Explained with ayahs 127–129
آخری حربہ بغاوت کا الزام
فرعون اور فرعونیت نے حضرت موسیٰ اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے کہنے لگے یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں بغاوت پھیلا دیں گے ملک میں بد امنی پیدا کریں گے ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہئے، اللہ کی شان دیکھئے کیا مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ آیت (ویذرک) میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کی قرأت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
سورة الْاَعْرَاف 94
یہ انتہائی ہٹ دھرمی و سخن پروری تھی کہ فرعون کے اہل دربار اس چیز کو بھی جادو قرار دے رہے تھے جس کے متعلق وہ خود بھی بالیقین جانتے تھے کہ وہ جادو کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ شاید کوئی بیوقوف آدمی بھی یہ باور نہ کرے گا کہ ایک پورے ملک میں قحط پڑجانا اور زمین کی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہونا کسی جادو کا کرشمہ ہوسکتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید کہتا ہے کہ فَلَمَّا جَآءَ تْھُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَا لُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِینٌ وَّجَحَدُوا بِھَا واستَیْقَنَتھَٓا اَنفُسُھُمْ ظُلْمًاوَّ عُلُوًّا (النمل۔ آیات 13۔ 14) یعنی ”جب ہماری نشانیاں علانیہ ان کی نگاہوں کے سامنے آئیں تو انہوں…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ ؑ کی اس حکیمانہ نصیحت اور اس پر مرتب ہونے والی فتح ونصرت کا اجمالی وعدہ کجروی کی خوگر بنی اسرائیل کی سمجھ میں کیا آتا، یہ سب کچھ سن کر بول اٹھے اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا، یعنی آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذائیں دی گئیں اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کے آنے سے پہلے تو اس امید پر وقت گزارا جاسکتا تھا کہ کوئی پیغمبر ہماری گلو خلاصی کے لئے آئے گا، اب آپ کے آنے کے بعد بھی یہی ایزاؤں کا سلسلہ رہا تو ہم کیا کریں گے۔ اس لئے پھر حضرت موسیٰ ؑ نے حقیقت امر کو واضح کرنے کے لئے فرمایا، عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا، بنی اسرائیل پر ان کی بےیقینی اور ضعیف الاعتقادی کے سبب سے حضرت موسیٰ کی یہ تلقین بےاثر ہی رہی۔ وہ بولے کہ ہمارے دن تو سخت سے سخت ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم ساتئے گئے اور اب تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ حالات و واقعات یہ ہیں جو پیش آئے یا پیش آ رہے ہیں تو تمہارے ان وعدوں اور تمہاری ان طفل تسلیوں پر کون جی سکتا ہے تم تو رحمت کے بجائے ہمارے لیے زحمت ہی زحمت بنتے جا رہے ہو ! اوپر تورات کے حوالے سے ہم بیان کر آئے کہ مصر پر قابض ارسٹوکریسی بنی اسرائیل کی روز افزوں تعداد سے بہت گھبرائی ہوئی تھی اور اس کی روک…
Read the full tafseer →129۔ 1 یہ اشارہ ہے ان مظالم کی طرف جو ولادت موسیٰ ؑ سے قبل ان پر ہوتے رہے۔
129۔ 2 جادوگروں کے واقعہ کے بعد ظلم و ستم کا یہ نیا دور جو موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد شروع ہوا۔
129۔ 3 حضرت موسیٰ ؑ نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، زمین میں تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا پھر تمہاری آزمائش کا نیا دور شروع ہوگا۔ ابھی تو تکلیفوں کے ذریعے سے آزمائے جا رہے ہو، پھر انعام و اکرام کی بارش کرکے اور اختیار اور اقتدار سے بہرہ مند کرکے تمہیں آزمایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
56: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکیاں تو دی تھیں ؛ لیکن حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے اور جادوگروں کے ایمان اور استقامت کو دیکھ کر حاضرین اور خاص طور پر بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ایمان لے آئی کہ اس کو فوری طور سے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا، اور جب مجمع درہم برہم ہوگیا تو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ماننے والے اپنے گھروں کو چلے گئے، اس موقع پر فرعون کے سرداروں نے یہ بات کہی جو یہاں مذکور ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے، رفتہ رفتہ یہ اپنی طاقت جمع کرکے آپ کے لئے ایک خطرہ بن جائیں گے، فرعون نے اپنی خفت…
