Al-A'raaf 7:128

Al-A'raaf · from ayah 128

7:128

قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ— اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ۙ۫— یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ؕ— وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ ۟قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا‌ ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ۙ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ‏

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Said Moses to his people, "Seek help through Allah and be patient. Indeed, the earth belongs to Allah. He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 15 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:128

موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو، یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وه مالک بنا دے اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ سے مدد مانگو اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری انجام پرہیزگاروں ہی کے حق میں ہوتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

موسٰی ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا: تم اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بیشک زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور انجامِ خیر پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بیشک زمین اللہ کی ہے، وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بناتا ہے اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام (خیر) تو پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد چاہو اور ثابت قدم رہو۔ زمین اللہ کی ہے وہ جس کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اس کو اس کا وارث بناتا ہے اور انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ مدد مانگو اللہ سے، اور کام لو تم صبر (واستقامت) سے، بیشک یہ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور وہ انجام (اور آخری کامیابی) بہرحال پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ (ہی) کا سہار رکھو اور صبر کئے رہو زمین اللہ ہی کی ہے وہ جس کو چاہیں اپنے بندوں میں سے اس کا مالک بنا دیں اور انجام کار خدا سے ڈرنے والوں ہی کے ہاتھ رہتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ نے اپنی قوم (اہل ایمان) سے کہا کہ اب تم لوگ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو ؟ یقیناً یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے لیکن عاقبت (آخرت) تو تقویٰ والوں کے لیے ہی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ زمین تو اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا تا ہے اور آخر تو بھلا ڈرنے والوں کا ہی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said to his people: 'Seek help from Allah and be steadfast. The earth is Allah's, He bestows it on those of His servants He chooses. The end of things belongs to the God-fearing.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Musa said to his people, :Seek help from Allah and be patient. Surely, the land belongs to Allah. He lets whomsoever He wills inherit it from among His servants; and the end-result is in favor of the God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

Musa said to his people, :Seek help from Allah and be patient. Surely, the land belongs to Allah. He lets whomsoever He wills inherit it from among His servants; and the end-result is in favor of the God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient. Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Moses said unto his people: Seek help in Allah and endure. Lo! the earth is Allah's. He giveth it for an inheritance to whom He will. And lo! the sequel is for those who keep their duty (unto Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Said Moses to his people, "Seek help through Allah and be patient. Indeed, the earth belongs to Allah. He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous."

— Saheeh International

Moses told his people to seek help from God and exercise patience. The earth belongs to Him and He has made it the heritage of whichever of His servants He chooses. The final victory is for the pious ones.

— Muhammad Sarwar

Musa said to his people: Ask help from Allah and be patient; surely the land is Allah's; He causes such of His servants to inherit it as He pleases, and the end is for those who guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

Musa said unto his people: seek help in Allah and persevere; verily the earth is Allah's; He maketh whomsoever He willeth of His bondmen inherit it, and the happy end is of the God-fearing.

— Abdul Majid Daryabadi

Said Moses to his people: "Pray for help from Allah, and (wait) in patience and constancy: for the earth is Allah's, to give as a heritage to such of His servants as He pleaseth; and the end is (best) for the righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:128

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 127–129

آخری حربہ بغاوت کا الزام فرعون اور فرعونیت نے حضرت موسیٰ اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے کہنے لگے یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں بغاوت پھیلا دیں گے ملک میں بد امنی پیدا کریں گے ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہئے، اللہ کی شان دیکھئے کیا مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ آیت (ویذرک) میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کی قرأت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 128–132

