Explained with ayahs 136–137
انجام سرکشی
جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبر دست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کردیا۔ بنی اسرائیل بحکم اللہ تعالیٰ ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لئے خشک ہوگیا پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آگئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنادیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–137
سورة الْاَعْرَاف 97
یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین کی سر زمین کا وارث بنادیا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ بنی اسرائیل خود سر زمین مصر کے مالک بنادیے گئے۔ لیکن اس کے معنی کو تسلیم کرنے کے لیے نہ تو قرآن کریم کے اشارات کافی واضح ہیں اور نہ تاریخ و آثار ہی سے اس کی کوئی قوی شہادت ملتی ہے، اس لیے اس معنی کو تسلیم کرنے میں ہمیں تامل ہے۔ (ملاحظہ ہو الکہف حاشیہ 57۔ الشعراء حاشیہ 45)۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (فرعون اور اہل فرعون کو غرق کرکے) ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کیے جاتے تھے (یعنی بنی اسرائیل) اس سرزمین کے پورب پچھم (یعنی تمام حدود) کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے (ظاہری برکت کثرت پیداوار سے اور باطنی برکت ذی فضائل و مدفن ومسکن انبیاء (علیہم السلام) ہونے سے) اور آپ رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا (جس کا حکم انہیں دیا گیا تھا اصبِرُوْا) اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے ساختہ پر داختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے سب کو درہم برہم کردیا اور (جس دریا میں فرعون کو غرق کیا گیا) ہم نے بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ الایہ۔ یستضعفون سے اشاہ ان مظالم و شداید کی طرف ہے جو بنی اسرائیل کو دبائے رکھنے کے لیے فرعونیوں کے ہاتھوں ان پر ڈھائے گئے اور جن میں سے بعض چیزوں کی طرف اوپر اشارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ وہی قوم جو غلامی و محکومی کے نہایت سخت شکنجوں میں کسی ہوئی تھی اللہ نے اس کو رفعت بخشی اور اس کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ اس حکوت بخشنے کے لیے یہاں ‘ ایراث ’ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں یہ مضمون مضمر ہے کہ ان کے سابق حکمرانوں کو اللہ نے وہاں سے ہٹایا اور ان ان کو ان کی وراثت دلائی۔ اس سرزمین کی تعریف میں الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا کے جو الفاظ وارد ہیں اول تو وہ…
Read the full tafseer →137۔ 1 یعنی بنی اسرائیل کو جن کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اور ان پر ظلم روا رکھا تھا، اس بنا پر وہ فی الواقع مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے کیونکہ مغلوب اور غلام تھے۔ لیکن جب اللہ نے چاہا تو اسی مغلوب اور غلام قوم کو زمین کا وارث بنادیا۔
(2) زمین سے مراد شام کا علاقہ فلسطین ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا شام میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کی وفات کے بعد اس وقت گئے جب یوشع بن نون نے عمالقہ کو شکست دے کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ ہموار کردیا۔ اور زمین کے ان حصوں میں برکتیں رکھیں یعنی شام کے علاقے میں۔ جو بکثرت انبیاء کا مسکن و مدفن رہا اور ظاہری…
Read the full tafseer →61: قرآن کریم جب برکتوں والی زمین کا تذکرہ فرماتا ہے تو اس سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہوتا ہے، لہذا اس آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا، انہیں بعد میں شام اور فلسطین کا مالک بنادیا گیا، یاد رہے کہ ان علاقوں پر بنی اسرائیل کی حکومت فرعون کے غرق ہونے کے کافی عرصے کے بعد قائم ہوئی، جس کی تفصیل سورة بقرہ کی آیت نمبر 246 تا 251 میں گزری ہے۔
62:”بنانے“ سے اشارہ ان عمارتوں اور صنعتی پیداوار کی طرف ہے جس پر اس قوم کو فخر تھا، اور ”چڑھانے“ سے اشارہ ان باغات کی طرف ہے جن میں انہوں نے انگور وغیرہ کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی ہوتی تھیں، اور بلند درخت اگائے ہوئے…
