Al-A'raaf 7:134

Al-A'raaf · from ayah 134

7:134

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ— لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ۟ۚوَلَـمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَـنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ‌ۚ لَئِنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَـنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ‌ۚ

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the punishment descended upon them, they said, "O Moses, invoke for us your Lord by what He has promised you. If you [can] remove the punishment from us, we will surely believe you, and we will send with you the Children of Israel."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 16 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:134

جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے "اے موسیٰؑ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراه کر دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان پر عذاب آپڑتا تو وہ کہتے : اے موسیٰ ! تمہارے پاس اللہ کا جو عہد ہے، اس کا واسطہ دے کر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کردو (کہ یہ عذاب ہم سے دور ہوجائے) اور اگر واقعی تم نے ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دیا تو ہم تمہاری مان لیں گے، اور بنی اسرائیل کو ضرور تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان پر (کوئی) عذاب واقع ہوتا تو کہتے: اے موسٰی! آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریں اس عہد کے وسیلہ سے جو (اس کا) آپ کے پاس ہے، اگر آپ ہم سے اس عذاب کو ٹال دیں تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو (بھی آزاد کر کے) آپ کے ساتھ بھیج دیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ ! اپنے رب سے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے تیرے ہاں دے رکھا ہے، یقینا اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور ہی تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور ہی بھیج دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان پر کوئی عذاب آن پڑتا تو کہتے : موسیٰ ! تیرے پروردگار نے تجھ سے جو (دعا قبول کرنے کا) عہد کیا ہوا ہے تو ہمارے لیے دعا کر۔ اگر تو ہم سے عذاب کو دور کردے گا تو ہم یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ روانہ کردیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسیٰ تم اپنے رب سے، اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے، ہمارے لیے دعا کرو۔ اگر تم نے ہم یہ آفت دور کردی تو ہم تمہاری بات ضرور مان لیں گے۔ اور تمہارے ساتھ بنی اسائیل کو جانے دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان پر ایسا کوئی عذاب آپڑتا تو وہ کہتے ہیں اے موسیٰ ہمارے لئے دعا کرو اپنے رب سے اس عہد کی بناء پر جو اس نے آپ سے کر رکھا ہے (اور) اگر آپ نے ہم سے یہ عذاب دور کرا دیا تو ہم ضرور بالضرور تمہاری بات مان لیں گے، اور بھیج دیں گے تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان پر کوئی عذاب آپڑتا تو کہتے کہ اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو جس کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم پر سے (اس) عذاب کو ہٹا دو تو ہم ضرور تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم تمہارے ہمراہ بنی اسرائیل کو کردیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان پر کوئی عذاب آتا تھا تو وہ کہتے کہ اے موسیٰ ؑ اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی لازماً تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر بھی ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Each time a scourge struck them they, said: 'O Moses! Pray for us to your Lord on the strength of the prophethood He has bestowed upon you. Surely, if you remove this scourge from us, we will truly believe in you, and will let the Children of Israel go with you.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whenever a scourge befell them, they said, :O Musa, pray for us to your Lord by the covenant He has made with you. If you remove the scourge from us, we will truly believe in you, and will send the children of Isra‘il with you.

— Muhammad Taqi Usmani

Whenever a scourge befell them, they said, :O Musa, pray for us to your Lord by the covenant He has made with you. If you remove the scourge from us, we will truly believe in you, and will send the children of Isra‘il with you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the punishment struck them, they said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the terror fell on them they cried: O Moses! Pray for us unto thy Lord, because He hath a covenant with thee. If thou removest the terror from us we verily will trust thee and will let the Children of Israel go with thee.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when the punishment descended upon them, they said, "O Moses, invoke for us your Lord by what He has promised you. If you [can] remove the punishment from us, we will surely believe you, and we will send with you the Children of Israel."

— Saheeh International

When the torment would strike them, they would ask Moses, "Pray for us to your Lord through your covenant with Him. If He saves us from the torment, we shall certainly believe in you and permit you and the children of Israel to leave".

— Muhammad Sarwar

And when the plague fell upon them, they said: O Musa! pray for us to your Lord as He has promised with you, if you remove the plague from us, we will certainly believe in you and we will certainly send away with you the children of Israel.

— Muhammad Habib Shakir

And whensoever a plague fell on them, they said: O Musa! supplicate thy Lord for us, by that which He hath covenanted with thee; surely if thou remove the plague from us we will surely believe in thee, and we will send away with thee the Children of Israi'l.

