Explained with ayahs 130–131
اعمال کا خمیازہ
اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں، کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑگئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ٹھاک ہوجائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہوگئی شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے ان کی بد شگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
سورة الْاَعْرَاف 94
یہ انتہائی ہٹ دھرمی و سخن پروری تھی کہ فرعون کے اہل دربار اس چیز کو بھی جادو قرار دے رہے تھے جس کے متعلق وہ خود بھی بالیقین جانتے تھے کہ وہ جادو کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ شاید کوئی بیوقوف آدمی بھی یہ باور نہ کرے گا کہ ایک پورے ملک میں قحط پڑجانا اور زمین کی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہونا کسی جادو کا کرشمہ ہوسکتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید کہتا ہے کہ فَلَمَّا جَآءَ تْھُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَا لُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِینٌ وَّجَحَدُوا بِھَا واستَیْقَنَتھَٓا اَنفُسُھُمْ ظُلْمًاوَّ عُلُوًّا (النمل۔ آیات 13۔ 14) یعنی ”جب ہماری نشانیاں علانیہ ان کی نگاہوں کے سامنے آئیں تو انہوں…
Read the full tafseer →لیکن جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کا قہر ہوتا ہے تو صحیح بات اس کی سمجھ نہیں آتی، قوم فرعون بھی اسی قہر میں مبتلا تھی، عذاب کے اس ابتدائی جھٹکہ سے بھی ان کو کوئی تنبیہ نہ ہوئی بلکہ اس کو اور ہر آنے والی مصیبت کو یہ کہنے لگے کہ یہ نحوست حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی ہے، فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗ ، یعنی جب ان لوگوں کو کوئی بھلائی اور راحت و آرام ملتا تو یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارا حق ہے ہمیں ملنا ہی چاہئے، اور جب کوئی مصیبت ور برائی پیش آتی تو کہتے کہ یہ موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کے اثر سے…
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗ ۭاَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔
طیر کا مفہوم : تطیر، طیر سے ہے، طیر، چڑیوں اور پرندوں کو کہتے چونکہ توہم پرستوں میں چڑیوں کے اڑنے سے فال لینے کا عام رواج ہے اس وجہ سے تطیر کا لفظ فال لینے کے معنی میں استعمال ہوا۔ پھر اس کا غالب استعمال فال نحس کے معنی ہوگیا۔ اسی مادے سے طائر کا لفظ بھی ہے جو اس چیز کے لیے استعمال ہوا جس سے کوئی نیک یا بد فال لی جائے اور پھر اسی مفہوم سے ترقی کر کے خط، قسمت اور نصیبہ کے معنی میں…
Read the full tafseer →131۔ 1 حَسَنَةُ (بھلائی) سے مراد غلے اور پھلوں کی فروانی سَيِّئَةٌ (برائی) سے اس کے برعکس اور قحط سالی اور پیداوار میں کمی۔ بھلائی کا سارا کریڈٹ خود لے لیتے کہ یہ ہماری محنت کا ثمر ہے اور بدحالی کا سبب حضرت موسیٰ ؑ اور اس پر ایمان لانے والوں کو قرار دیتے کہ یہ تم لوگوں کی نحوست کے اثرات ہمارے ملک پر پڑ رہے ہیں۔
131۔ 2 طَائِرُ کی معنی اڑنے والا یعنی پرندہ۔ چونکہ پرندے کے بائیں یا دائیں اڑنے سے وہ لوگ نیک فالی یا بدفالی لیا کرتے تھے۔ اس لیے یہ لفظ مطلق فال کے لیے بھی استعمال ہونے لگ گیا اور اسی معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا خیر یا شر، جو خوش حالی یا قحط سالی کی وجہ سے انہیں پہنچتا ہے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
57: پیچھے آیت نمبر : 94 میں اللہ تعالیٰ نے جو اصول بیان فرمایا تھا اس کے مطابق پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا میں مختلف تکلیفیں دی گئیں، تاکہ وہ کچھ نرم پڑیں، ان میں سے پہلا عذاب قحط کا مسلط ہوا اور اسکے نتیجے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔
Read the full tafseer →جب انسانی فطرت جادۂ مستقیم سے منحرف ہوجاتی ہے تو اسے نظر نہیں آتا کہ اس کائنات کو دست قدرت چلا رہا ہے۔ ان کو اللہ کا نظام قضا و قدر نظر نہیں آتا جس کے تحت تمام چیزیں پیدا ہو رہی ہیں اور تمام واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جب یہ فطرت اس حد تک خراب ہوجائے تو پھر وہ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس قدرت کا ادراک نہیں کرسکتی۔ حالانکہ یہ قوانین قدرت مستقلاً یہاں رواں دواں ہیں۔ ایسے لوگ پھر کائنات کے واقعات کی تفسیر اور تشریح انفرادی واقعہ کے طور پر کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ اس واقعہ کا کسی کلی اصول کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ ایسے لوگ دفتر خرافات لئے ہوئے بےآب وگیاہ وادیوں میں سرگرداں پھرتے رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
1 گزشتہ آیت میں فرمایا تھا " قریب ہے کہ خدا تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے۔ " یہاں سے اسی ہلاک موعود کے بعض مبادی کی تفصیل شروع کی گئی ہے۔ یعنی اسی سنت اللہ کے موافق جس کا بیان اسی پارہ کے شروع میں آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :94) کے تحت میں گزر چکا، خدا تعالیٰ نے فرعونیوں کو ابتدائی تنبیہ کے طور پر قحط، خشک سالی وغیرہ معمولی تکالیف اور سختیوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ خواب غفلت سے چونکیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ نصیحتوں کو قبول کرلیں۔ مگر وہ ایسے کا ہے کو تھے، انہوں…
Read the full tafseer →آیت 131 فَاِذَا جَآءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ہٰذِہٖ ج وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ط اَلَآ اِنَّمَا طآءِرُہُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ
جب ان کے حالات قدرے بہتر ہوتے یعنی فصلیں وغیرہ ٹھیک ہوجاتیں ‘ خوشحالی آتی اور ان کو آسائش حاصل ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ ہماری محنت ‘ منصوبہ بندی اور کوشش کا نتیجہ ہے ‘ یہ ہمارا استحقاق ہے۔ اور جب ان کو فصلوں میں نقصان ہوتا یا کسی اور قسم کے مالی نقصانات کا انہیں سامنا کرنا پڑتا تو وہ اس سب کچھ کی ذمہ داری حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں پر ڈال دیتے کہ ہمارا یہ…
Read the full tafseer →127 یہ ویسی ہی تنبیہات ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ چھوٹے موٹے عذاب بھیج کر لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں یا نہیں ان تنبیہات کا نتیجہ بھی ان کے حق میں صفر ہی رہا جب بھلے دن آتے تو کہتے کہ یہ ہماری عقل مندی اور حسن تدبیر کا نتیجہ ہے اور ہم فی الواقع اس بھلائی کے مستحق تھے اور جب برے دن آتے تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے اصحاب کو مطعون کرنے لگتے کہ ان لوگوں کی نحوست سے ہمیں یہ برے دن دیکھنے نصیب ہوئے ان کے اپنے گناہوں کی طرف ان کی نظر جاتی ہی نہ تھی۔ حالانکہ یہ بات تو اللہ کے علم میں ہے کہ ان کی نحوست کے اصل اسباب کیا تھے ؟
Read the full tafseer →168 ۔ (بجائے اس کے کہ اسے اپنی تکذیب و بدعملی کا نتیجہ سمجھ کرتائب ہوتے اور ان واقعات و حوادث سے عبرت کا سبق حاصل کرکے اپنے اصلاح کرتے) (آیت) ” فاذا جآء تھم الحسنۃ قالوا لنا ھذہ “۔ یعنی اسے تمام تر اپنی خوش بختی خود تدبیری پر محمول کرتے۔ بجائے اس کے کہ اسے اللہ کی طرف سے نعمت سمجھ کر توحید وطاعت کی راہ اختیار کرتے۔
169 ۔ یعنی یہ بدبخت اپنی بدنصیبیوں اور محرومیوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے سر تھوپتے حالانکہ یہ موٹی سی بات ہے کہ ان کے اعمال کفریہ اللہ پر روشن تھے۔ اور ان کی دنیوی محرومیاں انہی اعمال کفریہ کا وبال تھیں۔ انماسبب شؤمھم عند اللہ وھو عملھم المکتوب عندہ (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیت نمبر 130 تا 141
ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم…
Read the full tafseer →فاذا جآء تہم الحسنۃ قالوا لنا ہذہ وان تصبہم سیءۃ یطیروا بموسی ومن معہ الا انما طآئر ہم عنداللہ ولکن اکثرہم لا یعلمون : لیکن جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہئے اور اگر کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے یاد رکھو ان کی نحوست کا سبب اللہ کے علم میں تھا مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے تھے۔
