Explained with ayahs 132–135
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے
ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
سورة الْاَعْرَاف 94
یہ انتہائی ہٹ دھرمی و سخن پروری تھی کہ فرعون کے اہل دربار اس چیز کو بھی جادو قرار دے رہے تھے جس کے متعلق وہ خود بھی بالیقین جانتے تھے کہ وہ جادو کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ شاید کوئی بیوقوف آدمی بھی یہ باور نہ کرے گا کہ ایک پورے ملک میں قحط پڑجانا اور زمین کی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہونا کسی جادو کا کرشمہ ہوسکتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید کہتا ہے کہ فَلَمَّا جَآءَ تْھُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَا لُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِینٌ وَّجَحَدُوا بِھَا واستَیْقَنَتھَٓا اَنفُسُھُمْ ظُلْمًاوَّ عُلُوًّا (النمل۔ آیات 13۔ 14) یعنی ”جب ہماری نشانیاں علانیہ ان کی نگاہوں کے سامنے آئیں تو انہوں…
Read the full tafseer →اور بالاخر قوم فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کے تمام معجزات کو سحر کہہ کر نظر انداز کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی آپ کتنی ہی علامتیں اپنی نبوت کی پیش کرکے ہم پر اپنا جادو چلانا چاہیں تو سن لیجئے، ہم کبھی آپ پر ایمان لانے والے نہیں۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا۔ یہ ان کا حتمی جواب نقل ہوا ہے کہ خواہ ہم پر جادو چلانے کے لیے تم کتنی ہی نشانیاں دکھاؤ ان چیزوں سے مرعوب کر ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →132۔ 1 یہ کفر و جحود کا ظہار ہے جس میں وہ مبتلا تھے اور معجزت و آیات الٰہی کو اب بھی وہ جادوگری باور کرتے یا کراتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
57: پیچھے آیت نمبر : 94 میں اللہ تعالیٰ نے جو اصول بیان فرمایا تھا اس کے مطابق پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا میں مختلف تکلیفیں دی گئیں، تاکہ وہ کچھ نرم پڑیں، ان میں سے پہلا عذاب قحط کا مسلط ہوا اور اسکے نتیجے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔
Read the full tafseer →ذرا آگے بڑھیے : فرعون اور اس کے حواری اپنی سرکشی میں آگے بڑھ رہے ہیں ، عزت نفس کے مجروح ہوجانے کی وجہ سے بہت ہی طیش میں ہیں اور غصے اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ کہتے ہیں :
وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ ۔
انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ " تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں "
یہ وہ حیوانی خود سری ہے جسے سدھایا نہیں جاسکتا ، جس پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، جسے کسی دلیل سے رد نہیں کیا جاسکتا ، وہ نہ فکر و نظر جانتی ہے اور نہ غور و تدبر سے کام لیتی ہے ، دلیئل کا سانا کرنے سے بھی…
Read the full tafseer →2 یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات و نشانات دیکھ کر کہتے تھے کہ خواہ کیسا ہی جادو آپ ہم پر چلائیں اور اپنے خیال کے موافق کتنے ہی نشان دکھلائیں، ہم کسی طرح تمہاری بات ماننے والے نہیں۔ جب انہوں نے یہ آخری فیصلہ سنا دیا اور قبول حق کے سب دروازے اپنے اوپر بند کرلیے، تب خدا نے ان پر چند قسم کی عظیم الشان بلائیں یکے بعد دیگرے مسلط کردیں۔ جن کی تفصیل اگلی آیت میں آتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 132 وَقَالُوْا مَہْمَا تَاْتِنَا بِہٖ مِنْ اٰیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَالا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔
وہ تحدی کے انداز میں کہتے کہ اے موسیٰ ! یہ جو تم اپنے جادو کے زور سے ہم پر مصیبتیں لا رہے ہو تو تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم تمہارے جادو کے زیراثر اپنے عقائد سے برگشتہ ہوجائیں گے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ! ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں !
Read the full tafseer →128 مصر میں قحط کا عذاب :۔ ان کی عقل پر کچھ ایسے پتھر پڑگئے تھے کہ قحط اور خشک سالی کے مصائب کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے جادو کا نتیجہ قرار دے رہے تھے حالانکہ جادوگر میں ایسی ہرگز کوئی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے جادو کے اثر سے کسی علاقہ پر قحط یا خشک سالی مسلط کر دے اس کے باوجود وہ یہی کہتے تھے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) ! تم ہم پر کیسا بھی جادو کردو ہم کبھی تمہاری بات تسلیم نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →170 ۔ جب حق کے مقابلہ میں ضد وعناد حد سے بڑھ جاتا ہے اور انسان ہر صورت میں مخالفت ہی کی ٹھان لیتا ہے تو اس مسخ شدہد ذہنیت میں مبتلا ہو کر ہر سیدھی سی سیدھی بات اور صاف سی صاف دلیل سے اسی طرح انکار کرسکتا ہے۔ بجنسہ یہی ذہنیت جاہلین عرب کی دین محمد ﷺ کے عناد میں رہی اور جاہلین فرنگ کی آج تک چلی آرہی ہے۔ سیرت نبوی ﷺ کے روشن سے روشن اور پاکیزہ سے پاکیزہ واقعات کو اس طرح توڑ مروڑ کر کے پیش کرنا۔ الٹے سے الٹے نتیجہ نکالنا یہ خاص الخاص جو ہر آج کے ” روشن خیال محققین فرنگ “ کے ہیں۔ مھما اصل ما مکرر سے مرکب ہے۔ پہلا ما شرطیہ اور دوسرا ما تاکید کے لیے ہے پھر تکرار کے ثقل سے بچنے کے لئے پہلے ما کا الف ہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیت نمبر 130 تا 141
ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…
Read the full tafseer →وقالوا مہما تاتنا بہ من ایۃ لسخرنا بہا فما نحن لک بمومنین : انہوں نے کہا تم جو عجیب بات بھی ہم پر جادو کرنے کے لئے پیش کرتے ہو ہم اس کی سچائی کا یقین کرنے والے نہیں
Read the full tafseer →(132) اور یہ لوگ کہتے تھے، اے موسیٰ ؑ خواہ کوئی بھی دلیل لا کر ہم پر جادو کردو، ہم تمہاری رسالت کی تصدیق کرنے والے نہیں۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ۔۔ : اوپر کی آیت میں ان کی یہ جہالت بیان فرمائی کہ وہ حوادث کی نسبت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کی طرف کرنے کے بجائے دوسرے اسباب کی طرف کرتے ہیں، اب اس آیت میں ان کی دوسری جہالت بیان فرمائی کہ اتنی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کم بخت فرعونی موسیٰ ؑ کو جادوگر ہی کہتے رہے اور انھوں نے معجزات اور جادو کا فرق آخر تک تسلیم نہ کیا، بلکہ انھوں نے اپنی سرکشی اور تمرد سے بالآخر قطعی طور پر اعلان کردیا کہ تم (موسیٰ ؑ جو بھی معجزہ دکھاؤ ہم اسے تمہارا جادو ہی سمجھیں گے اور تم پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے، حالانکہ انھیں ان معجزوں کے حق ہونے کا یقین تھا۔ دیکھیے سورة نمل (13، 14)۔
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : آیت : وقالوا مھما تاتینا بہ من ایۃ یعنی فرعون کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا : مھما۔ خلیل نے کہا ہے : یہ اصل میں ما، ما ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 443 ) ۔ پہلا ما شرطیہ ہے اور دوسرا زائدلہ ہے جو جزا کے لیے بطور تاکید ہے، جیسا کہ تمام حروف میں زیادتی کی جاتی ہے، مثلا اما، حیثما، اینما اور کیفما پس علمائے نحو نے ایسے دو حرفوں کو ناپسند کیا جن کا لفظ ایک ہے، تو انہوں نے پہلے کے الف کو ہا سے بدل دیا اور کہا : مھما۔
کسائی نے کہا ہے : اس کی اصل مہ معنی اکفف ہے، رک جا جو بھی تو ہمارے پاس نشانی لے آئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ یہ کلمہ مفردہ ہے۔ اس کے ساتھ جزا لائی جاتی…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وقالوا مھما تاتنا بہ من ایۃ “ کے بارے میں فرمایا اگر تو کوئی نشانی لے کر آئے ہمارے پاس تو انہوں نے کہا کہ اس میں مازائدہ ہے۔
Read the full tafseer →[ وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا ] [ مَهْمَا : جو کچھ ] [ تَاْتِنَا بِهٖ : تو لائے گا ہمارے پاس ] [ مِنْ اٰيَةٍ : کوئی بھی نشانی ] [ لِّتَسْحَرَنَا : تاکہ تو جادو کرے ہم پر ] [ بِهَا : اس سے ] [ فَمَا نَحْنُ : تو ہم نہیں ہیں ] [ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ : تیر ی بات ماننے والے ]
(آیت ۔ 132) مھما ان جو ازم مضارع میں سے ہے جو شرط اور جواب شرط میں آنے والے دونوں مضارع افعال کو جزم دیتا ہے ۔ (آسان عربی گرامر ، پیرگراف 2:43) یہاں تاتنا میں تات مجزوم ہے۔ جبکہ جواب شرط میں مضارع کی جگہ جملہ اسمیہ مانحن لک بمؤمنین آیا ہے اور محلا مجزوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