— Abdul Majid Daryabadi

Every time the penalty fell on them, they said: "O Moses! on your behalf call on thy Lord in virtue of his promise to thee: If thou wilt remove the penalty from us, we shall truly believe in thee, and we shall send away the Children of Israel with thee."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:134

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 132–135

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 134–137

سورة الْاَعْرَاف 97 یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین کی سر زمین کا وارث بنادیا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ بنی اسرائیل خود سر زمین مصر کے مالک بنادیے گئے۔ لیکن اس کے معنی کو تسلیم کرنے کے لیے نہ تو قرآن کریم کے اشارات کافی واضح ہیں اور نہ تاریخ و آثار ہی سے اس کی کوئی قوی شہادت ملتی ہے، اس لیے اس معنی کو تسلیم کرنے میں ہمیں تامل ہے۔ (ملاحظہ ہو الکہف حاشیہ 57۔ الشعراء حاشیہ 45)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 133–135

خلاصہ تفسیر (جب ایسی سرکشی اختیار کی تو) پھر ہم نے (ان دو بلاؤں کے علاوہ یہ بلائیں مسلط کیں کہ (3) ان پر (کثرت بارش کا) طوفان بھیجا (جس سے مال وجان تلف ہونے کا اندیشہ ہوگیا) اور (اس سے گھبرائے تو موسیٰ ؑ سے عہد و پیمان کیا کہ ہم سے یہ بلا دور کر ایئے تو ہم ایمان لائیں اور جو آپ کہیں اطاعت کریں پھر جب وہ بلا دور ہوئی اور دل خواہ غلہ وغیرہ نکلا پھر بےفکر ہوگئے کہ اب تو جان بھی بچ گئی مال بھی خوب ہوگا ور بدستور اپنے کفر و طغیان پر اڑے رہے تو ہم نے ان کے کھیتوں پر (4) ٹڈیاں (مسلط کیں) اور (جب پھر کھیتوں کو تباہ ہوتے دیکھا تو گھبرا کر پھر ویسے ہی عہد و پیمان کئے اور پھر جب آپ کی دعا سے وہ بلا دور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ الایہ۔ لَمَّا، کُلَّمَا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خاص طور پر ان مواقع میں جہاں مد نظر تصویر حال ہو۔ آگے آیت 189 میں اس کی نظیر موجود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب جب وہ عذاب کی گرفت میں آتے حضرت موسیٰ کی منت سماجت کرنے لگتے کہ اس قرب وتعلق کی بنا پر جو تمہیں اپنے رب سے ہے، ہمارے لیے دعا اور سفارش کرو کہ یہ عذاب ہمارے سر سے ٹل جائے۔ اگر تم نے اس کو ٹال دیا تو ہم ضرور تمہاری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ جانے دیں گے لیکن جب عذاب ٹل جاتا تو اپنے وعدے سے پھر مکر جاتے۔ تورات میں اس کا ذکر یوں ہے۔ “ ’ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلا کر کہا کہ خداوند سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 133–134

133۔ 1 طوفان سے سیلاب یا کثرت بارش، جس میں ہر چیز غرق ہوگئی، یا کثرت اموات، جس سے ہر گھر میں ماتم برپا ہوگیا، ٹڈی دل کا حملہ فصلوں کی ویرانی کے لئے مشہور ہے یہ ٹڈیاں ان کے غلوں اور پھلوں کی فصلوں کو کھا کر چٹ کر جاتیں، جو پانی جوہڑوں، چھپڑوں میں ہوتا ہے، یہ مینڈک ان کے کھانوں میں، بستروں میں۔ غلوں میں غرض ہر جگہ اور ہر طرف مینڈک ہی مینڈک ہوگئے جس سے ان کا کھانا پینا، سونا آرام کرنا حرام ہوگیا۔ دم (خون) سے مراد پانی کا خون بن جانا یوں پانی پینا ان کے لئے ناممکن ہوگیا، بعض نے خون سے مراد نکسیر کی بیماری لی ہے۔ یعنی ہر شخص کی ناک سے خون جاری ہوگیا، یہ کھلے کھلے اور جدا جدا معجزے تھے جو وقفے وقفے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 133–134

