Explained with ayahs 127–129
آخری حربہ بغاوت کا الزام
فرعون اور فرعونیت نے حضرت موسیٰ اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے کہنے لگے یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں بغاوت پھیلا دیں گے ملک میں بد امنی پیدا کریں گے ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہئے، اللہ کی شان دیکھئے کیا مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ آیت (ویذرک) میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کی قرأت…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 93
واضح رہے کہ ایک دور ستم وہ تھا جو حضرت موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے رعمسیس ثانی کے زمانہ میں جاری ہوا تھا، اور دوسرا دور ستم یہ ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کی بعثت کے بعد شروع ہوا۔ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرایا گیا اور ان کی بیٹیوں کو جیتا چھوڑ دیا گیا تاکہ بتدریج ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے اور یہ قوم دوسری قوموں میں گم ہو کر رہ جائے۔ غالباً اسی دور کا ہے وہ کتبہ جو سن 1896 ء میں قدیم مصری آثار کی کھدائی کے دوران میں ملا تھا اور جس میں یہی فرعون منفتاح اپنے کارناموں اور فتوحات کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ ”اور اسرائیل کو مٹا دیا گا، اس کا بیج تک باقی…
Read the full tafseer →فرعون پر حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی ہیبت کا اثر
فرعون کی چالاکی اور سیاسی جھوٹ نے اس کی جاہل قوم کو اس کے ساتھ قدیم گمراہی میں مبتلا رہنے کا کچھ سامان تو کردیا، مگر یہ اعجوبہ ان کے لئے بھی ناقابل فہم تھا کہ فرعون کے غصہ کا سارا زور جادوگروں پر ختم ہوگیا۔ موسیٰ ؑ جو اصل مخالف تھے ان کے بارے میں فرعون کی زبان سے کچھ نہ نکلا، اس پر ان کو کہنا پڑا۔ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ، یعنی کیا آپ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دیں گے کہ وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ کر ہمارے ملک میں فساد کرتے پھریں۔ اس پر مجور ہو کر فرعون نے کہا،…
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭقَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ۔
فرعون کے درباریوں کی بوکھلاہت : اس کھلے مقابلہ میں حضرت موسیٰ کی کامیابی نے فرعون اور اس کے درباریوں کو بالکل بوکھلا دیا۔ درباریوں نے فرعون سے باصرار یہ کہنا شروع کردیا کہ اب موسیٰ اور ان کی قوم کو مزید ڈھیل دینے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ اگر ان کو مزید موقع دیا گیا تو یہ آپ کو اور آپ کے بتوں کو چھور بیٹھیں گے اور ملک میں بغاوت کرا دیں گے۔ فرعون نے ان کو اطمینان دلایا کہ گھبرانے…
Read the full tafseer →127۔ 1 یہ ہر دور کے مفسدین کا شیوا رہا ہے کہ وہ اللہ والوں کو فسادی اور ان کی دعوت ایمان و توحید کو فساد سے تعبیر کرتے ہیں فرعون نے بھی یہی کہا۔
127۔ 2 فرعون کو بھی اگرچہ دعویٰ ربوبیت تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79۔ الزاریات :24) میں تمہارا بڑا رب ہوں وہ کہا کرتا تھا لیکن دوسرے چھوٹے چھوٹے معبود بھی تھے جن کے ذریعے سے لوگ فرعون کا تقرب حاصل کرتے تھے۔
127۔ 3 ہمارے اس انتظام میں یہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتے قتل انبیاء کا یہ پروگرام فرعونیوں کے کہنے پر بنایا گیا اس سے قبل بھی جب موسیٰ ؑ کی ولادت نہیں ہوئی تھی موسیٰ ؑ کے بعد از ولادت خاتمے کے لئے اس نے بنی اسرائیل کے نوملود بچوں کو قتل کرنا شروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
56: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکیاں تو دی تھیں ؛ لیکن حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے اور جادوگروں کے ایمان اور استقامت کو دیکھ کر حاضرین اور خاص طور پر بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ایمان لے آئی کہ اس کو فوری طور سے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا، اور جب مجمع درہم برہم ہوگیا تو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والے اپنے گھروں کو چلے گئے، اس موقع پر فرعون کے سرداروں نے یہ بات کہی جو یہاں مذکور ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے، رفتہ رفتہ یہ اپنی طاقت جمع کرکے آپ کے لئے ایک خطرہ بن جائیں گے، فرعون نے اپنی خفت…