Read the full tafseer →اس فیصلہ کن انداز کی مناسبت سے تصویر کا دوسرا رخ بھی اختصار کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں دے دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی دوسرا جابر آگیا بلکہ مستضعفین نے ملک میں اپنا اقتدار قائم کردیا یعنی بنی اسرائیل حکمران بن گئے۔ اس لیے کہ اس وقت وہ اصلاح کے معیار پر پورے اترے تھے۔ لیکن اس کے بعد جلد ہی وہ بگڑ گئے۔ اور اللہ نے ان پر ذلت اور جلا وطنی مسلط کردی۔ بنی اسرائیل کا یہ استخلاف مصر میں نہ تھا کہ وہ فرعون کے تخت پر بیٹھ گئے ، ان کا نظام حکومت شام میں برپا ہوا اور فرعون کی غرقابی کے بعد کئی سال کے بعد۔ اس وقت حضرت موسیٰ فوت ہوچکے تھے اور بنی اسرائیل تیہ کے صحرا میں چالیس سال خانہ بدوشی کی زندگی بسر…
Read the full tafseer →2 یعنی بنی اسرائیل کو۔
3 اکثر مفسرین کے نزدیک اس زمین سے مراد ملک شام ہے جس میں حق تعالیٰ نے بہت سی ظاہری و باطنی برکات ودیعت کی ہیں۔ ظاہری تو یہ ہی کہ نہایت سرسبز و شاداب، سیر حاصل، خوش منظر اور زرخیز ملک ہے اور باطنی اس لیے کہ بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن و مدفن بنایا گیا ہے۔ بنی اسرائیل مصر سے نکل کر ایک عرصہ تک صحرائے تیہ میں سرگرداں پھرتے رہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا، بعدہ ' حضرت یوشع کے ساتھ ہو کر " عمالقہ " سے جہاد کیا، اور اپنے آبائی وطن ملک شام کے وارث بنے۔ بعض مفسرین نے اس زمین سے مصر مراد لیا ہے۔ یعنی فرعونیوں کو غرق کر کے ہم نے بنی اسرائیل کو مصر کی دولت کا وارث بنادیا کہ…
Read the full tafseer →آیت 137 وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا ط۔
یہاں پر مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا کی ترکیب کی خاص ادبی literary اہمیت ہے جو فقرے میں ایک خوبصورت rhythm پیدا کر رہی ہے۔ اس آیت کا سادہ مفہوم یہی ہے کہ بنی اسرائیل جو مصر میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کو وہاں سے اٹھا کر پورے فلسطین کا وارث بنا دیا۔ ارض فلسطین کی خصوصی برکت کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں بھی بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ سرزمین اس لیے بھی متبرک ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہ سینکڑوں انبیاء کا…
Read the full tafseer →132 یہاں کمزور لوگوں سے مراد یہی بنی اسرائیل ہیں جو فرعونیوں کی غلامی کی چکی میں پس رہے تھے اور وہ اپنے کئی وعدوں کے باوجود انہیں آزاد کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارے کے سارے بنی اسرائیل سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نہیں گئے تھے بلکہ کچھ مصر ہی میں رہ گئے تھے اور فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کی ہلاکت کے بعد یہ اس سر زمین پر بھی قابض ہوگئے تھے جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 129 سے اور بعض دوسری آیات سے بھی اس کی تائید ہوجاتی ہے واللہ اعلم بالصواب۔ پھر بعد میں سیدنا داؤد (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) نے اس علاقے میں مستحکم حکومت قائم کی۔
133 برکت والا…
Read the full tafseer →177 ۔ (ظاہری وباطنی، مادی، وروحانی دونوں قسم کی) (آیت) ” مشارق الارض ومغاربھا التی برکنا فیھا “۔ یعنی سرزمین شام جس کی آبادیاں دریائے یردن کے مشرقی ومغربی دونوں ساحلوں پر ہیں۔ المراد بارکنا فیھا بالخصب وسعۃ الارزاق وذالک لایلیق الابارض الشام (کبیر) (آیت) ” القوم الذین کانوا یستضعفون “۔ ظاہر ہے کہ مراد بنی اسرائیل ہیں۔ علاقہ شام پر بنی اسرائیل کا پورا قبضہ چند نسلوں بعد حضرت داؤد حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے زمانہ میں ہوا۔
178 ۔ (آیت) ” ماکان یصنع “۔ سے مراد عمارتیں ہیں۔ یرید المصانع (کبیر۔ عن ابن عباس ؓ ماکانوا یعملون ویسورون من العمارات وبناء القصور (کشاف) (آیت) ” وما کانوا یعرشون “۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیت نمبر 130 تا 141
ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…
Read the full tafseer →واورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الارض ومغاربہا التی بارکنا فیہا ط وتمت کلمۃ ربک الحسنی علی بنی اسرائیل بما صبروا ط ودمرنا ما کان یصنع فرعون وقومہ وما کانوا یعرشون۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جو بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے اس سرزمین کا پورب سے لے کر پچھم تک وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور آپ کے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے سب کو درہم برہم کردیا۔