سورة الْاَعْرَاف 94 یہ انتہائی ہٹ دھرمی و سخن پروری تھی کہ فرعون کے اہل دربار اس چیز کو بھی جادو قرار دے رہے تھے جس کے متعلق وہ خود بھی بالیقین جانتے تھے کہ وہ جادو کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ شاید کوئی بیوقوف آدمی بھی یہ باور نہ کرے گا کہ ایک پورے ملک میں قحط پڑجانا اور زمین کی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہونا کسی جادو کا کرشمہ ہوسکتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید کہتا ہے کہ فَلَمَّا جَآءَ تْھُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَا لُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِینٌ وَّجَحَدُوا بِھَا واستَیْقَنَتھَٓا اَنفُسُھُمْ ظُلْمًاوَّ عُلُوًّا (النمل۔ آیات 13۔ 14) یعنی ”جب ہماری نشانیاں علانیہ ان کی نگاہوں کے سامنے آئیں تو انہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اس مجلس کی گفتگو کی خبر جو بنی اسرائیل کو پہنچی تو بڑے گھبرائے اور حضرت موسیٰ ؑ سے چارہ جوئی کی تو) موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھو اور مستقل رہو (گھبراؤ مت) یہ زمین اللہ کی ہے جس کو چاہیں مالک (اور حاکم) بنائیں اپنے بندوں میں سے (سو چند روز کے لئے فرعون کو دے دی ہے) اور خیر کامیابی ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں (سو تم ایمان وتقوی پر قائم رہو، انشاء اللہ تعالیٰ یہ سلطنت تم ہی کو مل جائے گی، تھوڑے دنوں انتظار کی ضرورت ہے) قوم کے لوگ (غایت حسرت وحزن سے جس کا طبعی (قتضاء تکرار شکوہ ہے) کہنے لگے کہ (حضرت) ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے آپ کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا۔ تفسیر سورة بقرہ کی فصل 32 میں ہم اقامتِ دین کی جد و جہد میں صبر اور نماز کی اہمیت پر بحث کرچکے ہیں۔ درحقیقت اس جہاد میں یہی دو چیزیں وسیلہ ظفر ہیں۔ قرآن میں مشکلات راہ کے مقابلہ کے لیے ہر جگہ انہی دو ہتھیاروں سے مدد حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہاں اگرچہ بظاہر لفظ اللہ وارد ہوا ہے لیکن اس سے مراد نماز ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے استعانت کا ذریعہ نماز ہی ہے۔ فعون نے اس شکست سے گھبرا کر بنی اسرائیل کو دبانے اور ان کی نسل کو تباہ کرنے کا جو عزم ظاہر کیا اس سے قدرتی طور پر بنی اسرائیل کو سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ ان کی اس پریشان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

128۔ 1 جب فرعون کی طرف سے دوبارہ اس ظلم کا آغاز ہوا تو حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو اللہ سے مدد حاصل کرنے اور صبر کرنے کی تلقین کی اور تسلی دی کہ اگر تم صحیح رہے تو زمین کا اقتدار بالآخر تمہیں ہی ملے گا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 127–129

56: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکیاں تو دی تھیں ؛ لیکن حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے اور جادوگروں کے ایمان اور استقامت کو دیکھ کر حاضرین اور خاص طور پر بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ایمان لے آئی کہ اس کو فوری طور سے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا، اور جب مجمع درہم برہم ہوگیا تو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والے اپنے گھروں کو چلے گئے، اس موقع پر فرعون کے سرداروں نے یہ بات کہی جو یہاں مذکور ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے، رفتہ رفتہ یہ اپنی طاقت جمع کرکے آپ کے لئے ایک خطرہ بن جائیں گے، فرعون نے اپنی خفت…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب پھر پردہ گرتا ہے ، فرعون اور اس کے حوالی و موالی کو سازش اور دھمکیوں اور سخت تندی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اب اس قصے کا ایک دوسرا خاص منظر سامنے آتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے تشدد کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس منظر میں حضرت موسیٰ اپنی قوم میں نظر آتے ہیں ، آپ اپنی قوم کے ساتھ ایک نبی کے قلب کے ساتھ ایک نبی کی زبان میں بات کررہے ہیں ، آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے رب کی پوری پوری معرفت حاصل ہے۔ آپ رب تعالیٰ کی سنت جاریہ کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں ، آپ کو علم ہے کہ اللہ کے منصوبھے اور اس کی تقدیر کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اللہ کے سامنے کسی کا زور نہیں چلتا، ملک اسی کا ہے جس کو مناسب جانے عطا فرمائے۔ لہذا ظالم کے مقابلہ میں اسی سے مدد مانگو۔ اسی پر نظر رکھو، اسی سے ڈرو، صبر وتقویٰ کی راہ اختیار کرو، اور یقین رکھو، کہ آخری کامیابی صرف متقین کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 128 قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا باللّٰہِ وَاصْبِرُوْا ج اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِقف یُوْرِثُہَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ یعنی اتنی بڑی آزمائش میں ثابت قدم رہنے کے لیے اللہ سے مدد کی دعا کرتے رہو اور صبر کا دامن تھامے رکھو۔ انجام کار کی کامیابی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والوں کا مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 127–128