Read the full tafseer →اب اس قصے کا مزید مطالعہ کیجئے۔ پردہ اٹھتا ہے اور ایک جدید اور دوسرا خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس میں کفر کی پارلیمنٹ نظر آتی ہے۔ مشورہ اور نجوہ ہوتا ہے اور کسی سخت اقدام کے لیے ایک دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے۔ پہلے اور کھلے میدان کے معرکے میں کھلی کھلی شکست میں خفت اٹھائے ہوئے اعیان دولت بپھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صورت حالات ناقابل برداشت ہے کہ موسیٰ اور ہارون اس طرح کامیاب و کامران ہوجاء یں۔ اور یہ ایمان لانے والے لوگ بھی مزے مزے سے ان کے ہمرکاب ہوں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں چند کمزور لوگ شامل تھے اور وہ فرعون سے ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں فرعون ان…
Read the full tafseer →4 جب حق کے نشان دیکھ کر ساحرین سجدہ میں گرپڑے اور بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دینا شروع کردیا بلکہ بعض قبطیوں کا میلان بھی ان کی طرف ہونے لگا تو فرعونی لیڈر گھبرائے اور فرعون کو یہ کہہ کر تشدّد پر آمادہ کرنے لگے کہ موسیٰ اور اس کی قوم بنی اسرائیل کو یہ موقع نہ دینا چاہیے کہ وہ آزاد رہ کر ملک میں اودھم مچاتے پھریں اور عام لوگوں کو اپنی طرف مائل کر کے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیں اور آئندہ تیری اور تیرے تجویز کئے ہوئے معبودوں کی پرستش ملک سے موقوف کرا دیں۔
5 فرعون اپنے کو " رب اعلیٰ " بڑا پروردگار کہتا تھا۔ غالبًا اسی " اعلیٰ " کو نباہنے کے لیے کچھ ادنیٰ پروردگار بھی تجویز…
Read the full tafseer →آیت 127 وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِہَتَکَ ط
جس نئے نظریے کا پرچار وہ کر رہے ہیں اگر وہ لوگوں میں مقبول ہوتا گیا اور اس نظریے پر لوگ اکٹھے اور منظم ہوگئے تو ہمارے خلاف بغاوت پھوٹ پڑے گی۔ اس طرح ملک میں فساد پھیلنے کا سخت اندیشہ ہے۔
یہاں پہ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قوم فرعون کے معبود بھی تھے۔ ان کا سب سے بڑا الٰہ تو سورج تھا۔ لہٰذا معاملہ یہ نہیں تھا کہ وہ خدا صرف فرعون کو مانتے تھے۔ فرعون کی خدائی سیاسی تھی ‘ اس کا دعویٰ تھا کہ حکومت میری ہے ‘ اقتدارو اختیار sovereignty کا مالک میں ہوں۔ نمرود کی خدائی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
124 لوگوں کا ایمان لانا اور فرعونیوں کو بغاوت کا خطرہ :۔ فرعون کی اس تدبیر کا بھی الٹا ہی اثر پڑا اور بہت سے اسرائیلی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے حتیٰ کہ چند قبطی (فرعونی) بھی آپ پر ایمان لے آئے تو فرعونیوں کے لیے ایک تشویشناک صورت حال پیدا ہوگئی۔ وہ فرعون سے کہنے لگے اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہیں یہ سب مل کر ملک میں بغاوت نہ کھڑی کردیں۔ اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ نہ دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے اور بھی کئی دیوتا تھے جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ ایک تو فرعون نے ہر جگہ عبادت کے لیے اپنے مجسمے تیار کرا کے نصب کرا رکھے تھے۔ دوسرے قرآن سے اتنا تو معلوم ہوتا…
Read the full tafseer →162 ۔ یعنی آپ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی آزادی برابر دیئے رہیں گے کہ وہ خوب آپ کی، آپ کے دین کی، آپ کے دیوتاؤں کی جتنی چاہیں توہین کریں اور موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم اسرائیل سلطنت میں انقلاب وبغاوت پھیلاتے رہیں ؟ (آیت) ” یذرک۔ لیفسدوا “۔ میں ابھی ابھی ضمیر جمع غائب کی گزر چکی ہے اب ضمیر واحد غائب کی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ گویا ملکی انقلاب میں تو ساری قوم اسرائیل شریک اور مجرم ہے باقی مذہبی بغاوت کے کرتادھرتا موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (آیت) ” الھتک “۔ فرعون خود تو سورج دیوتا کا اوتار تھا ہی۔ اور اس کے علاوہ بھی مصر کے دین شرک میں بہت سے دیوی دیوتا موجود تھے۔