القوم یعنی بنی اسرائیل۔ الذین کانوا یستضعفون جن کو غلام بنایا جاتا تھا ان کی عورتوں سے خدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(137۔ 138) اور ان لوگوں کو جو کمزور شمار کیے جاتے تھے بیت المقدس، فلسطین، عدن، مصرکا وارث کردیاجس میں خوبانی اور بعض درخت تھے اور جنت یا مدد مصیبتوں یا دین پر جمے رہنے کی وجہ سے واجب کردی اور محلات اور شہروں اور درختوں اور انگوروں کو، یا جو وہ عمارتیں بناتے تھے سب کو ہلاک کردیا یعنی حضرت ابراہیم ؑ کی بقیہ قوم میں سے جسے رقم کہا جاتا ہے پھر اس کے بعد ان کا ایسی قوم پر سے گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کو لیے ہوئے بیٹھے تھے ،
تو کہنے لگے ہمارے لیے ایک الہ (معبود) بنادو، جیسے یہ لوگ عبادت کرتے ہیں ہم بھی اس کی عبادت کیا کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ : موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے دو وعدے کیے تھے، دشمن کی ہلاکت اور ملک کی وراثت و خلافت۔ چناچہ پہلا وعدہ پورا ہونے کے بعد اب یہاں دوسرے وعدے کی تکمیل کا بیان ہے۔ یہاں مبارک سرزمین سے شام کی سرزمین مراد ہے اور یہ وعدہ موسیٰ ؑ کی وفات کے بعد یوشع ؑ کے دور میں پورا ہونا شروع ہوا، جب انھوں نے عمالقہ سے جہاد کرکے بعض علاقے اپنے قبضے میں لے لیے مگر پورا ملک شام داؤد اور سلیمان ؑ کے زمانے میں قبضے میں آیا۔
مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ ”مَشَارِقَ الْاَرْضِ“ یہ ”يُسْتَضْعَفُوْنَ“ کا مفعول نہیں بلکہ ”َاَوْرَثْنَا“…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : آیت : واورثنا القوم اس میں قوم سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ آیت : الذین کانوا یستضعفون جنہیں خدمت لینے کے سبب ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا۔ آیت : مشارق الارض ومغاربھا کسائی اور فراء نے گمان کیا ہے کہ یہ اصل میں فی مشارق الارض ومغاربھا تھا پھر اس سے فی کو حذف کردیا گیا اور انہیں نصب دے دی گئی۔ اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ وہ سر زمین قبط کے وارث بنے اور یہ دونوں مفعول صریح کے طور پر منصوب ہیں۔ کہا جاتا ہے : ورثت المال ( میں مال کا وارث بنا) واورثتہ المال ( میں نے اسے مال کا وارث بنایا) پس یہ فعل ہمزہ کے ساتھ متعدی ہوگیا اور اس نے دو مفعولوں کو نصب دی۔ اور الارض سے مراد شام و مصر کی زمین ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
(1) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ان سے انتقام کیا اور ان کو سمندر میں غرق کردیا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الیم “ سے مراد ہے سمندر۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” الیم “ سے مراد ہے سمندر۔
قولہ تعالیٰ : واوثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الارض ومغاربھا التی برکنا فیہا :
(4) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم ابو الشیخ اور ابن عساکر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” مشارق الارض ومغاربھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس…
Read the full tafseer →[ وَاَوْرَثْنَا : اور ہم نے وارث بنایا ] [ الْقَوْمَ الَّذِيْنَ : اس قوم کو جن کو ] [ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ : کمزور سمجھاجاتا تھا ] [ مَشَارِقَ الْاَرْضِ : اس زمین کے مشرقوں کا ] [ وَمَغَارِبَهَا : اور اس کے مغربوں کا ] [ الَّتِيْ : وہ ( زمین) ] [ بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَتَمَّتْ : اور تمام ہوا ] [ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى: آپ کے رب کا اچھا وعدہ ] [ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل پر ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ صَبَرُوْا : وہ لوگ ثابت قدم رہے ] [ وَدَمَّرْنَا : اور ہم نے تباہ کیا ] [ مَا : اس کو جو ] [ كَانَ يَصْنَعُ : کاریگری کرتا تھا ] […
Read the full tafseer →بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہونا :
قوم فرعون کی ہلاکت کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا) کہ جن لوگوں کے ساتھ ضعف اور کمزوروں کا معاملہ کیا جاتا تھا (یعنی بنی اسرائیل جنہیں قوم فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اور وہ اس حد تک مقہور تھے کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیا جاتا تھا) ان کو اس سر زمین کے مشارق اور مغارب کا وارث بنا دیا جن میں ہم نے برکت دی۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے شام کی سر زمین مراد ہے۔ فرعون کی گرفت سے نجات پا کر سمندر پار کرنے کے بعد وہ ملک شام آگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ذکر نزول مصائب عبرت بر قبطیان تا آخر ہلاکت
