Explained with ayahs 132–135
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے
ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 95
غالباً بارش کا طوفان مراد ہے جس میں اولے بھی برسے تھے۔ اگرچہ طوفان دوسری چیزوں کا بھی ہوسکتا ہے، لیکن بائیبل میں ژالہ باری کے طوفان کا ہی ذکر ہے اس لیے ہم اسی معنی کو ترحیح دیتے ہیں۔
سورة الْاَعْرَاف 96
اصل میں لفظ قُمَّل استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں۔ جُوں مکھی، چھوٹی ٹڈی، مچھر، سُرسُری وغیرہ غالباً یہ جامع لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ بیک وقت جُوؤں اور مچھروں نے آدمیوں پر اور سرسریوں (گُھن کے کیڑوں) نے غلہ کے ذخیروں پر حملہ کیا ہوگا۔ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب خروج، باب 7 تا 12، نیز الزخرُف، حاشیہ 43)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
خلاصہ تفسیر
(جب ایسی سرکشی اختیار کی تو) پھر ہم نے (ان دو بلاؤں کے علاوہ یہ بلائیں مسلط کیں کہ (3) ان پر (کثرت بارش کا) طوفان بھیجا (جس سے مال وجان تلف ہونے کا اندیشہ ہوگیا) اور (اس سے گھبرائے تو موسیٰ ؑ سے عہد و پیمان کیا کہ ہم سے یہ بلا دور کر ایئے تو ہم ایمان لائیں اور جو آپ کہیں اطاعت کریں پھر جب وہ بلا دور ہوئی اور دل خواہ غلہ وغیرہ نکلا پھر بےفکر ہوگئے کہ اب تو جان بھی بچ گئی مال بھی خوب ہوگا ور بدستور اپنے کفر و طغیان پر اڑے رہے تو ہم نے ان کے کھیتوں پر (4) ٹڈیاں (مسلط کیں) اور (جب پھر کھیتوں کو تباہ ہوتے دیکھا تو گھبرا کر پھر ویسے ہی عہد و پیمان کئے اور پھر جب آپ کی دعا سے وہ بلا دور…
Read the full tafseer →فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ.
حضرت موسیٰ کے معجزات : اوپر آیت 130 میں جن آزمائشوں کا ذکر ہوا ہے۔ یہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس عام سنت الٰہی کے تحت ظہور میں آئیں جو ہر رسول کی دعوت کی تائید وتقویت اور لوگوں کے اندر تضرع اور تذکر پید کرنے کے لیے رحمت الٰہی کا مقتضی ہیں لیکن جب فرعونی ان سے اثر پذیر نہ ہوئے تو اللہ نے حضرت موسیٰ کے ہاتھوں نہایت اہم معجزات دکھائے جن میں سے چند کی طرف یہاں اشارہ فرمایا ہے ہم تورات کی روشنی میں اس کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔
‘ طوفان ’۔ تورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
133۔ 1 طوفان سے سیلاب یا کثرت بارش، جس میں ہر چیز غرق ہوگئی، یا کثرت اموات، جس سے ہر گھر میں ماتم برپا ہوگیا، ٹڈی دل کا حملہ فصلوں کی ویرانی کے لئے مشہور ہے یہ ٹڈیاں ان کے غلوں اور پھلوں کی فصلوں کو کھا کر چٹ کر جاتیں، جو پانی جوہڑوں، چھپڑوں میں ہوتا ہے، یہ مینڈک ان کے کھانوں میں، بستروں میں۔ غلوں میں غرض ہر جگہ اور ہر طرف مینڈک ہی مینڈک ہوگئے جس سے ان کا کھانا پینا، سونا آرام کرنا حرام ہوگیا۔ دم (خون) سے مراد پانی کا خون بن جانا یوں پانی پینا ان کے لئے ناممکن ہوگیا، بعض نے خون سے مراد نکسیر کی بیماری لی ہے۔ یعنی ہر شخص کی ناک سے خون جاری ہوگیا، یہ کھلے کھلے اور جدا جدا معجزے تھے جو وقفے وقفے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
58: یہ مختلف قسم کے عذاب تھے جو یکے بعد دیگرے فرعون کی قوم پر مسلط ہوتے رہے، پہلے طوفان آیا جس میں ان کی کھیتیاں بہہ گئیں اس کے بعد جب انہوں نے ایمان لانے کا وعدہ کرکے حضرت موسیٰ ؑ سے دعا کروائی اور کھیت بحال ہوئے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ٹڈی دل نے کھیتوں کو برباد کرڈالا، پھر وہی وعدے کئے، اور یہ بلا دور ہوئی اور خوش حالی آنے لگی تو یہ پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور ایمان نہ لائے تو ان کی پیداوار کو گھن لگادیا گیا، پھر وہی ساری داستان دہرائی گئی اور یہ پھر بھی نہ مانے تو مینڈکوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ وہ کھانے کے برتنوں میں نمودار ہوتے اور سارے کھانے کو خراب کردیتے، دوسری طرف پینے کے پانی…