Read the full tafseer →(قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا) اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں "
ان الفاظ کے پیچھے ایک خاص ذہنیت ہے ، ان کے اندر قطعیت کے ساتھ ان کی مایوسی کا اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم پر مظالم ہوتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی جاری ہیں۔ ان کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آرہا ہے۔ یہ ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔
لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور…
Read the full tafseer →8 یعنی ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے۔ تمہاری تشریف آوری سے قبل ہم سے ذلیل بیگار لی جاتی تھی۔ اور ہمارے لڑکے قتل کیے جاتے تھے۔ تمہارے آنے کے بعد طرح طرح کی سختیاں کی جا رہی ہیں اور قتل ابناء کے مشورے ہو رہے ہیں۔ دیکھئے کب ہماری مصیبتوں کا خاتمہ ہو۔
9 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلی دی کہ زیادہ مت گھبراؤ۔ خدا کی مدد قریب آگئی ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ تمہارا دشمن ہلاک کردیا جائے گا اور تم کو ان کے اموال کا مالک بنادیا جائے گا تاکہ جس طرح آج سختی و غلامی میں تمہارا امتحان ہو رہا ہے، اس وقت خوشحالی اور آزادی دے کر آزمایا جائے کہ کہاں تک اس کی نعمتوں کی قدر اور احسانات کی شکر گزاری کرتے ہو۔ حضرت شاہ…
Read the full tafseer →آیت 129 قَالُوْٓا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَمِنْم بَعْدِ مَا جِءْتَنَا ط۔
ان الفاظ سے اس مظلوم قوم کی بےبسی اور بےچارگی ٹپک رہی ہے ‘ کہ پہلے بھی ہمارا یہی حال تھا کہ ہم بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے ‘ اور اب آپ علیہ السلام کے آنے کے بعد بھی ہمارے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔
قَالَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّہْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ
یہ آیت مسلمانان پاکستان کے لیے بھی خاص طور پر لمحۂ فکریہ ہے۔ برعظیم پاک و ہند کے مسلمان بھی غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ متحدہ ہندوستان اگر ایک وحدت کی حیثیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
126 بنی اسرائیل پر مصائب صبر کی تلقین اور وعدہ فتح ونصرت :۔ جب بنی اسرائیل کو دوبارہ ایسی سخت آزمائش میں ڈال دیا گیا وہ سخت پریشان ہوگئے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کے طور پر کہنے لگے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم پر یہی ظلم و ستم ہوتا رہا اور اب تم پر ایمان لانے کی بعد بھی ہم دوبارہ وہی ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کا ظلم توڑ کے رکھ دیتا ہے بس تم اللہ سے مدد مانگتے رہو عنقریب وہ تمہارے اس دشمن کو ہلاک کر کے تمہیں اس سرزمین میں حکومت عطا کرے گا پھر تمہاری ایک دوسرے انداز سے آزمائش ہوگی آج تمہاری آزمائش…
Read the full tafseer →165 ۔ بنی اسرائیل کے اس شکوہ سے متعلق ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” قالوا “۔ کے فاعل یعنی یہ کہنے والے بنی اسرائیل ہی تھے۔
166 ۔ (اور اپنے فرائض خلافت ارض کہاں تک انجام دیتے ہو) سو دیکھنے اور فکر رکھنے کی اصل چیز انسان کے اپنے اعمال ہیں نہ کہ انسان کا موقف تکوینی (آیت) ” فی الارض “۔ ارض کا لفظ عام ہے۔ مخصوص ارض مصر ہی مراد نہیں شام فلسطین کہیں بھی بنی اسرائیل کا آزاد وخود مختار حاکم ہوجانا اس وعدہ کے ایفاء وتحقیق کے لئے کافی ہے عسی۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی میں شک واحتمال نہیں رہتا بلکہ یقین اور وعدہ پیدا ہوجاتا ہے۔ عسی من اللہ واجب (قرطبی) عن ابن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
آیت نمبر 127 تا 129