بالسنین قحط سالی۔ کال۔ السنۃ سال۔ تغلیب استعمال میں اس کا معنی ہوگیا قحط سالی خشک سالی کا کیونکہ قحط سالی ہی آئندہ کے لئے یادگاری سال اور تاریخی وقت ہوجاتا ہے۔ پھر السنۃ سے مشتقات استعمال کئے جانے لگے مثلاً کہا جاتا ہے سنت القوموہ لوگ قحط میں…
Read the full tafseer →(131) جب ان کافروں پر خوشحالی اور فراخی آجاتی، تو کہتے کہ یہ ہمارے شایان شان ہے اور جب قحط اور سختیوں میں گرفتار ہوتے تو بدفالی اور نحوست لینا شروع کردیتے تھے، سختی اور فراخی یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر سب نہیں جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ۔۔ : جیسا کہ آیت (94، 95) میں ذکر فرمایا تھا کہ ہر قوم کی آزمائش تنگی اور تکلیف کے علاوہ خوش حالی اور آسودگی کے ساتھ بھی ہوئی، اس کے مطابق فرعون کی قوم پر سختی اور مصیبت کے بعد راحت اور خوش حالی آتی تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھ کر شکر گزاری کریں، وہ ”لَنَا هٰذِهٖ“ کہتے، یعنی یہ ہمارے حسن انتظام کا نتیجہ اور ہمارا حق ہے۔
وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي۔۔ : ”يَّطَّيَّرُوْا“ ”تَطَیَّرَ یَتَطَیَّرُ“ باب تفعل سے ہے جس کا مادہ ”طَیْرٌ“ (پرندہ) ہے۔ اصل میں ”یَتَطَیَّرُوْا“ تھا، تاء کا طاء میں ادغام کردیا ہے۔ مشرکین کا طریقہ تھا کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 131
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔
قولہ تعالیٰ : آیت : فاذا جآء تھم الحسنۃ یعنی جب ان پر خوشحالی اور وسعت آئی۔ آیت : قالوا لنا ھذہ یعنی ہم اس کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیں عطا کی گئی ہے۔ آیت : وان تصیبھم سیئۃ اور اگر انہیں قحط اور کوئی بیماری آپہنچتی۔ اور یہی دوسرا مسئلہ ہے۔
مسئلہ نمبر : 2
آیت : یطیروا بموسی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بد فالی پکڑتے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 443 ) ، اسی کی مثل یہ ارشاد ہے : آیت : وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک ( النسائ : 78)
یطیروا اصل میں یتطیروا ہے پھر تا کو طا میں مدغم کردیا گیا ہے۔ اور طلحہ (رح) نے فعل ماضی کی بنا پر تطیروا پڑھا ہے۔…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فاذا جاء تھم الحسنۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جب ان کو عافیت اور خوشحالی پہنچتی ” قالوا لنا ھذہ “ تو کہتے کہ ہم اس کے زیادہ لائق ہیں۔ ” وان تصبھم سیءۃ یطیروا “ جب ان کو مصیبت اور تنگی پہنچتی ” یطیروا یموسی “ تو موسیٰ کے ساتھ بدشگونی لیتے تھے۔
(2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا انما طیرھم “ یعنی ان کی مصیبتیں (اللہ کی طرف سے ہیں) ان کے گناہوں کے بدلے میں۔
(3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ فَاِذَا : پھر جب بھی ] [ جَاۗءَتْهُمُ : آتی ہے ان کے پاس ] [ الْحَسَنَةُ : بھلائی ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ لَنَا : ہمارے لیے ہے ] [ هٰذِهٖ : یہ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُصِبْهُمْ : آن لگتی ہے ان کو ] [ سَيِّئَةٌ: کوئی برائی ] [ يَّطَّيَّرُوْا : تو وہ لوگ منحوس گردانتے ہیں ] [ بِمُوْسٰي : موسیٰ کو ] [ وَمَنْ : اور ان کو جو ] [ مَّعَهٗ : ان کے ساتھ ہیں ] [ اَلَآ : سن لو ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ [ طٰۗىِٕرُهُمْ : ان کی نحوست ] [ عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس (سے ) ہے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
قوم فرعون پر طرح طرح کے عذاب آنا اور ایمان کے وعدے کر کے پھرجانا