Read the full tafseer →یہ تھا ڈرامہ " ابتلاء "۔ آیات متصلات کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نشانیاں واضح واضح طور پر بتا رہی تھیں۔ ایک کے بعد ایک ابتلا آرہی تھی ، اور پچھلی آنے والی اگلی کا منطقی نتیجہ تھی۔
قرآن کریم نے ان تمام آیات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے حالانکہ یہ مصائب ان پر یکے بعد دیگرے آئے تھے۔
Read the full tafseer →3 یعنی بارش اور سیلاب کا طوفان یا طاعون کی وجہ سے موت کا طوفان علیٰ اختلاف الاقوال۔
4 " قمل " سے مراد چچڑیاں ہیں، جیسا کہ مترجم رحمۃ اللہ نے اختیار کیا۔ یا جوئیں یا گیہوں وغیرہ غلہ میں جو کیڑا لگ جاتا ہے جس سے غلہ خراب ہوجاتا ہے یعنی بدن اور کپڑوں میں چچڑیاں اور جوئیں پڑگئیں۔ غلہ میں گھن لگ گیا۔
5 یعنی تھوڑے تھوڑے وقفہ کے ساتھ یہ سب آیات دکھلائی گئیں مگر وہ کچھ ایسے متکبرانہ، جرائم پیشہ اور پرانے گنہگار تھے کہ کسی طرح مان کر نہ دیا سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مطالبہ (بنی اسرائیل کی آزادی) کو تسلیم نہ کیا تو حق تعالیٰ نے بارش کا طوفان بھیجا، جس سے کھیتیوں…
Read the full tafseer →آیت 133 فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ
ان پر طوفان باد و باراں بھی آیا۔ ٹڈی دل ان کی فصلوں کو چٹ کر جاتی تھیں۔ چچڑیاں ‘ جویں ‘ کھٹمل اور پسو ان کو کاٹتے تھے اور ان کا خون چوستے تھے اور ان کے اناج میں کثرت سے سرسریاں پڑجاتیں۔ مینڈک ان کے گھروں ‘ بستروں اور برتنوں وغیرہ میں ہر جگہ پیدا ہوجاتے تھے۔ اسی طرح ان پر خون کی بارش بھی ہوتی تھی اور کھانے پینے کی چیزوں میں بھی خون شامل ہوجاتا تھا۔
اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍقف
یہ ساری مصیبتیں اور آزمائشیں یکبارگی ان پر مسلط نہیں ہوگئی تھیں ‘ بلکہ وقفے وقفے سے یکے بعد دیگرے آتی رہیں ‘ کہ شاید کسی ایک مصیبت…
Read the full tafseer →129 طوفان ٹڈیوں جوؤں مینڈکوں اور خون کا عذاب :۔ اس خشک سالی کے بعد اللہ نے ان پر زور دار بارش برسائی جو طوفان کی صورت اختیار کرگئی، اور اس سے ان کی فصلیں پانی میں ڈوب کر تباہ ہونے لگیں تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو اگر بارش تھم گئی اور ہماری فصلیں بچ گئیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو بارش رک گئی اور فصلیں بھی بچ گئیں لیکن پھر وہ اپنے عہد سے پھرگئے تو اس کی سزا کے طور پر اللہ نے ان کی پکی ہوئی تیار فصلوں پر ٹڈیوں کے دل کے دل بھیج دیئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ ٹڈیاں تو ان کی ساری فصلوں کو چٹ کر جائیں گی تو پھر موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →171 ۔ (قہر خداوندی کی بھی اور صداقت موسوی کے بھی) توریت کی کتاب خروج باب 7 ۔ 8 ۔ 9 ۔ کی مختلف آیتوں میں ان میں سے اکثر عذابوں کا ذکر موجود ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن الجراد۔ ٹڈیوں نے مصریوں کی زراعت کو برباد کردیا (آیت) ” القمل “۔ مصریوں کے کپڑوں اور جسموں میں یہ گندے کیڑے لپٹ گئے۔ (آیت) ” الضفادع “۔ مینڈکوں کی ہر جائی افراط نے مصریوں پرکھانا، پانی سب حرام کردیا۔ (آیت) ” الدم “۔ دریائے نیل مصریوں کے حق میں خونیں ہوگیا تھا۔ (آیت) ” الطوفان “۔ عربی میں طوفان ہر شدید وملک گیر حادثہ ابتلاء کو کہتے ہیں۔ الطوفان کل حادثۃ تحیط بالانسان (راغب) قال الزجاج الطوفان من کل شیء ماکان کثیرا محیطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیت نمبر 130 تا 141
ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…
