وقع علیھم الرجز اس میں رجز کا معنی عذاب ہے۔ اسے را کے ضمہ ساتھ رجز بھی پڑھا گیا ہے، اور اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ابن جبیر (رح) (النکت والعیون للماوردی، جلد 2، صفحہ 253) نے کہا ہے : یہ عذاب طاعون تھا اس کے ساتھ ستر ہزار قبطی ایک دن میں مرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجز سے مراد وہی آیات اور نشانیاں ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ آیت : بما عھد عندک اس میں ما بمعنی الذی ہے، یعنی اس کے سبب جس کا علم اس نے آپ کو ودیعت فرمایا یا اس کے سبب، جس کے ساتھ اس نے آپ کو مخلص فرمایا ہے اور آپ کو آگاہ کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ قسم ہے، یعنی اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 136–137

(1) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ان سے انتقام کیا اور ان کو سمندر میں غرق کردیا۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الیم “ سے مراد ہے سمندر۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” الیم “ سے مراد ہے سمندر۔ قولہ تعالیٰ : واوثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الارض ومغاربھا التی برکنا فیہا : (4) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم ابو الشیخ اور ابن عساکر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” مشارق الارض ومغاربھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَانْتَقَمْنَا : پس ہم نے انتقام لیا ] [ مِنْهُمْ : ان سے ] [ فَاَغْرَقْنٰهُمْ : تو ہم نے غرق کیا ان کو ] [ فِي الْيَمِّ : پانی میں ] [ بِاَنَّهُمْ : کیونکہ انہوں نے ] [ كَذَّبُوْا : جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کو ] [ وَكَانُوْا : اور وہ تھے ] [ عَنْهَا : ان سے ] [ غٰفِلِيْنَ : غفلت برتنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 135–136

(فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ ) (پھر ہم نے ان سے انتقام لیا سو ہم نے ان کو سمندر میں ڈبو دیا) ۔ (بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا) (اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا) (وَ کَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ) (اور وہ لوگ ان سے غافل تھے) یعنی جو نشانیاں ان کے پاس آتی تھیں ان سے غفلت برتتے تھے اور ان کے ساتھ بےپرواہی کا معاملہ کرتے تھے نہ فکر مند ہوتے نہ نصیحت حاصل کرتے۔ بنی اسرائیل کے نجات پانے اور قوم کے غرق ہونے کا تذکرہ ( سورة بقرہ رکوع 6) میں گزر چکا ہے نیز سورة شعراء (رکوع 4) اور سورة قصص (رکوع 1) اور سورة دخان (رکوع 1) میں بھی مذکور ہے اور سورة شعراء میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 130–137

ذکر نزول مصائب عبرت بر قبطیان تا آخر ہلاکت قال اللہ تعالیٰ ٰ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا یعرشون (ربط) گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے یہ وعدہ ذکر فرمایا۔ عسی ربکم ان یھلک عدوکم۔ عنقریب خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا۔ اب ان آیات میں اس اہلاک موعود کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قوم فرعون کس طرح بتدریج ہلاک کی گئی اور وقتاً فوقتاً ان پر کیا کیا مصیبتیں اور کیا کیا بلائیں یکے بعد یگرے نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ان پر بلائیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور عبرت اور نصیحت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور مقابلہ کا انجام ایسا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

128: آخر ان کے مسلسل عناد و استکبار کی وجہ سے ہم نے ان سے بدلہ لیا اور فرعون اور اس کی قوم کو دریائے نیل میں غرق کردیا۔ “ بِانَّھُمْ ” میں باء سببیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 134–137

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ آپ نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا مگر انہوں نے آپ کی دعوت کا انکار کردیا پھر جب آپ نے عصا اور بدبیضاء والے معجزات کا اظہار فرمایا تو فرعون نے مقابلے کے لیے ملک بھر کے جادوگر اکٹھے کیے جادوگروں نے مجمع عام میں اپنا اپنا فن پیش کیا اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو جادوگر ناکام ہوگئے اور انہوں نے ایمان قبول کرلیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا دستور بیان کیا کہ پہلے وہ لوگوں پر تنگی ڈال کر آزماتا ہے پھر جب وہ خبردار نہیں ہوتے برائیوں سے باز نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِي الْيَمِّ بِاَنَّہُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِيْنَ۝ 136 نقم نَقِمْتُ الشَّيْءَ ونَقَمْتُهُ : إذا أَنْكَرْتُهُ ، إِمَّا باللِّسانِ ، وإِمَّا بالعُقُوبةِ. قال تعالی: وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] ، وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ، هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] . والنِّقْمَةُ : العقوبةُ. قال : فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] ، فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] ، فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 130–137

ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔ تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَا نْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِیْنَ ۔ (الاعراف : 136) ” اب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انھیں سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے “۔ فرعون اور آل فرعون کا انجام جب کسی کو سنبھلنے کے لیے مسلسل تنبیہات کی جائیں اور ساتھ ہی ساتھ اس پر عنایات کی بارش بھی ہوتی رہے اور دنیا کی ہر نعمت اس کو فراوانی سے عطا کی جائے لیکن وہ نعمتوں کا شکر ادا کرے اور نہ وہ تنبیہات کو درخور اعتنا سمجھے بلکہ اپنی جرأتوں اور جسارتوں میں اس حد تک آگے بڑھ جائے کہ اللہ کی زمین کو ظلم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 135–136

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اور اس کی قوم جب تمام اخلاقی حدود پامال کرچکی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے جب کوئی قوم کفر و شرک تکبر اور تمرد میں آگے ہی بڑھتی جائے تو اس کا وجود انسانی معاشرے میں کینسر کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ جس سے اس علاقے کے رہنے والے ہی نہیں بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس پر لعنت بھیجتی ہے اس صورتحال میں اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام کو چلانے اور قائم رکھنے کے لیے مجرم قوم کا صفایا کردیتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اب وقت آن پہنچا تھا کہ فرعون اور آل فرعون کو ہمیشہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفر و تکذیب کا نتیجہ غرقابی ہوا : آیت 136: فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ (پھر ہم نے ان سے بدلہ لے لیا) انتقام انعام کی ضد ہے جیسا کہ عقاب ثواب کی ضد ہے فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ (یعنی ان کو سمندر میں غرق کردیا) یَمّ ، وہ سمندر جس کی گہرائی معلوم نہ ہو۔ نمبر 2۔ سمندر کی موجوں اور کثیر پانی کو کہتے ہیں۔ یہ تیمم سے بنا ہے کیونکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے اس کا قصد کرتے ہیں بِاَ نَّھُمْ کَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ (کیونکہ وہ ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی بےتوجہی کرتے تھے) ان کا غرق ہونا آیات کی تکذیب اور ان سے غفلت اور عدم توجہ کی بناء پر تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

136(فانتقمنا منھم فاغرقنھم) ہم نے ان کو دریا میں (فبی الیم بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین) عذاب کے آنے سے پہلے اور بعض نے کہا کہ ہماری آیات سے اعراض کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 136–137

(136 ۔ 137) ۔ جب ان پانچوں چھٹوں عذاب ان پر ایک کے بعد ایک۔ ایک ایک ہفتہ کے فاصلہ سے آتے گئے اور موسیٰ ( علیہ السلام) ان کو پہلے جاکر کہہ آتے تھے کہ فلاں عذاب تم پر آویگا اور وہی عذاب ان پر آتا تھا اور آخر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کرنے سے وہ بلا ٹلتی بھی گئی لیکن یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو ایک روز آدھی رات کو سارے شہر میں وبا پھیل گئی اور ہر شخص کا اکلوتا بیٹا مرنے لگا یہ لوگ مردوں کے غم میں اور اپنی جانوں کی فکر میں تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کو شہر سے نکل گئے جب فرعون کو اس کی خبر ہوئی تو لشکر تیار کر کے ان کے پیچھے بھاگا اور مو سے (علیہ السلام) کو مع بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

170 اللہ کی آیتوں کی تکذیب کا نتیجہ دائمی ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ان کو غرق کردیا سمندر میں اس بنا پر کہ انہوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو اور وہ ان سے غفلت و لاپرواہی برتتے رہے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب اور ان کو جھٹلانا اور ان سے غفلت برتنا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی باعث ہلاکت اور موجب تباہی بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ اور امن و سلامتی کا سبب ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب وہ لوگ اتمام حجت کے باوجود اور توضیحِ حق کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 الیم کے معنی گہرے سمندر کے ہیں جب بکرا وہ مرات عذاب دور کرنے کے بعد بھی وہ اپنے کفر اور جہالت سے باز نہ آئے اور عذاب کا مقرر وقت آپہنچا ( کبیر) چناچہ ایک رات حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی قوم فرعون پیچھے لگا۔ بحر قلزم پر جاپکڑا وہاں یہ قوم سلامت گزری گئی اور فرعون ساری قوم سمیت غرق ہو۔ کذافی المو ضح )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 136–137