قوم فرعون پر طرح طرح کے عذاب آنا اور ایمان کے وعدے کر کے پھرجانا
فرعون اور قوم فرعون جب برابر بغاوت اور سر کشی پر جمے رہے بلکہ عناد اور طغیانی میں ترقی کرتے چلے گئے اور ان پر قحط بھیج کر جو تنبیہ کے لیے اور سر کشی کی سزا کے طور پر ایسی چیزیں بھیج دیں جو ان کے لیے و بال بن گئیں۔ اَلطُّوْفَان اور اَلْجَرَاد اور اَلْقُمَّلَ اور الضَّفَادِعَ اور الدَّمَ فرما کر ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا، لفظ الطُّوْفَانَ فُعلان کے وزن پر ہے اور یہ عام طور سے پانی کے سیلاب کے لیے مستعمل ہوتا ہے اگر یہی معنی لیے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ قوم فرعون کی کھیتیوں اور رہنے کی جگہوں میں سیلاب بھیجے جس کی وجہ سے وہ لوگ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ذکر نزول مصائب عبرت بر قبطیان تا آخر ہلاکت
قال اللہ تعالیٰ ٰ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا یعرشون
(ربط) گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے یہ وعدہ ذکر فرمایا۔ عسی ربکم ان یھلک عدوکم۔ عنقریب خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا۔ اب ان آیات میں اس اہلاک موعود کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قوم فرعون کس طرح بتدریج ہلاک کی گئی اور وقتاً فوقتاً ان پر کیا کیا مصیبتیں اور کیا کیا بلائیں یکے بعد یگرے نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ان پر بلائیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور عبرت اور نصیحت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور مقابلہ کا انجام ایسا…
Read the full tafseer →125: یہ قوم فرعون کا مقولہ ہے۔ یعنی ہمیں مرعوب و مسحور کرنے کے لیے یہ جو تو جادو کھیل اور بزعم خویش معجزات دکھا رہا ہے ہم ان سے ہرگز متاثر ہونے والے نہیں اور نہ تیری نبوت پر ایمان لانے کو تیار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
ربط آیات
گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لیے جادوگروں کو اکٹھا کیا تو وہ حاضر آگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اسکے بعد فرعون کے مصاحبوں نے ابھارا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کو یونہی چھوڑ دیا گیا اور ان پر پابندیاں عائد نہ کیں تو یہ زمین میں فساد پھیلائیں گے اور تجھے اور تیرے معبودوں کو موقوف کردیں گے فرعون نے کہا کہ ہم انہیں وہی سزا دیں گے جو پہلے دیا کرتے تھے یعنی ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھ کر انہیں لونڈیاں بنائیں گے اور ان سے خدمت لیں گے چناچہ جب بنی اسرائیل پر مصائب…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا مَہْمَا تَاْتِنَا بِہٖ مِنْ اٰيَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا 0 ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ 132
مھما
۔ جو کوئی بھی۔ جو کچھ بھی۔ جب کبھی۔ مھما تفعل افعل۔ جو کچھ تم کرو گے میں بھی کروں گا۔ مھما تاتنا من ایۃ۔ تو کوئی بھی نشانی لائے گا۔ تو جب کبھی بھی کوئی نشانی لائے گا۔
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40]
( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔
تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
فَاِذَا جَآئَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ ج وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَ مَنْ مَّعَہٗ ط اَلَآ اِنَّمَا طٰٓئِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ وَ قَالُوْا مَھْمَا تَاْتِنَا بِہٖ مِنْ اٰیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِھَالا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 131، 132)
” اور جب ان پر اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب ان پر برا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فالِ بد ٹھہراتے حالانکہ درحقیقت ان کی فالِ بد تو اللہ کے پاس تھی مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے۔ انھوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہمیں مسحور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
فہم القرآن
ربط کلام : آل فرعون پر برے حالات اور مومنوں کے صبر و استقامت کا صلہ۔
فرعون اور آل فرعون کے بےپناہ مظالم کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو تباہ و برباد کرے گا بشرطیکہ تم صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور نماز ادا کرتے رہو۔