Read the full tafseer →فارسلنا علیہم الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم ایت مفصلت فاستکبروا او کانوا قوما مجرمین : پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور گھن کے کیڑے اور مینڈکیں اور خون کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے پھر بھی (موسٰی ( علیہ السلام) پر ایمان لانے سے) انہوں نے غرور کیا اور وہ تھی ہی مجرم لوگ۔
قالوا یعنی فرعون اور اس کے گروہ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا۔ من ایۃ یعنی معجزہ اور دعوئے رسالت کی سچائی کی نشانی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے پیش کئے ہوئے معجزہ کو انہوں نے آیت (علامت صداقت) یا تو اس لئے کہا کہ حضرت موسیٰ کا یہی دعویٰ تھا یا بطور استہزاء کہا اسی لئے آئندہ فقرہ میں اس کو سحر قرار دیا۔…
Read the full tafseer →(133) حضرت موسیٰ ؑ نے ان کے لیے بددعا کی، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مسلسل بارش برسائی جو ہفتہ سے لے کر ہفتہ تک برستی تھی، اور رات دن میں کسی وقت بھی بند نہ ہوتی تھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر ٹڈیاں مسلط کیں کہ پھل اور سبزیوں میں سے جو پیدا ہوتا تھا، سب کھاجاتیں تھی اس کے بعد ان پر گھن کا کیڑا مسلط کردیا گیا کہ ٹڈیوں سے جو کچھ رہ گیا تھا وہ انہوں نے صاف کردیا اور اس کے بعد ان پر اس قدر مینڈک مسلط کیے کہ رہنا ہی دشوار ہوگیا۔
اور پھر ان پر اس قدر خون کی آفت مسلط کی کہ تمام نہروں اور کنوؤں میں خون ہی خون نظرآنے لگا یہ واضح معجزے ان پر ظاہر ہوئے ہر ایک معجزہ کے درمیان دو دو مہینوں کا وقفہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–136
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ۔۔ : جب وہ قحط سالی اور پھلوں کی کمی کی گرفت کے باوجود کفر اور سرکشی پر ڈٹ گئے اور اس مصیبت کو موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مزید سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو فرعون اور اس کی فوجوں کے مکمل خاتمے اور غرق ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ قحط سالیوں کے بعد ”الطُّوْفَانَ“ یعنی سخت بارش اور سیلاب شروع ہوا جس سے ان کی زندگی دشوار ہوگئی تو انھوں نے موسیٰ ؑ سے دعا کی درخواست کی کہ تمہارا اپنے رب سے جو عہد اور معاملہ ہے اسے پیش کرکے اس سے ہمارے لیے یہ عذاب دور کرنے کی دعا کریں، اگر تم نے ہم سے یہ عذاب دور کروا دیا تو ہم…
Read the full tafseer →اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
اسرائیل نے سماک کے واسطہ سے نوف شای سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگروں پر غالب آنے کے بعد آل فرعون میں چالیس برس تک ٹھہرے رہے۔ اور محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے منجاب سے بیس سال کا عرصہ روایت کیا ہے، آپ انہیں نشانیاں یعنی ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور خون کے معجزات دکھاتے رہے۔
مسئلہ نمبر 2۔
قولہ تعالیٰ : آیت : الطوفان اس سے مراد شدید بارش ہے (ایضا، جلد 2، صفحہ 444) یہاں تک کہ وہ اس میں تیرنے لگے۔ حضرت مجاہد اور حضرت عطاء (رح) نے بیان کیا ہے کہ طوفان سے مراد موت ہے (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 40 ) ۔ اخفش نے کہا ہے : اس کا واحد…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طوفان سے مراد ہے موت۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے موت مراد ہے۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے ہر حال میں موت۔
(4) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے ان کو غرق کرنا۔
(5) امام ابن حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الطوفان “ سے مراد ہے کہ آٹھ دن تک دن اور رات برابر بارش ہوتی رہی۔ اور ” القمل “ سے مراد ہے ایسی ٹڈی…
