Al-A'raaf 7:135

Al-A'raaf · from ayah 135

7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤی اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ ۟فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰٓى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ‏

پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when We removed the punishment from them until a term which they were to reach, then at once they broke their word.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 16 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:135

مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وه فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب ہم ان پر سے عذاب کو، اتنی مدت تک ہٹا لیتے جس تک انہیں پہنچنا ہی تھا تو وہ ایک دم اپنے وعدے سے پھرجاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے کیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب ہم ان سے اس مدت تک کے لئے جس کو وہ پہنچنے والے ہوتے وہ عذاب ٹال دیتے تو وہ فوراً ہی عہد توڑ دیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب ہم ان سے عذاب کو ایک وقت تک دور کردیتے، جسے وہ پہنچنے والے تھے تو اچانک وہ عہد توڑ دیتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب ہم ان سے وہ عذاب (ایک اور قسم کا عذاب آنے کی) مدت تک ہٹا دیتے تو وہ عہد شکنی کردیتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو کچھ مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعۃً عہد توڑ دیتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر جب ہم ان سے وہ عذاب دور کرلیتے ایک ایسی مدت تک جس کو انہیں پہنچنا ہوتا تو وہ (یک لخت) توڑ دیتے اپنے عہد کو

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب ہم ان سے عذاب کو اسی مدت تک کے لیے ہٹا دیتے جس تک انہیں پہنچنا تھا تو وہ فورا ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن جب ہم ان سے اس مصیبت کو دور کردیتے تھے ایک خاص مدت کے لیے کہ جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعتہً عہد توڑ دیتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ہم ایک مدت تک ان سے عذاب کو دور کردیتے تو پھر عہد کو توڑڈالتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But when We removed the scourge from them until a term - a term which they were bound to reach - they at once broke their promise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But when We removed the scourge from them for a term they had to reach, in no time they started to break their promise.

— Muhammad Taqi Usmani

But when We removed the scourge from them for a term they had to reach, in no time they started to break their promise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But when We removed the punishment from them for a fixed term, which they had to reach, behold! They broke their word!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But when We did remove from them the terror for a term which they must reach, behold! they broke their covenant.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when We removed the punishment from them until a term which they were to reach, then at once they broke their word.

— Saheeh International

But when We relieved them from the torment for a given time, they again broke their promise.

— Muhammad Sarwar

But when We removed the plague from them till a term which they should attain lo! they broke (the promise).

— Muhammad Habib Shakir

Then whensoever We removed the plague from them, till a term which they were to reach, lo! they were breaking faith.

— Abdul Majid Daryabadi

But every time We removed the penalty from them according to a fixed term which they had to fulfil,- Behold! they broke their word!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:135

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 132–135

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 134–137

سورة الْاَعْرَاف 97 یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین کی سر زمین کا وارث بنادیا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ بنی اسرائیل خود سر زمین مصر کے مالک بنادیے گئے۔ لیکن اس کے معنی کو تسلیم کرنے کے لیے نہ تو قرآن کریم کے اشارات کافی واضح ہیں اور نہ تاریخ و آثار ہی سے اس کی کوئی قوی شہادت ملتی ہے، اس لیے اس معنی کو تسلیم کرنے میں ہمیں تامل ہے۔ (ملاحظہ ہو الکہف حاشیہ 57۔ الشعراء حاشیہ 45)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 133–135

خلاصہ تفسیر (جب ایسی سرکشی اختیار کی تو) پھر ہم نے (ان دو بلاؤں کے علاوہ یہ بلائیں مسلط کیں کہ (3) ان پر (کثرت بارش کا) طوفان بھیجا (جس سے مال وجان تلف ہونے کا اندیشہ ہوگیا) اور (اس سے گھبرائے تو موسیٰ ؑ سے عہد و پیمان کیا کہ ہم سے یہ بلا دور کر ایئے تو ہم ایمان لائیں اور جو آپ کہیں اطاعت کریں پھر جب وہ بلا دور ہوئی اور دل خواہ غلہ وغیرہ نکلا پھر بےفکر ہوگئے کہ اب تو جان بھی بچ گئی مال بھی خوب ہوگا ور بدستور اپنے کفر و طغیان پر اڑے رہے تو ہم نے ان کے کھیتوں پر (4) ٹڈیاں (مسلط کیں) اور (جب پھر کھیتوں کو تباہ ہوتے دیکھا تو گھبرا کر پھر ویسے ہی عہد و پیمان کئے اور پھر جب آپ کی دعا سے وہ بلا دور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ سے مقصود ان کی بےضمیری اور ان کے سفلہ پن کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ ان کے فریب اور جھوٹ پر زیادہ دیر تک پردہ نہ پڑا رہ سکے گا، وہ محض اس خیال سے جھوٹا عہد کرلینے کہ اس سے جتنی دیر کے لیے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اٹھا لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