فرعون اور قوم فرعون جب برابر بغاوت اور سر کشی پر جمے رہے بلکہ عناد اور طغیانی میں ترقی کرتے چلے گئے اور ان پر قحط بھیج کر جو تنبیہ کے لیے اور سر کشی کی سزا کے طور پر ایسی چیزیں بھیج دیں جو ان کے لیے و بال بن گئیں۔ اَلطُّوْفَان اور اَلْجَرَاد اور اَلْقُمَّلَ اور الضَّفَادِعَ اور الدَّمَ فرما کر ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا، لفظ الطُّوْفَانَ فُعلان کے وزن پر ہے اور یہ عام طور سے پانی کے سیلاب کے لیے مستعمل ہوتا ہے اگر یہی معنی لیے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ قوم فرعون کی کھیتیوں اور رہنے کی جگہوں میں سیلاب بھیجے جس کی وجہ سے وہ لوگ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ذکر نزول مصائب عبرت بر قبطیان تا آخر ہلاکت
قال اللہ تعالیٰ ٰ ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین۔۔۔ الی۔۔۔ وماکانوا یعرشون
(ربط) گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے یہ وعدہ ذکر فرمایا۔ عسی ربکم ان یھلک عدوکم۔ عنقریب خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کریگا۔ اب ان آیات میں اس اہلاک موعود کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ قوم فرعون کس طرح بتدریج ہلاک کی گئی اور وقتاً فوقتاً ان پر کیا کیا مصیبتیں اور کیا کیا بلائیں یکے بعد یگرے نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ان پر بلائیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور عبرت اور نصیحت پکڑیں کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور مقابلہ کا انجام ایسا…
Read the full tafseer →124: قوم فرعون پر جب کبھی فراخی اور راحت آجاتی تو کہتے ہم اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے اسی کے مستحق ہیں لیکن اگر کوئی مالی یا جانی تکلیف پہنچ جاتی تو اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کی طرف منسوب کرتے اور کہتے یہ سب انہی کی نحوست ہے۔ “ عیاذا بالله۔ اَلَا اِنَّمَا طٰٓئِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰهِ ” حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان پر جو تکلیف و مصیبت آرہی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی قضاء و قدر سے ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور مومنوں کی نحوست کو کوئی دخل نہیں۔ “ قال ابن عباس طائرھم ما یصیبھم ای ماطار لھم فی القدر مما ھم لا قوة ”(بحر ج 4 ص 370) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
ربط آیات
گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لیے جادوگروں کو اکٹھا کیا تو وہ حاضر آگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اسکے بعد فرعون کے مصاحبوں نے ابھارا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کو یونہی چھوڑ دیا گیا اور ان پر پابندیاں عائد نہ کیں تو یہ زمین میں فساد پھیلائیں گے اور تجھے اور تیرے معبودوں کو موقوف کردیں گے فرعون نے کہا کہ ہم انہیں وہی سزا دیں گے جو پہلے دیا کرتے تھے یعنی ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھ کر انہیں لونڈیاں بنائیں گے اور ان سے خدمت لیں گے چناچہ جب بنی اسرائیل پر مصائب…
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَتْہُمُ الْحَسَـنَۃُ قَالُوْا لَنَا ہٰذِہٖ 0 ۚ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَيِّئَۃٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَہٗ 0 ۭ اَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُہُمْ عِنْدَ اللہِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 131
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–137
ترکیب : آل فرعون مفعول اخذنا بالسنین الاصل فی سنۃ سنہ لامہاہا۔ وقیل لامہاوالقولھم سنوات و اکثر العرب یجعلھا کزیدون والعبض یجعل النون حرف الاعراب وکسرت العین اعلامابانھا جمعت علی غیر القیاس یہ اخذنا سے متعلق الطوفان (قیل مصدر وقیل جمع طوفانۃ وھو الماء الکثیر المغرق۔ ) والجراد جمع جرادۃ والقمل والضفادع والدم مفعول ارسلنا آیات موصوف بینات صفت مجموعہ حال ہے ہر واحد سے اور ثنا فعل بافاعل القوم مفعول اول مشارق الخ مفعول ثانی ماکان یصنع ما بمعنی الذی اسم کان ضمیر جو راجع ہے ما کی طرف یصنع فعل فرعون فاعل جملہ خبر کان۔
تفسیر : (3) فرعون کا شہر مصریہ نہیں کہ جس کو آج کل قاہرہ مصر کہتے ہیں بلکہ دریائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