قال اللہ تعالیٰ ٰ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا یعرشون
(ربط) گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے یہ وعدہ ذکر فرمایا۔ عسی ربکم ان یھلک عدوکم۔ عنقریب خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا۔ اب ان آیات میں اس اہلاک موعود کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قوم فرعون کس طرح بتدریج ہلاک کی گئی اور وقتاً فوقتاً ان پر کیا کیا مصیبتیں اور کیا کیا بلائیں یکے بعد یگرے نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ان پر بلائیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور عبرت اور نصیحت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور مقابلہ کا انجام ایسا…
Read the full tafseer →129:“ اَلْقَوْمَ ” سے بنی اسرائیل مراد ہیں۔ “ اَلْاَرْض ” سے ملک مصر مراد ہے یا ملک شام یا دونوں۔ “ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا ” یہ کنایہ ہے اس کی تمام اطراف و جوانب سے مطلب یہ ہے کہ وہ پورے کا پورا ملک بلا شرکت غیرے بنی اسرائیل کو دیدیا۔ “ وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ ” کلمۃ سے اللہ تعالیٰ کا عدہ مراد ہے جو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ وہ ان کی مدد کرے گا اور ملک مصر ان کو دے گا۔ “ والمراد من الکلمة وعده تعالیٰ لھم بالنصر والتمکین علی لسان نبیھم علیه السلام ” (روح ج 9 ص 38) ۔ “ بِمَا صَبَرُوْا ” میں باء سببیہ ہے یعنی بنی اسرائیل کے فرعونیوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–137
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ آپ نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا مگر انہوں نے آپ کی دعوت کا انکار کردیا پھر جب آپ نے عصا اور بدبیضاء والے معجزات کا اظہار فرمایا تو فرعون نے مقابلے کے لیے ملک بھر کے جادوگر اکٹھے کیے جادوگروں نے مجمع عام میں اپنا اپنا فن پیش کیا اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو جادوگر ناکام ہوگئے اور انہوں نے ایمان قبول کرلیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا دستور بیان کیا کہ پہلے وہ لوگوں پر تنگی ڈال کر آزماتا ہے پھر جب وہ خبردار نہیں ہوتے برائیوں سے باز نہیں…
Read the full tafseer →وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا 0 ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 0ۥۙ بِمَا صَبَرُوْا 0 ۭ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ 137
ورث
الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔
تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے…
Read the full tafseer →ارشادہوتا ہے :
وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِ یْنَ کَا نُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَہَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا ط وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنیٰ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ 5 لا بِمَا صَبَرُوْا ط وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ۔ (الاعراف : 137)
” اور جو لوگ دبا کے رکھے گئے تھے ہم نے ان کو اس سرزمین کے مشرق ومغرب کا وارث ٹھہرایاجس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کی ساری تعمیرات اور ان کے سارے باغ و چمن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آل فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور بنی اسرائیل کا کردار۔
بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے۔ اور مدت دراز تک انھیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں تیسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح…
Read the full tafseer →غلامی سے آزادی اور ایفائے عہد :
آیت 137: وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ (اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کیے جاتے تھے مالک بنادیا) یہ بنی اسرائیل ہیں فرعون ان کو قتل اور غلامی سے کمزور کرتا تھا۔ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا (اسی سرزمین کے مشرق و مغرب کا) سرزمین مصر وشام الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا (جس میں ہم نے برکت رکھی ہے) سرسبزی اور وسعت رزق اور کثرت انہار و اشجار کی بناء پر وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوگیا) وہ کلمہ اس آیت میں مذکور ہے : عَسٰی…