124 لوگوں کا ایمان لانا اور فرعونیوں کو بغاوت کا خطرہ :۔ فرعون کی اس تدبیر کا بھی الٹا ہی اثر پڑا اور بہت سے اسرائیلی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے حتیٰ کہ چند قبطی (فرعونی) بھی آپ پر ایمان لے آئے تو فرعونیوں کے لیے ایک تشویشناک صورت حال پیدا ہوگئی۔ وہ فرعون سے کہنے لگے اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہیں یہ سب مل کر ملک میں بغاوت نہ کھڑی کردیں۔ اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ نہ دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے اور بھی کئی دیوتا تھے جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ ایک تو فرعون نے ہر جگہ عبادت کے لیے اپنے مجسمے تیار کرا کے نصب کرا رکھے تھے۔ دوسرے قرآن سے اتنا تو معلوم ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

164 ۔ (سودنیوی عارضی حاکمیت ہرگز کوئی معیار مقبولیت وحقانیت کا نہیں) یہاں یہ اہم حقیقت صاف ہوگئی کہ حکومت کا کوئی لازمی تعلق مقبولیت سے نہیں۔ بلکہ یہ مصالح تکوینی کے تابع ہے نہ یہ ضرور ہے جو حاکم ہے وہ مقبول ہی ہو، اور نہ یہ ضرور ہے کہ جو مقبول ہے وہ حاکم ہی ہو۔ محکومیت، مقبولیت کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے۔ دونوں کے درمیان منافات نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 127–129

آیت نمبر 127 تا 129 ترجمہ : فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑے رکھے گا کہ تیری مخالفت کی دعوت دے کر ملک میں فساد پھیلائیں، اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ان کے لئے چھوٹے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے، اور فرعون اس بات کا مدعی تھا کہ میں تمہارا بھی رب ہوں اور ان بتوں کا بھی، اور اسی وجہ سے اس نے کہا میں تمہارا بڑا رب ہوں، فرعون نے کہا میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا (سَنُقَتّلُ ) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھوں گا، جیسا کہ ہم ان کے ساتھ ایساپہلے بھی کرچکے ہیں اور یقیناً ہم ان کے اوپر قدرت رکھتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالو موسیٰ لقومہ استعینوا باللہ واصبروا ان الارض للہ یورثہا من یشآء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد کی دعا کرو اور صبر رکھو بلاشبہ ساری زمین اللہ کی ہے وہی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے (لیکن) اچھا انجام پرہیزگاروں کا ہوتا ہے۔ اسْتَعِیْنُوْا یعنی اللہ سے گڑگڑا کر مدد کی دعا کرو اور اس پر بھروسہ رکھو۔ واصبروا یعنی فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے جو دکھ اور اذیت تم کو پہنچ رہی ہے اس پر صبر کرو یہ سب کچھ اللہ کے ارادے مشیت اور امتحان کے زیر اثر ہو رہا ہے۔ ان الارض للّٰہ یعنی سارا ملک اللہ کا ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(128) حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ مصر کی زمین کا اللہ جس کو چاہیں وارث بنادیں۔ اور جنت تو کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ۔۔ : فرعون کی دھمکیوں پر موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو تسلی دینا ضروری سمجھا، چناچہ انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرمائی، جس پر انھوں نے ظالموں سے پناہ کی وہ دعا لازم کرلی جو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں ذکر فرمائی ہے : (رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ، وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) [ یونس : 85، 86 ] موسیٰ ؑ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ آج اگر مصر پر فرعون حکمران ہے تو کل اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی سرزمین کا وارث، یعنی حکمران بنا سکتا ہے۔ وَالْعَاقِبَةُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 127–128