163 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
آیت نمبر 127 تا 129
ترجمہ : فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑے رکھے گا کہ تیری مخالفت کی دعوت دے کر ملک میں فساد پھیلائیں، اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ان کے لئے چھوٹے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے، اور فرعون اس بات کا مدعی تھا کہ میں تمہارا بھی رب ہوں اور ان بتوں کا بھی، اور اسی وجہ سے اس نے کہا میں تمہارا بڑا رب ہوں، فرعون نے کہا میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا (سَنُقَتّلُ ) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھوں گا، جیسا کہ ہم ان کے ساتھ ایساپہلے بھی کرچکے ہیں اور یقیناً ہم ان کے اوپر قدرت رکھتے ہیں،…
Read the full tafseer →وقال الملا من قوم فرعون اتذر موسیٰ وقومہ لیفسدوا فی الارض ویذرک والہتک قال سنتقل ابنآء ہم ونستحی نسآۂم وانا فوقہم قہرون۔ قوم فرعون کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا کیا آپ موسیٰ ( علیہ السلام) کو اور اس کی قوم کو (یونہی آزاد) چھوڑے رکھیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے رہیں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے بیزار رہیں۔ فرعون نے کہا آئندہ ہم ان کے (نوزائیدہ) لڑکوں کو قتل کرا دیں گے اور ان کی (نوزائیدہ) لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دیں گے ہم ان پر پورا قابو رکھتے ہیں۔ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْض یعنی تیرے خلاف لوگوں کو آمادہ کرتے اور بگاڑتے رہیں۔ والہتک یعنی تیری دیویوں کو مقصد یہ کہ نہ تیری پوجا کریں نہ تیری دیویوں…
Read the full tafseer →(127) سردار کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو قتل نہیں کرتے کہ وہ آپ کے دین اور پرستش میں تغیر کررہے ہیں اور تمہیں اور تمہارے معبودوں کی عبادت یا تمہاری پرستش کو چھوڑ رکھا ہے۔
فرعون کہنے لگا جیسا کہ میں پہلے نومولود بچوں کو قتل کرتا تھا، اسی طرح قتل کردوں گا اور بڑی لڑکیوں سے ہم خدمت لیں گے، ان پر ہمیں پورا اختیار حاصل ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ۔۔ : موسیٰ ؑ کے معجزات کے غلبے اور جادوگروں کے ایمان لانے پر اگرچہ چند ہی نوجوانوں نے ایمان لانے کی جرأت کی اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے۔ (دیکھیے یونس : 83) تاہم فرعون کی بنی اسرائیل کے خلاف کاروائیاں کچھ کم ہوگئیں تو اس کے سرداروں نے اسے یہ کہہ کر بھڑکایا کہ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کریں، یعنی وہ تمہاری رعیت کو دعوت دیتے پھریں کہ وہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے بجائے اللہ واحد کی عبادت کریں اور ملک میں دعوت توحید سے فساد پھیلاتے پھریں۔ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : ”تعجب ہے کہ یہ لوگ موسیٰ ؑ اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
آیت نمبر : 127۔ 128
قولہ تعالیٰ : آیت : وقال الملامن قوم فرعون اتذر موسیٰ وقومہ لیفسدوا فی الارض یعنی تاکہ وہ افتراق پیدا کر کے اور معاملات کو بکھیر کر ( زمین میں فساد برپا کرتے رہیں) ۔ ویذرک اس میں رامنصوب ہے اور یہ جواب استفہام ہے اور واؤ فا کے قائم مقام ہے۔ والھتک حسن نے کہا ہے : فرعون بتوں کی عبادت کرتا تھا، پس وہ خود عبادت کرتا تھا اور اس کی عبادت کی جاتی تھی۔
سلیمان تمیی نے کہا ہے : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ فرعون گائے کی پوجا کرتا تھا۔ تیمی نے کہا ہے : میں نے حسن سے پوچھا کیا فرعون کسی شے کی عبادت کرتا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، بلاشبہ وہ ایک شے کی عبادت کرتا تھا اور وہ اسے اپنی گردن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابو عبیدہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے مصاحف میں اور ابو الشیخ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی (فرعون کے سرداروں نے کہا) کہ موسیٰ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رہے اور فرمایا کہ فرعون کی عبادت کی جاتی تھی اور وہ خود کسی کی عبادت نہیں کرتا تھا۔