ترجمہ : فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑے رکھے گا کہ تیری مخالفت کی دعوت دے کر ملک میں فساد پھیلائیں، اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ان کے لئے چھوٹے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے، اور فرعون اس بات کا مدعی تھا کہ میں تمہارا بھی رب ہوں اور ان بتوں کا بھی، اور اسی وجہ سے اس نے کہا میں تمہارا بڑا رب ہوں، فرعون نے کہا میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا (سَنُقَتّلُ ) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھوں گا، جیسا کہ ہم ان کے ساتھ ایساپہلے بھی کرچکے ہیں اور یقیناً ہم ان کے اوپر قدرت رکھتے ہیں،…
Read the full tafseer →قالوا اوذینا من قبل ان تاتینا ومن بعد ما جئتنا قال عسی ربکم ان تہلک عدوکم ویستخلفکم فی الارض فینظر کیف تعملون۔ انہوں نے کہا ہم تو ہمیشہ مصیبت میں ہی رہے آپ کے آنے سے پہلے بھی اور آپ کے آنے کے بعد بھی موسیٰ نے کہا بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا مالک بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا۔
من قبل ان تاتینا یعنی آپ کے پیغمبر ہو کر آنے سے پہلے ہم کو دکھ پہنچایا گیا۔ ہمارے (نوزائیدہ) لڑکوں کو قتل کیا گیا ومن بعد ما جئتنا اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی دوبارہ وہی اذیت ہم کو پہنچائی جا رہی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ آپ کی بعثت سے پہلے ہم سے آدھے دن…
Read the full tafseer →(129) حضرت موسیٰ ؑ سے وہ لوگ کہنے لگے ہماری اولاد کو فرعون قتل کرتا رہا اور ہماری عورتوں سے خدمت لیتا رہا ہے اور آپ کی رسالت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا بہت جلد اللہ تعالیٰ فرعون اور اس کی قوم کو قحط سالی اور بھوک کی سختی سے ہلاک کردے گا اور تم ہی کو مصر کی سرزمین کا مالک بنادے گا۔
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ۔۔ : پہلے بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے، ہم سے مشقت کے کام لیے جاتے رہے ہیں اور ہماری آزادی سلب رہی ہے، اب آپ کے آنے کے بعد بھی وہی غلامی اور مشقت ہے اور دوبارہ بچوں کے قتل کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ : موسیٰ ؑ نے بشارت دی کہ عن قریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کرکے تمہیں آزادی اور حکومت دینے والا ہے اور دیکھنے والا ہے کہ تم اس کا شکر کرتے اور احکام بجا لاتے ہو یا تم بھی ناشکری اور نافرمانی کرنے لگتے ہو ؟ معلوم ہوا کہ آزادی اور حکومت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کفار کی غلامی پر راضی رہنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 129
قولہ تعالیٰ : آیت : قالوا اوذینا من قبل ان تاتینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا : ہم تو آپ کی ولادت کی ابتدا میں بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو غلامی میں رکھتے کے ساتھ ستائے گئے۔ آیت : ومن بعد ما جئتنا اور اب اسے ہم پر لوٹا یا جا رہا ہے، ان کی مراد وہ دھمکی اور وعید ہے جو فرعون کی جانب سے تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : پہلے کی اذیت سے مراد یہ ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 188) کہ وہ نصف دن تک بنی اسرائیل کو اپنے کاموں میں لگائے رکھتے تھے اور پھر بقیہ دن انہیں اپنی کمائی کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ اور بعد کی اذیت یہ تھی کہ وہ سارا دن بغیر کچھ کھلائے پلائے انہیں اپنے کاموں میں مشغول…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قالوا اوذینا من قبل ان تاتینا ومن بعد ما جئتنا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ ہم تو تکلیف دئیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجنے سے پہلے اور اس کے بعد بھی۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ سے فرمایا کہ فرعون نے ہم کو آپ کے آنے سے پہلے دودھ کا پابند کیا کرتا تھا آپ کے آنے سے پہلے جب آپ تشریف لے آئے تو قوم کو دودھ کے ساتھ بھوسہ کا بھی پابند بنا رکھا ہے۔ موسیٰ نے دعا کی…