آیت نمبر : 127۔ 128 قولہ تعالیٰ : آیت : وقال الملامن قوم فرعون اتذر موسیٰ وقومہ لیفسدوا فی الارض یعنی تاکہ وہ افتراق پیدا کر کے اور معاملات کو بکھیر کر ( زمین میں فساد برپا کرتے رہیں) ۔ ویذرک اس میں رامنصوب ہے اور یہ جواب استفہام ہے اور واؤ فا کے قائم مقام ہے۔ والھتک حسن نے کہا ہے : فرعون بتوں کی عبادت کرتا تھا، پس وہ خود عبادت کرتا تھا اور اس کی عبادت کی جاتی تھی۔ سلیمان تمیی نے کہا ہے : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ فرعون گائے کی پوجا کرتا تھا۔ تیمی نے کہا ہے : میں نے حسن سے پوچھا کیا فرعون کسی شے کی عبادت کرتا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، بلاشبہ وہ ایک شے کی عبادت کرتا تھا اور وہ اسے اپنی گردن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 127–128

(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابو عبیدہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے مصاحف میں اور ابو الشیخ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی (فرعون کے سرداروں نے کہا) کہ موسیٰ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رہے اور فرمایا کہ فرعون کی عبادت کی جاتی تھی اور وہ خود کسی کی عبادت نہیں کرتا تھا۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی وہ چھوڑے رہے تیری عبادت کو۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : کہا ] [ مُوْسٰي : موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے ] [ اسْتَعِيْنُوْا : مدد مانگو ] [ بِاللّٰهِ : اللہ سے ] [ وَاصْبِرُوْا : اور ثابت قدم رہو ] [ اِنَّ : یقینا ] [ الْاَرْضَ : زمین ] [ لِلّٰهِ : اللہ کی ہے ] [ يُوْرِثُهَا : وہ وارث بناتا ہے اس کا ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ مِنْ عِبَادِهٖ : اس کے بندوں میں سے ] [ وَالْعَاقِبَةُ : اور (بھلا) انجام ] [ لِلْمُتَّقِيْنَ : تقوی کرنے والوں کے لیے ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت فرمانا اور صبر و دعاء کی تلقین کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم یعنی بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر جا کر بس گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مصریوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے اور پرائے کا معاملہ شروع کردیا، بنی اسرائیل غیر ملکی تھے ان کو فرعون کی قوم نے خوب دبا کر رکھا، ان کو خوب ستاتے تھے بیگاریں لیتے تھے اور طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھاتے تھے۔ ان کے مجبور و مقہور ہونے کا یہ عالم تھے کہ مصری لوگ ان کے بچوں کو قتل کردیتے تھے اور یہ اف نہیں کرسکتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو قوم فرعون کی دشمنی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–129

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

121: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی اور فرمایا فرعونیوں کی جانب سے اس وقت جو کچھ تمہارے ساتھ ظلم وستم ہورہا ہے اس پر صبر کرو اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے اللہ سے مدد مانگو اور یاد رکھو زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کا مالک اور حکمران بنا دیتا ہے اور آخر کار غلبہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کریں اور اللہ سے مدد چاہیں۔ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لطیف انداز میں اپنی قوم کو فرعون سے نجات پانے اور بالآخر حکومت مصر مل جانے کی خوشخبری سناد ی “ تصریح بما رمز الیه من البشارة قبل و کشف عنه وھو اھلاک فرعون واستخلافھم بعده فی ارض مصر ” (مدارک ج 3 ص 54) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 127–129

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جب جادوگروں نے اپنا کمال دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے باطل کردیا اور فرعونی ذلیل ہوگئے ادھر جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے رب پر ایمان لائے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے وہ معجزے کی حقیقت کو سمجھ کر شرک کی زندگی سے تائب ہوچکے تھے انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ایمان لانے پر تیار ہوگئے تو فرعون اور اس کے حواریوں کو فکر لاحق ہوئی کہ یہ معاملہ تو ہماری خواہش کے الٹ ہوگیا اب آج کی آیات میں فرعون اور اس کے مصاحبوں کی اگلی کارروائی کا بیان ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تسلی دینے کا ذکر ہے۔ مشیران فرعون کا مشورہ جب فرعون کے درباریوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِہِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللہِ وَاصْبِرُوْا۝ 0 ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلہِ۝ 0 ۣ ۙ يُوْرِثُہَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ۝ 0 ۭ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ۝ 128 استِعَانَةُ : طلب العَوْنِ. قال : اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] الا ستعانہ مدد طلب کرنا قرآن میں ہے : ۔ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] صبر اور نماز سے مدد لیا کرو ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 127–129