58: یہ مختلف قسم کے عذاب تھے جو یکے بعد دیگرے فرعون کی قوم پر مسلط ہوتے رہے، پہلے طوفان آیا جس میں ان کی کھیتیاں بہہ گئیں اس کے بعد جب انہوں نے ایمان لانے کا وعدہ کرکے حضرت موسیٰ ؑ سے دعا کروائی اور کھیت بحال ہوئے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ٹڈی دل نے کھیتوں کو برباد کرڈالا، پھر وہی وعدے کئے، اور یہ بلا دور ہوئی اور خوش حالی آنے لگی تو یہ پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور ایمان نہ لائے تو ان کی پیداوار کو گھن لگادیا گیا، پھر وہی ساری داستان دہرائی گئی اور یہ پھر بھی نہ مانے تو مینڈکوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ وہ کھانے کے برتنوں میں نمودار ہوتے اور سارے کھانے کو خراب کردیتے، دوسری طرف پینے کے پانی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جب بھی کوئی مصیبت آتی تو مشکلات کے دباؤ کے تحت وہ حضرت موسیٰ کے آگے جھکتے اور وعدہ کرتے کہ اگر تمہاری دعا سے ہمیں اس سے نجات ملی تو بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ لیکن جب بھی عذاب ٹلتا تو ان کی روش وہی رہتی۔ ہر بار وہ وعدہ خلافی کرتے ، اور دوبارہ وہ اسی حالت میں چلے جاتے جو ان کے لیے ایک مہلت تھی اور ان کے لیے اللہ نے ایک وقت مقرر کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی اس نے دعاء کا جو موثر طریقہ تجھ کو بتلا رکھا ہے، اسی طرح دعاء کر دیجئے۔ یابِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ کا مطلب یہ ہے کہ " نبی اللہ " ہونے کی حیثیت سے دعاء فرما دیجئے۔ گویا " عہد " کا اطلاق نبوت پر ہوا، کیونکہ خدا اور نبی کے درمیان ایک طرح کا معاہدہ ہوتا ہے کہ خدا نبی کو خلعت اکرام و اعانت سے سرفراز فرمائے گا اور نبی اس کی پیغام رسانی میں کوتاہی نہ کرے گا۔ اور ممکن ہے بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ سے وہ عہد مراد ہو جو بتوسط انبیاء علیہم السلام، اقوام سے کیا جاتا ہے کہ اگر تم کفر و تکذیب سے باز آجاؤ گے تو عذاب الٰہی اٹھا لیا جائے گا واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 134–136

آیت 134 وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ ج۔ لَءِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ اگر تم نے ہم سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے آمَنَ کے ساتھ جب ل کا صلہ آتا ہے جیسے لَکَ تو اس سے مراد عقیدہ والا ایمان نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس طرح کسی کی بات کو سرسری انداز میں ماننے کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ کا مطلب ہے کہ ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ جب ب کا صلہ آئے ‘ جیسا کہ آمَنْتُ باللّٰہِ وَمَلآءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ میں ہے تو اس کے معنی پورے وثوق ‘ یقین اور گہرے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 134–135

130 چھٹا طاعون کا عذاب :۔ یعنی اس قوم کا یہ وطیرہ بن گیا کہ مذکورہ پانچ عذابوں میں سے جب کوئی عذاب آتا تو فوراً سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس دعا کے لیے التجا کرتے اور کہتے کہ تمہارے پروردگار نے جو تم سے عہد کر رکھا ہے اس کے مطابق تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی اور اگر تمہاری دعا سے ہم پر سے عذاب ٹل گیا تو پھر ہم تمہارا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے اس طرح پانچ دفعہ یہی واقعہ ہوا اور یہ فرعونی ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے تھے۔ اور بعض مفسرین نے یہاں لفظ رجز کے معنی عذاب کے بجائے طاعون کے لیے ہیں اور ایک حدیث سے اس معنی کی تائید بھی ہوجاتی ہے اس لحاظ سے یہ فرعونیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

173 ۔ کہ ہمارے تائب ہوجانے پر وہ اپنے قہر کو ہم سے ہٹا لے گا) بما میں ماء الذی کے معنی میں ہے بمعنی الذی ای بما استودعک من العلم (قرطبی) 174 ۔ یہ مضمون توریت کی متعدد آیتوں میں ملتا ہے مثلا :۔ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بلایا اور کہا کہ خداوند سے شفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مجھ سے اور میری رعیت سے دفع کرے۔ اور میں ان لوگوں کو جانے دوں گا تاکہ وہ خداوند کے لئے قربانی کریں۔ (خروج 8:8) تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بلوایا اور انہیں کہا کہ اس دفعہ میں نے گناہ کیا ہے۔ خداوند عادل ہے میں اور میری قوم گنہگار ہیں۔ خداوند سے شفاعت کرو (کہ بس) کہ آگے کو اس طرح سے نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 130–141