Read the full tafseer →تفسیر 137(واورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون) مغلوب تھے اور ذلیل کئے جاتے تھے بیٹوں کو قتل کرنے اور ان کی عورتوں سے خدمت کروا کر۔ یہ قوم بنی اسرائیل ہے (مشارق الارض ومغاربھا) یعنی مصر اور شام (التی برکنا فیھا) پانی اور درختوں اور پھلوں اور خوشحالی اور وسعت دے کر (وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرآئیل) یعنی اللہ کا کلمہ پورا ہوگیا اور وہ کلمہ اللہ کا ان سے مدد اور زمین پر قدرت دینے کا وعدہ ہے (بما صبروا) ان کے دین پر اور فرعون کے عذاب پر (ودمرن) ہم نے ہلاک کردیا (ماکان یصنع فرعن وقومہ) مصر کی عمارتیں (وما کانوا یعرشون) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مکان اور محل بنایا کرتے تھے۔
حسن (رح) فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
(136 ۔ 137) ۔ جب ان پانچوں چھٹوں عذاب ان پر ایک کے بعد ایک۔ ایک ایک ہفتہ کے فاصلہ سے آتے گئے اور موسیٰ ( علیہ السلام) ان کو پہلے جاکر کہہ آتے تھے کہ فلاں عذاب تم پر آویگا اور وہی عذاب ان پر آتا تھا اور آخر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کرنے سے وہ بلا ٹلتی بھی گئی لیکن یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو ایک روز آدھی رات کو سارے شہر میں وبا پھیل گئی اور ہر شخص کا اکلوتا بیٹا مرنے لگا یہ لوگ مردوں کے غم میں اور اپنی جانوں کی فکر میں تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کو شہر سے نکل گئے جب فرعون کو اس کی خبر ہوئی تو لشکر تیار کر کے ان کے پیچھے بھاگا اور مو سے (علیہ السلام) کو مع بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
171 مظلوموں کی مدد اللہ ہی کرتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کمزوروں اور مظلوموں کو اس مبارک سرزمین کا وارث بنادیا جن کو دبا کر رکھا گیا تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کو جو کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی اور فرعونی مظالم کی چکی میں پسی ہوئی ایک مظلوم اور دبی ہوئی قوم تھی۔ سو اس کو ہم نے آزادی کی نعمت سے نواز کر زمین کا وارث بنایا۔ سو زمین و آسمان کی اس کائنات کی زمام اقتدار اللہ وحدہ لاشریک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہے اور جیسا اور جب چاہے عطاء فرمائے۔ سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو وہی قوم جو غلامی اور محکومی کی زنجیروں میں بری طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…
Read the full tafseer →ف 9 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کنے اپنی قوم سے دو وعدے کئے تھے، دشمن کی ہلاکت اور ملک کی وراثت اور خلافت چناچہ پہلا وعدہ پورا ہونے کے بعد اب یہاں دوسرے وعدے کی تکمیل کا بیان ہے، یہامبارک سرزمین سے شام کی سرزمین مراد ہے اور یہ وعدہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت یو شع ( علیہ السلام) کے دور میں پورا ہونا شروع ہوا جب کہ انہوں نے عمالقہ سے جہاکر کے بعض علاقے اپنے قبضے میں لے لیے مگر پورا ملک شام حضرت داوؤد ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں قبضہ میں آیا۔ (کبیر) اور بعض مصر شام دونوں مراد لیے ہیں اور لکھا ہے کہ فرعون کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل مدتوں مصر پر حکمران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
(7:136) فانتقمنا۔ ماضی جمع مذکر متکلم۔ پس ہم نے انتقام لیا۔ بدلہ لیا۔
الیم۔ اسم جنس۔ دریا ۔ یم۔ مصدر۔ دریا میں ڈالنا۔ دریا کا ساحل پر چڑھ آنا۔
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر (137 ) ۔
الحسنی (نیکی) ۔ دمرنا (ہم نے برباد کردیا ) ۔ یعرشون (وہ اونچا چڑھاتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (137 ) ۔ ” یہاں کسی سر زمین کا نام نہیں لیا گیا ہے مگر مشارق اور مغارب کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ وہ تمام علاقہ جس پر اہل فرعون قابض تھے یعنی مصر سے لے کر شام و فلسطین تک اور ” بر کبا فیھا “ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس خطہ کے دامن میں عظیم الشان برکتیں موجود ہیں۔ سب سے پہلی برکت تو یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تقریباً تمام پیغمبروں کے میدان عمل کی سر زمین یہی رہی ہے یہیں سے ان کی تاریخیں وابستہ رہی ہیں اور یہیں ان کے مزارات ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