ترکیب : الملاء قال کا فاعل من قوم فرعون اس کی صفت آ ہمزہ استفہام کے لئے تذر کا فاعل انت موسیٰ وقومہ مفعول لیفسدوا تذر سے متعلق ویذرک منصوب معطوف ہے لیفسدوا پر جملہ مقولہ ہوا قال کا۔ ان الارض جملہ محل علت میں ہے استعینوا سے ویستخلفکم منصوب معطوف ہے یہلک پر۔ تفسیر : (2) یوسف (علیہ السلام) کے عہد میں حضرت یعقوب مع تمام خاندان کے کنعان سے ملک مصر میں آرہے تھے۔ یہاں ان کی نسل بڑی پھلی پھولی ہزاروں اسرائیل ہوگئے۔ اس عہد کے بادشاہ کو جو بڑا جبارو سرکش تھا ٗیہ خوف پیدا ہوا کہ مبادا یہ پردیسی لوگ ہمارے ملک میں قابض ہوجاویں اس لئے اس نے ان کو سخت کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ خصوصاً جب سے اس کو نجومیوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 127–129

وَقَا لَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَزُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰ لِھَتَکَ ط قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآئَھُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآئَھُمْ ج وَ اِنَّا فَوْقَہُمْ قٰھِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 127) ” قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو اسی طرح موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائیں اور تجھ کو اور تیری مورتوں کو ٹھکرائیں اس نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح حاوی ہیں “۔ شکست کے بعد عمائدینِ سلطنت کی بوکھلاہٹ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی کامیابی کے بعد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 127–130

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کو دھمکیاں دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو قتل کرنے کی دھمکی۔ فرعون نے اہل ایمان کو اذیتیں دینے اور تختۂ دار پر لٹکانے کی دھمکی دی تھی اس کے ہم زبان ہو کر فرعون کے وزیروں، مشیروں، درباریوں اور سرکاری اہلکاروں نے اسے مزید اشتعال دلاتے ہوئے مطالبہ کیا، کیا موسیٰ اور اس کی قوم کو ملک میں بد امنی پھیلانے اور اپنی خدائی کا انکار اور بغاوت کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے گا ؟ اس پر اس نے پورے جاہ و جلال سے اعلان کیا کہ ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے بلکہ عنقریب ہم ان کے جوانوں کو تہہ تیغ کرتے ہوئے ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنائیں گے کیونکہ ہم ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ ( علیہ السلام) کی مسلمانوں کو تلقین صبر وتقویٰ : آیت 128: قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰہِ وَ اصْبِرُوْا (موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا کرو اور صبر کرو) یہ اس وقت کہا جب فرعون کی بات سے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ سنقتل ابناء ھم یہ بطور تسلی فرمایا اور آخرت کا وعدہ ان کو یاد دلایا۔ ان الارض نمبر 1۔ ارض میں الف لام عہد کا ہے اور ارض مصر مراد ہے نمبر 2۔ الف لام جنس کا ہے اور ارض مصر پر اس کا اول اطلاق ہوتا ہے اِنَّ الْاَرْضِ لِلّٰہِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَادِہٖ (یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے جس کو چاہیں اپنے بندوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

128(قال موسیٰ لقومہ استعینوا باللہ واصبروا ان الارض للہ) یعنی ملک مصر (یورثھا من یشآء من عبادہ والعافیۃ للمتقین) مدد اور کامیابی اور بعض نے کہا نیک بختی اور شہادت اور بعض نے کہا جنت۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 128–129