آیت نمبر 130 تا 141 ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولما وقع علیہم الرجز قالوا یموس ادع لنا ربک بما عہد عندک لئن کشفت عنا الرجز لنؤمنن لک والنرسلن معک بنی اسرائیل : اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ( علیہ السلام) ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر دو جس کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے اگر آپ ہم سے اس عذاب کو اٹھا دیں گے تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آپ کے ساتھ جانے دیں گے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 134–136

(134۔ 135۔ 136) اور جس وقت بھی ان لوگوں پر طوفان، ٹڈی، گھن، کیڑا، مینڈک، خون وغیرہ میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا تھا تو کہتے تھے اے موسیٰ ؑ ہمارے رب سے جس چیز کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے دعا کیجیے اگر ہم سے عذاب دور ہوگیا تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے، اور تمام بنی اسرائیل کو اس کے مالوں کے ساتھ آپ کے ساتھ روانہ کردیں گے پھر جب ہم عذاب ہٹا دیتے تو وہ پھر بدعہدی شروع کردیتے چناچہ ہم نے انہیں غرق آب کردیا اور وہ ہماری آیات کے منکر ہی تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 133–136

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ۔۔ : جب وہ قحط سالی اور پھلوں کی کمی کی گرفت کے باوجود کفر اور سرکشی پر ڈٹ گئے اور اس مصیبت کو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مزید سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو فرعون اور اس کی فوجوں کے مکمل خاتمے اور غرق ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ قحط سالیوں کے بعد ”الطُّوْفَانَ“ یعنی سخت بارش اور سیلاب شروع ہوا جس سے ان کی زندگی دشوار ہوگئی تو انھوں نے موسیٰ ؑ سے دعا کی درخواست کی کہ تمہارا اپنے رب سے جو عہد اور معاملہ ہے اسے پیش کرکے اس سے ہمارے لیے یہ عذاب دور کرنے کی دعا کریں، اگر تم نے ہم سے یہ عذاب دور کروا دیا تو ہم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 134–136

قولہ تعالیٰ ؛ آیت : ولما وقع علیھم الرجز اس میں رجز کا معنی عذاب ہے۔ اسے را کے ضمہ ساتھ رجز بھی پڑھا گیا ہے، اور اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ابن جبیر (رح) (النکت والعیون للماوردی، جلد 2، صفحہ 253) نے کہا ہے : یہ عذاب طاعون تھا اس کے ساتھ ستر ہزار قبطی ایک دن میں مرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجز سے مراد وہی آیات اور نشانیاں ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ آیت : بما عھد عندک اس میں ما بمعنی الذی ہے، یعنی اس کے سبب جس کا علم اس نے آپ کو ودیعت فرمایا یا اس کے سبب، جس کے ساتھ اس نے آپ کو مخلص فرمایا ہے اور آپ کو آگاہ کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ قسم ہے، یعنی اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 134–135

(1) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” الرجز “ سے مراد ہے عذاب۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم فرمایا کہ ہر آدمی تم میں سے ایک دنبہ ذبح کرے۔ پھر اس کے خون سے اپنی ہتھیلی کو رنگ لے پھر اس (ہتھیلی) کو اپنے دروازے پر مار دے۔ قطبیوں نے بنی اسرائیل سے پوثھا تم اس طرح کیوں ملتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ تم پر عذاب بھیجے گا تو ہم محفوظ رہیں گے۔ اور تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ قبطی نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو یہی علامت بتائی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہم کو ہمارے نبی نے حکم دیا ہے پس انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَمَّا : اور جب ] [ وَقَعَ : واقع ہوتا ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الرِّجْزُ : عذاب ] [ قَالُوْا : تو وہ کہتے ] [ يٰمُوْسَى: اے موسیٰ ] [ ادْعُ : آپ پکاریے ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ رَبَّكَ : اپنے رب کو ] [ بِمَا : اس کے ساتھ جس کا ] [ عَهِدَ : اس نے وعدہ لیا ] [ عِنْدَكَ : آپ سے ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [ كَشَفْتَ : آپ نے ہٹا دیا ] [ عَنَّا : ہم سے ] [ الرِّجْزَ : اس عذاب کو ] [ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ : تو ہم لازما مان لیں گے آپ (کی بات ) کو ] [ وَلَنُرْسِلَنَّ : اور ہم لازما بھیج دیں گے ] [ مَعَكَ : آپ کے ساتھ ] [ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْھِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَھِدَ عِنْدَکَ ) (الاٰیۃ) ۔ اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو کہنے لگے کہ اے موسیٰ اپنے رب سے اس بات کی دعاء کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کیا ہے اور وہ یہ کہ جب آپ دعاء کریں گے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا اور مصیبت دور فرمائے گا۔ (لَءِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَ لَنُرْسَلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) (اگر تو نے ہم سے یہ عذاب دور کردیا تو ہم تیری تصدیق کریں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے) ۔ صاحب روح المعانی نے حضرت حسن، قتادہ اور حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 130–137