فرعون نے جب اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مظالم سے نجات پانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔ الٰہی تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کے اسباب و وسائل عنایت فرمائے۔ لیکن انھوں نے تیرا شکریہ ادا کرنے کے بجائے تیرے بندوں کو تیرے راستے سے گمراہ کرنے پر صرف…
Read the full tafseer →آیت 132: وَقَالُوْا مَھْمَا تَاْ تِنَا بِہٖ مِنْ ٰایَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِھَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (اور یوں کہتے کیسی ہی عجیب بات ہمارے سامنے لائو کہ اس کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلائو۔ جب بھی ہم تمہاری بات ہرگز نہ مانیں گے)
نحو : اصل مھما کی ما ما ہے۔ پہلا ” ماؔ“ جزاء کے لیے ہے دوسرا اس کے ساتھ تاکید جزاء کے لیے لایا گیا۔ جیسا کہتے ہیں۔ متی ما تخرج اخرج۔ ارشاد الٰہی : اَ یْنَ مَا تَــکُوْنُوْا ( البقرہ : 148) فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِکَ (الزخرف : 41) البتہ درمیان والا الف ما کا تکرا رمتجانسین کی وجہ سے ہا سے بدل دیا۔ علمائے بصرہ کا درست مذہب یہی ہے۔ اعراب میں یہ تأتنا کی وجہ سے…
Read the full tafseer →تفسیر 132 (وقالوا ) یعنی قطیوں نے موسیٰ علیہ السام کو کہا ” مھما “ کہا ” ما “ یہ کلمہ شرط اور جزا کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ” تاتنا بہ من آیۃ “ علامت۔ (مھما تاتنا بہ من ایۃ لتسحرنا بھا) تاکہ ہمیں ہمارے دین سے ہٹا دے (فما نحن لک بمئومنین) تصدیق نہ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
(132 ۔ 133) ۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کے کفر اور سرکشی کا حال بیان کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ تم معجزہ کے طور پر جو نشانی لاؤ گے ہم اس کو نہیں مانیں گے یہ جو تم عجائبات دکھلاتے ہو خدا کا دیا ہوا معجزہ نہیں ہے تم ایک جادوگر ہو ہم پر جادو کرتے ہو اور ہماری نظر بندی کردیتے ہو جس سے یہ تماشے دکھلائی دیتے ہیں اللہ پاک نے طوفان بھیج دیا اتنا مینہ آسمان سے برسا کہ راستوں اور گلیوں کا تو کیا ذکر گھروں میں پانی پانی ہوگیا ہر شخص کے گلے تک پانی تھا جو کوئی اس پانی میں کھڑا رہا اس کی جان بچ گئی جو گھر آکر بیٹھ گیا وہ غرق ہوا یہ پانی سات روز برابر برستا رہا لوگ چلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →166 عناد و ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے موسیٰ سے صاف کہہ دیا کہ ہم نے تمہاری بات کو کسی بھی قیمت پر نہیں ماننا۔ یہ اس ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک کھلا ہوا نمونہ ہے جس میں یہ ناہنجار قوم مبتلا تھی کہ اس طرح صاف صاف کہہ دیا تم خواہ کچھ بھی کرلو ہم نے ماننا نہیں۔ تو ایسے ضدی اور ہٹ دھرم ظالم لوگوں کو آخر حق و ہدایت کی دولت اور ایمان و یقین کا نور ملے تو کیونکر ملے ؟ سو عناد و ہٹ دھرمی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ ان کا حتمی جواب نقل ہوا کہ تم ہم پر جادو چلانے کے لئے خواہ کتنی ہی کوششیں کرلو ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں۔ اور جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…
Read the full tafseer →ف 1 اور پر کی آیت میں ان کی یہ جہالت بیان فرمائی کہ وہ حوادث کو اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کی طرف نسبت کرنے کی بجائے دوسرے اسباب کو طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب اس آیت میں ان کی دوسری جہالت بیان فرمائی کہ اتنی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی کم بخت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جادوگر ہی کہتے رہے اور معجزات اور جادو میں آخر دم تک تمیز نہ کرسکے بلکہ انہوں نے اپنی سرکشی اور تمرد سے بآلا خر قطعی پر یہ اعلان کردیا کہ تم مو سیٰ ( علیہ السلام) جو بھی معجزہ دکھا و ہم کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (کبیر )
Read the full tafseer →(7:132) مھما۔ جو کوئی بھی۔ جو کچھ بھی۔ جب کبھی۔ مھما تفعل افعل۔ جو کچھ تم کرو گے میں بھی کروں گا۔ مھما تاتنا من ایۃ۔ تو کوئی بھی نشانی لائے گا۔ تو جب کبھی بھی کوئی نشانی لائے گا۔
زمخشری (رح) نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ بہ کی ضمیر لفظ کی رعایت سے اور بھا کی مؤنث ضمیر معنی کے لحاظ سے لائی گئی ہے۔ ہر دو میں ضمیر آیۃ کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔
السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔
تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “
گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
فرعون پر پانی، ٹڈی، کیڑے، مینڈک، خون اور آخر کار غرق ہونے کا عذاب
ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کے کفر اور سرکشی کا حال بیان کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ تم معجزہ کے طور پر جو نشانی لاؤ گے ہم اس کو نہیں مانیں گے۔ جو تم عجائبات دکھاتے ہو خدا کا دیا ہوا معجزہ نہیں ہے تم ایک جادوگر ہو، ہم پر جادو کرتے ہو اور ہماری نظر بندی کردیتے ہو جس سے یہ تماشے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کا طوفان بھیج دیا اور یہ پانی سات روز تک برابر برستا رہا۔ لوگ بہت پریشان ہوگئے پھر آخر عاجز ہوکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے خدا سے دعا کرو کہ پانی کھل جاوے ہم بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–137
[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔
[48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–132
غلامی کی جھجک :
(ف 1) غلامی ایسی بدترین لعنت ہے کہ اس کے بعد قوم میں بزدلی آجاتی ہے ، اور قوم میں دوست و دشمن کی تمیز اٹھ جاتی ہے ، ہر بات میں انہیں اندیشہ ہوتا ہے ، کہیں حکمران طبقہ ہماری مصیبتوں میں اور اضافہ نہ کر دے ،
چنانچہ بنی اسرائیل نے صاف صاف کہہ دیا جناب پہلے بھی ہم تکلیفوں میں مبتلا تھے ، اور اب بھی ہماری مشکلات میں اضافہ ہی ہے براہ کرم میں کانٹوں میں نہ گھسیٹئے ۔
موسی (علیہ السلام) نے فرمایا تم گھبراؤ نہیں ، عنقریب تمہارے دشمن ہلاک ہوں گے اور تمہاری غلامی آزادی سے بدل جائے گی ۔
حل لغات :
سنین : یعنی عسرت کے سال ،
یطیر : بدشگونی ، عرب طائر سے شگون لیتے تھے ، اس لئے تطیر کے معنی…
Read the full tafseer →132 اور فرعون والوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا خواہ تو کوئی نشانی اور کیسی ہی عجیب بات ہمارے پاس اور ہمارے روبرو اس لئے لے آئے کہ تو اس نشانی کی وجہ سے ہم کو مسحور کردے لیکن پھر بھی ہم تجھ پر ایمان لانے والے نہیں اور ہم تجھ کو ہرگز نہ مانیں گے یعنی آپ کوئی معجزہ بھی دکھادیں مگر ہم آپ کی مخالفت سے باز نہ آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ف 4۔ یعنی ہم مبارک طالع ہیں یہ ہماری خوش بختی کا اثر ہے یہ نہ تھا کہ اس کو خدا کی نعمت سمجھ کر شکر بجالاتے اور اطاعت اختیار کرتے۔
5۔ یعنی ان کے اعمال کفریہ تو اللہ کو معلوم ہیں یہ نحوست ان ہی اعمال کی سزا ہے۔
Read the full tafseer →فرعونیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ساحر اور آپ کی تعلیم کو جادو قرار دیا :
143: مھما مہ اور ما سے مرکب ہے مہ اسم فعل یعنی توقف ہے اور ما شرطیہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ما اور ما سے مرکب ہے پہلا ما شرطیہ ہے اور دوسرا ما تعمیم کے لئے یعنی جس طرح کہا جاتا ہے کہ جو تو کرنا چاہتا ہے کرلے موسیٰ (علیہ السلام) اس مناظرہ و مقابلہ کے بعد جس کا پے چھ ذکر ہوا ایک عرصہ تک مصر میں مقیم رہے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دلائل وبراہین اور نشانات دکھا دکھا کر انہیں دعوت حق دیتے رہے لیکن فرعونی بھی اپنی ضد اور عناد پر مکمل طور پر اڑے رہے اور انجام کار صاف صاف کہ دیا کہ اے موسیٰ ! آپ جو چاہیں اپنے جادو کے…
Read the full tafseer →And they said, مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ 'Whatever sign you bring to us in order to enchant us therewith, we are not going to believe in you."
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
94. Pharaoh's courtiers obstinately persisted in branding Moses' signs as sorcery although they knew well that sorcery had nothing in common with the miraculous signs granted to Moses. Even a fool would not he ready to believe that the country-wide famine and the consistent decrease in agricultural output could have been caused by magic. It is for this reason that the Qur'an says:
But when Our signs, which should have opened their eyes, came to them they said: 'This is clear sorcery! And they rejected those signs out of iniquity and arrogance even though they were inwardly convinced of it'…
Read the full tafseer →