Read the full tafseer →[ فَاَرْسَلْنَا : پھر ہم نے بھیجا ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الطُّوْفَانَ : سائیکلون ] [ وَالْجَرَادَ : اور ٹڈی دل ] [ وَالْقُمَّلَ : اور بھنگے ] [ وَالضَّفَادِعَ : اور مینڈک ] [ وَالدَّمَ : اور خون ] [ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ : کھلی کھلی نشانیاں ہوتے ہوئے ] [ فَاسْتَكْبَرُوْا : نتیجے میں انہوں نے گھمنڈ کیا ] [ وَكَانُوْا : اور وہ تھے (ہی ) ] [ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والے لوگ ]
ج ر د (ن) : جردا ۔ کھال پر سے بال اتارنا ۔ ننگا کرنا ۔ جراد ، اسم جنس ہے ۔ ٹڈی (واحد ۔ جرادۃ ) ٹڈی زمین کا سبزہ چاٹ کر اس کو ننگا کردیتی ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 133 ۔
ق م ل : ۔ ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا ۔ قمل ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
قوم فرعون پر طرح طرح کے عذاب آنا اور ایمان کے وعدے کر کے پھرجانا
فرعون اور قوم فرعون جب برابر بغاوت اور سر کشی پر جمے رہے بلکہ عناد اور طغیانی میں ترقی کرتے چلے گئے اور ان پر قحط بھیج کر جو تنبیہ کے لیے اور سر کشی کی سزا کے طور پر ایسی چیزیں بھیج دیں جو ان کے لیے و بال بن گئیں۔ اَلطُّوْفَان اور اَلْجَرَاد اور اَلْقُمَّلَ اور الضَّفَادِعَ اور الدَّمَ فرما کر ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا، لفظ الطُّوْفَانَ فُعلان کے وزن پر ہے اور یہ عام طور سے پانی کے سیلاب کے لیے مستعمل ہوتا ہے اگر یہی معنی لیے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ قوم فرعون کی کھیتیوں اور رہنے کی جگہوں میں سیلاب بھیجے جس کی وجہ سے وہ لوگ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ذکر نزول مصائب عبرت بر قبطیان تا آخر ہلاکت
قال اللہ تعالیٰ ٰ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا یعرشون
(ربط) گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے یہ وعدہ ذکر فرمایا۔ عسی ربکم ان یھلک عدوکم۔ عنقریب خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا۔ اب ان آیات میں اس اہلاک موعود کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قوم فرعون کس طرح بتدریج ہلاک کی گئی اور وقتاً فوقتاً ان پر کیا کیا مصیبتیں اور کیا کیا بلائیں یکے بعد یگرے نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ان پر بلائیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور عبرت اور نصیحت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور مقابلہ کا انجام ایسا…
Read the full tafseer →126: جب معجزات عصا، ید بیضا، قحط سالی وغیرہ سے ان کے دلوں میں عاجزی اور انابت کے کوئی آثار ظاہر نہ ہوئے اور وہ انکار و جحود اور ضد وعناد پر قائم رہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ فرعون اور اس کی قوم سرکشی اور عناد کی انتہاء کو پہنچ چکی ہے اس لیے ان پر ایسا عذاب نازل فرما جس سے بعد والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بالکلیہ تباہ و برباد کرنے سے پہلے کئی صورتوں میں ان پر عذاب نازل فرمایا تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔ “ اَلطُّوْفَانَ ” آٹھ دن تک متواتر دن رات ان پر اندھیرا چھایا رہا اور مسلسل بارش ہوتی رہی یہاں تک کہ ان کے گھروں میں اس قدر پانی جمع ہوگیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
ربط آیات
گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لیے جادوگروں کو اکٹھا کیا تو وہ حاضر آگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اسکے بعد فرعون کے مصاحبوں نے ابھارا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کو یونہی چھوڑ دیا گیا اور ان پر پابندیاں عائد نہ کیں تو یہ زمین میں فساد پھیلائیں گے اور تجھے اور تیرے معبودوں کو موقوف کردیں گے فرعون نے کہا کہ ہم انہیں وہی سزا دیں گے جو پہلے دیا کرتے تھے یعنی ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھ کر انہیں لونڈیاں بنائیں گے اور ان سے خدمت لیں گے چناچہ جب بنی اسرائیل پر مصائب…