ذکر نزول مصائب عبرت بر قبطیان تا آخر ہلاکت قال اللہ تعالیٰ ٰ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا یعرشون (ربط) گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے یہ وعدہ ذکر فرمایا۔ عسی ربکم ان یھلک عدوکم۔ عنقریب خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا۔ اب ان آیات میں اس اہلاک موعود کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قوم فرعون کس طرح بتدریج ہلاک کی گئی اور وقتاً فوقتاً ان پر کیا کیا مصیبتیں اور کیا کیا بلائیں یکے بعد یگرے نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ان پر بلائیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور عبرت اور نصیحت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور مقابلہ کا انجام ایسا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 134–135

127: تفصیل مذکور کے مطابق جب ان پر عذاب آتا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آکر گڑ گڑانے لگتے کہ اللہ سے دعا مانگو اگر ہم سے عذاب اٹھ گیا تو ہم تجھ پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دیں گے لیکن جب اللہ ان پر سے عذاب اٹھا لیتا تو وہ ہر بار عہد شکنی کرتے اور ایمان نہ لاتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 134–137

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ آپ نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا مگر انہوں نے آپ کی دعوت کا انکار کردیا پھر جب آپ نے عصا اور بدبیضاء والے معجزات کا اظہار فرمایا تو فرعون نے مقابلے کے لیے ملک بھر کے جادوگر اکٹھے کیے جادوگروں نے مجمع عام میں اپنا اپنا فن پیش کیا اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو جادوگر ناکام ہوگئے اور انہوں نے ایمان قبول کرلیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا دستور بیان کیا کہ پہلے وہ لوگوں پر تنگی ڈال کر آزماتا ہے پھر جب وہ خبردار نہیں ہوتے برائیوں سے باز نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَكَ۝ 0 ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝ 134 ۚ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 130–137

ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔ تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 134–135

ارشاد فرمایا : وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوسْیَ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَ کَ ج لَئِنْ کَشََفْتَ عَنَّا الِرّجْرَ لَنُوئْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الِرّجْزَ اِلٰٓی اَجَلٍ ھُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْنَ ۔ (الاعراف : 134، 135) ” اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو کہتے اے موسیٰ تم اپنے رب سے اس عہد کے واسطے سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لیے دعا کرو اگر تم نے ہم سے یہ آفت دور کردی تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے مگر جب ہم ان سے اس آفت کو دور کردیتے ایک مدت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ آل فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے باربار عہد شکنی کرنے کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور قوم فرعون کو کئی مرتبہ عظیم الشان معجزات دکھائے بار بار اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ملک بھر کے نامی گرامی جادو گر نہ صرف شکست فاش کھاچکے بلکہ انھوں نے سرمیدان پوری قوم کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لانے کا اقرار اور اظہار کیا۔ فرعون نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انھیں بد ترین سزاؤں اور الٹا لٹکا دینے کی دھمکیاں دیں، صاحب ایمان لوگوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب کے وقت جھوٹا وعدہ : آیت 134: وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْھِمُ الرِّجْزُ (جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا) آخری عذاب اور وہ خون یا یکے بعد دیگرے آنے والا عذاب قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَھِدَ عِنْدَکَ (اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے) ما مصدریہ ہے یعنی جو وعدہ اس نے تیرے ساتھ کیا اور وہ نبوت ہے باؔ، اُدْعُ سے متعلق ہے یعنی ادع اللّٰہ لنا متوسلًا الیہ بعھدہٖ عندک تو اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے اس وعدہ کے توسل سے دعا کر جو اس نے تیرے ساتھ کر رکھا ہے۔ لَپنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 134(ولما وقع علیھم الرجز) یعنی جو پچلھی آیت میں عذاب بیان ہوئے ان میں سے کوئی عذاب آتا۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ رجز سے مراد طاعون ہے۔ یہ ان پانچ عذابوں کے بعد چھٹا عذاب آیا تھا جس سے ایک دن میں شام تک ستر ہزار بندے مرگئے ان کو دفن نہ کیا جاسکا (قالوا یموسی ادع لنا ربک بما عھدک عندک) یعنی تجھے وصیت کی ہے اور عطاء رحمہ الل ہفرماتے ہیں اس کے ساتھ جو تجھے خبر دی ہے اور بعض نے کہا ہے جو آپ کے ساتھ عہد کیا ہے، آپ کی دعا قبول کرے گا۔ (لئن کشفت عنا الرجز لنومن لک ولنرسلن معک بنی اسرآئیل) عذاب سے مراد طاعون ہے۔ عامر بن سعد بن ابی وقاص (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو سنا کہ انہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 134–135