(127 ۔ 129) ۔ فرعون چھ سو برس دنیا میں زندہ رہا اور چار سو برس تک بادشاہی کی اس عرصہ میں کوئی تکلیف اس کو نہیں ہوئی سر میں درد تک نہ ہوا اگر ایک روز بھی بھوکا رہتا یا کوئی تکلیف اٹھاتا تو خدائی کا دعوی بھول جاتا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے یہ حکم دیا رکھا تھا کہ جو بچہ پیدا ہو اگر لڑکا ہو تو مار ڈالا جائے اور لڑکی ہو تو چھوڑ دی جائے۔ سورة قصص میں جو ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آویگا اس کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے اور فرعون ہی کے گھر میں پرورش پاکر سیانے ہوگئے تو اس نے وہ حکم موقوف کردیا اب جو حضرت موسیٰ نے رسالت کا دعوی کیا اور جادو گروں پر غالب ہو کر خدا کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

158 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے : اس لئے موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ اللہ ہی سے مدد مانگو کہ مدد دینے والا اور ہر کسی کی اور ہر حال میں نصرت و امداد فرمانے والا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی ہے۔ اور سب اسی کے محتاج ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب پیغمبر اور حضرت موسیٰ جیسے اولو العزم اور جلیل القدر پیغمبر بھی کسی کے حاجت روا و مشکل کشا نہیں ہوسکتے، اور وہ بھی اپنی زندگی میں، تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو دوسروں کی مافوق الاسباب مدد کرے ؟ اور وہ بھی مر چکنے کے بعد ؟ سو بڑے گمراہ اور بھٹکے ہوئے ہیں راہ حق و صواب سے وہ لوگ جو اپنی حاجت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 127–129

رکوع نمبر 15 ۔ آیات 127 تا 129 ۔ اسرار و معارف : فرعون کی اس مکاری نے قوم کو گمراہ کرنے کا کام تو کسی حد تک کیا مگر باوجود سب طرح کی جہالت کے انہوں نے یہ بات پوچھ ہی لی کہ بھئی ایمان لانے ولوں کو بڑی زبردست سز املی مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) کا آپ نے کچھ نہیں بگاڑا نہ ان کی قوم کے لیے کوئی سزا تجویز کی اگر یہی حال رہا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم تو تباہی مچا دیں گے اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کردیں گے مگر فرعون حقیقت حال جان چکا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے سخت خوفزدہ تھا صرف تکبر کی وجہ سے دل انابت سے خالی تھا اور توبہ کی توفیق نصیب نہ تھی کہنے لگا بھئی ہم نے ان پر پہلے ہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 پہلے بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے اور ہم سے مشقت کے کام لیے جاتے رہے ہیں اور آج تیرے رسول ﷺ ہو کر آنے کے بعد بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 127–128

(7:127) تذر۔ تو چھوڑتا ہے۔ تو چھوڑے گا۔ وذر سے۔ اس فعل کی ماضی مستعمل نہیں۔ یذرک۔ وہ تجھے چھوڑ دیتا ہے اس میں فاعل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ادرک ضمیر مفعول فرعون کے لئے ہے۔ قاھرون۔ غالب ۔ مسلط۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 127–129

لغات القرآن آیت نمبر (127 تا 9 12 ) ۔ اتذر (کیا تو چھوڑتا ہے ؟ ) ۔ نستحی (ہم زندہ رکھیں گے) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو ) ۔ یورت (مالک بناتا ہے ) ۔ اوذینا (ہمیں تکلیف دی گئی) ۔ یستخلف (نائب بنائے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر ( 127 تا 129 ) ۔ ” اس پورے مضمون میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرعون نے جادو گر کو پھانسی پر لٹکا نے اور ہر طرح کی سزا دینے کی دھمکی دی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بظاہر اس نے کوئی دھمکی نہیں دی۔ شاید فرعون پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رعب اور ہیبت طاری ہوچکی تھی اسی وجہ سے فرعون کے درباریوں نے کہا کہ اے فرعون تو نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یوں ہی جھوڑنے کا فیصلہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 127–130