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی وہ چھوڑے رہے تیری عبادت کو۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویذرک والھتک “ یعنی موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →[ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ : فرعون کی قوم میں سے ] [ اَ : کیا ] [ تَذَرُ : تو نے چھوڑرکھا ہے [ مُوْسٰي : موسیٰ کو ] [ وَقَوْمَهٗ : اور اس کی قوم کو ] [ لِيُفْسِدُوْا : کہ وہ لوگ نظم بگاڑیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ وَيَذَرَكَ : اور (تاکہ ) وہ چھوڑ دے تجھ کو ] [ وَاٰلِهَتَكَ : اور تیرے معبودوں کو ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ سَنُقَتِّلُ : ہم قتل کرتے رہیں گے ] [ اَبْنَاۗءَهُمْ : ان کے بیٹوں کو ] [ وَنَسْتَحْيٖ : اور زندہ رکھیں گے ] [ نِسَاۗءَهُمْ : ان کی عورتوں کو ] [ وَاِنَّا : اور یقینا ہم ] [ فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر ] [ قٰهِرُوْنَ : پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–127
قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون کو بھڑکایا کہ تو موسیٰ اور ان کی قوم کو کب تک یوں ہی چھوڑے رہے گا
فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دی تھی اس کا علم تو درباریوں کو ہو ہی گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بطور خوشامد اور چاپلوسی کے فرعون کو ابھارا اور اس سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو (جو اس کے ماننے والے ہیں خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ جادو گر ہوں خواہ وہ لوگ ہوں جو قوم فرعون میں سے مسلمان ہوگئے تھے) اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے رہیں اور تجھ سے اور تیرے تجویز کیے ہوئے معبودوں سے علیحدہ رہیں ؟ مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ اس کا کچھ انتظام کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے ساتھی بڑھتے رہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین
(ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔
اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →119:“ وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ الخ ” جب فرعون کے درباری امراء نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو فرعون سے کہنے لگے کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو آزاد چھوڑے رکھیں گے کہ وہ زمین میں فساد کرتے پھریں حالانکہ وہ آپ کو اور آپ کی مورتیوں کو بھی نہیں پوجتے۔ فرعون نے اپنے بت بنوا کر اپنی رعیت کو دے دئیے تھے تاکہ وہ ان کی پوجا کیا کریں یہاں “ اٰلِھَتَکَ ” سے یہی بت مراد ہیں (شاہ عبدالقادر) ۔
120: فرعون نے جواب دیا کہ اب میں اپنے پرانے دستور کے مطابق بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑنا از سر نو شروع کردوں گا تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جب جادوگروں نے اپنا کمال دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے باطل کردیا اور فرعونی ذلیل ہوگئے ادھر جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے رب پر ایمان لائے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے وہ معجزے کی حقیقت کو سمجھ کر شرک کی زندگی سے تائب ہوچکے تھے انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ایمان لانے پر تیار ہوگئے تو فرعون اور اس کے حواریوں کو فکر لاحق ہوئی کہ یہ معاملہ تو ہماری خواہش کے الٹ ہوگیا اب آج کی آیات میں فرعون اور اس کے مصاحبوں کی اگلی کارروائی کا بیان ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تسلی دینے کا ذکر ہے۔
مشیران فرعون کا مشورہ
جب فرعون کے درباریوں…
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَہٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِہَتَكَ 0 ۭ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَہُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَہُمْ 0 ۚ وَاِنَّا فَوْقَہُمْ قٰہِرُوْنَ 127