135۔ 1 یعنی ایک عذاب آتا تو اس سے تنگ آکر موسیٰ ؑ کے پاس آتے تو ان کی دعا سے ٹل جاتا تو ایمان لانے کی بجائے پھر اس کفر اور شرک پر جمے رہتے پھر دوسرا عذاب آجاتا پھر اسی طرح کرتے یوں کچھ کچھ وقفوں سے پانچ عذاب ان پر آئے لیکن ان کے دلوں میں جو فرعونیت اور دماغوں میں جو تکبر تھا وہ حق کی راہ میں ان کے لئے زنجیر پا بنا رہا اتنی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان کی دولت سے محروم ہی رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

59: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر میں ان کے لئے ایک وقت تو ایسا آنا ہی تھا جب وہ عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوں ؛ لیکن اس سے پہلے جو چھوٹے چھوٹے عذاب آرہے تھے ان کو ایک مدت تک کے لئے ہٹالیا جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

سیاق کلام میں ان تمام نشانیوں کو ایک جگہ لایا گیا ، اس طرح کہ گویا بیک وقت ان سب کا ظہور ہوا ، اور ان کے بعد جب اللہ نے ان مشکلات کو رفع فرمایا تو ایک ہی بات فرعونیوں نے بد عہدی کی ، یہ انداز اس لیے اختیار کیا گیا کہ جب بھی کوئی نشانی آئی اور دور ہوئی تو انہوں نے پھر عہد وفا نہ کیا۔ یہ انداز بیان قرآن کے اسالیب میں سے ایک ہے ، چونکہ واقعات ایک ہی جیسے تھے ، اس لیے ایک ہی جگہ ان کے آغاز کی طرف اشارہ کردیا گیا گویا ایک ہی دل کے ساتھ یہ تمام تجربات پیش آئے اور وہ دل اس قدر سخت ہوچکا تھا کہ کسی تجربے نے بھی اس کے اندر راہ نہ پایا۔ اور کسی نے عبرت نہ حاصل کی۔ یہ تمام نشانیاں جن تفصیلات کے ساتھ آتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 اس مدت سے یا تو موت اور غرق ہونے تک کی مدد مراد ہے۔ یا ممکن ہے ایک بلا کے بعد دوسری بلا کے آنے تک کا وقت مراد ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 134–136

آیت 134 وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ ج۔ لَءِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ اگر تم نے ہم سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے آمَنَ کے ساتھ جب ل کا صلہ آتا ہے جیسے لَکَ تو اس سے مراد عقیدہ والا ایمان نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس طرح کسی کی بات کو سرسری انداز میں ماننے کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ کا مطلب ہے کہ ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ جب ب کا صلہ آئے ‘ جیسا کہ آمَنْتُ باللّٰہِ وَمَلآءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ میں ہے تو اس کے معنی پورے وثوق ‘ یقین اور گہرے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 134–135

130 چھٹا طاعون کا عذاب :۔ یعنی اس قوم کا یہ وطیرہ بن گیا کہ مذکورہ پانچ عذابوں میں سے جب کوئی عذاب آتا تو فوراً سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس دعا کے لیے التجا کرتے اور کہتے کہ تمہارے پروردگار نے جو تم سے عہد کر رکھا ہے اس کے مطابق تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی اور اگر تمہاری دعا سے ہم پر سے عذاب ٹل گیا تو پھر ہم تمہارا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے اس طرح پانچ دفعہ یہی واقعہ ہوا اور یہ فرعونی ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے تھے۔ اور بعض مفسرین نے یہاں لفظ رجز کے معنی عذاب کے بجائے طاعون کے لیے ہیں اور ایک حدیث سے اس معنی کی تائید بھی ہوجاتی ہے اس لحاظ سے یہ فرعونیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