Read the full tafseer →[ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] [ اُوْذِيْنَا : اذیت دی گئی ہم کو ] [ مِنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَاْتِيَنَا : آپ آئے ہمارے پاس ] [ وَمِنْۢ بَعْدِ : اور اس کے بعد ] [ مَا : جب ] [ جِئْتَنَا : آپ آئے ہمارے پاس ] [ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ عَسٰي : امید ہے ] [ رَبُّكُمْ : تمہارے رب (سے) ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّهْلِكَ : وہ ہلاک کرے ] [ عَدُوَّكُمْ : تمہارے دشمن کو ] [ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ : اور جانشین بنائے تم کو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَيَنْظُرَ : تو پھر وہ دیکھے ] [ كَيْفَ : کیسے ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ عمل کرتے ہو ]
ترکیب : (آیت ۔ 129) من بعد ما جئتنا میں ما ظرفیہ ہے۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
قوم فرعون کی قحط سالی وغیرہ کے ذریعہ گرفت ہونا اور ان کا الٹی چال چلنا
مصر میں فرعونیوں کی حکومت تھی خوب عیش و عشرت اور تنعم میں تھے۔ جب حضرت موسیٰ نے انہیں ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے ایمان قبول نہ کیا اور ساتھ ہی بنی اسرائیل پر مزید ظلم و ستم ڈھانے کا فیصلہ کرلیا، اور اللہ تعالیٰ کی بھر پور نعمتیں ہوتے ہوئے شکر ادا کرنے کے بجائے کفر ہی پر جمے رہے۔ لہٰذا بطور تنبیہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان پر قحط سالی بھیج دی۔ اہل مصر کو دریائے نیل کے پانی پر بھروسہ رہا ہے وہ سمجھتے رہے ہیں کہ ہمارے کھیتوں کی آب پاشی کے لیے یہ میٹھا اور عمدہ پانی خوب زیادہ کافی اور وافی ہے۔ لیکن وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین
(ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔
اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →122: قوم نے مایوسانہ انداز میں کہا اے موسیٰ ! تیری آمد سے پہلے بھی ہم تکلیفوں میں مبتلا کئے جاتے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا وہی حال ہے۔ یعنی تیرے آنے سے ہماری تکلیفوں کا کچھ مداوا نہیں ہوا۔ “ قَالَ عَسٰی الخ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جلدی نہ کرو، صبر سے کام لو، ایک وقت آئے گا جب اللہ تمہارے دشمنوں کو تباہ و برباد کر کے ان کی پستیوں پر تمہیں قابض بنا دے گا۔ پھر پتہ چل جائے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو آیا اللہ کے انعامات بےپایاں کا شکر ادا کرتے ہو اور اس کے احکام بجا لاتے ہو یا اس کی ناشکری اور نافرمانی کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جب جادوگروں نے اپنا کمال دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے باطل کردیا اور فرعونی ذلیل ہوگئے ادھر جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے رب پر ایمان لائے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے وہ معجزے کی حقیقت کو سمجھ کر شرک کی زندگی سے تائب ہوچکے تھے انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ایمان لانے پر تیار ہوگئے تو فرعون اور اس کے حواریوں کو فکر لاحق ہوئی کہ یہ معاملہ تو ہماری خواہش کے الٹ ہوگیا اب آج کی آیات میں فرعون اور اس کے مصاحبوں کی اگلی کارروائی کا بیان ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تسلی دینے کا ذکر ہے۔
مشیران فرعون کا مشورہ
جب فرعون کے درباریوں…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا 0 ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّہْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ 129 ۧ
أذي
الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264]
( ا ذ ی ) الاذیٰ ۔
ہرا س ضرر کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو پہنچتا ہے وہ ضرر جسمانی ہو یا نفسانی یا اس کے متعلقات سے ہو اور پھر وہ ضرر دینوی ہو یا اخروی چناچہ قرآن میں ہے : ۔ { لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ترکیب : الملاء قال کا فاعل من قوم فرعون اس کی صفت آ ہمزہ استفہام کے لئے تذر کا فاعل انت موسیٰ وقومہ مفعول لیفسدوا تذر سے متعلق ویذرک منصوب معطوف ہے لیفسدوا پر جملہ مقولہ ہوا قال کا۔ ان الارض جملہ محل علت میں ہے استعینوا سے ویستخلفکم منصوب معطوف ہے یہلک پر۔