(134 ۔ 135) ۔ اس آیت کے متعلق دو قول ہیں بعض مفسروں نے یہ لکھا ہے کہ یہ آیت اوپر کی آیتوں کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو فرعون اور اس کی قوم پر اوپر کی آیتوں میں پانچ عذاب طوفان اور ٹڈیاں اور گھن اور مینڈک اور خون بھیج کر برباد کیا اسی کا بیان فرمایا ہے کہ جب ان پر عذاب ایک کے بعد ایک آتا گیا تو ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ عذاب ہم پر سے دفع ہوجاوے کیونکہ خدا نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے تم سے ہر ایک دعا کے پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے اگر تمہاری دعا سے یہ بلائیں ٹل جاویں گی تو ہم تم پر ایمان بھی لاویں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ کر دیویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 134–135

168 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا مصیبت کے موقع پر وہ لوگ حضرت موسیٰ سے کہتے کہ آپ اللہ سے دعاء کریں اس عہد کی بناء پر جو اس نے آپ سے کر رکھا ہے آپ کی دعاء کی قبولیت کے لئے۔ سو پیغمبر کا کام ہے دعاء کرنا اور بس۔ آگے قبول کرنا نہ کرنا اللہ پاک کی مشیت ومرضی پر موقوف ہے۔ وہ جس کی دعاء چاہے قبول فرمائے اور جس کی چاہے نہ قبول فرمائے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم کی دعا ان کے باپ کے حق میں کہ حضرت ابراہیم کی پوری خواہش اور چاہت کے باوجود ان کی دعاء ان کے باپ کے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ اور جیسے حضرت نوح کی دعاء ان کے بیٹے کے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ اور جیسے حضرت امام الانبیاء کی دعاء آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 لفظ رجز کے لفظی معنی عذاب کے ہیں ؟ اس سے مراد طاعون بھی ہوسکتا ہے اور ان پانچ چیزوں کا عذاب بھی جن کو پہلے ذکر ہو رہو چکا ہے۔ یہ دوسر قول زیادہ ررجح ہے۔ ( کبیر) ایک بلاآتی پھر مظطر و لاچار ہوتے بلا دفع ہوجاتی تو پھر منکر ہوجاتے۔5 کہ جب بھی تو دعا کرے گا وہ اسے قبول فرمائے گا۔ یا عہد سے مراد عہد نبوت ہے۔ ( کبیر)6 کہ جہاں چاہیں جائیں اور جیسے چاہیں اپنے رب کی عبادت کریں

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:134) الرجز۔ عقوبت۔ بلا۔ عذاب۔ کپکپا دینے والا۔ اور لرزا دینے والا عذاب۔ ادع۔ تو مانگ۔ تو دعا کر۔ تو بلا ۔ (باب نصر) دعوۃ سے۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ بما عھد عندک۔ اس عہد کے واسطے سے جو اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔ کشف عنا۔ تو نے ہم پر سے ہٹا دیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–136

لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔ تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “ گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 133–134