175 ۔ یعنی جب جب وہ عذاب عارضی طور پر ان سے ٹل جاتا تو معا ان کی وہ سرکشی ونافرمانی پھر لوٹ آتی۔ توریت میں یہ مضمون بار بار آیا ہے۔ مثلا :۔ جب فرعون نے دیکھا کہ مہلت ملی تو اس نے اپنا دل سخت کیا اور جیسا خداوند نے کہا تھا ان کی نہ سنی۔ (خروج 8:5 1) فرعون نے اس بار بھی اپنادل سخت کیا۔ اور لوگوں کو ہرگز جانے کی رخصت نہ دی (خروج 8:32) اس مضمون کی آیتیں کتاب خروج کے باب 7 ۔ 8 ۔ 9 میں بار بار آئی ہیں باب 1 1 میں آتا ہے :۔ اور موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے یہ عجائب فرعون کو دکھائے اور خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کردیا کہ اس نے اپنے ملک سے بنی اسرائیل کو جانے نہ دیا (خروج۔ 1 1: 10) (آیت) ” الی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 130–141

آیت نمبر 130 تا 141 ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما کشفنا عنہم الرجز الی اجل ہم بلغوہ اذا ہم ینکثون : پھر جب ہم ان سے اس عذاب کو ایک وقت خاص تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے تو وہ فوراً ہی وعدہ کے خلاف کرنے لگتے۔ ولما وقع علیہم الرجز اور جب ان پر عذاب مذکور (یعنی طوفان وغیرہ نازل ہوگیا۔ سعید بن جبیر کے نزدیک رجز سے مراد طاعون ہے پانچ آیات کے ظہور کے بعد یہ چھٹی آیت عذاب تھی جس سے ایک دن میں ستّر ہزار آدمی مرگئے اور باہم دفن کرتے کرتے ان کو شام ہوگئی بخاری و مسلم نے صحیحین میں اور ترمذی و بغوی نے حضرت اسامہ ؓ بن زید کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ نے بنی اسرائیل پر اور تم سے پہلی قوموں پر بھیجا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 134–136

(134۔ 135۔ 136) اور جس وقت بھی ان لوگوں پر طوفان، ٹڈی، گھن، کیڑا، مینڈک، خون وغیرہ میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا تھا تو کہتے تھے اے موسیٰ ؑ ہمارے رب سے جس چیز کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے دعا کیجیے اگر ہم سے عذاب دور ہوگیا تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے، اور تمام بنی اسرائیل کو اس کے مالوں کے ساتھ آپ کے ساتھ روانہ کردیں گے پھر جب ہم عذاب ہٹا دیتے تو وہ پھر بدعہدی شروع کردیتے چناچہ ہم نے انہیں غرق آب کردیا اور وہ ہماری آیات کے منکر ہی تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 133–136

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ۔۔ : جب وہ قحط سالی اور پھلوں کی کمی کی گرفت کے باوجود کفر اور سرکشی پر ڈٹ گئے اور اس مصیبت کو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مزید سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو فرعون اور اس کی فوجوں کے مکمل خاتمے اور غرق ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ قحط سالیوں کے بعد ”الطُّوْفَانَ“ یعنی سخت بارش اور سیلاب شروع ہوا جس سے ان کی زندگی دشوار ہوگئی تو انھوں نے موسیٰ ؑ سے دعا کی درخواست کی کہ تمہارا اپنے رب سے جو عہد اور معاملہ ہے اسے پیش کرکے اس سے ہمارے لیے یہ عذاب دور کرنے کی دعا کریں، اگر تم نے ہم سے یہ عذاب دور کروا دیا تو ہم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 134–136

قولہ تعالیٰ ؛ آیت : ولما وقع علیھم الرجز اس میں رجز کا معنی عذاب ہے۔ اسے را کے ضمہ ساتھ رجز بھی پڑھا گیا ہے، اور اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ابن جبیر (رح) (النکت والعیون للماوردی، جلد 2، صفحہ 253) نے کہا ہے : یہ عذاب طاعون تھا اس کے ساتھ ستر ہزار قبطی ایک دن میں مرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجز سے مراد وہی آیات اور نشانیاں ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ آیت : بما عھد عندک اس میں ما بمعنی الذی ہے، یعنی اس کے سبب جس کا علم اس نے آپ کو ودیعت فرمایا یا اس کے سبب، جس کے ساتھ اس نے آپ کو مخلص فرمایا ہے اور آپ کو آگاہ کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ قسم ہے، یعنی اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 134–135