فَاِذَا جَآئَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ ج وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَ مَنْ مَّعَہٗ ط اَلَآ اِنَّمَا طٰٓئِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ وَ قَالُوْا مَھْمَا تَاْتِنَا بِہٖ مِنْ اٰیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِھَالا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الاعراف : 131، 132)
” اور جب ان پر اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب ان پر برا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فالِ بد ٹھہراتے حالانکہ درحقیقت ان کی فالِ بد تو اللہ کے پاس تھی مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے۔ انھوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہمیں مسحور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
فہم القرآن
ربط کلام : آل فرعون پر برے حالات اور مومنوں کے صبر و استقامت کا صلہ۔
فرعون اور آل فرعون کے بےپناہ مظالم کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو تباہ و برباد کرے گا بشرطیکہ تم صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور نماز ادا کرتے رہو۔
فرعون نے جب اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مظالم سے نجات پانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔ الٰہی تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کے اسباب و وسائل عنایت فرمائے۔ لیکن انھوں نے تیرا شکریہ ادا کرنے کے بجائے تیرے بندوں کو تیرے راستے سے گمراہ کرنے پر صرف…
Read the full tafseer →فرعونیوں کا طرز عمل :
آیت 131: فَاِذَا جَآ ئَ تْھُمُ الْحَسَنَۃُ (پس جب ان پر خوشحالی آتی) صحت، سرسبزیقَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ (وہ کہتے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہیے) ہم اس کے مستحق ہیں۔ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ (اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی) خشک سالی اور بیماری یَّطَّیَّرُوْا (تو نحوست بتاتے) اصل میں یَتَطَیَّرُوْا تھا ‘ تا کو طا میں ادغام کردیا کیونکہ یہ طرف لسان اور اصول ثنایا کے لفظ ہیں۔ بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ (موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی) ان کو منحوس قرار دیتے ان سے شگون لیتے اور کہتے کہ یہ ان کی نحوست ہے اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ہمیں یہ مصیبت نہ پہنچتی۔
نکتہ : یہاں…
Read the full tafseer →131(فاذا جآء تھم الحسنۃ) خوش حالی، عافیت، کشادگی (قالوا لنآ ھذہ) یعنی ہم اس کے مستحق ہیں اس کو اللہ کا فضل سمجھ کر شکر نہیں کیا ( وان تصبھم سیئۃ) خشک سالی ، آزمائش وغیرہ (یطیروا بموسی ومن معہ) اور کہتے کہ ان کو دیکھنے کی وجہ سے ہمیں تکلیف پہنچی ہے۔ سعید بن جبیر ؓ اور محمد بن مکندر (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون کی بدشاہت چارسو سال رہی اور اس کی عمر چھ سو بیس سال تھی اس کو کبھی کوئی مزاج کے خلاف بات بھی نہیں پیش آئی۔ اگر اس مدت میں کبھی بھوک یا ایک رات کا بخار یا تھوڑی سے جسمانی تکلیف آئی ہوتی تو کبھی رب ہونے کا دعویٰ نہ کرتا (الا انما طئرھم عند اللہ ولکن اکثرھم لایعلمون) کہ ان پر جو حالت آئی خشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
(130 ۔ 131) ۔ اللہ پاک نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا امتحان لیا کہ قحط ڈال دیا درختوں میں پھل لگنے موقوف ہوگئے کھجور کے درختوں میں ایک ایک کھجور لگتی تھی چشمہ نیل بالکل خشک ہوگیا مینہ برسنا بند ہوگیا یہ جانچ تھی کہ شاید مصیبت کے وقت میں ان کے دل نرم ہوجاویں اور خدا سے رجوع ہوں اور رسول کی باتوں کو مانیں مگر کچھکار آمد نہ ہوا اپنے کفر پر جمے رہے پھر اللہ پاک نے فرمایا جب یہ تکلیف دور ہوگئی اور آرام کی گھڑی آگئی تو کہنے لگے ہم اسی کے مستحق تھے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات دھرتے اور کہتے کہ ان کے باعث سے یہ سال نحس ہوا اور یہ نہ سمجھتے تھے کہ خوشی کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →163 اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں اہل باطل کا غلط نظریہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعونیوں کو جب کوئی اچھی حالت نصیب ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ تو ہمارے ہی لیے ہے کہ ہم ہی اس کے اہل اور مستحق ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ اس منعم حقیقی کے شکر کی توفیق سے محروم رہتے جو کہ بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ تھا اہل باطل کا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں غلط نظریہ اور ٹیڑھا زاویہ نگاہ کہ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سمجھنے کی بجائے انکو اپنا حق سمجھنے لگتے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور آج بھی ایسے لوگوں کا یہی کہنا اور ماننا ہے جو کہ نور ایمان و یقین سے محروم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔
اسرار و معارف :
چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت…
Read the full tafseer →ف 9 مگر ان شدائد کے بعد رفاہیت اور خوشحالی آتی تو بجائے اس کے اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھ کر شکر گزاری کریں لنا ھذہ کہتے یعنی یہ ہمارے حسن انتظام کا نتیجہ ہے۔10 تمام مفسرین کے نزدیک یہاں التطیر بمعنی تشام بمعنی نحوست ہے یعنی وہ کہتے کہ ان کی نحوست سے ہم پر آفت آئی ہے۔11 یعنی اس نحوست اصل سبب تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور خیر وشر جو کچھ ان کو پہنچ رہا ہے تمام اللہ تعالیٰ کی قضاوقدرت سے ہے جو ان کے اعمال کے سبب ان کے حق میں لکھا ہے جاچکا ہے۔ (کذافی الکبیر)12 کہ خیر وشرسب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اس نے جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے وہ ضرور ہو کر رہتا ہے کسی کی نحوست اور شومی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے…
Read the full tafseer →(7:131) لنا ھذہ۔ یہ ہمارا حق تھا۔ اس کے ہم مستحق تھے۔ تصبھم۔ ان کو پہنچے۔ اصاب یصیب اصابۃ (افعال) کسی کو تکلیف کا آلینا۔ تکلیف پہنچنا۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔
یطیروا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تطیر (تفعل) سے اصل میں یتطیرون تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ یتطیروا ہوگیا۔ ت کو ط میں مدغم کرکے ط کو مشدد کردیا یطیروا ہوگیا۔ معنی وہ برا شگون لیتے تھے۔ وہ بدشگونی کرتے تھے۔ یتطیروا بموسی ومن معہ۔ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو بدشگون ٹھہراتے۔
طئرھم۔ ان کا شگون بد۔ ان کی فال بد۔ ان کی بری قسمت۔ ان کی نحوست۔ ان کی نامبارکی اصل میں ۔ طائر کے معنی اڑنے والا کے ہیں۔ طار یطیر طیران کا استعمال اسی معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔
السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔
تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “
گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
فرعون پر پانی، ٹڈی، کیڑے، مینڈک، خون اور آخر کار غرق ہونے کا عذاب
ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کے کفر اور سرکشی کا حال بیان کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ تم معجزہ کے طور پر جو نشانی لاؤ گے ہم اس کو نہیں مانیں گے۔ جو تم عجائبات دکھاتے ہو خدا کا دیا ہوا معجزہ نہیں ہے تم ایک جادوگر ہو، ہم پر جادو کرتے ہو اور ہماری نظر بندی کردیتے ہو جس سے یہ تماشے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کا طوفان بھیج دیا اور یہ پانی سات روز تک برابر برستا رہا۔ لوگ بہت پریشان ہوگئے پھر آخر عاجز ہوکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے خدا سے دعا کرو کہ پانی کھل جاوے ہم بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–137
[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔
[48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–132
غلامی کی جھجک :