تفسیر : (2) یوسف (علیہ السلام) کے عہد میں حضرت یعقوب مع تمام خاندان کے کنعان سے ملک مصر میں آرہے تھے۔ یہاں ان کی نسل بڑی پھلی پھولی ہزاروں اسرائیل ہوگئے۔ اس عہد کے بادشاہ کو جو بڑا جبارو سرکش تھا ٗیہ خوف پیدا ہوا کہ مبادا یہ پردیسی لوگ ہمارے ملک میں قابض ہوجاویں اس لئے اس نے ان کو سخت کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ خصوصاً جب سے اس کو نجومیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
وَقَا لَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَزُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰ لِھَتَکَ ط قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآئَھُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآئَھُمْ ج وَ اِنَّا فَوْقَہُمْ قٰھِرُوْنَ ۔ (الاعراف : 127)
” قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو اسی طرح موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائیں اور تجھ کو اور تیری مورتوں کو ٹھکرائیں اس نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح حاوی ہیں “۔
شکست کے بعد عمائدینِ سلطنت کی بوکھلاہٹ
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی کامیابی کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–130
فہم القرآن
ربط کلام : اہل ایمان کو دھمکیاں دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو قتل کرنے کی دھمکی۔
فرعون نے اہل ایمان کو اذیتیں دینے اور تختۂ دار پر لٹکانے کی دھمکی دی تھی اس کے ہم زبان ہو کر فرعون کے وزیروں، مشیروں، درباریوں اور سرکاری اہلکاروں نے اسے مزید اشتعال دلاتے ہوئے مطالبہ کیا، کیا موسیٰ اور اس کی قوم کو ملک میں بد امنی پھیلانے اور اپنی خدائی کا انکار اور بغاوت کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے گا ؟ اس پر اس نے پورے جاہ و جلال سے اعلان کیا کہ ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے بلکہ عنقریب ہم ان کے جوانوں کو تہہ تیغ کرتے ہوئے ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنائیں گے کیونکہ ہم ہر…
Read the full tafseer →وعدئہ آخرت کے متعلق تاخیر کی شکایت :
آیت 129: قَالُوْٓا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْ تِیَنَا وَمِنْم بَعْدِ مَاجِئْتَنَا (انہوں نے کہا ہم تو ہمیشہ مصیبت میں ہی رہے۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی) وہ اس سے قتل ابناء مراد لیتے تھے۔ جو ولادت موسیٰ سے قبل پیش آیا اور اس وقت تک رہا جب تک انہوں نے چاہا اور اب دو بارہ اسی کو نافذ کر رہے تھے۔ ان الفاظ میں فرعون کے متعلق شکوہ اور وعدئہ نصرت کے متعلق دیر ہونے کی شکایات ہیں۔
موسیٰ ( علیہ السلام) کا دلاسہ :
قاَلَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَ رْضِ (موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا…
Read the full tafseer →تفسیر 129 (قالوا اوذینا) جب جادوگر ایمان لے آئے تو چھ لاکھ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کی تو وہ کہنے لگے کہ ہم پر تکلیفیں رہیں (من قبل ان تاتینا) رسالت ملنے سے پہلے بچوں کو قتل کرنے کی صومن م بعد ما جئنتا) دوبارہ بچوں کو قتل کرنے کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل تو آدھا دن ان سے کام لیتا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے کے بعد سارا دن بغیر مزدوری کے کام لیتا تھا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے وہ فرعون کی مٹی سے اس کے لئے اینٹیں بناتے تھے اور مسویٰ (علیہ السلام) کے بعد اس نے حکم دیا کہ مٹی بھی خود لائو۔ (قال عسی ربکم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