(1) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” الرجز “ سے مراد ہے عذاب۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم فرمایا کہ ہر آدمی تم میں سے ایک دنبہ ذبح کرے۔ پھر اس کے خون سے اپنی ہتھیلی کو رنگ لے پھر اس (ہتھیلی) کو اپنے دروازے پر مار دے۔ قطبیوں نے بنی اسرائیل سے پوثھا تم اس طرح کیوں ملتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ تم پر عذاب بھیجے گا تو ہم محفوظ رہیں گے۔ اور تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ قبطی نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو یہی علامت بتائی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہم کو ہمارے نبی نے حکم دیا ہے پس انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَلَمَّا : پھر جب ] [ كَشَفْنَا : ہم نے ہٹا دیا ] [ عَنْهُمُ : ان سے ] [ الرِّجْزَ : اس عذاب کو ] [ اِلٰٓي اَجَلٍ : ایک مدت تک ] [ هُمْ : (کہ ) وہ ] [ بٰلِغُوْهُ : پہنچنے والے تھے اس کو ] [ اِذَا : جب ہی ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَنْكُثُوْنَ : عہد شکنی کرتے ] ن ک ث : (ن) نکثا ، کمبل کو ادھیڑنا ۔ سوت کو ریشہ ریشہ کرنا ۔ عہد شکنی کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 135 ۔ نکث ۔ ج : انکاث ۔ ادھیڑا ہوا کمبل یا سوت ۔ ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا [ اور تم لوگ مت ہو اس عورت کی مانند جس نے توڑا اپنا کاتا ہوا سوت محنت کے بعد ، ادھیڑ ہوا ] 16:92 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 135–136

(فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ ) (پھر ہم نے ان سے انتقام لیا سو ہم نے ان کو سمندر میں ڈبو دیا) ۔ (بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا) (اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا) (وَ کَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ) (اور وہ لوگ ان سے غافل تھے) یعنی جو نشانیاں ان کے پاس آتی تھیں ان سے غفلت برتتے تھے اور ان کے ساتھ بےپرواہی کا معاملہ کرتے تھے نہ فکر مند ہوتے نہ نصیحت حاصل کرتے۔ بنی اسرائیل کے نجات پانے اور قوم کے غرق ہونے کا تذکرہ ( سورة بقرہ رکوع 6) میں گزر چکا ہے نیز سورة شعراء (رکوع 4) اور سورة قصص (رکوع 1) اور سورة دخان (رکوع 1) میں بھی مذکور ہے اور سورة شعراء میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 130–137

ذکر نزول مصائب عبرت بر قبطیان تا آخر ہلاکت قال اللہ تعالیٰ ٰ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا یعرشون (ربط) گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے یہ وعدہ ذکر فرمایا۔ عسی ربکم ان یھلک عدوکم۔ عنقریب خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا۔ اب ان آیات میں اس اہلاک موعود کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قوم فرعون کس طرح بتدریج ہلاک کی گئی اور وقتاً فوقتاً ان پر کیا کیا مصیبتیں اور کیا کیا بلائیں یکے بعد یگرے نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ان پر بلائیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور عبرت اور نصیحت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور مقابلہ کا انجام ایسا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 134–135

127: تفصیل مذکور کے مطابق جب ان پر عذاب آتا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آکر گڑ گڑانے لگتے کہ اللہ سے دعا مانگو اگر ہم سے عذاب اٹھ گیا تو ہم تجھ پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دیں گے لیکن جب اللہ ان پر سے عذاب اٹھا لیتا تو وہ ہر بار عہد شکنی کرتے اور ایمان نہ لاتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 134–137

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ آپ نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا مگر انہوں نے آپ کی دعوت کا انکار کردیا پھر جب آپ نے عصا اور بدبیضاء والے معجزات کا اظہار فرمایا تو فرعون نے مقابلے کے لیے ملک بھر کے جادوگر اکٹھے کیے جادوگروں نے مجمع عام میں اپنا اپنا فن پیش کیا اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو جادوگر ناکام ہوگئے اور انہوں نے ایمان قبول کرلیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا دستور بیان کیا کہ پہلے وہ لوگوں پر تنگی ڈال کر آزماتا ہے پھر جب وہ خبردار نہیں ہوتے برائیوں سے باز نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ ہُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ہُمْ يَنْكُثُوْنَ۝ 135 كشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] ( ک ش) الکشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 130–137

ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔ تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 134–135

ارشاد فرمایا : وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوسْیَ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَ کَ ج لَئِنْ کَشََفْتَ عَنَّا الِرّجْرَ لَنُوئْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الِرّجْزَ اِلٰٓی اَجَلٍ ھُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْنَ ۔ (الاعراف : 134، 135) ” اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو کہتے اے موسیٰ تم اپنے رب سے اس عہد کے واسطے سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لیے دعا کرو اگر تم نے ہم سے یہ آفت دور کردی تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے مگر جب ہم ان سے اس آفت کو دور کردیتے ایک مدت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 135–136