Read the full tafseer →فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ 0 ۣ فَاسْـتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 133
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔
تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے…
Read the full tafseer →فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ والْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ قف فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 133)
” تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، تفصیل کی ہوئی نشانیاں تو انھوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھے “۔
آیاتِ مفصلات کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں دو لفظ آئے ہیں اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ اہل علم نے اس کے دو ترجمے اور دو مفہوم بیان کیے ہیں پہلا ترجمہ یہ ہے جدا جدا اور الگ الگ معجزات ‘ جسکا مفہوم یہ ہے کہ یہاں جتنے معجزات کا ذکر ہوا ہے یعنی طوفان ‘ ٹڈی ‘ جوئیں ‘ مینڈک اور خون۔ یہ پانچ معجزات ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
فہم القرآن
ربط کلام : آل فرعون پر برے حالات اور مومنوں کے صبر و استقامت کا صلہ۔
فرعون اور آل فرعون کے بےپناہ مظالم کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو تباہ و برباد کرے گا بشرطیکہ تم صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور نماز ادا کرتے رہو۔
فرعون نے جب اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مظالم سے نجات پانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔ الٰہی تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کے اسباب و وسائل عنایت فرمائے۔ لیکن انھوں نے تیرا شکریہ ادا کرنے کے بجائے تیرے بندوں کو تیرے راستے سے گمراہ کرنے پر صرف…
Read the full tafseer →فرعونی عذابوں کے چکر میں :
آیت 133: فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ (پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا) نمبر 1۔ جس نے ان کو گھیر لیا اور بارش وغیرہ جس نے ان پر غلبہ کرلیا۔ نمبر 2۔ سیلاب نمبر 3۔ پانی نے ان کے کھیتوں کو ڈبو دیا آٹھ دن مسلسل بارش ہوتی رہی سخت اندھیرا چھایا رہا۔ دن رات سورج چاند کو نہ دیکھا اور کوئی گھر سے باہر نہ نکل سکا۔ نمبر 4: یہ پانی قبطیوں کے گھروں میں داخل ہوگیا۔ یہاں تک کہ پانی ان کے گلے تک پہنچ گیا جو بیٹھتا وہ غرق ہوجاتا۔ بنی سرائیل کے گھروں میں ایک قطرہ بھی داخل نہ ہوا۔
نمبر 5۔ جدری کی بیماری تھی نمبر 6۔ طاعون ان پر مسلط ہوا۔ وَالْجَرَادَ (اور ٹڈیاں) ان کی کھیتیاں…
Read the full tafseer →فرعون کی قوم پر مختلف قسم کے عذاب نازل ہوئے۔
132(فار سلنا علیھم الطوفان) ابن عباس ، سعید بن جبیر ؓ قتادہ، محمد بن اسحاق رحمہما اللہ فرماتے ہیں ان سب کے اقوال آپس میں ملتے جلتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادوگر ایمان لے ائٓے اور فرعون مغلوب ہوگیا تو اس نے اور اس کی قوم نے اسلام لانے سے انکار کردیا اور کفر پر ڈٹ گئے اور شر پھیلانے میں خوب کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر لگا تار کئی نشانیاں بھیجیں اور ان پر قحط اور پھلوں کے نقصان کا وبال آیا لیکن ان چار نشانیوں عصا، ید بیضاء ، قحط اور پھلوں کے نقصان کے بعد بھی انہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر بد دعا کی اور کہا اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