(ف 1) غلامی ایسی بدترین لعنت ہے کہ اس کے بعد قوم میں بزدلی آجاتی ہے ، اور قوم میں دوست و دشمن کی تمیز اٹھ جاتی ہے ، ہر بات میں انہیں اندیشہ ہوتا ہے ، کہیں حکمران طبقہ ہماری مصیبتوں میں اور اضافہ نہ کر دے ،
چنانچہ بنی اسرائیل نے صاف صاف کہہ دیا جناب پہلے بھی ہم تکلیفوں میں مبتلا تھے ، اور اب بھی ہماری مشکلات میں اضافہ ہی ہے براہ کرم میں کانٹوں میں نہ گھسیٹئے ۔
موسی (علیہ السلام) نے فرمایا تم گھبراؤ نہیں ، عنقریب تمہارے دشمن ہلاک ہوں گے اور تمہاری غلامی آزادی سے بدل جائے گی ۔
حل لغات :
سنین : یعنی عسرت کے سال ،
یطیر : بدشگونی ، عرب طائر سے شگون لیتے تھے ، اس لئے تطیر کے معنی…
Read the full tafseer →131 چونکہ یہ سزائیں تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ملتی تھیں اس لئے ان کی حالت یہ تھی کہ جب کبھی ان کو کوئی بھلائی اور آسودگی پہنچتی تو کہتے یہ ہمارا حق ہے اور یہ فائدہ تو ہم کو ملنا ہی چاہئے تھا اور جب کبھی ان کو کوئی سختی پہنچتی اور بدحالی پیش آجاتی تو اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے اور بدشگونی بتاتے اور یاد رکھو ان کی نحوست اور اس نحوست کا سبب تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے لیکن ان میں کے اکثر بےعلم ہیں اور اس بات کو نہیں جانتے یعنی شومی قسمت جو ہے سو اللہ کی تقدیر سے ہے بھلائی اور برائی کا اثر ہوگا آخرت میں اس کا جواب یہ نہ فرمایا کہ شومی ان کے کفر سے تھی کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ف 4۔ یعنی ہم مبارک طالع ہیں یہ ہماری خوش بختی کا اثر ہے یہ نہ تھا کہ اس کو خدا کی نعمت سمجھ کر شکر بجالاتے اور اطاعت اختیار کرتے۔
5۔ یعنی ان کے اعمال کفریہ تو اللہ کو معلوم ہیں یہ نحوست ان ہی اعمال کی سزا ہے۔
Read the full tafseer →فرعونی خوشحالی کو اپنی طرف منسوب کرتے اور سختی کو موسیٰ (علیہ السلام) کی نحوست قرار دیتے :
142: جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کا قہر ہوتا ہے تو صحیح بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی قوم فرعون بھی اسی قہر میں مبتلا تھی عذاب کے اس ابتدائی جھٹکا سے بھی ان کو کوئی تنبیہ نہ ہوئی بلکہ اس کو اور ہر آنے والی مصیبت کو وہ کہنے لگے کہ یہ نحوست موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے ہے ۔ جب ان لوگوں کو کوئی راحت و آرام ملتا تو کہتے کہ یہ ہمارا حق ہے اور ہمیں ملنا چاہیے اور جب کوئی مصیبت اور برائی پیش آتی تو کہتے کہ یہ موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست سے ایسا ہوا ہے ۔ ایسی باتیں انہوں نے کیوں کیں ؟ اس لئے…
Read the full tafseer →When a people are stamped with the wrath of Allah they lose their faculty of distin-guishing right from wrong. Pharaoh and his people too, had lost their understanding. They did not take lesson from this warning. On the contrary, they ascribed the calamity to be a bad presage from the prophet Musa (علیہ السلام) and his people. The verse said, 'So when something good came to them they said, 'This is our right.' And if they suffered from something evil, they ascribed it as an ill omen to Musa (علیہ السلام) and those with him. Listen, their omen lies with Allah only, but most of them do not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
94. Pharaoh's courtiers obstinately persisted in branding Moses' signs as sorcery although they knew well that sorcery had nothing in common with the miraculous signs granted to Moses. Even a fool would not he ready to believe that the country-wide famine and the consistent decrease in agricultural output could have been caused by magic. It is for this reason that the Qur'an says:
But when Our signs, which should have opened their eyes, came to them they said: 'This is clear sorcery! And they rejected those signs out of iniquity and arrogance even though they were inwardly convinced of it'…
Read the full tafseer →