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اور اس کی قوم جب تمام اخلاقی حدود پامال کرچکی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے جب کوئی قوم کفر و شرک تکبر اور تمرد میں آگے ہی بڑھتی جائے تو اس کا وجود انسانی معاشرے میں کینسر کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ جس سے اس علاقے کے رہنے والے ہی نہیں بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس پر لعنت بھیجتی ہے اس صورتحال میں اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام کو چلانے اور قائم رکھنے کے لیے مجرم قوم کا صفایا کردیتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اب وقت آن پہنچا تھا کہ فرعون اور آل فرعون کو ہمیشہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مہلت سے غلط فائدہ : آیت 135: فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْھُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓی اَجَلٍ (پھر جب ہم ان سے عذاب کو ایک مدت تک ہٹا دیتے) ایک زمانہ تک ھُمْ بَالِغُوْہُ (جس مدت تک ان کو پہنچنا تھا) بہر صورت پس ان کو سزا ملے گی ان کو پہلی مہلت کام نہ دے گی۔ اور نہ ہی عذاب کا وقتی طور دور ہونا کام آئے گا۔ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْنَ (تو وہ اسی وقت عہد شکنی کردیتے تھے) یہ لمّا کا جواب ہے یعنی جب ہم نے ان سے عذاب ہٹالیا تو اسی وقت وعدہ توڑنے لگے اور ذرہ بھی تاخیرنہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

135(فلما کشفنا عنھم الرجز الی اجل ھم یلغوہ) یعنی دریا میں غرق ہونے تک (اذا ھم ینکثون) عہد توڑتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 134–135

(134 ۔ 135) ۔ اس آیت کے متعلق دو قول ہیں بعض مفسروں نے یہ لکھا ہے کہ یہ آیت اوپر کی آیتوں کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو فرعون اور اس کی قوم پر اوپر کی آیتوں میں پانچ عذاب طوفان اور ٹڈیاں اور گھن اور مینڈک اور خون بھیج کر برباد کیا اسی کا بیان فرمایا ہے کہ جب ان پر عذاب ایک کے بعد ایک آتا گیا تو ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ عذاب ہم پر سے دفع ہوجاوے کیونکہ خدا نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے تم سے ہر ایک دعا کے پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے اگر تمہاری دعا سے یہ بلائیں ٹل جاویں گی تو ہم تم پر ایمان بھی لاویں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ کر دیویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 134–135

168 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا مصیبت کے موقع پر وہ لوگ حضرت موسیٰ سے کہتے کہ آپ اللہ سے دعاء کریں اس عہد کی بناء پر جو اس نے آپ سے کر رکھا ہے آپ کی دعاء کی قبولیت کے لئے۔ سو پیغمبر کا کام ہے دعاء کرنا اور بس۔ آگے قبول کرنا نہ کرنا اللہ پاک کی مشیت ومرضی پر موقوف ہے۔ وہ جس کی دعاء چاہے قبول فرمائے اور جس کی چاہے نہ قبول فرمائے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم کی دعا ان کے باپ کے حق میں کہ حضرت ابراہیم کی پوری خواہش اور چاہت کے باوجود ان کی دعاء ان کے باپ کے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ اور جیسے حضرت نوح کی دعاء ان کے بیٹے کے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ اور جیسے حضرت امام الانبیاء کی دعاء آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:135) الی اجل۔ ایک مقررہ مدت کے لئے۔ ایک مقررہ مدت تک۔ ھم مالغوہ۔ جس کو انہوں نے مکمل کرنا ہی تھا۔ اس مدت تک انہوں نے پہنچنا ہی تھا۔ یعنی جب ان کو لامحالہ عذاب عظیم آنا ہی تھا۔ یہ عذاب عظیم ان کا دریائے قلزم میں غرق ہونا تھا۔ ان کو جو مہلت دی گئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجہ میں وہ ایک مقررہ وقت تک تھی اور وہ وقت مقررہ ان کی غرقابی کا وقت تھا۔ اس وقت تک ان کا زندہ رہنا۔ بہرکیف ان کا مقدر تھا۔ اور اس درمیانی عرصہ کے لئے ان کو پہلے عذاب سے (یعنی جراد۔ قمل۔ ضفادع۔ دم سے) نجات دی گئی۔ اس وقت مقررہ کو وہ پہنچنے والے تھے کہ انہوں نے پھر توبہ کا عہد جو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–136

لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔ تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “ گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 135–136

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک روز آدھی رات کو سارے شہر میں وبا پھیل گئی لوگ مرنے لگے۔ جبکہ یہ اپنی جانوں کی فکر میں تھے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر شہر سے نکل گئے۔ جب فرعون کو اس کی خبر ہوئی تو لشکر تیار کرکے ان کے پیچھے بھاگا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مع بنی اسرائیل کے دریائے قلزم کی طرف جاتے دیکھا۔ یہ بھی مع لشکر کے وہاں پہنچا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم کے دریا میں گھس گئے۔ دریا نے خدا کے حکم سے بارہ راستے بنادئے اور یہ سب کے سب ان راستوں سے دریا کے پار ہوگئے۔ فرعون بھی مع اپنے لشکر کے دریا میں گھس پڑا جب بیچوں بیچ پہنچا تو دریا دونوں طرف سے آکر مل گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 125–137

[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔ [48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) جب ان لوگوں نے دیکھا کہ یہ ساری تکلیفیں ہماری معصیت کی وجہ سے ہیں ، تو ایمان لانے کا وعدہ کرلیا ، اللہ تعالیٰ نے عذاب اٹھا لیا مگر یہ پھر بگڑ گئے ، اس آیت میں بتایا ہے کہ مصیبت کے وقت جو رجوع ہوتا ہے وہ مخلصانہ نہیں ہوتا ، حل لغات : طوفان : طوف سے ہے یعنی آندھی یا وہ تیز بارش جس کے ساتھ زور کی ہوا بھی ہو ۔ القمل : بھینگے حشرات ، علامہ راغب کہتے ہیں ، صغار الذباب ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

135 پھر جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان سے ایک وقت متعین تک کے لئے جس تک وہ پہنچنے والے تھے اس بلا اور عذاب کو ہٹا لیتے تب ہی وہ اپنے عہد کو توڑ دیتے۔ یعنی ان کے غرق ہونے کی جو مدت مقرر تھی اس تک ان کو پہنچانا ہی تھا ہم جب ان پر سے ان عارضی بلائوں کو ہٹا لیتے تو وہ فوراً ہی اس عہد کو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باربار کرتے تھے توڑ دیا کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 133–136

ف 6۔ کثرت بارش۔ 7۔ یہ ساتوں عصا اور ید ملا کر آیات تسعہ کہلاتے ہیں۔ 8۔ کیونکہ اتنی سختی پر بھی باز نہ آتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عذاب اپنے وقت پر اٹھا لیا جاتا تو وہ اپنی بات سے پھرجاتے : 146: قرآن کریم نے دراصل انسانوں کو اس سے یہ درس دیا ہے کہ مشرک قومیں ہوں یا افراد وہ اپنے شرک کے باعث بےشرم اور ڈھیٹ ہوجاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کی انسانیت شرک کے باعث مسخ ہوچکی ہوتی ہے اور یہی حالت فرعون اور اس کی قوم کی تھی۔ ہمارا عذاب ان پر آتا تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ہاتھ جوڑتے اور معافی طلب کرتے اور ہمارے قانون کے مطابق جب وہ عذاب ٹل جاتا تو وہ پھر وہ باتیں بنانے لگتے اس لئے کہ وہ اپنے کسی قول وقرار کے پکے نہ تھے اور جو قوم قول وقرار کی پکی نہ ہو اس کی ہلاکت آج یا کل یقینی ہوتی ہے۔ آج اگر غور سے دیکھا جائے تو قوم مسلم کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 133–135

The above verses relate the next part of the story of the prophet Musa (علیہ السلام) and the people of Pharaoh. According to historical reports, the prophet Musa (علیہ السلام) stayed in Egypt for 20 years. He kept preaching consistently and conveyed the message of Allah to them. He was given nine miracles during his stay in Egypt which served as warnings to the people of Pharaoh. The Holy Qur'an has referred to the nine miracles in these words وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ. "Surely, We gave him nine miracles." Out of the nine miracles, two were performed before Pharaoh and his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 134–137

97. The Israelites were made the inheritors of Palestine. This has been interpreted by some commentators of the Qur'an to mean that the Israelites were made the rulers of Egypt as well. This view, however, is neither supported by, the Qur'an nor by any other historical and archaeological evidence. We have, therefore, serious reservations about the correctness of this opinion. (See Tafhim a]-Qur'an, (al-Kahf 18, n. 57), and (al-Shuara' 26, n. 45)

Read the full tafseer →