(127 ۔ 129) ۔ فرعون چھ سو برس دنیا میں زندہ رہا اور چار سو برس تک بادشاہی کی اس عرصہ میں کوئی تکلیف اس کو نہیں ہوئی سر میں درد تک نہ ہوا اگر ایک روز بھی بھوکا رہتا یا کوئی تکلیف اٹھاتا تو خدائی کا دعوی بھول جاتا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے یہ حکم دیا رکھا تھا کہ جو بچہ پیدا ہو اگر لڑکا ہو تو مار ڈالا جائے اور لڑکی ہو تو چھوڑ دی جائے۔ سورة قصص میں جو ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آویگا اس کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے اور فرعون ہی کے گھر میں پرورش پاکر سیانے ہوگئے تو اس نے وہ حکم موقوف کردیا اب جو حضرت موسیٰ نے رسالت کا دعوی کیا اور جادو گروں پر غالب ہو کر خدا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →161 دنیاوی مال و جاہ ذریعہ آزمائش و ابتلاء : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ تمہارا رب ہلاک کر دے تمہارے دشمن کو اور تم لوگوں کو جانشیں بنا دے اس ملک کا پھر وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دنیاوی جاہ و اقتدار کا ملنا دراصل ابتلاء و آزمائش ہی کے لئے ہوتا ہے کہ اس کے بعد انسان کیا طریقہ اور وطیرہ اپناتا ہے۔ اگر وہ اس سے مشرف ہونے کے بعد اس کو اللہ پاک کا انعام و احسان سمجھتے ہوئے اس کے آگے جھک گیا تو یہ جاہ و اقتدار اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن گیا۔ اور اس کے برعکس اگر وہ اس کی بناء پر اکڑ گیا اور سرکش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 127 تا 129 ۔
اسرار و معارف :
فرعون کی اس مکاری نے قوم کو گمراہ کرنے کا کام تو کسی حد تک کیا مگر باوجود سب طرح کی جہالت کے انہوں نے یہ بات پوچھ ہی لی کہ بھئی ایمان لانے ولوں کو بڑی زبردست سز املی مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) کا آپ نے کچھ نہیں بگاڑا نہ ان کی قوم کے لیے کوئی سزا تجویز کی اگر یہی حال رہا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم تو تباہی مچا دیں گے اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کردیں گے مگر فرعون حقیقت حال جان چکا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے سخت خوفزدہ تھا صرف تکبر کی وجہ سے دل انابت سے خالی تھا اور توبہ کی توفیق نصیب نہ تھی کہنے لگا بھئی ہم نے ان پر پہلے ہی…
Read the full tafseer →ف 7 اس کا شکر کرتے ہو اور اس کے احکام بجالاتے ہو یا تم بھی باشکری ونافر مانی کرنے لگتے ہو ِ ؟ شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ کلام نقل فرمایا مسلمانو کو سنانے کو یہ سورت مکی ہے اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے پھر بشارت پہنچی پردے میں (مو ضح )
Read the full tafseer →(7:129) اوذینا۔ ہم کو ستایا گیا۔ ہم کو سزا دی گئی۔ ایذاء (افعال) ماضی مجہول جمع متکلم ۔ اذی ماضی معروف۔ اوذی۔ ماضی مجہول۔ اذی مادہ۔ فینظر۔ مضارع واحد مذکر غائب (باب نصر) کہ وہ دیکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
لغات القرآن آیت نمبر (127 تا 9 12 ) ۔
اتذر (کیا تو چھوڑتا ہے ؟ ) ۔ نستحی (ہم زندہ رکھیں گے) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو ) ۔ یورت (مالک بناتا ہے ) ۔ اوذینا (ہمیں تکلیف دی گئی) ۔ یستخلف (نائب بنائے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 127 تا 129 ) ۔ ” اس پورے مضمون میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرعون نے جادو گر کو پھانسی پر لٹکا نے اور ہر طرح کی سزا دینے کی دھمکی دی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بظاہر اس نے کوئی دھمکی نہیں دی۔ شاید فرعون پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رعب اور ہیبت طاری ہوچکی تھی اسی وجہ سے فرعون کے درباریوں نے کہا کہ اے فرعون تو نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یوں ہی جھوڑنے کا فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–130
بندوں کی تکلیف اور پریشانی میں حکمت الہی
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے فرعون اور اس کئ ساتھیوں کا امتحان لیا اور قحط میں ڈال دیا۔ درختوں میں پھل لگنے موقوف ہوگئے کھجور کے درختوں میں ایک ایک کھجور پھلتی تھی۔ چشمہ نیل بالکل خشک ہوگیا مینہ برسنا بند ہوگیا۔ یہ جانچ تھی کہ شاید کہ مصیبت کے وقت میں ان کے دل نرم ہوجاویں اور خدا سے رجوع ہوں اور رسول کی باتوں کو مانیں مگر کچھ کار آمد نہیں ہوا۔ اپنے کفر پر جمے رہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا جب یہ تکلیف دور ہوگئی اور آرام کی گھڑی آگئی آگئی تو کہنے ہم اسی کے مستحق تھے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات دھرتے اور کہتے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–137