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پانچ عذاب جو ان لوگوں پر پے درپے آئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ٹل بھی گئے لیکن انہوں نے اپنا اقرار پورا نہیں کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا کہ ہم نے ان کے وعدے اور اقرار کرنے پر یہ عذاب اسوقت تک روکے رکھا جب تک وہ قلزم میں غرق نہ ہوئے۔ تب بھی تو وہ ایمان نہ لائے، منکر کے منکر رہے۔ ایک جگہ یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ چھٹا عذاب ان پر طاعون کا آیا جس سے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 125–137

[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔ [48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 133–134

انکار کی سزائیں : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کی متواتر اور مسلسل تبلیغ و اشاعت کے بعد جب قبطیوں اور فرعونیوں نے نہ مانا اور کوئی اثر قبول نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے وادی نیل کو ناقابل سکونت بنا دیا ، قبطیوں کو دریائے نیل کی وجہ سے شادابی اور ثروت حاصل تھی یہی دریا ان کے لئے وبال جان ہوگیا ، کثرت سے مینہ برسا ، دریا تمام مصر میں پھیل گیا ، کھیتوں اور باغون کو ٹڈی چاٹ گئی مکانوں میں مینڈک اور دوسرے حشرات گھس آئے ، گرمی کی شدت سے ناک سے خون جانے لگا اور عجیب مصیبت میں پھنس گئے ۔ بات یہ ہے کہ اللہ کے پاس بیحد خزانے ہیں خوارق ومعجزات کے وہ جب چاہے دنیا کو بدل سکتا ہے آل فرعون یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

134 اور ان فرعونیوں پر جب کوئی بلا نازل ہوتی اور کوئی عذاب واقع ہوتا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے پروردگار سے اس عہد کے سبب جو اس نے تجھ سے کررکھا ہے دعا کردے اگر تو نے یہ بلا اور عذاب ہم پر سے ہٹادیا تو ضرور ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ہم تیرے ہمراہ بھیج دیں گے یعنی وہ عہد یا تو یہ ہوگا کہ جب گناہ گار توبہ کریں اور گناہ کو ترک کردیں تو ہم واقع شدہ بلاکو دور کردیں گے یا یہ کہ آپ کو اس نے نبوت سے سرفراز فرمایا ہے اور آپ اس کی نبوت کے حامل ہیں اس لئے بحیثیت نبی کے دعا کردیجئے۔ اور ہوسکتا ہے کہ ہر نبی سے خدا کا وعدہ ہے کہ ایک دعا ضرور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 133–136

ف 6۔ کثرت بارش۔ 7۔ یہ ساتوں عصا اور ید ملا کر آیات تسعہ کہلاتے ہیں۔ 8۔ کیونکہ اتنی سختی پر بھی باز نہ آتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عہد کرنا اور توڑنا ان کی گھٹی میں پڑا تھا : 145: عادی مجرم کبھی جرم سے باز نہیں آتے ۔ ان کا کام یہی ہوتا ہے کہ پکڑے گئے تو منت وسماجت کرنے لگے اور اتنی منت و سماجت کی اور اس طرح گریہ وزاری اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا عہد کیا کہ پکڑنے والے کو ترس آگیا اور شرم محسوس ہونے لگی اس نے جونہی چھوڑا وہ پھر وہی لچھن کرنے لگے یہی حالت فرعونیوں کی تھی یعنی ان مذکورہ عذابوں میں سے جب بھی کوئی عذاب ان پر آیا اور اس سے نجات کی جب کوئی صورت انہیں دکھائی نہ دی تو بےبس ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوتے اور عرض کرتے ۔ اے موسیٰ ! اپنے رب سے دعا مانگو کہ یہ عذاب ٹل جائے تو پھر ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 133–135

The above verses relate the next part of the story of the prophet Musa (علیہ السلام) and the people of Pharaoh. According to historical reports, the prophet Musa (علیہ السلام) stayed in Egypt for 20 years. He kept preaching consistently and conveyed the message of Allah to them. He was given nine miracles during his stay in Egypt which served as warnings to the people of Pharaoh. The Holy Qur'an has referred to the nine miracles in these words وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ. "Surely, We gave him nine miracles." Out of the nine miracles, two were performed before Pharaoh and his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 134–137

97. The Israelites were made the inheritors of Palestine. This has been interpreted by some commentators of the Qur'an to mean that the Israelites were made the rulers of Egypt as well. This view, however, is neither supported by, the Qur'an nor by any other historical and archaeological evidence. We have, therefore, serious reservations about the correctness of this opinion. (See Tafhim a]-Qur'an, (al-Kahf 18, n. 57), and (al-Shuara' 26, n. 45)

Read the full tafseer →