جب فرعون دریائے قلزم میں مع اپنے لشکر کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی ادرائیل کو ساتھ لئے ہوئے پار ہوگئے تو ان لوگوں کا گزر شہر رقہ میں ہوا جو اسی دریا کے کنارہ پر واقع ہے۔ یہاں قبیلہ کنعانی کے لوگ جن سے موسیٰ (علیہ السلام) کو لڑنے کا حکم ہوا تھا مورتیں (مجسمے) پوج رہے تھے۔ گائے کی شکل کے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ پوجا کیا کرتے تھے۔ انہیں بت پوجتے ہوئے دیکھ کر بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلم سے درخواست کی کہ آپ بھی ہمارے لئے بت بناویں، ہم بھی اسی طرح ان بتوں کی پوجا کریں گے جس طرح یہ لوگ مورتیں پوج رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ بت پرستی کے وبال میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–137
[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔
[48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →ناتوانوں کی توانائی :
(ف 2) یعنی بالآخر جو کمزور ونزار تھے ضعیف وناتوان تھے وہ صبر و استقلال کیو جہ سے توانا اور قوت والے ہوگئے جن کے لئے ارض مصر میں رہنا مشکل تھا وہ شام کے مشرق ومغرب میں پھیل گئے ، جو غلام تھے انہیں آزادی اور بادشاہت بخشی گئی وہ جو بادشاہ تھے ، انہیں دریائے قلزم میں غرق کردیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ بنی اسرائیل نے صبر و استقلال سے کام لیا اور اس لئے کہ فرعون نے سرکشی اختیار کی ۔
Read the full tafseer →137 اور ہم نے ان لوگوں کو جو ملک میں بہت ہی کمزور اور ضعیف سجھے جاتے تھے یعنی بنی اسرائیل ان کو اس ملک کی مشرق ومغرب اور پورب و پچھم کا مالک بنادیا جس ملک میں ہم نے اپنی مادی اور روحانی برکتیں رکھی ہیں اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کرنے اور ثابت قدم رہنے کی وجہ سے پورا ہوگیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو بڑے بڑے محلات اور باغات بنارکھے تھے اور انگور کی جو بیلیں ٹیٹوں پر پھیلا رکھی تھیں ان سب کو تباہ و برباد کردیا۔ یعنی زمین شام اس میں ظاہر و باکن کی برکت بہت ہے۔ 12
مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے حکومت کے مظالم پر صبر کیا اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کا ساتھ دیا تو اللہ…
Read the full tafseer →ف 9۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔
10۔ یعنی تمام حدود کا۔
1۔ یعنی ظاہری اور باطنی برکت ظاہری برکت کثرت پیداوار سے اور باطنی برکت فضائل و مدفن ومسکن انبیاء (علیہم السلام) کے ہونے سے۔
Read the full tafseer →فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کر کے بنی اسرائیل کو وہاں کے سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا :
148: معلوم ہوا کہ ہر جماعت اپنے اعمال کے ذریعہ ایک خاص نتیجہ تک پہنچتی رہتی ہے جو اس کی مقررہ اجل ہے اگر اعمال نیک ہوتے ہیں تو یہ اجل فلاح و کامیابی کی ہوتی ہے برے ہوتے ہیں تو ہلاکت کی ہوتی ہے ۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت ہوئی اور قوم بنی اسرائیل کو وراثت ارضی سونپ دی گئی تاکہ اس امتحان میں وہ بھی اپنا حصہ حاصل کرسکیں ۔ قانون الٰہی یہ ہے کہ ظالم قومیں جن مظلوم قوموں کو حقیرو کمزور سمجھتی ہیں ایک وقت آتا ہے کہ وہی شاہی و جہانداری کی وارث ہوجاتی ہیں اور یہی اس قصہ کا ماحصل ہے۔ غور کرو کہ مصریوں نے بنی…
Read the full tafseer →The previous verses contained an account of the warnings from Allah to the people of Pharaoh. The present verses speak of their ignominious end, and of the success of the Israelites. The verse 137 said, "And We made the people, who were taken to be weak, the inheritors of the land, of easts and wests which We had blessed." The verse did not say, the people who were weak, rather it said, those who were taken as weak. It implies that those having Allah as their support can never be weak in the real sense of the word, though they may seem so from their apparent condition. People finally come to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–137
97. The Israelites were made the inheritors of Palestine. This has been interpreted by some commentators of the Qur'an to mean that the Israelites were made the rulers of Egypt as well. This view, however, is neither supported by, the Qur'an nor by any other historical and archaeological evidence. We have, therefore, serious reservations about the correctness of this opinion. (See Tafhim a]-Qur'an, (al-Kahf 18, n. 57), and (al-Shuara' 26, n. 45)
Read the full tafseer →