[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔
[48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–132
غلامی کی جھجک :
(ف 1) غلامی ایسی بدترین لعنت ہے کہ اس کے بعد قوم میں بزدلی آجاتی ہے ، اور قوم میں دوست و دشمن کی تمیز اٹھ جاتی ہے ، ہر بات میں انہیں اندیشہ ہوتا ہے ، کہیں حکمران طبقہ ہماری مصیبتوں میں اور اضافہ نہ کر دے ،
چنانچہ بنی اسرائیل نے صاف صاف کہہ دیا جناب پہلے بھی ہم تکلیفوں میں مبتلا تھے ، اور اب بھی ہماری مشکلات میں اضافہ ہی ہے براہ کرم میں کانٹوں میں نہ گھسیٹئے ۔
موسی (علیہ السلام) نے فرمایا تم گھبراؤ نہیں ، عنقریب تمہارے دشمن ہلاک ہوں گے اور تمہاری غلامی آزادی سے بدل جائے گی ۔
حل لغات :
سنین : یعنی عسرت کے سال ،
یطیر : بدشگونی ، عرب طائر سے شگون لیتے تھے ، اس لئے تطیر کے معنی…
Read the full tafseer →129 بنی اسرائیل نے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی ستائے جاتے رہے اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ وقت قریب ہے تمہارا رب بہت جلد تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تم کو اس ملک کا مالک بنادے پھر وہ دیکھے کہ تم کیا کرتے ہو اور تمہارا طرز عمل کیا ہوتا ہے یعنی یہ کلام نقل فرمایا مسلمانوں کے سنانے کو یہ سورت مکی ہے اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے یہ بشارت پہنچی پردے میں۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل فرعون کے مظالم سے بہت تنگ تھے وہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ کہ شکروقدر و اطاعت کرتے ہو یا بےقدری اور غفلت و معصیت اس میں ترغیب ہے طاعت کی اور تحذیر ہے معصیت سے۔
Read the full tafseer →قوم بنی اسرائیل کی شکایت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کا جواب :
140: موسیٰ (علیہ السلام) نے جو نصیحت اپنی قوم کو کی تھی اور جس فتح و نصرت کا اجمالی وعدہ ان سے کیا تھا بنی اسرائیل کی سمجھ میں بالکل نہ آیا اور اگر وہ ایسی باتوں کی سمجھ رکھتے ہوتے تو ان کا حال ایسا کیوں ہوتا ؟ وہ سب کچھ سن کر بول اٹھے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے گئے اور اب تمہارے آنے کے بعد بھی ہم ستائے جا رہے ہیں۔ مطلب ان کا یہ تھا کہ آپ کے آنے سے پہلے تو اس امید پر وقت گزار رہے تھے کہ کوئی پیغمبر ہماری گلو خلاصی کے لئے آئے گا اب جب آپ کے آنے کے بعد بھی یہی ایذائوں کا سلسلہ رہا تو ہم کیا کریں گے اور…
Read the full tafseer →The Israelites who seemed to have no conception of such matters could not understand how patience alone could free them from Pharaoh's punishment and bring them success against him. They blamed the prophet Musa (علیہ السلام) saying:
قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا
We have been persecuted before you came to us as well as after you came to us."
What they meant, perhaps, was that they were looking for a prophet to deliver them from the oppression of the Pharaoh, but their fate remained unchanged even after he came to them. The prophet Musa answered to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
94. Pharaoh's courtiers obstinately persisted in branding Moses' signs as sorcery although they knew well that sorcery had nothing in common with the miraculous signs granted to Moses. Even a fool would not he ready to believe that the country-wide famine and the consistent decrease in agricultural output could have been caused by magic. It is for this reason that the Qur'an says:
But when Our signs, which should have opened their eyes, came to them they said: 'This is clear sorcery! And they rejected those signs out of iniquity and arrogance even though they were inwardly convinced of it'…
Read the full tafseer →