(7:136) فانتقمنا۔ ماضی جمع مذکر متکلم۔ پس ہم نے انتقام لیا۔ بدلہ لیا۔ الیم۔ اسم جنس۔ دریا ۔ یم۔ مصدر۔ دریا میں ڈالنا۔ دریا کا ساحل پر چڑھ آنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–136

لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔ تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “ گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 135–136

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک روز آدھی رات کو سارے شہر میں وبا پھیل گئی لوگ مرنے لگے۔ جبکہ یہ اپنی جانوں کی فکر میں تھے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر شہر سے نکل گئے۔ جب فرعون کو اس کی خبر ہوئی تو لشکر تیار کرکے ان کے پیچھے بھاگا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مع بنی اسرائیل کے دریائے قلزم کی طرف جاتے دیکھا۔ یہ بھی مع لشکر کے وہاں پہنچا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم کے دریا میں گھس گئے۔ دریا نے خدا کے حکم سے بارہ راستے بنادئے اور یہ سب کے سب ان راستوں سے دریا کے پار ہوگئے۔ فرعون بھی مع اپنے لشکر کے دریا میں گھس پڑا جب بیچوں بیچ پہنچا تو دریا دونوں طرف سے آکر مل گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 125–137

[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔ [48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) فانتقمنا : سے مراد ایسا بدلہ ہے جس کے وہ مستحق تھے ، کیونکہ انتقام کے معنی عربی میں سزا دینے کے ہیں ، اللہ کینہ اور بعض سے پاک ہے ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

136 الغرض ! ہم نے ان سے پوری طرح انتقال لیا اور ان کو دریا میں غرق کردیا کیونکہ وہ ہماری نشانیوں کی تکذیب اور ہمارے احکام کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان آیات خداوندی سے غفلت و بےپروائی برتا کرتے تھے۔ یعنی یہ سب بلائیں ان پر آئیں ایک ایک ہفتہ کے فرق سے اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو کہہ آتے کہ اللہ تم پر یہ بلا بھیجے گا وہی بلا آتی پھر مضطر ہوتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خوشامد کرتے ان کی دعا سے دفع ہوتی پھر منکر ہوجائے آخرکار وبا پڑی نصف شب کے سارے شہر میں ہر شخص کا پہلا بیٹا مرگیا وہ لگے مردوں کے غم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لیکر شہر سے نکل گئے۔ پھر کئی روز کے بعد فرعون…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 133–136

ف 6۔ کثرت بارش۔ 7۔ یہ ساتوں عصا اور ید ملا کر آیات تسعہ کہلاتے ہیں۔ 8۔ کیونکہ اتنی سختی پر بھی باز نہ آتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس طرح (سو سنار کی پر ایک لوہار ) کی نے فیصلہ کردیا : 147: انتقام کے معنی محاورہ عرب میں عذاب سے کسی نعمت کو سلب کرلینے کے ہیں کہ جو زندگی کی نعمت ان کو اللہ نے دے رکھی تھی تو اس کو دریائے نیل یا بحر قلزم میں غرق کر کے ان سے سلب کرلی گئی۔ یعنی ان کا قصہ تمام کردیا گیا۔ انہوں نے سو بار وعدہ خلافی کی اور ہماری طرف سے جو ڈھیل کا وقت ان کو دیا گیا تھا انہوں نے اس سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا اور انجام کار جب ڈھیل کا وقت ختم ہوگیا تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اس طرح سے سو سنار کی پر ایک لوہار کی نے قصہ پاک کردیا اور ان کو یہ سزا بلا وجہ نہیں دی گئی بلکہ ان کی مسلسل تکذیب اور پیہم غفلت کی وجہ سے ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The sixth punishment has been mentioned in the Qur'an by the Arabic word: رِجز 'Rijz' which signifies plague or pestilence. The number of Egyptians killed in this plague is reported to have been more than seventy thousand. They were relieved of this punishment by the prayer of the prophet Musa (علیہ السلام) . Again they broke their promise as before. Now, when they showed no sign of understanding they were finally caught by the last punishment - the death. Leaving behind all their lands, houses and possessions they chased the prophet Musa (علیہ السلام) and his people and were drowned in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 134–137

97. The Israelites were made the inheritors of Palestine. This has been interpreted by some commentators of the Qur'an to mean that the Israelites were made the rulers of Egypt as well. This view, however, is neither supported by, the Qur'an nor by any other historical and archaeological evidence. We have, therefore, serious reservations about the correctness of this opinion. (See Tafhim a]-Qur'an, (al-Kahf 18, n. 57), and (al-Shuara' 26, n. 45)

Read the full tafseer →