(132 ۔ 133) ۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کے کفر اور سرکشی کا حال بیان کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ تم معجزہ کے طور پر جو نشانی لاؤ گے ہم اس کو نہیں مانیں گے یہ جو تم عجائبات دکھلاتے ہو خدا کا دیا ہوا معجزہ نہیں ہے تم ایک جادوگر ہو ہم پر جادو کرتے ہو اور ہماری نظر بندی کردیتے ہو جس سے یہ تماشے دکھلائی دیتے ہیں اللہ پاک نے طوفان بھیج دیا اتنا مینہ آسمان سے برسا کہ راستوں اور گلیوں کا تو کیا ذکر گھروں میں پانی پانی ہوگیا ہر شخص کے گلے تک پانی تھا جو کوئی اس پانی میں کھڑا رہا اس کی جان بچ گئی جو گھر آکر بیٹھ گیا وہ غرق ہوا یہ پانی سات روز برابر برستا رہا لوگ چلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →167 اِعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی وہ لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑے رہے اور وہ تھے ہی مجرم لوگ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ اور اس کے نتیجے میں حق سے روگردانی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اسی بناء پر ان عبرت انگیز نشانیوں سے بھی نہ وہ دبے اور نہ ہی انہوں نے اس سے کوئی سبق لیا۔ اور یہی اطوار ہوتے ہیں ان شامت زدہ قوموں کے جن کے لئے ان کے اپنے آخری انجام کو پہنچنا مقدر ہوچکا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی جب وہ اپنیی سرکشی پر جم گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کچھ سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو آخر کار ہلاکت اور غرقابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں، الطوفان یعنی اسمان سے موسلا دھا بارش اور دریاوں میں سخت طغیانی الجراد ٹڈی جو ان کی فصلوں کو جٹ کرگئی القمل جوئیں چچڑیاں، چھوٹے کالے کیڑے پسو وغیرہ سب پر قمل کا لفظ پولا جاسکتا ہے الضفادع مینڈک اس کثرت سے کہ ہر چیز اور ہر برتن میں مینڈک ہی مینڈک نظر آتے الدم خون الغرض ان آیات کو مفصلات فرمایا یعنی ایک کے بعد دوسری کچھ قفہ سے آتی، یا جن کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا (وحیدی) شاہ صاحب فرماتے ہیں سب بلائیں ان پر ایک ہفتہ کے فرق…
Read the full tafseer →(7:133) الجراد۔ اسم جنس۔ ٹڈی۔ ملخ۔ جرارۃ واحد۔ القمل۔ اسم جنس۔ غلہ کو کھا جانے والا کیڑا۔ چچڑی کی جنس سے۔ جوئیں۔ الضفادع۔ مینڈک۔ جمع ۔ اس کی واحد ضفدع ہے۔ مفصلت۔ اسم مفعول۔ جمع مؤنث۔ تفصیل مصدر۔ جدا جدا ۔ کھلی ہوئی ۔ واضح
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔
السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔
تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “
گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پانچ عذاب جو ان لوگوں پر پے درپے آئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ٹل بھی گئے لیکن انہوں نے اپنا اقرار پورا نہیں کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا کہ ہم نے ان کے وعدے اور اقرار کرنے پر یہ عذاب اسوقت تک روکے رکھا جب تک وہ قلزم میں غرق نہ ہوئے۔ تب بھی تو وہ ایمان نہ لائے، منکر کے منکر رہے۔ ایک جگہ یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ چھٹا عذاب ان پر طاعون کا آیا جس سے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–137
[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔
[48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
انکار کی سزائیں :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کی متواتر اور مسلسل تبلیغ و اشاعت کے بعد جب قبطیوں اور فرعونیوں نے نہ مانا اور کوئی اثر قبول نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے وادی نیل کو ناقابل سکونت بنا دیا ،