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ترکیب : الملاء قال کا فاعل من قوم فرعون اس کی صفت آ ہمزہ استفہام کے لئے تذر کا فاعل انت موسیٰ وقومہ مفعول لیفسدوا تذر سے متعلق ویذرک منصوب معطوف ہے لیفسدوا پر جملہ مقولہ ہوا قال کا۔ ان الارض جملہ محل علت میں ہے استعینوا سے ویستخلفکم منصوب معطوف ہے یہلک پر۔
تفسیر : (2) یوسف (علیہ السلام) کے عہد میں حضرت یعقوب مع تمام خاندان کے کنعان سے ملک مصر میں آرہے تھے۔ یہاں ان کی نسل بڑی پھلی پھولی ہزاروں اسرائیل ہوگئے۔ اس عہد کے بادشاہ کو جو بڑا جبارو سرکش تھا ٗیہ خوف پیدا ہوا کہ مبادا یہ پردیسی لوگ ہمارے ملک میں قابض ہوجاویں اس لئے اس نے ان کو سخت کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ خصوصاً جب سے اس کو نجومیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
وَقَا لَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَزُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰ لِھَتَکَ ط قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآئَھُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآئَھُمْ ج وَ اِنَّا فَوْقَہُمْ قٰھِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 127)
” قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو اسی طرح موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائیں اور تجھ کو اور تیری مورتوں کو ٹھکرائیں اس نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح حاوی ہیں “۔
شکست کے بعد عمائدینِ سلطنت کی بوکھلاہٹ
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی کامیابی کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–130
فہم القرآن
ربط کلام : اہل ایمان کو دھمکیاں دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو قتل کرنے کی دھمکی۔
فرعون نے اہل ایمان کو اذیتیں دینے اور تختۂ دار پر لٹکانے کی دھمکی دی تھی اس کے ہم زبان ہو کر فرعون کے وزیروں، مشیروں، درباریوں اور سرکاری اہلکاروں نے اسے مزید اشتعال دلاتے ہوئے مطالبہ کیا، کیا موسیٰ اور اس کی قوم کو ملک میں بد امنی پھیلانے اور اپنی خدائی کا انکار اور بغاوت کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے گا ؟ اس پر اس نے پورے جاہ و جلال سے اعلان کیا کہ ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے بلکہ عنقریب ہم ان کے جوانوں کو تہہ تیغ کرتے ہوئے ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنائیں گے کیونکہ ہم ہر…
Read the full tafseer →فرعونی سرداروں کا خطرناک مشورہ :
آیت 127: وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ (قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ کو اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں) مصر کی سر زمین میں غلبہ پاکر۔ اور وہاں کے لوگوں کا دین بدل کر۔ کیونکہ جادوگروں کے ایمان لانے پر چھ لاکھ لوگوں نے موافقت کی تھی۔ وَ یَذَرَکَ وَ ٰالِھَتَکَ (اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کیے رہیں)
نحو : لیفسدوا۔ پر اس کا عطف ہے کہا جاتا ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے اپنے بت بنوائے اور قوم کو حکم دیا کہ وہ اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے ان…
Read the full tafseer →127(وقال الملا من قوم فرعون) فرعون کو کہنے لگے (اتدر موسیٰ وقومہ لیفسدوا فی الارض) یہاں فساد سے ان کی مراد لوگوں کو فرعون کی عبادت سے ہٹانے کی دعوت دینا ہے (ویذرک والھتک) نہ وہ تیری عبادت کریں گے اور نہ تیرے بتوں کی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ فرعون اپنی ایک گائے کی عبادت کرتا تھا اور جہاں کہیں کوئی خوبصورت گائے دیکھتا تو اس کی عبادت کا لوگوں کو حکم دیتا۔ اس لئے سامری نے ان کے لئے بچھڑا بنادیا تھا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ گردن پر صلیب لٹکائی ہوئی تھی اس کی عبادت کرتا تھا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بت بنائے تھے ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور قوم کو کہتا تھا یہ تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →157{ وَیَذَرَکَ وَاٰلِہَتَکَ } کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی کھلا چھوڑ دیں گے کہ یہ لوگ چھوڑ دیں آپ کو اور آپ کے ان بتوں کو جن کی جناب پوجا کرتے ہیں یا جو جناب کے نام سے لوگوں نے بنا رکھے ہیں۔ دونوں مطلب یہاں بن سکتے ہیں۔ اور مفسرین کرام میں سے بعض نے پہلے کو اختیار کیا ہے اور بعض نے دوسرے کو۔ سو فرعون کا بتوں کے پوجنے کے باوجود اپنے بارے میں یہ کہنا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں اس اعتبار سے تھا کہ میں اوتار بادشاہ (God King) ہوں۔ میرا حکم سب پر چلے گا اور میرے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکے گا کہ اس ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 127 تا 129 ۔
اسرار و معارف :
فرعون کی اس مکاری نے قوم کو گمراہ کرنے کا کام تو کسی حد تک کیا مگر باوجود سب طرح کی جہالت کے انہوں نے یہ بات پوچھ ہی لی کہ بھئی ایمان لانے ولوں کو بڑی زبردست سز املی مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) کا آپ نے کچھ نہیں بگاڑا نہ ان کی قوم کے لیے کوئی سزا تجویز کی اگر یہی حال رہا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم تو تباہی مچا دیں گے اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کردیں گے مگر فرعون حقیقت حال جان چکا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے سخت خوفزدہ تھا صرف تکبر کی وجہ سے دل انابت سے خالی تھا اور توبہ کی توفیق نصیب نہ تھی کہنے لگا بھئی ہم نے ان پر پہلے ہی…
Read the full tafseer →ف 2 کہ و لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دے کر ملک کے امن وامان کو غارت کرتے رہیں ؟
3 حضرت عبداللہ بن عمر الا ھتک قرات کرتے ہیں یعنی تیری عبادت مگر جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ فرعون نے کچھ چھو ٹے چھوٹے بن بنواکر لوگوں کو دئیے تھے کہ میرا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کی پو جا کریں اس لیے وہ لوگوں سے کہا کرتا اناربکم الاعلی ورب ھذہ الا صنام یعنی تمہارا بڑا رب ہوں اور ان بتوں کا بھی رب ہوں امام رازی فرماتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ فرعون دہریہ تھا اور صانع کا منکر وہ کہا کرتا کہ اس عالم کی تد بیر کواکب کرتے ہیں مگر اس عالم کی مربی میں ہوں ۔ اس لیے تمہیں چاہیے کہ میری عبادت کرو۔ ( دیکھئے سورة القصص آیت) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
(7:127) تذر۔ تو چھوڑتا ہے۔ تو چھوڑے گا۔ وذر سے۔ اس فعل کی ماضی مستعمل نہیں۔
یذرک۔ وہ تجھے چھوڑ دیتا ہے اس میں فاعل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ادرک ضمیر مفعول فرعون کے لئے ہے۔
قاھرون۔ غالب ۔ مسلط۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
لغات القرآن آیت نمبر (127 تا 9 12 ) ۔
اتذر (کیا تو چھوڑتا ہے ؟ ) ۔ نستحی (ہم زندہ رکھیں گے) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو ) ۔ یورت (مالک بناتا ہے ) ۔ اوذینا (ہمیں تکلیف دی گئی) ۔ یستخلف (نائب بنائے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 127 تا 129 ) ۔ ” اس پورے مضمون میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرعون نے جادو گر کو پھانسی پر لٹکا نے اور ہر طرح کی سزا دینے کی دھمکی دی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بظاہر اس نے کوئی دھمکی نہیں دی۔ شاید فرعون پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رعب اور ہیبت طاری ہوچکی تھی اسی وجہ سے فرعون کے درباریوں نے کہا کہ اے فرعون تو نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یوں ہی جھوڑنے کا فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–130
بندوں کی تکلیف اور پریشانی میں حکمت الہی