بندوں کی تکلیف اور پریشانی میں حکمت الہی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے فرعون اور اس کئ ساتھیوں کا امتحان لیا اور قحط میں ڈال دیا۔ درختوں میں پھل لگنے موقوف ہوگئے کھجور کے درختوں میں ایک ایک کھجور پھلتی تھی۔ چشمہ نیل بالکل خشک ہوگیا مینہ برسنا بند ہوگیا۔ یہ جانچ تھی کہ شاید کہ مصیبت کے وقت میں ان کے دل نرم ہوجاویں اور خدا سے رجوع ہوں اور رسول کی باتوں کو مانیں مگر کچھ کار آمد نہیں ہوا۔ اپنے کفر پر جمے رہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا جب یہ تکلیف دور ہوگئی اور آرام کی گھڑی آگئی آگئی تو کہنے ہم اسی کے مستحق تھے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات دھرتے اور کہتے کہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 125–137

[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔ [48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) موسیٰ (علیہ السلام) نے اس موقع پر قوم کو تسلی دی اور کہا اگر تم ان مصائب کو برداشت کر گئے ، تو پھر بادشاہت قریب ہے ظلم و استبداد کا اظہار حکمران طبقے کی جانب سے آخری سزا ہے حریت اور دینداری کی ، اس کے بعد طبائع سے خوف دور ہوجاتا ہے ، بےباکی آجاتی ہے ، اور اس نوع کے مظالم طبقہ قاہرہ کو نظروں سے گرا دیتا ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ، وراثت ارض دراصل نیک اور پاکباز بندوں کے لئے ہے ، گو تھوڑی مدت کے لئے یہ ظالم اور ناہجار لوگ عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

128 جب یہ خبر بنی اسرائیل کو پہنچی تو انہوں نے گھبرا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توجہ دلائی تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور اسی سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو اور صبر سے کام لو یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور حضرت حق کی ملک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے زمین کا مالک اور حاکم بنادے اور وہ جس کو چاہتا ہے ملک کا وارث بنادیتا ہے ہاں یہ بات یاد رکھو کہ انجام کار اور آخرکار انہی کا بھلا ہوتا ہے جن کا شیوہ تقویٰ اور پرہیزگاری ہے یعنی ملک کا حاکم کرے جو حق ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کا۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں آخرکار انہی کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ سو تم ایمان وتقوی پر قائم رہو انشاء اللہ یہ سلطنت تم ہی کو مل جائے گی تھوڑے دنوں انتظار کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام اپنی قوم بنی اسرائیل کے نام : 139: موسیٰ (علیہ السلام) کو جب اس خونی منصوبہ کا علم ہوا تو آپ نے اپنی قوم کو صبرواستقامت کی تلقین فرمائی اور انہیں بتایا کہ زمین کا حقیقی مالک وہی مالک الملک ہے اور یہ اس کے اختیار میں ہے کہ جس قوم کو چاہے اپنی قانون کے مطابق اس زمین کا مالک بنا دے اگر عارضی طور پر مصر کی حکومت فرعون کو ملی ہے تو اس میں بھی یقیناً کوئی حکمت ضرور ہے اور اس قوم بنی اسرائیل کی کوتاہیاں یقیناً شامل ہیں ان کوتاہیوں کا دفاع ضروری ہے اور آخر کار کامیابی کا سہرا انہی لوگوں کے سر ہوگا جو اپنی کوتاہیوں کو دور کرکے متقی وپرہیزگار ہوں گے ۔ غور کرو کہ یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After being defeated by the prophet Musa (علیہ السلام) ، Pharaoh enforced the law of killing the male children of the Israelites. They were greatly alarmed of the punishment they had experienced before the coming of the prophet Musa (علیہ السلام) . The prophet Musa (علیہ السلام) was also mindful of this fact. Out of his kindness, he offered two wise solutions to the Israelites. He said to them that only way of getting out of this trial was, firstly, to seek help from Allah and, secondly, to remain patient until the things change into their favour. He also promised them that they shall inherit…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–132

94. Pharaoh's courtiers obstinately persisted in branding Moses' signs as sorcery although they knew well that sorcery had nothing in common with the miraculous signs granted to Moses. Even a fool would not he ready to believe that the country-wide famine and the consistent decrease in agricultural output could have been caused by magic. It is for this reason that the Qur'an says: But when Our signs, which should have opened their eyes, came to them they said: 'This is clear sorcery! And they rejected those signs out of iniquity and arrogance even though they were inwardly convinced of it'…

Read the full tafseer →