قبطیوں کو دریائے نیل کی وجہ سے شادابی اور ثروت حاصل تھی یہی دریا ان کے لئے وبال جان ہوگیا ، کثرت سے مینہ برسا ، دریا تمام مصر میں پھیل گیا ، کھیتوں اور باغون کو ٹڈی چاٹ گئی مکانوں میں مینڈک اور دوسرے حشرات گھس آئے ، گرمی کی شدت سے ناک سے خون جانے لگا اور عجیب مصیبت میں پھنس گئے ۔
بات یہ ہے کہ اللہ کے پاس بیحد خزانے ہیں خوارق ومعجزات کے وہ جب چاہے دنیا کو بدل سکتا ہے آل فرعون یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ…
Read the full tafseer →133 پھر ہم نے ان پر پانی کا طوفان بھیجا یعنی سیلاب اور ہم نے ان پر ٹڈیاں مسلط کیں اور جوئیں یا چیچڑیاں یا غلہ کو خراب کرنے والا کیڑا پیدا کردیا اور مینڈک یعنی بکثرت مینڈکیاں ان پر بھیجیں اور ان پر خون کا عذاب بھیجا کہ یہ سب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کھلے کھلے اور الگ الگ معجزے تھے جو ان پر یکے بعد دیگرے بھیجے گئے مگر وہ پھر بھی تکبر اور سرکشی ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی مجرم اور گنہ گار۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے چالیس برس مقابلہ رہا اور اس پر کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن جانے دے اس نے نہ مانا ان کی بددعا سے یہ بلائیں آئیں۔ دریائے نیل چڑھ گیا کھیت اور باغ اور گھر بہت تلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–136
ف 6۔ کثرت بارش۔
7۔ یہ ساتوں عصا اور ید ملا کر آیات تسعہ کہلاتے ہیں۔
8۔ کیونکہ اتنی سختی پر بھی باز نہ آتے تھے۔
Read the full tafseer →فرعونیوں کو مختلف عذابوں میں گرفتار کئے جانے کا بیان :
144: اس تاریخی مقابلہ و مناظرہ کے بعد بعض روایات کے مطابق بیس سال تک موسیٰ (علیہ السلام) مصر میں مقیم رہے اور فرعونیوں اور اسرائیلیوں کا اللہ کا پیغام سناتے رہے اور حق کی طرف ان کو دعوت دیتے رہے اور اس عرصہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو نشانات مختلف اوقات میں یکے بعد دیگرے عطا فرمائے ان میں سے چار کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے اور پانچ کا ذکر قرآن کریم کی زیر نظر آیت میں بیان ہوا اس طرح کل نو نشانات کا ذکر اس طرح مکمل ہوتا ہے کہ :
1 ۔ عصا 2 ۔ ید بیضا۔ 3 ۔ جادوگروں کو برسرعام شکست دینا 4 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیشگی اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
The above verses relate the next part of the story of the prophet Musa (علیہ السلام) and the people of Pharaoh. According to historical reports, the prophet Musa (علیہ السلام) stayed in Egypt for 20 years. He kept preaching consistently and conveyed the message of Allah to them. He was given nine miracles during his stay in Egypt which served as warnings to the people of Pharaoh. The Holy Qur'an has referred to the nine miracles in these words وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ. "Surely, We gave him nine miracles."
Out of the nine miracles, two were performed before Pharaoh and his…
Read the full tafseer →95. This probably refers to the torrential rain accompanied by hailstorm. While we do not totally exclude the possibility of other kinds of storms, we are inclined to the view, that it probably signifies hailstorm since the Bible specifically mentions that. (See Exodus 9: 23-4 - Ed.)
96. The word used in the text - qummal - denotes lice, fleas, small locusts, mosquitoes, and weevil. This rather general term has been used in the Qur'an probably to suggest that while men were afflicted with lice and fleas, weevil destroyed the barns. (Cf. Exodus 7-12. See also Tafhim al-ur'an, (al-Zukhruf 43,…
Read the full tafseer →