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے فرعون اور اس کئ ساتھیوں کا امتحان لیا اور قحط میں ڈال دیا۔ درختوں میں پھل لگنے موقوف ہوگئے کھجور کے درختوں میں ایک ایک کھجور پھلتی تھی۔ چشمہ نیل بالکل خشک ہوگیا مینہ برسنا بند ہوگیا۔ یہ جانچ تھی کہ شاید کہ مصیبت کے وقت میں ان کے دل نرم ہوجاویں اور خدا سے رجوع ہوں اور رسول کی باتوں کو مانیں مگر کچھ کار آمد نہیں ہوا۔ اپنے کفر پر جمے رہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا جب یہ تکلیف دور ہوگئی اور آرام کی گھڑی آگئی آگئی تو کہنے ہم اسی کے مستحق تھے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات دھرتے اور کہتے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–137
[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔
[48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) یہ قاعدہ ہے جب کسی قوم میں بیداری پیدا ہو ، تو حکمران طبقہ اسے بہر نوع دبا دینا چاہتا ہے ، اور اس سلسلے میں بڑے سے بڑا ظلم میں روا رکھا جاتا ہے ، فرعون نے جب یہ دیکھا کہ بنی اسرائیل میں کچھ خود دارو متاع ایمان کو عزیز رکھنے والے لوگ پیدا ہوگئے ہیں ، تو کہا میں المناک سزائیں دوں گا اور قہر و تسلط کا پورا پورا مظاہرہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →127 اورفرعون کی قوم کے امراء اور سرداروں نے فرعون سے کہا کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس قوم کو یوں ہی چھوڑے رکھیں گے اور ان کی مفسدانہ حرکات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلاتے رہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) آپ کو اور آپ کے تجویز کردہ معبودوں کو نظرانداز کرتا رہے اور ان معبودوں کی توہین ہوتی رہے فرعون نے کہا۔ ہم عنقریب ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔ بلاشبہ ہم ان پر پوری طرح زور اور غلبہ رکھتے ہیں یعنی فرعون کے بت یہ تھے کہ اپنی صورت بنادیتا تھا لوگوں کو کہ اس کو پوجا کریں اور بیٹے مارنے اور بیٹیاں چھوڑنی پہلے بھی کرتا تھا درمیان میں…
Read the full tafseer →ف 6۔ فساد یہ کہ اپنا مجمع بڑھا دیں جس کے اخیر میں اندیشہ بغاوت ہے۔
7۔ یعنی ان کے معبود ہونے کے منکر رہیں۔
Read the full tafseer →فرعون کے درباریوں کا فرعون سے ایک مطالبہ اور اس کا جواب :
138: فرعون کی ذہانت و ہوشیاری اور چالاکی بلکہ یوں کہیے کہ اس کے سیاسی جھوٹ نے اس کی جاہل قوم کو اس کے ساتھ قدیم گمراہی میں مبتلا رہنے کا کچھ سامان تو کردیا اور وہ اس کے منصوبوں پر تالیاں بجاتے رہے اور اس کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے لیکن یہ بات اب بھی ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ فرعون کے غصے کا سارا زور جادوگروں ہی پر ختم ہو کر رہ گیا اور موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) جو اصل مخالف تھے ان کے بارے میں فرعون کی زبان سے ایک حرف بھی نہ نکلا اس لئے وہ خود بول اٹھے کہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ وہ ملک میں بد امنی پھلا تے…
Read the full tafseer →Pharaoh was frightened
It is to be noted that the Pharaoh was in some degree successful in keeping his ignorant people in their former ignorance through his clever and false statements, but at the same time, they strangely noted that all the fury and rage of Pharaoh was limited to the sorcerers only. He did not dare say a word against the prophets Musa (علیہ السلام) and Harun who were his real opponents. This is obvious from the following statement of his people: أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ"Do you leave Musa (علیہ السلام) and his people…
Read the full tafseer →93. There were two periods of persecution. The first was during the reign of Rameses 11 and took place before Moses' birth, whereas the second period of persecution started after Moses' assumption to the office of prophethood. Common to both periods is the killing of the male issue of Israelites while the female was spared. It was a calculated design to rob the Israelites of their identity and to bring about their forcible assimilation. An inscription discovered during the archaeological excavations of 1896 probably belongs to this period. According to this inscription, Pharaoh Minpetah…
Read the full tafseer →